Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45
تڑپ تڑپ کے اس دل سے آہ نکلتی رہی
ہم کو سزا دی پیار کی تو ایسا کیا گناہ کیا
لٹ گئے، ہاں لٹ گئے او لٹ گئے
ہم تیری محبت میں
بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے، کشن گود میں لیے، آنکھوں میں موٹے موٹے آنسوں سجائے وہ اس وقت آج کینٹین میں ہونے والے واقعے کو سوچ رہا تھا، اس وقت وہ کس قدر تکلیف میں تھا یہ صرف وہی جانتا تھا
’’مائز، مائز کہاں ہوں؟ مائز؟‘‘ اپنی دنیا میں گم اسے آنے والے کی خبر ہی نا ہوئی
’’مائز!!!کیا ہوا تم ٹھیک تو ہوں؟‘‘ عمارہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی، اندر کا منظر دیکھ کر حیران ہوگئی، اور ایک نظر اسنے ٹی وی کو دیکھا جہاں گانا فل والیوم میں چل رہا تھا، جسے اسنے ریمورٹ کے ذریعے بند کیاتھا
’’سب کچھ ختم ہوگیا عمارہ سب کچھ‘‘ ایک ہچکتی لیتے ہوئے وہ بولا
’’مائز کیا ہوا ہے بتاؤ مجھے‘‘ عمارہ پریشانی سے بولی
’’ اس نے ایسا کیوں کیا عمارہ کیوں کیا ایسا اس نے؟‘‘
’’کس نے کیا کیا ہے مائز؟‘‘
’’ وہ فریحہ وہ‘‘ رونے کی وجہ سے اس سے بولا ہی نا گیا
’’کیا مائز فریحہ نے کیا کیا ہے؟‘‘ عمارہ اب سنجیدہ ہوچکی تھی
’’وہ فریحہ وہ میری فرائز کھا گئی عمارہ، میری فرائز ساری کی ساری بنا ڈکاڑ مارے، عمارہ وہ کیسے کر سکتی ہے میرے ساتھ ایسا، اسے ایک بار بھی میرا خیال نا آیا اس نے سوچا نہیں میرے بارے میں، ایک بار ایک بار تو سوچ لیتی میرے بارے میں‘‘ ڈرامائی مجبور ہیروئین کی طرح گلہ کرتے اب وہ کشن میں منہ دیے رونے لگا
عمارہ کا دل تو چاہا کہ ایک رکھ کر چماٹ دے مارے مگر وہ مائز کی فرائز سے محبت سے بھی اچھے سے واقف تھی۔
’’افففف مائز حسن تمہارا واقعی کچھ نہیں بن سکتا‘‘ مائز کو تھپڑ مارنے والا ہاتھ خود اپنے منہ پر مارتے وہ بولی
جبکہ مائز تو ابھی تک ڈراما کی معصوم اور بےچاری ہیروئین کی طرح آنسوؤں بہانے میں مصروف تھا
’’نجانے کہاں سے لاتا ہے یہ بندہ اتنے آنسوؤں؟‘‘ اسے دھاڑے مار مار کر روتے دیکھ کر وہ یہی سوچ سکی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ھدی پانی ملے گا؟‘‘ زرار اسے گھر لے آیا تھا اب صوفہ پر بیٹھ کر پوچھا
’’ابھی لائی‘‘ ھدی سر ہاں میں ہلاتی اپنا بیگ وہی ٹیبل پر رکھے کچن میں چلی گئی
زرار اسکا انتظار کرنے لگا جب اسکے موبائل پر کال آئی
’’ہوسپٹل سے کال؟‘‘ وہ چونکہ اور کال رسیو کی۔۔۔۔ مگر جو نیوز آگے سے ملے اس پر وہ خوشی سے پھولے نا سمایا
’’موسی کو کال کرنا ہوگی‘‘ اسنے موبائل سے کال ملائی مگر بیلنس ختم تھا
’’شٹ مین‘‘ وہ موبائل ہاتھ پر مارتے بولا
’’ھدی تمہارا موبائل کہاں ہے؟‘‘ کچھ یاد آنے پر اس نے ھدی سے پوچھا
’’میرے بیگ کیوں کیا ہوا؟‘‘ زرار کو پانی دیتے وہ بولی
’’ہاں وہ ارجنٹ کال کرنی ہے اپنا موبائل دو‘‘ زرار کی بات پر ھدی نے اپنا موبائل زرار کو بیگ سے نکال کر دیا
موبائل دیتے اسکے چہرے پر ایک مسکان آگئی تھی
’’مسکرا کیوں رہی ہوں؟‘‘ زرار حیران ہوا
’’کچھ نہیں بس کچھ یاد آگیا‘‘
’’کیا یاد آگیا؟‘‘
’’یونی کی ہماری پہلی ملاقات یاد آگئی۔۔۔ موبائل کی وجہ سے ہی ہوئی تھی‘‘ ھدی کی بات پر زرار ہنس دیا
’’خیر آپ کال کرے‘‘ ھدی اسے پرائیویسی دیتی کمرے میں چل دی
پیچھے سے زرار نے موسی کو کال ملائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ابراہیم!!!!!!!!‘‘ سروج کی چیخ پر ابراہیم کو سیریلیک کھلاتے موسی کے ہاتھ تھمے
’’بھیا میں کھلا دوں گی ابراہیم کو آپ بھابھی کے پاس جائے‘‘ ندا موسی سے بولی
’’سروج۔۔۔ سروج کیا ہوا ادھر بیٹھو‘‘ اسے بیڈ سے اٹھتے دیکھ کر وہ اسکے تھامتے بولا۔۔۔۔۔ جبکہ سروج ہاتھ چلائے اسکے خود سے دور کررہی تھی
’’ابراہیم مجھے ابراہیم کے پاس جانا ہے۔۔۔۔ وہ لوگ لیجائے گے اسے مم۔۔۔میرا ابراہیم۔۔۔۔ موسی وہ لیجائے گے‘‘ سروج اسے پرے دھکیلتے بولی
’’سروج ادھر دیکھو میری طرف ابراہیم بلکل ٹھیک ہے۔۔۔ نیچے ہے وہ کھانا کھارہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندا کے پاس ہے وہ‘‘ اسے اپنے سینے سے لگائے وہ بولا
’’ٹھیک ہے وہ؟‘‘ سروج ہلکی آواز میں پوچھتی گہرے سانس لینے لگ گئی
’’ہاں بلکل ٹھیک ہے‘‘ اسکے بالوں پر ہاتھ پھیرتے وہ بولا
’’میں ڈر گئی تھی موسی۔۔۔ مجھے لگا وہ اب نہیں ملے گا‘‘ آخر اتنے دنوں کا ڈر زبان پر آگیا تھا
’’کیوں ڈر گئی تھی مجھ پر بھروسا نہیں؟‘‘ موسی نے اس سے سوال کیا
’’نہیں‘‘ اس نے سر نفی میں ہلایا
اسکی بات پر موسی مسکرادیا
’’اففف اتنا سچ ۔۔۔ تھوڑا جھوٹ ہی بول دیتی‘‘ موسی کی شکایت پر سروج ہلکے سے مسکرائی
’’تم پر واقعی میں یقین نہیں‘‘ اسکے سینے پر مکا مارے وہ بولی
’’لگتا ہے یہ ہوش میں نہیں‘‘ سروج کی اس حرکت پر موسی حیرانگی سے اسے دیکھتا خود سے بولا
اس نے دوبارہ سروج کو دیکھا جو اب آنکھیں بند کیے سر اسکے سینے پر ٹکائے ہوئے تھی
’’میری نیندیں اڑا کر خود سوگئی مزے سے‘‘ اسے بیڈ پر دھیان سے لٹاتے وہ خود سے بولا
اتنے میں اسکا موبائل بجا
’’ھدی کی کال؟‘‘ موسی نے حیرت سے دیکھا
’’ہیلو ھدی؟‘‘ موسی نے موبائل اٹھاتے پوچھا
’’موسی میں زرار‘‘ زرار بولا
’’زرار کیا ہوا؟‘‘
’’ہوسپٹل سے کال آئی تھی شمائلہ کو ہوش آگیا ہے۔۔۔ اب وہ سٹیبل ہے۔۔۔۔۔ بات کرنا چاہتی ہے ہم سے‘‘ زرار نے اسے بتایا
’’ٹھیک ہے رات میں چلے گے۔۔۔۔ ابھی سروج اور ابراہیم کو ضرورت ہے میری‘‘ موسی سوئی ہوئی سروج کو نظروں کے حصار میں رکھ کر بولا
’’واللہ بڑے اچھے شوہر بن گئے ہوں تم؟‘‘ زرار اسکا مزاق بناتے بولا
’’میرا چھوڑو اپنا بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔ تم بتاؤ ھدی کا موبائل تمہارے پاس کیا کررہا ہے؟‘‘ موسی نے تفتیشی لہجے میں پوچھا
’’اور یہ میں تمہیں کیوں بتاؤ؟‘‘
’’بھائی ہوں میں اسکا‘‘ موسی نے اکڑ کر جواب دیا
’’اور میں شوہر‘‘
’’یہ کب ہوا؟‘‘ موسی نے دانت پیستے پوچھا
’’ہوا نہیں تو ہوجائے گا‘‘ زرار اسے چڑاتا بولا
’’تونے جو کرنا ہے کر مجھے تنگ مت کر‘‘ موسی جل کر بولا اور کال کاٹ دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرار موبائل لیے ھدی کے کمرے میں آئے واشروم سے شاور چلنے کی آواز آرہی تھی
اسکا ارادہ موبائل ٹیبل پر رکھ کر واپس جانے کا تھا جب نظر ھدی کی اسکیچ بک پر پڑی
کچھ سوچتے اسنے بک اٹھائی اور پہلا صفہ کھولا
’’مسٹر بیسٹ‘‘ زرار نے حیرانگی سے اپنا نام پڑھا
اور کچھ سوچتے آگے کے پیج نکالے
ہر پیج پر خود کو دیکھ کر اسے حیرانگی ہوئی
سب سے پہلے پیج پر اسکی تصویر تھی جس میں وہ ھدی کو دیوار کیساتھ لگائے ۔۔۔۔۔۔ آنکھوں میں غصہ لیے گھور رہا تھا
دوسری تصویر اس تھپڑ کی تھی کو اس نے ھدی کو مارا تھا
ایک تصویر میں وہ ھدی کے پیچھے کھڑا تھا جبکہ ھدی بند دروازہ کھولنے کی کوشش میں تھی۔۔۔۔ زرار کے چہرے پر ہلکی سی مسکان تھی جبکہ ھدی کا چہرہ ڈر کی عکاسی کررہا تھا
ایک تصویر میں ھدی غصے میں تھی اس کے ہاتھ میں کافی کا خالی کپ تھا، جس سے دو تین قطرے نیچے گررہے تھے جبکہ زرار کی شرٹ گیلی تھی اور آنکھوں میں ہلکی سی نمی
یہ تو اس دنکا واقعہ تھا جب سروج کو ہارٹ اٹیک آیا تھا۔۔۔۔ زرار حیران ہوا تو کیا ھدی اسکی آنکھوں میں چھپی نمی دیکھ چکی تھی
ایک تصویر میں زرار موسی کو مار رہا تھا جبکہ ھدی پلر کے پیچھے آنکھوں میں خوف لیے اسے دیکھ رہی تھی
تو اسکا مطلب وہ سب جانتی تھی اسی لیے اس سے ڈرتی تھی۔۔۔۔ افففف
صفہ پلٹا تو ایک اور تصویر پر نظر پڑی ھدی کلاس میں اکیلی بیٹھی رول کھا رہی تھی جبکہ زرار دروازے کی اوٹ سے اسے دیکھ رہا تھا
’’تو وہ جانتی تھی کہ میں وہاں ہوں‘‘
ایک اور تصویر دیکھ کر زرار کو جھٹکا لگا
وہ اسکی اور موسی کی تھی وہ دونوں ہسپتال کے کمرے میں بیڈ پر لیٹے تھے۔۔۔ زرار کے جسم سے خون موسی کے جسم میں جارہا تھا
زرار کو یاد تھا کہ ھدی کبھی وہاں نہیں آئی تھی تو پھر یہ کیسے۔۔۔۔ مگر اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ جو نقشہ سروج نے ھدی کے سامنے کھینچا تھا ھدی نے اسی کو مد نظر رکھ کر تصویر بنائی تھی
ایک اور تصویر تھی۔۔۔۔۔ یہ اس دن کی تھی جب مائز نے ھدی کو سٹور روم میں بند کردیا تھا۔۔۔۔۔۔ تصویر میں زرار ھدی کو ساتھ لگائے تھا
اسکی آنکھوں میں غصہ، خوف، ڈر اور آنسو تھے
اور بھی بہت سے واقعات کی تصاویر تھی۔۔۔۔۔ سکیچ بک کو ٹیبل پر رکھے وہ آرام سے کمرے سے باہر چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چاروں اس وقت ہسپتال میں شمائلہ کے کمرے میں تھے
’’تم جانتی ہوں نا کہ تمہارا شوہر اور اسکی فیملی پکڑی گئی ہے؟‘‘ موسی نے شمائلہ سے پوچھا۔۔ جس پر اس نے سر ہاں میں ہلادیا
اسے نیوز کے ذریعے سب پتا چلا تھا
’’تو یہ بھی جان لو کہ وہ اب بچے گا نہیں‘‘ موسی پھنکارا
’’اچھی بات ہے اسے بچنا بھی نہیں چاہیے‘‘ شمائلہ سپاٹ لہجے میں بولی
’’لگتا ہے شوہر کی جدائی دماغ پر اثر انداز کرگئی ہے‘‘ مائز سرگوشی میں مراد سے بولا جس نے اسے گھورا
’’دیکھیے بھابھی ہم یہاں آپ سے بہت ضروری بات کرنے آئے ہیں‘‘ زرار شمائلہ سے مخاطب ہوا
’’تم مجھے آپی یا شمائلہ کہوں تو زیادہ بہتر رہے گا‘‘ شمائلہ تلخی سے بولی
’’اوکےےےے۔۔۔ جلال کے خلاف ہم کیس کرنا چاہتے ہیں۔۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ جلال ابراہیم کا حقیقی باپ ہے اور اگر ہم نے کیس کیا تو کیس ہم پر الٹ پر سکتا ہے‘‘ زرار لمبی سانس خارج کرتے بولا
’’تو؟‘‘ شمائلہ کا لہجہ سپاٹ تھا
’’تو ہم چاہتے ہیں کہ آپ کورٹ میں گواہی دے جلال کے خلاف۔۔۔۔ وہ قاتل ہے آپ کے بچے کا اور اب آپ ہی کسی اور کی اولاد کو بچا سکتی ہے‘‘ زرار کی بات پر شمائلہ کی آنکھوں سے آنسوؤں جاری ہوگئے تھے
’’آئی ایم سوری میں آپ کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا‘‘ زرار جانے انجانے میں ایک حساس ٹاپک چھیڑ بیٹھا تھا
’’تمہیں معافی مانگنے کی ضرورت نہیں تمہاری غلطی نہیں تھی‘‘ شمائلہ خود پر قابو پاتے بولی
’’میں گواہی دینے کو تیار ہوں مگر۔۔۔‘‘
’’مگر کیا؟‘‘ موسی نے بےصبری سے پوچھا
’’مگر میری گواہی کافی نہیں میں چاہتی ہوں کہ اس شخص کو اس کے گناہوں کی سخت ترین سزا ملے‘‘
’’مطلب؟‘‘
’’بتاتی ہوں نا‘‘ شمائلہ کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ آ ٹھہری اس نے غور سے ان چاروں کو دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چاروں اب یاسین ولا کے باہر کھڑے تھے جب وہی چوکیدار دوبارہ موسی سے ٹکڑا گیا
’’او صاحب تم پھر آگیا؟‘‘ چوکیدار چڑ کر بولا
’’ہاں آگیا‘‘ موسی بھی بدمزہ سا بولا
’’اب کونسا فائل لینے آیا ہے تم؟‘‘ چوکیدار نے آنکھیں چھوٹی کیے پوچھا
’’گھر کے کاغذات لینے آیا ہوں‘‘ موسی نے بھی دوبدو جواب دیا
’’ام تم کو چھوڑے گا نہیں‘‘ چوکیدار نے اب باقاعدہ بندوق تان لی تھی اس پر
’’یار ہمیں ھدی بی بی نے بھیجا ہے یقین نہیں تو بات کرواؤ؟‘‘ زرار بیزار سا بولا
’’ھدی بی بی؟‘‘ چوکیدار چوکنا ہوا
’’ہاں ۔۔۔۔۔ کہوں تو کال کروا دوں؟‘‘ زرار نے دوبارہ پوچھا
’’نہیں ہم کو تم پر یقین ہے۔۔۔۔۔۔۔ مگر اس پر نہیں‘‘ وہ موسی کی طرف اشارہ کرتے بولا
’’کیوں میں کیا دہشت گرد ہوں؟‘‘ موسی نے غصے سے پوچھا
’’ نہیں تم ملنگ ہوں‘‘ چوکیدار بھی ویسے ہی بولا
’’اس کی تو‘‘
’’انف موسی۔۔۔ جو کرنے آئے ہیں وہ کرلے بعد میں لڑ لینا‘‘ زرار کی بات پر موسی چوکیدار کو گھورتے اندر بڑھ گیا
شمائلہ نے انہیں اس فائل کے بارے میں بتایا تھا جو فرقان لودھی اسے پاکستان سے جانے سے پہلے دے کرگیا تھا
اور اب وہ لوگ وہی لینے آئے تھے
شمائلہ کے بتانے پر وہ لوگ ماسٹر بیڈ روم کی طرف بڑھے۔۔۔۔ انہیں شمائلہ پہلے ہی بتا چکی تھی کہ فائل الماری میں ہے اسی حساب سے وہ سب سے پہلے الماری کی جانب بڑھے
انہیں زیادہ محنت نہیں کرنا پڑی کیونکہ فائل ڈرا میں ہی تھی۔۔۔۔۔ فائل کھولتے ہی جو انفارمیشن انہیں ملی وہ کیس جیتنے کے لیے کافی تھی۔۔۔ فائل میں ان سب لڑکیوں کا بائیو ڈیٹا اور جلال کے ساتھ تعلقات کی انفارمیشن تھی جو کیس جیتنے کو کافی تھی۔۔۔۔۔ انہی میں عمارہ کی بھی انفارمیشن تھی۔۔۔۔۔۔ عمارہ کا بائیو ڈیٹا سب سے پہلے مراد نے اس فائل سے غائب کیا وہ عمارہ کو ان سب میں نہیں لانا چاہتا تھا
وہ سب فائل کو چیک کررہے تھے جب انکی آنکھیں پھٹ گئی۔۔۔۔ فائل میں کچھ ایسا تھا جس پر وہ چاروں حیرانگی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہیں تھے
’’اب تو یہ جلال پھانسی کے پھندے پر ہی جھولے گا‘‘ موسی دانت پیستے بولا
’’کاش میں اسے اپنے ہاتھوں سے مار سکتا‘‘ زرار کی آنکھیں غصے سے لال ہوگئی تھی
’’گائز یہ وقت غصے کا نہیں ہے۔۔۔۔۔ ہمیں اب صرف اسی بات پر خوش ہونا چاہیے کہ اب ہم کیس جیت جائے گے‘‘ مراد انہیں پرسکون کرنے کو بولا
جس پر وہ دونوں فقط سر ہلا کر رہ گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن بھر کا تھکا ہارا وہ جب کمرے میں آیا تو لبوں پر اپنے آپ مسکراہٹ آگئی
ابرہیم کو سینے سے لگائے سروج ادھر ادھر چلتی اسے سلانے کی ناکام سے کوشش کررہی تھی جبکہ ابراہیم ایکٹیو سا سروج کا دھیان کمرے میں موجود چیزوں کی طرف کروا رہا تھا
’’با!!‘‘ موسی کو دیکھ کر وہ خوشی سے چہکا
’’بابا کا بیٹا‘‘ ابراہیم کو سروج سے پکڑے موسی اسکے گال چومتے بولا۔۔۔ جب نظر سروج کی طرف گئی جو رونے کے در پر تھی
’’تمہیں کیا ہوا؟‘‘ موسی نے حیرانگی سے پوچھا
’’موسی دیکھو نا کب سے سلانے کی کوشش کررہی ہوں۔۔۔۔۔ سو ہی نہیں رہا۔۔۔۔ اگر ابھی نہیں سویا تو پوری رات نہیں سوئے گا‘‘ سروج پریشانی سے بولی
’’تو کوئی بات نہیں ۔۔۔۔ نا سوئے۔۔۔۔ میں اور میرا بیٹا تو آج پوری رات کھیلے گے‘‘ موسی بیڈ پر لیٹ کر اسے اپنے سینے ہر بٹھاتے بولا
سروج نے غور سے موسی کو دیکھا۔۔۔۔۔ جس کے بال بکھرے تھے۔۔۔۔۔ جبکہ آنکھوں میں تھکن واضع تھی
دونوں باپ بیٹا کو کمرے میں چھوڑ کر وہ نیچے کچن میں گئی۔۔۔۔ کھانا گرم کرکے اس نے ٹرے سیٹ کی اور موسی کے لیے کمرے میں لے گئی
موسی نے جب اسے کھانا ٹیبل پر سیٹ کرتے دیکھا تو حیران ہوا
’’جاؤ فریش ہوجاؤ کھانا ابھی گرم ہی ہے‘‘ سروج نے کہتے ہی ابراہیم کو پکڑ لیا جبکہ موسی فریش ہونے چلا گیا۔۔۔ سروج کے اس چھوٹے سے عمل پر اس کا دل خوشی سے پھولے نا سمارہا تھا
فریش ہونے کے بعد اس نے خود کو پرسکون محسوس کیا اور کھانا کھانے بیٹھ گیا۔
’’تم نہیں کھاؤ گی؟‘‘ موسی نے پوچھا
’’نہیں میں کھا چکی ہوں‘‘ ابراہیم کے چاروں طرف تکیے رکھے اب وہ اس کے کھلونے نکال رہی تھی
’’اچھا پھر ساتھ دینے کو ہی کھالو۔۔۔۔۔ اکیلے کھانے کی عادت نہیں‘‘ موسی کی بات پر سروج ایک پل کو رکی اور پھر موسی کے برابر میں صوفہ پر جابیٹھی
اور ساتھ دینے کو تھوڑا سا کھانا شروع کردیا
کھانے سے فارغ ہوتے ہی سروج نے برتن اٹھائے اور کچن میں رکھنے چل دی۔۔۔۔ کچھ سوچتے اس نے ساس پین اٹھایا اور چائے بنانے رکھ دی
تھوڑی دیر میں چائے ٹرے میں رکھے وہ کمرے میں لے آئی اور بالکونی میں کھڑے موسی کو دیکھ کر ٹرے وہی لے گیا
’’چائے‘‘ چھوٹی ٹیبل پر ٹرے رکھے اس نے کپ موسی کی طرف بڑھایا
’’شکریہ‘‘ نجانے وہ اس کے دل کی بات کیسے جان گئی تھی۔۔۔۔اس وقت اسے چائے کی شدید طلب محسوس ہورہی تھی
کچھ پل یونہی خاموشی کی نظر ہوگئے
’’سروج کیا چل رہا ہے؟‘‘ موسی نے پوچھا
’’کیا چل رہا ہے؟‘‘ سروج نے حیرانگی سے پوچھا
’’یہ تو تم مجھے بتاؤ۔۔۔۔ تم کیا چاہتی ہوں‘‘ موسی کا اشارہ آج کی گئی اس چھوٹی سے خدمت کی طرف تھا
’’پتا نہیں‘‘ سروج نے کندھے اچکائے
’’میں بتاؤ؟‘‘ موسی نے اجازت چاہی
’’بتادوں‘‘
’’تم موقع دینا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔ مجھے ، خود کو اور اس رشتے کو یہی بات ہے نا؟‘‘
’’معلوم نہیں۔۔۔۔۔ میں واقعی نہیں جانتی میں کیا چاہتی ہوں؟‘‘ چائے کا خالی کپ ٹرے میں رکھے وہ بولی
موسی نے بھی اس کپ پکڑا دیا تھا۔۔۔۔۔۔ کپ رکھے وہ موسی کی جانب بڑھی تو موسی نے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام لیا
’’میری ایک بات مانوں گی؟‘‘ موسی اسکی آنکھوں میں دیکھتے بولا
’’کیا؟‘‘ انکار نہیں کیا تھا اس نے
’’ایک موقع دوں خود کو سروج۔۔۔۔۔۔ مجھے دوں ہمارے رشتے کو دوں۔۔۔۔ جانتا ہوں بہت برا ہوں۔۔۔ بدتمیز ہوں۔۔۔ فلرٹی بھی لگتا ہوں تمہیں مگر تم سے وفا نبھاؤ گا اسکا یقین دلاتا ہوں۔۔۔۔ ایک موقع دوں گی نا؟‘‘ اسکی آنکھوں میں التجا تھی
سروج کچھ نہیں بولی بس اپنا سر اسکے سینے پر رکھے، دل کی دھڑکنیں سننے لگی۔۔۔۔۔ موسی پہلے حیران ہوا مگر پھر سروج کو اپنی باہوں میں لے گیا
سروج اس رشتے کو ایک موقع دینا چاہتی تھی موسی کے لیے یہی کافی تھا
’’تھینکیو‘‘ تھوڑی دیر بعد موسی بولا
’’نو پرابلم‘‘ سروج مزے سے بولی تو موسی ہنس دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
