Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734
Last updated: 26 June 2026
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija
کیسی ہوں‘‘ اسکے سامنے کھڑا، آنکھوں میں محبت لیے وہ اس سے پوچھنے لگا، مگر ھدی نے اسکی آنکھوں کو دیکھا ہی کہا تھا وہ تو اسکے یوں سامنے آنے پر نظریں جھکا گئی تھی
’’میرے سوال کا جواب نہیں دیا تم نے‘‘ اسکے قد کے برابر جھکے اسنے دوبارا اس سے پوچھا
’’مجھے جانا ہے‘‘ ضبط کے کڑےمراحل سے گزرتی ھدی بس اتنا ہی کہہ پائی تھی
’’جانا تو مجھے بھی ہے مگرتمہارے سنگ چلنا ہے مجھے، ہر ڈگر، ہر موڑ پر تم مجھے اپنے ساتھ چاہیے ہوں‘‘ ھدی اگر زرار کی محبت سمجھ سکتی یو ضرور خود پر رشک کرتی مگر اس وقت وہ اسکے لیے ایاز سے کم نا تھا۔
’’میرا راستہ چھوڑیے‘‘ اسکی آنکھوں سے آنسو چھلکنے کو تیار تھا مگر وہ خود پر ضبط کیے ہوئے تھی۔ اسنے اپنے لب سختی سے بھینچ لیے
’’اور اگر میں نا چھوڑو تو؟‘‘ وہ مسکان لیے پوچھنے لگا
’’ٹھیک ہے رہو کھڑے یہی‘‘ کہتے ہی وہ سائڈ سے گزر کر جانے لگی جب زرار نے اسکی کلائی تھام لی
’’تم نے پہلےبھی ایسا کیا تھا اور دیکھو مجھے تمہیں تکلیف دینا پڑی تھی اور تم اب دوبارہ وہی حرکت کر رہی ہوں‘‘ وہ آرام دہ لہجے میں بولا، غصے کا شائبہ تک نا تھا اسکے چہرے پر
’’تو ؟ میں آپ سے نہیں کہا یوں میرے راستے میں آکر کھڑے ہوجایا کرے، آئیندہ مجھسے دور رہیے گا، مجھے یہ حرکتیں پسند نہیں‘‘ وہ اپنی طرف سے اسے وارن کررہی تھی جبکہ اسکی بات پر زرار مسکراہ دیا۔
اسے خوشی ہوئی یہ جان کر کہ اسکی ھدھد لڑکوں سے دور رہتی پھر خواں وہ زرار ہی کیوں نا ہوں
’’جو حکم‘‘ سر کو خم دیتے وہ مسکراہ کر بولا، جبکہ ھدی کی حالت تو مرنے جیسی ہوگئی تھی۔
’’یا اللہ یہ بیسٹ مسکراہ رہا ہے، کہی اس پر کوئی چڑیل تو عاشق نہیں ہوگی۔۔۔۔نہیں نہیں بیچاری چڑیل بھلا اسکا کیا بگاڑ لے گی‘‘ وہ تاسف سے سر کو دائے بائے ہلاتے سوچنے لگی۔
جبکہ اسکی اس منہ بولتی سوچ پر زرار کو خوب قہقے لگانے کو دل چاہا
’’اب یہاں کھڑی کھڑی کون سے مراقبے طے کر رہی ہوں، کلاس میں نہیں جانا ویسے بھی مجھے نالائق لوگ اچھے نہیں لگتے سمجھی تم‘‘ وہ تو یوں بات کر رہا تھا جیسے ان دونوں میں برسوں سے دوستی تھی، اور ھدی پر تو آج حیرتوں کے ان گنت پہاڑ ٹوٹ رہے تھے، ایک پل کو اسکا دل چاہا کہ وہ زرار کو چٹکی کاٹ کر دیکھ لے ، مگر اگلے ہی لمحے اپنی سوچ پر استغفار پڑھتے وہ وہاں سے سو کی سپیڈ پر بھاگی اور پیچھے کھڑے زرار کو اپنے اندر ایک نئی زندگی محسوس ہوئی۔
ابکی بار کوئی ماہم بھی انکے بیچ نہیں آسکتی تھی، کوئی روز نامی بلا کوئی دوری نہیں پیدا کرسکتی تھی، اب کی بار کسی بھی مجبوری کو وہ ان دونوں کے درمیان حائل نہیں ہپونے دے گا، یہ زرار کا وعدہ تھا خود سے ، اپنی ذات سے، اپنی محبت سے اپنی ھدھد سے۔
ایک پرسکون سی سانس فضا میں خارج کرتے وہ بھی اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’بوا پانی پلا دے‘‘ بوا کو پانی کا لانے کو بولتا وہ لاؤنج میں صوفے پر ڈھہ گیا، اسکی حالت تو ایسی تھی جیسے وہ یونی سے نہیں بلکہ کسی نو سے پانچ بجے کی آفس کی ٹف روٹین سے واپس آیا ہوں
’’تو بھیا کیسا رہا آج کا دن‘‘ اسکے بلکل پاس دھپ سے بیٹھتی ندا نے پوچھا
’’ٹائیرینگ( تھکا دینے والا)‘‘ وہ سر میں ہاتھ پھیرتے بولا
’’کیوں نئے پاکستان کا قیام کرنے گئے تھے‘‘
’’ہاہاہا۔۔۔۔۔بکواس جوق‘‘
’’اچھا چھوڑے یہ بتائے یونی کیسی ہے آپکی؟‘‘
’’جیسی ہوتی ہے ویسی ہی ہے‘‘
’’اففف بھیا کسی سوال کا سیدھا جواب مت دینا آپ تو‘‘ وہ غصے سے وہاں سے واک آؤٹ کرگئی جس پر موسی نے شکر ادا کیا کیونکہ اسکا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا
’’بوا پانی لادے‘‘ وہ ابکی بار چلایا
’’آئی میاں بھئی صبر کروں‘‘ ہاتھ میں چائے کی ٹرے پکڑے وہ اسکی طرف بڑھی
’’یہ لو‘‘
’’یہ کیا بوا پانی مانگا تھا‘‘
’’پانی سر درد کا علاج نہیں‘‘اسکے ہاتھ میں سر درد کی گولی دیتے وہ بولی
’’آپ کو کیسے پتا کہ میرے سر میں درد ہے بوا‘‘ وہ حیران ہوئے پوچھنے لگا
’’ان ہاتھوں نے پالا ہے تم سب کو کیسے نا پتا چلتا‘‘ وہ پیار سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے بولی، جس پر وہ انہیں تشکر بھری نظروں سے دیکھتا ان کے ہاتھ چوم گیا
