Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08

ناشتے کی ٹیبل پر سب موجود تھے، کسی نے کل کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی تھی، سروج سنجیدہ سی اپنے ناشتے میں مگن تھی، وہاں موجود سب لوگ یہ جانتے تھے کہ سروج کو کھاتے وقت بات کرنے سے سخت نفرت ہے اسی لیے کسی میں بھی ہمت نہیں ہو پارہی تھی کہ کوئی اسے بلائے اور نا ہی کوئی ایسی حرکت کرکے اپنی شامت بلوانا چاہتا تھا۔
’’مجھے آپ سب لوگوں سے ایک بات کرنی ہے‘‘ ناشتہ پورا کرتے ہی نیپکین سے ہاتھ صاف کرتے اسنے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا جس پر ان تینوں باپ بیٹوں کے حلق میں نوالا اڑ گیا
’’ہاں ہاں کہوں نا بیٹا‘‘ صدیق صاحب نے خوش اخلاقی سے اجازت دی
’’کہنے کو تو میرے پاس بہت کچھ ہے انکل مگر اس وقت میں صرف آپ سب کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی جو آپ نے میری غیر حاضری میں ھدی کا دھیان رکھا‘‘ طنزیہ مسکرہٹ لیے وہ ان سے بولی
’’ارے بیٹا اس میں شکریہ کی کیا بات یہ تو ہمارا فرض تھا‘‘ ابکی بار اشنا بیگم محبت سے بولی ۔
’’ہاں بلکل اشنا ٹھیک کہ رہی ہے بیٹا‘‘ صدیق صاحب نے شاید ہی کبھی بیوی کی ہاں میں ہاں ملائی ہوں
’’جی بلکل انکل آنٹی آپ نے بجا فرمایا مگر وہ کیا ہے نا کہ ھدی کی گارڈیئن میں ہوں اور اب میں واپس آچکی ہوں تو سوچ رہی ہوں کیوں نا آپ کو اس فرض سے آزاد کر دوں، تو بس اسی لیے میں نے سوچا ہے کہ اب آپ لوگوں کو یہاں رہ کر اور اس گھر اور اسکے مکینوں کی دیکھ بھال کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں سب سنبھال لوں گی، آخر کو آپ کا بھی گھر ہے اسے بھی آپ کی ضرورت ہے، اور پھر یہ ولا اتنا بڑا ہے کہ میں سوچ رہی ہوں کیوں نا اس ولا کو تالا لگا کر میں اور ھدی میرے فلیٹ میں شفت ہوجائے ویسے بھی ہمیں دو ہی تو لوگ ہے اور ابراہیم کا کیا کے وہ تو بچا ہے‘‘ آخر کار سروج نے وہ بات کر ہی دی جسکا ان تینوں کو ڈر تھا، نہایت خوبصورتی سے وہ انہیں یہاں سے جانے کا کہہ چکی تھی جس پر وہ دانت پیس کر رہ گئے، جبکہ اشنا بیگم اور شمائلہ نے انکی حالت سے لطف اٹھایا تھا اور انہیں سروج سے کوئی گلہ بھی نا تھا۔
’’ھدی چندا ناشتہ کرلیا ہے تو آجاؤ آج سے یونی تم میرے ساتھ جایا کروں گی، ویسے بھی واپسی پر ہمیں شفٹنگ کروانی ہے نا‘‘ ھدی سے بات کرتے وہ ان سب کو آج ہی سب کچھ سمیٹ کرجانے کا اشارہ کرگئی تھی۔
ان دونوں کے جاتے ہی جلال نے زور دار آواز میں گلاس ٹیبل پر پٹکا تھا اور پھر سب کو غصے سے گھورتا وہاں سے چل دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونیورسٹی پارکنگ میں کھڑا وہ اسی کا انتظار کر رہا تھا جو اب سروج کے ساتھ اسے آتی نظر آئی۔
اسکے چہرے کا سکون اور مسکراہٹ زرار کو بھی سکون دے رہا تھا، اسے یوں ہشاش بشاش دیکھ کر ایک نا محسوس کی جانے والی مسکان زرار کے چہرے پر آگئی تھی، وہ یک ٹک اسے ہی دیکھنے میں مصروف تھا جو اب سروج کے ساتھ اندر بڑھ چکی تھی، اور زرار بھی اب نامحسوس طریقے سے اسکا پیچھا کرنے لگا جب تک وہ لوگ ایڈمین بلاک نہیں چلی گئی تھیں۔
’’بھابھی ہم یی۔۔۔یہاں کیوں آئے ہیں‘‘ ھدی نے حیرانگی سے پوچھا
’’کیونکہ تمہاری بھابھی اب اسی یونی میں تمہارے ساتھ ایڈمیشن لینے لگی ہے‘‘ سروج کی اس بات پر ھدی کی تو خوشی سے چیخ نکل گئی
’’سچ میں بھابھی؟ او مائی گاڈ، مجھے یقین نہیں آرہا‘‘ اسے گول گول گھماتے وہ مسکرا کر بولی
’’سائلنس(خاموشی)‘‘ ھدی کی چیخ پر وہاں سے جاتا پیون اسے وارن کرکے بولا۔
’’افف میں بہت خوش ہوں فائنلی میرا بھی کوئی دوست ہوگا یہاں‘‘ منہ بنا کر وہ بولی
’’کیوں بھئی ھدی صاحبہ نے کوئی دوست نہیں بنایا یا کوئی آپ کے شایان شان نہیں‘‘ سروج مسکرا کر پوچھنے لگی
’’نہیں یہاں کوئی مجھ سے دوستی نہیں کرنا چاہتا‘‘ اب کی بار وہ اداس لہجے میں بولی
’’ایسا کیوں؟‘‘ سروج حیران ہوئی
’’یہ سب اس بیسٹ کی وجہ سے ہوا ہے‘‘ وہ آنکھوں میں غصہ لیے بولی۔
’’کون بیسٹ؟‘‘ سروج نے سوال کیا، اب وہ دونوں آفس کے باہر آکھڑی ہوئی تھی
’’ارے چھوڑے اسے وہ اتنا امپورٹینٹ نہیں ہے ابھی تو آپ جائے ایڈمیشن کروائے جلدی کرے‘‘ وہ اسے آفس کے اندر دھکا دیتے بولے۔
سروج کابزنس اینڈ مینیجمنٹ ایم۔فل میں ایڈمیشن ہوگیا تھا، اور اب ھدی کے ساتھ باہر نکلتے اسے اس بیسٹ کے بارے میں ساری باتیں سن چکی تھی۔
’’تو اسکا مطلب سب سے پہلے اسنے تمہیں تھپڑ مارا، پھر تمہارا بازو بھی توڑنے کی کوشش کی اورسونے پر سہاگا سب کو منع کردیا تم سے دوستی پر؟‘‘ سروج کا تو غصہ آسمان کو چھو رہا تھا۔
’’ویسے تمہارے اس بیسٹ کا نام کیا ہے؟‘‘ سروج نے لہجہ حتی الامکان نارمل رکھ کر پوچھا
’’اممم کیا نام تھا اسکا؟ ہاں زرار۔۔۔۔۔۔۔زرار احمد زماد‘‘ ھدی کچھ سوچتے ہوئے اچانک چٹکی بجا کر بولی۔ جبکہ سروج تو اس نام میں اٹک کر رہ گئی۔ کیا اسنے سچ سنا تھا یا یہ اسکا وہم تھا، اسنے اپنا شک دور کرنے کے لیے ایک بار پھر ھدی سے نام پوچھا
’’ھدی کیا نام بتایا تم نے؟‘‘
’’زرار احمد زماد۔۔ کیوں کیا ہوا؟‘‘
’’نہیں کچھ نہیں۔۔۔ تم ایسا کروں تمہاری کلاس شروع ہونے والی ہے جاؤ تم تب تک میں باقی کا پروسیس کمپلیٹ کرلوں‘‘ اسے وہاں سے جانے کو کہتے وہ بولی
’’اوکے اللہ حافظ‘‘ سروج کے گلے لگے وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گئی۔
اب کے سروج یونی کا ویزٹ کرتے ایک قدرے الگ اور خالی کمرے میں آبیٹھی، اسکے دماغ میں اب تک ھدی کی باتیں چل رہی تھی۔
’’زرار؟ کیا یہ وہی زرار ہے جو میں سوچ رہی ہوں؟ مگر وہ یہاں کیسے آسکتا ہے؟‘‘
’’زرار احمد جب جہاں جس وقت دل چاہے کہی بھی آا جا سکتا ہے‘‘ دروازے سے ٹیک لگائے، نظریں سروج کی پشت پر ٹکائے وہ ہونٹوں پر مخسوس قسم کی مسکان لیے بولا
سروج نے جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو آنکھیں پلٹنے سے انکاری ہوگئی، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ تو کیا واقعی یہ زرار ہی تھا، اسکا دوست، اسکی سیکریٹ بک ، وہ یک ٹک اسے دیکھے گئی
’’ہاں یہ میں ہی ہوں سروج عمیر یا میں کہوں سروج حیدر‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’تو تم نے فیوچر کے حوالے سے کیا سوچا؟‘‘ علی زماد نے اپنے ساتھ بیٹھے ٹی۔وی میں مشغول موسی سے پوچھا
’’کچھ خاص تو نہیں‘‘ منہ میں پارپ کارن ڈالتے وہ قدرے آلسی پن سے بولا
’’تو ٹھیک ہے اگلے ہفتے سے تم بزنس جوائن کر رہے ہوں‘‘ علی زماد نے گویا حکم سنایا
’’آ ڈیڈ میں سوچ رہا تھا کہ کیوں نا آگے پڑھائی جاری کرلوں ویسے بھی آجکل خالی بی۔ایس کی کوئی ویلیو تو ہے نہیں تو کیوں نا ایم۔فل میں ایڈمیشن لے لو‘‘ بزنس جوائن کرنے کا سن کی اسکی حالت پتلی ہونے لگی اور اسنے بروقت بہانا گھڑا
علی زماد بیٹے کے بہانوں سے خوب واقف تھے وہ جانتے تھے کہ موسی پڑھائی میں کتنا نکما ہے مگرپھر بھی وہ اس پر کوئی زور زبردستی نہیں کرنا چاہتے تھے
’’ٹھیک ہے جیسی تمہاری مرضی، خیر فیلڈ سوچی؟‘‘ انہوں نے پوچھا
’’ہاں سوچا ہے نا۔۔۔۔ بزنس اینڈ مینیجمنٹ‘‘ وہ بےفکرے انداز میں انداز میں بولا
’’آر یو شیور‘‘ علی زماد حیران ہوئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ سبجیکٹ آسان نہیں تھے۔
’’یا ہنڈریڈ پرسنٹ شیور( سو فیصد)‘‘ وہ بےفکرے انداز میں بولا۔
’’ٹھیک جیسی تمہاری مرضی‘‘ وہ کندھے اچکائے بولے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’یہ۔۔۔یہ پریزنٹیشن تیار کی ہے تم لوگوں کی ٹیم نے؟ یہ ٹیم ورک ہے تمہارا؟ یو نو وٹ یو آل آر فائرڈ‘‘ وہ صبح سے آفس آئے غصے سے جھنجھلا رہا تھا، اسے رہ رہ کر سروج نامی اس بلا پر غصہ آرہا تھا جس نے ایک دن میں ہی ساری کایا پلٹ کر رکھ دی تھی، اور اب غصے کا نشانا بیچارے ورکرز بن رہے تھے
’’ایکسکیوز می سر مسٹر فرقان لودھی کی کال ہے‘‘ اتنے میں اسیٹینٹ اسکے نمبر پر کال کر کے بولی
’’یا پاس اون‘‘
’’جی کہیے مسٹر فرقان۔۔۔ کیاَ مگر کیوں؟ دیکھے آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی، مسٹر فرقان ہم سکون سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں نا اس مسئلے پر۔۔آپ میری بات تو سنے، ہیلو مسٹر فرقان ہیلو‘‘ نجانے دوسری طرف سے ایسا کیا کہا گیا تھا کہ جلال کا غصہ مزید بڑھ گیا اور اسنے غصے سے پیپر ویٹ زمین پر دے مارا، اتنے میں صدیق صاحب کمرے میں داخل ہوئے
’’کیا ہوا جلال اتنے غصے میں کیوں ہوں؟‘‘ ساتھ ہی انہوں نے اشارے سے سٹاف کو باہر جانے کو کہا۔
’’سیریسلی ڈیڈ آپ ابھی مجھ سے پوچھ رہے ہیں وہ سروج نامی بلا جب سے آئی تب سے سب کچھ الٹا ہوا جارہا ہے‘‘ وہ ادھر ادھر ٹہلتے غصہ کم کرنےکی کوشش کرتے بولا
’’او ہوں ایک تو تم اس چھٹانک بھر کی لڑکی کی اتنی ٹینشن کیوں لے رہے ہوں‘‘ انہوں نے گویا ناک سے مکھی اڑائی
’’تو سنے مسٹر لودھی کا فون آیا تھا انہیں کہی سے ھدی اور ایاز کے نکاح کی خبر مل گئی، وہ اب نا صرف ہم سے ڈیل کینسل کرچکے ہیں بلکہ آنے والی باقی ڈیلز بھی نہیں کرے گے اور تو اور انہوں نے کہا ہے کہ جو گیم ہم نے انکے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی ہے وہ الٹا ہمیں جیل بجھوا سکتے تھے مگر انہوں نے ہمیں ایک اور چانس دینے کے بارے میں سوچا‘‘
اب کی بار تو صدیق صاحب کو سہی معنوں میں اپنا سر چکراتا محسوس ہوا، ہر کام الٹ ہورہا تھا، جو وہ چاہتے تھے سب اس سے بلکل الٹا ہورہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’مجھے یہاں بلانے کا مقصد؟‘‘ ائیرپورٹ پر بیٹھے اپنی فلائیٹ کی اناؤنسمنٹ کے انتظار میں وہ ایک میگزین کی ورق گردانی کر رہا تھا جب بلکل پاس سے سناشا سی آواز ابھری، لب اپنے آپ ہی مسکرا اٹھے
’’مجھے خوشی ہوئی یہ جان کر کے آپ میرے ایک بار بلانے پر یوں دوڑی چلی آئی‘‘ وہ آنکھوں میں اسکے لیے عزت و احترام لیے بولا
’’مسٹر لودھی آپ نے جو ضروری بات کرنی ہے وہ کرے میرا ٹائم ویسٹ مت کرے، ویسے بھی مجھے گھر جانا ہے میرے شوہر کو پسند میرا انکے لیے دروازے پر انتظار کرنا‘‘ وہ جتلانے والے انداز میں بولی۔
’’مجھے یہ دینا تھا آپ کو‘‘ وہ ایک فائل اسکی طرف بڑھاتے بولے
’’یہ؟یہ کیا ہے؟‘‘ انکے ہاتھ سے فائل تھامے اسنے پوچھا
’’آپ کے شوہر کی آپ سے بےلوث محبت کا ثبوت‘‘ وہ ایک ادھوری مسکان لیے بولا
’’اور ایک بات کہوں شمائلہ خدا کے لیے میری ضد میں اپنی زندگی برباد مت کرے آپ تو جانتی بھی نہیں ہے کہ آپکے شوہر نے آپکو کس کس موقع پر کیسے کیسے دھوکا دیا ہے، اور ہاں ایک اور بات میرے سامنے جھوٹی مسکان مت سجایا کرے، محبت کی ہے میں نے، آپکے درد اور تکلیف کو سمجھ سکتا ہوں اور یہ بھی یاد رکھیے گا کہ محبت کرنے والے کبھی محبوب کو مزاق نہیں اڑاتے، میں آج جا رہا ہوں ہمیشہ کےلیے۔۔۔۔۔ فائل کے اندر میرا نمبر ہے جو میں وہاں جاکر استعمال کروں گا کبھی زندگی میں ضرورت ہو تو بنا ہچکچائے یاد کر لیجیے گا۔۔۔۔ اور آخری بات مجھے غور سے سننے کا بہت شکریہ‘‘ ہلکی سی مسکان سجائے اپنی بات پوری کرتے وہ اندر کی طرف بڑھ گئے، اور شمائلہ کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے
کتنی ناشکری تھی وہ بلکہ بےوقوف جو کوئلے اور ہیرے میں فرق محسوس نہیں کرپائی
اسے تو لگا تھا کہ وہ ساری دنیا کو آسانی سے بےوقوف بنا لے گی، مگر اسکی زندگی کا راز تو وہ شخص پا گیا تھا، جسے وہ سب سے زیادہ چھپا کر رکھتی تھی اور اسنے بھی اس راز کو خود تک رکھا
وہ کب ائیرپورٹ سے نکل کر ٹیکسی میں بیٹھے گھر آئی اسے کچھ ہوش نہیں تھا
مگر گھر آتے ہی سب سے پہلے اسنے اس فائل کو اپنے لاکر میں رکھ دیا جسے کبھی جلال نے بھی ہاتھ نا لگایا تھا، ویسے بھی انہیں اپنا سامان شفٹ کرنا تھا سو وہ اس میں مصروف ہوگئی تھی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *