Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14
’’زرار؟‘‘ موسی سرگوشی نما آواز میں بولا
’’موسی علی زماد‘‘ زرار کی آواز بےحد پتھریلی تھی
’’کیسے ہوں؟‘‘ ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے اسنے پوچھا
’’تم سے مطلب‘‘ سیدھا جواب
’’ناراض ہوں مجھ سے؟‘‘ بےبسی سے پوچھا
’’تم اس قابل ہوں جو میں تم سے ناراض ہوتا پھیرو‘‘ تمسخرانہ ہنسی ہنستے ہوئے وہ بولا، موسی کا دل کٹ گیا اسکے جواب پر
’’جو کچھ بھی ہوا اس میں میرا کیا قصور زرار‘‘ اسنے بےبسی سے پوچھا
’’قصور تو میرا بھی نہیں تھا‘‘ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اسنے پرسکون سا جواب دیا
’’یار ایک بار گلے تو لگا لے‘‘ موسی آگے بڑھا جب زرار نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا
’’میرا ضبط مت آزماؤں موسی علی زماد، یہ نا ہوں کہ میں خود پر قابو کھو بیٹھو‘‘ اسکے لہجے کی اجنبیت موسی کو بے حد تکلیف دے رہی تھی۔
’’زرار اب بس بھی کردوں، بھول جاؤ سب کچھ، میں جانتا ہوں کہ تم بےقصور ہوں، مجھے کسی صفائی کی کوئی ضرورت نہیں‘‘ موسی کی یہ بات زرار کو کس قدر ازیت میں مبتلا کرگئی وہ تو اس سے انجان رہا
’’شکر مناؤں موسی علی زماد کہ زرار سے تم اسکے انسانی روپ میں ملے، ورنہ تمہاری اس ہمدردی پر وہ حشر کرتا تمہارا کہ تم دیکھتے رہ جاتے، اور جہاں تک بات ہے بےقصور اور قصور وار ہونے کی تو تم لوگ اس قابل نہیں کہ میں تم لوگوں کو ثبوت دوں‘‘ وہ سخت الفاظ میں چبا چبا کر بولا، اور اسکا بولا ایک ایک لفظ موسی کو کسی تیز خنجر کی مانند دل میں کھوپتا محسوس ہوا
اسکا بھائی جیسا کزن، اسکا دوست اس سے اس قدر ناراض تھا، اس قدر نالا تھا، اس قدر بدگمانی۔۔۔۔۔۔۔ اتنی تکلیف شاید ہی اسنے زندگی میں کبھی محسوس کی ہوں، تب بھی نہیں جب اسنے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی بہن کو قبر میں اتارا تھا۔
’’آئی ایم سوری‘‘ وہ خود پر قابو پاتے بولا
’’اسے اپنے پاس ہی رکھو کیونکہ وہ وقت بہت جلد آئے گا جب تمہیں یہ تین الفاظ بولنے کی دوبارہ ضرورت پڑے گی‘‘ اپنے لفظوں کے تیر اس پر چلاتا وہ اسے ایک طرف دھکا دیے آگے بڑھ گیا
آنکھوں کے سامنے یہ سارا منظر دیکھ کر مائز کے پیر تو زمین پر ہی جم کر رہ گئے، آخر وہی ہوا جسکا اسے ڈر تھا
موسی علی زماد اور زرار احمد زماد کا آمنا سامنا، ایک ہی خاندان کے دو چشم و چراغ، دو بھائیوں کے دو وارث، دو دوست، دو بھائی، دو رازدار، ایک دوسرے کا سایہ، کبھی نا جدا ہونے والے دو جسم، دو جسم تو ایک روح، ایک قلب اور ایک جان، مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت کی گھومتی سوئیوں نے سب کچھ ختم کردیا سب کچھ، دو روحوں کو جدا کرنے والی ایک ایسی مضبوط دیوار حائل کردی وقت نے ان کے درمیان کہ جس کا ٹوٹنا اب ناممکن سا ہوگیا تھا
مائز کو واقعی تکلیف محسوس ہوئی تھی مگرموسی جس اذیت سے گزر رہا تھا، اسکا اندازہ لگانا بےحد مشکل تھا۔
’’موسی!!‘‘ مائز نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا
’’ارے بڈی کیسا ہے تو؟‘‘ انگلی سے آنکھ میں آئے ایک چھوٹے آنسو کو صاف کرتے وہ مائز کی طرف منہ کیے پوچھنے لگا، کسی قسم کے درد ، کسی قسم کی تکلیف کا کوئی شائبہ تک نا تھا اسکے چہرے پر۔
’’میں ٹھیک۔۔۔۔ تو کیسا ہے؟‘‘
’’میں؟ میں ایک دم اے ون۔۔۔۔۔ تو چھوڑ سب کچھ اور زرا مجھے اپنی یونی کی سیر تو کروا کوئی حور تو دکھا‘‘ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسنےپوچھا
’’تو لیکچر کون لے گا؟‘‘ مائز نے سوال کیا
’’لےلے گے نا یار ابھی تو شروعات ہے‘‘ وہ مزے سے بولا
’’شرم کر موسی ایک تو تم نے یونی لیٹ جوائن کی وہ بھی اوپر سے جب مڈز آنے والے ہیں اور ایسے میں ، میں بنک نہیں کرسکتا تو میری طرف سے سوری‘‘ اپنے کندھے سے اسکا ہاتھ ہٹاتے، دانتوں کی نمائش کیے وہ وہاں سے چلا گیا
’’چلوووووو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب تو لگتا ہے واقعی میں کلاس لینی پڑے گی‘‘ مائز کو وہاں سے بھاگتے دیکھ کروہ بڑبڑایا اور کلاس کی جانب چل دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ارے مائز سنو‘‘ وہ جو اچھلتا کودتا کینٹین کی طرف جارہا تھا مراد کے بلانے پر راستے میں رک گیا
’’بولو‘‘ مراد کو دیکھ کر ہی اسکے ماتھے پر بھی عمارہ کی طرح تیوریاں چڑھ گئی
آخر کو عمارہ کا دوست تھا، اور جو لوگ عمارہ کو پسند نہیں ان سے مائز بھی دور رہتا
’’وہ عمارہ کہا ہے؟‘‘ مراد نے اس سے سوال کیا
’’میری پینٹ کی پاکٹ میں‘‘ عمارہ کی طرح الٹے جواب
’’او گاڈ ان دونوں دوستوں نے قسم کھا رکھی ہے سیدھا جواب نا دینے کی‘‘ مراد بڑبڑایا، جبکہ مائز نے جان آگے کیے اسکی بات سننے کی کوشش کی
’’یہ کیا بول رہے ہوں‘‘ دونوں ہاتھ کمر پر ٹکائے اسنے لڑکیوں کے انداز مین پوچھا
’’کچھ نہیں میرے باپ جاؤ یہاں سے‘‘ اسکے سامنے دونوں ہاتھ جوڑتے مراد بولا
’’ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔عمارہ سہی کہتی تھی تم ہاتھ جوڑتے ہوئے بہت اچھے لگتے ہوں، ہمیشہ ایسےہی جوڑے رکھنا‘‘ وہ مراد کو تیلی لگاتے وہاں سے نودوگیارہ ہوگیا،اور مراد تو اسکی بات پر جل بھن کر رہ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’مے آئی کم ان سر؟(کیا میں اندر آسکتا ہوں سر؟)‘‘ کلاس روم کا دروازہ ناک کیے اسنے پوچھا، جب سامنے کھڑے اڈھیر عمر کے ٹیچڑ نے چشمے کے پیچھے سے اسکا جائزہ لیا اور اندر آنے کی اجازت دی
’’یور آئڈینٹیٹی پلیز( برائے مہربانی آپکا تعارف؟)‘‘ سر نے اسے پوچھا، اور اسکا دھیان تو بیک سیٹ پر بیٹھے زرار پر تھا جو انہماک سے اپنی کسی کتاب کے مطالعے میں مصروف تھا
’’موسی علی زماد سر‘‘ اسکے تعارف نے ایک پل کو نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اور دوبارہ کتابوں پر جھکا لی، اور موسی اسکے ساتھ پڑی خالی سیٹ پر جابیٹھا، جبکہ سر تو اسکے تعارف پر اسے دیکھ کر رہ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’آج تم یونی نہیں گئی؟‘‘ اسے گھر میں دیکھ کر سب حیران رہ گئے، فریحہ اور چھٹی ناممکن
’’ہاں وہ میں نے سوچا کیوں نا آج اس شہر کو گھوم پھر لیا جائے، اور یونی کل سے شروع کرلوں گی‘‘ وہ سب کو ریزن دیتے بولی
اصل وجہ تو یہ تھی کہ وہ مائز جیسی بلا کا دوبارہ سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی، مائز وہ پہلا شخص تھا جس سے فریحہ کو ڈر لگا تھا، اگر یہ بات مائز کی جگہ کسی عقلمند انسان کو پتاچلتی تو وہ ضرور فریحہ کو تنگ کرتا، مگر مائز تو وہ بندہ ہے کہ جس کے سامنے پاکستان کو نقشہ رکھ کر بھی پوچھو تو وہ ضرور افریقہ یا ملیشیا بولتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’افففف آج کا دن تو بہت تھکا دینے والا تھا‘‘ وہ تھکی ہاری فلیٹ میں داخل ہوئی۔
’’اور وہ بیسٹ اففف اللہ میاں اچھا بھلا گیا تھا اب کیوں واپس آگیا یہ‘‘ وہ جی بھر کر بدمزہ ہوئی تھی
’’خیر مجھے کیا؟ بھاڑ میں جائے وہ۔۔۔ میں تو پہلے کچھ کھا لو پھر اپنے ڈورےمون کو بھی لیکر آنا ہے‘‘ خود سے بڑبڑاتی وہ واشروم مین شاور لینے چل دی
تھوڑی دیر بعد وہ واپس آئی، بال صبح میں دھو چکی تھی اسی لیے اب زحمت نا کی اور کچن میں آکر پلیٹ میں بریانی نکالے اس پر ٹوٹ پڑی
کھانا کھانے کے بعد اب اسکا رخ اپنے فلیٹ کے بلکل سامنے موجود فلیٹ کی طرف تھا۔
مسز عاسم انکی پڑوسن تھی جن کے شوہر کی وفات ایک کار ایکسیڈینٹ میں ہوگئی تھی اور اولاد اپنی زندگیوں میں مگن تھی ھدی کو ان کے لیے بہت برا لگتا تھا، مگر سروج اور ھدی کے لیے وہ کسی فرشتے سے کم نا تھی، ھدی کی یونی اور سروج کی یونی اور آفس دونوں کے درمیان ابراہیم کو سنبھالنا ایک مشکل کام تھا، ایسے میں مسز عاسم نے ہی انکی مدد کی تھی اور وہ ان دونوں کے غیر حاضری میں ابراہیم کو سنبھالتی تھی۔
’’آنٹی؟ آنٹی کہاں ہے آپ؟‘‘ وہ فلیٹ کا دروازہ چابی کی مدد سے کھولتے ہوئے بولی
’’میں یہاں ہوں کچن میں آجاؤ‘‘ انہوں نے آواز دی
’’السلام علیکم آنٹی‘‘ اسنے پیچھے سے انکے گال چومتے سلام کیا
’’وعلیکم السلام بچا۔۔۔۔ کھانا لگاؤ آپ کے لیے؟‘‘ انہوں نے محبت اور شفقت سے پوچھا
’’ارے نہیں آنٹی آج تو بھابھی مزے کی بریانی بنا کر گئی تھی ابھی وہی کھاکر آئی ہوں‘‘
’’ہممم تو اکیلے اکیلے بریانی کھا لی اور آنٹی کا خیال نہیں آیا‘‘ انہوں نے مصنوئی آںکھیں دکھائی جبکہ ھدی کو سچ میں برا لگ گیا
’’آئی ایم سوری آنٹی آُپ رکے میں ابھی لیکر آتی ہوں‘‘ وہ شرمندہ ہوتے بولی
’’ارے میرا بچا اسکی ضرورت نہیں سروج دے گئی تھی مجھے ‘‘ انہوں نے اسکو جواب دیا
’’اچھا ویسے آُپ کیا بنا رہی ہے خوشبو تو بڑی کمال کی آرہی ہے‘‘ ھدی نے اشتیاق سے پوچھا
’’کپ کیک بنا رہی ہوں کھاؤ گی؟‘‘ انہوں نے سوال کیا
’’ارے نیکی اور پوچھ پوچھ ضرور کھاؤ گی‘‘ وہ مسکراہ کر ابراہیم کے پاس چلی گئی جو بیٹھے کی کوشش کر رہا تھا یہ دیکھ کر ھدی کی آنکھوں مین خوشی سے آنسو آگئے اور اسنے فورا ڈور کر ابراہیم کو باہوں میں لیے چوم لیا
ابراہیم بھی اپنی دوست کا لمس پاکر خوشی سے ہنسنے لگا۔
باقی کا پورا دن اسکا مسز عاسم اور ابراہیم کے ساتھ گزرا ایسے میں وہ بیسٹ کو بلکل بھول بھال گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج رات کے وقت گھر میں داخل ہوئی، آفس ورک نے اسے نڈھال کردیا تھا مگر اسے اپنی ذمہ داری بھی نبھانی تھی۔
’’السلام علیکم بھابھی‘‘ وہ لاؤنج میں تھکی ہاری آکر بیٹھی تھی جب ھدی ہاتھ میں پانی کا گلاس لیے اسکے پاس آئی
’’وعلیکم السلام چندا‘‘ گلاس سے پانی پیتے اسنے جواب دیا
’’بھابھی کھانا لگاؤ آپ کےلیے؟‘‘
’’ہاں میری جان بس میں چینج کر آؤ تم کھانا لگا دوں‘‘ اسکے کہتے وہ کمرے کی طرف بڑھی جب خوش باش سی ھدی کچن کی جانب چل دی
سروج اندر داخل ہوئی تو حیرت کا شدید جھٹکا لگا کیونکہ ابراہیم بیٹھنے کی کوشش کررہا تھا اسے تو یقین ہی نا آیا
’’ابراہیم!!‘‘ وہ خوشی سے بولی، جس پر بیڈ کی بیک سے ٹیک لگا کر بیٹھے ابراہیم نے اسے دیکھ کر بیٹھے بیٹھے ہی اچھلنا شروع کردیا۔
’’آں ماما کی جان‘‘ اسکا ماتھا چومتے وہ بولی اور شاور لینے چل دی۔
تھوڑی دیر بعد وہ ابراہیم کو اٹھائے کھانے کی ٹیبل پر آ بیٹھی، اور کھانا کھانا شروع کردیا جبکہ ھدی اب ابراہیم کو سنبھالنے میں مصروف تھی۔
’’بھابھی؟‘‘
’’جی؟‘‘
’’آپ کل یونی جائے گی نا؟‘‘
’’ہاں کل تو جانا ہے مڈز آرہے ہیں نوٹس کمپلیٹ کرنے ہیں‘‘
’’اوکے‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ہیلو ہاں کوئی انفارمیشن ملی اس عمیر کے حوالے سے؟‘‘ وہ فون کان کو لگائے، لان میں چہل قدمی کر رہا تھا
’’ہاں میں سن رہا ہوں، ہمممم۔۔۔۔۔۔۔۔ چلو ٹھیک ہے شکریہ۔۔۔بائے‘‘ نجانے دوسری طرف سے کیا کہا گیا کہ موسی کی آںکھیں چمک اٹھی
’’ٹھیک ہے عمیر یاسین چھپ لو جتنا چھپنا چاہتے ہوں، اب تمہارا کیا تمہاری بہن کو بھگتنا ہوگا، بی ریڈی عمیر یاسین وہی تکلیف محسوس کرنے کے لیے جس میں اب میں ہوں‘‘ وہ موبائل کو مٹھی میں دبوچے بولا
’’بی ریڈی ھدی یاسین بکاز دا ڈیول از کمنگ( تیار رہو ھدی یاسین کیونکہ ڈیول آ رہا ہے)‘‘ وہ خود سے بات کرتے بولا۔
جاری ہے
