Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode (Watching)
Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
’’بچاؤ!!!!! کوئی بچالو مجھے!!‘‘ چیختے چلاتے وہ پورے گراؤنڈ میں بھاگ رہا تھا
وجہ اس کے پیچھے بھاگتا وہ بیسٹ تھا۔۔۔۔۔ جس کا اہم دن مائز کے چند فضول میسجیز نے خراب کردیا تھا
’’تمہیں میں چھوڑو گا نہیں مائز حسن‘‘ زرار کی غصیلی آواز اس کے کانوں سے ٹکڑائی
بھاگتے بھاگتے وہ لوگ اب اس بینچ کے پاس آگئے تھے جہاں ھدی بیٹھی فریحہ کو کل کی روداد سنا رہی تھی اور وہ دونوں ہاتھ پر ہاتھ مارے ہنس رہی تھی
’’اللہ کوئی بچالو‘‘ مائز رونے کے در پر تھا
’’ٹو ٹائم‘‘ زرار کو انگلی کے اشارے سے بولتا وہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھے لمبے لمبے سانس لینے لگا جبکہ زرار وہی زمین پر بیٹھ گیا
’’تمہیں بڑی ہنسی آرہی ہے‘‘ مائز تیکھی نظروں سے فریحہ کو گھورتے بولا جو منہ پر ہاتھ رکھے قہقہ روکنے کی کوشش میں تھی
’’پانی!‘‘ زرار کی طرف بوتل بڑھاتے وہ بولی۔۔۔۔ زرار نے اسے تشکر بھری نظروں سے دیکھا
’’او مجنوں بھول مت کہ کل اس لیلہ نے تجھے انکار کیا تھا‘‘ مائز زرار کی الفت بھری نظروں پر تپ کر بولا اور اپنی فرائز سے انصاف کرنے لگا جو وہ اس ڈرامہ سے پہلے لیکر آیا تھا
اسے غصہ آیا کہ زرار نے نہ تو ھدی کو اسکو ریجیکٹ کرنے پر کچھ کہاں اور نہ ہی فریحہ کو
’’ویسے سیریسلی ھدی۔۔۔۔ تم نے سچ میں زرار کو ریجیکٹ کردیا۔۔۔۔۔۔ رئیلی انٹرسٹنگ۔۔۔۔ ہیٹس آف ٹو یو‘‘ فریحہ داد دیے بنا نا رہ سکی
’’نہیں ریجیکٹ نہیں کیا ۔۔۔۔ بس میں چاہتی ہوں کہ وہ خود سے کچھ میرے لیے کرے۔۔۔۔۔ پھر چاہے وہ کچھ عام سا ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ ایٹ لیسٹ زرار نے وہ خود میرے لیے کیا ہوگا‘‘ ھدی کی بات پر اسکے پاس زمین پر بیٹھا زرار مسکرا دیا
’’ایسی بات ہے؟‘‘ زرار نے ابرو اچکائے سوال کیا تو ھدی نے سر اثبات میں ہلادیا
’’تو مس ھدی یاسین کیا آپ اس بیس روپے والی ڈیری ملک کے ساتھ زرار احمد زماد کی ہمسفری کو قبول کرے گی؟‘‘ اپنے بیگ سے ڈیری ملک نکال کر اسکے سامنے کیے زرار نے پوچھا تو ھدی کھلکھلا دی
’’اوئے ہوئے‘‘ فریحہ سیٹی مارتے بولی تو ھدی بلش کرگئی
’’ویسے دنیا کہتی ہے لڑکی ہنسی تو پھنسی۔۔۔۔۔ تو کیا میں ہاں سمجھ لو؟‘‘ زرار نے میٹھی مسکان سے سوال کیا
ھدی نے اپنا نیچلا ہونٹ دانتوں تلے دبا لیا اور سر اقرار میں ہلا دیا
مائز جو اپنی فرائز میں گم تھا، یہ سین دیکھ کر اسکا منہ بن گیا
’’اچھا خاصہ شیر تھا میرا یار اور دیکھو اس ٹیڈی بکری نے کیسے بندر اور گدھا بنا دیا ہے‘‘ فرائز کھاتا مائز زرار کے کندھے پر ہاتھ رکھے افسوس سے بولا
ھدی تو اسکے خود کو ٹیڈی بکری کہنے پر تلملا کر رہ گئی جبکہ زرار نے اسے اپنے لیے استعمال کیے جانے والے القابات کو اگنور کیے بڑی مشکل سے ھدی کو ٹیڈی بکری سے تشبیہ دینے پر مسکراہٹ چھپائی تھی اور مائز کو آنکھیں دکھانے لگا جسکا اس پر خاطر خواں اثر نا ہوا
ان کا رومینٹک ماحول خراب کرنے میں وہ کامیاب ہوچکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ فریحہ نے افسوس سے سر نفی میں ہلایا
’’کیا ہورہا ہے یہاں؟‘‘ موسی اور سروج بھی وہی آگئے تھے۔۔۔۔ انہیں دیکھ کر فریحہ اور ھدی بھی بینچ سے اٹھ کر نیچے زمین پر بیٹھ گئیں
’’تمہارا بھائی اسکی بہن لے اڑا‘‘ موسی کی طرف اشارہ کرتے پھر اسنے سروج کی جانب انگلی کی
’’کیا سچ میں؟‘‘ موسی نے حیرت بھری مسکراہٹ سے پوچھا
’’ہاں‘‘ مائز منہ بسور کر بولا
’’واہ۔۔۔ مبارکہ میرے بھائی‘‘ زرار کی پیٹھ تھپتھپاتے موسی بولا
’’ہیلو مائز!!!‘‘ اچانک وہاں ایم۔فل آئی۔ٹی کی اقرا آگئی۔۔۔۔۔ یہ وہی بلا تھی جس سے آج کل فریحہ کو اینٹ کتے کا بیر تھا
’’اقرا‘‘ مائز خوشی سے اچھلتا اسکے برابر کھڑا ہوگیا
’’ہاؤ آر یو مائی بوائے؟‘‘ اسکے بازو پر ہاتھ رکھے اقرا نے پوچھا
’’مائی بوائے؟‘‘ ہاتھ میں پکڑی پانی کی بوتل کو فریحہ کچومر بنا چکی تھی۔۔۔۔۔۔ اس لڑکی کی مائز سے اس قدر نزدیکی فریحہ کو طیش دلا گئی تھی
’’ایک دم ہینڈسم‘‘ مائز بالوں کو جھٹکتے ایک ادا سے بولا تو وہ کھلکھلا دی
’’او یو ناٹی بوائے‘‘مائز کے گال کھینچتے وہ بولی
’’ویسے میں کیسی لگ رہی ہوں؟‘‘ اپنے بالوں کو ایک ہاتھ سے سیٹ کرتے اس نے پوچھا
’’لائک آلویز ۔۔۔۔۔۔۔ بیوٹیفل!!‘‘ مائز نے اسکی تعریف کی۔۔۔۔۔ باقی سب تو بس حیرت سے اس میک اپ کوئین کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔ جس نے کلو کے حصاب سے منہ پر بیس ملی ہوئی تھی
بس اب برداشت جواب دے گئی تھی۔۔۔۔۔۔ فریحہ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی اور بوتل میں موجود پانی اس لڑکی کے منہ پر پھینک دیا
’’واٹ دا ہیل!!‘‘ وہ چلائی
’’کوئی ہیل نہیں۔۔۔۔۔۔ بس تمہارے اصل خوبصورتی سب کے سامنے لارہی تھی‘‘ مزے سے کندھے اچکائے اسکا سب میک اپ خراب کیے وہ وہاں سے چل دی
’’اسے کیا ہوا؟‘‘ سروج حیرت سے اسے جاتے دیکھ کر بولی
’’وہی جو تم مجھ سے نہیں کررہی‘‘ موسی اسکی جانب دیکھتے بولا جو فریحہ کی جانب دیکھ رہی تھی
’’کیا؟‘‘ سروج فریحہ کو جانب دیکھتے ہی پوچھ بیٹھی
’’محبت‘‘ موسی کی سرگوشی اسکے جسم میں سنسنی پھیلا گئی تھی
اسنے مڑ کر موسی کو دیکھ اور پھر آس پاس تو کوئی نظر نہیں آیا
وہ سب کب گئے اسے پتا بھی نہیں چلا
’’چلو چلے‘‘ اسکی بات کو اگنور کیے وہ اٹھنے لگی تو موسی نے ہاتھ پکڑ لیا اور اسکی کوشش ناکام بنادی
کچھ دیر یونہی خاموشی چھائی رہی
’’سروج‘‘ موسی نے خاموشی کو توڑا
’’ہمم‘‘ وہ کھاس اکھیڑنے لگی
’’کبھی یہ مت سمجھنا کہ تمہارا ماضی یا عمیر سے تمہاری محبت ہمارے رشتے کو کوئی نقصان پہنچائے گے۔۔۔۔ یا میں تمہیں کوئی نقصان پہنچاؤ گا۔۔۔ عمیر تمہارے لیے خاص تھا اور تم میرے لیے۔۔۔۔ زندگی میں کبھی بھی تمہیں کوئی بات پریشان کرے۔۔۔ تمہارے ماضی کے حوالے سے تو بےجھجھک مجھ سے شیئر کرلینا۔۔۔۔۔۔ یقین مانو تمہارا بہترین دوست ثابت ہوگا۔۔۔ زرار سے بھی زیادہ اچھا‘‘ اسکو آنکھوں اور لفظوں کے ذریعے یقین دلاتے وہ بولا
سروج اسے حیرت سے دیکھنے لگی
’’کیا تھا یہ شخص؟ کیوں ایسا ہے یہ؟ جب جب سروج اپنے رشتے کو لیکر ناامید ہوتی۔۔۔۔۔۔۔ اپنے مستقبل کے حوالے سے خدشات لاحق ہوتے ۔۔۔۔۔۔ یہ انسان ان خدشات کو پل بھر دور کردیتا
’’کیا عمیر کا ذکر واقعی تمہیں تکلیف نہیں دے گا۔۔۔۔۔۔۔ کیا میری اس سے محبت تمہیں اذیت میں مبتلا نہیں کرے گی؟‘‘ سروج نے بےساختہ سوال کیا
موسی ہنس دیا
’’نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ محبت میں جبر نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ فلحال تم اسے رشتے کو موقع دینے کی کوشش میں ہوں ۔۔۔۔۔۔ میرے لیے یہی کافی ہے۔۔۔۔۔ اور جہاں تک بات ہے محبت کی۔۔۔۔۔۔۔۔ تو محبت کے بدلے محبت اہم نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ عزت اہم ہوتی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو کرتی ہوں نا میری؟‘‘ آخر پر موسی نے سوال کیا تو سروج ہنسنے لگی
’’ہاں بہت‘‘ آنکھیں گھمائے وہ بولی
’’تھینکیو موسی۔۔۔۔ مجھے سمجھنے کے لیے۔۔۔۔۔ مجھے وقت دینے کے لیے۔۔۔۔۔ مجھے واقعی میں اس کی ضرورت تھی‘‘ وہ احسان مند نظروں سے موسی کو دیکھتے بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائز اور اس چھپکلی سے الجھنے کے بعد وہ غصے سے کھولتی اپنے ڈیپارٹمنٹ آگئی تھی
تمام کلاسز لینے کے باوجود اسکا دھیان بٹ نہیں پایا تھا
سب سٹوڈنٹس کے چلے جانے کے بعد بھی وہ کلاس میں رہی۔۔۔ اور پھر آخر میں تھک ہار کر ڈیسک پر سر رکھ دیا
’’بچے کلاس خالی کردوں صفائی کرنی ہے‘‘ تھوڑی دیر میں وہاں پر ایک سویپر آکر بولی تو فریحہ بیگ کندھے پر لٹکائے باہر آگئی
اسکا گھر جانے کا موڈ نہیں تھا ۔۔۔ سو وہ گراؤنڈ میں جابیٹھی اور سامنے کھڑے پیڑ کو تکنے لگی
’’سو مائز ہاں!!‘‘ موسی اسکے برابر میں بیٹھتا بولا۔۔۔۔۔ فریحہ نے اسے دیکھا اور ایک بار پھر صبح کا سین دماغ میں چلنے لگا
’’دنیا میں ایک سے ایک عقلمند ہے، مگر مجھے تو صرف اس گدھے سے محبت ہونی تھی نا، سمجھ نہیں آتی کے ساری دنیا کے مرد مرگئے تھے کیا جویہ مائز حسن ہی میرے لیے بچا تھا‘‘ غصے سے کھولتے اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ مائز کا قتل ہی کردے جبکہ موسی اسکی بات سن کر مسکراہ دیا
’’گائز گیس واٹ‘‘ مائز انکےقریب آتے چلا کربولا جبکہ فریحہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔۔۔۔۔ تو گویا مائز ابھی تک یہی تھا
’’واٹ؟‘‘ موسی نے سوال کیا جبکہ فریحہ نے غلطی سے بھی اسے دیکھنے کی کوشش نا کی
’’ارے یار وہ جو آئی۔ٹی کی اقرا ہے نا تیرے بھائی نے اسے پٹا لیا ہے اور اب بندہ بشر ڈیٹ پرلیکر جائے گا اسے‘‘ مائزایک آنکھ موسی کو مارتے بولا جبکہ اس کی بات پر موسی کو تو سانپ سونگھ گیا اسنے ایک نظر ساتھ بیٹھی فریحہ کو دیکھا، جو مٹھیاں بھینچے اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی۔
’’افف جانی کیا بتاؤں تجھے کیا لڑکی ہے وہ، چلتی پھرتی قیامت ہے‘‘ موسی تو بس آنکھیں میچے رہ گیا۔
’’اور تو اور۔۔۔۔‘‘
’’بس میرے لال بس کردے کہی اس قیامت میرا مطلب کے اقرا کے ساتھ ڈنر پر جانے سے پہلے ہی تجھے عزرائیل نا نظر آجائے‘‘ اسکے منہ پر ہاتھ رکھے موسی نے اسے چپ کروانے کی کوشش کی
’’فار یور انفارمیشن میں ڈنر پر نہیں ڈیٹ پر جارہا ہوں‘‘ کوٹ کو خالص ڈرامائی ہیرو کے سٹائل میں جھٹکتا وہ گردن اکڑا کر بولا، جبکہ تین سیکنڈ میں ہی اسکی اکڑی گردن ایک طرف کو ڈھے گئی کیونکہ فریحہ نے مکہ ہی اتنی زور کا مارا تھا۔
’’تم ، چول انسان تم اس قابل ہی نہیں ہوں کہ کوئی تم سے محبت کرے‘‘ کہتے ہی وہ اپنی بائیک کی طرف بڑھی اور اسے اڑا لے گئی۔
’’میں نے کیا کیا ہے؟‘‘ مائز کی معصومانہ بات پر موسی سر نفی میں
ہلا کر رہ گیا۔
قصور تو اس بیچارے کا بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔ یہ تو موسی کا ٹاسک تھا کہ مائز کو اسکی طرح تھڑک پن کی ایکٹنگ کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔ مگر ہائے رے بری قسمت۔۔۔۔ مگر قصور تو موسی کا بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔ اب بھلا اس شاطر کو کیا پتا کہ ایک عقلمند لڑکی اس گدھے کو دل دے بیٹھی ہے
’’ویسے تو ابھی تک یہاں کیا کررہا ہے؟ سروج تو چلی گئی ہے؟‘‘ مائز نے اس سے پوچھا اور اپنے جبڑے پر ہلکے سے ہاتھ پھیرنے لگا تاکہ درد کا اثر زائل ہوجائے
’’ہاں وہ کچھ کام تھا۔۔۔۔۔ دو دن بعد ہیرنگ ہے نا کورٹ میں اسی لیے‘‘ موسی کی بات پر مائز نے سر اثبات میں ہلادیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن بعد
آج کورٹ کی سنوائی تھی۔۔۔۔ موسی اور زرار نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ وہ ھدی اور سروج کو اپنے ساتھ نہیں لیکر جائے گے
ان دونوں نے بہت سہا تھا اور اب اگر انہیں یہ پتا چل جاتا کہ یاسین صاحب اور انکی اہلیہ کی موت کا سبب بھی یہی لوگ تھے تو وہ دونوں ایک بار پھر سے ٹوٹ جاتی
کورٹ کی سنوائی شروع ہوچکی تھی۔۔۔۔۔۔۔ ان تینوں باپ بیٹا کو ہتکڑیوں میں عدالت لایا جاچکا تھا
تمام ثبوت اور گواہ بھی پیش کردیے گئے تھے
اشنا بیگم اور شمائلہ دونوں نے گواہی دی تھی۔۔۔۔۔ اور ان مجرموں کو سخت سے سخت سزا دینے کی اپیل بھی کی تھی
’’تمام ثبوتوں کو گواہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ بزنس مین یاسین اقبال اور اہلیہ یاسین اقبال کی موت ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔۔۔۔۔۔ اسی لیے یہ عدالت ان تینوں مجرموں کو سزائے موت کا حکم سناتی ہے۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی ساتھ ایک معصوم انسان کو دھوکا دینے پر یہ عدالت جلال صدیق کو قید با مشقت کی سزا سناتی جب تک پھانسی کا دن نہیں آجاتا۔۔۔ اور ساتھ ہی ساتھ ایک معصوم کی جان (شمائلہ کا بچہ) لینے پر بھی دو دفع پھانسی کی سزا عائد کرتی ہے۔۔۔۔۔۔ اور عدالت وکٹم کی اپیل پر اس بات کا بھی حکم دیتی ہے کہ جلال صدیق، شمائلہ جلال کو جلد از جلد طلاق دے۔۔۔۔۔ دا کیس از کلوز‘‘ جج کے حکم پر جہاں موسی اور زرار کے چہرے پر اطمینان آیا وہی ان تینوں باپ بیٹوں پر کپکپی طاری ہوگئی
علی زماد نے بھی آنکھیں بند کیے اپنے اللہ کا شکر ادا کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج کا برا حال تھا صبح سے اس نے کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔۔۔۔۔ بس چکر پر چکر لگائے جارہی تھی
’’بھابھی سکون کرے سب ٹھیک ہوگا، بیٹھ جائے‘‘ ندا اسے یوں پریشان دیکھ کر بولی
’’ہاں بیٹا ندا ٹھیک کہہ رہی ہے بیٹھ جاؤ تم۔۔۔۔ اللہ نے چاہا تو فیصلہ حق میں ہوگا‘‘ مسز علی نے اسے سمجھایا
’’میں کیا کروں آنٹی ۔۔۔۔۔ اتنی کالز کی ہیں موسی کو مگر مجال ہے جو وہ اٹھا لے۔۔۔۔۔۔۔۔ پتا نہیں کیا بنا ہوگا؟‘‘ پریشانی میں ادھر ادھر ٹہلتے وہ بولی
جب کچھ نا بن پایا تو باہر لان میں بنے بینچ پر جابیٹھی
’’بھابھی!!‘‘ تھوڑی دیر میں ندا نے پکارا
’’ہاں؟‘‘ سروج نے پریشانی سے پوچھا
’’سب ٹھیک ہوجائے گا‘‘ اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھے وہ بولی
’’ہمم‘‘ سروج کچھ نا کہہ پائی
’’آپ جانتی ہے مجھے آپ سے اتنی نفرت کیوں تھی؟‘‘ ندا نے اس سے پوچھا
’’ندا اس بےمقصد سوال کی وجہ؟‘‘ سروج نے پوچھا
’’سوال بےمقصد نہیں۔۔۔۔۔۔ وجہ ہے‘‘ ندا نظریں جھکائے بولی
’’مجھے عمیر سے محبت ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ تب سے جب سے میں شائد یہ لفظ جانتی بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔ پھر آپ آئی۔۔۔۔۔۔۔ مجھے نفرت ہونے لگی آپ سے۔۔۔۔۔۔ لگا کہ آپ نے مجھ سے میرے عمیر کو چھین لیا ہے مگر غلط تھی میں وہ تو میرا تھا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔ اور پھر جب ازی چلے گئے تو اور نفرت ہونے لگی۔۔۔۔ ایک ایسی لڑکی جس نے میری محبت اور میرا بھائی دونوں کو چھین لیا مجھ سے۔۔۔۔۔ روزانہ صبح شام دل سے بددعائیں نکلتی تھی آپ کے لیے۔۔۔۔۔ بعد میں عمیر کی موت کا پتہ چلا تو میں ٹوٹ گئی تھی۔۔۔۔۔ غم سے نڈھال۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر یہ غم بھی وقتی تھا۔۔۔ تب بھی احساس نہیں ہوا کہ میں نے تو کبھی عمیر سے محبت کی ہی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔ مگر اب احساس ہوا ہے کہ میں نے واقعی میں اس سے محبت نہیں کی تھی۔۔۔۔ وہ تو بس ایک ایٹریکشن تھی۔۔۔۔۔ ٹین۔ایج کرش۔۔۔۔۔۔۔ پاگل ہوں نا ۔۔۔۔۔۔۔ اپنی بددعاؤں سے آپکا گھر برباد کردیا۔۔۔۔۔۔ اور پھر ھدی۔۔۔۔۔۔ وہ میری فضول نفرت کا نشانہ بنی۔۔۔۔۔۔۔اور جب موسی بھیا نے آپ سے شادی کی بات کی اور ازی ضرورت سے زیادہ ھدی کے قریب رہنے لگے تو مجھے آپ سے اور اس سے نفرت مزید ہونے لگی۔۔۔۔۔۔ لگا کہ میرے دونوں بھائی مجھ سے چھین جائے گے‘‘ آنسو گال پر بہنے لگے جبکہ ہونٹوں پر تلخ مسکان آٹھہری
’’ندا ادھر دیکھو میری طرف۔۔۔۔۔۔ تم جانتی ہوں کہ اللہ ایسی دعائیں قبول نہیں کرتا جو کسی کی تکلیف کا باعث بنے۔۔۔۔ مجھے عمیر سے تمہاری بددعاؤں نے دور نہیں کیا۔۔۔۔۔۔ تقدیر نے کیا ہے۔۔۔۔ کیونکہ میرا نصیب موسی تھا عمیر نہیں۔۔۔۔۔ یہ نہیں کہوں گی کہ میں نے نصیب کو مان لیا ہے۔۔۔۔ ہاں سمجھوتا کررہی ہوں۔۔۔۔۔ اور زرار بھائی ہے تمہارا اسے تم سے کوئی نہیں چھین رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ میں ، نہ ھدی کوئی بھی نہیں۔۔۔۔۔ اور موسی کو بھی میں کبھی نہیں چھینوں گی۔۔۔۔۔۔۔ بھائی ہے تمہارا حق ہے اس پر تمہارا۔۔۔۔ سمجھی‘‘ اسکے دونوں ہاتھ تھامے سروج نے سمجھایا تو ندا نے سر اثبات میں ہلادیا
’’مگر ازی تو ناراض ہے‘‘ وہ منہ نیچے کیے بولی
’’تو منالوں‘‘ سروج نے حل پیش کیا
’’وہ مان جائے گے؟‘‘ ندا نے حیرت سے پوچھا
’’کوئی شک؟‘‘ سروج نے ابرو اچکائے جواب دیا تو ندا کھل کر مسکرائی
’’تھینکیو سو مچ بھابھی۔۔۔۔۔۔ آپ سب سے اچھی ہے‘‘ اسے خوشی سے گلے لگاتے ندا بولی تو سروج ہنس دی
دروازے پر کھڑی مسز علی نے محبت سے اس لڑکی کو دیکھا ، جسے رشتے نبھانے کے سب گن آتے تھے
اسی پل موسی اور علی زماد کی گاڑی اندر داخل ہوئی
وہ دونوں باپ بیٹا ابھی گاڑی سے نکلے ہی تھے کہ سروج بھاگ کر موسی کے پاس پہنچی
’’موسی!!‘‘ وہ بولی
بدلے میں موسی نے اسے ایک خوبصورت مسکراہٹ سے نوازا تو وہ پرسکون ہوگئی۔۔۔۔۔ وہ جیت گئے تھے۔۔۔۔۔ موسی کی مسکراہٹ اس بات کی عکاسی کررہی تھی
’’ہم جیت گئے؟‘‘ سروج نے حیرت اور مسرت سے کنفرم کرنا چاہا
’’ہم جیت گئے!!‘‘ موسی نے سر اثبات میں ہلائے جواب دیا
’’میں نے کہا تھا نا کہ جیت کر ہی آؤ گا‘‘ وہ بولا تو سروج نم آنکھوں سے مسکراتے سر اثبات میں ہلاگئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’اس وقت کون آگیا؟‘‘ مسلسل بجتی گھنٹی پر وہ بڑبڑایا
دروازہ کھولا تو سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر پل کو حیران ہوا
’’ اندر آجاؤ؟‘‘ گلا کھنکھارتے اسے اجازت چاہی جس پر وہ ایک سائڈ کو ہوگیا اور اندر آنے کا راستہ دیا
’’بیٹھو‘‘ زرار کے بولتے ہی وہ فٹ سے صوفہ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔ البتہ نظریں نیچی تھی۔۔۔۔۔ زرار نے اسکے بولنے کا انتظار کیا جبکہ وہ اپنی انگلیوں سے کھیلنے لگ گئی۔۔۔۔۔ بچپن کی عادت۔۔۔۔۔
جب وہ کچھ نا بولی تو زرار اٹھ کر جانے لگا
’’سوری!!!‘‘ وہ فورا بولی۔۔۔۔۔۔۔ زرار نے اسے دیکھا جس کے چہرے پر شرمندگی واضع تھی
’’کس بات کے لیے؟‘‘ زرار نے بےتاثر لہجے میں پوچھا
’’ہر اس بات۔۔۔۔ اس چیز۔۔۔ اس عمل کے لیے جس نے آپ کو تکلیف دی۔۔۔۔۔۔ اپنی خود غرضی کے لیے۔۔۔۔۔۔ ایسا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔ آپ کو تکلیف دی۔۔۔۔ مان توڑا آپ کا۔۔۔۔۔ اس کے لیے۔۔۔۔۔ آپ مجھ سے ناراض ہے۔۔۔۔۔۔۔ نفرت کرتے ہے مجھے پتا ہے‘‘ اسکی آواز بھراگئی
زرار اسکے سامنے جابیٹھا
’’اوئے ادھر دیکھو‘‘ اسکا منہ اٹھائے اپنی طرف کیا
’’رو کیوں رہی ہوں؟‘‘
’’کیونکہ آپ بات نہیں کررہے‘‘
’’ندا میں کبھی بھی تم سے ناراض نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔ نہ نفرت کی۔۔۔۔۔ ہاں تکلیف ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ مگر اب میری بہن نے معافی مانگ لی تو کہاں کی ناراضگی‘‘
’’آپ نے مجھے معاف کردیا؟‘‘ ندا نے حیرت سے پوچھا
’’ہاں‘‘ وہ دھیما سا مسکرایا
’’کیوں؟‘‘
’’کیا مطلب کیوں؟‘‘
’’اتنی جلدی کیوں۔۔۔۔۔۔ سزا کیوں نہیں دی؟‘‘
’’پاگل ہو بھلا۔۔۔۔ سزا تو گنہاگار کے لیے ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جو شرمندہ ہوں اس کے لیے تو معافی ہوتی ہے‘‘
’’لو یو بھائی‘‘
’’لو یو ٹو مائی سویٹ سسٹر‘‘ اسکی ناک دباتے وہ بولا تو ندا کھلکھلا دی
’’ماما بھی سوری ہے زرار ‘‘ مسز علی پیچھے سے بولی
زرار مسکرا دیا مگر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور ندا کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا
جب زرار کا کوئی جواب نہیں آیا تو وہ مڑ کر جانے لگی
مگر زرار نے جلد ہی انہیں پیچھے سے گلے لگا لیا
’’بیٹے کے گھر پہلی بار آئی ہے ایسے ہی چلی جائے گی‘‘
’’معاف کردیا اپنی ماں کو؟‘‘ انہوں نے پوچھا
’’ماں معافی مانگتی اچھی نہیں لگتی۔۔۔۔۔ آپکی غلطی نہیں۔۔۔۔۔ آپ صرف غلط فہمی کا شکار تھی‘‘ وہ انکا رخ اپنی طرف کیے بولا
’’علی کو بھی معاف کردوں‘‘ انہوں نے منت کی
’’ماما انکے حوالے سے کوئی بات نہیں‘‘ زرار کا لہجہ پل بھر میں سخت ہوا
مسز علی بھی فلحال خاموش رہی۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ زرار دوبارہ ان سے دور ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ اتنا عجیب بی ہیو کیوں کررہی ہوں‘‘ مائز آج اسکے سر پر سوار تھا
’’کوئی بات نہیں‘‘ فریحہ نے اگنور کیا
’’کیوں کوئی بات نہیں۔۔۔۔ بتاؤ مجھے‘‘ مائز نے اسکا رخ اپنی طرف کیا
’’کہاں نا کوئی بات نہیں جاؤ یہاں سے‘‘ فریحہ چلائی
’’نہیں جاؤ گا ہرگز نہیں جاؤ گا جب تک وجہ نہیں مل جاتی‘‘ مائز بھی چلایا
’’وجہ چاہیے نا تو سنو۔۔۔۔۔ پاگل ہوگئی ہوں میں۔۔۔۔۔۔ سکون نہیں مل رہا۔۔۔۔۔۔ محبت ہوگئی ہے۔۔۔۔۔ جانتے ہوں کس سے؟‘‘
’’تم سے مائز حسن۔۔۔۔ تم سے‘‘ اسکے سینے پر مکے برساتے وہ بولی
مائز تو کنگ سا رہ گیا۔۔۔۔ وہ حیرت سے فریحہ کو دیکھنے لگا جو اب منہ دوسری جانب کیے اپنے تنفس پر قابو پانے کی کوشش میں تھی
مائز کچھ بھی کہے بنا وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔
’’اہم اہم‘‘ اسنے گلا کھنکھارا
’’کیا ہے؟‘‘ ابراہیم کو کپڑے چینج کرواتی سروج نے پوچھا
’’کبھی اپنے شوہر پر بھی تھوڑا رحم کھالیا کروں‘‘ موسی اسکے پاس بیڈ پر لیٹتے بولا
’’کیوں شوہر کے ساتھ کونسا ظلم ہوگیا ہے؟‘‘ سروج نے آبرو اچکائے سوال کیا
’’یہ ظلم نہیں‘‘ ابراہیم کی طرف اشارہ کرتے وہ بولا
’’موسی!!‘‘ سروج نے آنکھیں دکھائی
’’ہاں تو سہی کہہ رہا ہوں۔۔۔ تمہارا سارا وقت لیجاتا ہے یہ‘‘ موسی ابراہیم کو گھورنے لگا
’’سیریسلی موسی۔۔۔۔۔۔ تم اپنے بیٹے سے جیلس ہورے ہوں ؟؟‘‘ سروج نے ہنستے ہوئے سر نفی میں ہلایا
’’ہاں ہورہا ہوں‘‘ موسی نے اقرار میں سر ہلایا
’’ویسے شرط یاد ہے نا؟‘‘ اسکا بازو اپنی گرفت میں لیے اسے تھوڑا اپنی جانب کھسکھاتے اس نے پوچھا
’’کونسی شرط؟‘‘ سروج انجان بنی
’’مسز موسی!!‘‘ وہ آنکھیں چھوٹی کیے بولا اسکا لہجہ سخت تھا
’’اوکے اوکے یاد ہے‘‘ سروج نے ہار مانی
’’تو کب پوری کروں گی؟‘‘ موسی نے جوش سے پوچھا
’’کردوں گی بےصبرے انسان‘‘ سروج ہنستے ہوئے بازو چھڑوا کربولی
’’امید ہے کہ تم مجھے چونا نہ لگا جاؤ‘‘ موسی دونوں بازو سر کے پیچھے لپیٹے بولا
’’چونا اور وہ بھی تمہیں۔۔۔۔۔ توبہ!!‘‘ کانوں کو ہاتھ لگاتے وہ بولی
’’اچھا بتاؤں نا کب پوری کروں گی شرط؟‘‘ موسی بےصبرا ہوا
’’بہت جلدی‘‘ اسنے جواب دیا
’’کتنی جلدی؟‘‘موسی نے دوبارہ سوال
’’بہت زیادہ جلدی‘‘سروج پھر سے بولی
’’مجھے انتظار رہے گا‘‘موسی ابراہیم کو اٹھائے بولا
’’مجھے بھی‘‘ ڈریسنگ کی طرف جاتی سروج خود سے بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ویسے زرار ایک بات تو بتائے‘‘
’’پوچھو‘‘ اسکی چہرے پر لگی ساس کو ٹیشو سے صاف کرتے وہ بولا
’’آپ نے مجھے وہ شروع میں تھپڑ کیوں مارا تھا‘‘ اسنے اداس لہجے میں پوچھا
زرار مسکرادیا اور سر نفی میں ہلایا
’’ان دنوں آہل کی کنڈیشن اسٹیبل نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر میرا موبائل گم ہوجانا۔۔۔۔ میں پریشان ہوگیا تھا۔۔۔۔ بس اسی لیے‘‘ زرار نے وضاحت دی
’’اچھااا!!! اور سٹور روم میں بند کیوں کیا تھا‘‘
’’ھدی!!! کتنی بار بتاؤں میں نے تمہیں بند نہیں کیا تھا‘‘ زرار جھنجھلا کر بولا
’’زرار انکار مت کرے ۔۔۔۔۔ ویسے بھی اب میں نے کونسا مائنڈ کرنا ہے‘‘ ھدی کندھے اچکاتے بولی
’’لسن ھدھد اب اگر تم نے یہ بات چھیڑی تو یہی سے نیچے پھینک دوں گا‘‘ زرار کی وارننگ پر وہ منہ بند کرکے بیٹھ گئی
’’بیسٹ‘‘ وہ بڑبڑائی
’’صرف تمہارا‘‘ زرار بھی بڑبڑایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج عمارہ اور مراد کی مہندی تھی۔۔۔۔۔ فنکشن کمبائن تھا
ابراہیم کو تیار کیے وہ اب خود تیار ہورہی تھی۔۔ جب نظر اپنے ہاتھوں پر گئی۔۔ مہندی سجے ہاتھوں کو دیکھ کر وہ مسکرادی
اتنے میں دروازہ کھولے موسی اندر داخل ہوا۔۔۔۔۔ اس نے فورا سے ہاتھ پیچھے چھپائے
’’کیا ہوا؟‘‘ موسی نے حیرانگی سے پوچھا
’’کچھ نہیں‘‘ سروج نے سر نفی میں ہلایا
’’یہ پیچھے کیا ہے؟‘‘
’’کچھ بھی نہیں‘‘
’’دکھاؤ مجھے‘‘ موسی نے اسکی کلائیاں پکڑ لی اور زبردستی انہیں آگے کیا
’’یہ!!!‘‘ وہ حیرت سے اس کے مہندی سجے ہاتھوں کو دیکھنے لگا
’’کیسی لگی؟‘‘ سروج نے سوال کیا۔۔۔۔ موسی نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اسکے ہاتھوں کو
’’بہت خوبصورت‘‘ مہندی سے رنگے ہاتھوں کو دیکھ کر اسکی نظریں ایک جگہ ٹھہر گئی
وہ اسکا نام تھا۔۔۔۔۔۔ محبوب کی ہتھیلی پر مہندی سے سجے اسکے عاشق کا نام
موسی نے اسکے ہاتھ کا بوسہ لیا
’’شکریہ میری شرط پوری کرنے کے لیے‘‘ موسی محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے بولا
موسی نے سروج سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان ظالموں کو سزا دلوائے گا ۔۔۔ بدلے میں صرف ایک چھوٹی سی خواہش تھی۔۔۔۔۔ اپنے نام کی مہندی اسکی ہتھیلی پر دیکھنا چاہتا تھا وہ
بس یہی تو جو موسی نے اتنے عرصے میں سروج سے مانگا تھا
۔۔۔۔۔۔
شمائلہ نے اپنی عدت پوری کرلی تھی۔۔۔۔ مگر وہ اب کسی بھی قسم کے رشتے میں بندھنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔۔ مگر اشنا پھپھو کہ زور دینے پر اسنے فرقان لودھی سے رابطہ کیا اور اس سے شادی کی خواہش ظاہر کی
فرقان لودھی کو اور کیا چاہیے تھا۔۔۔۔۔ وہ پہلی ہی فلایئٹ سے پاکستان واپس آئے اور سادگی سے نکاح کرکے شمائلہ کو اپنے ساتھ لے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی کا فنکشن بہت خوبصورتی سے سرانجام ہوا تھا
ندا ھدی سے معافی مانگ چکی تھی اور ھدی نے بھی کھلے دل سے معزرت کو قبول کیا تھا
ویسے تو زرار علی صاحب سے بات کرلیتا مگر وہ محبت اور عزت سوچکی تھی جو کبھی ان کے لیے وہ دل میں رکھتا تھا
آج سب حیدر صاحب کی طرف موجود تھے
’’تو بس بھائی صاحب پھر یہ ڈیسائڈ ہوا کہ ھدی کا فورتھ سمسٹر ختم ہوتے ہی ان دونوں کی منگنی کردی جائے‘‘ مسز علی بولی تو ھدی شرما گئی
’’منگنی کیوں رکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ انہیں کہوں شادی رکھے‘‘ زرار موسی کے کان میں بولا
’’صبر میرے شیر۔۔۔۔۔ بس دو سال کی ہی تو بات ہے‘‘ موسی اسکی حالت انجوائے کرتا بولا
’’کمینہ‘‘ زرار صرف اتنا بول پایا
اور ھدی کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔ جس کے چہرے پر شرم سے گہر رنگ چڑھ گیا تھا
’’مائی ہوپوئی‘‘ وہ خود سے بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’پھپھو آپ خوش ہے نا؟‘‘ اشنا اقبال کے پاس بیٹھے ھدی نے پوچھا
’’میری بیٹی خوش ہے؟‘‘ انہوں نے محبت سے اسکا چہرہ تھام کر پوچھا
’’ہاں ۔۔۔۔۔ بہت زیادہ‘‘ اسنے اپنے دل کی بات انہیں بتائی
’’تو بس پھر میں بھی خوش ہوں‘‘ اسکا ماتھا چومتے وہ بولی
ھدی انہیں اپنے ساتھ حیدر صاحب کے گھر لے آئی تھی
مگر وہ اب اپنی پھپھو کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتی تھی اسی لیے اس نے زرار سے وعدہ لیا تھا کہ شادی کے بعد پھپھو ان کے ساتھ رہے گی۔۔۔۔ جس پر زرار دل و جان سے راضی تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’سروج کہاں ہوں؟‘‘ گھر داخل ہوتے اس نے آواز لگائی
’’کمرے میں ہوں‘‘ اوپر سے آواز آئی
سیڑھیاں تین چار پھلانگوں میں پار کرتا وہ کمرے میں داخل ہوا
اس کے ہاتھ میں ایک انویلپ تھا
’’یہ لو‘‘ اسکے سامنے انویلپ رکھے وہ بولا
’’یہ کیا ہے؟‘‘ سروج نے ناسمجھی سے پوچھا
’’خود کھول کر دیکھ لوں‘‘ موسی نے کندھے اچکائے
’’بلکل نہیں۔۔۔۔۔ ہرگز نہیں‘‘ اسنے سر نفی میں ہلایا
’’کیوں؟‘‘ موسی نے سوال کیا
’’تمہارے دیے گئے انویلپ ہمیشہ مجھے ہارٹ اٹیک دینے کے در پر ہوتے ہیں‘‘ سروج کا اشارہ سمجھتے موسی دل کھول کر ہنسا
’’ہاہاہا۔۔۔۔ آئی سویر ایسا کچھ نہیں ہے کھولو تو سہی‘‘ موسی کے یقین دلانے پر اسنے ڈرتے ڈرتے انویلپ کھولا تو آنکھیں بےیقینی سے پھیل گئی
وہ کسٹڈی پیپرز تھے۔۔۔۔۔ جن کے مطابق موسی ابراہیم کی کسٹڈٰی سروج کے نام کرچکا تھا
’’موسی یہ؟‘‘ سروج حیران ہوا
’’ہماری شادی کے بعد تمہارا پہلا تحفہ‘‘ موسی مسکراتے ہوئے اس کے برابر بیٹھ گیا
’’اور اگر میں ابراہیم کی کسٹڈٰی لینے کے بعد تمہیں چھوڑ گئی‘‘ سروج نے اسے ڈرانا چاہا
’’ناممکن۔۔۔۔ کیونکہ تمہاری کسٹڈی اب تاعمر میرے نام لکھ دی گئی ہے نکاح کی صورت میں‘‘ اسکے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھامے وہ بولا تو سروج کی مسکراہ دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریحہ یونی سے تھکی ہاری لوٹی۔۔۔۔۔ اس دن کے بعد اسکا مائز سے سامنا نہیں ہوا تھا۔۔۔۔ جس پر وہ شکرگزار تھی
ابھی وہ کمرے میں آئی ہی تھی کہ نیلم تیزی سے اندر داخل ہوا
’’فریحہ جلدی سے فریش ہوکر تیار ہوجاؤں‘‘ نیلم اسے حکم دیتے بولی
’’خیریت؟‘‘ فریحہ نے حیرانگی سے پوچھا
’’ہاں بس تم تیار رہوں۔۔۔۔۔ اوکے‘‘ نیلم کی بات پر اس نے ناسمجھی سے سر اثبات میں ہلادیا
تھوڑی دیر بعد وہ نیچے آئی تو نیلم کی ساری فیملی وہاں تھی
’’ارے زھرا آپا۔۔۔۔۔ ہالہ باجی۔۔۔۔۔۔ آپ سب یہاں‘‘
’’اسلام علیکم‘‘ اس نے سب سے سلام لیا جسکا سب نے جواب دیا
’’ادھر آؤ میری جان‘‘ زھرا آپی نے بلایا تو وہ ان کے پاس جابیٹھی
’’بھئی حسیب مجھے تو کوئی اعتراض نہین۔۔۔۔۔ اب تم بتاؤ تمہارا کیا جواب ہے‘‘
’’آپا یہ بھلا کیسی بات ہوئی۔۔۔۔۔ ہماری طرف سے بھی ہاں ہی سمجھے‘‘
’’تو پھر رسم کرلوں؟‘‘ زھرا آپی نے اجازت چاہی تو حسیب نے سر اثبات میں ہلادیا
فریحہ تو حیرانگی سے سب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔ جب زھرا آپی نے ایک نفیس سی انگوٹھی نکال کر اسکے ہاتھ میں پہنا دی
’’آج سے فریحہ میرے مائز کی‘‘ وہ اسے محبت سے ساتھ لگاتے بولی
فریحہ تو اپنی جگہ سن رہ گئی
وہ سب کو حیرت سے دیکھ رہی تھی
’’تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں؟‘‘ نیلم نے اسے پوچھا تو اس نے سر جھٹ سے نفی میں ہلایا
’’میں۔۔۔میں آئی ابھی‘‘ وہ فورا اپنے کمرے میں بھاگی
لمبے لمبے سانس لیے اس نے خود کو کمپوز کیا
’’خوش ہوں؟‘‘ یہ سوال مائز کی طرف سے آیا تھا
’’مائز۔۔۔ یہ سب؟‘‘
’’کیا؟ محبت نہیں مجھ سے۔۔۔۔۔۔ مجھے لگا تم خوش ہوگی‘‘
’’یہ۔۔یہ حقیقت ہے؟‘‘ اسے ابھی بھی یقین نہیں آیا
’’دیکھو فریحہ تم جانتی ہوں مجھے۔۔۔۔۔ میں ایک کمزور یا ڈرپوک جو بھی کہہ لو۔۔۔۔۔ میں ایک ایسا انسان ہوں جو شائد اپنے لائف پارٹنر کو کبھی سکیور نا کر پائے۔۔۔۔۔ وجہ جانتی ہوں تم۔۔۔۔۔۔ بیمار ہوں۔۔۔۔۔۔۔ بچوں جیسی حرکتیں کرتا ہوں۔۔۔۔ سوچتا تھا مجھ سے کس کو محبت ہوگی۔۔۔۔ مگر پھر تم نے کہاں کہ مجھ سے محبت ہے۔۔۔۔۔۔ ایک منٹ کو لگا مزاق کررہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر پھر آنکھیں دیکھی۔۔۔۔۔۔۔ وہ جھوٹ نہیں بولتی۔۔۔۔۔۔ پہلے تو حیران ہوا کہ کہی تم پاگل تو نہیں۔۔۔۔۔ مگر پھر سوچا مائز تم جیسوں سے محبت کرنے والے پاگل روز روز نہیں ملتے تو اسے جانے مت دوں‘‘ وہ ہنسا تو فریحہ محبت سے اسے دیکھنے لگی
’’ساتھ دوں گی اس پاگل کا نارمل ہونے میں؟‘‘ اسنے فریحہ کے سامنے ہتھیلی پھیلائی تو اسنے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھ دیا
’’دوں گی ساتھ؟‘‘ مائز کے پوچھنے پر اس نے جھٹ سے سر ہاں میں ہلایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالکونی میں کھڑی وہ چاند کو غور سے دیکھ رہی تھی
’’کیا سوچ رہی ہوں‘‘ اسکے برابر میں کھڑے موسی نے پوچھا
’’کچھ نہیں چاند بہت خوبصورت ہے نا؟‘‘ سروج نے سوال کیا
’’ہاں ہے تو سہی۔۔۔۔۔ مگر میرے چاند سے کم‘‘ موسی اسکی طرف دیکھ کر بولا تو سروج ہنسنے لگی
’’تم اور تمہارا فلرٹ‘‘ سروج نے آنکھیں گھمائی
’’کونسا فلرٹ۔۔۔۔ بھئی میرا چاند ، میرا بیٹا زیادہ خوبصورت ہے‘‘ موسی کے بات بدلنے پر سروج کا منہ کھل گیا
’’موسی تم!!‘‘ اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تو صوفہ سے کشن اٹھا کر اسے مارنا شروع کردیا
میں تمہیں چاند کہوں یہ ممکن تو ہے مگر!!!
لوگ تجھے رات بھر دیکھیں یہ مجھے گوارا نہیں
باہوں میں اسے سمیٹے اسکے چہرے کو نظروں سے دیوانہ وار سیراب کرتے وہ ایک جذب سے بولا
سروج کھلکھلا کر ہنس دی
’’ مجھے تمہاری شاعری کبھی بھی سمجھ نہیں آئے گی‘‘ سروج ہنس کر بولی
’’محبت تو سمجھ میں آتی ہے نا؟‘‘ موسی کے سوال پر وہ ایک بار پھر کھلکھلا دی
’’مائی گرل۔۔۔۔ مائی وائف۔۔۔ اونلی مائن‘‘ اسکے ماتھے کو محبت سے چومتے وہ بولا
’’ٹھڑکی نمبر ون‘‘ سروج اسکے سینے لگے ہنسی دبائے بولی تو موسی کا جاندار قہقہ پورے کمرے میں گونجا
ختم شد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
