Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37

زرار سے بات کرکے سروج خود کو بہت حد تک کمپوز کرچکی تھی۔۔۔۔۔ ھدی ابراہیم کو لیے پارک گئی ہوئی تھی۔
اتنے پر دروازے پر ہوئی بیل پر سروج چونک گئی
اسے ڈر تھا کہ کہی وہ موسی نا ہوں
دروازہ پر بیل لگاتار بجتی جارہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ سروج دروازے کو تکے جارہی تھی جب اسکا موبائل بجا اسے ڈر کر فون دیکھا تو اس پر ڈیڈ کالنگ لکھا شو ہورہا تھا
’’اا۔۔۔السلام علیکم‘‘ خود کو کمپوز کرتے اسنے کال رسیو کی
’’سروج بیٹا کہاں ہوں؟‘‘ حیدر صاحب نے جلدی سے سوال کیا
’’گگ۔۔گھر‘‘ سروج نے حیرت سے جواب دیا
’’تو جان دروازہ کھولو‘‘ حیدر صاحب کے بولتے ہی سروج نے جلدی سے کال بند کی اور تیزی سے دروازے کی جانب لپکی
دروازہ کھولتے ہی اسکی آنکھوں سے آنسو جارہی ہوگئے اور وہ تیزی سے اپنے ماں باپ سے لپٹ گئی۔۔۔۔ جو اسے سرپرائز دینے پاکستان آئیں تھے
’’ماما۔۔۔۔ پاپا‘‘ وہ باری باری دونوں کے گلے لگی
’’آپ دونوں یہاں؟‘‘ اسے حیرت ہوئی
’’بھئی اندر تو آنے دوں‘‘
وہ دونوں اندر داخل ہوتے ہی لاؤنج میں موجود صوفہ پر جابیٹھے
’’بھئی تمہاری ماں اور میں نے سوچا کہ جب ہماری بچی یہاں ہے۔۔۔ تو ہم وہاں رہ کر کیا کرے گے۔۔۔۔ اسی لیے ہم سب کچھ وائنڈ اپ کرکے یہاں واپس آگئے ہیں‘‘ حیدر صاحب کی بات پر سروج نے حیرت سے اپنی ماں کو دیکھا جنہوں نے سر ہاں میں ہلا دیا
’’بھابھی‘‘ ھدی سروج کو آواز دیتی لاؤنج میں داخل ہوئی مگر سامنے بیٹھے نفوس کو دیکھ کر پہلے چونکی اور پھر جذبز سی ہوگئی
سروج کی مام کی نیچر حسن پرست تھی
اسی لیے وہ ھدی سے بات کرنا پسند نہیں کرتی تھی انہیں ھدی اپنے عام نقوش کے باعث کچھ خاص پسند نہیں تھی
’’السلام علیکم‘‘ ابراہیم کو گلے سے لگائے اسے سلام کیا
’’وعلیکم السلام‘‘ ان دونوں نے خوش دلی سے جواب دیا
سروج کے جانے کے بعد اسکی مام نے وقت گزاری کے لیے دینی مدرسہ جوائن کرلیا تھا
مگر وہاں ان پر بہت سے حقیقت آشکار ہوئی تھی
اور اسی سبب انہیں یاد آتا تھا کہ کیسے وہ ھدی کے نقوش پر طنز کرتی۔۔۔۔ یا سب کے سامنے اسے ٹپس دینا شروع کردیتی
انہیں ابراہیم کے لیے بھی برا لگا جسکے بارے میں وہ سخت الفاظ استعمال کرتے وقت زرا بھی برا محسوس نہیں کرتی تھی
’’ھدی یہاں آؤ‘‘ مسز حیدر کی آواز پر وہ چونکی
’’جی میں؟‘‘ اسے حیرانگی ہوئی
’’ہاں تم۔۔۔۔۔ یہاں آؤ‘‘ ان کے اتنے پیار سے بلانے پر اسنے سروج کی جانب دیکھا جس کے سر ہاں میں ہلانے پر وہ انکی طرف بڑھی
’’کیسی ہے میری بیٹی؟‘‘ اسکا ماتھا چومتے انہوں نے پوچھا۔
ھدی کی آنکھیں بھیگ گئی
’’کیا ہوا؟‘‘ مسز حیدر نے حیرانگی سے پوچھا
’’کچھ نہیں ماما کی یاد آگئی‘‘ وہ آنسو صاف کرتے بولی
’’ارے میں ہوں نا آپکی ماما۔۔۔۔۔۔ بس اب نہیں رونا ٹھیک ہے‘‘ اسکو محبت سے اپنے ساتھ لگاتے وہ بولی
ھدی انکی آغوش میں آتے ہی پرسکون سی آنکھیں موند گئی
ابراہیم تو ھدی کو ان کے پاس دیکھ انکی طرف لپکا اور اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کی مدد سے ھدی کو ان سے دور کرنے لگا اور پھر اسکے پاس گود میں بیٹھ کر گلے لگا لیا
’’اللہ دیکھو ذرا پھپھو کا دیوانہ‘‘ سروج ہنس کر بولی تو سب ہنس دیے
’’اممم بھابھی وہ دراصل کچھ شاپنگ کرنی تھی تو میں ابراہیم کو اپنے ساتھ مال لیجاؤ؟‘‘ ھدی نے ہچکچا کر پوچھا
’’جی چندا لیجاؤ۔۔۔۔۔۔ بلکہ ایسا کروں میرا پرس لیکر آؤ زرا ‘‘ سروج کی بات ھدی سر ہاں میں ہلاتی اسکے کمرے میں چلی گئی
’’ماما پاپا میں چائے لیکر آئی اوکے‘‘ سروج یہ کہتے ہی کچن کی جانب چل دی۔
’’سروج یہ کیا تھا؟‘‘ حیدر صاحب نے حیرانگی سے پوچھا
’’کیا ڈیڈ؟‘‘ سروج پریشان ہوئی
’’بیٹا یہ پیسوں والی حرکت‘‘ حیدر صاحب نے ھدی کی طرف اشارا کیا
’’اسے برا لگا ہوں گا سروج تم سے یوں پیسے مانگنا‘‘ مسز حیدر بھی بولی
’’ماما یہ آپ کیا کہہ رہی ہے ھدی میری بہن ہے اور اسے برا کیوں لگے گا؟‘‘ سروج نے حیرانگی سے سوال کیا
’’شاید تم نے دیکھا نہیں تھا سروج مگر وہ بچی ہچکچا رہی تھی‘‘
’’مگر ڈیڈ اگر ایسی بات تھی تو ھدی کو مجھے بتادینا چاہیے تھا نا‘‘
’’بیٹا تم اسے ہم سے بہتر جانتی ہوں۔۔۔۔۔ وہ کبھی بھی خود نہیں بولتی ۔۔ تم ایسا کیوں نہیں کرتی کہ اسے ایک کریڈیٹ اور ایک ڈیبیٹ کارڈ بنا دوں‘‘ حیدر صاحب کی بات پر سروج نے پرسوچ انداز میں سر ہاں میں ہلایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’اپس سوری‘‘ ھدی جو شاپنگ بیگ اٹھائے ابراہیم کو گلے سے لگائے آگے بڑھ رہی تھی کسی سے ٹکڑا کر فورا بولی
’’اٹس اوکے ویسے بھی کیوٹ لڑکیوں کو میں کچھ نہیں کہتا‘‘ جو بھی تھا نہایت فلرٹی تھا
ھدی اگنور کرتی کار کی جانب بڑھ گئی
ھدی نے دروازہ کھولنا چاہا تو وہ جام ہوچکا تھا
ایک بار۔۔۔۔۔ دو بار۔۔۔۔۔۔ تین بار اسنے ٹرائی کیا مگر کوئی فائدہ نہیں
’’ہے اینی پرابلم؟‘‘ ھدی نے مڑ کر دیکھا تو اسی لڑکے کو پایا
’’وہ۔۔۔ وہ لاک نہیں کھل رہا ‘‘ ھدی نے پریشانی بتائی
’’آپ ایسا کرے ذرا سائڈ پر ہو‘‘ ھدی کو ایک سائڈ پر کرتا اب وہ مہارت سے لاک چیک کرنے لگا اور ٹھیک دو منٹ کے اندر اندر لاک کھل گیا
ھدی تو حیران رہ گئی
’’یہ کیسے کھولا آپ نے؟‘‘ ھدی نے تجسس سے پوچھا
’’میں سی۔ آئی۔ڈی دیکھتا ہوں اسی لیے‘‘
’’واٹ‘‘
اب کی بار وہ دونوں ہنسنے لگے
’’تھینکیو میری مدد کرنے کے لیے‘‘ ھدی تشکر آمیز لہجے میں بولی
’’یور ویلکم مائی لیڈی‘‘ سینے پر ہاتھ رکھے وہ تھوڑا آگے کو ہوکر بولا تو ھدی کھلکھلا دی
’’اللہ حافظ‘‘
ھدی وہاں سے چل دی۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ پیچھے کھڑا وہ لڑکا بالوں میں ہاتھ پھیر کر رہ گیا
’’کیوٹ‘‘ ھدی کو دیکھ کر وہ بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’سروج؟‘‘
’’جی؟‘‘
’’بیٹا وہ دراصل بات کرنی ہے تم سے ایک امپورٹینٹ‘‘ حیدر صاحب بولے
’’جی بابا کہیے‘‘
’’بیٹا تم نےکیا سوچا ہوا ہے اپنی لائف کے بارے میں؟‘‘
’’بابا سوچنا کیا ہے ۔۔۔۔۔ بس بزنس اور گھر‘‘ وہ آرام سے کندھے اچکائے بولی
’’اور شادی؟‘‘ انہوں نے سوال کیا۔۔۔۔۔۔ سروج کا چہرہ سپاٹ ہوگیا اس لفظ پر
’’وہ ہوچکی ہے بابا‘‘ سروج کی بات پر حیدر صاحب سانس خارج کرکے رہ گئے
’’سروج ایک رشتہ آیا ہے تمہارے لیے۔۔۔۔۔ لڑکا دبئی میں ہوتا ہے۔۔۔۔ ویل سیٹیلڈ ہے اور اسے ابراہیم کے حوالے سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ دیکھو بیٹا تھوڑا سوچوں سمجھو۔۔۔۔ مجھے اور تمہاری ماں کو تمہاری فکر لگی رہتی ہے۔۔۔۔۔۔ آخر کو ایک ہی اولاد ہوں تم ہماری‘‘ حیدر صاحب اسے سمجھاتے بولے
’’بابا؟‘‘ سروج نے کچھ بولنا چاہا
’’پلیز بیٹا اپنے لیے نا سہی ابراہیم کے لیے ہی‘‘ وہ متانت بھرے لہجے میں بولے
’’اوکے‘‘ یہ کہتے ہی وہ تیزی سے کمرے کی جانب چل دی
یہ دیکھے بغیر کے مین دروازے پر کھڑا موسی سب باتیں سن چکا تھا اور اب آنکھیں لال انگارہ ہوچکی تھی
خود کو کمپوز کرتا وہ اندر داخل ہوا ۔۔۔۔۔۔۔ جہاں اسے حیدر صاحب ملے
’’السلام علیم‘‘ موسی نے سلام کیا
’’وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔۔ جی بیٹا آپ کون؟‘‘ حیدر صاحب نے حیرانگی سے اسکے حلیے کا جائزہ لیتے سوال کیا
’’انکل دراصل میں سروج کا بزنس پارٹنر اور کلاس فیلو ہوں۔۔۔۔۔۔۔ علی زماد کا بیٹا‘‘
’’ماشااللہ ماشااللہ تم علی کے بیٹے ہوں۔۔۔۔۔ مل کر خوشی ہوئی بیٹا۔۔۔ آؤ بیٹھو بیٹا‘‘ حیدر صاحب موسی سے بغلگیر ہوئے بولے
’’ارے نہیں انکل سروج کو بلوا دے اس سے فائل لینی تھی میں نے‘‘ وہ عاجزی سے بولا
’’بیٹا سروج تو اپنے روم میں ہے تم دیکھ لو جاکر‘‘ انکی اجازت پر موسی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ فورا رفوچکر ہوجائے
’’ارے نہیں انکل اچھا نہیں لگتا آپ یہاں سروج کو باہر لاؤنج میں بلا لے‘‘
’’تم علی کے بیٹے ہوں موسی اور مجھے اس کے بیٹے پر پورا یقین ہے۔۔۔۔۔۔۔ تم جاسکتے ہوں‘‘
’’چلے انکل جیسی آپ کی مرضی۔۔۔۔۔۔ ویسے انکل روم کونسا ہے؟‘‘
’’جی بیٹا رائٹ والا‘‘ وہ اسے بتاتے نیوز کی طرف متوجہ ہوگئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کم ان‘‘ دروازہ ناک ہونے پر سروج بولی
موسی نےاندر داخل ہوتے ہی دروازہ لاک کردیا
’’تم۔۔۔ تم یہاں کیا کررہے ہوں‘‘ سروج اسے دیکھ کر بھڑک اٹھی
’’دفع ہوجاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں اندر کس نے آنے دیا؟‘‘
’’سسر جی نے‘‘ موسی آرام سے بولا
’’میں کہا نا دفع ہوجاؤ سنا نہیں تم نے؟‘‘
’’نہیں نہیں سنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب تم میری بات سنو اور غور سے سنو سروج حیدر اس دبئی والے رشتے پر انکار کررہی ہوں تم‘‘ موسی اسے دونوں کندھوں سے تھامے بولا
’’اور اگر نا انکار کروں تو؟‘‘ سروج نے گویا چیلنج کیا
موسی نے ایک دم اسے دیوار سے لگایا اور اسکے بےحد قریب آگیا۔۔۔۔۔۔ سروج تو اس افتاد پر بھوکلا گئی
’’یہ کیا بدتمیزی ہے‘‘ وہ غصے سے پھنکاری
’’ایک بات یاد رکھنا سروج حیدر تمہیں خاص موسی علی کے لیے بنایا گیا ہے، میرے علاوہ کسی اور کو دیکھنا تو کیا سوچنا بھی تم پر حرام ہے‘‘ اسے دیوار کے ساتھ لگائے، دونوں ہاتھ اسکے چہرے کے قریب کیے، فرار کے سارے راستے بند کرتا اب وہ ہلکے سے اسکے کان میں بول رہا تھا ، جبکہ اسکا تو اس وقت سارا بدن کانپ رہا تھا، آنکھیں بند کیے وہ بس اسکے جانے کی دعائیں مانگ رہی تھی۔
’’تم مجھ پر کوئی حق نہیں رکھتے جو یو مجھ پر اپنی مرضی چلاتے بنوں گے‘‘ غصے میں کانپتی آواز کے ساتھ اسے پیچھے دھکا دینے کی ناکام کوشش کرتے وہ بولی۔
’’کوئی بات نہیں بہت جلد تم پر سارے حق رکھنے کا حق میں حاصل کرلوں گا‘‘ ہولے سے اسکے گال کو چھوتا وہ بولا
’’میں عمیر کی بیوہ ہوں اور ساری زندگی اسکے نام پر گزار دوں گی مگر تمہاری نہیں بنوں گی‘‘ وہ چیخ کر بولی
’’تم عمیر کی بیوہ تھی، اب تم موسی کی بیوی کہلائی جاؤ گی اور ساری زندگی میرے نام کے ساتھ رہوں گی، اور تمہیں تو میں اپنا بنا کر ہی دم لوں گا‘‘ مسکراتے ہوئے اسکے پاس سرگوشی کی گئی۔
سروج کا تو دل بند ہونے کو تھا، اور کتنے دکھ، کتنی اذیتیں اسکی منتظر تھی۔
’’تمہیں میری ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا وہ زرار بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ جو جی میں آئے کرکے دیکھ لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم میری ہوں اور اپنی چیز میں کسی کو دیتا نہیں‘‘
اسے کانپتا چھوڑ کر وہ ایک جھٹکے سے دروازہ کھولے وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ سروج دیوار سے ٹیک لگائے بیچے بیٹھتے۔۔۔۔ سر گھٹنوں میں دے گئ۔
تھوڑی دیر بعد وہ اٹھی اور فریش ہونے کی نیت سے واشروم کی جانب چل دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی موسی نے ایک کال ملائی
’’ہیلو ہاں جو کام کہاں تھا وہ ہوگیا؟‘‘
’’ مجھے وہ پیپرز جلد از جلد چاہیے۔۔۔۔۔ اور سنو کسی اچھے اور پائیدار وکیل کو ہائر کرنا‘‘ کال بند کرتے ہی اسنے سامنے دیکھا جہاں ابھی ھدی کی کار آکر رکی تھی
وہ ابراہیم کو اٹھائے اندر جارہی تھی
ابراہیم کو دیکھ کر موسی کی آنکھیں بھیگ گئی
’’ماہم‘‘ وہ زیرلب بولا
اور گاڑی سٹارٹ کرتے وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا کھانا کھا کر وہ سب سونے چل دیے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھدی اب سروج کے روم میں شفٹ ہوگئی تھی
’’بھابھی کل آپ یونی جائے گی؟‘‘ ھدی نے سوال کیا
’’ہاں‘‘
’’اوکے‘‘
اور لائٹ اوف کرتے وہ دونوں نیند کی وادیوں میں چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’آپ مجھے اپنی ھدھد سے ملوانے والے تھے نا۔۔۔۔۔۔ کب ملوائے گے؟‘‘ آہل نے سوال کیا
’’ملوا دوں گا ابھی کچھ بزی ہے وہ۔۔۔۔۔۔ اسکی بھابھی کے گھر والے آئے ہیں ملنے اسی لیے‘‘ زرار نے جواب دیا
’’آپ کے پاس صرف دو دن کا وقت ہے۔۔۔۔۔ دو دن بعد مجھے وہ یہاں چاہیے‘‘ آہل کا لہجہ آرڈر دینے والا تھا
’’اور کوئی حکم؟‘‘ زرار نے تپ کر پوچھا
’’ابھی تو نہیں بعد میں سہی‘‘ آہل مزے سے کندھے اچکائے بولا
جبکہ زرار صبر کے گھونٹ پی کر رہ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’اوئے مس کیوٹی پائے‘‘ ھدی جو کلاس کی جانب بڑھ رہی تھی ایک دم مڑ کر پیچھے دیکھا تو کل والے لڑکے کو دیکھ کر حیران رہ گئی
’’آپ یہاں کیسے؟‘‘ ھدی حیران ہوئی
’’بھئی یونیورسٹی میں کیا کرسکتا ہوں میں؟‘‘ اسنے ابرو اچکائے پوچھا
’’بائے دا وے تم کس ڈیپارٹمنٹ کی ہوں؟‘‘
’’بی۔ایس آرٹس اینڈ کرافٹ‘‘ ھدی نے بتایا
’’اور تم؟‘‘
’’میں آئی۔ٹی کا ہوں‘‘
’’ویسے تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
’’ھدی اور تمہارا؟‘‘
’’سلیمان‘‘
’’ ویسے ہم کیا دوبارہ مل سکتے ہیں؟‘‘ سلمان نے پوچھا
’’پتا نہیں‘‘ ھدی جواب دیتی اپنی کلاس میں چلی گئی
مگر پیچھے جلتے ہوئے زرار کو مزید جلا گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسٹر اور مسز حیدر کو اپنے گھر جانا تھا۔۔۔۔۔ ان کا ارادہ یہ فلیٹ چھوڑ کر سروج اور ھدی کیساتھ اپنے گھر شفٹ ہونے کا تھا
مگر ایک مسئلہ تھا وہ ابراہیم کو اپنے ساتھ نہیں لیجا سکتے تھے اور نا ہی یہاں چھوڑ کر جاسکتے تھے
اتنے میں دروازے پر بیل ہوئی
’’یہ اس وقت کون آسکتا ہے؟‘‘ مسز حیدر خود سے سوال کرتی دروازے کی جانب بڑھ گئی
’’جی آپ کون؟‘‘ دروازہ کھول کر اپنے سامنے کھڑے عجیب سے لڑکے کو دیکھ کر انہوں نے پوچھا
’’السلام علیکم آنٹی‘‘ موسی نے جھٹ سوال کیا۔۔۔۔۔ آخرکو فیوچر کی ساس تھی اسکی
’’وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔۔ جی کس سے ملنا ہے؟‘‘ انہوں نے سوال کیا
’’ارے موسی بیٹا؟‘‘ پچھے سے آتے حیدر صاحب حیرانگی سے بولے
’’السلام علیکم انکل‘‘ موسی نے جھٹ انہیں سلام کیا
’’وعلیکم اسلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارے شہانہ اندر آنے دوں بچے کو‘‘ حیدر صاحب کے بولتے ہی موسی اندر آگیا
’’حیدر آپ جانتے ہے اسے؟‘‘
’’جی بیگم یہ علی کا بیٹا ہے‘‘ انہوں نے جواب دیا
’’علی۔۔۔۔۔۔۔۔ اور علی بھائی۔۔۔۔۔ یاسین بھائی کےدوست‘‘ وہ اچانک یاد کرتے بولی
’’جی اور یہ نا صرف علی کا بیٹا۔۔۔۔ بلکہ سروج کا پارٹنر اور دوست بھی ہے‘‘
’’ابھی تو نہیں مگر انشااللہ جلد پارٹنر بھی بن جاؤ گا‘‘ موس بڑبڑایا
’’جی بیٹا کچھ کہاں؟‘‘
’’ارے نہیں آنٹی کچھ نہیں‘‘
’’اچھا چائے یا کافی؟‘‘ انہوں نے سوال کیا
’’کافی‘‘ موسی نے جواب دیا
’’بیٹا سروج تو یونی گئی ہے پھر تم یہاں؟‘‘ حیدر صاحب نے سوال کیا
’’ارے انکل میں تو آپ لوگوں سے ملنے آیا تھا۔۔۔۔ بلکہ یوں کہے کہ دعوت دینے آیا ہوں ۔۔۔۔ آپ اس ویک اینڈ ہمارے گھر آپ لوگوں کا ڈنر ہے‘‘ موسی نے اپنا کام کیا
’’بیٹا دعوت۔۔۔۔۔۔۔۔ سروج کو بتایا تم نے؟‘‘
’’ارے نہیں انکل سروج کو مت بتائے گا۔۔۔۔ دراصل وہ ہماری چھوٹی سے لڑائی ہوگئی تھی تو بس سرپرائز دینا چاہتا ہوں اسے‘‘ موسی نے بروقت کہانی گڑھی
’’جی ٹھیک بیٹا‘‘
’’ویسے ابراہیم گھر پر ہے؟‘‘ موسی نے سوال کیا
’’جی بیٹا بیٹھو میں لیکر آیا‘‘
اتنی ہی دیر میں مسز حیدر بھی کافی لے آئی
’’یہ لوبھئی ملو میرے نواسے سے‘‘ ابراہیم موسی کو پکڑاتے وہ بولے
موسی نے کافی کا مگ ٹیبل پر رکھے ابراہیم کو پکڑ لیا۔۔۔۔۔ وہ غور سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔ اسکی آنکھیں بلکل موسی جیسی تھی۔۔۔۔ جبکہ ہونٹ اور ناک ماہم جیسی
’’ویسے انکل اسکی آنکھیں بلکل میرے جیسی ہے نا۔۔ مطلب کے آئی کلر‘‘ موسی ایکدم بولا۔۔۔۔۔۔ حیدر صاحب نے بھی غور کی تو سر ہاں میں ہلایا
’’ویسے یہ سروج سےتو بلکل بھی نہیں ملتا نا۔۔۔۔۔ مطلب کے اس کے نقش سروج جیسے نہیں ہے‘‘ موسی کی بات پر ان دونوں میاں بیوی کے چہرے کا رنگ بدلا۔۔۔۔۔۔ جو موسی نے بخوبی نوٹ کیا تھا
’’وہ۔۔۔۔ وہ۔۔۔ دراصل یہ بلکل اپنے ڈیڈ پر گیا ہے‘‘ انہوں نے بتایا تو موسی نے سر ہاں میں ہلادیا
’’ویسے آپ لوگ کہی جارہے تھے؟‘‘ انکی تیاری دیکھ کر موسی نے پوچھا۔۔۔۔۔ جس پر حیدر صاحب نے اپنے گھر کے حوالے سے بتایا
’’اوہو پھر تو میں نے آپ لوگوں کو تنگ کیا نا‘‘ موسی کو شرمندگی ہوئی
’’ارے نہیں بیٹا ایسا کوئی مسئلہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی ہم ابراہیم کو چھوڑ کر نہیں جاسکتے تھے۔۔۔۔ تو رک گئے‘‘ شہانہ بیگم نے جواب دیا
’’ویسے انکل آنٹی اگر آپ لوگ چاہے تو میں رک سکتا ہوں ابراہیم کے پاس آپ بےفکر ہوکر چلے جائے‘‘ موسی نے تجویز پیش کی
’’ارے نہیں بیٹا۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں‘‘ حیدر صاحب نے انکار کیا
’’ارے انکل اب بیٹا بولا ہے تو بیٹا بننے کا موقع بھی دیجیے۔۔۔۔۔ آپ بےفکر ہوکر جائے میں ہوں نا‘‘ موسی کی بات پر کچھ شش و پنج کے بعد وہ لوگ مان ہی گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واشروم کی طرف سے ہوتے ھدی پارکنگ کی طرف جارہی تھی جب ایک جھٹکے سے اسکا بازو ایک مضبوط گرفت میں آیا اور اسے اندر کی طرف کھینچ لیا گیا
اس سے پہلے کے ھدی چیختی اسکے منہ پر مضبوطی سے ہاتھ رکھ کر اسے خاموش کروا دیا گیا
ھدی کو دیوار سے لگائے، زرار نے ایک ہاتھ سے اسکا منہ بند کردیا اور دوسرے سے سروج کو کال ملا نے لگا
’’ھدی کو میں ڈراپ کردوں گا سروج تم گھر جاؤ مجھے کچھ کام ہے ھدی سے‘‘ ھدی تو اسکی سخت آنکھیں دیکھ کر کانپ گئی تھی
’’ہاں کچھ آئیڈیا چاہیے گھر کے لیے ۔۔۔۔۔ تم چلی جاؤ میں اسے حفاظت سے گھر پہنچا دوں گا‘‘
’’ٹھیک ہے اللہ حافظ‘‘ زرار کی پراسرار مسکراہٹ دیکھ کر ھدی اندر تک ڈر چکی تھی
نفی میں سر ہلاتے اسنے بولنے کی کوشش کی مگر زرار کی گرفت اسکے ہونٹوں پر مزید سخت ہوگئی تھی۔۔۔۔۔ اسےاب سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تھی
ھدی کو یونی کا پہلا دن یاد آگیا تھا۔۔۔۔۔۔
جب زرار کو اسکی حالت قابل رحم لگی تو اسنے ھدی کو چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔ ایک جھٹکے سے زرار سے علیحدہ ہوتے وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی
زرار بےتاثر کھڑا اسے دیکھنے لگا
’’کون تھا وہ؟‘‘ ایک جھٹکے سے اسے دیوار سے لگائے زرار نے سوال کیا
’’ککک۔۔۔۔کون‘‘ ھدی کانپ رہی تھی
’’وہی جس سے صبح خوش گپیوں میں مصروف تھی۔۔۔۔۔۔ کون تھا وہ‘‘ اس پر اپنی پکڑ مضبوط کرتے زرار نے سوال کیا
’’ککک۔۔۔کوئی نہیں‘‘ ھدی نے سر نفی میں ہلایا
’’اچھاااا اس کوئی نہیں سے اتنے اچھے پھر بات کیوں کررہی تھی؟‘‘ زرار دھاڑا
’’جواب دوں مجھے‘‘ زرار کی دھاڑ پر ھدی نے آنکھیں بند کرلی۔۔۔۔ خوف سے وہ کپکپا رہی تھی
’’دیکھو ھدی آخری بار اور پیار سے پوچھ رہا ہوں کون تھا وہ‘‘ اب کی بار زرار کا لہجہ دھیما تھا
’’کل۔۔کل۔۔ مال گئی تھی۔۔۔۔۔۔ لاک۔۔۔گاڑی کا لاک جام ہوگیا تھا۔۔۔۔ اسنے۔۔۔۔۔ اسنے مدد کی تو۔۔۔۔۔۔ تو صبح ملا ۔۔۔۔مم۔۔میں نے صرف اتنا پوچھا کہ یہاں کیا کررہا۔۔۔۔ تو بتایا اسی یونی میں پڑھتا ہوں‘‘ آنکھیں بند کرتے ھدی نے جواب دیا
ھدی کا جواب سن کر زرار پیچھے کو ہوا اور بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا
’’مجھے اگنور کیوں کررہی تھی تم؟ پچھلے کتنے دنوں سے دیکھ رہا ہوں مجھ سے بھاگ کیوں رہی ہوں؟‘‘ زرار نے ایک بار اسکے سامنے کھڑے ہوکر سوال کیا
’’مجھے سب پتا ہے‘‘ ھدی ہونٹ کاٹتے بولی
’’کیا پتہ ہے؟‘‘
’’یہی کہ موسی۔۔۔ موسی بھائی کو آپ نے مارا۔۔۔۔ میں نے دیکھا تھا‘‘ نظریں نیچے کیے اسنے جواب دیا
’’اور کیا پتہ ہے؟‘‘
’’مجھے سٹور روم میں بھی آپ نے بند کیا تھا‘‘
’’ھدی ھدی ھدی میں تمہیں کیسے سمجھاؤ کہ میں نے تمہیں بند نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔۔ اور موسی کے ساتھ میں نے کیا کیا۔۔۔۔ کیا نہیں یہ تمہارا سردرد نہیں ہے‘‘ زرار اسکے پاس دیوار پر مکا مارتے بولا
’’اب تم اس لڑکے سے نہیں ملو گی‘‘ زرار نے حکم دیا
ھدی کو غصہ آرہا تھا اب زرار پر مگر اسنے سوچ لیا تھا کہ وہ اب نہیں ڈرے گی
’’میں ملو گی۔۔۔۔ اور آپ مجھے نہیں روک سکتے‘‘ زرار کو غصہ دلاتے وہ جلدی سے دروازے کی طرف بڑھی اور اسے کھولنے کی کوشش کرنے لگ گئی
’’میں نے تمہیں کہا تھا نا ھدی کے کوئی میری چیز کو چھوئے بھی تو مجھے برداشت نہیں پھر تم نے یہ کیسے سوچ لیا کہ میں تمہیں کسی اور کا ہونے دوں گا‘‘ وہ جو دروازے کو لاک کھولنے کی کوشش کر رہی تھی اپنے بلکل پاس سے اسکی آواز سن کر ھدی کی سانسیں تھم گئی۔
’’میں کوئی چیز نہیں ہوں‘‘ اپنی ڈر پر قابو پاتے وہ لہجہ مضبوط بنانے کی کوشش کرتے بولی
’’پر میری تو ہوں نا‘‘ ھدی کی پیٹھ اسکی طرف تھی وہ اسے دیکھ نا سکی مگر اسے ایسا لگا کہ وہ مسکرایا تھا
’’آپ میری جان کیوں نہیں چھوڑ دیتے‘‘ تھک ہار کر وہ بولی
’’جان کو بھلا کوئی کیسے چھوڑ سکتا ہے‘‘ اب کی بار اسنے اسکی مسکراہٹ کو محسوس کیا تھا
’’آپ کو مجھ سے کچھ نہیں ملے گا‘‘ ضبط کے آخری لمحے کو چھوتے وہ بولی
’’مجھے تم سے کچھ چاہیے بھی نہیں میں ہوں نا تمہیں سب کچھ دینے کو‘‘ وہ قدم آگے بڑھاتا اب بلکل اسکے پیچھے آکھڑا ہواتھا
’’اور اگرآپ کو میں ہی نا ملی؟‘‘اسنے جانچنا چاہا
’’نا ممکن‘‘ فقط ایک لفظ میں اپنی بات مکمل کرتے اسے سائڈ پر کیے اسنے دروازے کا لاک اوپن کیا اور باہر نکل گیا۔
’’کیوں آخر میں ہی کیوں‘‘ اسکے پیچھے وہ بس یہی سوچ سکی۔
’’آجاؤ تمہیں گھر چھوڑ دوں میں دیر ہورہی ہے‘‘ وہ ھدی کو بولتے آگے چل دیا
جبکہ ھدی پیچھے تھکے ہارے قدم اٹھاتے اس کے پیچھے چل دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *