Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46
’’فریحہ ۔۔۔ فریحہ رکو بات سنو میری۔۔۔۔۔ فریحہ کہاں جارہی ہوں‘‘ مائز اسے پکارے اسکے پیچھے بھاگ رہا تھا جبکہ وہ مسلسل اسے اگنور کیے جارہی تھی
آخر مائز نے اسے پکڑ ہی لیا تھا
’’کیا مسئلہ ہے؟‘‘ مائز نے اسکا بازو پکڑے پوچھا
’’کیا مطلب کیا مسئلہ ہے؟‘‘ اپنا بازو اسکی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کرتے وہ بولی
’’فریحہ تم مجھے نظر انداز کررہی ہوں۔۔۔۔۔۔ یوں ری ایکٹ کررہی ہوں جیسے میں نے کچھ کیا ہے اور تم مجھ سے ناراض ہوں۔۔۔۔۔ حالانکہ ناراض مجھے ہونا چاہیے، کل تم میرے سب فرائز کھاگئی، پھر بھی میری بجائے تم منہ پھلائے بیٹھی ہوں مسئلہ کیا ہے؟‘‘
مائز کے پوچھنے پر فریحہ کے دماغ میں پھر سے کل کا واقع گھوم گیا اسکا دل چاہا کہ وہ مائز کو شوٹ کردے، جو اس لڑکی سے فلرٹ کرنے کی کوشش میں تھا اور وہ لڑکی کیسے مائز سے ہنس ہنس کر باتیں کررہی تھی
’’کوئی مسئلہ نہیں ہے چھوڑو مجھے‘‘ اس سے اپنا بازو چھڑواتے وہ وہاں سے چل دی اس سے پہلے کے مائز اسکے پیچھے جاتا، زرار نے اسے پکڑ لیا
’’کیا ہے چھوڑو مجھے‘‘ مائز کوفت سے بولا
’’چھوڑ دوں گا پہلے میری بات تو سن لے، کام ہے تجھ سے ایک امپورٹینٹ‘‘ زرار بےتاثر لہجے میں بولا
’’کام اور مجھ سے وہ بھی امپورٹینٹ؟‘‘ مائز نے خود کی طرف اشارہ کیے بےیقینی سے پوچھا
’’ہاں تجھ سے ہی ہے‘‘ زرار نے جواب دیا
’’زرار ڈارلنگ طبیعت تو ٹھیک ہے نا تیری؟‘‘ مائز کو یہ بات کسی صورت ہضم نہیں ہوئی کہ اس سے بھی کسی کو امپورٹینٹ کام ہوسکتا ہے
’’بکواس نا کر اور بات سن میری غور سے‘‘ زرار اسے لیے ایک الگ تھلگ جگہ پر آگیا
زرار جیسے جیسے بولتا گیا، مائز کی آنکھیں حیرت سے بڑی ہوتی گئیں
’’تو۔۔۔ میرا مطلب تو اور وہ ہکلی۔۔۔۔۔ آئی مین ھدی۔۔۔۔۔۔ ساتھ ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔ مطلب کے تو واقعی میں یہ کرنا چاہتا ہے؟‘‘ مائز نے حیرت سے پوچھا
’’ہاں کوئی شک؟‘‘ زرار نے اسکا کالر دبوچتے پوچھا
’’کیا ہوا؟‘‘ موسی جو ان دونوں کو وہاں دیکھ چکا تھا وہاں آکر پوچھا
’’موسی یہ زرار اسکا دماغ چل گیا ہے۔۔۔۔۔ یہ وہ ھدی کو پرپوز کرنا چاہتا ہے وہ بھی رومینٹک انداز میں۔۔۔۔۔ یااللہ زرار اور رومینس ۔۔۔۔۔۔ لگتا ہے قیامت قریب ہے‘‘ مائز کی اس اوور ایکٹنگ پر موسی ہنس دیا جبکہ زرار بیزار سا اسے دیکھنے لگا
’’مدد کرے گا یا نہیں؟‘‘ زرار نے پوچھا
’’ہاں ٹھیک ہے کردوں گا‘‘ مائز منہ بنائے بولا
’’ہمم ٹھیک ہے جب سب ہوجائے تو مجھے بتا دینا‘‘ زرار وہاں سے مزے سے چل دیا
’’یہ۔۔ یہ تیرا بھائی کیا چیز ہے؟‘‘ مائز نے کڑھ کر پوچھا
’’توپ چیز ہے‘‘ موسی اسے آنکھ مارتے وہاں سے چلا گیا
’’سارا ٹبر ہی الٹی کھوپڑی ہے‘‘ مائز جلتا کڑھتا وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسی اور زرار لائر ہائر کرچکے تھے اور اب وہ جلال سے ملنے آئے تھے
’’کیسے ہوں جلال؟‘‘ موسی نے اسکے سامنے بیٹھے پوچھا
’’یہ تو میں تمہیں تب بتاؤں گا جب میں اس جیل سے آزاد بھی ہوجاؤں گا اور اپنا بیٹا بھی تم سے حاصل کرلوں گا‘‘ جلال غصے پر قابو پاتے بولا
’’ایسا کیا؟۔۔۔۔ اوہ میں ڈر گیا‘‘ دونوں ہاتھ اٹھائے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے موسی بولا
’’ویسے تم جانتے ہوں کہ اب تم بچ نہیں سکتے، خاصہ ٹھوس ثبوت میرے ہاتھ لگا ہے‘‘ موسی ہنس کر بولا
’’اچھا میں بھی تو سنوں ایسا کیا مل گیا تمہیں؟‘‘ جلال نے دانت پیستے پوچھا
’’کچھ خاص نہیں بس یہی کہ کیسے تم نے عمیر کے مرنے کے بعد اسکی پراپرٹی حاصل کرنے کے لیے اپنے پیارے ماموں اور ممانی جان کا قتل کروا کر اسے ایکسیڈینٹ قرار دے دیا تھا‘‘ موسی کی بات پر جلال کے چہرے کا رنگ فق ہوگیا
اسکی آنکھیں حیرت کے مارے کھل گئی
’’تم۔۔۔۔ تم بکواس کررہے ہوں۔۔۔۔ ایسا کچھ نہیں کیا میں نے‘‘ وہ ڈر اور خوف لہجے میں سموئے بولا
’’یہ تو جب کیس کی سنوائی ہوگی نا تب پتا چلے گا تمہیں ، جلال صدیق‘‘ موسی سخت لہجے میں اسکے آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے بولتا وہاں سے چل دیا
جبکہ پیچھے بیٹھے جلال کو اب اپنا بچنا ناممکن لگ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کیا میں اندر آجاؤں؟‘‘ دروازے پر ناک کرتے ندا نے پوچھا
’’ارے ندا آؤں نا‘‘ سروج خوشگوار لہجے میں بولی
’’وہ۔۔۔وہ دراصل۔۔‘‘
’’کیا ہوا کوئی کام تھا سب ٹھیک ہے نا؟‘‘ سروج نے اسے پوچھا
’’جی وہ میں نے پوچھنا تھا کہ میں ابراہیم کو اپنے ساتھ پارک لیجاؤ۔۔۔۔ آؤٹنگ بھی ہوجائے گی اور ابراہیم کو بھی زرا ڈفرنٹ ماحول ملے گا‘‘ ندا نے جواز دیا
سروج سمجھ رہی تھی کہ وہ یہاں کیوں آئی ہے۔۔۔۔ اسکے چہرے سے ہی وہ شرمندگی کا اندازہ لگا سکتی تھی مگر وہ چاہتی تھی کہ ندا خود سے معافی مانگے، اسی لیے زیادہ زور نہیں دیا
’’اوکے لیجاؤ‘‘ سروج نے اسے اجازت دے دی اور وہ ابراہیم کو ریڈی کیے اپنے ساتھ لے گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’یہ زرار بھی نا بھلا میں کیسے سب کچھ کروں۔۔۔ اللہ کس سے مدد مانگوں ۔۔۔۔۔۔۔ عمارہ تو کسی نہ کام کی ہے۔۔ جب سے منگنی ہوئی ہے شہزادی کو سرخاب کے پر ہی لگ گئے ہیں۔۔۔۔ اللہ اب کس سے مدد مانگوں‘‘ خود سے بولتا وہ پارکنگ کی جانب بڑھ رہا تھا جب اسکی نظریں فریحہ پر جن گئی جو اپنی بائیک نکال رہی تھی
’’فریحہ!!‘‘ وہ خوشی سے چلاتا اسکی طرف بھاگا اور اتنی زور سے اس میں لگا کے فریحہ بائیک سمیت نیچے گر گئی
’’مائز!!‘‘ وہ غصے سے چلائی
’’او سوری سوری‘‘ مائز بائیک اٹھاتے بولا
’’کیا ہے؟‘‘ فریحہ نے کوفت سے پوچھا
’’مدد چاہیے تمہاری‘‘ مائز معصومیت سے بولا
’’مدد اور میری کس لیے؟‘‘ فریحہ نے حیرانگی سے پوچھا
’’وہ نا ایک ڈیٹ ارینج کرنی ہے‘‘ مائز شرمیلے انداز میں بولا
فریحہ کا سارا دھیان اس لڑکی کی طرف چلا گیا جو مائز سے چپک رہی تھی
’’تو اب یہ اس کیساتھ ڈیٹ پر جائے گا‘‘ فریحہ کا خون خول اٹھا
’’ہرگز نہیں میری طرف سے انکار ہے‘‘ فریحہ سپاٹ لہجے میں بولی
’’فریحہ پلیز نا!!‘‘ مائز نے منت کی
’’اب اگر تم میرے پیچھے آئے نا تو میں زھرا آپا کو سب بتا دوں گی سمجھے‘‘ فریحہ اسے وارن کرتے بولی
’’اور اگر تم نےے میری مدد نا کی تو وہ زرار دا بیسٹ مجھے مار دے گا‘‘
’’اب بھلا زرار کا اس میں کیا ذکر؟‘‘ فریحہ نے حیرانگی سے پوچھا
’’لو اسی کے لیے تو ارینج کرنی ہے۔۔۔۔۔۔ آج زرار ھدی کو پرپوز کرنے والا ہے اور سب تیاریاں میرے ذمے لگائی ہیں‘‘ مائز منہ لٹکائے بولا
فریحہ کو ایک انجانی خوشی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔ اپنی مسکراہٹ پر قابو پاتے وہ مائز کو دیکھنے لگی
’’ٹھیک ہے کردوں گی مدد‘‘ فریحہ احسان کرنے والے انداز میں بولی
’’ویسے کب کرنا ہے سب؟‘‘ فریحہ نے سوال کیا
’’آج‘‘ مائز خوشی سے چہکا
’’واٹ آج؟‘‘ فریحہ کی آنکھیں باہر آگئی
’’ہاں آج رات آٹھ بجے‘‘ مائز ہنستے بولا
فریحہ نے ٹائم دیکھا جو چار کا ہندسہ پار کرچکا تھا
’’دماغ خراب ہے تمہارا چار سے اوپر ہوگیا ہے ٹائم اور تم کہہ رہے ہوں کہ آٹھ بجے تک سب ہونا چاہیے‘‘ فریحہ زیادتی کی شدت سے چلائی
’’تو پرپوز کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔ بچہ پیدا نہیں کرنا‘‘ مائز ایک ادا سے بولا
فریحہ کنگ سی مائز کی بات پر بت بن گئی۔۔۔ اچانک غصہ عود آیا اسکے الفاظ پر
’’تم بےشرم آدمی۔۔۔‘‘ وہ چلائی
’’تمہارے باپ کا پیسہ ہے جو بھول جاؤ گا‘‘ اسکی بات کاٹتے مائز چہچہاتے ہوئے بولا
’’واٹ؟‘‘ فریحہ تو اسکی اس بےڈھنگی بات پر حیران رہ گئی
’’ارے عمران خان کا ڈائیلاگ ہے نا، بےشرم آدمی تمہارے باپ کا پیسہ ہے جو میں بھول جاؤ گا، جو اسنے نواز شریف کو بولا تھا‘‘ تالی مارتے، اپنے بالوں کو ایک ادا سے جھٹکتے وہ بولا
’’مائز!!!‘‘ زیادتی کی شدت سے وہ بس اتنا ہی بول پائی
’’دیکھا تم نے سب پتا ہے مجھے، تم لوگ ایویں مجھے بےوقوف کہتے رہتے ہو‘‘ بچوں جیسا منہ بنائے اس نے گلہ کیا
’’تم ٹھہرو زرا تم ابھی بتاتی ہوں میں تمہیں‘‘ جب فریحہ سے کچھ بن نا پایا تو اس نے ایک چھوٹا سا پتھر زمین سے اٹھائے مائز کو دے مارا
’’ہائے امی میں گیا!!‘‘ درد سے چلاتے ہی مائز بےہوش ہوتا زمین پر گر گیا، جبکہ فریحہ تو حیرت سے کبھی اسے اور کبھی اس پتھر کو دیکھنے لگی، جو خود بھی حیران ہوگا کہ کیا وہ اتنا طاقتور تھا کہ اچھے خاصے انسان کو بے ہوش کر گیا
’’اففف کیا بنے گا ہمارا!!! میری نازک حسینہ‘‘ اسکے پاس بیٹھتے سر کو نفی میں ہلائے وہ خود سے بولی
’’اٹھ جاؤ ورنہ وہ زرار سچ میں تمہیں مار ڈالے گا‘‘ زرار کے نام پر ایک جھٹکے سے وہ اٹھا اور فریحہ کے ساتھ بائیک پر بیٹھ گیا
مائز نے اپنا فارم ہاؤس سلیکٹ کیا تھا۔۔۔۔ فارم ہاؤس شہر سے تھوڑا دور تھا ۔۔۔۔ مگر وہ کسی فیری ٹیل سے کم نہیں تھا
فریحہ اور وہ دونوں گھر کال کرکے لیٹ آنے کا بتاچکے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’آج سات بجے تک تیار رہنا ہم ڈنر پر جارہے ہیں‘‘ زرار نے میسج کیا
’’کیوں؟‘‘ جھٹ سے رپلائے آیا
’’میں تمہیں جواب دینےکا پابند نہیں‘‘ زرار نے رپلائے دیا
’’پھر میں بھی آپکی بات ماننے کی پابند نہیں‘‘ ھدی کا رپلائے اسے غصہ دلانے کو کافی تھا
مگر فلحال اس نے خود پر قابو پایا۔۔ وہ آج کا دن خراب نہیں کرنا چاہتا تھا
’’میں ایسے نہیں جاؤں گی‘‘ ھدی کا میسج آیا
’’اچھا تو کیا چاہتی ہوں؟‘‘ زرار نے فورا رپلائے دیا
’’تھوڑا پیار سے پوچھے اور اچھے سے۔۔۔۔۔ سویٹ وے میں‘‘ ساتھ ہی چڑا دینے والا ایموجی بھیجا
’’مس ھدی یاسین پلیز میرے ساتھ ڈنر پر چلے۔۔۔۔۔۔ مجھے خوشی ہوگی‘‘ تپ کر اس نے میسج کیا
’’اوہ!!! ضرور ۔۔۔۔ کیوں نہیں‘‘ اور ساتھ ہی وہ آف لائن ہوگئی
زرار اسکی تیزی پر ہنس دیا
’’مائی ھدھد‘‘ وہ خود سے بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’السلام علیکم‘‘ کھانے کے ٹائم وہ گھرداخل ہوا تھا
’’وعلیکم السلام‘‘سب نے اسے جواب دیا
’’آؤ بیٹا کھانا کھا لو‘‘ مسز علی بولی
’’جی آیا‘‘ علی صاحب پر ایک نگاہ ڈالے وہ کمرے میں چلا گیا
’’کھانے کے بعد سٹڈی میں آنا بات کرنی ہے تم سے‘‘ علی صاحب موسی سے مخاطب ہوئے
’’سروج میں کمرے میں جارہا ہوں کافی وہی لے آنا‘‘ علی صاحب کی بات اگنور کیے موسی کھانے سے ہاتھ کھینچتے بولا اور ابراہیم کو لیے کمرے میں چلا گیا
’’انکل میں بات کروں گی اس سے‘‘ سروج انہیں دیکھ کر بولی۔۔۔۔ جبکہ علی صاحب سر ہاں میں ہلائے سٹڈی میں چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔
’’تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا‘‘ موسی کو کافی پکڑاتے وہ بولی
’’اب کیا کردیا میں نے؟‘‘ کافی کا گھونٹ بھرتے اس نے پوچھا
’’انکل سےبدتمیزی کی ہے تم نے‘‘ سروج خفگی سے بولی
’’میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔ ان کیساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ انکا کیا دھرا ہے‘‘ موسی سر جھٹکتے بولا
’’موسی وہ شرمندہ ہے‘‘ سروج بولی
’’تو؟ کیا ان کے شرمندہ ہونے سے ماہم واپس آجائے گی؟‘‘ موسی نے کافی کا مگ ٹیبل پر پٹھک کر پوچھا
’’نہیں سروج انکے شرمندہ ہونے سے میری بہن واپس نہیں آئے گی‘‘ موسی سر نفی میں ہلائے بولا
’’شرمندہ ہونے سے عمیر بھی واپس نہیں آئے گا موسی‘‘ ایک درد تھا اسکی آواز میں
’’سروج!!‘‘ موسی کی آواز میں بےیقینی تھی۔۔۔۔۔
’’آئی ایم سوری ایسا نہیں بولنا چاہیے تھا۔۔۔ سوری‘‘ وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلی
آج موسی پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ سروج کبھی بھی اپنے ماضی سے نہیں نکل پائی تھی۔۔۔ وہ موسی کیساتھ اپنے حال میں جی ضرور رہی تھی مگر اسکا ماضی بھی اسکے ساتھ تھا
کچھ سوچتے ہوئے وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور سٹڈی میں علی زماد کے پاس چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔
’’ہم کہاں جارہے ہیں؟‘‘ یہ سوال وہ دس بار پوچھ چکی تھی
’’اب اگر تمہارا منہ بند نا ہوا تو زبان کاٹ ڈالوں گا‘‘ زرار اسے جھڑکتے بولا
’’مجھے نہیں جانا کہی۔۔۔۔۔ گاڑی روکے‘‘ وہ دونوں بازر سینے پر باندھے بولی
’’او بےبی تمہاری ہی تو سننے بیٹھا ہوں نا۔۔۔۔ تم نے کہہ دیا اور میں نے روک دی گاڑی‘‘ زرار نے اسے چڑایا
ھدی اگلے پندرہ منٹ کچھ نا بولی۔۔۔۔۔ اب زرار سکون سے ڈرائیو کررہا تھا
’’یہ۔۔۔یہ ہم کہاں جارہے ہیں۔۔۔۔۔ یہ راستہ تو شہر سے باہر کا ہے‘‘ ھدی نے زرار سے پوچھا
’’ھدی آئی سویر کے اب اگر مجھے تمہاری آواز آئی تو جنگی کتوں کے پاس چھوڑ آؤ گا۔۔۔۔۔۔ تمہیں ڈنر ملے نا ملے انہیں ضرور ملے گا‘‘ زرار کی دھمکی کار آمد ثابت ہوئی اور ھدی کی زبان بند رہی
’’بیسٹ‘‘ وہ منہ میں بڑبڑائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند لمحوں بعد وہ فارم ہاؤس پہنچ چکے تھے
مائز زرار کو سب کچھ بتاچکا تھا
’’آؤ‘‘ اسکے لیے گاڑی کا دروازہ کھولے وہ بولا، مگر ھدی ٹس سے مس نا ہوئی
’’تم ایسے نہیں مانو گی‘‘ زبردستی اسے ساتھ کھینچتے وہ بولا
’’چھوڑو مجھے۔۔۔۔ میں نے نہیں جانا‘‘ ھدی اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر مارتے بولی۔۔ مگر زرار نے کان بند کرلیے
وہ لوگ اندر داخل ہوئے تھے۔۔ ھدی ابھی بھی زرار کے شکنجے سے نکلنے کی کوشش میں تھی جب اچانک ان پر پھولوں کی برسات ہونے لگی۔۔۔۔۔ ھدی حیرت سے یہ سب دیکھ رہی تھی
’’مائز!!‘‘ زرار کا دل چاہا کہ مائز اسکے سامنے آئے اور وہ اسکا سر پھاڑ دے
’’زرار یہ سب؟‘‘ ھدی خوشی سے پھولوں کی اس برسات کو دیکھ رہی تھی
زرار نے حیرت سے اسکو دیکھا جو مزے سے ان پھولوں سے کھیل رہی تھی
’’اتنا برا بھی نہیں ہے ویل ڈن مائز‘‘ زرار مسکرایا اسے دیکھ کر
’’بعد میں کھیل لینا۔۔۔۔۔۔ ابھی تو اور بھی بہت کچھ ہے‘‘ ھدی کو لیے اب وہ پھولوں کے راستے پر چلتا باہر باغیچے کی جانب آگیا
’’واؤ‘‘ ھدی اشیاق سے وہ سب دیکھ رہی تھی
باغیچے کے درمیان ٹیبل خوبصورتی سے سجایا گیا تھا
کنڈلیز کی روشنی میں
ایک طرف نقلی جھرنا بہہ رہا تھا
’’آؤ‘‘ اسکا ہاتھ تھامے وہ اسے ٹیبل کی طرف لے گیا
اسے ٹیبل پر بٹھائے زرار نے ایک دم سے تالی بجائی۔۔۔ جب دونوں جانب سے دو شیف ہاتھ میں ڈشز تھامے انکی طرف بڑھے اور ٹیبل پر سجادی
ھدی بڑی آنکھوں سے یہ سب دیکھ رہی تھی
’’زرار یہ سب؟‘‘ ھدی نے سوال کیا
’’پہلے کھانا کھالے‘‘ زرار کی بات پر ھدی نے سر ہاں میں ہلائے کھانا شروع کردیا
’’اممم یہ بہت مزے کا ہے‘‘ ھدی تعریفی انداز میں بولی
زرار نے صرف مسکراہٹ پر اکتفا کیا
کھانے سے فارغ ہوتے ہی زرار اسے ’’ابھی آیا‘‘ کہہ کر اندر چلا گیا۔۔۔ جبکہ پیچھے ھدی اسکا انتظار کرنے لگی
زرار اپنا موبائل ٹیبل پر ہی چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔ جب اس پر میسج آیا۔۔۔۔ ھدی نے اسے اگنور کرنا چاہا مگر مسلسل پانچ منٹ میسجز آتے رہے تو اس نے موبائل اٹھا لیا
اچانک چاروں جانب لائٹس اوف ہوگئی
ھدی نے ڈر کر دیکھا تو ایک جانب سے ہلکی روشنی میں ایک بورڈ پر کچھ لکھا نظر آیا
اسنے آگے آکر دیکھا
“left”
بائیں جانب دیکھا تو ایک اور بورڈ تھا
“forward”
وہ آگے کو چل دی جب تک وہ بورڈ تک نہیں پہنچ گئی
وہاں پہنچتے ہی ایک اور جانب سے لائٹ اون ہوئی اور ایک بورڈ نظر آیا
“right”
اب وہ سیدھ میں چلتی باغیچے کے پچھلے حصے کی جانب آگئی
“stop”
وہ وہی رک گئی
اچانک چاروں جانب سے روشنیاں جل اٹھی
ھدی نے حیرت سے ارد گرد دیکھا
جب سامنے بنے سٹیج کی طرف بیٹھا ایک گروپ وائلن بجانے لگا
وائلن کی خوبصورت دھن ھدی کو اپنے سحر میں جکڑ چکی تھی
دوسری جانب سے رنگ برنگی تتلیوں کا رقص شروع ہوگیا
ھدی کی آنکھیں چمک اٹھی یہ سب دیکھ کر
’’ھدی‘‘ اسے اپنے پیچھے سے ایک پکار سننے کو ملی
’’زرار‘‘ پیچھے مڑ کر اس نے زرار کو پکارا
زرار اچانک ایک گھٹنے کے بل زمین پر بیٹھ گیا
’’زرار یہ۔۔۔‘‘ ھدی حیران ہوئی
’’ششش۔۔۔۔۔۔ آج مجھے بولنے دوں‘‘
’’تم میرے لیے بہت اہم ہوں ھدی یاسین ۔۔۔۔ اتنی کہ زرار احمد زماد تمہیں اپنی زندگی مانتا ہے اور اس میں شامل کرنا چاہتا۔۔۔۔۔ شادی کروں گی مجھ سے؟‘‘ ایک گھٹنے زمین پر ٹیکے وہ انگوٹھی اسکے سامنے کیے اسے اپنے احساسات سے دوچار کرگیا
بہتا جھرنا رک گیا
وائلن کی دھن بھی کہی پیچھے کھوگئی
آس پاس منڈلاتی تتلیاں بھی جیسے چھپ گئی تھی
گلاب کی مہک بھی اب غائب ہوگئی تھی
وہاں تھا تو صرف وہ بیسٹ اور اسکی ھدھد
ھدی نے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر آس پاس کے ماحول کو
اس نے پھر سے زرار کو دیکھا جو آنکھوں میں محبت سموئے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ ھدی نے چند سیکنڈ کو آنکھیں بند کرلی۔۔۔۔ بہت ہمت جمع کرکے اس نے جواب دیا
’’نہیں‘‘ ھدی کا انکار زرار کو سن کرگیا
’’ھدی۔۔۔۔‘‘ زرار نے کچھ بولنا چاہا جب ھدی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ کروا دیا
’’ابھی میری بات پوری نہیں ہوئی‘‘
’’ویسے یہ فارم ہاؤس مائز کا ہے نا؟‘‘ ھدی نے آس پاس نگاہ دوڑائے پوچھا
’’ہاں‘‘ زرار اچھنبے سے جواب دیا
’’اور یہ سب آئیڈیا۔۔۔ آپ کا تھا؟‘‘ ھدی نے سوال کیا
’’ہاں‘‘ زرار نے جھوٹ بولا
’’بیسٹ پلس جھوٹا‘‘ ھدی بڑبڑائی
’’تو مسٹر زرار احمد زماد اگر آپ کو ھدی یاسین چاہیے۔۔۔۔۔ تو کچھ ایسا کریں جو صرف زرار کرسکے اپنی ھدھد کے لیے۔۔۔ اگر شادی کرنی ہے تو خود کچھ کرے ۔۔۔۔ دوسروں کے آئیڈیاز پر مجھے امپریس مت کرے‘‘
’’سو مسٹر زرار مجھے امپریس کرنا ہے تو خود کچھ کرے۔۔۔۔۔۔ ٹرائے سم تھنگ ڈفرینٹ‘‘ اسکی ٹائی کو سہی کرتے وہ بولی
’’چلے‘‘ آگے کو چلتے اسنے پیچھے مڑ کر زرار سے پوچھا
کچھ پل کو تو وہ یونہی کھڑا رہا اور پھر مسکراہ کر سر نفی میں ہلا گیا
آج اسکا ارادہ ھدی کو سرپرائز کرنے کا تھا اور وہ اسے ہی سرپرائز کرگئی
’’ویسے اسے سب پتا کیسے چلا؟‘‘ یہ خیال اچانک زرار کے دماغ میں آیا
وہ فورا سے ھدی کی طرف بڑھا
’’تمہیں کیسے پتا چلا کہ یہ سب مائز نے کیا ہے؟‘‘ زرار نے اسکے برابر چلتے سوال کیا
’’ایسے‘‘ زرار کے سامنے اسکا موبائل لہرائے وہ بولی
زرار نے جلدی سے موبائل کھینچ کر دیکھا تو وہاں مائز کے ہزار میسجز تھے
’’اوئے کیا بنا؟‘‘
’’کھانا پسند آیا۔۔۔۔ اسپیشلی ارجنٹ شیف ہائر کروائے ہیں میں نے‘‘
’’ڈیکوریشن کیسی تھی۔۔۔ پسند آئی۔۔۔ میں نے بہت محنت کی ہے‘‘
’’فارم ہاؤس کا ویو کیسا ہے؟ ہمارا فارم ہاؤس ویسے سب کو پسند آتا ہے‘‘
’’پھولوں کی بارش کیسی لگی۔۔۔۔۔۔ ویسے لڑکیوں کو یہ چیزے اچھی لگتی ہے‘‘
’’نقلی جھرنا دیکھا۔۔۔۔ خالص میرا آئیڈیا‘‘
’’سنو وائلن کی دھن کیسی لگی۔۔۔۔۔ فریحہ نے بتایا خاصی رومانٹیک تھی ۔۔۔۔۔۔ اسی لیے وہ دی۔۔۔ مجھے تو اس میں زرا سا بھی رومانس سمجھ نہیں آیا‘‘
’’مائز‘‘ زرار کا پارہ ہائی ہوگیا یہ میسجز دیکھ کر
’’چلے‘‘ ہنستے ہوئے وہ بولی تو زرار بھی پیچھے چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
