Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27

صبح موسی کی آنکھ دیر سے کھلی تھی، دکھتے سر کو تھامے وہ واشروم کی طرف بڑھا
فریش ہونے کے بعد وہ کمرے میں آیا اور پرفیوم کرنے کے بعد نیچے چل دیا
’’ارے بیٹا اٹھ گئے ناشتہ لگواؤ؟‘‘ بوا نے اسے نیچے آتے دیکھ کر پوچھا
’’جی بوا لگوایئں‘‘ کرسی کھینچ کر بیٹھتے وہ بولا
بوا سر ہلاتے کیچن سے ناشتہ لینے چلی گئی
دس منٹ بعد وہ گرماگرم پراٹھوں کے ساتھ واپس آئی
’’یہ لو‘‘ اسکے سامنے ناشتہ رکھتے وہ بولی
’’بوا سب کہاں ہیں؟‘‘ گھر میں غیر معمولی خاموشی دیکھ کر اسنے پوچھا
’’بیٹا تمہارے ماں باپ تو ہسپتال گئے ہیں اور ندا بیٹی اپنی کسی دوست سے ملنےگئی ہے‘‘ انہوں نے جواب دیا
’’مام ڈیڈ ہوسپٹل خیریت‘‘ موسی کو حیرانگی ہوئی
’’جی بچے،، وہ ملنے گئے ہیں اس سے۔۔۔۔ کیا نام ہے اس بچی کا؟ ہاں سروج۔۔۔ یاسین صاحب کی بہو‘‘ بوا نے اسکو بتایا جبکہ وہ سر ہلا کر رہ گیا
موسی کا دماغ کل سے عجیب کشمکش میں دوڑ رہا تھا
’’ہمم تو جو بھی کرنا ہے مجھے جلد ہی کرنا ہوگا‘‘ وہ خود سے بڑبڑایا
’’کچھ کہا؟‘‘ بوا نے اس سے پوچھا
’’نہیں کچھ نہیں‘‘ اسنے سر نا میں ہلا دیا
’’اچھا بوا مجھے کچھ کام ہے میں چلتا ہوں‘‘ بوا کو بولتے ناشتے سے ہاتھ کھینچتے وہ بولا
’’اللہ حافظ‘‘ کہتے ہی وہ تیزی سے باہر چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’آنٹی انکل؟‘‘ ھدی ابراہیم کو اٹھائے سروج کے کمرے کی طرف جارہی تھی جب اسے راستے میں موسی کے ماں باپ مل گئے
’’ارے بیٹا کیسی ہوں؟‘‘ مسز علی نے پوچھا
’’میں ٹھیک آنٹی آپ دونوں کیسے ہیں اور یہاں؟اور ندا کیسی ہے؟ خیریت سب کچھ ٹھیک ہے نا؟‘‘ ھدی نے پریشانی سے پوچھا
’’جی جی بیٹا سب ٹھیک ہے دراصل ہم سروج سے ملنے آئیں تھے‘‘ انہوں نے جواز پیش کیا
’’اچھا چلے آئیں میں آپ کو لے چلو‘‘ ھدی انہیں کہتے آگے کی طرف بڑھی
مسز علی کی نظریں پورے راستے اسکے ساتھ لگے ابراہیم پر تھی، نجانے کیوں مگر انہیں وہ بہت اپنا سا لگا تھا
ساری سوچیں جھٹکتے وہ روم میں آئی تو ڈاکٹر کوسروج کے پاس کھڑے پایا
’’بھابھی کیا ہوا سب ٹھیک ہے نا؟ ڈاکٹر کیا ہوا ہے؟‘‘ ھدی کی آںکھیں پل بھر میں بھیگ گئی تھی
’’ارے ٹینشن مت لے کچھ نہیں ہوا بلکہ اچھی بات یہ ہے کہ اب انکی حالت خطرے سے باہر ہے۔۔۔۔ اوکے مس سروج اب آپ ریسٹ لے‘‘ ڈاکٹر اس سے کہتے باہر چلے گئے
ابراہیم سروج کودیکھ کر اسکی طرف لپکنے لگا
جب سروج نے ہاتھوں کو تھوڑا سا آگے کرکے اسے پکڑ لیا
’’بھابھی آپ ٹھیک تو ہے نا؟‘‘ ھدی اسکے گلےلگ کر پوچھنے لگی
’’میری جان میں بلکل ٹھیک ہوں‘‘ وہ مسکراہ کر بولی
ایک ہی دن میں وہ نچڑ کر رہ گئی
’’السلام علیم انکل، آنٹی‘‘ مسٹر اور مسز علی کو دیکھ کر اسنے فورا سلام کیا
’’وعلیکم السلام بیٹا کیسی ہوں؟‘‘ مسز علی نے آگے بڑھ کر ماتھا چومتے پوچھا
’’الحمداللہ بلکل ٹھیک‘‘ وہ ہلکا سا مسکرائی
’’ویل ینگ لیڈی جلدی جلدی صحت یاب ہوجائے‘‘ مسٹر علی اسکے سر پر ہاتھ پھیرتےبولے
’’آئی ایم آل فائن انکل‘‘ اسنے جواب دیا۔۔۔۔۔ ابراہیم تو اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑے اب مٹھی کو منہ میں ڈالے۔۔۔۔۔ ٹکڑ ٹکڑ سب کو اپنی بڑی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا، اور مسز علی ابراہیم کو غور سے دیکھنے لگی
’’اووں،اووں،، آااں‘‘ ابراہیم نےاچانک رونا شروع کردیا
’’ارے اسے کیا ہوا؟‘‘ سروج حیران ہوئی
’’اوہ،، ایم سوری بھابھی وہ دراصل ابراہیم کو بھوک لگی ہے، اسے فیڈر دینا ہے‘‘ ھدی ماتھے پر ہاتھ مارتے بولی
’’اچھا چلو میں دیتی ہوں اسے‘‘ سروج اپنی جگہ سے اٹھتے بولی
’’بھابھی!!! کیا کر رہی ہے آپ؟۔۔ میں بنا لاتی ہوں نا آپ ریسٹ کرے‘‘ ھدی اسے کہتی تیزی سے نرسری کی طرف بڑھی اور ایک نیا فیڈر اور دودھ کا ڈبہ لیکر دودھ بنانے لگی
’’بس بس میرا بچا بس،، پھوپھو آرہی ہے نا فیڈر لیکر بس میری جان رونا نہیں‘‘ وہ بےبس سی ابراہیم کو چپ کروانے لگی، جس کے رونے میں مزید شدت آگئی
سروج کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، اسکی خود کی طبیعت ابھی سنبھلی نا تھی
’’لاؤ اسے مجھے دوں، میں چپ کرواتی ہوں‘‘ اسکی باہوں سے ابراہیم کو لیے مسز علی بولی
’’ارے نہیں آنٹی آپ کو زحمت کرنے کی ضرورت نہیں‘‘ اسے برا لگا
’’زحمت کیسی؟ تم اپنی حالت تو دیکھو اور پھر ابراہیم کا رونا تم آرام کروں میں اسے باہر لےجاتی ہوں‘‘ وہ اسے پیار سے ڈپٹے بولی
’’آر یو شیور؟‘‘ سروج نے اچھنبے سے پوچھا
’’جی بچے چلوں آپ ریسٹ کروں‘‘ وہ ابراہیم کو لیے باہر چلی گئی
’’تم ٹھیک ہوں؟‘‘ مسٹر علی نے پوچھا
’’جو کچھ ہوا اسکے بعد کیا ٹھیک ہوجانا چاہیے؟‘‘ وہ تلخی سے مسکرائی
’’سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا بیٹا؟‘‘ انہوں نے ہمت بندھائی
’’کیسے؟ میں نے سب کچھ ختم کردیا انکل سب کچھ۔۔۔۔ بابا اور عمیر۔۔۔۔ کتنی محنت کی تھی نا انہوں نے اس بزنس کے لیے۔۔۔ اسے آسمان کی بلندیوں پر پہنچانے کے لیے۔۔۔ اور بس ایک رات۔۔۔۔ ایک رات میں سب کچھ ختم ہوگیا‘‘ آنسو لڑکھ کر اسکی گالوں پر بہہ گئے
’’نہیں بچے ایسا نہیں کہتے۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائے گا اور یہ میرا وعدہ ہے آپ سے‘‘ وہ اسکے جھکے سر کو تھپکتے بولے
’’اچھا ویسے یہ نانی نواسہ کہاں رہ گئیں؟‘‘ وہ شرارتی انداز میں بولے تو سروج کو ہنسی آگئی
’’ایک بات پوچھو؟‘‘ سروج نے سوال کیا
’’جی پوچھیے‘‘ انہوں نے اجازت دی
’’آپ کو ابراہیم کی یاد نہیں آتی؟ دل نہیں چاہتا کہ آپ اس سے ملے؟ وہ پاس رہے آپ کے؟‘‘ سروج کے پوچھنے پر انکی آنکھیں زرا سی بھیگی
’’آتی ہے نا بلکل آتی ہے۔۔۔۔ پھر اپنی بیٹی کا کیا گیا گناہ بھی یاد آتا ہے‘‘ وہ سخت لہجے میں بولے
’’وہ گناہ نہیں غلطی تھی انکل‘‘ سروج نے انہیں سمجھانا چاہا
’’اچھا چلو تم ریسٹ کرو شاباش‘‘ اسکا سر تھپکتے وہ بولے اور دروازے کی طرف بڑھے
’’ انکل!!‘‘ سروج نے انہیں آواز دی۔۔۔ وہ رکے مگر مڑے نہیں
’’ہوسکے تو اسے معاف کردیجیے گا۔۔۔ اپنی ماہم کو معاف کردیجیے گا۔۔۔۔ وہ آپکی اولاد ہے۔۔۔۔‘‘ سروج کی بات پوری ہوتے ہی وہ باہر کو چل دیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسی نے گاڑی یاسین ولا کے سامنے پارک کی۔۔۔۔ گیٹ پر کھڑے گارڈ کو راستے سے ہٹانا مشکل نا تھا
’’السلام علیم بھائی‘‘ اسنے گارڈ کے پاس جاتے سلام کیا
’’وعلیکم السلام۔۔۔ آپ کون صاحب؟‘‘ گارڈ نے شکی انداز میں پوچھا
’’وہ میں زماد صاحب کا بیٹا ہوں۔۔۔۔۔ انہوں نے مجھے یہاں بھیجا ہے۔۔۔ ھدی اور سروج بی بی کا کچھ سامان لینا ہے‘‘ موسی نے کہانی بنائی
’’مگر صاحب ہم کو تو ایسا کوئی کال نہیں آیا‘‘ گارڈ نے جواب دیا
’’او اچھا سچ میں۔۔۔۔ ہاں وہ دراصل ۔۔۔ تم تو جانتے ہوں نا کہ سروج بی بی ہسپتال میں ہے تو یاد نہیں رہا ہوگا‘‘ وہ ماتھے پر انگلی مارتے بولا
’’اچھاااا۔۔۔۔۔۔ مگر صاحب ہم آپکو اندر جانے نہیں دے گا‘‘ گارڈ نے سر نفی میں ہلایا
’’کیوں؟‘‘ موسی کے ماتھے پر بل پڑے
’’صاحب تم اپنا حلیہ تو دیکھو۔۔۔۔ کہی سے کوئی شریف النفس نہیں لگتا آپ‘‘ گارڈ کی بات پر تو موسی کو تیلی لگ گئی
’’اچھا۔۔۔ شریف نہیں لگتا تو کیا لگ رہا ہوں؟‘‘ دانت پیستے اس نے پوچھا
’’ہم کو تو دہشتگرد معلوم ہوتا ہے آپ‘‘ اسکے اردگرد چکر کاٹتے گارڈ نے جواب دیا
’’اوخانہ خراب!!! کہی تم سچ کا دہشتگرد تو نہیں۔۔۔ اور ہم تم کو ایویں عزت دے رہا ہے‘‘ ٹوپی پر ہاتھ مارتے وہ خود سے بولا
’’یا اللہ‘‘ موسی سانس خارج کرتے بڑبڑا
’’او بھائی میں یاسین انکل کے دوست علی زماد کا بیٹا اور انکی بہو سروج کا جاننے والا ہوں۔۔۔۔۔ مجھے ضروری کام ہے اندر جانے دوں‘‘ موسی جھنجھلایا
’’نا۔۔ ہرگز نہیں‘‘ گارڈ اکڑ گیا
’’گل خان کون آیا ہے؟۔۔۔ جی آپ کون؟‘‘ اندر سے آتی میڈ نے پہلے گارڈ سے پوچھا اور پھر موسی سے
’’جی میں علی زماد صاحب کا بیٹا ہوں‘‘ موسی نے اپنا تعارف کروایا
’’او!!موسی صاحب آپ یہاں؟ خیریت؟‘‘ ملازمہ کے پہچان جانے پر اسنے سکون کا سانس لیا
’’جی وہ مجھے کچھ ڈاکومینٹس چاہیےتھے سروج بی بی کے بزنس کے حوالے سے‘‘ اسنے فورا کہانی بنائی
’’مگر صاحب تم تو بولا تھا کہ ھدی اور سروج بی بی کا سامان لینے آیا ہوں‘‘ گارڈ کے بیچ میں بولنے پر موسی آنکھیں بند کیے غصے پر قابو پانےکی کوشش کرنے لگا
’’ارے صاحب آپ اندر آیئے جو چاہیے آپ لےلے‘‘ملازمہ کے بولنے پر وہ سو کی سپیڈ سے اندر داخل ہوا
’’سروج بی بی کا کمرہ کہاں ہے؟‘‘ اسنے سوال کیا
’’جی وہ سامنے تیسرا کمرا۔۔۔ وہی سروج اور ھدی بی بی کا کمرہ ہے‘‘ ملازمہ نے بتایا
’’شکریہ۔۔۔ وہ دراصل مجھے ماسٹر کی چاہیے مجھے دوسرے کمروں کا بھی چکر لگانا ہے۔۔۔۔ رینوویشن کروانی ہے نا اسی لیے‘‘ موسی نے ایک اور کہانی گڑھی
’’جی ٹھیک‘‘ ملازمہ سر ہاں میں ہلاتی چابی لینے چلی گئی
’’یہ لے صاحب‘‘ ماسٹر کی اسکے ہاتھ میں تھمادی گئی
موسی کی مسکراہٹ بہت گہری ہوگئی
وہ تیزی سے سروج کے روم میں داخل ہوا۔۔ چابی کی مدد سے دروازہ لاک کیا
اب وہ الماری کی طرف بڑھا، اسنے کھولنا چاہا مگر لاک لگا تھا۔ کچھ سوچتے پاکٹ نائف نکالا اور لاک کھولنے لگا چند منٹ بعد کلک کی آواز سے لاک کھل گیا
موسی کی خوشی کی کوئی انتہا نا رہی
’’تو دیکھتے اب مجھے کیا مزیدار ملتا ہے یہاں‘‘ اسنے پوری الماری کھنگال ماری مگر کچھ نا ملا
وہ مڑنے لگا جب نظر سائڈ پر لگے لکڑی کے تختے پر گئی۔۔۔۔ کچھ سوچتے ہوئے موسی نے اسکو چھوا تو وہ ایک سیکریٹ ڈرا جیسا معلوم ہوا۔۔۔۔۔ موسی نے اسے پیچھے کو کھسکانا شروع کیا تو اسے ایک خاکی لفافہ ملا
موسی نے بنا کچھ سوچے سمجھے لفافہ اٹھا لیا
اسنے لفافہ کھولا تو اس حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے
لفافے میں ایک نکاح نامہ تھا جس کے مطابق سروج اور عمیر کا نکاح چھ ماہ پہلے ہوا تھا
’’یہ۔۔یہ کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ موسی بھوکلا گیا
موسی کو بھی یہی انفارمیشن ملی تھی کہ عمیر کی موت چھ ماہ پہلے کار ایکسیڈیٹ میں ہوئی تھی
سب کچھ گھوم رہا تھا اسکا دماغ سن ہونے کو آیا تھا
چھ ماہ پہلے سروج اور عمیر کا نکاح۔۔۔۔ عمیر کی حادثاتی موت۔۔۔۔۔۔۔ اور اب ابراہیم جو شائد چھ ماہ کا ہی تھا
’’تو کیا سروج اور عمیر کا ناجائز تعلق؟؟‘‘ یہ سوچ سب سے پہلے موسی کے دماغ میں آئی
’’نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔۔۔ سروج۔۔۔۔۔ سروج ایسی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ نہیں ہے ایسی‘‘ خود سے بڑبڑاتے وہ تیزی سے گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔ اور گاڑی سڑک کی جانب دوڑا لی
اسکا دماغ پھٹ رہا تھا
’’سروج۔۔۔۔سروج۔۔۔۔۔سروج‘‘ بس یہی نام حواسوں پر چھایا تھا
’’سروج نے کیا واقعی ایسا کیا تھا؟‘‘ وہ سوچنے لگا
’’نہیں ۔۔۔۔ نہیں ہرگز نہیں‘‘ اسنے اپنی سوچ کو جھٹکا
’’تو کیا سروج بھی عمیر کا ایک شکار تھی؟ہاں یہی ہوسکتا ہے۔۔۔۔ ضرور اس عمیر نے کچھ کیا ہوگا۔۔ ورنہ سروج ایسا کچھ نہیں کرسکتی‘‘ یہ خیال سب سے پہلے ذہن میں آیا
’’آئی سویر عمیر جو کچھ تم نے ماہم اور سروج کے ساتھ کیا تھا نا۔۔۔ اب اسکا ایسا بدلہ لوگا تمہاری لاڈلی بہن سے کے زمانہ دیکھا گا‘‘ اسکی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج کے کمرے کی جانب بڑھتے اسکے قدم خودبخود جم گئے
سامنے کا منظر دیکھ کر اسے دل میں چبھن سی محسوس ہوئی
مسز علی ھدی کے ہاتھ سے فیڈر لیکر روتے ہوئے ابراہیم کو پلارہی تھی
جبکہ ھدی اور مسٹر علی ابراہیم کو یوں مسز علی کو پریشان کرتا دیکھ کر ہنسی دبائے کھڑے تھے
اچانک ھدی کی نظر سامنے کھڑے زرار پر پڑی
’’زرار!!!‘‘ وہ بولی، مسٹر اینڈ مسز علی کا دھیان بھی اسکی طرف گیا
ھدی فورا اسکی جانب لپکی
’’زرار۔۔۔ بھابھی کو ہوش آگیا ہے۔۔۔۔۔ وہ، وہ بلکل ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ آپ ملے گے ان سے؟‘‘ ھدی کی بات پر اسکی نظروں کا ارتکاز بدلا اور ھدی کے چمکتے چہرے کو دیکھ کروہ بھی مسکرا دیا
کتنی خوش تھی وہ۔۔۔۔۔۔ اور زرار فلحال کوئی فضول کا ڈرامہ کرکے ماحول خراب کرنے کے موڈ میں نہیں تھا
’’تم یہ سامان پکڑو میں سروج سے مل کر آیا‘‘ وہ راہداری سے گزرتے ان دونوں میاں بیوی پر ایک بھی نگاہ غلط ڈالے بغیر وہ اسکے کمرے کی جانب چل دیا۔۔۔ اسکے اس عمل پر مسٹر علی کو تو تکلیف ہوئی۔۔ مگر مسز علی نے منہ ہی موڑ لیا
’’یہ یہاں کیا کر رہا ہے؟‘‘ ھدی کی وجہ سے وہ دبی آواز میں چلائی
’’آرام سے بیگم ہوسپٹل ہے۔۔۔۔۔۔ کسی قسم کا کوئی ڈرامہ نہیں‘‘ مسٹر علی کے تنبیہ کرنے پر وہ منہ بند کرکے بیٹھ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’فائنلی ہوش آہی گیا تمہیں‘‘ کیا کرارا طنز تھا
سروج نے زرار کو گھورا جو آنکھیں گھمائے مسکراہ کر اسکے پاس پڑے سٹول پر آن بیٹھا
’’ہاں سوتے سوتے تھک گئی تھی سوچا تھوڑا جاگ لو‘‘ سروج نے جوابی کاروائی کی
’’او مائی گاڈ سروج ۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنا بکواس سینس آف ہیومر ہے تمہارا۔۔۔ ابھی تک وہی ٹھنڈی جگتیں‘‘ زرار کی بات پر وہ جل بھن کر رہ گئی
’’شٹ اپ‘‘ وہ دوبارہ بیڈ پر لیٹ گئی
’’کیسی ہوں اب؟‘‘ تھوڑی دیر بعد اسے زرار کی آواز سنائی دی۔۔۔۔۔ یقیننا اس نے فکرکے تحت پوچھا تھا
’’جی رہی ہوں‘‘ وہ تلخی سے مسکرائی
’’اتنی ناامیدی؟‘‘ زرار کو حیرت ہوئی
’’ہاں شائد تھک رہی ہوں‘‘
’’مجھے تم پر یقین ہے سروج عمیر‘‘ زرار نے ہمت بندھائی
صرف زرار تھا جو اسے سروج عمیر بلاتا تھا
آنکھیں بند کیے لیٹی سروج مسکراہ دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماضی
سروج کو یونی جوائن کیے ایک مہینہ ہوگیا تھا
ایسے میں روزانہ اسکا سامنہ عمیر سے ہوجاتا تھا
عمیر کی بولتی نظریں کچھ ناسمجھتے ہوئے بھی سروج کو بہت کچھ سمجھا چکی تھی
وہ اتنی بھی بچی نا تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب اسکا ایک ہی مقصد تھا اور وہ تھا عمیر سے پیچھا چھڑوانا
یونہی ایک دن وہ اپنی کلاسز سے جلدی فری ہوگئی تھی۔۔۔۔۔بابا کو اسے لینے آنے میں دیر تھی تو وہ گراؤنڈ کی طرف چلی گئی۔۔ مگر وہاں پہلے سے ہی عمیر کا گروپ موجود تھا
انہیں دیکھتےہی سروج اپنی جگہ پر رک گئی۔۔۔۔۔۔ عمیر کے دوست بھی سروج کو دیکھ چکے تھے اور اب عمیر کو بھی اسکی طرف اشارہ کرکے بتایا تھا
’’چل لالے آج تو تواپنے دل کی بات کہہ ہی دے‘‘ عمیر کے ساتھ بیٹھا عبداللہ بولا
’’اتنی جلدی؟‘‘ عمیر گڑبڑایا
’’تو کیا جب وہ کسی اور کی ہوجائے گی تب کرے گا‘‘ اسکے سر پر چماٹ مارے عبداللہ بولا
’’اچھا اچھا جاتا ہوں‘‘ عمیرڈیفینس میں ہاتھ اٹھائے بولا
اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر سروج کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔۔۔۔۔ کچھ بھی سوچے سمجھے بنا اسنے مخالف سمت میں بھاگنا شروع کردیا
عمیر بھی اسے پیچھے بھاگا۔۔۔۔۔ اور آوازیں دی مگر وہ چھپ چھپا کر ایک ویران گوشے کی طرف آگئی
عمیر نے دیکھا تو اسے نا ملی
اس بات کا یقین کرتے کے عمیر جاچکا ہے وہ واپس مڑنے لگی مگر سامنے کا منظر دیکھ کر اسکی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی۔۔۔۔۔ جب دو لڑکے زبردستی ایک لڑکے کے منہ میں کچھ ڈال رہے تھے
تھوڑا قریب جاکر دیکھا تو وہ اسے زبردستی شراب پلارہے تھے۔ مگر وہ لڑکا لڑرہا تھا اور خود کو آزاد کروانے کی کوشش میں تھا
سروج نے ارد گرد نظر دوڑائی تو ایک پتھر اٹھا کر اسکے سر پر دے مارا
ان لڑکوں میں سے ایک کی چیخ بلند ہوئی
ان دونوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک پل کو گڑبڑا گئے
’’چھوڑو اسے‘‘ سروج بےخوف لہجے میں بولی۔۔۔۔۔ اب کی بار وہ دونوں قہقہ لگا کر ہنس دیے
’’کیوں بھئی گلفام چھوڑ دے اسے؟‘‘ اس لڑکے نے دوسرے سے پوچھا
’’ہاں چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔۔۔ ویسے بھی شراب کا اہتمام ہوچکا ہے اور اب تو شباب بھی۔۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ مکروہ ہنسی ہنسے
سروج کو آس پاس خطرے کی گھنٹیاں بجتی محسوس ہوئی
اب وہ دونوں لڑکے قدم اٹھاتے اسکی طرف آرہے تھے
’’دور رہو مجھ سے‘‘ سروج ایک بار پھر دھاڑی
’’اوہ میں ڈر گیا‘‘ ان میں سے ایک ہنسا
’’آج تو چڑیا کا شکار ہوگا‘‘ وہ دونوں اور اونچا ہنسے
اب سروج کو خوف محسوس ہوا اور آنکھوں میں آنسو آگئے
اس سے پہلے کے وہ کچھ کر پاتے۔۔ پیچھے سے اس لڑکے نے اٹھتے ایک لکڑی کی موٹی چھڑی اٹھائے زور سے ان دونوں کے سروں میں ماری
سروج کی چیخ نکل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کانپنے لگی
عمیر جو ابھی تک وہی سروج کو ڈھونڈ رہا تھا فورا اس طرف آیا جہاں وہ دونوں لڑکے ڈھیر ہوئے تھے۔۔ اور ہوڈی میں چھپا لڑکا اب اپنے بازو سے گرد صاف کرنے لگا
’’سروج۔۔۔۔۔۔۔ سروج۔۔ تم ٹھیک تو ہونا؟‘‘ کانپتی سروج کو تھامے عمیر نے فکرمندی سے پوچھا
’’وہ۔۔وہ‘‘ اس سے آگے اس سے کچھ بولا نا گیا اور عمیر کے گلے لگے وہ رونے لگی
’’ششش۔۔۔۔۔۔۔ بس چپ ٹھیک ہے سب‘‘ عمیر اسے سنبھالنے لگا
جب ہوڈی میں موجود لڑکا ان کے پاس سے گزرا
’’سنوں؟‘‘ عمیر نے اسے روکا اور وہ رک بھی گیا مگر پیچھے مڑ کر نا دیکھا
’’شکریہ تمہارا‘‘ عمیر نے شکریہ ادا کیا
’’شکریہ میرا نہیں اسکا ادا کروں‘‘ سروج کی طرف اشارہ کرتے وہ بولا اور آگے کو بڑھ گیا
’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ عمیر نے پھر سے سوال کیا
’’زرار۔۔۔۔۔۔۔۔ زرار احمد زماد‘‘ کہتے ہی وہ سنجیدہ سا آگے بڑھ گیا
اس واقع کو ایک ہفتہ گزر گیا تھا۔۔۔۔ عمیرنے اپنے سورسز استعمال کرکے ان دونوں لڑکوں کو سخت سزا دلوائی تھی
سروج کو بھی عمیر نے چپ رہنے کو کہا تھا
ٹھیک ایک ہفتے بعد سروج کلاس میں آئی تو زرار کو وہاں پاکر حیرت کا شدید ترین جھٹکا لگا
اسنے پہلے تو اسے نوٹ نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔۔ اتنے میں تین چار لڑکوں کا ایک گروپ اسکے سر پر جاپہنچا
’’اور ہیرو اٹھو یہاں سے یہ ہماری سیٹ ہے‘‘ ان میں سے ایک بولا
’’سنا نہیں تم نے اٹھو یہاں سے‘‘ اب کی بار دوسرا بولا
’’لگتا ہے یہ ایسے نہیں مانے گا‘‘ تیسرا والا اسکا گریبان پکڑے مکہ مارنے والا تھا۔۔۔ جب زرار نے اسکا ہاتھ تھام لیا اور مڑوڑ ڈالا
’’ہاتھ قابو میں رکھو۔۔۔۔۔‘‘ وارننگ دیتے وہ بولا
ساری کلاس اب شوق اور حیرانگی سے اس ڈرامہ کو دیکھ رہی تھی
’’تیری تو۔۔۔۔‘‘ اب کی بار ان چاروں سے زرار سے ہاتھا پائی شروع کردی
زرار کا ہاتھ برے طریقے سے زخمی ہوا تھا
’’یہ کیا ہورہا ہے ؟‘‘ کلاس میں آتے ٹیچر نے حیرت سے پوچھا
زرار نے ایک جھٹکے سے خود کو چھڑوایا اور بیگ اٹھائے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔ سروج بھی اسکے پیچھے بھاگی۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں قدرے ویران گوشے پر جاکر رکے
زرار ایک بینچ پر جا بیٹھا اور اپنے ہاتھ کا معائنہ کرنے لگا
’’تم ٹھیک ہوں؟‘‘سروج نے فکرمندی سے پوچھا
’’تمہیں ٹھیک لگ رہا ہوں؟‘‘ زرار نے اسکے بےتکے سوال کا جواب دیا
’’تمہیں پٹی کروانے کی ضرورت ہے۔۔۔ ایک منٹ ہاں‘‘ کہتے ہی سروج اسکے برابر جا بیٹھی اور اسکا ہاتھ تھامے اچھے سے معائنہ کرکے۔۔۔۔۔۔۔ اسے پانی کی بوتل اور ٹیشو نکالا اور آرام سے اسکا زخم صاف کیا
’’ویسے میں نے تمہیں پہلے نہیں دیکھا‘‘ سروج نے بات شروع کی
’’میں نے لاسٹ ویک جوائن کیا تھا۔۔۔ وہ دونوں مجھے ریگنگ کے نام پر شراب پلا رہے تھے‘‘ زرار نے اس دن والی بات بتائی
’’اوہ۔۔۔۔۔ مگر اب تم فکر مت کروں ، عمیر نے سب کچھ سنبھال لیا ہے‘‘ سروج بولی تو اسکی آنکھوں میں ایک انوکھی چمک اور چہرے پر مسکان۔۔۔ زرار پہلی ہی نظر میں اسکے دل کے حال سے واقف ہوگیاتھا
’’خیر یہ بتاؤ۔ تم کیا یونہی اکیلے رہتے ہوں؟۔۔۔ میرا مطلب تمہارا کوئی دوست نہیں؟‘‘ سروج نے پوچھا
’’میرا کوئی دوست نہیں سوائے ایک کے‘‘ زرار نے جواب دیا
’’اچھا وہ کون؟‘‘ اب سروج اسکے ہاتھ پر پٹی باندھ رہی تھی
’’میرا بھائی۔۔۔۔ میرا دوست۔۔۔۔۔۔۔ میرا دل۔۔۔۔۔۔ میرا رازدار۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا اچھے برے کا ساتھی۔۔۔۔۔۔۔ میرا کزن موسی‘‘ کتنی محبت تھی زرار کے لہجے میں
’’یہاں کوئی دوست ہے؟‘‘ سروج نے سوال کیا
’’نہیں‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’کیونکہ میں ایک بیسٹ ہوں۔۔۔۔۔۔۔ اور بیسٹ دوست نہیں بناتا‘‘ زرار کا لہجہ سرد تھا
’’مجھسے دوستی کروں گے؟‘‘ سروج کے ایکدم سوال کرنے پر وہ چونکا
’’اب دیکھو نا مجھے بھی ایک مہینہ ہوگیا ہے یہاں آئے مگر کوئی دوستی نہیں کرتا‘‘ وہ منہ بنائے بولی
’’اور تمہیں کیوں لگتا ہے کہ میں تم سے دوستی کروں گا؟‘‘ زرار نے آبرو اچکائے سوال کیا
’’کیونکہ اگر میں تمہیں بری لگتی تو اس وقت تم اپنی چوٹ کا لحاظ کیے بنا مجھے بھی ٹھوک دیتے‘‘ وہ ہنسی
زرار کے ہونٹوں کو ہلکی سی مسکان چھو کر ختم ہوگئی
’’آل ڈن۔۔۔۔ تمہاری پٹی ہوگئی ہے۔۔۔۔ اب میں چلتی ہوں اور ہاں میری آفر پر غور کرنا‘‘ وہ اٹھ کر وہاں سے چل دی
’’اپنے دوست کے ساتھ نہیں جاؤ گے‘‘ زرار کی بات پر سروج نے خوشی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات سے اسے دیکھا
’’کیا نہیں چلنا‘‘ زرار نے سوال کیا
’’آفکورس چلنا ہے‘‘ وہ ہنستے بولی
اور یوں ہوا آغاز ایک ایسی دوستی کا جس کی مثال دنیا میں آج تک کہی نہیں ملتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’بھابھی سو گئی کیا؟‘‘ ابراہیم کو لیے روم میں اینٹر ہوتی ھدی نے زرار سے پوچھا
’’ہاں‘‘
’’تمہارے مہمان چلے گئے؟‘‘ زرار نے سوال کیا
’’جی چلے گئے‘‘
’’ویسے ایک سوال پوچھو؟‘‘ ھدی ہچکچائی
’’پوچھو‘‘ زرار نے اجازت دی
’’وہ آپ کے چاچا چاچی ہے نا۔۔۔ ندا کے مام ڈیڈ۔۔۔۔ بھابھی نے بتایا تھا کہ ندا آپ کی کزن ہے۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر آپ ان سے کیوں نہیں ملے۔۔۔۔۔۔ انہیں برا لگا ہوگا‘‘ ھدی نے سمجھانا چاہا
’’وہ میرے کیا ہے اور کیا نہیں اس کا تم سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔۔ اپنی حد میں رہو۔۔۔۔۔۔ زیادہ سر مت چڑھو۔۔۔۔۔۔۔ اور میری وجہ سے کس کو کتنا برا لگتا ہے اٹس نان آف یور کنسرن‘‘ اسے ایک پل لگا تھا بیسٹ کے روپ میں آنے میں
اور ھدی کو سناتے وہ تیزی سے وہاں سے چلا گیا
انجانے میں ہی سہی مگر ھدی نے اسکے پرانے زخموں کو تازہ کردیا تھا۔۔۔۔ جو آج بھی اس اتنی ہی تکلیف دیتے تھے۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *