Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31

’’ماپی سنے نا مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے‘‘ مائز زہرا سے بولا
’’جی میری جان بولو‘‘ اسے کھانا کھلاتے انہوں نے پوچھا
’’ماپی میری نا ایک فرینڈ ہے اور اس وقت وہ پرابلم میں ہے تو مجھے اس کی ہیلپ کرنی ہے‘‘
’’یہ تو بہت اچھی بات ہے‘‘
’’ہاں مگر اسکی مدد کرنے کے لیے مجھے آپ کی مدد چاہیے‘‘
’’میری مدد؟؟ مگر میں کیا کرسکتی ہوں؟‘‘
’’بتاتا ہوں نا‘‘
اور پھر مائز نے الف تا یے ساری بات زہرا کو بتادی کو اب افسوس بھری نظروں سے مائز کو دیکھ رہی تھی
’’ماپی وہ بہت اچھی ہے۔۔۔۔ آپ پلیز اسکی ہیلپ کرے نا‘‘ مائز نے اصرار کیا
’’ماپی کیا سوچ رہی ہے؟‘‘ ان کا جواب نا پاکر مائز نے پوچھا
’’سوچ رہی ہوں کے بےچاری کے ساتھ کتنا برا ہوا ہے۔۔۔۔۔ ڈونٹ وری اگر وہ تمہاری فرینڈ ہے تو ضرور اچھی ہوگی اور ہم اسکی مدد ضرور کرے گے‘‘ زہرا کے ماننے پر مائز نے خوشی سے انہیں گلے لگایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ہمم برا تو بہت ہوا اسکے ساتھ مگر کیا واقعی میں اس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے؟‘‘ حسیب جو کافی پی رہا تھا فریحہ سے سروج کے بارے میں سن کر پوچھنے لگا
’’بھائی آپ بےشک زہرا آپا سے پوچھ لے وہ بھی مدد کررہی ہے‘‘ فریحہ نے زہرا کا نام لیا
’’ہمم اگر میم مدد کررہی ہے تو میں ضرور مدد کروں گا‘‘ حسیب نے ہامی بھر لی
’’او تھینکیو سو مچ بھائی‘‘ فریحہ خوشی سے چہکی اور سٹڈی سے باہر چلی گئی
’’بھائی یہ اسے کیا ہوا؟‘‘ عبداللہ جو ابھی ابھی سٹڈی میں داخل ہوا تھا فریحہ کو دیکھ کر پوچھنے لگا
’’اسے چھوڑو اپنا بتاؤ آجکل بہت چکر لگ رہے ہیں تمہارے پنجاب کالج کے‘‘ حسیب نے کڑی نگاہوں سے اس سے پوچھا جس پر وہ گڑبڑا گیا
’’نہیں بھائی ایسی بات تو نہیں‘‘ عبداللہ نے نفی میں سر ہلایا
’’تو پھر؟‘‘ حسیب نے پوچھا
’’ہالا وہی لڑکی ہے نا جس سے تم یونیورسٹی ٹائم سے پسند کرتے ہوں؟‘‘ حسیب نے عبداللہ سے پوچھا
’’بھائی وہ۔۔۔۔۔۔۔‘‘ عبداللہ ہچکچایا
’’ہاں یا ناں؟‘‘ حسیب پوچھا
’’ہاں‘‘ عبداللہ نے سر جھکا کر اقرار کیا
’’کیا وہ تمہیں پسند کرتی ہے؟‘‘ حسیب نے دوبارہ سوال کیا
’’وہ کرتی تھی‘‘ عبداللہ پل بھر میں سنجیدہ ہوا
’’تو اب کیوں نہیں؟‘‘ حسیب نے ایک اور سوال کیا
’’بھائی بعد میں بات کرے گے مجھے جانا ہے‘‘ وہ کہتا کمرے سے باہر چلا گیا
حسیب جانتا تھا کہ کوئی بہت بڑی بات ہے جو ان میں ہوئی ہے مگر فلحال اسنے انہیں چھیڑنا ضروری نا سمجھا
آنکھیں موندے اب وہ نیلم کے بارے میں سوچنے لگا ایک مسکراہٹ آگئی اسکے لبوں پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’بھابھی آپ آج جائے گی یونی؟‘‘ ھدی نے سوال کیا
’’نہیں میرا چندا ایگزامز آنے والے ہیں اب میں پیپرز دینے ہی جاؤ گی‘‘ سروج نے جواب دیا
’’اوکے بھابھی اللہ حافظ‘‘ ھدی کمرے سے باہر نکل کر جانے لگی جب سروج کی آواز پر رکی
’’ویسے ھدی جاؤ گی کیسے؟‘‘ سروج نے سوال کیا
’’کیب میں‘‘ ھدی نے سادہ سا جواب دیا
’’کل بھی کیب سے گئی تھی؟‘‘ سروج کے سوال پر ایک پل کو وہ سٹپٹا گئی
’’میں۔۔۔۔۔۔۔میں چلتی ہوں بھابھی‘‘ کہتے ہی وہ تیزی سے بھاگ گئی
سروج اسکے جاتے ہی ہنس پڑی
’’پاگل‘‘ سروج نے نفی میں سر ہلایا
’’تو کیا خیال ہے شہزادہ غلفام چلے آفس؟ آپکے آفس؟‘‘ ابراہیم کو باہوں میں اٹھائے اسنے چٹاچٹ پیار کیا
ابراہیم کھلکھلا کر ہنس دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’اوئے کب سے کال کررہا ہوں کہاں تھا تو؟‘‘ مائز نے موسی کے سر پر کھڑے سوال کیا
’’کہی نہیں یہی تھا‘‘ موسی کا لہجہ بیزار سا تھا
’’کیا ہوا ہے؟‘‘ مائز نے دوبارہ پوچھا
’’مائز تو میرا دوست ہے نا؟‘‘ موسی نے سوال کیا
’’تجھے شک ہے؟‘‘
’’ہاں ہے اسی لیے پوچھا ہے‘‘ موسی نے بےتاثر لہجے میں جواب دیا
’’اچھا چل بول کیا کروں کے تجھے یقین آجائے‘‘ مائز نے آستینیں چڑھائے پوچھا
’’بتاتا ہوں تجھے‘‘ موسی کی مسکرایا
’’اسے دیکھ رہا ہے تو؟‘‘ اسنے ھدی کی طرف اشارہ کیا
’’کون ھدی؟‘‘ مائز نے سوال کیا
’’ہاں‘‘
’’اسے کیا؟‘‘ مائز نے حیرانگی سے پوچھا
’’وقت آگیا ہے کہ اب میں اپنا بدلہ لے لو‘‘ موسی کا لہجہ پل بھر میں سخت ہوا
’’موسی یار تو سیریس ہے؟‘‘ مائز نے آنکھیں بڑے کیے پوچھا
’’ہاں کیوں؟‘‘ موسی نے کندھے اچکائے پوچھا
’’تو پھر وہ کل کیا تھا؟‘‘ مائز نے دوبارہ پوچھا
’’کیا تھا؟‘‘
’’وہی سروج کی مدد۔۔۔ موسی وہ کیا تھا‘‘
’’ہاں تو وہ سروج تھی۔۔۔۔ بدلہ ھدی سے لینا ہے سروج سے نہیں‘‘
’’اور سروج سے کیوں نہیں‘‘
’’کیونکہ اس سے مجھے شادی کرنی ہے‘‘
’’بدلے کے لیے؟‘‘
’’نہیں دل کے لیے‘‘ موسی نے جواب دیا
’’اور تجھے لگتا ہے کہ ھدی سے بدلے کے بعد وہ تجھ سے شادی کو راضی ہوجائے گی؟‘‘ مائز نے حیرانگی سے پوچھا
’’تو دعا کر کے جو میں سوچ رہا ہوں اگر سب ویسا ہوجائے تو سروج کو میرا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا‘‘
’’اور اگر ویسا نا ہوا تو؟‘‘ مائز نے خدشہ پیش کیا
’’تو بھی سروج میری ہے مائز سروج موسی کی ہے‘‘ موسی کا لہجہ مائز کو بہت کچھ سمجھا چکا تھا
’’محبت کربیٹھے ہوں؟‘‘ مائز نے سوال کیا
’’بکواس نہیں کروں اور اب جیسا کہوں ویسا کرنا اوکے‘‘
مائز کو سارا پلان بتانے کے بعد موسی پرسکون تھا
’’موسی تو ایک لڑکی کی عزت کے ساتھ کھیل رہا ہے‘‘ مائز تو اسکا پلان سن کر حیران رہ گیا
’’اسکا بھائی بھی کھیلا تھا میری بہن کی عزت کے ساتھ‘‘
’’مگر موسی۔۔۔۔‘‘
’’تو رہنے دے مائز اگر ماہم تیری بہن ہوتی تو ضرور مدد کرتا مگر وہ تو صرف میری بہن تھی نا‘‘ موسی نے اسے ایموشنلی بلیک میل کیا
’’ماہم میری بہن تھی موسی اور اب میں وہی کروں گا جو تونے کہا ہے‘‘ مائز اسکی باتوں میں آگیا تھا
’’ویری گڈ۔۔۔۔۔ اب ایسا کر تو پلان پر عمل کر اور میں چلا آفس‘‘
’’تو آفس کیا کرنے جارہا ہے‘‘ مائز نے ہڑبڑا کر پوچھا
’’تیری ہونے والی بھابھی سے ملنے‘‘ موسی نے جواب دیا
’’اور میں یہاں کیا کروں گا؟‘‘ مائز نے دانت پیستے پوچھا
’’تو اپنی دوستی کا ثبوت دے‘‘ موسی نے اسے چڑایا اور یہ جا وہ جا
’’کمینہ‘‘ مائز اب ھدی کی طرف متوجہ ہوا جو فریحہ سے بات کررہی تھی
’’تم معصوم ہوں ھدی مگر تمہارا بھائی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔ افسوس کے تم اسکا کیا چکاؤ گی۔۔۔۔۔ میں نہیں چاہتا ہوں کہ تمہارے ساتھ کچھ ایسا ہوں۔۔۔۔۔ مگر پھر ،میری بہن بھی معصوم اور بےقصور تھی اس کے ساتھ بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا‘‘ مائز نم آنکھوں سے اسے دیکھتے بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’میم مے آئی کم ان؟‘‘ اسرا نے ناک کرکے پوچھا
’’یس کم ان‘‘
’’کیا بات ہے مس اسرا بہت خوش لگ رہی ہے آپ؟‘‘ سروج جو لیپ ٹاپ پر کام کررہی تھی اس سے پوچھنے لگی
’’میم خوشی کی ہی بات ہے‘ُ‘
’’اچھا زرا مجھے بھی پتا چلے؟‘‘ سروج نے پوچھا
’’میم ہمیں پروجیکٹ آفر ہوئے ہیں وہ بھی ایک نہیں چار چار۔۔۔۔۔۔ اور چاروں کمپنیز بہت بڑی ہے میم‘‘ اسرا کا سانس پھولا ہوا
’’سیریسلی؟‘‘ سروج کے چہرے پر خوشی اور سکون کے آثار نمایاں ہوئے
’’یس میم اور وہ سب ہم سے ڈیل کرنا چاہتے ہیں‘‘
’’تو مس اسرا فلحال تو میری میٹنگ ہے کل مسٹر زماد سے آپ نیکسٹ منتھ میں آپ میٹنگ رکھ لے‘‘ سروج نے پلین بتایا
’’اوکے میم‘‘ اسرا نے اثبات میں سر ہلایا
’’اور مس اسرا‘‘
’’یس میم؟‘‘
’’پورے سٹاف کو بتا دے آپ تاکہ سب لوگ دوبارہ فارم میں آجائے‘‘
’’اوکے میم‘‘
مزید آدھا گھنٹہ گزرا تھا جب سروج کو کال آئی
’’یس؟‘‘ سروج نے سوال کیا
’’میم وہ مسٹر زماد آئے آپ سے ملنے‘‘
’’مسٹر زماد؟‘‘
’’یس میم‘‘
’’اوکے انہیں اندر بھیج دے‘‘ سروج نے اجازت دی
تھوڑی دیر بعد موسی دروازہ ناک کرکے اندر آیا
’’گڈ مارننگ مس حیدر‘‘ موسی مسکرا کر بولا
’’گڈ مارننگ مسٹر زماد۔۔۔۔۔ ہیو آ سیٹ‘‘ پروفیشل انداز میں بولتے اسنے موسی کو بیٹھنے کو کہا
’’سو کچھ منگواؤ کافی چائے؟‘‘
’’کافی‘‘ موسی نے جواب دیا
’’اوکے‘‘
’’جی ایک کافی اور ایک چائے‘‘ سروج نے انٹرکام پرآرڈر کیا
’’اور بتائے مسٹر زماد آج آپ کا آنا کیسے ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ آئی مین میٹنگ تو کل ہے نا تو پھر آج کیسے؟‘‘
’’مجھے آپ سے ایک ڈیل کرنی ہے؟‘‘ اسکی سنجیدگی سروج کو ٹھٹکنے پر مجبور کر گئی
’’ہمم‘‘ اسنے صرف سر ہلا کر اجازت دی
’’شادی کریں گی مجھ سے؟‘‘ بےساختہ سوال پر سروج کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔۔۔ اسنے حیرت سے موسی کو دیکھا
وہ سنجیدہ تھا۔۔۔۔۔۔۔مطلب کہ یہ مذاق نا تھا
’’مسٹر زماد یہ کیسا گھٹیا مذاق ہے؟‘‘ سروج غصے پر قابو پاتے بولی
’’میں سیریس ہوں‘‘ موسی نے جواب دیا
’’مسٹر زماد اگر آپ کو کوئی اور بات نہیں کرنی تو آپ جاسکتے ہیں‘‘ سروج نے جواب دیا
’’میں جواب لیے بنا نہیں جاؤ گا‘‘ موسی کرسی پر پھیل کربیٹھ گیا
’’اور میرا جواب ناں ہے‘‘ سروج سخت لہجے میں بولی
’’آپ انکار کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے مس حیدر‘‘
’’نہیں تو کیا آپ ڈیل کینسل کردے گے۔۔۔۔۔ او مائی گاڈ مجھے پہلے ہی سمجھ جانا چاہیے تھا‘‘ سروج ہاتھ ہوا میں جھلائے بولی
’’نہیں مس حیدر پھر آپ کے اپنوں کو اسکی قیمت چکانا ہوگی‘‘ موسی اسے وارن کرتا باہر چلا گیا
’’گھٹیا انسان‘‘ سروج سر جھٹک کر بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’مس ھدی یاسین؟‘‘
’’یس؟‘‘ پیچھے سے آواز آنے پر اسنے مڑ کر دیکھا تو ایک لڑکے کو پایا
’’مس ھدی آپ کو زرار بھائی نے بلایا ہے بیک پر‘‘ وہ لڑکا بولا
’’ممم۔۔۔۔مجھے۔۔۔۔۔۔۔مگر کیوں؟‘‘ ھدی حیران ہوئی
’’مجھے نہیں پتا‘‘ اسنے کندھے اچکائے
’’اچھا میں چلتی ہوں‘‘ کہتے ہی وہ بیک پر گئی مگر وہاں کسی کو نا پایا
’’ضرور مذاق ہوگا‘‘ وہ خود سے بولی
اس سے پہلے کے وہ واپس جاتی کسی نے زور سے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ لیا اور وہاں موجود سٹور روم کی طرف اسے لے گیا
مائز نے اس وقت ماسک پہنا ہوا تھا اسی لیے ھدی اسے پہچان نا پائی
ھدی کی اتنی تگ و دو کے بعد بھی مائز نے اسے سٹور میں بند کردیا اور باہر سے تالا لگا دیا
’’آئی ایم سوری ھدی مگر یہ سب ماہم کے لیے‘‘ اپنے آنسو اندر اتارتا مائز خود سے بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرار جب سے یونی آیا تھا اسنے ایک پل کو بھی ھدی کو نہیں دیکھا تھا۔۔ وہ یونی آئی تھی یہ تو وہ جانتا تھا مگر اسے ابھی تک کیوں نہیں ملی ۔۔۔۔ غصے سے اسکا برا حال ہوا تھا
’’مائی ڈئیر ھدھد اب تم مجھ سے بچ کر دکھاؤ‘‘ سرخ آنکھوں سے وہ ھدی سے بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج موسی کی دھمکی کو مذاق کا رخ دیے اپنے کام میں مگن رہی۔۔۔۔۔۔ اسکی اسٹینٹ اسے بتا چکی تھی کہ موسی نے کل کی میٹنگ کی ٹائمنگ بتا دی تھی
’’یہ شخص ایک دم بکواس انسان ہے۔۔۔۔۔۔۔ فضول شخص۔۔۔۔۔۔۔ اگلی بار کوئی ایسی حرکت کی تو انکل کو شکایت کروں گی اسکی۔۔۔۔۔۔۔۔ سمجھتا کیا ہے خود کو‘‘ بڑبڑاتے ہوئے وہ ابراہیم کو اٹھائے اپنی کار میں لے آئی
’’اوہ شٹ !! اتنا ٹائم ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔ گھر چلنا ہے ورنہ ھدی پھوپھو ناراض ہوجائے گی‘‘ سروج نے گھر کی طرف راہ لی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کوئی ہے پلیز دروازہ کھولو۔۔۔۔۔۔ پلیز کھولو۔۔۔۔۔۔ کوئی ہے۔۔۔۔۔ممم۔۔۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔کک۔۔۔۔کوئی تو کھولو۔۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔۔۔ بھابھی۔۔۔۔۔۔سروج بھابھی۔۔۔۔۔۔۔زرار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی تو آؤ۔۔۔۔۔۔بیسٹ پلیز تم ہی آجاؤ۔۔۔۔۔۔۔ پلیز آجاؤ‘‘ روتے ہوئے وہ دروازے کے ساتھ لگ گئی
’’پپپ۔۔۔پلیز۔۔۔۔کک۔۔۔کوئی۔۔۔۔ آجاؤ‘‘ کہتے ہی وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ہیلو کام ہوگیا؟‘‘ موسی نے مائز سے پوچھا
’’ہاں‘‘ مائز نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا
’’تجھے کیا ہوا ہے؟‘‘ موسی نے حیرانگی سے پوچھا
’’کچھ نہیں تیرا کام ہوگیا ہے‘‘
’’تو ناراض ہے‘‘ موسی نے گہرا سانس لیکر پوچھا
’’نہیں موسی بھلا میں کیوں ناراض ہونے لگا تجھ سے۔۔۔۔۔۔۔ اور ہاں میں جارہا ہوں ھدی کو وہاں سے نکالنے‘‘
’’مائز تونے اپنی دوستی کا واسطہ دیا تھا۔۔۔۔۔۔ مت بھول کے اسکے بھائی نے کیا کیا تھا‘‘
’’بھائی بھائی بھائی۔۔۔۔۔۔ بس کردے موسی کچھ تو شرم کر۔۔۔۔۔ تو تو انسانیت کے بھی درجے سے گر رہا ہے۔۔۔۔۔۔ ارے جو کچھ اسکے بھائی نے کیا وہ سزا پاچکا ہے۔۔۔۔مر چکا ہے وہ شخص۔۔۔۔۔۔ اور تو کون ہوتا ہے سزا دینے والا۔۔۔۔۔۔۔ کیا تجھے لگتا ہے کہ تیری بہن کا وہ گنہگار زمین کے نیچے عیاشی کررہا ہوں گا۔۔۔۔۔۔ نہیں موسی وہ وہاں سزا پارہا ہوگا۔۔۔۔ اپنے کیے کی جو اسنے کیا ہے مگر تو۔۔۔۔۔۔‘‘
’’خیر میں جارہا ہوں ھدی کو بچانے‘‘ کہتے ہی مائز نے کال کاٹ دی
موسی کتنی ہی دیر موبائل کو دیکھتا رہا
’’میری ماہم بھی تو معصوم تھی مائز۔۔۔۔۔۔۔۔ تم لوگ نہیں سمجھو گے۔۔۔۔۔ کوئی نہیں سمجھے گا۔۔۔۔۔۔ آاااااااااااااا‘‘ اسنے دیوار گیر شیشہ توڑ ڈالا، آنکھوں سے آنسو سیلاب کی مانند بہہ رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’یہ کیا ھدی ابھی تک گھر نہیں آئی‘‘ سروج گھر کو بند پاکر حیران ہوئی۔۔۔۔۔۔۔ اسنے کال کی مگر کسی نے اٹھائی نہیں
’’ضرور زرار کے ساتھ ہوگی‘‘ سروج نے زرار کو کال ملائی
’’ہیلو زرار کیسے ہوں؟‘‘
’’میں ٹھیک ہوں تم سناؤ؟‘‘ زرار نے بیزار لہجے میں پوچھا
’’میری چھوڑو ھدی کہاں ہے ابھی تک گھر نہیں پہنچی تمہارے ساتھ ہے تو اسے گھر چھوڑ جاؤ‘‘ سروج پریشان لہجے میں بولی
’’ایک منٹ ھدی گھر نہیں آئی؟‘‘ زرار نےا چانک پوچھا
’’ہاں نہیں آئی۔۔۔۔۔تمہارے ساتھ ہے نا؟‘‘ سروج نے پوچھا
’’نہیں میرے ساتھ تو نہیں ہے‘‘ زرار نے جواب دیا
’’زرار مذاق مت کرو سمجھے اور اسے فورا گھر چھوڑنے آؤ‘‘
’’سروج ھدی میرے ساتھ نہیں ہے‘‘ زرار نے ایک ایک لفظ چبا کر ادا کیا
’’زرار ھدی ابھی تک گھر نہیں ۔۔۔۔۔۔ میں نے اسکے نمبر پر کال کی وہ اٹھا نہیں رہی۔۔۔۔۔۔زرار کچھ کروں‘‘ سروج رونے لگ گئی
’’اوکے ڈونٹ وری میں کچھ کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ تم یہ بتاؤ کہ ھدی یونی آئی تھی؟‘‘ زرار نے پوچھا
’’ہاں‘‘
’’اوکے فکر مت کروں کچھ کرتا ہوں‘‘
زرار لب بھینچے ڈرائیونگ میں مصروف تھا۔۔۔۔۔ اسنے سب سے پہلے گاڑی یونی کی طرف موڑ لی
’’تمہیں کچھ نہیں ہوگا ھدھد کچھ بھی نہیں‘‘ زرار خود سے بولا
’’یا اللہ ھدی کو اپنے حفظ و ایمان میں رکھنا‘‘ سروج نے دعا کی
’’آئی ایم سوری موسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر ہر بار ایک معصوم پر ہوئے ظلم کی سزا دوسرے معصوم کو ملے یہ ضروری نہیں‘‘ گاڑی چلاتے مائز نے سوچا
’’مجھے معاف کردوں ماہم میں تمہار بدلہ نہیں لے پایا‘‘ روتے ہوئے موسی نے ماہم کی تصویر کو گلے سے لگا لیا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *