Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02)

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02)

ھدی کو سلا کر وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی، اسنے جلال کو دیکھا جو لیپ ٹاپ پر بیٹھا سنجیدہ سا اپنے کام میں مصروف تھا، اس پر نظر ڈالتے وہ واشروم کی طرف بڑھی اور تھوڑی دیر میں چینج کرکے اپنی جگہ پر آکر لیٹ گئی
“جلال! !” بہت ہمت کرکے اسنے پکارا
“ہمم” لیپ ٹاپ پر نظر جمائے اسنے پوچھا
“وہ ھدی کی شادی کروانا بہت ضروری ہے کیا؟ ” ڈرتے ڈرتے اسنے اپنی بات پوری کی
“کیوں کیا مسئلہ ہے ھدی کی شادی سے؟ ” ایک پل میں اسکا لہجہ سخت ہوا تھا
“نہیں میرا مطلب ہے کہ وہ تو ابھی چھوٹی ہے نا” زبان لبوں پر پھیرتے وہ بولی
“اچھا اتنی چھوٹی ہے تو کیا گود لے لے اسے کھلائے پیلائے پالے پوسے؟ ” جلال نے شمائلہ کے منہ پر اسکی بات ماری تھی
“نہیں میرا وہ مطلب تو نہیں تھا” وہ ہچکچائی
“دیکھو شمائلہ تم اس گھر میں میرے لیے ہوں تو وہی کروں دوسرے معملات سے دور رہو” ایک جھٹکے میں صوفہ سے اٹھتے وہ اسے سناتا کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ شمائلہ کی آنکھوں سے اسکی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے آنسو جاری ہوگئے
یہی تو اسکی حیثیت جلال کی داسی تھی وہ بیوی کا مرتبہ تو وہ کھو چکی تھی مطلب کے اسے کبھی وہ حیثیت دی ہی نہیں گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آدھی رات کا وقت تھا نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی وہ بس اپنے کل کے بارے میں سوچ رہی تھی، آنسو مسلسل اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔ ایسے میں اچانک اسے کھٹکے کی آواز سنائی دی یوں جیسے کوئی اسکے کمرے کا دروازہ پیٹ رہا ہوں
“اس وقت کون ہوسکتا ہے؟ ” دوپٹا لیے پیر میں چپل اڑیسے وہ حیران سی دروازے کی طرف بڑھی
اس نے دروازہ کھولا تو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر حیران رہ گئی
یقینا وہ ایاز ہی تھا مگر اسکی حالت ھدی کانپ گئی تھی ، وہ پکا اس وقت نشے میں تھا اسکا جسم اس لڑکھڑا رہا تھا اور آنکھیں نشے کی زیادتی کے باعث کبھی کھل رہی تھی تو کبھی بند ہو رہی تھی۔
“ای۔ ایاز بب۔ بھائی آا۔ آپ یہاں اس وو۔ وقت کک۔ کوئی کام تت۔ تھا” وہ ڈر رہی تھی
“آ ھدی مائی سون ٹو بی وائف میں تو تمہارے ساتھ کچھ پل گزارنے آیا تھا” وہ ہچکی لیتا بولا
“ایاز بھائی بب۔ باہر جائے” اسکی ٹانگیں لرز رہی تھی وہ خوف سے کانپ رہی تھی
“کم آن ھدی ڈارلنگ شوہر ہو تمہارا” کہتے ہی اسنے ھدی کو اپنی طرف کھینچا اور اس پر جھکنے لگا جب اسکی دل خراش چیخ سنتے ہی اپنے کمرے کی طرف بڑھتا جلال اسکے کمرے کی طرف آیا اور سامنے کا منظر دیکھ کر چکرا گیا اور آگے بڑھ کر ایک جھٹکے سے اسے ھدی سے دور کیا اور کمرے سےلیکر باہر نکل گیا
تھوڑی دیر بعد وہ ایاز کا دماغ ٹھکانے لگا کر دوبارہ کمرے میں آیا جبکہ ھدی رونے میں مصروف تھی، اس کو دیکھ کر جلال آنکھیں گھما کر رہ گیا
“سمجھا دیا ہے اسے میں نے اب وہ دوبارہ ایسی حرکت نہیں کرے گا” لہجہ بلکل نارمل تھا جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو
“بھائی” ھدی نے اسکی طرف بڑھنا چاہا جس پر اسنے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا
“ہاں بس ٹھیک ہے سب اور تم زرا اپنے کپڑوں پر دھیان دو تم جیسی لڑکیاں خود مردوں کے لیے دعوت کا سماں پیدا کرتی ہو پھر انہی پر الزام لگاتی ہو” ھدی نے تو سوچا تھا کہ وہ اسے تسلی دے گا مگر یہ کیا اسنے تو الٹا اسی پر الزام لگا دیا جبکہ جلال تو اپنی بات کہہ کر یہ جا وہ جا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح ھدی کے لیے کسی عذاب سے کم نا تھی وہ پورا دن اپنے کمرے سے باہر نا نکلی تھی
شمائلہ اور اشنا بیگم تو اس وجہ سے چپ تھی کہ شاید وہ اکیلے میں کچھ وقت گزار لے مگر کل رات جو ہونے والا تھا اسنے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا
اس سے کوئی بھی ملنے نہیں آیا تھا جب صدیق صاحب کو بیٹے کی حرکت کا معلوم ہوا تو انہوں نے سختی سے سب کو ھدی سے نا ملنے کا حکم دیا وہ نہیں چاہتے تھے کہ اشنا بیگم کو کسی بھی طرح سے بیٹے کی اس حرکت کا پتا چلے
ناشتہ اسکے کمرے میں بجھوا دیا گیا تھا جسے اسنے مارے بندھے کرلیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج صبح سے ہی وہ اپنی ھدھد کے انتظار میں تھا مگر وہ اسے کہی نظر نا آئی، اب اسکا رخ کینٹین کی طرف تھا جب اسکے کانوں میں عمارہ کی آواز پڑی اور غصے سے اسکی رگیں تن گئی۔ وہ یقینا ھدی کے نکاح کے بارے میں مائز کو بتا رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ افسوس بھی کر رہی تھی کہ اسکا نکاح کیسے زبردستی اسکے کزن ایاز کے ساتھ ہورہا ہے جو یونی میں اچھی ریپوٹیشن نہیں رکھتا تھا
زرار کا دل چاہا کہ پوری دنیا کو تہس نہس کردے اور غصے میں اسنے کینٹین کی چیر توڑ ڈالی
جبکہ عمارہ اور مائز کے ساتھ باقی سب بھی دنگ رہ گئے اسے دیکھ کر جس کی آنکھیں اب لال ہوچکی تھی
وہ بنا کچھ سوچے یونی سے باہر کی طرف بڑھا اور جو بھی راستے میں آتا اسے دھکا دے دیتا۔
۔۔۔۔۔۔۔
آخر کار وہ وقت آہی گیا تھا جس سے بچنے کی اسنے پل پل دعا مانگی تھی مگر شاید کچھ دعائیں کبھی قبول نہیں ہوتی اسکے ساتھ بھی یہی ہوا تھا
دو میک اپ آرٹسٹ کو اسکے کمرے میں بھیج دیا گیا تھا اسے تیار کرنے کے لیے، دوپہر کو اسکے ہاتھوں میں مہندی لگا دی گئی تھی جسکا رنگ اسکی قسمت کی طرح پھیکا تھا
میک اپ آرٹسٹ بھی بنا کوئی بات کیے اسے سجا چکی تھی
ھدی کوئی حور پری یا خوبصورتی کی مثال نا تھی وہ بس عام سی شکل کی لڑکی تھی مگر اپنے ماں باپ اور بھائی کی شہزادی تھی وہ
اسے تیار کردیا گیا تھا اور اب انتظار تھا تو بس نکاح کا دو موتی اسکی آنکھوں ستے ٹوٹ کر اسکے گالوں پر لڑکھ گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت پاکستان کی سر زمین پر کھڑی تھی ایک آزاد سانس فضا میں خارج کرتے اسنے ٹیکسی کروائی اور یاسین ولا کا اڈریس دیا۔
پورا راستہ اسکا پرانی یادوں میں کٹا تھا
اب کے وہ یاسین ولا کے باہر کھڑی تھی پورا ولا روشنیوں میں نہایا ہوا تھا کیونکہ آج ھدی کی سالگرہ تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں بیٹھی اپنے لب کاٹ رہی تھی اور کسی معجزے ہونے کا انتظار کرجب بھابھی اسے نکاح کے لیے لینے آگئی اور ھدی کو لگا کہ اب وہ سانس نا لے پائے گی
“چلے مولوی صاحب بسم اللہ کرے” اسے ایاز کے پہلو میں بیٹھاتے ہی صدیق۔ صاحب نے گویا اجازت دی
“یہ کیا ہورہا ہے؟ ” اس سے پہلے کے نکاح شروع ہوتا ایک آواز ان سب کے کانوں سے ٹکڑائی جبکہ دروازے کے پاس کھڑی سروج پر تو حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ گئے اسنے اپنی آنکھوں پر یقین نا آیا
۔۔……..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *