Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38

’’تم تم یہاں کیا کر رہے ہوں؟‘‘ وہ جو ابھی ابھی یونی سے تھکی ہاری لوٹی تھی اسے اپنے گھر میں پاکر غصے سے بولی
’’کیا مطلب کیا کر رہا ہوں؟ اپنے بیٹے سے ملنے آیا ہوں‘‘ نظریں اسکے چہرے پر گاڑھے ابراہیم کو باہوں میں اٹھائے وہ بولا، جبکہ اسکا غصہ تو سوا نیزے پر پہنچ گیا
’’یہ تمہارا بیٹا نہیں ہے سمجھے‘‘ غصے سے اسے وارن کرتے اسنے ابراہیم کو اسکی باہوں سے جھپٹا، جو ماں کی آغوش ملتے ہی پرسکون سا آنکھیں موند گیا
’’تم نے سہی کہا یہ میرا بیٹا نہیں ہے، مگر سچ تو یہ ہے کہ یہ تمہارا بیٹا بھی نہیں ہے‘‘ دو قدم آگے بڑھائے اسکے قریب کھڑے ہوکر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ بولا، جبکہ سامنے کھڑی ہستی کا تو چہرا سفید پڑ گیا، یوں جیسے جسم سے سارا خون نچوڑ لیا گیا ہوں
’’میری سزا کب ختم ہوگی؟‘‘ آخر بےبسی سے وہ سسک اٹھی
’’جب تم میری بن جاؤ گی‘‘ کہتے ہی اسکی آغوش میں لپٹے ابراہیم کے ماتھے پر بوسہ دیتے اسنے انگوٹھے کی مدد سے اسکی آنکھ سے بہتے ایک آنسو کو صاف کیا
’’خیال رکھا کرو اپنا، اپنے لیے نا سہی تو میرے لیے ہی‘‘ کہتے ہی اسکا گال تھپتھپاتا وہ وہاں سے چل دیا، جبکہ وہ تو بس ضبط سے آنکھیں میچ کر رہ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کل تیار رہنا تمہیں کہی لیکر جانا ہے‘‘ ڈرائیونگ کرتا وہ ساتھ بیٹھی ھدی سے بولا
’’کک۔۔کہاں جانا ہے۔۔۔۔۔ او کک۔۔۔۔کس لیے‘‘ اسنے ہمت کرتے پوچھا
’’تمہیں کسی سے ملوانا ہے‘‘ لہجہ ہنوز سپاٹ تھا
’’مگر مجھے کسی سے نہیں ملنا‘‘ ھدی دھیمی مگر سخت آواز میں بولی
’’اور تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہاری بات مان لو گا‘‘ ایک نظر اسےدیکھے وہ بولا
’’اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ مجھسے اپنی بات منوا لے گے؟‘‘ ھدی نے سخت لہجے میں اس سے پوچھا
زرار نے ایکدم گاڑی ایک سائڈ پر روکی اور ھدی کا بازو میں اپنی سخت گرفت میں لے لیا۔۔۔۔۔ ھدی تڑپ اٹھی اسکی گرفت پر
’’ڈونٹ یو ٹرائے ٹو ڈیر می ھدی۔۔۔۔۔ میں کیا کیا کرسکتا ہوں اسکا ٹریلر تو کیا پوری مووی تم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہوں اور اب اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ میں کیا کرسکتا ہوں‘‘ اسکا چہرہ اپنے چہرے کے قریب کیے وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا اتنی سنجیدگی سے بولا کہ ھدی کے چہرے کا رنگ نچڑ گیا
’’آہ‘‘ ایک سسکی اسکے منہ سے نکلی۔۔۔۔۔۔ زرار نے جھٹکے سے اسے چھوڑا۔۔۔۔۔۔ ھدی کا سر کار کے دروازے کے ساتھ اتنی زور سے لگا کہ اسکی چیخ نکل گئی
زرار جو خود کو کافی حد تک کمپوز کرچکا تھا اب ھدی کی چیخ سن کر اسکی طرف متوجہ ہوا جو اب سر پکڑ کر بیٹھی ہوئی تھی
’’ھدی کیا ہوا۔۔۔۔۔ دکھاؤ مجھے کیا ہوا ہے‘‘ زرار نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کرنا چاہا مگر ھدی نے جھٹک دیا
’’چھوڑے مجھے آپ۔۔۔۔۔ آپ کو کیا مجھے کیا ہوا ہے۔۔۔۔ برے ہے آپ بہت برے۔۔۔۔۔ ہر بار۔۔۔ ہر بار تکلیف دیتے ہے مجھے آپ۔۔۔۔۔ آپ مطلبی ہے خود غرض ہے۔۔۔۔ کسی کی تکلیف، کسی کا دکھ سے آپ کو کیا‘‘ روتے ہوئے وہ اپنے دل کا غبار نکال رہی تھی جبکہ زرار فرصت سے اسکی بچوں جیسی شکایات سن رہا تھا
زرار جان چکا تھا کہ اب یہ سپیکر جلدی بند نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔ اسی لیے وہ کار سٹارٹ کیے اسے ڈاکٹر کے پاس لےگیا
اور پھر وہی ہوا جو زرار نے کہاں تھا پورا راستہ ھدی اسے اسکی غلطیاں گنواتی رہی
زرار اسکی سب شکاتیں سنتا رہا مگر تب تو حد ہوگئی جب ھدی نے دوبارہ سے اس پر سٹور روم میں بند کرنے والا الزام لگایا
دل چاہا دو تھپڑ کھینچ کر دے مارے اسے۔۔۔ مگر ہائے رے محبت۔۔۔ اب وہ صرف ھدی کی کینچی جیسی تیز جلتی زبان کے بند ہونے کا انتظار کرسکتا تھا
’’آئنٹمنٹ لگا دی ہے میں نے۔۔۔۔۔ یہ ٹیبلیٹ لکھ کر دے رہی ہوں۔۔۔۔۔ مےبی رات میں پین ہوتو یہ دے دیجیے گا‘‘ ڈاکٹر ھدی کا چیک اپ کرنے کے بعد بولی
اتنے میں نرس جو ھدی کی ڈریسنگ کررہی تھی اسکا ہاتھ غلطی سے ھدی کے بازو کو چھوا تو وہ چیخ اٹھی
’’کیا ہوا؟‘‘ ڈاکٹر نے حیرانگی سے پوچھا
’’وہ میرے بازو میں تکلیف ہورہی ہے‘‘ زرار پر شکوہ کناں نظریں ڈالے وہ ڈاکٹر سے بولی
زرار جو اسکی نظروں کا مطلب سمجھنے کی کوشش میں تھا اچانک چونکا اور اسکا ہاتھ پکڑ کو شرٹ کا بازو تھوڑا اوپر کیا تو خود پر غصہ آنے لگا
اسکا بازو برے طریقے سے لال ہوچکا تھا
زرار کی مضبوط پکڑ کے باعث اسکے بازوؤں میں تکلیف ہونے لگی تھی
ڈاکٹر نے دوبارہ سےاسکے بازوؤں کا جائزہ لینا شروع کردیا تھا
’’لگتا ہے بہت برے سے پکڑا گیا تھا۔۔۔۔ ویسے یہ کس نے کیا‘‘ ڈاکٹر نے دوا لگاتے پوچھا
’’بیسٹ نے‘‘ زرار کی طرف نظریں رکھے وہ دانت پیستے بولی
زرار اسکے اس طرح بولنے سے سر نیچے کیے اپنی مسکراہٹ دبانے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’سوری‘‘ زرار ھدی سے بولا جو باہر دیکھنے میں مصروف تھی۔۔۔۔۔
خیر زرار کو وہ پوری طرح اگنور کررہی تھی اور اب اسکی سوری پر بھی کچھ نہیں بولی تھی
’’ھدی سوری بولا نا‘‘ زرار پھر سے بولا
’’کیا مجھ سے کچھ کہا؟‘‘ ھدی انجان بنی
’’ہاں تم سے سوری کی میں نے‘‘ زرار قابو پاتے بولا
’’واؤ تو مسٹرزرار عرف دا بیسٹ مجھسے معافی مانگ رہے ہے واہ یہ تو گریٹ ہوگیا‘‘ ھدی طنزیہ بولی
’’ویسے میں تو تمہیں معصوم سمجھتا تھا تم تو خاصی تیکھی مرچی نکلی‘‘
’’اس سے پہلے کہ آپ کو یہ مرچی چبانی پڑ جائے مجھے گھر چھوڑ کر آئے‘‘ ھدی نے تنبیہی انداز میں انگلی اٹھائی
’’اس مرچی کو تو زندگی بھر چکھنے کی قسم کھا چکا ہوں میں‘‘ زرار خود سے بڑبڑایا اور ھدی کو لیے اسکے گھر کی طرف گامزن ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیدر صاحب اور مسز حیدر کی واپسی رات کو ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ سروج ان سے پوچھنا چاہتی تھی وہ کیسے موسی کے پاس ابراہیم کو چھوڑ کرجاسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ مگر جب کھانے کے درمیان اس نے موسی کے لیے ان کی زبانوں سے تعریف سن کر سروج کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ انہیں شیشے میں اتار چکا تھا
موسی ایسا کیوں کررہا تھا سروج کو سب سمجھ آرہی تھی مگر وہ اس بات کو بڑھانا نہیں چاہتی تھی اسی لیے خاموشی اختیار کرلی
’’اچھا سچ یاد آیا سروج ھدی تم دونوں اس ویک اینڈ پر فری ہوں؟‘‘ حیدر صاحب نے سوال کیا
جس پر دونوں نے سر اثبات میں ہلادیا
’’ویری گڈ تو بس آپ دونوں تیار رہنا میرا ایک دوست ہے اسکی طرف دعوت ہے ہماری اسی لیے آپ دونوں بھی ساتھ چلے گی‘‘
’’کونسا دوست؟‘‘ سروج نے سوال کیا۔۔ جبکہ ھدی نے تو آرام سے سر ہاں میں ہلا دیا
’’ارے ہے ایک تم نہیں جانتی بس تم دونوں کو چلنا ہے اوکے‘‘ موسی کی بات پر عمل کرتے وہ سروج کو اس بات سے لاعلم رکھے ہوئے تھے کہ وہ کہاں جارہے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئینے کے سامنے کھڑی ھدی غور سے اپنے زخم کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔۔ گھر آکر اسنے سب کو یہی بتایا تھا کہ گرنے کی وجہ سے اسے زخم آیا تھا
’’کیا یہ زخم واقعی گرنے کی وجہ سےآیا ہے؟‘‘ کمرے میں آتی سروج نے آنکھیں تیکھی کیے اس سے پوچھا
’’جج۔۔۔جی‘‘ ھدی گڑبڑا کر بولی
’’دیکھو ھدی تم جانتی ہوں نا کہ تمہیں مجھ سے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔ اگر کسی نے تمہیں تنگ کیا ہے تو بتاؤ مجھے میں ہوں نا ہینڈل کرنے کے لیے‘‘ اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھامے سروج بولی
ھدی کو رشک آیا اپنی بھابھی پر
’’بھابھی واقعی میں گرگئی تھی۔۔۔ آپ فکر مت کرے میں ابھی بڑی ہو گئی ہوں‘‘ سروج کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھتے وہ پر یقین لہجے میں بولی
’’اچھا چلو اب سونے چلے ورنہ وہ تمہارا لاڈلا جو ہےاسنے بھی سونا تمہارے بنا تو نیند آتی نہیں اسے‘‘ سروج سر جھٹک کر بولی
’’آں۔۔۔ آپ جیلس ہورہی ہے‘‘ ھدی ہنستے بولی تو سروج نے اسے زبردست گھوری سے نوازا جس پر اسنے اپنے کان پکڑ لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر ویسا ہی ہوا جیسا زرار نے چاہا تھا۔۔۔۔۔۔ ھدی اس وقت زرار کی کار میں بیٹھی منہ سجائے سامنے کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
زرار اسے زبردستی اپنے ساتھ یونی سے لے آیا تھا۔۔۔۔ اور اب وہ خفا سی دونوں بازو سینے پر باندھے سیریس بیٹھی تھی
’’اففف اب بس بھی کردوں ھدھد‘‘
’’میرا نام ھدی ہے۔۔۔۔۔۔ ھدی یاسین‘‘ اسنے اصلاح کی
’’ھدی زرار بنانے میں دیر نہیں لگاؤ گا‘‘ وہ خود سے بولا
’’کیا کہاں سنا نہیں میں نے‘‘ ھدی نے اسکو دیکھتے پوچھا
’’تمہارے مطلب کی بات تھی بھی نہیں جو تم سنتی پھیروں‘‘ بےشک وہ اسکی محبت تھی مگر اب زرار احمد زماد ھدی یاسین کے عشق میں اتنا بھی پاگل نہیں ہوا تھا کہ اسے سر پر چڑھا لے
’’ہمم میں تو جیسے آپ کی ہی بات سننے بیٹھی ہوں نا‘‘ دوبارہ منہ بنائے وہ باہر دیکھنے لگی۔۔۔۔۔ جبکہ زرار مگن سا ڈرائیو کرنے لگ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک آدھے گھنٹے بعد وہ زرار کے گھر پہنچ چکے تھے۔۔۔
’’آجاؤ‘‘ گاڑی سے نکلتے اسنے ھدی کو آنے کا اشارہ کیا
’’بیسٹ اتنا بھی نہیں پتا کہ جب لڑکی گاڑی میں ساتھ ہوں تو اسکے لیے دروازہ خود کھولتے ہے‘‘ اونچی آواز میں وہ زرار کو سناتے بولی
اسکی بات سن کر ایک جاندار مسکراہٹ زرار کے لبوں پر آگئی
آہستہ آہستہ ہی سہی مگر اب ھدی زرار سے گھل مل رہی تھی۔۔۔۔ وہ بےدھڑک اپنی ہر بات اس سے کردیتی تھی جو وہ سروج یا کسی اور سے نہیں کرسکتی تھی
زرار مڑا اور دروازہ کھول کر ھدی کو باہر آنے کا راستہ دیا
ھدی تو اپنی کامیابی پر مزے سے کندھے اچکاتے آگے کو چل دی
زرار ھدی کو گھر میں لے آیا تھا مگر اب اسے ڈر لگنے لگ گیا تھا جو بھی تھا اسے ایسے کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرنا چاہیے تھا
’’آپ کے ماما پاپا کہاں ہے؟‘‘ ھدی نے زبان لبوں پر پھیرتی پوچھنے لگی
زرار کی پشت ھدی کی طرف تھی اسی لیے وہ اسکا گھبرایا چہرہ نہیں دیکھ سکا
’’نہیں میرے ماما پاپا نہیں ہے‘‘ اسنے جواب دیا
’’اور بہن بھائی؟‘‘ ھدی نے ایک اور سوال کیا
’’ہاں وہ۔۔۔۔۔۔‘‘ زرار بولتے بولتے مڑا تو ھدی کا چہرہ دیکھنے لگا جس پر ڈر اور خوف واضع تھا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ گھر کا جائزہ لے رہی تھی یعنی وہ اس پر یقین نہیں کرتی تھی اور اسے ڈر لگ رہا تھا
اچانک زرار کے دماغ میں ایک شیطانی سوچ آئی
’’نہیں میرا کوئی بھائی یا بہن نہیں ہے‘‘ زرار نے سر نفی میں ہلایا
’’اس وقت گھر میں کون کون ہے؟‘‘ ھدی نے ہاتھ مسلتے پوچھا
’’میرے اور تمہارے علاوہ تو کوئی نہیں‘‘ اسکی طرف چھوٹے چھوٹے قدم لیے وہ بولا
’’مم۔۔۔مگر آپ کو تو مجھے کسی سے ملوانا تھا نا‘‘ زرار کو اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ قدم پیچھے کو لینے لگی اور صوفہ پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی
’’بعد میں مل لینا۔۔۔۔۔۔ فلحال میں اور تم۔۔۔۔‘‘ بولتے ہی وہ خالی گھر کو دیکھنے لگا اور بلکل اسکے برابر میں بیٹھ گیا
ہم تم ایک کمرے میں بند ہوں اورچابی کھو جائے
ھدی کو زرار کے گنگنانے کی آواز آئی زرا سی نظریں پھیر کر دیکھا تو زرار فروٹ باسکٹ میں سے چھری اٹھائے مزے سے اسکی دھار والی سائڈ پر انگلی پھیر رہا تھا۔۔۔۔۔ ھدی کے دیکھنے پر اسنے بھی اسے دیکھا جبکہ ھدی نے نظریں فورا پھیر لی اور تھوک نگلا۔۔۔۔۔ اب وہ باقاعدہ کانپنے لگی تھی
’’ممم۔۔۔۔مجھے گھر جانا‘‘ وہ چھوئی موئی بنی بولی
’’چلی جانا، اتنی بھی کیا جلدی ہے؟‘‘ زرار پراسرار سا بولتا اسے پاس آنے لگا جبکہ ھدی نے خوف کے مارے آنکھیں بند کرلی
’’برو؟‘‘ اچانک اسکے کانوں سے ایک انجانی آواز سنائی دی
ھدی نے آنکھیں کھولی تو سامنے ایک لڑکا سکول یونیفارم میں کھڑا تھا
’’ہوپوئی‘‘ وہ ایکدم ایکسائٹڈ سا بولتا تیزی سے ھدی کی جانب لپکا
’’او مائی گاڈ مجھے یقین نہیں ہورہا کہ آپ یہاں ہو۔۔۔۔۔۔ اتنا ویٹ تھا آپ سے ملنے کا‘‘ وہ ھدی اور زرار کے درمیان بیٹھتا اسے بتانے لگا
’’یہ۔۔؟‘‘ ھدی نے زرار سے سوال کیا
’’میرا بھائی‘‘ زرار آہل کو گلے لگاتے بولا
’’اوہ‘‘ ھدی نے غصے بھری آنکھوں سے اب زرار کو دیکھا جو اپنی خوبصورت سی مسکراہٹ اسے دیکھا رہا تھا
’’بیسٹ‘‘ وہ بڑبڑائی
اب وہ آہل کی طرف متوجہ ہوئی جو اسے نجانے کہاں کہاں کی باتیں کررہا تھا
رات کو کھانے سے فری ہوکر اب زرار ھدی کو گھر چھوڑنے جارہا تھا
’’آہل بہت اچھا ہے۔۔۔۔۔ بہت سویٹ اور کیوٹ‘‘ ھدی مزے سے زرار کو بتا رہی تھی
’’اچھا اور آہل کا بھائی کیسا ہے؟‘‘ زرار نے سوال کیا
’’ایکدم بیسٹ‘‘ ھدی فٹ بولی
زرار قہقہ پوری گاڑی میں گونجا
’’ویسے آپ اور آہل دونوں کی شکلیں میچ نہیں کرتی مطلب کی اسکی شکل کچھ انگریزوں جیسی بھی ہے‘‘ ھدی نے بتایا
’’کیونکہ ہم سگے بھائی نہیں کزنز ہیں۔۔۔۔۔۔ آہل میری ماموں کا بیٹا ہے۔۔۔۔ اسکی مام کینیڈا کی تھی۔۔۔۔۔۔ انکی دیٹھ ہوگئی اور اب آہل میرے ساتھ ہوتا ہے‘‘ زرار کی بات پر ھدی نے سر ہاں میں ہلایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’وہ دیکھو وہ آرہی ہے‘‘
’’آج نہیں چھوڑے گے سالی کو‘‘
فریحہ جم سے باہر نکل رہی تھی جب ماسک پہنے تین لڑکے اس کے آس پاس گھومنے لگے اس سے پہلے کے فریحہ کچھ کرتی وہ تینوں اس کے آس پاس گھیرا تنگ کرتے اسے مارنا شروع ہوگئے۔۔۔۔
وہ فریحہ کو ہاکی سٹیک سے مارنا شروع ہوگئے تھے
یہ وہی لڑکے تھے جن کی دھلائی فریحہ نے یونی کے سٹارٹ میں کی تھی مگر انہیں بدلہ لینا کا موقع اب ملا تھا
’’اوئے چھوڑو اسے۔۔۔۔۔ کون ہوں تم لوگ‘‘ مائز زھرا آپا کہ کہنے پر فریحہ کو لینے آیا تھا
مائز کی آواز سنتے ہی وہ لوگ سرپٹ وہاں سے بھاگے ۔۔۔۔۔۔۔ مائز انہیں چھوڑے فریحہ کو لیے ہسپتال کی جانب بھاگا
فریحہ کو زیادہ چوٹیں نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔۔ ہاں مگر سر پر چوٹ لگی تھی
ڈاکٹر کے جاتے ہی مائز کمرے میں آیا اور فریحہ کو دیکھ کر ہنسنا شروع ہوگیا
’’اللہ۔۔ چوٹ میرے سر پر لگی ہے اور پاگلوں والی حرکتیں یہ کررہا ہے‘‘ فریحہ نے سوچا
’’کیا ہے ہنس کیوں رہے ہوں؟‘‘ فریحہ نے کھاجانے والی نظروں سے دیکھا
’’ارے نہیں یار میں تو اس لیے ہنس رہا ہوں کہ پہلے سروج۔۔۔ پھر ھدی ۔۔۔۔ پھر میں۔۔۔۔۔۔ اسکے بعد موسی اور اب تم۔۔۔۔۔۔ لگتا ہے سب باری باری ہسپتال کا چکر لگانے والے ہیں‘‘
’’شٹ اپ‘‘ فریحہ کو وہ بلکل بھی فنی نہیں لگا
’’اچھا چلو گھر چلے‘‘ اسکا ہاتھ تھامے وہ سہارا دیتے اسے ہسپتال سےباہر لے آیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’مجھے آپ سب لوگوں کو کچھ بتاناہے‘‘ موسی سٹڈی میں بیٹھا ان سب سے مخاطب ہوا
’’اللہ خیر‘‘ علی زماد بولے
’’میرے فرینڈ اور اسکی فیملی کو میں نے ڈنر پر انوائٹ کیا ہے اس ویک اینڈ ‘‘
’’کوسنا دوست؟‘‘ علی صاحب نے اچانک پوچھا
’’پتہ چل جائے گا ڈیڈ ۔۔۔۔ آپ لوگ بس ڈنر کی تیاری رکھے‘‘ موسی کہتے ہی کمرے سے باہر چلا گیا
’’تمہارا بیٹا ضرور کچھ نا کچھ کرنے کے ارادے میں ہےمجھے تمہارے بیٹے پر یقین نہیں رہا‘‘ علی صاحب اپنی بیگم کو دیکھ کر بولے
’’مجھے بھی نہیں رہا‘‘ وہ بھی جوابا بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویک اینڈ پر وہ سب موسی کے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔۔۔۔
سروج کو کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔۔۔۔۔ مگر جیسے ہی گاڑی علی زماد ولا کہ باہر رکی تو سروج آنکھیں حیرت کے مارے کھل گئی
’’بابا یہ۔۔۔۔‘‘
’’آؤ بیٹا آجاؤ‘‘ وہ انہیں ساتھ لیے اندر داخل ہوئے
جتنی شاک میں سروج تھی اس سے زیادہ بڑا جھٹکا علی صاحب کو لگا انہوں نے موسی کو گھورا جس نے مزے سے کندھے اچکادیے
’’حیدر؟‘‘ علی صاحب بولے
’’علی کیسے ہوں‘‘ انکے گلے لگے حیدر صاحب بولے
’’تم یہاں مطلب کے موسی نے بتایا نہیں تھا کہ اسنے تمہیں دعوت پر بلایا تھا‘‘
’’سرپرائز ڈیڈ۔۔۔۔۔ آپ کو سرپرائز دینا چاہتا تھا‘‘
’’تو کیسا لگا سرپرائز؟‘‘ موسی نے پوچھا
’’بہت زور کا لگا‘‘ موسی کو گھورتے وہ بولے جبکہ باقی سب اس بات پر ہنس دیے
ھدی ندا کو دیکھ کر خوشی خوشی اسکی طرف بڑھنے لگی تھی جبکہ ندا پیر پٹخ کر واک آؤٹ کرگئی
کھانا خوشحال ماحول میں کھایا گیا تھا ایسے میں صرف سروج اور علی صاحب کا ہی منہ بنا ہوا تھا
تھوڑی دیر بعد چائے کا دور چلا تو سروج ایکسکیوز کرتی باہر لان کی طرف چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ جب تھوڑی دیر بعد علی صاحب بھی اسکے پیچھے آئے
’’سروج تم یہاں کیا کررہی ہوں۔۔۔۔ اور تم نے روکا کیوں نہیں اپنے ماں باپ کو یہاں آنے سے؟‘‘ علی صاحب نے سوال کیا
’’انکل مجھے تو خود بابا نے نہیں بتایا تھا کہ ہم یہاں آرہے تھے۔۔۔۔ ورنہ میں کبھی بھی یہاں نہیں آتی‘‘
’’یہ موسی کیا کرنا چاہ رہا ہے؟‘‘ علی صاحب پریشان ہوئے
’’ میرے والدین کو شیشے میں اتار کر مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے‘‘ علی صاحب نے حیرانگی سے سروج کی طرف دیکھا۔۔۔۔ تو گویا انکا چاند اس حد تک جاچکا تھا
’’اسے سب پتا چکا ہے انکل۔۔۔۔۔۔ میری اور عمیر کے اصل نکاح سے لیکر۔۔۔۔ ابراہیم کا ماہم کا بیٹا ہونا سب پتا چل چکا ہے اسے ۔۔۔۔۔ اور اگر میں نے رشتے پر ہاں نہیں کی تو وہ ابراہیم کو بائے کورٹ حاصل کرلے گا‘‘
سروج کی بات پر وہ مزید پریشان ہوگئےتھے
’’مگر اسے سب کچھ کیسے پتا چلا؟‘‘ علی صاحب پریشان ہوئے
’’وہ یاسین ولا گیا تھا دو بار چوکیدار نے بتایا اور جس میڈ نے مدد کی تھی وہ غائب ہے۔۔۔۔۔۔ انکل آپکا بیٹا ایک بہت بڑی گیم کھیل گیا ہے ہمارے ساتھ‘‘
’’فکر مت کروں بیٹا میں اس لڑکے کو کوئی بھی بےوقوف حرکت نہیں کرنے دوں گا‘‘ علی صاحب نے سمجھایا
’’بھئی کیا بات چل رہی ہے سسر بہو میں‘‘ ہاتھ میں چائے کا کپ لیے وہ بولا تو دونوں طرف سے گھوریاں ملی
سروج تو اس پر بنا ایک نظر ڈالے اندر کی طرف بڑھ گئی
ادائے بھی ہے، محبت بھی ہے، شرارت بھی ہے، میرے محبوب میں
سروج کی پیٹھ دیکھ کر موسی گنگنایا تو سروج صبر کے گھونٹ پی کررہ گئی
اسے اپنے ڈیڈ کی طرف دیکھا جو ابھی تک اسے ہی گھور رہے تھے
’’واٹ؟‘‘
’’نجانے تمہاری تربیت میں مجھ سے کہاں کمی رہ گئی‘‘ وہ تاسف سے بولے
’’یہی تو مسئلہ ہے ڈیڈ کہ میری تربیت آپ نے نہیں بوا نے کی ہے‘‘ اپنے ہی باپ کو آگ لگاتا وہ مزے سے اندر چلا گیا
ھدی نے ندا سے ایک بار پھر بات کرنے کی کوشش کی مگر کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن سروج یونی سے ڈائریکٹ آفس چلی گئی تھی۔۔۔۔۔ وہ ابھی روم میں آکر بیٹھی ہی تھی کہ اسکی سکریٹری ناک کرتے اندر داخل ہوئی
’’میم یہ انویلپ آیا ہے آپ کے لیے‘‘ اسکے ٹیبل پر لفافہ رکھتے وہ بولی
’’اوکے یو کین گو‘‘ اسکی اجازت ملتے ہی سیکریٹری وہاں سے چلی گئی
’’اللہ خیر کرے‘‘ اب تو اسے ڈر لگنے لگ گیا تھا ان انویلپ سے
سروج نے تیزی سے انویلپ کھولا تھا ہزار والٹ کا جھٹکا لگا
وہ کورٹ کے آرڈر تھے۔۔۔۔ موسی نے ابراہیم کی کسٹڈی کے لیے سروج پر کیس کیا تھا
تو گویا اسنے اپنا کہا سچ کردکھایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’موسی موسی کہاں ہوں تم؟‘‘ غصہ چہرے پر لیے علی زماد اندر داخل ہوئے
’’ارے کیا ہوا؟‘‘ مسز علی حیران ہوئی
’’کہاں ہے تمہارا بیٹا؟‘‘ علی صاحب غصے سے پھنکارے
’’کیا ہوا ڈیڈ؟‘‘ نیند سے جاگتا موسی نیچے آئے پوچھنے لگا
’’یہ کیا ہے؟ ہاں کیا ہے یہ؟‘‘ انہوں نے موسی سے سوال کیا
’’کورٹ کا لیٹر ہے‘‘ وہ آرام سے بولا
’’موسی یہ سب کیا ہورہا ہے؟‘‘ مسز علی نے پوچھا
’’یہ کیا بتائے گا میں بتاتا ہوں تمہارے بیٹے نے ایک عزت دار گھرانے کی لڑکی پر کیس کیا ہے اسے کورٹ کا لیٹر اشیو کروایا ہے‘‘ انکا غصہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *