Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43

’’زرار‘‘ ھدی نے ہمت کیے اسے پکارا جس کے جبڑے سختی کے باعث بھینچے ہوئے تھے
’’زرار میں۔۔۔۔۔‘‘
’’ناٹ ناؤ ھدی ‘‘ زرار نے انگلی دکھائے اسے تنبیہ کی
’’زرار آئی ایم رئیلی سوری پلیز‘‘ وہ رونے کے در پر تھی
’’جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔۔ بولا نا ابھی نہیں‘‘ زرار اب کی بار چیخا۔۔۔۔ جس پر ھدی نے رونا شروع کردیا
’’چلو جی اب رونا سٹارٹ ۔۔۔۔ بس یہی آتا ہے نا تمہیں رونا اور ڈرنا۔۔۔۔۔ کبھی لڑنا بھی سیکھو ھدی۔۔۔۔ ایٹلیسٹ کبھی تو خود کے لیے سٹینڈ لیا کروں‘‘ زرار نے غصے سے سمجھایا
’’آج لڑی تو تھی میں۔۔‘‘ ھدی نے اسے یاد دلایا
’’واؤ بہت لڑ لیا تم نے۔۔۔۔۔۔ بہت سٹینڈ لیا تم نے۔۔۔۔۔۔۔ سٹینڈ لو ھدی یو کہ کسی کی ہمت نا ہوں کہ وہ تمہیں کچھ کہنے کی غلطی بھی کرسکے‘‘ زرار نے اسے سمجھایا
’’اب کیا آپ بن جاؤ‘‘ وہ نازاضگی سے بولی
’’ہاں بن جاؤ ۔۔۔۔ میری جیسی بن جاؤ۔۔۔۔۔۔۔ خیر میں بھی کس سے سر کھپا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ یو نو واٹ ھدی۔۔۔۔۔ جسٹ لیو اٹ۔۔۔۔ مجھے بات ہی نہیں کرنی اب تم سے‘‘ زرار کا غصہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا
اتنے میں اسکے موبائل پر آہل کی کال آنا شروع ہوگئی
’’گاڈ آہل کو کیسے بھول گیا‘‘ وہ خود سے بڑبڑایا
’’یس بڈی‘‘ زرار خود پر قابو پاتے بولا
’’واٹ۔۔۔۔۔۔ ہاؤ۔۔۔۔۔۔ آل رائٹ آی ایم کمنگ‘‘ زرار نے کار کی سپیڈ تیز کردی اور جلدی سے یوو ٹرن لیا
’’زرار‘‘ ھدی کی ڈری ہوئی آواز اسے سنائی دی۔۔۔۔ وہ تیز ڈرائیو سے ڈرتی تھی۔۔۔۔ تب سے جب سے اسکے ماں باپ کا ایکسیڈینٹ ہوا تھا
’’زرار کیا ہوا ہے؟‘‘ ھدی پریشان ہوئی
’’ھدی اس وقت ہمیں زماد ولا جانا ہے۔۔۔۔ پرابلم ہوگئی ہے‘‘
’’کیسی پرابلم؟‘‘
’’ھدی ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔ ابراہیم کو کسی نے اغواہ کرلیا ہے۔۔۔۔۔۔ ہمیں فورا جانا ہوگا واپس۔۔۔۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسی ، مراد اور مائز نے ارد گرد کا سارا ایریا دیکھ لیا تھا مگرکوئی نام و نشان نا ملا
سروج کی حالت خراب ہوچکی تھی۔۔۔۔۔۔ حیدر صاحب اور شہانہ بیگم اسے سنبھال رہے تھے
مراد پولیس کو کال کرچکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ پولیس کو صرف پندرہ منٹ لگے تھے وہاں آنے میں
موسی نے تمام تر صورتحال انہیں بتادی تھی۔۔۔۔۔ سی۔سی۔ٹی۔وی فوٹیج ، گرز سب کچھ دیکھنے کے باوجود بھی کچھ حاصل نہیں ہوا تھا
موسی کو یقین تھا کہ یہ کام کس کا ہوگا
’’آپ کو کیا لگتا ہے یہ سب کس نے کیا ہوگا؟‘‘ پولیس نے موسی سے پوچھا
’’جلال صدیق‘‘ موسی جبڑے بھینچے بولا
’’اور آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے؟‘‘ پولیس نے دوبارہ پوچھا
’’جس پر موسی نے انہیں صرف ضروری باتیں بتائی‘‘
’’دیکھیے مسٹر زماد یہ کیس خاصہ پیچیدہ ہے اور چونکہ وہ شخص اس بچے کا باپ ہے تو مشکل ہی ہے کہ ہم کوئی ایکشن لے‘‘ پولیس کی بات پر موسی کا دماغ گھوم گیا
’’سوری ٹو سے سر بٹ ہم آپکی مدد نہیں کرسکتے‘‘ پولیس وہاں سے چلی گئی تھی
’’ڈیم اٹ‘‘ موسی کار پر اپنا غصہ اتارتے بولا
اسے اچانک سروج کا خیال آیا ۔۔۔۔۔۔ اسکی خراب حالت کے بارے میں سوچتا وہ واپس ولا روانہ ہوا
موسی گھر داخل ہوا۔۔۔۔۔۔ سب مہمان جاچکے تھے۔۔۔۔۔۔ اب صرف گھر والے وہاں موجود تھے
’’موسی‘‘ سروج جلدی سے اسکی طرف بھاگی اور اسکا ہاتھ تھام لیا
’’میرا بیٹا کہاں ہے موسی بتاؤں مجھے میرا ابراہیم کہاں ہے؟‘‘ مٹے مٹے میک اپ اور آنسوؤں سے لبریز آنکھیں موسی کو تکلیف دے رہی تھی
’’سروج وہ۔۔۔۔‘‘ موسی کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ اسے کیسے سنبھالے
’’وہ۔۔ وہ کیا موسی؟ تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم اسے لیکر آؤ گے تم میرے۔۔۔۔ ہمارے بیٹے کو واپس لاؤ گے تو کہاں ہے وہ؟‘‘ سروج چیخ رہی تھی
اسے اپنا دم گھٹتا محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔۔۔ اگر ابراہیم کو کچھ ہوگیا اسکے بیٹے کو کچھ ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ مرجائے گی۔۔۔۔۔۔۔
ایک دم وہ موسی کے پیروں میں گرگئی
’’سروج!!!‘‘ موسی دنگ رہ گیا
’’تم۔۔۔ تم نے مجھے نیچا دکھانے کے لیے یہ کیا ہے نا!!۔۔۔۔۔۔ مجھے پتہ ہے موسی۔۔۔۔۔۔ تم، تم مجھے توڑنا چاہتے ہوں نا؟‘‘ سروج کے الزامات پر موسی تڑپ اٹھا
’’یہ۔۔۔یہ دیکھو موسی۔۔۔۔۔۔۔ میں تمہارے آگے اپنی جھولی پھیلاتی ہوں مجھے میرا ابراہیم لادوں موسی۔۔۔۔۔۔ ‘‘ اسکے سامنے اپنا ڈوپٹا پھیلائے وہ بولی
’’مجھے میرا بیٹا لادوں۔۔۔۔ تمہیں اللہ کا واسطہ موسی ۔۔۔۔۔۔ یہ دیکھو تمہارے پیر پکڑتی ہوں تم اسے لے آؤں‘‘ سروج کی اگلی حرکت نے موسی کے ساتھ ساتھ تمام نفوس کی سانسیں روک دی
موسی کے پیروں کو پکڑے وہ سب کے دل دہلا گئی تھی
’’میرا بچا موسی۔۔۔۔۔ ہمارا بیٹا۔۔۔ وہ لوگ مار دے گے اسے۔۔۔۔۔۔۔ اسے واپس لادوں موسی‘‘ وہ بلک بلک کر رونے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکی فریادیں، اسکا رونا موسی کے دل کو چیر کر رکھ گیا تھا
’’سروج اٹھو ۔۔۔۔۔ میں نے وعدہ کیا ہے نا کہ ابراہیم کو لیکرآؤں گا یقین کروں میرا‘‘ اسکے برابر بیٹھے موسی بولا
’’کیوں کروں میں تمہارا یقین۔۔۔۔۔۔۔ بتاؤ مجھے کیوں کروں۔۔۔۔۔ تم نے پہلے بھی اسے مجھ سے چھین لیا تھا اور اب پھر سے۔۔۔۔۔ بتاؤ موسی کیوں کر رہے ہوں تم ایسا؟‘‘ اسکا گریبان جھنجھوڑتے سروج نے پوچھا
’’اسے واپس لے آؤ موسی پلیز‘‘ اسکے شانے سے سر ٹکائے وہ رونے لگی جب موسی نے اسے اپنی باہوں میں لے لیا
’’میں اسے لے آؤ گا سروج میں ہمارے بیٹے کو لاؤ گا۔۔۔۔۔ پلیز سروج میرا یقین کروں‘‘ موسی اسکا سر تھپتھپاتا اسے تسلی دیتے بولا
’’موسی!!سروج‘‘ زرار اندر داخل ہوتے بولا
’’آپی‘‘ ھدی تیزی سے سروج کی جانب بڑھی
زرار کے سمجھانے پر ہی ھدی نے سروج کو بھابھی کہنا چھوڑدیا تھا اور وہ اسے آپی ہی پکارتی تھی اب
’’موسی ابراہیم کا کچھ پتا چلا‘‘ زرار نے اس سے پوچھا جبکہ ھدی سروج کو سنبھال رہی تھی
’’نہیں‘‘ موسی نے سر نفی میں ہلایا
’’زرار موسی بات سنو‘‘ مراد نے انہیں پکارا
’’کہوں؟‘‘ موسی بولا
’’گائز میرا ایک دوست ہے جو اسپیشل فورس میں ہے۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اس سے مدد مانگی ہے وہ ہماری مدد ضرور کرے گا‘‘ مراد کے بتانے پر موسی کچھ پرسکون ہوا
’’مگر یہ کام کس کا ہوسکتا ہے؟‘‘ زرار خود سے بولا
’’جلال کا‘‘ موسی دانت پیستے بولا
’’واٹ؟ تو اب ہم اس تک کیسے پہنچے گے؟‘‘ زرار پریشان ہوا ، کیونکہ اسکے ٹھکانے کا کسی کو بھی علم نہیں تھا
’’ایک ۔۔۔۔ ایک راستہ ہے‘‘ موسی اچانک بولا
’’کیسا راستہ؟‘‘ مائز نے پوچھا
’’شمائلہ۔۔۔۔۔۔ ہاں جلال کی وائف وہ مجھے اور سروج کو آج ملی تھی اسکی حالت ٹھیک نہیں تھی وہ مدد کرسکتی ہے۔۔۔۔۔۔ کم آن گائز جلدی سے ہوسپٹل کے لیے نکلنا ہوگا ہمیں‘‘ موسی کے کہتے ہی وہ چاروں ہسپتال کے لیے نکل چکے تھے
سروج کی حالت اس وقت قابل رحم تھی۔۔ ندا کو بھی اسے اس حال میں دیکھ کر افسوس ہورہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ ہسپتال پہنچے تو ان کے لیے ایک اچھی خبر تھی شمائلہ کو ہوش آچکا تھا
’’تمہارا شوہر کہاں ہے؟ُ‘‘ دروازہ زور سے کھولتے موسی اندر داخل ہوتے ہی اس پر برس پڑا
شمائلہ کو ہوش تو آگیا تھا مگر حالت اتنی بھی اچھی نہیں تھی
’’کک۔۔۔کون؟‘‘ اس نے ڈری آواز میں پوچھا
’’تمہاری موت‘‘ موسی غصے سے بھپرا بولا
’’موسی ایک منٹ‘‘ زرار نے اسے پیچھے کیا اور خود شمائلہ کے پاس آیا
’’شمائلہ بھابھی میں زرار ہوں سروج کا دوست ۔۔۔۔۔ جلال کہاں ہے آپ پلیز بتادے نہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’سروج۔۔۔سروج کہاں ہے اسے بلاؤ۔۔۔۔۔۔۔ اسے کہوں وہ اسے مار دے گا۔۔۔۔ وہ اس کے بیٹے کو مار دے گا۔۔۔۔۔ اس نے میرے بچے کو بھی مار دیا۔۔۔۔ وہ۔۔۔وہ مار دے گا‘‘ کہتے ہی وہ رونا شروع ہوگئی
اسکے دماغ پر بہت گہرہ اثر پڑا تھا
’’بھابھی جلال کہاں بتائے مجھے‘‘ زرار نے ایک بار پھر آرام سے پوچھا، شمائلہ کو ٹھیک سے یاد نہیں تھا مگر پھر بھی اسنے انہیں تھوڑا بہت گائیڈ کردیا تھا
’’مجھے معلوم ہےیہ جگہ کہاں ہے چلو چلے‘‘ مراد فورا سے بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابراہیم کا رو رو کر برا حال تھا ایاز اسے جلال کے پاس لیجارہا تھا
’’ابے چپ کرجا نہیں تو یہی دفنا دوں گا‘‘ ایاز تنگ آگیا تھا اسکے رونے سے
’’یااللہ کس عذاب کو اٹھا لایا ہوں میں‘‘ اسنے ابراہیم کو گھورا جو روئے جارہا تھا۔۔۔۔ اسے ہلکا ہلکا بخار بھی ہونے لگ گیا تھا
ایاز سے جب وہ چپ نا ہوا تو اسنے زبردستی اسےنشے والا انجیکشن لگا دیا۔۔۔۔۔ وہ ایک سال کا بچہ یہ برداشت نہیں کرسکتا تھا
ابراہیم جلد ہی ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگیا تھا
ایاز کو سکون ملا
وہ اسے لیکر ایک کچے مکان والی آبادی کی طرف آیا۔۔۔۔ یہاں کے لوگوں کے گھر باہر سے خستہ حال جبکہ اندر سے جدید تھے
یہ وہ لوگ تھے جو غلط طریقے سے دھیڑ سارا پیسہ کماتے اور پھر دنیا کی نظر میں غربت کی زندگی گزارتے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کہاں رہ گیا ہے یہ گدھا‘‘ جلال اضطراب میں ادھر ادھر ٹہلتا خود کلام ہوا
’’یہ لو بھائی تمہارا بچہ‘‘ ایاز وہاں آکر ابراہیم کو جلال کے حوالے کرتے بولا
’’ویری گڈ ایاز۔۔۔۔۔۔ کسی کو شک تو نہیں ہوا تم پر؟‘‘ جلال نے سوال کیا
’’ارے کیسا شک بہت رازداری سے یہ سب کام کیا ہے میں نے‘‘ ایاز مزے سے وہسکی کا گلاس بھرتا ایک آنکھ دبا کر بولا
’’ویسے اب آگے کا کیا پلان ہے؟‘‘ ایاز نے صوفہ پر بیٹھتے پوچھا
’’پلان کیا ہونا ہے بس اب سونے کی چڑیا ہاتھ لگ گئی ہے اس کے ذریعے اب ہم وہ سب حاصل کرے گے جس پر ہمارا حق ہے‘‘ جلال کمینگی سے بولتے ابراہیم کی طرف بڑھا
اسنے ابراہیم کو اٹھایا مگر اسنے انکھیں نہیں کھولی۔۔۔۔۔۔ جلال نے ابراہیم کی نبض ٹٹولی تو اسے حیرت کا جھٹکا لگا کیونکہ اسکی نبض بہت سلو چل رہی تھی
’’ایاز‘‘ جلال دھاڑا
’’جی بھائی؟‘‘ ایاز ایکدم ہڑبڑایا
’’کیا کیا ہے تم نے اس کے ساتھ؟‘‘ جلال نے غصے سے اس سے پوچھا
’’میں نے کچھ بھی تو نہیں بس وہ یہ تنگ کررہا تھا۔۔۔۔۔ رو رہا تھا بہت تو ایک انجیکشن لگا دیا تھا‘‘ ایاز گڑبڑا کر بولا
’’او یو فول‘‘ جلال نے اسکے چہرے پر ایک مکا مارا
’’اس کی نبض بہت سلو چل رہی ہے۔۔۔۔ اگر یہ مر گیا نا تھا تو ہم سب کچھ بھی نہیں کرپائے گے‘‘ جلال کو شدید غصہ آنے لگا
’’اب کھڑے میری شکل کیا دیکھ رہے ہوں جلدی سے ڈاکٹر کو بلاؤ‘‘ وہ ایاز پر بگڑا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کیسی ہوں پیاری بیوی؟‘‘ بیڈ پر لیٹے وجود سے اس نے پوچھا۔۔۔۔ جس کی صرف آنکھیں اور دماغ کام کرتا تھا جبکہ پورا جسم مفلوج تھا
’’تم جانتی ہوں مجھے افسوس ہوتا ہے تمہیں اس حالت میں دیکھ کر مگر غلطی تو تمہاری بھی ہے۔۔۔۔۔۔ نا تو تم ہمیں دھوکہ دینے کے بارے میں سوچتی اور نا ہی مجھے تمہارے ساتھ ایسا سلوک کرنا پڑتا‘‘ صدیق صاحب اپنی بیوی کے وجود سے بات کرتے ہنس پڑے
’’خیر میں تو تمہیں یہ خوشخبری دینے آیا ہوں کہ تمہارا پوتا آگیا ہے اور اب ہمیں ہمارا مقصد حاصل کرنے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔۔۔۔۔ جلد ملاقات ہوگی پیاری بیوی‘‘ صدیق صاحب مزے سے وہاں سے چلے گئے جبکہ ایک آنسو اشنا بیگم کی آنکھ سے ٹوٹ کر بالوں میں جذب ہوگیا
اشنا بیگم اپنے شوہر اور بیٹوں کی وجہ سے سخت پریشان تھی۔۔۔۔۔ انہوں نے ایک دن جلال اور صدیق صاحب کی ماہم کے حوالے سے گفتگو سن لی تھی۔۔۔۔۔ انہی دنوں شمائلہ بھی امید سے تھی۔۔۔۔۔ مگر جب انہیں ماہم کے حوالے سے اور پھر ابراہیم کو لیکر سب پتہ چلا تو انہوں نے سوچ لیا تھا کہ وہ ایسا نہیں ہونے دے گی
اسی لیے انہوں نے صدیق صاحب اور جلال کو پولیس میں جانے کی دھمکی دی۔۔۔۔ شمائلہ کو کب سچ معلوم ہوا تو اس نے بھی ساس کا ساتھ دیا اور یہی ان دونوں کی سب سےبڑی غلطی تھی
جلال نے شمائلہ کو تہہ خانے میں بند کردیا تھا۔۔ جبکہ صدیق صاحب نے اشنا بیگم کو ایسا نشہ دینا شروع کردیا کہ انکا جسم مفلوج ہوکر رہ گیا اور اب اثر دماغ پر بھی ہورہا تھا
اشنا بیگم نے شروع میں سچ پتہ چلنے پر کسی نا کسی طریقے سے زرار کو یہ پیغام پہنچوا دیا تھا کہ صدیق اور جلال واپس آگئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ شمائلہ نے انہی دنوں بھاگنے کی ایک ناکام سی کوشش کی جس پر جلال نے اسے خوب پیٹا تھا اور اسنے اپنا بچہ کھودیا۔۔۔۔ مگر وہ دوبارہ بھاگنے میں کامیاب ہوگئی تھی اور ایسے وہ سروج کو مل چکی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’بھائی ڈاکٹر کو کال کی ہے وہ آرہا ہے‘‘ ایاز موبائل بند کرتے بولا
جلال کو ابراہیم کی فکر تھی اس لیے نہیں کہ وہ اسکا بیٹا تھا بلکہ اس لیے کیونکہ وہ خزانے کی چابی تھی
اتنی دیر میں انکا دروازہ کھٹکھا
’’لگتا ہے ڈاکٹر آگیا‘‘ ایاز نے دروازہ کھولا تو آنکھیں ابل کر باہر آگئی
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چاروں پولیس کی ایک وین لیے اس آبادی میں پہنچے۔۔۔۔۔۔ انہوں نے نہایت رازداری سے یہ کام کیا تھا
وہ لوگ شمائلہ کے بتائے گئے اڈریس پر پہنچے تھے
جب انہوں نے دروازہ ناک کیا تو تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا
سامنے والے کو دیکھ کر زرار کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور اسنے ایک زور دار تھپڑ ایاز کو مارا۔۔۔۔ یہ اس تھپڑ کا بدلا تھا جو ایاز نے ھدی کو مارا تھا
ایاز کو مارتا پیٹتا وہ اندر داخل ہوا تو سامنے موجود جلال اور صدیق صاحب کے سہی معنوں میں طوطے اڑ گئے
اس سے پہلے وہ کچھ کرپاتے پولیس انہیں پکڑچکی تھی
موسی تیزی سے ابراہیم کی جانب بڑھا جس کی طبیعت بگڑ رہی تھی
’’زرار چھوڑ اسے ابراہیم کو ہسپتال لیجانا ہوگا‘‘ موسی نے ادھ منہ ہوئے ایاز کو دیکھ کر زرار کو کہاں ان تینوں باپ بیٹا کو پولیس اریسٹ کرچکی تھی اور گھر کی چھان بین کے بعد انہیں اشنا بیگم ملی۔۔۔۔ جن کی حالت دیکھ کر انہیں بھی ہسپتال پہنچایا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج کو کسی پل چین نہیں آرہا تھا کچھ بہت برا ہونے والا تھا ایسا اسکا گمان تھا
اتنے میں ھدی کا موبائل بجا جس پر زرار کی کال آرہی تھی
زرار کی کال سن کر ھدی کا رنگ اڑ گیا اسنے سروج کو دیکھا جو اب اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ ھدی کا چہرہ بہت کچھ غلط ہونے کی نوید سنارہا تھا
’’آپی!!!!‘‘ ھدی نے اسے پکارا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہسپتال پہنچتے ہی ابراہیم کو آئی۔سی۔یو میں لیجایا گیا تھا
زرار نے کچھ پل انتظار کے بعد ھدی کو کال کرکے صورتحال بتا دی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہسپتال میں قدم رکھتے ہی سروج آئی۔سی۔یو کی جانب بڑھی
’’موسی۔۔۔ ابراہیم۔۔۔۔۔ کہاں ہے وہ؟ وہ ٹھیک تو ہے نا موسی۔۔۔۔۔ پلیز اس کے پاس لیجاؤ‘‘ سروج روتے ہوئے بولی
’’سروج ادھر دیکھو ڈاکٹر اندر ہے نا وہ سب ٹھیک کردے گے‘‘ موسی نے اسے سمجھایا
’’کچھ ٹھیک نہیں کرے گے موسی وہ کچھ بھی نہیں کرے گے۔۔۔۔۔۔ عمیر۔۔۔عمیر بھی اسی طرح مرگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ تب بھی سب نے کہاں سروج فکر مت کروں۔۔۔۔۔ آج بھی سب کہہ رہے ہیں۔۔۔۔ میرا دل۔۔۔۔۔۔۔ میں مر جاؤں گی موسی۔۔۔۔۔ پلیز اسے بچا لوں۔۔۔۔۔ مجھے اس کے پاس لیجاؤ‘‘ وہ دھاڑے مار مار کر رو رہی تھی
ھدی کی آنکھوں سے بھی آنسو جارہی ہوگئے تھے
’’سروج میری جان ادھر بیٹھو۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوگا میں نے پرامس کیا ہے نا کچھ نہیں ہوگا اسے۔۔۔۔ وہ ہمارا بیٹا ہے سروج۔۔۔۔۔۔ میں اسے کچھ نہیں ہونے دوں گا‘‘ اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھامے وہ بولا
’’پرامس می اسے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ پرامس می تم ہمارے بیٹےکو کچھ نہیں ہونے دوں گے‘‘ سروج نے آنکھوں میں امید لیے اس سے پوچھا
’’آئی پرامس سروج‘‘ انگوٹھوں کی مدد سے اسکے آنسو صاف کیے گال سہلاتے وہ بولا
تقریبا آدھا گھنٹا انتظار کے بعد ڈاکٹر انہیں باہر نکلتا نظر آیا
موسی سروج کو چھوڑے تیزی سے اسکی جانب بڑھا
سروج کو کچھ نہیں سنائی دیا سوائے ڈاکٹر کے نفی میں ہلتے سر کے
اسکی آنکھیں دھندلا گئی۔۔۔۔۔۔ اچانک کانوں میں ماضی کا ایک جملہ گونجا
’’آئی ایم سوری بٹ ہی از نو مور۔۔۔۔۔ ان کی دیتھ رات میں ہی ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ریئلی سوری‘‘
’’تو کیا عمیر کی طرح ابراہیم بھی۔۔۔‘‘ اور اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھاگیا
’’آپی!!!!‘‘ ھدی چلائی جب سب اسکی طرف متوجہ ہوئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’آہ‘‘ اسکے دماغ میں ایک ٹھیس سی اٹھی۔۔۔۔۔۔ آنکھیں کھول کر دیکھا تو خود کو ہسپتال کے کمرے میں پایا
’’ابراہیم!!‘‘ درد سے لفظ ادا کرتے وہ رودی
’’نرس جو اسکے پاس کھڑی ڈرپ بدل رہی تھی وہ فورا ڈاکٹر کو بلانے چل دی
دروازہ ایکدم سے کھلا اور موسی اندر داخل ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکی حالت بہت خراب تھی
’’سروج!!‘‘ موسی نے پکارا
’’موسی۔۔۔۔۔ ابراہیم‘‘ اور وہ پھر سے رودی
’’شش۔۔۔ چپ کچھ نہیں ہوا اسے ٹھیک ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔ بلکل ٹھیک سمجھی تم۔۔۔۔۔ ہمارا بیٹا ٹھیک ہے بلکل ‘‘ اسکا ہاتھ تھامتے موسی بولا
اتنی دیر میں ڈاکٹر اندر داخل ہوا
’’مسز موسی۔۔۔۔۔ آپ کو فائنلی ہوش آگیا گڈ۔۔۔۔۔ اب کیسا فیل کررہی ہے آپ؟‘‘ ڈاکٹر کے پوچھنے میں اسنے سر کے اشارے سے بتایا
’’اینی پین؟‘‘
’’آ لٹل‘‘
’’اوکے ٹیک ریسٹ۔۔۔ انشااللہ، امید ہے کہ پھر ملاقات نہیں ہوں گی۔۔۔۔ اللہ آپ کو صحت دے‘‘ ڈاکٹر کی بات پر وہ مدھم سا مسکراہ دی
ڈاکٹر کے جاتے ہی وہ پھر سے موسی کی طرف متوجہ ہوئی
’’موسی ابراہیم پاس لیجاؤ مجھے سکون نہیں ملے گا‘‘ سروج بیتابی سے بولی
’’بہت مطلبی ہو تم۔۔۔۔۔۔ صرف اپنے سکون کی فکر ہے میری نہیں‘‘ موسی بولا
’’مطلب؟‘‘ سروج کو سمجھ نہیں آیا
’’مطلب کے صرف اپنے بیٹے کی فکر ہے شوہر کی کوئی پرواہ نہیں۔۔۔۔۔ تین دن سے بےہوش ہوں۔۔۔۔ شوہر بیچارہ ہلکان ہوا تمہارے لیے دن رات ایک کرگیا اور بیٹے کی فکر ہے جو مزے سے ڈسچارج ہوکر گھر چلا گیا‘‘ اسکے ماتھے کو محبت سے چومتے اس نے شکایت کی
’’کیا ابراہیم گھر۔۔۔۔۔۔ چلو ابھی چلو‘‘ وہ فورا بیڈ سے اٹھی
’’اللہ کی بندی تھوڑا حوصلہ کرلو۔۔۔۔۔ چلے گے مگر ابھی نہیں رات میں ٹھیک ہے۔۔۔۔۔‘‘
’’مگر۔۔۔‘‘
’’شش۔۔ بس کہاں نا رات میں تو رات میں۔۔۔ فلحال میں تو چلا سونے‘‘ اور ساتھ ہی موسی سروج کے ساتھ اسکے بیڈ میں لیٹ گیا
’’تم بےشرم اٹھو یہاں سے۔۔۔ شرم نہیں آتی‘‘ سروج کو جھٹکا لگا اسکی اس قدر فرینکنس پر
’’کونسی بے شرمی اپنی بیوی کے پاس لیٹا ہوں۔۔۔۔ یار ادھر آؤ تنگ مت کروں‘‘ سروج کو اپنے سینے پر لٹاتے اسکے گرد بازو رکھے موسی نے آنکھیں بند کرلی
سروج کھلی آنکھوں سے حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ وہ واقعی میں تھکا ہوا لگ رہا تھا
کچھ دیر بعد سروج بھی اسے دیکھتے دیکھتے نیند کی وادیوں میں گم ہوگئی تھی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *