Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42
عمیر سروج سے ملنا چاہتا تھا۔۔۔۔ انہی دنوں آہل کی طبیعت بگڑ گئی اور زرار اسے ٹریٹمنٹ کے لیے باہر لے گیا تھا۔۔۔۔۔ اسکا کسی سے بھی کوئی کانٹیکٹ نہیں تھا
عمیر نے سروج کے ساتھ ساتھ علی زماد سے بھی ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی جس کی وجہ کسی کو سمجھ نہیں آئی مگر سب مان گئے
مایوں کی دلہن کا جوڑا پہنے اپنےآس پاس سے بےخبر وہ اس وقت دیوانہ وار ہسپتال کے کوریڈور میں بھاگی جارہی تھی، اسکی سانسیں پھول چکی تھی مگر وہ رکی نا، جب اسےیاسین صاحب ہسپتال کے ایک کمرے سے نکلتے ہوئے نظر آئے
’’انکل!! عمیر؟‘‘ پھولی سانس اور آنسوؤں سے بھیگے چہرے کے ساتھ وہ صرف اتنا ہی پوچھ سکی، جبکہ اسکے جواب میں انہوں نے کمرے کی طرف اشارہ کردیا اور ایک لمحے کا بھی انتظار کیے بغیروہ اندر کی طرف بڑھ گئی جہاں اسکا پورا وجود پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا
’’عمیر!!‘‘ اسکی آواز سرگوشی سے زیادہ نا تھی
’’یہاں آؤ‘‘ آنکھیں کھولے اسکو مایوں کے لباس میں دیکھتے ایک تکلیف دہ مسکراہٹ عمیر کے لبوں کو چھو گئی، اور اسے اپنے پاس بلانے کا اشارہ کیا
’’عمیر‘‘ اسکا نام دوبارہ پکارتے اسکی ہچکی بندھ گئی
’’سروج؟‘‘
’’ہممم‘‘
’’مجھ سے محبت کرتی ہوں نا؟‘‘ اسنے سوال کیا جس پر سروج نے سر اثبات میں ہلا دیا
’’مجھ پر بھروسہ ہے نا؟‘‘ ایک اور سوال اور وہی جواب
’’پھر مجھ سے ایک وعدہ لینا ہوگا تمہیں؟‘‘
’’کیسا وعدہ؟‘‘
’’ہمیشہ ساتھ نبھانے کا‘‘
’’میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں عمیر‘‘ اسکا ہاتھ تھامتے وہ محبت سے بولی
’’سروج ماما، بابا اور میری ھدی کا بہت دھیان رکھنا ہے تم نے، تم جانتی ہوں نا وہ مجھے کتنے عزیز ہیں‘‘
’’عمیر ہم مل کر دھیان رکھے گے نا‘‘ عمیر کی بات نے اسکا دل دہلا دیا تھا، اپنی کانپتی زبان پر قابو پاتے وہ بولی
’’نہیں مل کر نہیں وقت نہیں ہے میرے پاس‘‘ وہ ہولے سے بولا
’’عمیر ایسے نا کہے‘‘
’’سروج مجھ پر کبھی شک مت کرنا، اور یاد رکھنا کے تمہارے عمیر نے تم سے سچی محبت کی تھی‘‘
’’عمیر کچھ نہیں ہوگا آپکو، آپ۔۔آپ بلکل ٹھیک ہوجائے گے‘‘ اسکا پورا جسم ہچکولے کھارہا تھا
’’سروج۔۔سروج یاد رکھنا میں۔۔تم سے بہت محبت کر۔۔کر۔۔کرتا ہوں‘‘
’’عمیر؟‘‘ اتنے میں علی زماد اندر داخل ہوئے
’’انکل۔۔۔۔ کک۔۔۔۔کچھ بتانا ہے آپ کو۔۔۔۔۔‘‘ عمیر نے بولتے ہی کمرے میں آتی نرس کو اشارہ کیا جو امنے ساتھ ایک صحت مند بچہ لے آئی
’’عمیر یہ؟‘‘ سروج نے حیرت سے پوچھا
’’یقین ہے نا؟‘‘ عمیر کے سوال پر اسنے سر ہاں میں ہلا دیا
’’انکل یہ آپکا نواسہ ہے ماہم کا بیٹا وہ۔۔۔ وہ اب نہیں رہی دو دن پہلے ہی وہ چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ عمیر نے ہلکے ہلکے سانس لیے بات کی مگر علی زماد کا چہرہ سخت رہا
’’وہ میرے لیے بہت پہلے ہی مر چکی تھی عمیر اور اس بچے سے میرا کوئی تعلق نہیں۔۔ ہوسکے تو میری بیوی کو اس بات سے لاعلم رکھنا‘‘ کہتے ہی وہ وہاں سے چلے گئے
’’سروج!!‘‘ عمیر نے پکارا
’’ہنہ‘‘
’’سروج اس بچے کا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔۔۔۔ میں اسے اپنا نام دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ کسی کو کبھی بھی یہ سچ معلوم نا ہوں کہ کہ یہ میرا نہیں بلکہ ماہم کا بیٹا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ دوں گی میرا؟‘‘ عمیر نے آس سے پوچھا
’’ہاں عمیر ہمیشہ ساتھ دوں گی بس آپ ٹھیک ہوجائے‘‘ وہ بولی
’’شادی کروں گی مجھ سے؟‘‘ عمیر نے اچانک پوچھا
’’ہماری شادی ہوگی عمیر۔۔۔‘‘ سروج نے جواب دیا
’’نہیں ابھی۔۔۔۔۔۔۔ ابھی کروں گی؟‘‘
’’ابھی!!!‘‘
’’ہاں ابھی۔۔۔۔۔۔۔ بہت حسرت ہے تمہارا نام اپنے نام کے ساتھ دیکھنے کی۔۔۔۔۔ آخری خواہش سمجھ کر پوری کردوں‘‘
’’عمیر اللہ کا واسطہ ایسا نا بولے‘‘
’’تو پھر میں ہاں سمجھو؟‘‘ عمیر ہلکا سا مسکرایا
’’ہاں‘‘ سروج نے سر ہاں میں ہلایا
تھوڑی ہی دیر میں عمیر اور سروج کا نکاح ہوچکا تھا جس پر شہانہ بیگم خوش نہیں تھی
عمیر نے سب کو یہی بتایا تھا کہ ابراہیم اسکا اور ماہم کا بیٹا ہے۔۔۔۔۔۔۔ کسی اور کے عمل کی سزا وہ اپنے حصے میں لے آٰیا تھا
یاسین صاحب بھی تمام حقیقت سے آگاہ تھے انہوں نے فورا سے عمیر اور ماہم کے نکاح کے جعلی پیپرز بنوائے تھے تاکہ کسی کو بھی کوئی کچھ کہنے کا موقع نا ملے
رات تک عمیر کی طبیعت بہت خراب ہوچکی تھی۔۔۔۔۔ اسکی سانسیں مدھم ہوتے ہوتے آخر میں رک گئیں تھی
’’عمیر اٹھے ناشتہ کرلے‘‘ سروج صبح صبح اسکے لیے ناشتہ لے آئی تھی
’’عمیر اٹھے‘‘ اسنے عمیر کو ہلایا مگر کوئی حرکت نا ہوئی
’’عمیر۔۔۔اٹھے۔۔۔۔عمیر۔۔۔۔۔۔۔ عمیر یہ کیا مذاق ہے؟‘‘ سروج کا ہاتھ کانپ گیا
اسنے مشین کی طرف دیکھا جہاں بس ایک سیدھی لائن تھی
’’عع۔۔۔عمیر۔۔۔۔۔عع۔۔۔۔عمیر۔۔۔اٹھو۔۔۔۔۔عمیر ایسا نا کرے۔۔۔۔عمیر اٹھا جائے نا۔۔۔۔۔۔۔ پلیز عمیر۔۔۔۔۔ عمیر!!!!!‘‘ سروج کی آہ و پکار پورے کاریدوڑ میں گونج رہی تھی
’’بابا۔۔۔۔بابا دیکھیے نا عمیر کو کیا ہوا ہے؟‘‘ حیدر صاحب کے گلے لگے وہ روتی بولی
اتنے میں ڈاکٹر کمرے سے باہر نکلا
’’آئی ایم سوری بٹ ہی از نو مور۔۔۔۔۔ ان کی دیتھ رات میں ہی ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ریئلی سوری‘‘ ڈاکٹر الفاظ ادا ہوتے ہی سروج کو اپنی دنیا گھومتی محسوس ہوئی تھی
’’نن۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔ عمیر!!!!!‘‘ سروج چلائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسی کے کان سائیں سائیں کرنے لگ گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔ اسنے حیرت سے زرار کو دیکھا جو اب اسے حقیقت سے آشنا کیے پرسکون انداز میں کرسی سے ٹیک لگا چکا تھا
’’ڈیڈ آپ کا ماہم کی موت سے کیا تعلق ہے؟ آخر آپکی انا نے کیسے اسے ختم کیا؟‘‘ موسی نے صرف یہی سوال کیا
’’موسی وہ۔۔۔۔۔‘‘ علی صاحب سے کچھ بولا نا گیا
’’یہ بھی میں بتادیتا ہوں ۔۔۔۔ مسٹر زماد‘‘ زرار پھر سے دانت پیستا بولا
’’ماہم نے تمہارے ڈیڈ کو کال کی تھی جس دل اس نے تمہیں کال کی۔۔۔۔۔۔ مگر انہوں نے اسکی بات سنے بنا یہ کہہ دیا کہ وہ پہلے سے ہی ان کے لیے مرچکی ہے اور انکا اس سے یا اس کے بیٹے سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔۔۔۔ ماہم کو جلال کی بےوفائی نے نہیں مارا تھا موسی۔۔۔۔۔۔ تمہارے سو کالڈ سپر ہیرو ڈیڈ کے الفاظوں نے مارا تھا‘‘ زرار کی بات پر موسی نے جن نظروں سے اپنے باپ کو دیکھا تھا وہ انہیں شرمندگی کے گڑھ میں ڈبونے کو کافی تھی
وہ نا تو اپنی بیٹی کو روک سکے، نا اپنے بیٹے جیسے بھتیجے کا دفاع کرسکے۔۔۔۔۔ اب تو وہ اپنے خود کے بیٹے کی نظروں سے بھی گرگئے تھے
’’ویل میرا کام یہاں ختم ہوا۔۔۔۔ اب مجھے اجازت‘‘ زرار مزے سے وہاں سے چلا گیا
’’موسی۔۔۔۔۔‘‘
’’نو ڈیڈ اب نہیں۔۔۔۔۔ آپ سروج سے میری شادی کے خلاف اس وجہ سے نہیں تھے کہ آپ کو سروج کا بیوہ ہونا برا لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ وجہ ابراہیم تھا۔۔۔۔ ماہم تھی۔۔۔۔۔۔ سوری ٹو سے ڈٰیڈ مگر اس سب میں ماہم کا کائی قصور نہیں۔۔۔ مانا اس سے غلطی ہوگئی۔۔۔۔۔ اسے غلط انسان سے محبت ہوئی مگر اسکو سمجھانے کی بجائے آپ نے کیا کیا؟ زور زبردستی۔۔۔۔۔ واؤ ڈیڈ گریٹ۔۔۔۔۔۔ یو نو واٹ۔۔۔۔۔ مجھے آپ نے اب ان سب کے سامنے نظریں اٹھانے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نظریں ملانے کے قابل نہیں چھوڑا۔۔۔۔۔۔۔ اور ڈیڈ زرار؟۔۔۔۔ زرار کو بھی نہیں بخشا اپنی جھوٹی اور کھوکھلی انا کے باعث۔۔۔۔۔۔ سیریسلی ڈیڈ‘‘ موسی کی الفاظ انہیں واقعی میں تکلیف دے رہے تھے
انہیں اپنی ہر غلطی کا احساس تھا اور اب شرمندگی بھی ہورہی تھی مگر شائد اب وقت ہاتھوں سے نکل گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماضی سوچتے سوچتے موسی کو بہت دیر ہوگئی تھی۔۔۔۔۔ ہلکا ہلکا سویرا اب چڑھ آیا تھا
ماضی کے تکلیف دہ یادوں سے نکل کر وہ نیچے آیا اور اپنی دنیا کو پرسکون دیکھ کر وہ بھی پرسکون ہوچکا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ھدی گڈ مورننگ‘‘ یونیورسٹی داخل ہوتے ہی سلمان اس سے ملا
اسے دیکھتے ہی ھدی کو زرار کی دھمکی یاد آگئی تھی۔۔۔۔ اسی لیے اگنور کیے آگے بڑھی
’’ارے ھدی میں تم سے بات کررہا ہوں‘‘ سلمان اس کے سامنے آکر بولا
ھدی یکدم گڑبڑا گئی نظریں ادھر ادھر دوڑائی تو اسے موسی اور سروج اندر داخل ہوتے نظر آئے
’’بھابھی‘‘ وہ ایکدم اونچا بولتی سروج کی طرف بھاگی۔۔۔۔۔ سروج اسے دیکھ کر چونکی
سلمان نے فلحال جانا ہی بہتر سمجھا
’’ارے چندا کیا ہوا؟‘‘ اسے سساتھ لگائے سروج نے پوچھا
’’وہ۔۔وہ آپ ابراہیم کو نہیں لائی؟‘‘ ھدی کے سوال پر وہ ہنسی
’’ھدی اب ابراہیم کو یونی تو نہیں لاسکتی نا میں۔۔۔۔۔۔ وہ گھر پر آنٹی کے پاس ہے‘‘ سروج نے مسکراہ کر جواب دیا
’’بھئی میں بھی یہی ہوں‘‘ موسی نے گلا کھنکھار کر انہیں متوجہ کیا
’’السلام علیکم!!‘‘ اسنے روکھا سا سلام کیا
’’وعلیکم السلام۔۔۔۔۔ کیسی ہے میری بہن‘‘ ہنس کر اسکے سوال کا جواب دیے موسی نے پوچھا
سروج اور ھدی دونوں نے چونک کر اسے دیکھا
’’کیا ایسے مت دیکھو میں تو بس سب ٹھیک کرنا چاہتا ہوں‘‘ اسنے وجہ دی جس پر دونوں کا منہ بن گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کا دن پرسکون گزرا تھا اب یونی سے اوف کا وقت تھا اور ایک بار پھر سلمان نامی بلا ھدی کے سامنے آن ٹپکی تھی
’’ھدی کیا ہوا ہے صبح سے بات کرنے کی کوشش کررہا ہوں مگر تم ہوں کہ۔۔۔۔۔۔ اچھا چلو چھوڑو آؤ کافی پینے چلے‘‘ مزے سے اسکا ہاتھ پکڑتے وہ بولا
’’سلمان میرا ہاتھ چھوڑو مجھے نہیں جانا‘‘ ھدی نے آرام سے بولی
’’ارے ایسے کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’اسکا ہاتھ چھوڑو‘‘ اور ھدی نے آنکھیں بند کرلی
’’تم کون ہوتے ہوں مجھے آرڈر دینے والے؟‘‘ سلمان نے اپنے سامنے کھڑے اس شخص سے پوچھا
’’میں کیا ہوں یقین مانو تم جاننا نہیں چاہوں گے اسی لیے آخری بار بول رہا ہوں کہ ہاتھ چھوڑو میری فیانسی کا‘‘ زرار ضبط کرتے بولا
’’فیانسی!!! واٹ آ جوک اور نہیں چھوڑ رہا ہاتھ کرلے جو کرنا ہے‘‘ سلمان اپنے انجام سے بےخبر مزے سے بولا
’’یہ تو گیا‘‘ الفاظ موسی کے تھے
’’اللہ رحم کرے‘‘ سروج بھی ساتھ ہی بولی
’’بتاتا ہو تجھے کہ میں کیا کر سکتا ہوں‘‘ زرار سلمان کی طرف بڑھا اور ایک تھپڑ ہی کافی تھا اسے سبق سکھانے کو
سلمان کو تھپڑ اور مکوں سے نوازتا وہ ھدی کا ہاتھ تھامے ایگزیٹ کی طرف بڑھ گیا
’’بیچارہ‘‘ موسی افسوس کرتا پارکنگ کی طرف بڑھ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھ ماہ بعد
آج ابراہیم کی پہلی سالگرہ تھی۔۔۔۔۔ بہت بڑے پیمانے پر جشن رکھا گیا تھا
سروج اور موسی اس وقت شاپنگ سے واپس آرہے تھے
’’موسی جلدی گاڑی چلاؤ‘‘ سروج دسویں بار بولی
’’چلا تو رہا ہوں ۔۔۔۔۔ اب کیا اڑا لوں؟‘‘ موسی تنکا
انہیں تھوڑی دیر پہلے ہی مسز علی کی کال آئی تھی جن کے مطابق ابراہیم نے رو رو کر سارا گھر سر پر اٹھایا ہوا تھا
’’ہاں کتنی تیز چلارہے ہوں نظر آرہا ہے‘‘ سروج نے جوابی کاروائی کی
’’ایسی بات ہے اب دیکھو‘‘ اور موسی نے سپیڈ بڑھا دی
’’موسی!!!!!!!‘‘ سروج چلائی جب ایک وجود انکی گاڑی سے آ ٹکڑایا
’’یہ۔۔۔یہ کیا کیا۔۔۔ ایسے گاڑی چلاتے ہےَ؟‘‘ سروج کانپنے لگی
’’میں نے؟ میں نے کیا کیا ہے؟ تم نے ہی کہاں تھا تیز چلاؤ ‘‘ موسی کے سچے الزامات پر سروج تڑپ اٹھی
’’اب چونچ لڑانا بند کروں اورچلو باہر نکل کر دیکھے‘‘سروج کی بات پر اس نے سر ہاں میں ہلایا اور دونوں گاڑی سے باہر نکلے۔۔۔۔۔۔۔ موسی نے زمین پر پڑے بےہوش وجود کو سیدھا کیا تو سروج کو کرنٹ لگا
’’شمائلہ بھابھی؟‘‘ سروج کے لب ہلے
’’تم انہیں جانتی ہوں؟؟‘‘ موسی نے پوچھا
’’ہاں یہ جلال کی وائف ہے‘‘ سروج کے جواب پر موسی کی آنکھیں ضبط سے لال ہوگئی تھی
’’موسی جلدی کروں بھاب ھی کو ہسپتال لیکر جانا ہے‘‘ سروج کی بات پر موسی نے اسکی مدد کی اور وہ شمائلہ کو ہسپتال لیکر چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’دیکھیے پیشنٹ کی حالت بہت خراب ہے۔۔۔۔۔ انہیں دیکھ کر لگ رہا ہے کہ انہیں بہت دنوں سے کچھ کھانے کو نہیں ملا اور نا ہی تازہ ہوا میں انہوں نے سانس لیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔ وہ بہت ویک ہے۔۔۔۔۔۔۔ اکثر ایسے کیس میں ایسا ہوجاتا ہے‘‘ ڈاکٹر کی بات پر وہ دونوں چونکے
’’کیسا کیس ؟ کیا مطلب؟‘‘ موسی نے حیرت سے سوال کیا
’’آپ ان کے رشتہ دار ہیں ۔۔۔۔ آپ لوگ نہیں جانتے انکا مس کیرج ہوا ہے‘‘
’’پیشنٹ کو ہوش کب آئے گا؟‘‘ سروج نے سوال کیا
’’دیکھیے ابھی تو وہ بہت ویک ہے کل تک ہوش آنے کے چانسز ہے‘‘ ڈاکٹر کہہ کر چلی گئی
’’سروج تم ایسا کروں گاڑی میں جاکر بیٹھو میں تب تک ایک نرس کا ارینج کرواتا ہوں اوکے‘‘موسی کی بات پر اس نے سر ہلا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات تک تمام انتظامات ہوچکے تھے۔۔۔۔۔۔ گارڈن کو اچھے سے پارٹی ٹھیم دی گئی تھی
سروج اب چھوٹے سے ابراہیم کو تیار کررہی تھی جس نے اب تھوڑا تھوڑا بولنا اور چلنا شروع کردیا تھا
عجیب بچہ تھا وہ جس نے کرالینگ نہیں کی تھی بلکہ ڈائریکٹ چلنا شروع کیا تھا
’’ارے یار سروج جلدی کرلوں سب ویٹ کررہے ہیں‘‘ موسی اندر آتے بولا
’’بس دو منٹ ‘‘ وہ عجلت میں بولی یہ جانے بغیر کہ اب موسی اسکا یفصیلی جائزہ لینے میں مگن تھا
’’با۔۔۔۔‘‘ ابراہیم نے اسے پکارا
’’جی بابا کی جان‘‘ اسکو پیار کرتے موسی نے پوچھا
’’با۔۔۔مم‘‘ وہ موسی سے سروج کی بات کرتے بولا
’’بیٹا ماما تو کافی خوبصورت لگ رہی ہے۔۔۔۔۔۔ میں ایگری ہوں آپ کیساتھ‘‘ سروج کو آنکھ مارتے موسی بولا تو وہ موسی کو آنکھیں دکھانے لگ گئی
موسی اور سروج کا رشتہ اب بہت حد تک سنبھل گیا تھا۔۔۔۔۔۔ اگر سروج کو اس سے محبت نہیں تھی تو نفرت بھی نہیں تھی
’’جلدی کرے مسز موسی‘‘ اسکے ماتھے پر لب رکھتے وہ بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فنکشن بہت اچھے سے چل رہا تھا۔۔۔۔۔ وہ سب فنکشن میں موجود تھے۔۔۔۔۔ مراد اور عمارہ کی منگنی بھی ہوگئی تھی اور اب کچھ ہی دنوں میں انکا نکاح تھا۔۔۔۔۔۔۔ فریحہ مزید مائز کی محبت میں ڈوبتی جارہی تھی۔۔۔۔۔ زرار اور ھدی اب بہت قریب آگئے تھے۔۔۔۔۔ زرار حیدر صاحب سے اپنے جذبات ھدی کے حوالے سے بیان کرچکا تھا اور اب اسنے ان سے وعدہ لیا تھا کہ ھدی کا بی۔ایس مکمل ہوتے ہی وہ ان کی شادی کروادے گے۔۔۔۔۔ آج آہل بھی زرار کے ساتھ یہاں موجود تھا
ھدی جو ہاتھ میں ڈرنک پکڑے ابراہیم کی طرف بڑھ رہی تھی اچانک اسکا پیر مڑا اور ڈرنک پاس کھڑی ندا کے کپڑوں پر گرگئی
’’یو ایڈیٹ‘‘ ندا اتنی زور سے چلائی کہ سب انکی طرف متوجہ ہوگئے
’’ماں باپ نے کچھ سکھایا بھی ہے کہ نہیں؟ اوہ سوری ماں باپ ہوگے تو سکھائے گے نا‘‘
’’ندا آئی ایم سوری غلطی سے ہوگیا مگر پلیز میرے ماما پاپا پر مت جاؤں‘‘ ھدی آنسو ضبط کرتے بولی
’’واٹ یو مین غلطی سے ہوگیا۔۔۔۔۔ جانتی بھی ہوں کہ کتنا قیمتی تھا‘‘ ندا چلائی۔۔۔۔۔ اب بس ہوگئی تھی
’’کیا فائدہ اتنے مہنگے کپڑے پہننے کا جب وہ آدھے ہوں‘‘ ھدی اسکے عریاں بازوں پر چوٹ کرتے بولی
’’اور ہاں جہاں اتنے پیسے ڈریس پر خرچ کیے تھے وہی تھوڑی بہت بازو پر بھی خرچ کرلیتی‘‘ ھدی کی بات پر مہمان تو چھوڑو موسی کی بھی ہنسی نکل گئی
’’او یو۔۔۔۔۔‘‘ اس سے پہلے کے ندا کا تھپڑ ھدی کو پڑتا ایک سخت ہاتھ نے اسے روک دیا
’’ہمت بھی مت کرنا ندا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا‘‘ زرار کی بات پر ندا کی آنکھوں میں آنسو آگئے
’’آپ سے برا تو کوئی ویسے بھی نہیں ازی‘‘ ندا کی بات زرار نے محسوس کی تھی
ماہم ہمیشہ موسی کو اپنا بھائی کہتی تھی۔۔۔۔ اسی لیے ندا بھی جیلس ہوکر زرار کو اپنا بھائی بول دیتی اور زرار خوشی خوشی اس بات پر مان جاتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کام کب تک ہوگا؟‘‘ سپیکر سے بھاری آواز گونجی
’’آج رات ہوجائے گا۔۔۔۔۔ ویسسے بھی فنکشن اپنے عروج پر ہے‘‘ وہ کمینگی سے ہنسا
’’کام ہوجانا چاہیے‘‘ سختی سے تنبیہ کی گئی
’’کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔۔۔۔ ہوجائے گا کام‘‘ وہ پریقین لہجے میں بولا
’’ویسے آپکی بیوی ملی‘‘ ایاز نے مکار ہنسی ہنستے پوچھا
’’پتہ نہیں سالی کہاں غائب ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔ ایک بار مل جائے سہی۔۔۔۔۔ بس وہ سروج کے ہاتھ نا لگے‘‘ جلال پریشان ہوا
’’ارے فکر مت کروں کچھ نہیں ہوگا‘‘ ایاز مزے سے ہاتھ جھلائے بولا
’’ہمم ٹھیک ہے‘‘ جلال کال بند کرتے مکاری سے ہنسا
’’کیا بنا؟‘‘ صدیق صاحب نے وہسکی کے گھونٹ پیتے پوچھا
’’ڈونٹ وری ڈیڈ آپکا پوتا آج رات ہمارے پاس ہوگا اور پھر ہماری چاندنی۔۔۔‘‘ اب کی بار دونوں باپ بیٹا مکاری سے ہنسنے لگ گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کیا ہورہا ہےیہ۔۔۔۔ اور زرار تم کیسے بات کررہے ہوں ندا سے۔۔۔۔۔۔ یہ لڑکی۔۔ اسے چھوڑو ندا تو تمہارے خاندان کی ہے تو تمہاری ہمت کیسے ہوئی اسے ایسے زلیل کرنے کی۔۔۔‘‘ مسز علی وہاں آتے غصے سے بولی
’’میں نے سوچا تھا کہ تمہیں ایک اور موقع دوں گی تاکہ تم ہم سے جڑ سکوں۔۔۔۔۔۔ مگر تم نے اس لڑکی کی خاطر اپنے ہی خاندان کی لڑکی کو بےعزت کیا‘‘
’’نہیں میں نے اسے بےعزت کیا جس نے میری منگیتر۔۔۔۔۔۔ میری محبت۔۔۔۔۔۔ میری ہونے والی بیوی سے بدتمیزی کی۔۔۔۔۔۔ میں اسی کی عزت کروں گا جو میری ھدی کی عزت کرے گا‘‘ زرار لفظ بہ لفظ جواب دیتے بولا
’’اگر آپ چاہتی ہے کہ میں واقعی اس خاندان سے واپس جڑ جاؤں تو آپکو ھدی کی عزت کرنا ہوگی۔۔۔۔ عزت کرنا سکھانی ہوگی‘‘ زرار الفاظوں زور ڈالتے بولا
’’اگر تم دوبارہ اس گھر اس خاندان سے جڑنا چاہتے ہوں تو تو تمہیں اس لڑکی کو چھوڑ کرندا سے شادی کرنا ہوگی‘‘ انکی بات پر زرار نے ایک نظر ھدی کو دیکھا کو مجرموں کی طرح سر جھکائے کھڑی تھی اور دوسری نظرنداکو دیکھا جس کے چہرے پر صاف صاف لکھا تھا کہ اسے زرار سے شادی نہیں کرنی
’’اور اگر میں انکار کردوں؟‘‘ اسنے جانچنا چاہا
’’تو تم ابھی اسی وقت یہاں سے چلے جاؤ‘‘ بات گویا ختم کردی گئی
’’ٹھیک جیسے آپ کی مرضی‘‘ کندھے اچکاتا وہ ھدی کی طرف بڑھا اور اسکا تھامے وہاں سے چل دیا
’’ایک منٹ زرار‘‘ موسی کی آواز پر اسکے قدم رکے
’’تمہیں اسکی ضرورت ہے‘‘ موسی نے اپنی گاڑی کی چابی اسکی طرف اچھالی جسے زرار نے اپنے دائے ہاتھ سے کیچ کرلیا اور بائیں ہاتھ جس سے ھدی کی کلائی تھام رکھی تھی اس پر گرفت مضبوط کردی، جس پر وہ سسک اٹھی اور زخمی نگاہ سے زرار کو دیکھا جو یو تھا جیسے کچھ ہوا ہی نا ہوں، وہ ھدی کو سزا دینا چاہتا تھا اور اس بار وہ اسکی مستحق بھی تھی وہ یہ جانتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرار اور ھدی کے نکلنے کے دس منٹ بعد ہی اچانک پورے لان کی لائٹ چلی گئی تھی۔۔۔۔۔ ہر طرف اندھیرا چھاگیا تھا
ابراہیم اس وقت پرام میں موجود تھا
’’موسی!!!!‘‘ سروج ایک دم چلائی اور ساتھ ہی لائٹس اون ہوگئی
سب نے ایک وجود کو بھاگتے دیکھا
’’سروج کیا ہوا؟‘‘ موسی جلدی سے اسکی طرف آیا
’’موسی ۔۔۔۔۔ ابراہیم۔۔۔۔۔ موسی وہ اسے لے گیا۔۔۔۔۔۔ مجھے نہیں پتہ کون مگر وہ لے گیا کچھ کروں موسی‘‘ وہ اسکے گلے لگے وہ رونے لگی
’’سروج لسن ۔۔۔۔۔۔ بات سنو میری۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔ میں جاتا ہوں ابراہیم کو لیکر آؤں گا اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فکر نہیں کرنی ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ میں جارہا ہوں اوکے ابراہیم کو لینے‘‘ سروج کو یقین دلاتے اسنے زرار کو کال کی اور باہر کی طرف بھاگا
’’رکو موسی ہم بھی آتے ہیں‘‘ مائز اور مراد بھی اسکے ساتھ چل دیے جب کہ سروج کی حالت خراب ہوچکی تھی
ابھی سب کچھ کتنا ٹھیک تھا اور ایک پل لگا تھا سب خراب ہونے میں.
جاری ہے
