Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04
سیاہ کالی رات، آسمان پر پورا چاند، اگر کوئی اور ہوتا تو ضرور اس منظر کو دلکش پاتا اور اس میں کھوجاتا مگر یہ رات تو اسکے لیے ماتم کی رات سے کم نا تھی، کتنی آسانی سے اسکی زندگی کا فیصلہ کردیا گیا تھا اسے ایک ایسے انسان کے ساتھ باندھ دیا گیا تھا، جو اسے محبت تو دور عزت بھی نہیں دے سکتا تھا، اسکا دل اس وقت خون کے آنسو رو رہا تھا، جبکہ آنکھیں بلکل خشک تھی، اسکا آج بھی وہی گلہ تھا کہ کیوں اسے اسکے ماں باپ اور بھائی سے جدا کردیا گیا، اور تو اور اسکی بہنوں جیسی بھابھی نے بھی اس سے منہ پھیر لیا، رشتوں کا بدلنا کسے کہتے ہیں یہ کوئی ھدی یاسین سے پوچھے
کتنی دعائیں کی تھی اسنے سروج کے آنے کی مگر اب تو دل سے یہ دعا بھی نکلنا بند ہوگئی تھی، آج اسے اپنی ایک سکول فرینڈ کی باتیں یاد آگئی جو اسے ہمیشہ یہی کہا کرتی تھی کہا ’’چاہے جتنی محبت سہی مگر بھابھی ہمیشہ بھابھی ہی رہتی ہے وہ کبھی بھی بہن نہیں بن سکتی‘‘
’’تو کیا رمشا سچ کہا کرتی تھی، کیا واقعی میں سروج بھابھی نے مجھ سے منہ موڑ لیا ہے؟ سب کی طرح ان پر بھی میں ایک بوجھ ہوں، وہ بھی مجھے چھوڑ چکی ہے‘‘ یہ سوچتے ہی اسکی آنکھیں پھر سے بھیگ گئی
’’کسی کو معاف نہیں کروں گی میں کسی کو بھی نہیں‘‘ ہاتھ کی پشت سے بےدردی سے آنسو رگڑتے اسنے خود سے عہد لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں آتے ہی اسنے جلدی سے دروازہ بند کیا اور اسکے ساتھ لگتے ہی نیچے بیٹھ گئی، آنکھیں تو اسکی بھی بھیگ گئی تھی اپنی ماں کے الفاظ سن کر ، اسے سب کچھ برداشت تھا مگر اپنی محبت کی تزلیل نہیں، اسے آج پھر سے وہ دن یاد آنے لگا جو اسکے دامن کو خوشیوں سے بھرنے والا تھا مگر غم کی علاوہ اسے کچھ نہیں ملا
ماضی
مایوں کی دلہن کا جوڑا پہنے اپنےآس پاس سے بےخبر وہ اس وقت دیوانہ وار ہسپتال کے کوریڈور میں بھاگی جارہی تھی، اسکی سانسیں پھول چکی تھی مگر وہ رکی نا، جب اسےیاسین صاحب ہسپتال کے ایک کمرے سے نکلتے ہوئے نظر آئے
’’انکل!! عمیر؟‘‘ پھولی سانس اور آنسوؤں سے بھیگے چہرے کے ساتھ وہ صرف اتنا ہی پوچھ سکی، جبکہ اسکے جواب میں انہوں نے کمرے کی طرف اشارہ کردیا اور ایک لمحے کا بھی انتظار کیے بغیروہ اندر کی طرف بڑھ گئی جہاں اسکا پورا وجود پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا
’’عمیر!!‘‘ اسکی آواز سرگوشی سے زیادہ نا تھی
’’یہاں آؤ‘‘ آنکھیں کھولے اسکو مایوں کے لباس میں دیکھتے ایک تکلیف دہ مسکراہٹ عمیر کے لبوں کو چھو گئی، اور اسے اپنے پاس بلانے کا اشارہ کیا
’’عمیر‘‘ اسکا نام دوبارہ پکارتے اسکی ہچکی بندھ گئی
’’سروج؟‘‘
’’ہممم‘‘
’’مجھ سے محبت کرتی ہوں نا؟‘‘ اسنے سوال کیا جس پر سروج نے سر اثبات میں ہلا دیا
’’مجھ پر بھروسہ ہے نا؟‘‘ ایک اور سوال اور وہی جواب
’’پھر مجھ سے ایک وعدہ لینا ہوگا تمہیں؟‘‘
’’کیسا وعدہ؟‘‘
’’ہمیشہ ساتھ نبھانے کا‘‘
’’میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں عمیر‘‘ اسکا ہاتھ تھامتے وہ محبت سے بولی
’’سروج ماما، بابا اور میری ھدی کا بہت دھیان رکھنا ہے تم نے، تم جانتی ہوں نا وہ مجھے کتنے عزیز ہیں‘‘
’’عمیر ہم مل کر دھیان رکھے گے نا‘‘ عمیر کی بات نے اسکا دل دہلا دیا تھا، اپنی کانپتی زبان پر قابو پاتے وہ بولی
’’نہیں مل کر نہیں وقت نہیں ہے میرے پاس‘‘ وہ ہولے سے بولا
’’عمیر ایسے نا کہے‘‘
’’سروج مجھ پر کبھی شک مت کرنا، اور یاد رکھنا کے تمہارے عمیر نے تم سے سچی محبت کی تھی‘‘
’’عمیر کچھ نہیں ہوگا آپکو، آپ۔۔آپ بلکل ٹھیک ہوجائے گے‘‘ اسکا پورا جسم ہچکولے کھارہا تھا
’’سروج۔۔سروج یاد رکھنا میں۔۔تم سے بہت محبت کر۔۔کر۔۔کرتا ہوں‘‘ اور عمیر کا ہاتھ اسکے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’عمیر!!!!!!!!!!‘‘چیختے ہوئے وہ اٹھی، اسکا پورا جسم پسینے میں بھیگا ہوا تھا، آنکھوں سے گرم سیال بہہ رہا تھا، جب اسے ابراہیم کے رونے کی آواز آئی، اپنا آپ سنبھالتے ہوئے وہ ابراہیم کی طرف بڑھی، ابراہیم بس کچھ دن کا ایک نومولود بچہ تھا جو عمیر جانے سے پہلے اسکی گود میں چھوڑ گیا تھا، عمیر ہی کی خواہش پر اسکا اور سروج کا نکاح اس دن ہسپتال میں کروا دیا گیا تھا، جس پر شہانہ بیگم نے واویلا مچانے کی کوشش کی مگر وقت اور حالات کو دیکھ کر چپ کرگئی، ابراہیم کو بھی لیکر خاندان بھر میں چہ مگوئیاں ہوئی تھی مگر ڈی۔این۔اے رپوڑٹ نے یہ بات ثابت کردی تھی کہ ابراہیم عمیر ہی کی اولاد ہے، بس وہ دن اور آج کا دن سروج نے خود کو عمیر کی بیوہ اور ابراہیم کو اپنی اولاد ہی سمجھا اور اب وہ پوری زندگی اسی کے سہارے گزارنے کا فیصلہ کرچکی تھی۔
’’شی، میری جان بس چپ کوئی ضرورت نہیں ہے رونے کی اب ماما اور بےبی پاکستان جائے گے اور وہی رہے گے پھر کبھی واپس نہیں آئے گے، میری جان، میرا پالا بچا، بس چپ‘‘ اسے سینے سے لگائے اسکی پشت کو تھپتھپاتے ہوئے وہ اسے بولے جارہی تھی جبکہ ابراہیم ماں کا لمس پاکر سکون کی نیند میں جاچکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن صبح کو اسکی آنکھ معمول سے پہلے ہی کھل چکی تھی، وہ یونی کےلیے تیار ہوئی ناشتے کی ٹیبل پر آ بیٹھی، اسکی آنکھیں حد درجہ سرخ تھی، اسکی اس حالت نے اشنا بیگم کو کس قدر تکلیف دی تھی یہ وہی جانتی تھی، شمائلہ بھابھی کے لال چہرے کو دیکھ کر وہ ایک بار پھر ان پر ہوئے ظلم کی داستان بنا سنے ہی جان چکی تھی، مگر اس وقت اس سے زیادہ مظلوم اور کوئی نہیں تھا۔
’’ارے آج تم جلدی اٹھ گئی‘‘ اسکے ساتھ بیٹھتے بےتکلفی سے اسکے ہاتھ سے جوس کا گلاس لیے ایاز پینے لگا
اسکی اس حرکت پر ھدی کے چہرے پر ناگواری در آئی اوریہی حال اشنا بیگم کا بھی تھا
’’ایاز یہ کیا طریقہ ہے، ھدی کا جوس کیوں چھینا اس سے‘‘ انہوں نے ایاز کو اسکی حرکت پر ٹوکا
’’او کام آن مام کیا فرق پڑتا ہے، ویسے بھی اب تو یہ میری بیوی بننے والی ہے سو واٹ‘‘ اسنے کندھے اچکائے
’’ویٹ ایکچیولی یو آر رائٹ بھلا میں اسکا کیوں کھاؤ گا، بلکہ ایسا کرتے ہیں کہ آئندہ سے ، بلکہ نہیں آج ہی سے ھدی میرا بچا ہوا کھائے گی، ویسے بھی اب تو یہ میری ہونے والی بیوی ہے تو ابھی سے عادت ڈال لے‘‘ ایاز کی اس بات پر وہ تینوں سن ہوکر رہ گئی،
’’تو کیا اب میری اوقات یہ ہے‘‘ سوچتے ہی ایک تلخ مسکراہٹ اسکے چہرے پر در آئی
’’اینڈ یو مائی ڈئیر کزن ، اینڈ سون ٹو بی وائف، یہ بات اپنے دماغ میں بٹھالو ورنہ تمہارا بھی وہی حال ہوگا‘‘ اسکا بازو زور سے پکڑے اسنے شمائلہ کے چہرے کی طرف اشارہ کیا، جو سوجا ہوا تھا، ھدی کوتو اسکے بازو پکڑنے پر تکلیف ہونے لگی
’’چلو یونی کا وقت ہوگیا ہے‘‘ اسے کہتا وہ باہر چل دیا جبکہ وہ بھی بنا کسی پر نظر ڈالے تیز قدموں کے ساتھ اسکی پیروی کرتے باہر چل دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونیورسٹی آکر بھی وہ بنا کسی پر دھیان دیے آخری سیٹ پر آکر بیٹھ گئی کیونکہ کل زرار نے صاف صاف الفاظ میں کسی کو بھی اس سے بات کرنے سے منع کردیا تھا اور اب خود بات کرنے کی اس نے کوشش بھی نہیں کی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی اسکا کوئی فائدہ نہیں، اور اب اسے کسی سے کوئی خاص دوستی بھی نہیں کرنی تھی۔
لیکچر لینے کے بعد وہ کلاس سے نکلی ہی تھی کہ اسے سامنے سے زرار آتا نظر آیا، وہ اسے اگنور کرتے وہاں سے گزر کا جارہی تھی
’’کیسی ہوں ھدھد؟‘‘ اسکے سامنے آکھڑا ہوا وہ اس سے پوچھنے لگا، جبکہ ھدی کو اب ضبط سے کام لینا تھا، وہ فلحال اس سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی اسی لیے بنا جواب دیے سائڈ سے گزرنے لگی، مگر شائد زرار کو اسکی یہ حرکت پسند نہیں آئی تھی اسی لیے اسکا بازو دبوچے اسکا رخ اپنی طرف کیا
اسکے بازو دبوچنے پر ھدی کراہ کر رہ گئی اور ایک نظر ادھر ادھر دیکھا جہاں سب لوگ اسے یوں اگنور کرکے گزر رہے تھے جیسے وہاں کچھ ہوا ہی نا ہوں۔
’’تمہیں پیار کی زبان سمجھ میں نہیں آتی؟‘‘ اسکا بازو دبوچے خود سے قریب کیے اس نے پوچھا
’’آہ!!!‘‘ درد کی شدت سے اسکی آنکھوں سے آنسو نکل آئے
اسے ایک جھٹکے سے خود سے تھوڑا سا دور کیے زرار اسکے بازو کی آستین اوپر کیے اسکا بازو دیکھنے لگا جہاں اب نیل کا نشان پڑھ چکا تھا۔ ھدی تو اسکی اس حرکت اور جرات پر حیران رہ گئی
’’دیکھو زرا اب کیا ہوگیا، اگر تم آرام سے مجھ سے بات کر لیتی تو ایسا نا ہوتا‘‘ اسے افسوس ہوا ھدی کا بازو دیکھ کراسے لگا کہ یہ سب اسکی وجہ سے ہوا ہے مگر اب وہ اسے کیا بتاتی، کیونکہ صبح ایاز نے بھی اسکا یہی بازو دبوچا تھا
اپنا بازو اسکی گرفت سے آزاد کرواتے ہوئے وہ تیزی سے وہاں سے بھاگی وہ جتنا ہوسکے اتنا ہی دور زرار نامی بلا سے جانا چاہتی تھی ، ایسے میں ہی اسکی ٹکڑ کسی سے ہوئی، نظریں اٹھا کر دیکھا تو سامنے عمارہ کھڑی تھی
’’کیا ہوا ھدی تم ٹھیک تو ہوں نا؟‘‘اسے تشویش ہوئی، جبکہ ھدی کو تو اسکی بات سن کر غصہ آگیا
’’میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں بلکل ٹھیک ہوں میں، اور اگر نا بھی ہو تو آپ لوگوں کو کیا، آپ سب کو تو ایک مفت کا کھلونا مل گیا ہے، جس کا جیسے دل چاہے،جب دل چاہے جیسے مرضی اس سے کھیل سکتا ہے، میں تو ہوں ہی ناکارہ ، میری فکر کرکے مجھ پر احسان عظیم کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو‘‘ وہ چلا نہیں رہی تھی مگر اسکا لہجہ بہت سخت تھا
’’کیا ہوا ہے ھدی کسی نے کچھ کہاں ہے؟‘‘
’’زرار احمد زماد کے ہوتے ہوئے بھلا کسی کی کیا مجال جو مجھے کچھ کہے، کیونکہ میری زندگی خراب کرنے کے لیے زرار اور ایاز نامی دو بلائیں کافی ہیں‘‘ کہتے ہی غصے سے وہ وہاں سے چل دی جبکہ عمارہ تو حیران رہ گئی اسکا غصہ دیکھ کر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت دوپہر کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی، ایسا کم بیش ہی ہوتا تھا کہ جلال لنچ ٹائم میں گھر سے کھانا منگواتا تھا اور آج بھی اسنے گھر کے کھانے کی فرمائش کی تھی، بریانی کو دم لگا کر اب وہ شاور لینے کمرے کی طرف بڑھی، شاور لینے اور خود کو اچھے سے تیار کرنے کے بعد اسنے لنچ پیک کیا اور ڈرائیور کے ساتھ آفس چلی گئی، گھر میں چاہے جو بھی ہوں مگر وہ باہر کسی پر بھی اپنے شوہر کی حقیقت آشنا نہیں ہونے دے سکتی تھی۔
بلنڈگ میں انٹر ہوتے ہی وہ لفٹ کے ذریعے جلال کے کمرے کی طرف بڑھی جب اندر سے آتی آواز پر اسکے قدم وہی تھم گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’سو بتائے مسٹر صدیق آپ نے کیا سوچا میرے پرپوزل کے بارے میں‘‘ فرقان لودھی نے سوال کیا
’’مسٹر لودھی میں نے آپ سے پہلے ہی کہا تھا کہ ہمیں آپکا پرپوزل قبول ہے مگر ھدی کی پڑھائی کے بعد‘‘ صدیق صاحب نے جواب دیا
’’تو پھر شائد آپ کو میری اگلی بات بھی یاد ہوگی‘‘ ایک آبرو اچکائے فرقان لودھی نے پوچھا
’’جی بلکل فرقان صاحب، میں جانتا ہوں کے ھدی کی شادی کی صورت میں ہی ہمیں پروجیکٹ ملے گا، مگر اسکی شادی ابھی ناممکن ہے‘‘
’’تو پھر مجھے بلا کر ٹائم ویسٹ کرنے کا مقصد؟‘‘
’’مطلب یہ کے مسٹر فرقان میں نے بیچ کی ایک راہ نکالی ہے کیوں نا ابھی ہم منگنی کردے اور پھر پڑھائی کے بعد شادی؟‘‘ اب کی بار جلال بولا، جس پر مسٹر فرقان مسکرا اٹھے
’’مجھے آپ کا آئیڈیا اچھا لگا مسٹر صدیق اینڈ جلال، لیکن کیا ہے نا اس میں تھوڑا سا ردوبدل کر دیتے ہیں، ابھی ہم نکاح رکھ لیتے ہیں اور رخصتی پڑھائی کے بعد‘‘ فرقان لودھی کی اس بات پر تو دونوں باپ بیٹے کے چہرے کا رنگ اڑ گیا
’’مگر مسٹر لودھی؟؟؟‘‘ اس سے پہلے جلال کچھ بولتا انہوں نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا
’’بس!! مسٹر جلال میں نے اپنی شرط آپ کے سامنے رکھ دی ہے اب یہ آپکی مرضی کے آپکو یہ منظور ہے یا نہیں، تب تک کے لیے گڈ بائے‘‘ سیٹ سے اٹھتے ہی وہ آفس سے باہر چلے گئے، جبکہ دروازے کی اوٹ میں کھڑی شمائلہ جتنا ہوسکے اتنا ہی دیوار کے ساتھ پیچھے کو چپک گئی۔
’’ڈیم اٹ اب کیا کرے گے ہم؟‘‘جلال کا غصہ کسی قدر کم نہیں ہورہا تھا اسنے اپنے باپ کو دیکھا جو سگار جلائے اب پرسوچ انداز میں باہر دیکھ رہے تھے
’’جلال تم ھدی اور فرقان لودھی کے نکاح کی تیاری شروع کروں‘‘ انکی اس بات پر جلال چونک گیا، چونک تو باہر کھڑی شمائلہ بھی گئی تھی
’’ڈیڈ ابھی کل ہی آپ نے ایاز کا رشتہ طے کیا ہے ھدی کے ساتھ اگر آپ کو یاد ہو تو؟‘‘ جلال کو جیسے انکی دماغی حالت پر شعبہ ہوا
’’تو؟‘‘ انہوں نے حیرانگی سے سوال کیا
’’تو؟ تو یہ ڈیڈ کے اب آپ اس لودھی کے ساتھ اسکا نکاح کرنے پر راضی ہوگئے ہیں، آخر آپ چاہتے کیا ہیں؟‘‘
’’تمہیں کس نے کہا کے ھدی اور فرقان کا نکاح جائز ہوگا!!!‘‘ شیطانی مسکراہٹ لیے وہ بولے
’’مطلب؟‘‘ جلال کو ابھی بھی کچھ سمجھ نا آیا تھا
’’مطلب صاف ہے جلال ہم پہلے ایاز اور ھدی کا نکاح خاموشی سے کروائے گے اور پھر ھدی کا نکاح فرقان سے، اس طرح یہ ڈیل ہمیں مل جائے گی اور ڈیل کے ملتے ہی ہم ھدی اور ایاز کا نکاح اس طریقے سے فرقان لودھی کے سامنے لائے گے کہ جیسے ان دونوں نے چوری چھپے نکاح کیا ہوں، اور تم جانتے ہوں عورت کے لیے نکاح پر نکاح جائز نہیں تو بس کام ختم پیسہ ہضم‘‘ جلال تو اپنے باپ کی پلاننگ سن کر داد دیے بنا نا رہ سکا، جبکہ شمائلہ کا تو سانس خشک ہوگیا، اسکا شوہر اور سسر پیسے کے لیے اس حد تک جا سکتے ہیں اسنے کبھی نہیں سوچا تھا، دونوں ہاتھ منہ پر جمائے وہ تیزی سے واشروم کی طرف بھاگی، دھیڑ سارا رو لینے کے بعد خود کو کمپوز کرتے وہ میک اپ فریش کیے دوبارا سے جلال کے آفس کی طرف بڑھی، مسٹر صدیق ابھی ابھی اسکے آفس سے گئے تھے۔
’’کیا میں اندر آسکتی ہوں؟‘‘ اسنے ناک کرتے پوچھا
’’ارےشمائلہ تم آؤ نا اور تم کب آئی؟‘‘ محبت سے اس سے بات کرتے اس نے پوچھا، کتنا دوغلہ تھا وہ شخص وہ بس سوچ سکی
’’میں ابھی ابھی آئی ہوں ، آپکی فیورٹ سندھی بریانی لائی ہوں لنچ میں‘‘ وہ یو بنی جیسے تھوڑی دیر پہلے کچھ ہوا ہی نا ہوں
’’اچھا یہ تو بہت اچھا کیا تم نے آؤ میری ساتھ لنچ کروں‘‘ آفس کا سارا سٹاف اسی کے فلور پر تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی ہو غلطی سے بھی انکے رشتے کی اصلیت کا علم ہوں۔
’’کیا میں نے آپ لوگوں کو ڈسٹرب کیا؟‘‘ ان دونوں کو ایک دوسرے کے قریب دیکھ کر دروازے پر کھڑے فرقان لودھی نے پوچھا
’’ارے مسٹر لودھی نہیں بلکل بھی آئیے نا‘‘ جلال مسکراہ کر ان سے بولا، جبکہ شمائلہ کی تو نظریں جھک گئی
’’ان سے ملیے مسٹر لودھی مائی وائف، لو آف مائی لائف، مسز شمائلہ جلال‘‘ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے خود کے قریب کیے اسنے تعارف کروایا، جب شمائلہ نے ہولے سے پلکے اٹھا کر سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھا جس کا چہرہ کسی بھی جزبے سے عاری تھا
’’مل کر خوشی ہوئی مجھے‘‘
’’مجھے بھی‘‘ شمائلہ ہلکی آواز میں بولی۔
’’مسٹر فرقان آپ یہاں؟‘‘ جلال حیران ہوا
’’یس مسٹر جلال، ایکچولی میں اپنا موبائل بھول گیا تھا‘‘ ٹیبل سے موبائل اٹھائے وہ بولے
’’ارے اگر آپ آہی گئے ہیں تو لنچ کرکے جائے‘‘ جلال نے آفر کی۔
’’ارے نہیں میں چلتا ہوں پھر کبھی سہی‘‘ انہوں نے ٹھکرایا
’’ارے آج میری بیگم نے سپیشلی اپنے ہاتھوں سے کھانا بنایا ہے اور یقین مانے میری بیگم کے ہاتھ میں بہت ذائقہ ہے آپ کو ضرور ٹرائے کرنا چاہیے، پھر شائد کبھی موقع ملے نا ملے‘‘ جلال نے بات پوری کی
’’ارے موقعے تو بہت ملے گے مسٹر جلال ‘‘
’’مطلب؟‘‘ شمائلہ جانتے ہوئے بھی انجان بنی
’’ارے کچھ نہیں چھوڑو تم، مسٹر فرقان آئیں آج آپ ہمارے مہمان ہیں‘‘
’’شیور وائے ناٹ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
