Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21
واشروم میں داخل ہوتے ہی اسنے تیزی سے دروازہ لاک کیا اس وقت اسکے علاوہ واشروم میں اور کوئی نہیں تھا
آنسو تواتر سے بہتے اسکا پورا چہرہ بھگو چکے تھے
آنکھیں لال ہوچکی تھی
واش بیسن کے سامنے کھڑے اسنے شیشے کو گھورا ایک بار پھر وہ ماضی کی یادوں میں کھوچکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’سروج کہاں ہوں بیٹا تمہارا فون بج رہا ہے‘‘ لاؤنج میں پڑے اسکے فون پر عمیر کی کال آتی دیکھ کر مسز شہانہ بولی
’’ماما کمرے میں ہوں، تیار ہورہی ہوں‘‘ وہ کمرے سے آواز دیتے بولی
’’یہ لو تمہارا فون‘‘ اسکے کمرے میں آتے انہوں نے اسے موبائل پکڑایا
’’کس کی کال ہے؟‘‘ بالوں کو برش کرتے اسنے پوچھا
’’عمیر کی‘‘ وہ مسکرا کر بولی جبکہ اس بات پر سروج کا چہرا لال ہوگیا
’’جی‘‘ انکے ہاتھ سے موبائل پکڑے وہ اتنا ہی بول پائی
’’کہاں ہویار کب سے کال رہا ہوں‘‘ فون کان کو لگاتے ہی عمیر کی جھنجھلائی آواز اسے سنائی دی
’’بات نا کرے مجھ سے‘‘ وہ غصے سے بولی
عمیر تو حیران رہ گیا اسکے غصے پر، مطلب کے حد ہے۔۔۔ وہ یہی سوچ سکا
’’کیوں ؟ کیوں نا کروں؟‘‘ عمیر نے آنکھیں تیکھی کیے پوچھا
’’آپ کی وجہ سے اتنی شرمندگی اٹھانی پڑی مجھے‘‘ وہ منہ بنائے بولی
’’ملکہ بتائے گی کہ اب اس غلام سے کیا غلطی ہوئی ہے؟‘‘ عمیر کے چبا چبا کے بولنے پر وہ سلگ اٹھی
’’آپ جانتے ہیں کہ ماما نے میرے موبائل پر آپ کی کال آتی دیکھ لی‘‘ اسنے عمیر کی معلومات میں اضافہ کیا جس پر اسکے لب اوہ میں سکڑے
’’اللہ سروج اتنی بڑی بات ہوگئی اور تم نے مجھے بتایا بھی نہیں۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہے نا تم ٹھیک ہونا کہی آنٹی نے سنڈریلا کی سٹپ مدر کا رول نبھاتے تم پر ظلم کے پہاڑ تو نہیں توڑ دیے‘‘ عمیر کے لفظوں میں چھپا طنز وہ بہت اچھے سے محسوس کرگئی تھی
’’عمیر!!! بات وہ نہیں ہے۔۔۔ میں نے ماما کو بتایا نہیں کہ ہم کانٹیکٹ میں ہے۔۔۔ انہیں برا لگا ہوگا‘‘ سروج کی بات سن کر عمیر نے پرسکون سی سانس خارج کی
’’سروج ہم انگیجڈ ہیں‘‘ عمیر نے بات پر زور دیا
’’ایگزیکٹلی عمیر منگنی ہوئی ہے شادی نہیں‘‘ سروج نے دھیمی آواز میں بات کہی
’’میں ابھی بھی اپنے ماں باپ کی زمہ داری ہوں۔۔۔۔ اور اس لحاظ سے فرض بنتا ہے میرا اور انکا حق کے انہیں معلوم ہوں اپنی اولاد کے بارے میں‘‘ سروج کی بات پرعمیر مسکرا دیا
وہ لڑکی رشتوں کو ان کی اصل جگہ پر رکھنا جانتی تھی، اسے معلوم تھا کہ کون کتنی اہمیت رکھتا ہے اور کس کو کتنی عزت دینی چاہیے، وہ خاص تھی تبھی تو اس کی تھی اور اس پر وہ اپنے رب کا جتنا مرضی شکر گزار ہوتا کم تھا
’’یو نو واٹ سروج آئی ریئلی لو یو‘‘ عمیر کی بات پر وہ سرخ ہوچکی تھی
’’اچھا بلش بعد میں کرلینا میں نے یہ بتانے کے لیے کال کی تھی کہ انکل کو تکلیف دینے کی ضرورت نہیں میں آرہا ہوں تمہیں لینے سو پندرہ منٹ تک تیار رہو‘‘ عمیرنے اسکے بلش کرنے پر چوٹ کی
’’آپ مگر کیوں؟‘‘ وہ حیران ہوئی
’’کیا مطلب کیوں۔۔۔۔۔۔ جب منزل ایک ہے تو راستے الگ کیوں‘‘ وہ مسکراہ کر بولا تو ایک خوبصورت مسکان اسکے چہرے پر بھی کھل اٹھی
’’اور ماما؟‘‘ سروج کو دوبارہ فکرمندی ہوئی
’’اففف ایک تو یہ ظلام سماج‘‘ عمیر جی بھر کر بدمزہ ہوا
’’عمیر!!!‘‘ سروج نے تنبیہ کی
’’اوکے اوکے اچھا فکر مت کروں میں خود آکر بات کرلوں گا ان سے بس تیار رہوں تم‘‘ عمیر نے اسکو فکر سے آزاد کیا
’’اوکے ۔۔۔۔ خدا حافظ‘‘ سروج مطمئن سی بولی
’’خدا حافظ‘‘ ہنستے ہوئے عمیر نے کال بند کی اور راستے کی جانب گامزن ہوا۔۔۔۔۔ ٹھیک پندرہ منٹ بعد وہ سروج کے گھر کے لاؤنج میں بیٹھا تھا، جبکہ مسز شہانہ تواسکی آؤ بھگت میں جٹ گئی
’’ارے بیٹا کچھ لو نا‘‘ اسکے سامنے چائے اور دیگر لوازمات رکھے انہوں نے کہا
’’ارے نہیں آنٹی اس کی ضرورت نہیں آپ بس سروج کو بلا دے ہم لیٹ ہورہے ہیں‘‘ گھڑی کی طرف دیکھتے اس نے یاد دلایا
’’اوکے بیٹا‘‘ یہ کہتے ہی وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور سروج کے کمرے کی طرف بڑھ گئی
تھوڑی دیر بعد عمیر کو واپس آتی نظر آئی
’’بیٹا بس دو منٹ وہ آرہی ہے‘‘ اسکے سامنے بیٹھتے وہ دوبارہ بولی
’’آنٹی ایکچولی مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے‘‘ عمیر نے بات شروع کی
’’ہاں ہاں بیٹا ضرور کروں‘‘ انہوں نے خوشدلی سے اجازت دی
’’وہ دراصل آپ کو برا تو نہیں لگا کہ میں اور سروج ایک دوسرے سے۔۔۔۔ آئی مین ہم بات کرتے ہیں کانٹیکٹ میں ہے‘‘ عمیر زرا ہچکچایا
’’ارے نہیں بیٹا ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔ تم جانتے ہوں ہم نے اپنی بیٹی اسی لیے تم سے منسوب کی ہے کہ تم ایک بہت شریف اور اچھے خاندان کے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی بیٹی کے معملے میں ہم دونوں میاں بیوی کو تم پر یقین ہے‘‘ انکی بات پر عمیر بہت ھد تک پرسکون ہوگیا تھا اتنے میں اسے سروج آتی نظر آئی اور وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا
’’اچھا آنٹی اب ہم اجازت دے‘‘ سروج کو اس کے قریب آتے دیکھ کر وہ مسز شہانہ سے بولا اور اس کے ساتھ اپنی کار کی طرف بڑھ گیا۔
آج عمیر کے سینیئرز کا فیرویل تھا مگر کسی کو بھی اچھی سپیچ کرنا نہیں آتی تھی اسی لیے اس نے سروج کا نام دیا اور اسی وجہ سے آج کی الوداعی تقریر سروج کو کرنی تھی
پورا راستہ خاموشی میں گزرا مگر ایسے میں عمیر کی نظریں وہ محسوس کر سکتی تھی خود پر۔۔۔ اسنے بھی پورا راستہ عمیر کی طرف نا دیکھا بلکہ ونڈو سے باہر دیکھتی رہی، مگر عمیر کی والہانہ نظریں اب وہ چڑنے لگی
’’افففف کیا ہے؟‘‘ وہ چڑ کر بولی جس پر عمیر مسکراہ
’’کیوں بار بار گھور رہے ہے شرم کرے‘‘ وہ اسے شرم دلاتے بولی مگر عمیر تو اسکے سراپے کو دیکھتا رہا
رائل بلو فراک اور پاجامہ زیب تن کیے اس کے ساتھ رائل بلو ڈوپٹا
فراک کے گھیرے اور دامن پر سلوز کلر سے ہلکی کڑھائی کی گئی تھی جبکہ ڈوپٹے کو بھی سلور لیس لگی تھی
آنکھوں میں کاجل لگائے اور ساتھ پنک لپ سٹک وہ واقعی عمیر کو دیوانہ کرنے کے در پر تھا
’’عمیر!!‘‘
’’ہاں!!؟؟‘‘ سروج کی جھنجھلائی آواز اسے ہوش کی دنیا میں لائی
’’کیا ہوگیا ہے آپ کو‘‘
’’دیوانہ ہوگیا ہوں اور تو کچھ نہیں‘‘ وہ ایک آنکھ دبائے اس سے بولا
’’آپ نا بات نا کرے مجھ سے‘‘ وہ سخت خفا ہوئے رخ موڑ گئی جب عمیر کا زندگی سے بھرپور ایک قہقہ کار میں گونجا
وہ اسے دیکھ رہا تھا جو اب رخ پھیرے خفا سی اس سے دور بیٹھی تھی
تیری سادگی، تیری عاجزی، تیری ہر ادا کمال ہے
مجھے فخر ہے، مجھے ناز ہے، میرا یار بےمثال ہے
عمیر کے شعر پر اسکا چہرہ پل بھر میں سرخ ہوا تھا جبکہ وہ ہونٹ دانت میں دبائے، پرشوق نظروں سے اسکے چہرے پر چھائے حیا کے رنگ دیکھ رہا تھا
’’اب ایسا کروں گی تو مشکل میں ڈال دوں گی تم مجھے‘‘ وہ اسکے کان میں دھیرے سے بولا
’’کک۔۔کیسا؟‘‘ اپنی بےقابو ہوتی دھڑکنوں کو قابو میں کیے وہ بولی
’’یوں شرمانہ۔۔۔۔ لگتا ہے انکل آنٹی سے بات کرنی پڑے گی شادی کی‘‘ وہ نگاہوں میں محبت سموئے اسے دیکھ کر بولا،جبکہ سروج اسکی نظروں کی تاب نا لاتے ہوئے پلکیں جھکا گئی
’’آپ نے وعدہ کیا تھا پڑھائی سے پہلے نہیں‘‘ اسنے دھیمی آواز میں گویا اسے یاد دلایا
’’وعدہ تو نبھاؤگا مگر تم بھی اپنی ان اداؤں پر قابو رکھو نا پہلے ہی اپنا دیوانہ بنایا ہوا ہے تم نے اور اب یہ سادگی یہ حسن۔۔۔۔۔ بندہ بشر ہوں۔۔۔ کبھی بھی بہک سکتا ہوں‘‘ وہ مخمور لہجے میں بولتا اسکی دل کی دھڑکنوں کو ہلا گیا
’’عمیر!!!‘‘ اب تو سروج رونے والی ہوچکی تھی
’’ہاہاہاہا۔۔۔۔۔ اچھا بابا اوکے پرامس تمہارے بی۔ایس سے پہلے ہماری شادی نہیں ہوگی‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولا جس پر سروج سے ایک مکا کھانے کو ملا۔
ماضی کی یادوں سے اسے واشروم کے دروازہ پر ہونے والا ناک کھینچ لایا اسنے دوبارہ اپنا عکس شیشے میں دیکھا، آنکھیں خطرناک ھد تک لال ہوچکی تھی
اسنے جلدی سے آنکھوں پر پانی کے چھینٹے مارے اور ٹیشوں کی مدد سے اپنے چہرے کو صاف کیا، وہ اب خاصے حد تک خود کو سنبھال چکی تھی اسی لیے فورا جاکر واشروم کا دروازہ کھولا اور سامنے والے کی صلوتیں سنے بغیر وہاں سے چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت وہ حال سے ملحقہ بار میں آکر بیٹھا تھا جب اسکی نظر سامنے کونے پر بیٹھے زرار پر گئی جو آس پاس کے ماحول سے بےخبر اپنے موبائل میں الجھا تھا، اسکے ماتھے کے بل اس بات کی نشاندہی کررہے تھے کہ وہ سخت الجھن کا شکار ہے۔
موسی نے ایک نظر اسکے آس پاس بھٹکتی حسیناؤں کو دیکھا جو اسکی توجہ حاصل کرنے کے لیے ناجانے کتنے جتن کرچکی تھی
موسی کو اس سے بہتر کوئی موقع نا لگا زرار سے بات کرنے کا کیونکہ اگر اسکے ڈیڈ اور زرار کی ملاقات ہوجاتی تو اسے یقین تھا کہ کوئی نا کوئی ہنگامہ ضرور ہوتا
وہ اپنی جگہ سے اٹھتا زرار کے سامنے جاکھڑا ہوا جو خود ابھی ابھی اپنی جگہ سے اٹھ کر حال کی طرف بڑھ رہا تھا
اسےاپنے سامنے پاکر زرار کے ماتھے کے بلوں میں مزید اضافہ ہوگیا مگر اسنے اگنور کرکے گزرنا چاہا جب موسی ایک بار پھر اسکے سامنے آکھڑا ہوا
’’دوبارہ مل کر خوشی ہوئی‘‘ اسکی طرف ہاتھ بڑھائے، وہ مسکراتے بولا
’’مگر مجھے نہیں ہوئی‘‘ سپاٹ چہرے سے دیا گیا جواب، موسی کی مسکراہٹ سکڑ گئی
’’آؤ ابو سے ملواؤ‘‘ اسکے انداز کو نظرانداز کیے وہ بولا، زرار ہمیشہ سے علی زماد کو ابو بولتا تھا
’’ان سے تو میں خود ملوں گا، اور ایسا ملو گا کہ یہ ملاقات انہیں ہمیشہ یاد رہے گی‘‘ طنزیہ مسکان، سرد آنکھیں۔۔۔۔۔ وہ واقعی میں موسی کو ڈرا گیا تھا۔
’’زرار تم۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس سے پہلے وہ کچھ کہ پاتا ایک نسوانی آواز نے انہیں اپنی جانب متوجہ کرلیا
ان دونوں نے سامنے دیکھا تو سروج کو کھڑے پایا مگر جو ان دونوں کی زیرک نگاہوں سے نا چھپ پایا وہ تھی سروج کی سوجی ہوئی آنکھیں
وہ روئی تھی وہ دونوں جان چکے تھے
’’کہاں تھی تم میں کب سے تمہارا نمبر ٹرائے کررہا تھا‘‘ زرار اسکے پاس آکر بولا
’’ہاں وہ دراصل موبائل سائلنٹ پر تھا اسی لیے پتا نہیں چلا‘‘ اسنے جواب دیا
’’ہوں‘‘ زرار نے ہنکارا بھرا
’’چلو آؤ تمہیں کسی سے ملوانا ہے‘‘ اسکے ساتھ ہی وہ دونوں موسی کو اگنور کیے وہاں سے چل دیے
’’یہ روئی کیوں تھی؟‘‘ پیچھے کھڑا موسی تو ابھی تک ان سوجی آنکھوں کے زیر اثر تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’او آئی ایم سوری‘‘ کیمرہ سیٹ کرتے ہوئے مراد کا کسی سے زبردست قسم کا تصادم ہوا اور اسنے معافی مانگی
’’کوئی بات نہیں اٹس اوکے‘‘ سامنے والے نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا
’’او ہیلو مسٹر جلال صدیق ۔۔۔۔ کیسے ہیں آپ؟‘‘ اتنے میں ایک شخص جلال سے آکر ہاتھ ملاتے بولا جب ایک لڑکی جلال کے پہلو میں آکھڑی ہوئی
’’ہو از دس بیوٹیفل لیڈٰی( یہ خوبصورت لڑکی کون ہے)؟‘‘ شمائلہ پر نظر ڈالے اس شخص نے پوچھا
’’او شی از مائی سویٹ، پریٹی وائف۔۔۔ شمائلہ جلال‘‘ اسکو اپنے ساتھ لگائے جلال جس محبت سے بولا شمائلہ تو افسوس کرتی رہ گئی اس پر
مراد تو اب تک اسکے نام میں الجھا ہوا تھا
’’تو کیا یہ وہی جلال ہے؟ جس سے عمارہ کو محبت تھی۔۔۔اگر ایسا ہے تو یہ یہاں کیسے؟‘‘ مراد نے بنا کچھ سوچے سمجھے جھٹ سے کیمرہ کھولا اور اس انداز پر سیٹ کیا کہ وہ آرام سے ان دونوں کی تصویر لے سکے اور ساتھ ہی اسنے میسج ٹائپ کیے وہ تصویراور یہاں کا ایڈریس عمارہ کو بھیج دیا۔
’’اب دیکھتے ہے جلال صدیق کہ تم کتنے پانی میں ہوں‘‘ اس پر ایک نفرت بھری نگاہ ڈالتے مراد وہاں سے چل دیا، اسکا کام ہوچکا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج زرار کو اپنے ساتھ لیے مسٹر علی اور انکے دوست مسٹر جمال کے پیچھے آ کھڑی ہوئی، اسنے مسٹر جمال کو مخاطب کیا
’’سر‘‘ سروج نے انہیں آواز دی وہ مسکراہ کر پیچھے مڑے مگر سامنے کھڑا شخص انکے ہوش اڑا دینے کو کافی تھا
انہیں یوں خود کو یک ٹک دیکھے، اپنے آپ ہی ایک چڑا دینے والی مسکراہٹ اسکے لبوں پر آگئی
’’زرار؟‘‘ انہیں یقین نا ہوا
’’گڈ ایویننگ مسٹر علی زماد‘‘ زرار مسکراتا بولا.
جاری ہے
