Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34

موسی کو ہسپتال لیجاتے ہی آئی۔سی۔یو میں لیجایا گیا تھا۔۔۔۔۔ اسکی حالت بہت بری تھی۔۔۔۔۔۔ مائز کی پوری شرٹ خون سے داغدار ہوگئی تھی۔۔۔۔۔ ایسے میں اسنے سب سے پہلے موسی کے ماں باپ کو کال کرکے بلوایا تھا
موسی کے گھر والوں پر تو مانوں قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔۔۔۔۔۔ یہ سیدھا سیدھا پولیس کیس تھا مگر علی زماد نے اپنے سورسز کا استعمال کرکے ایسا کچھ بھی نہیں ہونے دیا تھا
مائز نے سب کو یہی بتایا تھا کہ کچھ گنڈوں سے موسی کی ہاتھا پائی ہوگئی تھی۔۔۔۔ مگر اسکا نظریں چرانا علی زماد سے مخفی نا رہا ۔۔۔۔۔ انہیں سو فیصد یقین تھا کہ اصل بات کچھ اور ہے، مگر وہ خاموش رہے
’’ڈاکٹر میرا بیٹا؟‘‘ علی زماد نے ڈاکٹر سے پوچھا
’’دیکھے پیشنٹ کی حالت خاصی کریٹیکل ہے۔۔۔۔ خون کی بھی بہت کمی ہے۔۔۔۔۔۔ آپ پلیز جلدی سے او نیگٹیو بلڈ کا انتظام کرے‘‘ ڈاکٹر کی بات پر علی زماد کرسی پر ڈھہ گئے جبکہ مسز علی کو مائز نے سنبھالا ہوا تھا۔۔۔۔۔ ندا کا بھی رو رو کر برا حال تھا
’’خون خون کا انتظام کرنا ہے‘‘ یہ سوچتے ہی علی صاحب اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے۔۔۔۔ ان میں سے کسی کا بھی بلڈ گروپ موسی سے میچ نہیں کررہا تھا
اتنی محنت کے باوجود بھی وہ موسی کے لیے خون ارینج نہیں کرپائے تھے
’’آپ لوگوں نے خون ارینج کرلیا؟‘‘ ڈاکٹر نے ایک بار دوبارہ آکر پوچھا۔۔۔ جس پر علی صاحب کا سر نفی میں ہلا
’’دیکھیے خون کا انتظام کرے بہت ضروری ہے پیشنٹ کی حالت بگڑ رہی ہے‘‘ ڈاکٹر انہیں سمجھانے لگا
’’یااللہ‘‘ مسز علی سیٹ پر بیٹھ گئی
’’اب کیا ہوگا۔۔۔۔۔ کہاں سے کرے گے خون کا بندوبست‘‘ آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے
’’میں دوں گا خون‘‘تیسری آواز پر سب نے مڑکردیکھا تو زرار کو پاکر حیرت کا جھٹکا لگا جو آرام سے ببل چبانے میں مصروف تھا
’’میرا بلڈ گروپ او نیگیٹیو ہے میں دوں گا خون‘‘ زرار ان سب کو اگنور کیے ڈاکٹر کے سامنے آکر بولا
علی زماد کو اب یاد آیا کہ زرار اور موسی کا بلڈ گروپ سیم ہے۔۔۔۔۔۔ انہوں نے محبت سے اپنے بھتیجے کو دیکھا جو انہیں اگنور کرتا ڈاکٹر کے ساتھ چل دیا
زرار کے جسم سے نکالا گیا خون اب موسی کے جسم میں منتقل کیا جارہا تھا
مائز تو حیران پریشان سا ساری سچویشن سمجھنے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ وہی زرار تھا جس نے موسی کو مار ڈالنے میں کوئی کسر نا چھوڑی تھی اور اب وہی زرار اسے بچانے آیا تھا
زرار کیا کررہا تھا یا کرنے کی کوشش میں تھا مائز کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی
’’زرار میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس سے پہلے کہ علی صاحب کچھ بول پاتے زرار نے ہاتھ کہ اشارے سے انہیں بولنے سے روک دیا اور وارننگ زدہ لہجے میں انگلی کو نفی میں ہلاتا وہاں سے چل دیا
ڈاکٹرز ک مطابق انہیں دوبارہ بھی زرار کے بلڈ کی ضرورت ہوسکتی تھی اسی لیے وہ اپنا نمبر دیے وہاں سے چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونی سے آکر ھدی کمرے میں بند ہوگئی تھی اسے زرار سے سہی معنوں میں خوف آرہا تھا
’’ھدی۔۔۔ ھدی۔۔۔۔۔ چندا دروازہ کھولو۔۔ کھانے کا وقت ہوگیا ہے‘‘ سروج دروازہ ناک کرتے بولی
’’آئی بھابھی‘‘ ھدی جلدی سے بولتی واشروم میں جاگھسی اور اچھے سے منہ دھونے کے بعد کھانے کی ٹیبل پر آگئی
وہ دونوں ابھی کھانا کھا کر ہٹی تھی کہ دوڑبیل بجی
سروج نے دروازہ کھولا تو سامنے زرار تھا۔۔۔۔۔ سروج کو وہ کچھ ٹھیک نا لگا
’’زرار؟‘‘ سروج کے بولنے پر ھدی نے کانپنا شروع کردیا۔۔۔۔ اسنے زرار کو دیکھا جسکی آنکھیں لال اور رنگ پیلا ہورہا تھا
’’زرار تم ٹھیک تو ہوں نا؟‘‘ سروج کے پوچھنے پر اسنے سر نفی میں ہلایا اور آکر صوفہ پر بیٹھ گیا
ھدی نے بھی اسے دیکھا جو بیمار لگ رہا تھا
’’زرار کیا ہوا ہے بتاؤ تو سہی‘‘ سروج کو فکر ہونے لگی۔۔۔۔فکر تو ھدی کو بھی ہورہی تھی
اس سے پہلے کے سروج کو وہ کچھ بتاتا۔۔۔۔ سروج کو عمارہ کی کال آئی جس نے اسے موسی کی حالت اور پھر زرار کا اسے خون دینے کے بارے میں بتایا
’’افف یہ پاگل شخص۔۔۔۔۔۔۔۔ خود کو پتہ نہیں ہیرو سمجھتا ہے۔۔۔۔۔۔ بیٹھو یہاں جوس اور کھانا لاتی ہوں تمہارے لیے‘‘ سروج اس سے بولی
’’کیا ہوا بھابھی؟‘‘ ھدی نے دھیمی آواز میں پوچھا
’’کچھ نہیں۔۔۔ موسی کافی کرٹیکل کنڈیشن میں ہوسپٹلائز ہوا تھا اور زرار نے اسے بلڈ ڈونیٹ کیا تھا۔۔۔۔ اور پھر صاحبزادے خون کی تین تین بوتلیں دینے کے باوجود بھی ڈرائیونگ کرکے یہاں تک آئے ہے۔۔۔۔۔ میں اس کے لیے جوس لاتی ہوں تم رکو اس کے پاس‘‘ سروج کی بات پر زرار نے بند ہوتی آنکھوں سے ھدی کو دیکھا جسکے چہرے کا رنگ ایکدم پیلا ہوگیا تھا
’’مگر بھابھی۔۔۔۔۔‘‘
’’ھدھد یہی رک جاؤ۔۔۔ آئی نیڈ یو۔۔۔۔ پلیز تم مت چھوڑو‘‘ بند ہوتی آنکھوں سے زرار نے منت کی تو ھدی نے حیرانگی سے اسے دیکھا
’’کیا ہوں تم زرار۔۔۔۔ کیا سمجھوں میں تمہیں۔۔۔۔۔۔ کبھی کبھی اتنے اپنے لگتے ہوں اور کبھی کبھی بلکل پرائے۔۔۔۔۔۔۔ بعض اوقات دل چاہتا ہے تم سے ہر بات کرنے کو اور کبھی کبھی ڈر لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر ہوکیا تم۔۔۔۔۔۔۔ پہلے مارتے ہوں پھر بچاتے ہوں۔۔۔۔ مجھے ڈر لگتا ہے تم سے زرار بہت زیادہ‘‘ ھدی سرگوشی نما آواز میں بولتے اسکے پاس بیٹھ گئی
سروج نے زرار کو اچھا کھانا کھلایا تھا اور ساتھ ہی ساتھ ڈاکٹر کو بلوا کر بھی چیک اپ کروا لیا تھا
زرار اور سروج کو عمارہ کے ذریعے پتا چل چکا تھا کہ موسی اب خطرے سے باہر ہے
جب تک زرار سروج کے فلیٹ میں رہا ھدی اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی۔۔۔۔۔ زرار کو بےچینی سی ہونے لگی تھی، اسے نجانے کیوں مگر ھدی کی شکوہ کرتی نظروں سے ڈر لگ رہا تھا
مگر شکوہ کس چیز کا کس بات کا۔۔۔۔۔۔ وہ سمجھ نہیں پارہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسی کو ہوش آچکا تھا اور اسنے بھی وہی کہانی سنائی تھی جو مائز نے سب کو سنائی تھی۔۔۔۔۔۔۔ موسی کو باتوں باتوں میں پتہ چلا تھا کہ اسکی زندگی بچانے والا کوئی اور نہیں بلکہ زرار ہی تھا۔۔۔۔۔ موسی کو یہ بات جان کے بےحد، بےانتہا خوشی ہوئی تھی۔۔۔۔ اسے اس بات کا غم نا تھا کہ زرار نے اسے مرنے دیا۔۔۔۔۔ نہیں اگر اسے موسی کو مارنا ہوتا تو وہ کبھی بھی اسے زندہ نا چھوڑتا اور نا ہی مائز کو وہاں بلواتا
مگر ایک چیز جو موسی نے جانی تھی وہ تھا زرار کا ھدی کو لیکر جنون، پاگل پن۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس کے لیے کتنی خاص تھی زرار بہت اچھے سے موسی کو بتا چکا تھا
موسی خطرے سے تو باہر تھا مگر حالت ابھی بھی سٹیبل نہیں تھی
یونی کے تمام سٹودنٹس جوکہ موسی کے جاننے والے تھے وہ وقتا فوقتا اسکا حال احوال پوچھنے آرہے تھے۔۔۔۔۔۔۔
مگر موسی کو جس کی تلاش تھی وہ نظروں سے اوجھل۔۔۔۔۔۔۔
’’کیا ہوا کسی کی تلاش میں ہے؟‘‘ مائز نے اس سے پوچھا جو دروازے کو دیکھے جارہا تھا
’’ہاں‘‘ موسی نے جواب دیا
’’کون سروج؟‘‘ مائز ہنس کربولا تو موسی بھی ہنس دیا
’’نہیں وہ نہیں۔۔۔۔۔ وہ تو آئے گی معلوم ہے مجھے مگر تلاش کسی اور کی ہے‘‘ موسی نے مائز کو جواب دیا
’’سروج نہیں تو پھر کون؟‘‘ مائز نے حیرانگی سے پوچھا
’’زرار‘‘ موسی نے پرسکون سے لہجے میں جواب دیا
’’موسی تیرا دماغ تو نہیں خراب وہ نہیں آئے گا‘‘ مائز لمبی سانس خارج کرتے بولا
’’وہ آئے گا ضرور آئے گا‘‘موسی اتنی امید سے بولا کہ مائز چپ رہ گیا
’’اچھا میں گھر جارہا ہوں تھوڑی دیر کے لیے فریش ہوکر آتا ہوں‘‘ مائز موسی نے بولا
موسی کے والدین اور بہن کو وہ گھربھیج چکا تھا
’’ہوں‘‘ موسی نے فقط سر ہلایا
مائز جاچکا تھا
’’آنا تو تمہیں پڑے گا ہی دئیڑ بردر‘‘ یہ کہتے ہی موسی نے اپنے زخموں کی پٹی اتارنا شروع کردی اور ہاتھ سے ڈرپ کی سرنج نکال دی
اسنے اپنے زخم یوں کریدے کے آدھے گھنٹے تک اسکا بستر لہولہان ہوگیا تھا
اتنے میں راؤنڈ پر آئی نرس نے یہ دیکھا تو فورا ڈاکٹر کے پاس بھاگی
موسی کی حالت کے پیش نظر زرار کو دوبارہ بلڈ دینے کے لیے بلوایا گیا جس پر وہ آرام سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج کو موسی کے بارے میں سن کر افسوس ہوا تھا مگر ابھی تک وہ اس سے ملنے نا جاپائی تھی۔۔۔۔۔
جو بھی تھا موسی اسکا پروجیکٹ پارٹنر اور اسکے بہت اچھے انکل کا بیٹا تھا۔۔۔۔ اسی لیے اسنے موسی کی عیادت کا سوچا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسی اور زرار کو ایک ہی روم میں رکھا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ زرار کی باڈی سے خون ڈائریکٹ موسی کے جسم میں منتقل ہورہا تھا
تھوڑی دیر بعد موسی کو ہوش آیا تو اسنے آس پاس نظریں دوڑائی جب نظر سامنے ساتھ ہی بیڈ پر لیٹے زرار پر گئی تو وہ کھل کر مسکرایا
’’کیسے ہوں؟‘‘ موسی نے بڑے لگاؤ سے پوچھا۔۔۔۔۔۔ مگر جواب خاموشی
’’چلو مجھ سے ہی پوچھ لو کہ میں کیسا ہوں‘‘ موسی پھر سے بولا مگر پھر سے خاموشی
’’یااللہ کچھ تو بول لو بےشک گالیاں ہی نکال لوں‘‘ موسی اسے بولنے پر اکسا رہا تھا مگر وہ زرار ہی کیا جو کسی کی باتوں میں آجائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج موسی کے کمرے کے باہر کھڑی تھی اس میں اندر جانے کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔۔۔۔۔ پہلے تو واپس جانے کا سوچا مگر پھر ہمت جٹائی اور اندر جانے کا فیصلہ کرلیا
سروج تھوڑا سا ہچکچائی مگر پھر اندر چلی گئی
’’زرار؟‘‘ سروج نے اسے حیرانگی سے دیکھا مگر پھر سمجھ گئی اسکے یہاں آنے کی وجہ
موسی کی نظریں سروج پر تھی جو ملنے تو پکا اسے آئی تھی مگر اب مل زرار کو رہی تھی
وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
موسی کمرے کا جائزہ لیتے مزے سے بولا۔۔۔۔۔۔ جس پر سروج کو شرمندگی نے آن گھیرا۔۔۔۔۔۔۔ وہ آخر کو ملنے تو موسی سے ہی آئی تھی
’’بیٹھو‘‘ اسے یونہی کھڑا دیکھ کر اسنے پیشکش کی اور وہ بھی اسکی بات مانتے ہوئے بیڈ کے پاس پڑے سٹول پر بیٹھ گئی
’’تمہیں کچھ کہنا ہے؟‘‘ اسکی طرف دیکھتے مسکراہٹ ضبط کیے وہ بولا جو کہ اب انگلیاں چٹکھانے میں مصروف تھی
’’ہاں وہ کیسے ہوں؟‘‘ آخر کار اسنے ہمت کرتے اس سے سوال کرہی لیا
’’تم نے حال پوچھ لیا ہے بس اب جلد ٹھیک ہوجاؤ گا‘‘ شوخ لہجے میں بولا جبکہ سروج تو اسکے انداز پر کڑھ کر رہ گئی
’’بستر مرگ پر آگیا، مگر شرم نا آئی‘‘ جلتی کڑھتی وہ اسے دیکھ کر بولی، جس کے سر،دایئں بازو اور ٹانگ پر چوٹ آئی تھی، اور بایئں ہاتھ پر لگی ڈرپ جو کہ اسے خون پہنچا رہی تھی۔
سروج کی نظر اس کے ہاتھ پر سے ہوتی اس کے ساتھ والے بیڈ پر لیٹے زرار پر گئی جس کے ہاتھ پر بھی ڈرپ لگی تھی، جو زرار کے جسم سے خون لیکر موسی کے جسم میں پہنچا رہی تھی اسنے زرار کی نظروں کے تعاقب میں دیکھتےبند دروازے کو دیکھا اور حیرانگی سے پھر سے زرار کو دیکھا، وہ سمجھ نہیں رہی تھی کہ آخر بند دروازے پر ایسا کیا تھا۔
’’تم مجھسے ملنے آئی تھی نا تو میری طرف دیکھو وہاں کونسا تمہارا مینا بازار لگا ہوا ہے‘‘ اسے یوں زرار کو تکتے دیکھ کر موسی سنجیدہ لہجے میں بولا جبکہ زرار کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آکرچلی گئی
’’میں۔۔میں اب چلتی ہوں‘‘ بیگ کندھے پر سیدھا کیے وہ بنا کچھ اور کہے باہر چلدی
’’خدا حافظ، دھیان سے جانا‘‘نجانے کیسے موسی کے منہ سے یہ الفاظ ادا ہوئے کہ وہ خود بھی حیران رہ گیا، جھٹکہ تو سروج کو بھی لگا تھا جو راستے میں ہی رک گئی اور پھر بنا کچھ کہے تیزی سے باہر کو لپکی۔
اسکےجانے کے بعد موسی نے ایک نظر ساتھ والے بیڈ پر لیٹے زرار کو دیکھا تو اسکے ماتھے پر بل نمودار ہوگئے۔
’’تم کیوں مسکراہ رہے ہوں‘‘ ایک آبرو اچکائے اسنے زرار کودیکھا، جسکا چہرہ بلکل سپاٹ تھا، وہ نہیں مسکرا رہا تھا کوئی اور دیکھتا تو یہی کہتا مگر سامنے والا کوئی اور نہیں موسی علی زماد تھا اور وہ جانتا تھا کہ زرار مسکرا رہا ہے اسکی آنکھوں میں وہ مسکراہٹ دیکھ چکا تھا۔
’’کچھ جل رہا ہے؟‘‘ زرار نے جواب دیا
’’کیا جل رہا ہے؟‘‘ موسی نے دوبدو سوال کیا
’’تمہارا دل، جلن ہوئی نا جب سروج نے تمہیں کوئی امپورٹینس نہیں دی‘‘ زرار کا تیراس قدر نشانے پر تھا کہ موسی کا دل چاہا کہ وہ اسکا وہی حشر کردے جس حال میں وہ اس وقت خود تھا، مگر موسی کو اس بستر پر پہنچانے والا بھی تو زرار ہی تھا۔
موسی جو راز زرار سے چھپانا چاہتا تھا وہ تھا اپنی دلی کیفیت سروج کو لیکر مگر زرار اسکا راز اتنی آسانی سے پالے گا وہ کڑھ کر رہ گیا تھا۔
ایک بات تو اب کنفرم تھی کہ زرار کچھ بھی ہوجائے سروج کو موسی کی کبھی نہیں ہونے دے گا۔۔۔۔۔۔۔ مگر موسی نے بھی فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ سروج کو پاکر رہے گا
ہر کسی کا اسے سروج سے دور کرنا۔۔۔۔۔۔ سروج اب موسی کے لیے ایک ضد بن چکی تھی جسے وہ کسی بھی صورت پوری کرنا چاہتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج جو باہر کو جارہی تھی اچانک سے ایک طرف سے کچھ آوازیں سن کر مڑی اسنے وہاں عمارہ اور مائز کو پایا جو کسی بات پر بحث کررہے تھے
’’کیا تم واقعی سچ بول رہے ہوں؟‘‘ عمارہ حیرت زدہ لہجے میں بولی
’’تو کیا تمہیں اس وقت مذاق کے موڈ میں لگ رہا ہوں میں؟‘‘ مائز نے اس سے سوال کیا
’’اسکا مطلب موسی کا یہ حال کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ باذات خود زرار ہے‘‘ عمارہ کو تو یقین ہی نا ہوا
’’جی ہاں‘‘ مائز نے اثبات میں سر ہلایا
بہت کچھ تھا جو سروج کو جاننا تھا اسی لیے وہ اب ان دونوں کے سامنے جاکھڑی ہوئی
’’سروج؟‘‘ عمارہ بولی
’’مجھے جاننا ہے سب کچھ وہ بھی سچ‘‘ انہیں بولنے کا موقع دیے بنا سروج سخت لہجے میں بولی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *