Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12

خدا، خدا کرکے مائز نے آخر کار انجیکشن لگاوا ہی لیا تھا، مگر آنکھوں میں ابھی بھی آنسو موجود تھے
جیسے چھوٹے بچے کو ٹیکہ لگنے کے بعد چاکلیٹ دی جاتی ہے، ویسے ہی فریحہ اب وعدے کے مطابق مائز کو فرائز کھلا رہی تھی، جبکہ وہ تو ساری دنیا بھلائے فرائز میں گم تھا
وقت کافی ہوچکا تھا، اور اسے گھر سے بھی کالز آچکی تھی، جس پر گھروالوں کو اپنی خیریت کا یقین دلاتے ہوئے وہ اب دوبارہ غور سے مائز کو دیکھنے لگی
اسے مائز کہی سے بھی کوئی مرد نہیں لگتا تھا بلکہ مائز کی حرکتیں تو کسی بچے کی جیسی تھی، مگر اگر مائز واقعی میں ابنارمل تھا تو پھر وہ کیسے عام لوگوں کے ساتھ پڑھ رہا تھا
’’کہی یہ مجھے پاگل تو نہیں بنا رہا‘‘ یہ پہلی سوچ تھی جو فریحہ کے دماغ میں آئی
’’آ۔۔۔مائز تمہارا گھر کہاں ہے؟ آئی مین کے ایڈریس؟‘‘ فریحہ نے انجان بنتے پوچھا، مگر مائز کے کان کھڑے ہوگئے
’’کیوں تمہیں میرے گھر سے کیا لینا دینا؟‘‘ وہ شکی انداز میں پوچھنے لگا
’’ارے میں تو اسی لیے کہہ رہی تھی نا تاکہ تمہیں گھر چھوڑ دوں تمہیں چوٹ لگی ہے تو کیسے جا پاؤ گے؟‘‘ وہ بہانہ گھڑتے بولی، جبکہ مائز پرسوچ انداز میں اسے دیکھنے لگا
’’لسن یو مائز فرائز۔۔ اگر تم نے مجھے بےوقوف بنانے کی کوشش کی نا تو دیکھنا میں تمہارا کیا حشر کرتی بہت غلط بندی سے تم نے پنگا لیا ہے‘‘ دماغ میں اسے سناتے، چہرے پر بظاہر مسکان لیے وہ اسے دیکھنے لگی۔
’’اوکے، بتاتا ہوں‘‘ وہ اسکی طرف دیکھتا، بچوں کی طرح مسکراتے اسے ایڈریس بتانے لگا، فریحہ کو حیرانی ہوئی کیونکہ اسکا گھر بھی ڈیفینس کے اسی ایریا میں تھا۔
’’چلو پھر چلتے ہیں دیر ہورہی ہے نا‘‘ بل پے کرتے، اسے سہارا دیا وہ بائیک کی طرف لے آئی۔
’’لو بھئی دیکھو زمانے کے نرالے رنگ، اب پپو بچو کو بھی آئیٹم گرل ملنے لگی‘‘ یہ فقرہ ان سے تھوڑا دور کھڑے دو لڑکوں میں سے ایک نے اچھالا تھا، جس پر باقی وہ دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارے ہنسنے لگے۔
’’یو۔۔۔۔۔‘‘ اس سے پہلے کے فریحہ انکی طرف بڑھتی مائز نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا، فریحہ نے جب مائز کو دیکھا تو حیران رہ گئی کیونکہ اسکی آنکھوں میں ایک خوف تھا، ڈر تھا، جس کے پیش نظر فریحہ نے ان لڑکوں کو کچھ نا کہا جو ابھی بھی ان کی طرف دیکھے کچھ نا کچھ کہے جارہے تھے، مگر اسکی بائیک نے جاتے جاتے ان پر کیچڑ ضرور اچھال دیا تھا جس پر وہ بھونچکا کر رہ گئے
تھوڑی آگے جاتے ہی فریحہ کی بائیک رکی اور اسے نے بنا پیچھے دیکھے ان دونوں لڑکوں کو تھمبس اپ کا نشان دیے بائیک آگے بڑھا لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’آئی ڈونٹ کیر، گاڈ ڈیم اٹ۔۔۔۔ مجھے ہر حال، ہر صورت پاکستان جانا ہے‘‘ وہ فون پر اونچی آواز میں چلا رہا تھا، آہل کو کل ہی اسکے ڈاکٹرز چیک کر کے گئے تھے، انہوں نے اسے ایک ہفتہ مزید انڈر ابزرویشن رکھنے کی بات کی تھی مگر زرار کسی بھی طور کل ہر صورت واپس جانا چاہتا تھا
اسنے ڈاکٹرز سے بھی بات کی تھی جس پر ڈاکٹرز نے بہت بحث کے بعد اس صورت اجازت دی تھی کہ انکی ایک ٹیم آہل کے ساتھ جائے گی جس پر وہ دل و جان سے راضی ہوگیا تھا، مگر اصل مسئلہ تو اب کل کی سیٹس کا تھا جو اسے نہیں مل رہی تھی۔
’’ہاں پتا کرواؤ مگر مجھے ہر صورت کل کی ٹکٹس چاہیے‘‘ وہ فون رکھتے خود کو پرسکون کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگا
موبائل سے ھدی کی تصویر نکالے اب وہ غور سے اسے دیکھنے لگا
’’آئی سویر ھدھد اگر تم نے میرے علاوہ کبھی بھی کسی اور کو اپنے نزدیک آنے کی اجازت دی تو میں جان لے لو گا اسکی اور تمہیں ہمیشہ کے لیے اپنی قید میں رکھ لو گا، باہر کی دنیا حرام کردوں گا میں تم پر‘‘ آنکھوں میں جذبات کا شہر بسائے وہ بولا
وہ نجانے کب تک اسکی تصویر دیکھتا رہا جب اسکا موبائل بجا
’’ہیلو!!‘‘ سرد لہجے میں وہ بولا
’’ٹھیک ہے‘‘ اب کی بار اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں الگ ہی چمک تھی
’’بی ریڈی مائی ھدھد۔۔۔بکازآئی ایم کمنگ بیک (تیار رہو میری ھدھد کیونکہ میں واپس آرہا ہوں)‘‘ صوفہ سے پشت ٹکائے آنکھیں موندے اب وہ سیٹی کی آواز میں گنگنانے لگا۔
اسکے ہونٹوں کی جاندار مسکراہٹ تو کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کیا ہو رہا ہے بھئی؟‘‘ موسی ایک دم سے ندا کے کمرے میں آئے اسکے بیڈ پر دھپ سے بیٹھ گیا
’’کچھ نہیں بس پرانی یادیں‘‘ وہ نم آواز میں بولتے دوبارہ سے اس تصویر کو دیکھنے لگی، جس میں وہ سب تھے
اسکی نظروں کے تعاقب میں موسی نے دیکھا تھا تو دل تو اسکا بھی دکھا سب تو تھے اس میں، مام۔۔۔ ڈیڈ۔۔۔ ندا۔۔۔ماہم ۔۔۔۔ وہ خود۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ’’وہ‘‘ بھی
’’بھائی کچھ پتا چلا؟‘‘ ندا نے اچانک اس سے سوال کیا
’’کس حوالے سے؟‘‘ وہ حیران ہوا
’’ماہم آپی کا گنہگار بھائی کون ہے وہ؟‘‘ ندا کے سوال پر موسی تو حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا
’’مجھے ایسے مت دیکھے بھائی مجھے پتا ہے کے آپ اپنی سٹڈیز کے بعد دوستوں کے ساتھ آؤٹنگ پر نہیں، بلکہ دبئی گئے تھے، اس شخص کے بارے میں پتا کروانے جس کی وجہ سے آج ہماری بہن ہمارے درمیان نہیں، اور ازی بھی۔۔۔۔۔‘‘ ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتے وہ بولی
’’ندا !!! تمہیں یہ سب؟۔۔۔۔۔۔میرا مطلب کیسے؟‘‘ موسی حیران ہوا
’’وہ۔۔۔۔وہ میں نے آپ کی باتیں سن لی تھی‘‘ سر جھکائے اس نے گویا اقرار جرم کیا
موسی تو سرد سانس خارج کر کے رہ گیا
’’بتائے نا بھیا کون ہے وہ؟‘‘ وہ تو منتوں پراتر آئی۔
’’عمیر یاسین!!!‘‘ فقط ایک نام اور موسی کی آنکھیں لہو لہان ہوگئی، اسکا چہرہ چٹانوں جیسا سنجیدہ ہو گیا، جبکہ ندا تو یہ نام سن کر کسی اور ہی دنیا میں گم تھی
’’ہے کیا ہوا؟‘‘ موسی نے اس کو ہلا کر پوچھا
’’ہاں۔۔۔نن۔۔۔نہیں۔۔۔۔کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں‘‘ وہ ہکلاتے لہجے میں بولی جبکہ موسی کو شک ہوا مگر زور نا دیا
’’تم فکر مت کروں ماہم کے گنہگار کو بہت جلد سزا ملے گی اور تمہارا ازی بھی بہت جلد واپس آجائے گا‘‘ ندا کو اپنے ساتھ لگائے وہ جذب سے بولا، جس پر ندا نے دل میں آمین کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’بس بس روک دوں آگیا میرا گھر‘‘ اسکا گھر آتے ہی مائز جوش سے چلاتے بولا، چہرے پر بچوں جیسی خوشی تھی۔ اب کی بار فریحہ مسکرا ہی دی۔
’’ارے تم کہا چلی؟‘‘ اسے جاتے دیکھ کر مائز نے پوچھا
’’اپنے گھر‘‘ فریحہ نے مسکرا کر جواب دیا
’’تو مجھے اندر کون چھوڑے گا۔۔۔ پین ہے بہت‘‘ آنسو پھر سے گرنے کو بےتاب
’’ارے نہیں نہیں رونا نہیں میں لیکر چلتی ہوں نا‘‘ باقاعدہ ہاتھ جوڑے وہ بولی
’’ہمم ٹھیک ہے‘‘ ناک چڑھائے وہ بولا۔
’’اللہ یہ کیا ہوا؟ آپی، بجیا، آپو، ادی، دی‘‘ وہ جو مائز کو لاؤنج میں لیے داخل ہوئی تھی، چیخ کی آواز پر بھوکلا کر رہ گئی
اس سے پہلے کے وہ حالات سمجھ پاتی چھ لڑکیاں اسکی طرف دوڑی چلی آئی یا یہ کہنا بہتر ہوگا کہ مائز کی طرف
’’اللہ میرا بچا‘‘ ان میں سے جو ایک بڑی عمر کی تھی وہ مائز کو لیے فورا صوفہ کی طرف بڑھی، مائز تو انکی گود میں سر رکھے ایک بار دوبارہ رونے میں مصروف ہوگیا، جبکہ فریحہ نے اب جانا بہتر سمجھا جب پیچھے سے اسے دبوچ لیا گیا
’’اے رکو۔۔۔۔۔کون ہوں تم؟‘‘ آواز پر اسنے پیچھے مڑ کر دیکھا تو پانچ ہاتھ کیچن کے آلات پکڑے اسے گھورنے میں مگن تھیں
’’وہ میں فریحہ‘‘ وہ تھوک نگلتے بولی
’’کون فریحہ؟‘‘ ان میں سے نیلی آنکھوں والی نے پوچھا
’’وہ میں اور مائز ایک ہی یونی میں ہے اور میں آپ کے پڑوس میں نئی شفٹ ہوئی ہوں‘‘ اسکی بات پر وہ جو پرسکون ہوئی تھی مائز کی اگلی بات پر اسے خونخوار نظروں سے گھرنے لگی، اور فریحہ کا تو بس نا چلا کے مائز کو اڑا دے
’’نیلو آپی اسنے اپنی بائیک مجھے مالی۔۔۔اتنی پین ہوئی مجھے‘‘ وہ روتے ہوئے بتانے لگا
’’تم۔۔۔تمہاری اتنی ہمت‘‘ وہ اس پرجھپٹنے کو تیار تھی مگر مائز کی اگلی بات نے فریحہ کو قیمہ بننے سے بچا لیا
’’اس نے مجھے گندے ڈاکٹر انکل سے بھی بچایا‘‘ اب کی بار وہ اپنی سب سے بڑی بہن کو بتاتے بولے، جس پر انہوں نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا
’’نیلو۔۔۔۔ لالی جلدی جاؤ بچی کے لیے پانی وانی لاؤ دیکھو کتنی تھکی لگ رہی ہے، اور فریحہ تم یہاں آؤ بیٹھ جاؤ‘‘ فریحہ تو انکی بات پر سکون کا سانس لیے، تشکر بھری نگاہوں سے دیکھتی مائز کے سامنے والے صوفہ پر بیٹھ گئی۔
’’اب بتاؤ مجھے کیا ہوا تھا؟‘‘ مائز کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے انہوں نے فریحہ سے پوچھا
فریحہ کو تو بھڑاس نکالنے کا موقعہ مل گیا الف تا ے ساری بات سنا ڈالی، جس پر وہ محض مسکرا دی
’’ہمم تو اسکا مطلب خوب تنگ کیا آپ نے اپنی نئی فرینڈ کو‘‘ اب وہ مائز سے پوچھنے لگی
’’نو۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا ماپی‘‘ وہ بچوں جیسا منہ بنائے بولا
’’ماپی بھوک لگی‘‘ فریحہ تو اسکی اس بات پر مرنے کو تھی کیونکہ وہ تھوڑی دیر پہلے ہی فرائز کی دو پلیٹیں ٹھوس کر آیا تھا۔
’’آ میرا بچا ایک منٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ پنکی، پنکی جلدی آؤ‘‘ انہوں نے اونچی آواز لگائی
’’جی بجو؟‘‘
’’جاؤ بہنوں سے کہو کھانا لگادے میرا بچا بھوکا ہے‘‘ انہوں نے حکم دیا جس پر وہ تعبداری سے سر ہلاتی دوبارہ کچن میں گھس گئی
’’مائز آجاؤ کھانا کھا لو نیلو نے تمہارے لیے فیوریٹ چاکلیٹ کیک بھی بنایا ہے‘‘ فریحہ کو پانی دیتی نیلو مائز کو لاڈ سے بولی، جس پر صوفہ سے اچھلتے ڈائینگ کی طرف بڑھا
فریحہ تو اسکی بہنوں کے اسکے لاڈ اٹھاتے دیکھ حیران رہ گئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ایک بات پوچھو آپ سے اگر آپ مائنڈ نا کرے‘‘ فریحہ نے ایک نظر مائز کو دیکھ کر اسکی بڑی بہن کو مخاطب کیا
’’ہاں ضرور‘‘ مائز کو محبت سے دیکھتے انہوں نے فریحہ کو اجازت دی
’’مائز ایسا کیوں ہے؟ میرا مطلب بےبی ٹائپ‘‘ وہ سیدھے سیدھے الفاظ میں ابنارمل نا کہہ سکی
’’ہمارے ماما بابا کی پسند کی شادی تھی، اللہ نے انہیں ہر چیز سے نوازہ، دولت شہرت، حسن، خوبصورتی، مگر صرف ایک خامی کہ اس خاندان کو ماما وارث نا دے پائی، وارث کی چاہ میں چھ بیٹیاں ہوگئی، اب تو ماما بابا نے امید چھوڑ دی تھی، میں اٹھارہ سال کی تھی جب مائز امید کی نئی کرن بن کرہماری زندگی میں آیا، میری شادی میرے بابا نے اپنے دوست کے بیٹے سے کروا دی مگر وہ شخص تو آستین کا سانپ نکلا، آدھی جائیداد اپنے نام کروا کر رات کے اندھیرے میں مجھے میرے بچے سے دور کیے گھر سے نکال دیا، بابا کو دل کا دورا پڑا تھا، اور کوئی اتنا بڑا نا تھا تو ایسے میں میں نے بابا کا بچا کچا بزنس سنبھالا۔ مائز بچپن سے ہی ماما کا لاڈلا تھا، بابا تو اپنی طبیعت ناسازی کے باعث اسے زیادہ وقت نا دے پاتے، ایسے میں ہی ایک دن مائز ماما کے ساتھ سکول سے آرہا تھا، جب کچھ لوگوں نے بیچ راستے میں گاڑی روک کر ماما اور ڈرائیور کا وجود گولیوں سے چھلنی کردیا اور مائز کو اغوا کرلیا گیا، وہ وقت کسی قیامت سے کم نا تھا ہمارے لیے، پتا کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ میرے سابقہ شوہر ہی نے کروایا تھا، کیونکہ وہ جوے کی لت میں پڑ کر ہمارا آدھا بزنس ڈبو چکا تھا اسی لیے اسے اب باقی آدھے پر قبضہ کرنا تھا، مگر اس بار قسمت ہمارے ساتھ تھی اور ہم نے آخر کار ایک ہفتے بعد مائز کو رہا کروا لیا‘‘ وہ سکون لینے کو رکی
’’اور آپکی اولاد؟‘‘ فریحہ نے ہچکچا کر دوبارہ سوال کیا
’’وہ وہی ہے جہاں سب کو جانا ہے، میرے سابقہ شوہر نے ایک دن غصے میں آکر میرے آٹھ ماہ کے بچے کا گلہ دبا دیا کیونکہ اسے اسکا رونا برداشت نا ہوا‘‘ فریحہ تو پھٹی آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی
’’آپ نے کیسے سہہ لیا؟ کبھی دوسری شادی کا نہیں سوچا‘‘
’’بس میں نے تب سے مائز کو اپنی اولاد سمجھا اور اسے پالنا شروع کردیا۔۔۔۔ وہ مجھے ماپی اسی لیے کہتا ہے ۔۔۔۔ ماما کا ’’ما‘‘ اور آپی کا ’’پی‘‘۔۔۔ مائز میرا بچا ہے، مگر جب ہم نے اسے اس جلاد سے رہا کروایا تو یہ بہت ڈر گیا تھا، اب اسے مار پیٹ، لڑائی جھگڑے ہر چیز سے ڈر لگتا ہے، اور جہاں تک سوال ہے دوسری شادی کا تو ایک تجربہ کافی تھا میرے لیے‘‘
’’اسی لیے جب بھی کبھی چوٹ لگے تو بچوں جیسا بی ہیو کرتا ہے‘‘ وہ دوبارہ سے مائز کو دیکھنے لگی جو اب ٹوائے کار سے کھیلتے ناجانے اپنی بہنوں کو کیا کہانیاں سنا رہا تھا، اور فریحہ کو اب سمجھ میں آیا کہ اسنے کیوں اسے ان لڑکوں کو مارنے پیٹنے سے روکا تھا
’’اچھا بجو مجھے اجازت اب میں چلتی ہوں‘‘ وہ صوفہ سے اٹھتے بولی
’’ارے ایسے کیسے، اور میری عقل دیکھو تمہیں کھانے کا ہی نہیں پوچھا‘‘ انہیں افسوس ہوا
’’ارے نہیں اسکی ضرورت نہیں مجھےاجازت دے‘‘
’’آر یو شیور؟‘‘
’’جی جی بلکل‘‘
’’اچھا چلو جیسی تمہاری مرضی۔۔۔۔ خدا حافظ‘‘ اٹھ کر اسکے گلے لگتے وہ بولی
’’خدا حافظ‘‘
’’رکو!!!‘‘ اسکے بڑھتے قدم نیلو کی آواز پر رکے
’’جی؟‘‘
’’شکریہ۔۔۔۔مائز کو سہی سلامت گھر لانے کے لیے‘‘ اسے کہتے ہی نیلو وہاں سے چل دی جبکہ فریحہ مسکرا دی وہ بلکل اسکے بھائی جیسی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی فلائیٹ لینڈ کرچکی تھی، اسنے آہل کے ساتھ ڈاکٹرز کی ٹیم کو روانہ کردیا تھا، اور اب اسکا ارادہ سروج کے فلیٹ جانے کا تھا۔
اسکی گاڑی سروج کے فلیٹ آکر رکی تھی ، پورے راستے اسکا دماغ ھدی کو سوچتے سوچتے پھٹا جارہا تھا۔
تیزی سے گاڑی سے نکلے، لفٹ کے ذریعےوہ سروج کے فلیٹ پہنچا، یہ اسکی خوش قسمتی تھی کہ دروازہ لاک نا تھا مگر اسے ان دونوں کی لاپرواہی پر غصہ آنے لگا
’’سروج۔۔۔۔۔۔۔ سروج کہا ہوں تم؟ باہر آؤ سروج‘‘ وہ اندر داخل ہوتے ہی اونچی آواز میں چلایا
لاؤنج سے آتے شور پر سروج ابراہیم کو کمرے میں چھوڑ کر باہر آئی جہاں سر تا پیر غصے میں ڈوبا زرار اسے ہی گھور رہا تھا۔
’’زرار تم اس وقت یہاں؟‘‘ وہ تو اسے دیکھ کر حیران رہ گئی
’’ھدی کہاں ہے؟‘‘ چبا چبا کر اسنے لفظ ادا کیے
’’ہوا کیا ہے؟‘‘ وہ تو اسکی اس حالت پر حیران رہ گئی، پہلے مہینہ یونی سے غائب رہنا اور اب اچانک آدھمکنا
’’میں نے پوچھا ہے ھدی کہا ہے؟‘‘ اب کی بار وہ چلایا
’’کیا ہوگیا ہے گروسری کرنے گئی ہے‘‘ سروج نے حیرت سے جواب دیا
’’کس کے ساتھ؟‘‘
اگر وہ اس ابراہیم کا نام لیتی تو زرار کے ہاتھوں واقعی قتل ہوجاتی
’’اکیلی‘‘ سروج نے جواب دیا
’’یہ ابراہیم کون ہے؟‘‘ آخر کار سوال زبان پر آہی گیا
’’کون؟‘‘ سروج کو لگا اسے سننے میں غلطی ہوئی ہے
’’میں نے پوچھا کہ یہ ابراہیم کون ہے جس کے ساتھ ہوتے ہوئے ھدی کو ساری دنیا بھول جاتی ہے، کون ہے وہ شخص۔۔۔۔۔ اور میں قسم کھاتا ہوں سروج اگر اس میں تمہارا ہاتھ ہوا نا تو میں بھول جاؤ گا ہماری دوستی، مجھے ھدی سے کوئی جدا نہیں کرسکتا تم بھی نہیں، اور اس ابراہیم کو تو میں چھوڑو گا نہیں جان سے مار دوں گا‘‘ سروج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ بولا
’’ایک منٹ صبر کرنا زرا یہاں‘‘ اسکی اتنی لمبی تقریر پر وہ یہی بول سکی اور کمرے کی طرف چل دی
’’سروج تم اس طرح میری بات اگنور نہیں کرسکتی‘‘ زرار پھر سے چیخا ، اتنے میں سروج ننھے سے گول مٹول سے بچے کو اٹھائے باہر لے آئی
’’زرار اس سے ملو میرا اور عمیرا کا بیٹا‘‘ وہ ابراہیم کو اسکے سامنے کیے بولی
’’یہ۔۔۔۔ تمہارا بیٹا؟‘‘ زرار تو حیران رہ گیا
’’ہاں میرا بیٹا‘‘ ممتا سے بھرپور لہجے میں وہ بولی
’’کیا نام ہے اسکا؟‘‘ زرار نے اشتیاق سے ابراہیم کو اپنی باہوں میں لیے پوچھا
’’ابراہیم‘‘ اور زرار کو لگا کہ وقت تھم گیا ہے، اسنے آنکھیں بڑی کیے سروج کو دیکھا، جو اب دونوں بازو سینے پر باندھے اسے دیکھ رہی تھی
’’ابراہیم۔۔۔۔۔ھدی کا ابراہیم جس کی تمہیں جان لینی تھی‘‘ زرار کا دل چاہا کے زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے، اسے ایسے ہی ابراہیم کو دوبارہ سروج کو پکڑا دیا
’’وہ۔۔۔میں۔۔۔دراصل۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔ ہوا۔۔۔یوں‘‘ اٹک اٹک کے بولتا وہ تیزی سے فلیٹ سے باہر نکل گیا
’’ارے چائے تو پیتے جاؤ‘‘ سروج کا تو نا رکنے والے قہقہوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *