Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35
’’ہمم تو تمہارے مطابق موسی کو اس حالت میں پہنچانے والا زرار ہے؟‘‘ وہ تینوں ہسپتال کی کینٹین میں بیٹھے چائے سے لطف اندوز ہورہے تھے جب سروج بولی
’’ہاں‘‘ مائز نے سر ہلایا
’’وجہ؟‘‘ سروج نے وجہ پوچھی
’’وہ مجھے نہیں پتہ‘‘ مائز نے نظریں چرائی۔۔۔۔۔ سروج کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آگئی وہ جانتی تھی کہ مائز کچھ چھپا رہا ہے مگر اس نے زور دینا ضروری نا سمجھا
’’چلو ٹھیک ہے پھر میں چلتی ہوں اللہ حافظ‘‘ سروج بیگ کندھے پر ٹکائے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور وہاں سے چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’اس بکواس کا مطلب جان سکتا ہوں میں؟‘‘ موسی زرار سے تیکھے لہجے میں پوچھنے لگا
’’بکواس نہیں حقیقت موسی علی زماد۔۔۔۔۔۔۔ مگر بڑی غلط جگہ دل لگایا ہے تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور سروج تو تمہیں کبھی بھی نہیں ملے گی‘‘ زرار اسکی حالت سے حظ اٹھاتے بولا
’’غلط فہمی ہے تمہاری‘‘ موسی بڑبڑایا
’’کونسی یہ کہ تمہیں سروج سے محبت ہورہی ہے یا یہ کہ سروج تمہیں نہیں ملے گی‘‘زرار نے اسے پھر سے جلایا
’’تم یہاں سے کب جاؤ گے؟‘‘ موسی نے دانت پیستے پوچھا
’’پہلے تو ارادہ تھا جانے کا مگر اب سوچ رہا ہوں کیوں نا آج رات یہی گزار لوں؟ کیوں خیال ہے تمہارا؟‘‘ زرار نے ایک آبرو اچکا کر پوچھے
’’میرے خیالات کتنے نیک ہوتے ہیں ان کا تمہیں اندازہ ہے شائد؟‘‘ موسی طنزیہ بولا
’’بات تو سہی ہے اگر نیک خیالات کے مالک ہوتے تو یقین مانو آج اس بستر پر نا ہوتے‘‘ زرار پھر سے اسے آگ لگانے میں کامیاب ہوچکا تھا
’’کمینہ‘‘ موسی بڑبڑایا
’’تم سے کم‘‘ زرار کا جواب حاضر تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کیا سوچ رہا ہے تو؟‘‘ مائز نے اسے پانی اور دوا پکڑاتے پوچھا۔۔۔۔۔۔ زرار جاچکا تھا اور اب کمرے میں صرف موسی، مائز اور عمارہ تھیں۔۔۔۔۔۔
’’زرار کے بارے میں‘‘ موسی بولا
’’اسکے بارے میں کیا؟‘‘ عمارہ نے سوال کیا
عمارہ کو مائز ماہم اور عمیر سے لیکر ھدی تک سب کچھ بتا چکا تھا اور اب عمارہ بھی زرار کے موسی کو پیٹنے کی وجہ جانتی تھی
’’یہی کہ مجھے اسکی محبت پر وار نہیں کرنا چاہیے تھا‘‘ موسی نے ان دونوں کو دیکھ کر جواب دیا
’’تو فائنلی تونے بدلہ نا لینے کا فیصلہ کرلیا۔۔۔۔ تھینکس گاڈ‘‘ مائز نے شکر منایا
’’تجھے کس نے کہا میں بدلہ نہیں لوں گا‘‘ موسی نے حیرانگی سے پوچھا
’’میں بدلہ ضرور لوں گا مگر اس بار وار زرار کی محبت پر نہیں بلکہ دوستی پر ہوگا‘‘ موسی بےلچک لہجے میں بولا
’’مطلب؟‘‘ مائز کو کچھ غلط ہونے کی گھنٹیاں بجتی محسوس ہوئی
’’بتاتا ہوں۔۔۔۔۔ عمارہ تم سروج کو کسی بھی طرح کنوینس کروں کہ وہ تمہارے ساتھ مجھے ہسپتال ملنے آئے ایک دو دن تک اور تم مائز۔۔۔۔ تم سروج کے پیچھے سے اسکے گھر جاؤ گے اور تمہیں کچھ بھی کرکے کسی بھی طرح سے سروج کے بیٹے ابراہیم کے بال یا ناخن لیکر آنے ہیں‘‘ موسی کے دماغ میں کیا چل رہا تھا کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی
’’مگر وہ کیوں؟‘‘ عمارہ حیران ہوئی
’’وقت آنے پر بتادوں گا ابھی بس اتنا ہی کروں جتنا کہاں ہے میں نے‘‘ موسی ان دونوں کو دیکھ کر بولا
’’دیکھ موسی سروج کو کسی بھی قسم کی تکلیف۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’فکر مت کروں اسے کسی بھی قسم کی تکلیف نہیں پہنچے گی بلکہ اب تو ہر کسی کی تکالیف کا مداوا کرنے کا وقت آگیا ہے اور یقین مانو اب میں کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کروں گا‘‘ موسی کی بات پر وہ دونوں سر ہلا کر رہ گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسی کو اب ہسپتال میں رکے چار دن ہوچلے تھے۔۔۔۔۔ ایسے میں کبھی اس کے پاس اسکے گھر میں سے کوئی رات گراز لیتا تو کبھی مائز
مراد شہر سے باہر ایک پروجیکٹ کے سلسلے میں گیا تھا اور اب واپسی پر اسے موسی کا علم ہوا تو اسنے اس سے ملنے کا پلان بنایا۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی ساتھ اسنے عمارہ کا بھی کال کرکے ہسپتال آنے کا کہہ دیا تھا
عمارہ اس وقت یونی میں تھی سروج بھی آج یونی آئی ہوئی تھی۔۔۔۔ ھدی کی کوئی کلاس نہیں تھی تو وہ چھٹی پر تھی
مراد کی کال سن کر عمارہ کا دماغ کام کرنا شروع ہوگیا تھا
اسے کسی بھی طرح سے سروج کو ہسپتال لیکر جانا تھا
یہی سوچتے وہ اپنی کار کے پاس آکھڑی ہوئی اور پھر کچھ سوچتے ہوئے اسنے بالوں سے پن نکال کر گاڑی کا ٹائر پنکچر کردیا
اور اب معصوم سا منہ بنائے وہ ادھر ادھر ٹہلنے لگی جب اچانک سروج کی کار اسکے پاس آکر رکی
’’ارے عمارہ تم یہاں اینی پرابلم؟‘‘ سروج نے سوال کیا
’’ہاں وہ یار میں واقعی میں پرابلم میں ہوں‘‘ عمارہ بیچارہ سا منہ بنائے بولی
’’کیوں کیا ہوا؟‘‘ سروج یکدم پریشان ہوئی
’’وہ دراصل مجھے جانا ہے موسی سے ملنے ہوسپٹل مراد بھی وہی آئے گا ڈائریکٹ اور اب میری گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوگیا ہے سمجھ نہیں آرہی کیا کروں؟ آج تو مائز بھی نہیں آیا یونی‘‘ عمارہ واقعی میں پریشان تھی
’’اوہو یہ تو بہت برا ہوگیا‘‘ سروج کو برا فیل ہوا
’’تم ایسا کروں میرے ساتھ آجاؤ میں تمہیں ڈراپ کردوں گی ‘‘ سروج نے حل پیش کیا
عمارہ کا تو دل چاہا کہ بھنگڑے ڈالے مگر خاموش رہی
’’ارے نہیں سروج تمہارے گھر کا روٹ دوسری طرف ہے اور ہوسپٹل دوسری طرف ہے۔۔۔۔۔۔ نہیں تم رہنے دوں‘‘ عمارہ نے رسمی طور پر ٹالا
’’ارے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا تم آجاؤ‘‘ سروج مسکراہ کر بولی اور عمارہ اپنا بیگ اٹھائے اسکے ساتھ کار میں آبیٹھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ھدی لاؤنج میں ابراہیم کے ساتھ کارٹون دیکھنے میں مصروف تھی اور ساتھ ہی ساتھ بڑی ہوشیاری سے اسنے ابراہیم کے ناخن کاٹ ڈالے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اب ایک عزیم کام سرانجام دینے کے بعد وہ پرسکون تھی جب گھر کی بیل بجی
’’اس وقت کون ہوگا؟‘‘ ھدی نے حیرانگی سے سوچا
چپل پاؤں میں اڑستی وہ دروازے کی جانب بڑھی
ہول سے اسنے دیکھا تو مائز کو وہاں دیکھ کر حیران رہ گئی
’’السلام علیکم‘‘ ھدی نے دروازہ کھول کر سلام کیا
’’وعلیکم السلام‘‘ مائز مسکراہ کر بولا
’’آپ یہاں؟‘‘ ھدی نے سوال کیا
’’میں اندر آجاؤ؟‘‘ مائز نے اجازت چاہی
’’جی جی ضرور‘‘ ھدی فورا سائڈ پر ہوگئی
ھدی اسے لاؤنج میں لے آئی جہاں ابراہیم بیٹھا کارٹون دیکھ رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ گنگنا بھی رہا تھا
’’آئیے بیٹھے‘‘ مائز اب سنگل صوفہ پر بیٹھ گیا تھا
’’اہمم وہ پانی۔۔۔ پانی ملے گا؟‘‘ ھدی ہاں میں سر ہلاتی کچن کی جانب چل دی
مائز اب غور سے ابراہیم کو دیکھ رہا تھا جو اب مائز کو گھور رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ مائز نے سامنے ٹیبل پر دیکھا تو ایکدم اسکی آنکھیں چمکی۔۔۔۔ اسنے ایک بار ابراہیم کے چھوٹے ہاتھوں کو پکڑ کر دیکھا جن کی تراش خراش ہوئی تھی اور پھر ٹیبل پر پڑے نیل کٹر اور ناخنوں کو دیکھا۔۔۔۔۔۔ وہ ناخن سو فیصد ابراہیم کےتھے
’’اسنے تو خود مشکل آسان کردی‘‘ وہ بڑبڑایا اور پھر پاکٹ سے ٹیشو نکال کر دو تین کٹے ناخن اٹھا کر اس میں رکھ کر پاکٹ میں ٹیشو دوبارہ ڈال دیا
’’شکریہ‘‘ ھدی کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیکر وہ بولا
’’وہ۔۔۔ وہ آپ کو کوئی کام تھا؟‘‘ ھدی نے سوال کیا
’’ہاں وہ دراصل مجھے موسی نے بھیجا تھا وہ سروج سے کوئی فائل لینی تھی۔۔۔۔ دراصل موسی کوئی پروجیکٹ پر کام کررہا ہے سروج کے ساتھ تو اسی لیے چاہیے تھی‘‘ مائز نے بروقت کہانی گڑھی
’’فائل؟ مگر مجھے تو کسی فائل کا معلوم نہیں۔۔‘‘ ھدی نے نفی میں سر ہلایا
’’اوہ اچھاااااا۔۔۔۔ تو پھر سروج کب تک آئے گی؟‘‘ مائز نے دوبارہ پوچھا
’’وہ تو نہیں پتا‘‘ ھدی نے نفی میں سر ہلایا
’’اچھا چلو میں چلتا ہوں یہاں سے گزر رہا تھا تو سوچا کہ پوچھ لو فائل کا‘‘ مائز بولتے ہی دروازے کی جانب بڑھ گیا
’’اور ہاں سیریسلی سوری میری وجہ سے تم ڈسٹرب ہوئی‘‘ مائز معزرت خواں لہجے میں بولا
’’ارے نہیں کوئی بات نہیں‘‘ ھدی مسکراہ کر بولی
’’چلو ٹھیک ہے اللہ حافظ‘‘ مائز وہاں سے چلتا بنا اسکا کام ہوچکا تھا یا یوں کہنا بہتر تھا کہ ھدی نے خود وہ کام کرنے میں مدد کی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’تھینکیو ونس اگین سروج‘‘ عمارہ مسکراہ کر بولی
’’نو پرابلم ‘‘ سروج نے جواب دیا
’’اوکے اب میں چلتی ہوں‘‘ ہوسپٹل کے سامنے گاڑی روکتے سروج بولی
’’ارے کہاں چلی؟‘‘ عمارہ نے پوچھا
’’گھر!!‘‘ سروج نے جواب دیا
’’یار اب اگر یہاں تک آگئی ہوں تو اندر آکر ایک بار مل بھی لوں موسی سے ۔۔۔۔ دیکھو اچھا نہیں لگتا نا اور اگر باتوں باتوں میں مجھ سے اگر یہ بات نکل گئی نا کہ تم چھوڑنے آئی تھی تو برا لگے گا‘‘ عمارہ نے ہر طرح سے اسے منانا چاہا
سروج نے پرسوچ نظروں سے اسے دیکھا اور سر ہاں میں ہلا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ارے مراد کی کال آرہی ہے تم یہ پکڑ کر اندر جاؤ میں اسکے ساتھ آتی ہوں‘‘ عمارہ نے تیزی سے اسے بوکے پکڑایا اور باہر کو بھاگ گئی۔۔۔۔۔ جبکہ سروج رکو رکو کرتی رہ گئی
خیر مرتا کیا نا کرتا سروج ہمت باندھتی موسی کے کمرے میں داخل ہوگئی
موسی جو کسی سوچ کے تحت کھڑکی کی طرف دیکھ رہا تھا اسنے اچانک دروازے کی طرف دیکھا تو سروج کو وہاں پاکر چونک گیا
اس سے پہلے کے وہ کچھ سمجھ پاتا اسکے نمبر پر عمارہ کا میسج آیا
’’کام کردیا ہے میں نے تمہارا۔۔۔۔ اب آگے کیا کرنا ہے وہ تمہاری مرضی‘‘ عمارہ کے میسج پر وہ جی جان سے جھوم اٹھا۔۔۔ پھر نظریں اٹھائے کتنے ہی پل اسکو دیکھتا رہا جو اب اسکی نظروں سے کنفیوز سی کمرے کا معائنہ کررہی تھی
’’معائنہ کرلیا ہوں تو اندر آجاؤ‘‘ موسی شرارت بھرے لہجے میں بولا
’’ہاں۔۔۔ وہ۔۔۔۔ میں۔‘‘ سروج کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا بولے
’’ویسے اگر معائنہ کرنے کا اتنا ہی شوق تھا تو میرا کرلیتی۔۔ آخر کو بیمار تو میں ہوں نا‘‘ موسی کی بات پر اب کی بار وہ کچھ نا بولی
’’یہ میرے لیے ہیں؟‘‘ اسکے ہاتھ میں موجود بوکے کی طرف اشارہ کیے اسنے پوچھا
’’ہاں‘‘ سروج نے سر اثبات میں ہلایا
’’تو مجھے دے بھی دوں‘‘ موسی کے بولتے ہی اسنے تیزی سے بوکے اسے پکڑایا اور اسکے بیڈ سے دو قدم پیچھے ہوئی
’’ویسے اگر پھول لانے ہی تھے تو اصلی لے آتی ان نکلی پھولوں کا میں نے کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے پھول بتارہےہیں کہ تم دل سے نہیں آئی ہوں‘‘ پھولوں کو سونگھ کر موسی بولا تو سروج نے دانت کچکچائے
’’میں چلتی ہو‘‘ سروج فٹ سے بولی
’’رکو!!‘‘ موسی کی آواز پر وہ ناچاہتے بھی رک گئی
’’کیا؟‘‘ سروج نے پوچھا
’’یار اب اگر آگئی ہوں تو تھوڑی دیر کے لیے کمپنی بھی دےدوں بور ہورہا ہوں‘‘ موسی معصوم شکل بنا کر بولا
’’بھلا میں تمہیں کیا کمپنی دے سکتی ہوں؟‘‘ سروج حیران ہوئی
’’چلو کمپنی نا سہی تو اس پروجیکٹ پر ہی بات کرلیتے ہیں جو مل کر شروع کرنا ہے ہمیں‘‘ موسی نجانے کیوں مگر اسے روکنا چاہتا تھا
’’پروجیکٹ ڈسکیشن اور یہاں ۔۔۔۔۔۔ آئی مین ہمارے پاس تو فائل بھی نہیں ہے‘‘ سروج نے جواز پیش کیا
’’میرے پاس ہے‘‘ موسی مسکرایا، اور فائل ساتھ ٹیبل پر پڑے بیگ میں سے نکال کر سروج کو تھما دی
یہ فائل تب سے موسی مائز کے ذریعے اپنے گھر سے منگوا چکا تھا
قدرت بھی فلحال موسی کے ساتھ تھی
’’آؤ بیٹھ جاؤ قسم سے کاٹتا نہیں ہوں میں‘‘ موسی کی بکواس کو نظرانداز کرتے سروج نے جھٹکے سے اس سے فائل کھینچی اور سامنے صوفہ پر جابیٹھی، جبکہ موسی اسکی اس حرکت پر سر جھٹک کرہنسا
تھوڑی دیر بعد جب موسی نےاسکی طرف دیکھا تو سروج کو فائل پڑھنے میں گم پایا۔۔۔۔۔ سروج کوپیاس لگی تھی وہ بار بار اپنے لب زبان کے ذریعے تر کررہی تھی
موسی نے اپنے ڈھکے ہوئے جوس کے گلاس کو دیکھا اور ساتھ ہی نیند کی دوائی کو۔۔۔۔۔۔۔۔ سروج کی نظروں سے بچ کر اسنے نہایت صفائی سے جوس میں ایک گولی ڈال دی
’’یہ لو‘‘ موسی نے جوس اسکی طرف بڑھایا
’’نہیں شکریہ‘‘ سروج نے انکار کیا
’’لےلو مجھے معلوم ہے تمہیں پیاس لگی ہے‘‘ موسی کی بات پر زرا سا شرمندہ ہوتے اسنے گلاس پکڑ لیا
’’تم نے ھدی کو بتایا اپنے یہاں ہونے کا آئی مین کے کافی وقت سے تم یہی ہوں؟‘‘ موسی نے سوال کیا
’’ہاں میسج کردیا تھا کہ لیٹ آؤ گی‘‘ سروج فائل پر نظریں گاڑھے بولی
اس وقت اسکے دماغ سے یہ بات بلکل نکل چکی تھی کہ وہ یہاں عمارہ کے انسسٹ کرنے پر اسکے ساتھ آئی تھی
جوس کا گلاس خالی کرکے اسنے موسی کو پکڑا دیا
تھوڑی دیر میں اسے اپنا سر بھاری محسوس ہوا۔۔۔۔۔۔ فائل بند کرکے سائڈ پر رکھے اسنے آنکھیں موندے صوفہ کی بیک پشت سے ٹیک لگا لی اور اب ہلکے سے اپنی کن پٹیوں کا مساج کرنے لگی
مگر بند آنکھیں مزید بھاری ہوتی گئی۔۔۔۔۔۔۔ اور بہت جلد ہی اسے نیند کی وادیوں میں لے گئی
تکیے کو تھوڑا اونچے کیے اس سے ٹیک لگائے وہ بایئں جانب کی طرف کروٹ لیے بہت غور سے اسے دیکھ رہا تھا اور وہ دنیا جہاں سے بےخبر غیر آرام دہ طریقے سے سورہی تھی، موسی تو خود اپنی دلی کیفیت پر حیران تھا جو پچھلے تین گھنٹوں سے اسی پوزیشن میں لیٹے اپنی چوٹ کی پرواہ کیے بنا اسے دیکھے جارہا تھا، اپنے اوپر کسی کی نظروں کی تپش محسوس کرتے سروج بھی نیند سے جاگی اسنے آنکھیں ملتے ہوئے سامنے دیکھا جو اب بھی اسے ویسے ہی دیکھنے میں مصروف تھا اور اپنی چوری پکڑی جانے پر زرہ سا بھی شرمندہ نہیں نظر آرہاتھا۔ سروج تو پہلے بوجھل دماغ سے سب کچھ یاد کرنے لگ گئی۔۔۔۔ اور پھر یاد آنے پر آنکھیں بڑی کیے دوبارہ موسی کو دیکھنے لگی
’’ایسے کیا گھور رہے تم‘‘ وہ تڑخ کر بولی
’’تمہیں دیکھ رہا ہوں، کتنی اچھی لگ رہی ہوں نا یوں میرے پاس، بلکل اپنی اپنی سی‘‘ موسی اور اسکا فلرٹی لہجہ وہ آنکھیں گھما کررہ گئی
’’لیکن مجھے افسوس ہورہا ہے‘‘ وہ بےچارگی سے بولا جبکہ سروج نے آبرو اچکا کر مطلب پوچھا
’’کاش یہاں اس وقت ہم اس گندے سے ہسپتال کے روم کی بجائے اپنے بیڈروم میں ہوتے‘‘۔۔۔
’’ہمارا بیڈروم۔۔۔۔۔۔ کیا ملب ہے اس بکواس کا‘‘ سروج غصے سے چیخی
’’آفکورس مجھ سے شادی کے بعد تمہارا اور میرا بیڈروم ہمارا ہی کہلائے گا‘‘
موسی کی اس بےباک بات پر سروج کو اپنے گال دہکتے محسوس ہوئے۔۔۔۔۔۔۔ سروج کو موسی سے دوبارہ اس بےہودہ مذاق کی امید نہیں تھی
اسنےدل میں ہزار صلوتیں عمارہ کو سنا دی جواسے یوں یہاں چھوڑ کرنجانے اب کہاں غائب تھی، مگر اسے خود پر بھی غصہ آرہا تھا کہ وہ کیسے اس شخص کی موجودگی میں اتنی بےخبری سے سو سکتی ہے
’’ارے کہاں جارہی ہوں؟‘‘ اسے صوفہ سے اٹھتا دیکھ کر وہ جلدی سے بولا
’’ارے میں تم سے پوچھ رہا ہوں‘‘ کوئی جواب نا پاکر وہ دوبارہ بولا
’’سروج حیدر کیا آپ بتانا پسند کرے گی کہ آپ کہاں جارہی ہے؟‘‘ میٹھے لہجے میں وہ لفظ چبا چبا کر بولا
’’سروج عمیر۔۔سروج عمیر نام ہے میرا نا کہ سروج حیدر، سمجھ آئی‘‘ انگلی اٹھاتے وہ بولی
’’میں تو سروج حیدر ہی بولو گا کرلوں جو کرنا ہے‘‘ چڑانے والی مسکراہٹ کے ساتھ وہ بولا۔
’’بائے دا وے بیوٹیفل لیڈی تم بتانا پسند کروں گی کہ کہاں جارہی ہوں؟‘‘ اسنے دوبارہ پوچھا
’’تمہیں شرم نہیں آتی کسی بھی لڑکی سے ایسے بات کرتے ہوئے، مت بھولو کہ میں بیو۔۔۔۔‘‘
’’ہاں ہاں پتا ہے کہ تم بیوہ ہوں، یہ دیکھو یار یہ میرے جڑے ہاتھ، بس کردوں قسم سے میں تھک چکا ہوں یہ بیوہ والی بات سن سن کر، کان پک گئے ہیں میرے کچھ مجھ بیچارے پر رحم کروں‘‘
’’تم۔۔۔ کتنے گھٹیا، بد تمیز اور اخلاق سے گرے ہوئے انسان ہو تم‘‘ اسے سمجھ نا آئی وہ کیا کرے
’’وللہ ابھی با مشکل ہی تین سے چار گھنٹے ہوئے ہیں تمہیں میرے ساتھ اور کتنے اچھے سے جان گئی ہوں تم مجھے‘‘ موسی کی آنکھوں میں واضع شرارت ناچ رہی تھی
’’اگر تم اتنے اچھے سے ہی مجھے سمجھتی رہی نا تو مجھے شک ہے سروج حیدر کہ تمہیں سروج موسی علی زماد بننے سے کوئی بھی روک نہیں سکے گا تم خود بھی نہیں‘‘ اسکے لہجے کی پختگی ایک پل کو تو سروج کو ساکت کرگئی۔
’’ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا‘‘ اسنے اپنے لہجے کو مضبوط بنانے کی ناکام سی کوشش کی
’’اور اگر میں نے ایسا کردیا؟‘‘ کتنا پختہ لہجا تھا اسکا۔
’’تم جانتے ہوں کیا مجھے اس وقت شدید افسوس ہورہا ہے کہ زرار نے صرف تمہارا بازو کیوں توڑا اور سر کیوں پھوڑا، تمہارا حل مار پیٹ نہیں ہے بلکہ یہ لمبی اور قینچی سے بھی تیز زبان ہے جسے کاٹ دینا چاہیے‘‘ کہتے ہی وہ کمرے سے باہر نکلی اور زوردار آواز میں دروازہ بند کیا جبکہ موسی دل کھول کرہنسا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج کے جاتے ہی موسی نے مائز کو کال کی
’’کہاں ہوں؟‘‘
’’ہوسپٹل ہوں ابھی سروج کو نکلتے دیکھا بس آرہا ہوں‘‘ مائز بولا
’’ہمم سہی‘‘ موسی نے ابھی موبائل رکھا ہی تھا کہ مائز اندر داخل ہوا
’’کام ہوگیا؟‘‘ موسی نے بےچینی سے پوچھا
’’بلکل میرے یار ہوگیا‘‘ مائز نےجیب سے ٹیشو نکالے موسی کے آگے رکھ دیا
موسی نے ٹیشو کا احتیاط سے کھولا تو اندر ناخن پاکر خوش ہوگیا
’’اب آگے کیا کرنا ہے؟‘‘ مائز نے سوال کیا
’’اب جو بھی کروگا میں خود کروں گا‘‘ موسی ناخن ہاتھ میں پکڑے ایک جذب سے بولا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسی نے ہسپتال کی انتظامیہ کو پیسے دے کر خفیہ طور پر ابراہیم کے ناخن اور اپنے خون کا سیمپل دےکر ڈی۔این۔اے ٹیسٹ کروایا تھا
اب انتظار تھا تو بس رپورٹس کا
موسی کو آج ڈسچارج ہوجانا تھا اور رپورٹس بھی آج ہی ملنی تھی
’’مسٹر موسی رپورٹس آچکی ہے‘‘ ڈاکٹر اسکے روم میں انویلپ لیے داخل ہوا
’’سچ میں‘‘
’’جی یہ لے‘‘ ڈاکٹر نے رپورٹس موسی کی طرف بڑھائی
موسی نے جلدی سے رپورٹس کھولی تو اسے اپنا شک یقین میں بدلتا نظرتا آیا
ڈی۔این۔اے رپورٹس سے بات واضع ہوگئی تھی کہ ابراہیم سروج کا نہیں بلکہ ماہم کا بیٹا ہے
’’میرا وعدہ ہے تم سے ماہم کے اب میں تمہارے ہر دکھ کا مداوا کروں گا‘‘ موسی خود سے عہد کرتے بولا.
جاری ہے
