Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 (Watching)Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02
Washington, DC, USA
2 pm
دوپہر کے دو بج رہے تھے، جبکہ وہ اس وقت اپنی نیند پوری کرنے میں مصروف تھی، جب اسے اپنے موبائل کے بجنے کی آوز آئی، نیند میں ڈوبی بند آنکھوں کے ساتھ اس نے نائٹ سٹینڈ سے اپنا موبائل ڈھونڈنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے بارہ بجے سب کے سونے کا یقین کرتے ہوئے شمائلہ دبے پاؤں کمرے سے باہر نکلی، اور آہستہ سے قدم ٹی۔وی لاؤنج کی طرف بڑھائے، پی۔ٹی۔سی۔ایل کے سامنے کھڑے اسنے ڈرتے ڈرتے نمبر ملانا شروع کیا۔
’’ہیلو؟‘‘ نیند میں ڈوبی آواز اسکے کان کے پردوں سے ٹکڑائی
’’سروج!!!‘‘
’’جی میں، آپ کون؟‘‘ وہ ابھی بھی نیند میں موجود تھی
’’سروج میں شمائلہ‘‘ اب کی بار سروج کی آنکھیں جھٹ سے کھلی اور ایک نظر موبائل کو دیکھا جہاں پاکستان کا نمبر شو ہورہا تھا، اور پھر ٹائم کیونکہ اگر یہاں دوپہر تھی تو مطلب کے پاکستان میں رات کے بارہ بجے ہوئے تھے، یعنی ایک نئے دن کا آغاز
’’بھابھی خیریت؟ آپ نے اس وقت کال کی‘‘ نیند کا خمار ابھی بھی اس پر چڑھا ہوا تھا
’’سروج تمہیں خدا کا واسطہ پاکستان واپس آجاؤ ورنہ یہ لوگ اسے مار دے گے‘‘ شمائلہ کی سسکیاں فون کے اس پار گونجنے لگی
’’بھابھی کیا ہوا ہے؟ مجھے آرام سے بتائے، ایک تو آپ نے اس وقت کال کی ہے اور پھر کون کس کو مار دے گا؟‘‘ سروج کو کچھ سمجھ نا آئی
’’ھدی سروج، ھدی وہ بیچاری گھٹ گھٹ کر مر جائے گی، یہ لوگ بہت ظالم ہے اسکے مرے ہوئے ماں باپ کو بھی نہیں بخشا ان لوگوں نے، وہ بچی اگر یونہی رہی تو یا تو وہ پاگل ہوجائے گی نہیں تو وہ مر جائے گی سروج، اسے تمہاری اشد ضرورت ہے سروج واپس آجاؤ تم‘‘ شمائلہ کے منہ سے یہ سب سن کر سروج کو اپنا دماغ چکراتا محسوس ہوا
’’بھابھی، بھابھی آپ فکر مت کرے کچھ نہیں ہوگا، میں، میں کچھ کرتی ہوں اوکے، ابھی آپ کال بند کرے‘‘ سروج نے انہیں تسلی دی
’’ٹھیک ہے سروج مگر جو بھی کرنا جلدی کرنا ورنہ یہ لوگ اسے کہی کا نہیں چھوڑے گے‘‘ شمائلہ تڑپ کر بولی۔
فون بند کرتے ہی اسنے اپنے آپ کو نارمل کیا اور کمرے میں آگئی، ایک نظر اپنے شوہر کو دیکھا جو سکون کی نیند لینے میں مگن تھا۔
شمائلہ کو آج حقیقتا اپنے انتخاب پر افسوس ہورہا تھا، وہ جلال کی سیکریٹری تھی اور بہت جلد ہی اس میں اور جلال میں بہت اچھی اور گہری دوستی ہوگئی تھی، یہ دوستی کب محبت میں بدلی اسے علم نا ہوا، بلکہ حیرانگی تو تب ہوئی جب جلال نے اسے شادی کے لیے پرپوز کیا، وہ خود کو دنیا کی خوش قسمت لڑکی تصور کرنے لگی، مگر اسکی ماں نا مانی انہیں نجانے کیوں مگر جلال ایک اچھا انسان نا لگا تھا، شمائلہ جب ماں کو نا منا سکی تو خود کشی کرنے کی کوشش کی، وہ بھی آخر کو ماں تھی اسکے آگے ہتھیار ٹال دیے اور یوں وہ خوشی خوشی جلال کی زندگی میں شامل ہوگئی، شروع کے دن تو اسکے لیے کسی شہزادی سے کم کے نا تھے، جلال اسکے تمام نخرے اٹھاتا، مگر ان تمام باتوں میں وہ صدیق صاحب کا رویہ اشنا بیگم کے ساتھ دیکھ کر حیران رہ جاتی، اسنے کئی بار جلال سے بھی بات کی جس پر وہ یہ کہہ کر چپ کروا دیتا کہ اسنے اپنے باپ کو سمجھانے کی کوشش کی ہے مگر وہ نہیں سنتے الٹا اشنا بیگم کو طلاق دے کر نکالنے کی دھمکی دیتے ہیں، جس پر شمائلہ بھی چپ کرجاتی، پھر آہستہ آہستہ جلال چڑچڑا سا ہونے لگ گیا، وہ بات بات پر جھگڑا کرتا، شمائلہ کو زلیل کرتا اور بعد میں آفیس کی ٹینشن کا بہانہ گڑھ کر منا لیتا، مگر اس ازیت تو تب شروع ہوئی جب جلال نے پہلی بار اس پر ہاتھ اٹھایا اور پھر آدھی رات کو نشے کی حالت میں لوٹا، مگر بات یہی ختم نہیں ہوئی بلکہ اسنے اب شمائلہ کو پیٹنا شروع کردیا تھا اور کئی بار تو مختلف لڑکیوں کو گھر بھی لاتا تھا، اور شمائلہ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ اسکا شوہر نا صرف شرابی بلکہ ایک زانی بھی تھا، مگر اصل حیرت تو اسے تب ہوتی جب جلال اسکے وجود کے حصول کے لیے رات میں اس سے معافی مانگتا اور صبح کو پھر سے وہی ذلالت، وہ جب بھی اپنی ماں سے ملنے جاتی تو وہ جلال کے رویے کے بارے میں ضرور پوچھتی، جس پر وہ کمال مہارت سے جھوٹ گڑھ کر اپنی ماں کو مطمئن کردیتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمائلہ کی کال نے سروج کو حد دجہ پریشان کردیا تھا، وہ تو پرسکون تھی کہ ھدی اپنوں کے پاس ہے، مگر اسکے پیچھے کیا کچھ ہورہا تھا یہ تو اسنے سوچا بھی نہیں تھا، سوچتے سوچتے وہ کمرے موجود بےبی کاٹ کی طرف بڑھی جہاں اسکی دنیا، اسکی زندگی، اسکا تین ماہ کا بیٹا ابراہیم پرسکون سا آنکھیں موندے سویا ہوا تھا، موبائل سے بےبی مونیٹر کو اون کرتے وہ کمرے سے باہے نکل گئی، گول سیڑھیوں سے نیچے اترتے وہ ڈائنگ ایریا میں آگئی جہاں حیدر صاحب ٹیب پر خبریں پڑھنے میں مصروف تھے جبکہ شہانہ بیگم دوپہر کے کھانا ٹیبل پر سیٹ کر رہی تھی۔
’’ارے سروج اٹھ گئی چلو اچھی بات ہے آؤ کھانا کھالو‘‘ اسے دیکھ کر حیدر صاحب بولے
’’جی بابا‘‘ کہتے ہی وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی، اور پلیٹ میں بریانی نکالنے لگی۔
حیدر صاحب نے ایک نظر اپنی بیٹی اور پھر بیوی کو دیکھا جن کے درمیان ایک عرصہ سے سرد جنگ چھڑی ہوئی تھی، اور وہ سر افسوس میں ہلانے لگے
’’میں پاکستان جارہی ہوں کمنگ ویک اینڈ پر‘‘ کھانا کھاتے اسنے آرام سے اپنی بات کا آغاز کیا، جبکہ ان دونوں میاں بیوی کا توکھانا کھاتے ہاتھ رک گیا
’’خیریت؟‘‘ حیدر صاحب نے سوال کیا
’’جی بس ویسے ہی ھدی سے ملنے کا دل تھا‘‘ اسنے سہولت سے جواب دیا جس پر حیدر صاحب نے سمجھن ے والے انداز میں سر ہلایا
’’اپنی اولاد سے یہ بھی پوچھ لے کے کتنے عرصے کے لیے جارہی ہے یہ اس ھدی بی بی سے ملنے‘‘ شہانہ بیگم نے بات چھیڑی
’’چار۔۔‘‘ وہ بس اتنا بول پائی
’’کیا چار دن مگر یہ تو بہت کم ہے بیٹا‘‘ حیدر صاحب حیران ہوئے
’’یہ چار دن نہیں بلکہ چار ہفتوں کے لیے جارہی ہے‘‘ شہانہ بیگم طنزیہ انداز میں بولی
’’آپ لوگوں کو کس نے کہاں کہ میں چار دن یا چار ہفتوں کے لیے جا رہی ہوں میں تو چار سالوں کے لیےجارہی ہوں جب تک ھدی کا بی۔ایس مکمل نہیں ہوجاتا میں پاکستان اس کے پاس رہوں گی‘‘ سہولت سے اسنے اپنی بات مکمل کی جبکہ ان دونوں کو تو ایک بڑا جھٹکا دے گئی۔
’’دماغ خراب ہے تمہارا پہلے اسکا بھائی، پھر اسکے بھائی کا بچہ اور اب وہ لڑکی کیا تمہاری زندگی میں ہماری کوئی اہمیت نہیں جو صرف ان لوگوں کے لیے خود کو وقف کردیا ہے تم نے‘‘ شہانہ بیگم تو اسکی بات سن کر چیخ اٹھی۔
’’پہلی بات تو یہ کہ اسکا بھائی میرا شوہر تھا ، میں بیوا ہو اسکی، دوسری بات یہ جس بچے کی آپ بات کر رہی ہے وہ میری اولاد ہے اور تیسری بات یہ کہ اس لڑکی کو میرا شوہر مرنے سے پہلے میری سرپرستی میں دے کر گیا تھا، آپ لوگوں کی وجہ سے میں پہلے ہی اپنے فرض سے غافل رہ چکی ہوں مگر اب اور نہیں، ھدی کو میری ضرورت ہے اور میں کمنگ ویک اینڈ پاکستان جارہی ہوں ، ہوپ سو کہ آپ کو میری بات سمجھ آچکی ہوگی‘‘ سکون سے کھانا ختم کرتے اسنے بےبی مونیٹر کی طرف دیکھا جو اس بات کی علامت تھی کہ ابراہیم جاگ چکا ہے۔
زینے طے کرتی وہ اوپر کمرے کی طرف بڑھی جب شہانہ بیگم کی آواز اسکے کانوں سے ٹکڑائی
’’نجانے کیوں اس شخص کی گندی اور ناجائز اولاد کے لیے اپنا آپ برباد کر رہی ہے یہ لڑکی‘‘ اپنے ماں کے الفاظ پر اس کا دل کٹ کر رہ گیا مگر وہ ضبط کرتی کمرے کی جانب چل دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن کا سورج طلوع ہوچکا تھا، وہ کمبل میں دبکی سوئی ہوئی تھی، جب شمائلہ اسکے کمرے میں داخل ہوئی، کھڑکی سے پردے پیچھے کرتے اسنے دھوہ کی کرنوں کو اندر آنے کی اجزت دی اور اب بیڈ پربیٹھ کر اسکے چہرے سے کمبل ہٹائے وہ پیار سے اسکے بال سہلانے لگی
’’ھدی جانو اٹھ جاؤ صبح ہوگئی ہے یونی بھی تو جانا ہے نا‘‘ وہ مٹھاس بھرے لہجے میں بولی، جس پر دعا تھوڑا سا کسمائی
’’مجھے نہیں جانا ماما‘‘ وہ دھیرے سے بولی جس پر شمائلہ نم آنکھوں سے مسکرا دی
’’اٹھی نہیں یہ منحوس ابھی تک‘‘ اس سے پہلے کے وہ اسے اٹھاتی ایاز کی تیز آواز اسکے کانوں سے ٹکڑائی
’’وہ میں بس اٹھانے لگی تھی‘‘ شمائلہ کانپتے ہوئے بولی
’’او بھابھی بس ہاں کسی نا کام کی ہے تو اس کو تو میں اٹھاتا ہوں‘‘ کہتے ہی وہ ھدی کی جانب آیا اور ایک جھٹکے سے اسے بیڈ سے اترتے ایک زور دار تھپڑ اسکے منہ پر دے مارا، ھدی کی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔وہ آنکھیں بڑی کیے، جن میں موٹے موٹے آنسو چمک رہے تھے ایاز کو دیکھنے لگی
’’دیکھا اب اٹھ گئی نا ایسے اٹھاتے ہیں بھابھی‘‘ مسکراتے ہوئے وہ یوں بولا جیسا بہت عزیم کام کیا ہوں اس نے۔
’’اور تم جلدی ریڈی ہوکر آؤ باہر‘‘ مزے سے کہتا وہ باہر چل دیا
’’بھابھی!!‘‘ زیادتی کی شدت سے ھدی بس اتنا بول پائی، جبکہ آنسو قطرہ قطرہ بہنے لگے۔ جبکہ شمائلہ تو اسے گلے لگائے دلاسہ سینے لگی۔
’’چلو میرا چندا شاباش تیار ہوجاؤ یونی جانا ہے نا پھر‘‘ اسکے سوجے گال سے نظریں چراتی وہ پچکارتے ہوئے بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’یار یہ ارسلان کہاں رہ گیا ہے؟‘‘ وہ دونوں اس وقت گراؤنڈ میں تھے جبکہ ارسلان ابھی تک نہیں آیا تھا۔
’’ارے وہ دیکھو وہ رہاں‘‘ اچانک یشفہ کی نظر سامنے سے آتے ارسلان پر پڑی جس کے دایئں بازو اور ہاتھ پر پلستر چڑھا ہوا تھا
’’یہ یہ کیا ہوا ہے تمہیں ارسلان؟‘‘ وقار اور یشفہ تو اسکی ایسی حالت دیکھ کر بوکھلا گئے۔
’’بیسٹ!!‘‘ لفظ چباتے ہوئے وہ بولا۔
’’او مائی گاڈ اسکا مطلب کے اسے پتا چل گیا مگر کیسے؟‘‘ یشفہ حیران ہوئی
’’ویسے‘‘ اسنے انگلی اٹھا کر سامنے کی طرف اشارہ کیا جہاں سے وہ دبو لڑکی خود کو اچھے سے چادر میں ڈھکے اندر آرہی تھی، اسکی حالت آج بھی بلکل پہلے دن جیسی ہی تھی۔
’’یہ؟ یہ لڑکی ؟ مگر یہ کیسے بتا سکتی ہے؟‘‘ وقار کو بات ہضم نا ہوئی
’’کیوں نہیں بتا سکتی، بونگی سی تو ہے کھول دیا ہوگا منہ اپنا اسنے۔‘‘ ارسلان غصے سے بولا
’’مجھے بھی ارسلان کی بات میں دم لگ رہا ہے، تو چلو کیوں نا اس لڑکی کو سبق سکھایا جائے اور بتایا جائے کہ ہم کون ہے؟‘‘ ان دونوں کی طرف دیکھتے یشفہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
’’ارے دیکھو زرا کون آیا ہے آج؟‘‘ وہ تینوں اس کے گرد گھیرا کیے گھومنے لگے، جبکہ ھدی کے ماتھے پر ہلکا ہلکا پسینہ آگیا
’’ویسے بڑی بات ہے، بیسٹ کے ہاتھوں مرتے مرتے بچی ہے مگر پھر بھی یونی آگئی، بڑی ہمت ہے‘‘ اسکے کندھے سے بیگ کھینچتے یشفہ بولی
’’مم۔۔میرا بیگ‘‘ اسنے یشفہ کے ہاتھ سے اپنا بیگ لینا چاہا جو کہ اب وقار کے ہاتھوں میں تھا
’’بیگ چاہیے لٹل گرل کو؟ اوکے لے لو‘‘ وقار نے بچوں جیسا منہ بنائے بیگ اسکے سامنے کیا،جسے لینے کو وہ جیسے ہی بڑھی تو اس نے بیگ دوبارہ یشفہ کی طرف اچھالا
’’پپ۔پلیز جانے دوں،آ۔۔آپ لوگوں نے جج۔۔جو کہاں تھا،مم۔میں نے کیا نا، کلاس ہے میری‘‘ وہ رونے کی آخری سٹیج پر تھی، رونے کی وجہ سے اسکی تھوڑی ہلنے لگی
’’اچھا چلو جانے دیتے ہیں، مگر ایک بات تو بتاؤ یہ بیسٹ کو کیوں بتایا کہ موبائل ہم نے تمہیں دیا تھا‘‘ اسکے قد کے برابر جھکتے ارسلان نے اس سے سوال کیا
’’مم۔میں نے کک۔۔کسی کو کک۔۔کچھ نہیں بتایا، میں کک۔کسی بب۔بیسٹ کو نہیں جانتی‘‘ وہ روتے ہوئے بولی
’’پپ۔۔پلیز مم۔میرا بیگ دے دو‘‘اسنے منت کی
’’او۔او۔اوکے‘‘ اسکی سٹائل میں ہکلاتے، یشفہ نے ہنستے ہوئے بیگ وقار کی طرف اچھالا جو وقار تو نا پکڑ سکا مگر اسکے پیچھے کھڑے زرار کے ہاتھ نے ضرور پکڑ لیا۔
’’جو پوچھنا ہے مجھ سے پوچھو؟ اسے کیوں تنگ کر رہے ہوں‘‘ زرار کی سرد آواز ان کے کانوں سے ٹکڑائی اور ان تینوں کو اپنی جان جاتے محسوس ہوئی، حلق تو ھدی کو بھی اپنا سوکھتا ہوا محسوس ہوا، پہلے زرار اور پھر ایاز کے تھپڑ سے اسکا گال سوج چکا تھا اور اب اسے پھر سے محسوس ہونے لگا کہ کوئی اسکا گلا دبا رہا ہے، اسکا جسم کانپنے لگا تھا، اسے اپنے جسم پر کپکپی طاری ہوتے محسوس ہوئی، جو زرار کی زیرک نگاہوں سے پوشیدہ نا رہ سکی۔
’’اس سے پہلے کے میں تمہارا بایا بازو بھی توڑ ڈالو یہاں سے چلے جاؤ‘‘ اسکا لہجہ پل بھر میں اتنا پتھریلا اور خوفناک ہوچکا تھا کہ ان تینوں نے بھاگنے میں ہی عافیت جانی۔
بھاگنا تو ھدی بھی چاہتی تھی مگر اسکا بیگ زرار کے ہاتھ میں تھا، اسی لیے کچھ نا کر سکی، نظریں نیچی کیے وہ دم سادھے کھڑی تھی، زرار ایک ایک قدم اٹھاتا اسکی طرف بڑھا، جب کے اسکا تو سانس ہی رک گیاتھا۔
’’نام کیا ہے تمہارا؟‘‘ اسکا بیگ ہاتھ میں تھامے اسکے سر پر کھڑے اسنے اسکے جھکے سر کو دیکھ کر پوچھا جبکہ جواب خاموشی تھا۔
وہ اس سے ڈرتی تھی وہ جانتا تھا کہ وہ اب بھی ڈر رہی ہے مگر نجانے کیوں اسکا ڈرنا زرار کو بہت اچھا لگ رہا تھا، پوری یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس اس سے ڈرتے تھے، مگر اس لڑکی کا ڈر کچھ خاص تھا الگ تھا جسے وہ اپنے آنے والی پوری زندگی میں ہر پل محسوس کرنا چاہتا تھا۔
’’کم آن نام بتاؤ پھر پکا وعدہ میں تمہیں جانے دوں گا اور یہ لوگ بھی تمہیں کچھ نہیں کہے گے‘‘ چھوٹے بچوں کی طرح اسے لالچ دیتے وہ اب ان سینئرز کی طرف اشارہ کر کے بولا جو ریگنگ کرنے میں استاد تھے
’’ھد۔۔ھد‘‘ ہکلاتے ہوئے وہ بولی
’’ھدھد؟ یہ کیسا نام ہے؟‘‘ وہ سنجیدہ تھا مگر آنکھوں میں مسکراہٹ تھی
’’ھد۔ھد۔۔ھدی یاسین‘‘ کہتے ہی اسنے ہچکی لی جسکا مطلب وہ رو رہی تھی
’’تو ھد۔۔ھد۔۔ھدی یاسین، نام بتاتے ہوئے کون روتا ہے؟‘‘ وہ اسے کسی دو سال کے بچے جیسا ٹریٹ کر رہا تھا جبکہ ھدی کی آنکھوں سے تو برسات شروع ہوگئی، یہ بندی ہر وقت سیلاب کا ریلہ اپنے ساتھ لیے گھومتی ہے اس بات کا یقین تو زرارکو ہوگیا تھا
’’مجھے جانا ہے‘‘ دھیمی آواز میں وہ بولی اسکی بات کو نظر انداز کردیا اسنے
’’کہاں جانا ہے؟‘‘ نجانے کیوں مگر اس سے بات کرنے میں زرار کو مزہ آرہا تھا
’’وہ۔وہ کلاس میں‘‘ اسنے پھر ہکلاتے ہوئے جواب دیا
’’تو جاؤ‘‘ وہ بےنیازی سے بولا کیونکہ ھدی کی نظریں اس وقت اسکے ہاتھ میں تھمے اپنے بیگ پر تھی۔
’’وہ میرا بیگ‘‘ کانپتے ہاتھوں سے اسنے اپنے بیگ کی طرف اشارہ کیا
’’ہاں توتمہارا ہی ہے کونسا میرا ہے؟‘‘ کندھے اچکائے وہ بےنیازی سے بولا
’’مجھے چاہیے کلاس لینے جانا ہے‘‘ اٹک اٹک کر بولتے اسنے بات پوری کی
’’شیور‘‘ اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرتے اسنے بیگ ھدی کی طرف بڑھایا کسے وہ ایک جھٹکے سے کھینچتے ہوئے وہاں سے لیکر بھاگ گئی جبکہ زرار تو اسکی سپیڈ دیکھ کر رہ گیا۔
جو بھی تھا مگر اب تو زرار اسکو چھوڑنے والا نا تھا کیونکہ وہ اسکی تھی۔
’’زرار کی ھدھد‘‘ لبوں یہ الفاظ ادا ہوتے ہی ایک خوبصورت مسکراہٹ اسکے چہرے پر در آئی، نجانے کتنے سالوں بعد آج وہ خود کو پرسکون محسوس کر رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’سو واٹ یو تھینک اباؤٹ دا ڈیل مسٹر فرقان لودھی‘‘ ملٹی میڈیا پر پریزینٹیشن ختم کرتے ہی جلال نے اپنے سامنے بیٹھے چالیس سالا مرد سے پوچھا، جس کے چہرے پر کرختگی تھی۔
’’یو نو مائی کنڈیسنز اباؤٹ دا ڈیل‘‘ پیپر ویٹ سے کھیلتے وہ بولا
’’ارے اسکی تو آپ فکر ہی نا کرے مسٹر لودھی، میرا وعدہ ہے آپ سے ھدی کی شادی آپ سے ہی ہوگی بس پراپرٹی کا مسئلہ حل ہوجائے‘‘ صدیق صاحب خوشاآمد لہجے میں بولے
’’تو پھر یہ ڈیل بھی تبھی فائنلائز ہوگی مسٹر صدیق ہے مسٹر جلال‘‘ چیر سے اٹھتے اپنے کوٹ کو سیدھا کیے وہ بےتاثر لہجے میں بولا۔
’’مگر سر یہ ڈٰیل بہت ضروری ہے‘‘ جلال پریشان ہوگیا
’’اور میرے لیے آپ کی بہن جینٹل مین‘‘
’’ناؤ ایکسکیوز می، گڈ بائے، اور اگلی بار پرپوزل تب لائے گا جب آپ میرا پرپوزل ایکسپٹ کرلے‘‘ انگلی اٹھاتے وہ وارننگ زدہ لہجے میں بولا۔
’’اف کیا مصیبت ہے یہ‘‘ فرقان لودھی کے باہر جاتے ہی جلال ٹیبل پر ہاتھ مارتے بولا
’’کول ڈاؤن بیٹا‘‘ پیکٹ سے سگار نکالے اسے لائٹر سے جلا کر منہ میں دبائے صدیق صاحب بولے
’’واٹ کول ڈاؤن، یو نو وٹ ڈیڈ یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے، آپ بات کیوں نہیں مان لیتے اس لودھی کی کروادے شادی اس ھدی کے ساتھ‘‘ وہ جھنجھلایا
’’فضول مت بولو جلال تم جانتے بھی ہو کہ ھدی یاسین کی تمام تر جائیداد کی پچاس فیصد کی مالکن ہے اور میں اس ڈیل کے عوض اسکی شادی اس لودھی سے کروا دوں‘‘
’’ہاں تو کروا جائیداد کے پیپرز سائن ھدی سے اور بھیج دے اس منحوس کو ہماری زندگیوں سے دور‘‘
’’تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی مگر وہ یاسین بہت تیز نکلا، جب تک ھدی پچیس سال کی نہیں ہوجاتی تب تک اسکی ساری پراپرٹی کی لیگل ایڈوائزر وہ سروج حیدر ہے‘‘ نفرت سے اسکا نام لیتے وہ بولے
’’چلو ایک اور نیا مسئلہ‘‘ جلال تو ہاتھ ہلا کر رہ گیا
’’تو کچھ سوچے ڈیڈ سوچے کچھ‘‘
’’سوچ چکا ہوں میں، تم فکر مت کروں‘‘ وہ شیطانی ہنسی ہنسے
’’کیا؟‘‘ جلال کو تجسس ہوا
’’دو ہفتوں بعد ھدی کی سالگرہ ہے اور اسی دن میں ھدی کا نکاح ایاز سے کردوں گا‘‘
’’مگر کیا ایاز مانے گا؟‘‘
’’تو ایاز کو کونسا اسے اپنی بیوی بنانا ہے بس نکاح ہی تو کرنا ہے تاکہ پراپرٹی ہماری ہوسکے‘‘
’’اور سروج؟‘‘
’’سروج کو بتائے گا کون، ویسے بھی اسکا کوئی رابطہ نہیں ہے ہم سے‘‘
’’اور اس لودھی کا کیا کرنا ہے؟‘‘
’’اسکی فکر مت کروں نکاح میں صرف گھر کے لوگ شامل ہوگے جبکہ لودھی کو یقین دلانے کے لیے ہم اسکی اور ھدی کی ایک عدد جھوٹی منگنی کردے گے‘‘
جلال اپنے باپ کی بات سن کر مسکراہ اٹھا تو گویا وہ ساری پلیننگ کیے بیٹھے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کلاس میں داخل ہوئی تو ہر طرف چہ مگوئیاں شروع ہوگئی، ہر کوئی اسکی طرف دیکھے ایک دوسرے کے کان میں کچھ کہنے لگتا وہ ان سب کو اگنور کرتے اپنی سیٹ کی طرف بڑھی
’’سوری تم یہاں نہیں بیٹھ سکتی‘‘ ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی لڑکی نے منع کردیا
’’مگر کیوں؟؟‘‘ اسنے حیرانگی سے سوال کیا
’’بس کہاں نا نہیں تو نہیں‘‘ اسکی اس قدر بد تمیزی پر ھدی خاموش ہوکر رہ گئی
اس نے نظر آس پاس دوڑائی جہاں سب اسے اگنور کر رہے تھے، ایک بار پھر آنسو اسکی آنکھوں میں آنا شروع ہوگئے۔
’’سب لوگ مطلبی ہے، سب بہت برے ہیں‘‘ بس یہی بات اسکے ذہن میں گردش کر رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
