Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22
ھدی اس وقت ابراہیم کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی جبکہ مسز عاسم کچن میں، انکے موبائل پر بار بار کال آرہی تھی جسے وہ اگنور کر رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ ایک نظر ھدی پر بھی ڈال لیتی، چائے پک چکی تھی جسے وہ اب کپوں میں ڈالنے لگی تھی کہ اچانک ان کے نمبر پر ایک میسج آیا جس نے انکی توجہ کھینچ لی، میسج کھولتے ہوئے تو انہیں اپنے پیروں سے زمین کھسکتی محسوس ہوئی
’’بہت بڑی غلطی کی ہے تم نے باس کی کال اگنور کرکے۔۔۔ باس کی وارننگ ہے کہ اگر تم نے چوبیس گھنٹے میں اپنا کام سر انجام نا دیا تو کل رات تک تمہاری لاش کسی گندے نالے کے قریب ملے گی اور تم جانتی ہوں وہ یہ کرسکتے ہیں‘‘مسز عاسم کو اس وقت اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی،انکا پورا بدن کانپ رہا تھا
انہوں نے دوبارہ سے ھدی کو دیکھا اور پھر کیبنیٹ سے نیند کی گولیاں نکال کر ایک دو اسکے کپ میں ملا دی
اب جو بھی کرنا تھا انہیں سروج کی غیر موجودگی میں کرنا تھا، ھدی کو بےوقوف بنانا قدرے آسان تھا جبکہ سروج نے ابراہیم کی زمہ داری انہیں دینے سے پہلے پوری طرح سے انکوائری کی تھی، مگر یہاں وہ بھی مار کھا گئی
’’یہ لوبھئی گرما گرم چائے‘‘ خود پر قابو پاتے انہوں نے چائے ھدی کے آگے رکھ دی
’’او تھینکیو آنٹی‘‘ اسنے مسکراہ کر کپ تھام لیا، جبکہ ابراہیم ہاتھ آگے کیے اس سے کپ چھننے کی کوشش کرنے لگا
’’اوں ہوں ۔۔۔۔۔۔ ابراہیم نو‘‘ ھدی نے اسے منع کیا، جس پرابراہیم نے منہ بنا لیا
’’اچھا تم چائے پیو تب تک میں زرا اپنے بیٹے سے بات کرلو آخر کو اسے بھی بوڑھی ماں کا خیال آہی گیا‘‘ ھدی کو پیار سے پچکارتے وہ چائے لیےاپنے کمرے سے ملحقہ ٹیرس کی طرف چل دی
ھدی چائے پینے میں مگن تھی، جب چھوٹے ابراہیم نے اسے بلانے کی کوشش کی مگر چائے کے آگے کون کسی کو دیکھتا ہے، ھدی نے بھی یونہی ابراہیم کو اگنور کیا جس پر اسنے ہاتھ مار کر ھدی کی چائے گرا دی
ھدی تو منہ کھولے اسے دیکھنے لگی جو اب اپنا کارنامہ سرانجام دیکر کھلکھلا رہا تھا
’’اففف ابراہیم دیکھو کیا کیا تم نے‘‘ ھدی منہ بسور کر رہ گئی، جس پر ابراہیم نے بھی ویسا ہی منہ بنایا
’’اب یہی رہنا۔۔۔۔ اور کوئی شرارت نہیں‘‘ ھدی نے انگلی دکھائے گویا دھمکی دی، جس پر ابراہیم اسکی انگلی پکڑے اس سے کھیلنے لگ گیا، ھدی نے اپنی انگلی چھڑوائی اور اپنے کپڑے صاف کرنے کی نیت سے کمرے کی طرف گئی۔
’’ہیلو ہاں فکر نا کروں۔۔۔۔ ہاں ہاں کام ہوجائے گا۔۔۔۔ ہاں اسکی چائے میں نیند کی گولیاں ملا دی تھی۔۔۔۔ ہاہاہا نہیں نہیں تم فکر مت کروں بہت بےوقوف ہے وہ۔۔۔۔۔ بس آدھے گھنٹے میں آجانا تم لوگ۔۔۔۔۔۔ بچہ میں تم لوگوں کو دے دو گی۔۔۔ نہیں فکر نہیں کرنی۔۔۔۔ ہاہاہا یقین مانو بڑی موٹی آسامی ہے۔۔۔۔ بہت مال ملے گا‘‘ ھدی کے پیروں سے تو زمین کھسک گئی۔۔ وہ بات تو سمجھ چکی تھی
’’ابراہیم!!!‘‘ ھدی کانپ اٹھی اور اتنی ہی تیزی سے کمرے سے باہر نکلنے لگی جب ساتھ میز پر پڑا واس زور سے زمین پر گرا، ھدی تیزی سے باہر بھاگی جب کہ مسز عاسم چوکنا ہوگئی۔
ھدی نے موبائل سے سروج کا نمبر ملایا جو وہ اٹھا نہیں رہی تھی
’’چلو ابراہیم چلے یہاں سے‘‘ اسنے تیزی سے ابراہیم کو اٹھایا اور مین دروازے کی طرف لپکی جب مسزعاسم راستے میں حائل ہوگئی
’’ارے ھدی بیٹا کہا جا رہی ہوں‘‘ وہ شیریں لہجے میں بولی
ھدی کے چہرے پر ڈر کے مارے پسینے کی ننھی بوندے چمکنے لگی
’’آ۔۔آپ۔۔دد۔۔۔دور رہو۔۔۔ دور رہو۔۔۔آپ ۔۔کک۔۔کتنے مم۔۔۔مطلبی ہوں۔۔۔۔جج۔۔۔جانے دوں ۔۔مم۔۔۔مجھے‘‘ وہ ہچکی لیتے بولی
’’ارے پرنسز رو کیوں رہی ہوں‘‘ مسز عاسم اسکی طرف بڑھتے پوچھنے لگی
ھدی کی آنکھیں نمکین پانی سے بھر گئی تھی
’’مم۔۔۔مجھے جانے دوں۔۔۔۔۔نن۔۔۔۔نہیں تو میں۔۔۔پپ۔۔۔پولیس کو بب۔۔۔۔بتاؤ گی‘‘ وہ دھمکی دیتے بولی
’’اچھا کیا بتائے گی بےبی‘‘ مسز عاسم نے مصنوئی حیرت سے پوچھا
’’یی۔۔۔یہی کہ آپ ۔۔۔ابراہیم کو۔۔۔ببب۔۔۔بیچنے لگی ہوں‘‘ آنسو مسلسل آنکھوں سے بہہ رہے تھے
’’ہاں!!! سچ میں۔۔۔ مگر وہ تو تب نا جب تم جاپاؤ گی‘‘ وہ مسکراہ کر بولی
ھدی کی بھاری اور بند ہوتی آنکھیں اور ہاتھوں کی لرزش اس بات کی نشاندہی کر رہی تھی کے دوا کا اثر اس پر ہورہا تھا
اس سے پہلے کے ھدی گرتی مسز عاسم نے فورا آگے بڑھ کر ھدی کے ہاتھوں سے ابراہیم کو پکڑ لیے
’’ارے شہزادے تم تو ادھر آؤ۔۔۔۔۔ تمہیں تو میں کچھ نہیں ہونے دوں گی میری سونے کی چڑیا‘‘ روتے ابراہیم کو اپنی گود میں لیے وہ بولی جو لپک لپک کر ھدی کی طرف جانے کی کوشش کر رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’زرار؟‘‘ علی زماد کے لب پھڑپھڑائے
’’گڈ ایوننگ مسٹر علی زماد اینڈ مسٹر جمال‘‘ دل جلا دینے والی مسکان لیے وہ بولا
’’گڈ ایوننگ ینگ بوائے‘‘ مسٹر جمال نے خوشدلی سے ہاتھ ملایا، جبکہ علی زماد ابھی بھی ٹرانس میں تھے
’’ارے علی یہ تو تمہارا بھتیجا ہے نا۔۔ تم نے بتایا نہیں کہ یہ بھی آیا ہوا ہے‘‘ مسٹر جمال نے علی زماد سے پوچھا، اتنی دیر میں موسی بھی اپنے باپ کے پاس آکھڑا ہوا
’’انہیں تو خود بھی معلوم نا تھا‘‘ زرار طنزیہ مسکان لیے بولا
’’میرا مطلب ہے کہ میں انہیں سرپرائز دینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔ تو کیسا لگا میرا سرپرائز چاچا جان‘‘ زرار کے یوں کہنے پر ایک پل کو تو علی زماد کا دل ڈوب گیا
زرار ہمیشہ انہیں ابو کہتا مگر آج ابو کی جگہ چاچا کا لفظ سن کر انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ اسے ہمیشہ کے لیے کھو چکے ہیں
’’ویل ایوری ون میں آپ سب کو یہ بتانے کے لیے زرار سے ملوایا ہے کہ زرار خود اپنا ایک بزنس سٹارٹ کرنے والا ہےاور میں اسے ہیلپ کر رہی ہوں اور اب سے میری ہر ڈیل، ہر میٹنگ میں زرارمیرے ساتھ ہوگا‘‘ سروج کی بات پر موسی نے اچھنبے سے زرار کودیکھا
’’تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہوں‘‘ دل کا سوال زبان پر آہی گیا، موسی پوچھے بنا نا رہ سکا
’’ہم دونوں پچھلے چار سالوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔۔۔۔۔ یو کین سے ووئی آر بیسٹ فرینڈز( تم ہمیں بیسٹ فرینڈز کہہ سکتے ہوں)‘‘ زرار موسی کے مد مقابل آکر بولا
آج پہلی بار موسی کو سروج سے نفرت محسوس ہوئی
پہلے اسکے شوہر نے اسکی بہن چھین لی اور اب اسنے اسکا بھائی
’’تمہیں تو میں اب ہرگز نہیں بخشنے والا سروج حیدر‘‘ آنکھوں میں بےپناہ غصہ لیے وہ سروج کو دیکھنے لگا، اگر نظروں سے قتل جائز ہوتا تو سروج واقعی اب تک مرچکی ہوتی موسی کی نظروں سے
اس سے پہلے کے کوئی اور بات کی جاتی، انہیں ایک طرف سے شور کی آواز آئی
’’عمارہ!!!‘‘ موسی اور زرار عمارہ کو وہاں دیکھ کر بیک وقت بولے
’’جلال؟‘‘ عمارہ کو یوں جلال پر چیختے چلاتے دیکھ کر سروج حیران رہ گئی۔
’’یہاں کیا ہورہا ہے؟‘‘ سروج خود سے بولی
’’ہمیں چل کر دیکھنا چاہیے‘‘ موسی بولا
’’ہاں سہی کہا، چلو دیکھتے ہیں‘‘ زرار اسکی ہاں میں ہاں ملاتے بولا
اس سے پہلے وہ وہاں جا پاتے سروج کا موبائل بلنک ہوا، چونکہ سائلنٹ پر ہونے کی وجہ سے سروج کو معلوم نا ہوا مگر موسی اسکے ہاتھ میں بجتے فون کو دیکھ چکا تھا
’’تمہاری کال آرہی ہے‘‘ موسی نے اشارہ اسکے بجتے موبائل کی طرف کیا
’’ھدی؟‘‘ سروج نے حیرانگی سے موبائل اٹھایا
’’ہیلو ھدی‘‘ سروج موبائل کان کو لگائے بولی
’’ھدی۔۔۔ھدی۔۔۔چندا۔۔۔ تم ٹھیک ہوں۔۔۔۔گاڈ ڈیم اٹ ھدی جواب دوں مجھے‘‘ دوسری طرف سے آتی آوازیں سن کر سروج سر پکڑ کر رہ گئی
’’کیا ہوا؟‘‘ اسے یوں دیکھ کر موسی اور زرار بھی چونکے
’’زرار وہ ھدی۔۔۔ ابراہیم۔۔۔۔۔ ہمیں ابھی جانا ہوگا گھر پلیز‘‘ سروج کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھی
’’اوکے فائن رونا بند کروں چلتے ہیں ہم‘‘ اسے چپ کرواتے زرار اسکا ہاتھ پکڑے پارکنگ کی طرف لے گیا
موسی نے بھی انکا پیچھا کرنے کی کوشش کی مگر وہ عمارہ کی طرف بڑھ گیا اس وقت اسے زیادہ ضرورت تھی اسکی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمارہ مراد کے دیے گئے اڈریس پر پہنچ چکی تھی وہ ہال کے اندر داخل ہوئی تو نظریں خود بخود ادھر ادھر گھومنے لگی، جب اسنے اسے دیکھ ہی لیا جس کے بعد وہ خود کو بےبس اور اکیلا محسوس کرتی تھی
مگر جو اسنے آگے دیکھا وہ اسکا دل توڑنے کو کافی تھا، جلال کسی اور عورت کے ہمراہ سب سے ہنس کر اور گھل مل کر باتیں کر رہا تھا
وہ جو کہتا تھا کہ اسکے بنا جینے کی کوشش کرے گا کتنا خوش تھا وہ آج تو کیا وہ سب دھوکہ تھا؟ اسکی محبت۔۔۔۔۔۔ وہ وعدے؟ سب کچھ دھوکہ تھا
عمارہ اپنے غصے پر قابو نا رکھ پائی اور تیز قدم بڑھائے جلال کی طرف بڑھی جب اسکا سامنا ایک کیمرہ مین سے ہوا
’’سنو تمہیں کوئی مزےدار سی نیوز چاہیے اپنے چینل کے لیے؟‘‘ اسنےمراد اور اسکے کیمرہ مین دوست سے سوال کیا
’’جی میم؟‘‘ وہ حیران ہوا
’’چاہیے یا نہیں‘‘ عمارہ کے سنجیدہ لہجے پر وہ فقط سر ہلا سکا
’’ٹھیک ہے میں تمہیں ایک دھماکے دار لائیو شو دوں گی ابھی کے ابھی مگر شرط یہ ہے کہ نا تو میرا نام آئے گا اور نا ہی چہرہ۔۔۔۔ ورنہ تمہارے ساتھ میں کیا کرسکتی ہوں تمہیں اندازہ بھی نہیں‘‘ اسکا لہجہ اس قدر سخت تھا کہ ایک پل کو تو مراد بھی دنگ رہ گیا
’’منظور ہے تو بولو میرے پاس زیادہ وقت نہیں‘‘ وہ کوفت زدہ لہجے میں بولی
کیمرہ مین نے مراد کی طرف دیکھا جس پر اسنے سر ہاں میں ہلا دیا۔
’’اب ملے گا عمارہ کو اسکا بدلہ اور مراد شمشیر تمہیں دلی سکون‘‘ عمارہ کو جلال کی طرف بڑھتا دیکھ کر وہ خود سے بولا
جلال جو اپنے کسی جاننے والے سے بات کرنے میں مصروف تھا اچانک کسی نے پیچھے اسکے کندھے کو تھپتھپایا اور اسکی وقت کیمرہ مین نے کیمرہ اون کرکے انکی طرف یوں کردیا کہ جلال واضع نظر آرہا تھا مگر عمارہ نہیں
’’چٹاخ‘‘ وہ جو پیچھے مڑا تھا منہ پر پڑنے والے تھپڑ پر دنگ رہ گیا، جبکہ ساتھ کھڑی شمائلہ کے دونوں ہاتھ اسکے منہ پر چلے گئے، پاڑتی میں موجود باقی لوگ بھی انکی طرف متوجہ ہوگئے
’’عمارہ؟؟‘‘ جلال کے منہ سے یہ نام سن کر اور عمارہ کے چہرے پر چھایا غصہ دیکھ کر شمائلہ جان چکی تھی کہ وہ بھی جلال کے وکٹمز میں سے ایک رہ چکی تھی
’’تم بےغیرت، گھٹیا انسان۔۔۔۔۔۔ تو یہ ہوں تم۔۔۔۔۔ یہ ہے تمہاری سچائی‘‘ وہ چیخی
’’دیکھو میری بات سنو۔۔۔۔۔‘‘
’’شٹ اپ جسٹ شٹ اپ‘‘ چلاتے ہی اسنے ایک اور تھپڑ کھینچ کر جلال کے منہ پر دے مارا
’’تم زلیل۔۔ کمینے انسان۔۔۔۔۔ کتنے گرے ہوئے ہوں تم۔۔۔۔۔۔ شرم نہیں آئی تمہیں ایسی حرکتیں کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تو بڑا کہتے تھے میں نا ملی تو مر جاؤ گے۔۔۔۔ مگر یہاں تو تمہیں دیکھ کر لگ رہا ہے کہ تم نے کبھی مجھ سے محبت کی ہی نہیں‘‘
’’یو چیپ۔۔۔۔ بلڈی باسٹرڈ‘‘ عمارہ اسے اس قدر بڑی گالی دے گئی مگر جلال کچھ نا کہہ سکا کیونکہ ایک تووہ عمارہ کے باپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا اور دوسرا اس وقت اسے اپنی عزت عزیز تھی جو عمارہ نے رسوا کرنے میں کوئی کسر نا چھوڑی تھی
’’بتاؤ مجھے۔۔۔۔ بتاؤ مجھے اور کتنی لڑکیوں کو اپنے پیار کے جھانسے میں پھنسایا ہے تم نے‘‘ اسکا گریبان جھنجھوڑتے اسنے پوچھا
’’مم۔۔میں نے تمہیں چھوڑا وہ تو تمہارے ڈیڈ نے پیسے۔۔‘‘ اس سے پہلے وہ کچھ بولتا عمارہ کا ایک اور تھپڑ اسکا گال دہکا گیا، جبکہ مراد تو اس فلم کو اچھے سے انجوائے کر رہا تھا
’’عمارہ‘‘ موسی اسکا ساتھ دینے آگے بڑھا جب مراد نے بازو پکڑ کر روک لیا
’’برو۔۔۔۔ انجوائے کر۔۔۔ایسی مووی بار بار دیکھنے کو نہیں ملے گی‘‘ مراد ایک آنکھ دباتے بولا، جب موسی ’’اوہ‘‘ کے سٹائل میں ہونٹوں کو سکیڑتا مزے سے کندھے اچکائے مراد کے برابر کھڑا ہوگیا، اور اب اس ڈرامے کا مزا لینا لگا
’’خبردار۔۔۔ خبردار جو میرے باپ کو تم بیچ میں لائے۔۔۔۔ وہ حشر کروں گی تمہارا کہ یاد رکھوں گے سمجھے‘‘
’’تمیز سے ورنہ جو حال کروں گا تمہارا سکا تمہیں اندازہ بھی نہیں‘‘ اپنا گریبان آزاد کرواتے وہ غرایا
’’تم تم مجھے دھمکی دے رہے ہوں اور تم کیا میرا حال کروں گے۔۔۔۔ میں تمہیں کہی منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑو گی۔۔۔۔ اور تمیز ہا کونسی تمیز جو تم میں بھی نہیں ہے۔۔۔۔ تم تیار رہو جلال صدیق کیونکہ تمہارا برا وقت شروع ہوچکا ہے۔۔۔ تم نے ابھی تک صرف میری محبت دیکھی تھی مگر اب نفرت بھی دیکھو گے۔۔ یاد رکھنا‘‘ وہ کہتے ہی وہاں سے پلٹنے لگی جب ایک دم دوبارہ سے مڑی
’’یہ میری طرف سے الوداعی تحفہ‘‘ جاتے جاتے اسکے منہ پر ایسا زور دار مکا مارا کہ جلال کی ناک سے خون بہنے لگ گیا
مراد اور موسی کی آنکھیں تو یہ منظر دیکھ کر ابل پڑی۔۔۔۔ ظاہری سے بات ہے عمارہ کا ایسا دبنگ انداز انہوں نے پہلی بار دیکھا تھا
’’تو شیور ہے تجھے اسی سے شادی کرنی ہے؟‘‘ موسی نے مراد کے کان میں سرگوشی کی
’’پہلے کا تو پتا نہیں مگر اب کر کے رہوں گا‘‘ مراد کا انداز موسی کو قہقہ لگانے پر مجبور کرگیا۔
’’ویل دین بیسٹ آف لک‘‘ موسی اسکا کندھا تھپتھپاتے بولا
مراد نے عمارہ کو مڑتا دیکھتے ہی کیمرہ بند کروا دیا، وہ نہیں چاہتا تھا کہ عمارہ کی شکل کیمرہ میں آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’زرار تمہیں اللہ کا واسطہ جلدی کروں‘‘ سروج کے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے
زرار لب بھنچے تیز ڈرائیونگ کرنے میں مصروف تھا۔۔۔۔ سروج نے اسے موبائل پر سنی جانے والی ساری بات سنائی تھی۔۔۔۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے پولیس کو بھی کال کر دی تھی جو کہ سروج کے اپارٹمنٹ پہنچنے والی تھی
’’زرار۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ کین یو جسٹ شٹ اپ سروج۔۔۔ میں کررہا ہوں نا ڈرایئو‘‘ وہ چلایا اسکی بات کاٹ کر جس پر سروج لب بھینچ گئی
’’آئی ایم سوری‘‘ وہ ہچکی لیتے بولی، جبکہ زرار ایک سرد سانس خارج کرکے رہ گیا
’’نو آئی ایم سوری۔۔۔۔ دیکھو سروج مجھے پتا ہے کہ تم فکرمند ہوں۔۔۔۔ مگر میں بھی تو ہوں۔۔۔۔ سو پلیز‘‘ وہ دھیمی آواز میں بولاجس پر سروج نے سر ہلا دیا مگر آنسو نا رکے
زرار کو اس وقت صرف اور صرف اپنی ھدھ کی فکر تھی۔۔۔۔ اسکے لیے ابراہیم کوئی معنی نا رکھتا تھا۔۔۔۔ وہ ایسا ہی تھا۔۔۔۔۔ اسکے لیے صرف اسکی محبت معنی رکھتی تھی۔۔۔۔۔ وہ اتنا ہی خود غرض تھا اپنے سے جڑے رشتوں کے متعلق۔۔۔ مگر اس وقت اسکی ھدھد کے ساتھ ساتھ ابراہیم بھی اسکے لیے ضروری تھا کیونکہ وہ اسکی دوست کے لیے اہم تھا
’’آئی سویر ھدھ میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔۔۔ اور اگر تمہیں کسی نے زرا بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اس شخص کی جان لے لوں گا‘‘ خود سے عہد کیے وہ گاڑی ٖفضا میں اڑانے لگا۔
جاری ہے
