Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 (Watching)Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01
ائیرپورٹ سے نکلتے ہی تیز ہوا کے جھونکوں نے اسکا استقبال کیا، اسکے ہونٹوں پرجو ایک مخصوص قسم کی مسکراہٹ ہمیشہ رہا کرتی تھی وہ آج کہی غائب تھی، اپنی آغوش میں لپٹے اس نومولود بچے کو دیکھ کر ایک سرد سانس خارج کرتے ہوئے وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔
’’السلام علیکم بابا‘‘ اڈھیر عمر کار ڈرائیور اسکے سامنے سر جھکائے ادب سے بولا
’’وعلیکم السلام چاچا، کیسے ہے آپ اور باقی سب کیسے ہیں؟‘‘ گاڑی میں سامان رکھواتے وہ اب بیک سیٹ پر بیٹھ گیا، جب کے ڈرائیور نے ڈرایئونگ سیٹ سنبھال لی
’’سب الحمداللہ ٹھیک بابا، بس آپ کے آنے کا انتظار تھا، گھر میں زوروشور سے آپکے اور سروج بی بی کے ویاہ کی تیاری ہورہی ہے‘‘
’’سروج!‘‘ لبوں سے یہ نام ادا ہوتے ہی اسکے چہرے پر مسکراہٹ آگئی ، جب اسنے اپنی آغوش میں لپٹے اس وجود کو دیکھا
’’کیا وہ اسے اپنا لے گی؟‘‘ وہ سوچنے لگا
’’نہیں کیا وہ اس سب کے بعد مجھے اپنا لے گی؟‘‘ ایک اور سوچ دماغ پر حاوی ہوئی
’’میں تمہیں کسی قیمت پر بھی خود سے دور نہیں جانے دوں گا سروج‘‘ خود سے عہد کرتے وہ آنکھیں موند گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونیورسٹی کا پہلا دن، دوسرے سٹوڈنٹس کی طرح وہ بھی نروس تھی مگر جہاں باقی سٹوڈنٹس کے چہروں پر خوشی تھی وہی اسکے چہرے پر خوف اور گھبراہٹ، اپنے ڈیپارٹمنٹ کے سامنے رکے وہ اس بلند بالا بلڈنگ کو غور سے دیکھنے لگی
’’تمہارے باپ کا نوکر ہوں میں جو ہر وقت تمہیں آگے پیچھے لیے گھومو گا میں‘‘ ایک تیز آواز اسکے کان سے ٹکڑائی
’’سس۔۔سوری بھیا وہ میں۔۔۔۔‘‘ وہ ہکلاتی بولی
’’کیا بولی دوبارا بولنا؟ تمہیں کتنی بار بکواس کی ہے کہ مجھے یہ بھائی بلانے کی ضرورت نہیں، شکل ہے تمہاری مجھے بھائی بلاؤ تم، اگر اس لودھی کی خواہش نا ہوتی نا پڑھی لکھی بیوی کی تو میں دیکھتا کہ تیرا باپ تجھے یہاں آنے دیتا کہ تیری ماں‘‘ وہ جو کوئی بھی تھا اسکی زبان اور کپڑے ایک دوسرے سے مختلف تھے، مہنگ برانڈ کے کپڑے اور گھڑی، جیل سے بال سیٹ کیے وہ خوش شکل نوجوان اگر کوئی اسکی زبان کا جادو دیکھ لیتا تو حیران رہ جاتا۔ جبکہ وہ تو اپنے ماں باپ کی اتنی تزلیل پر صبر کے گھونٹ پی کررہ گئی
’’گڈ مارننگ ایاز‘‘ گھٹنوں سے تھوڑی نیچے آتی جینز اور ٹائٹ شارٹ شرٹ پہنے اسنے نزاکت سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا
’’او گڈماننگ سوہائے، بائے دا وے لکنگ ہاٹ‘‘ اسکے ہاتھ تھامے، سراپے کا بھرپور جائزہ لیے وہ ایک آنکھ دبا کر بولا، جس پر وہ کھلکھلا دی
’’او مائی ایاز، یو ناٹی بوائے‘‘ اسکے بال ایک ہاتھ سے بگاڑتے وہ بولی
’’اور بائے دا وے یہ کون ہے؟‘‘ ایک نا پسندیدہ سی نظر سامنے کھڑی لڑکی پر ڈالتے اسنے پوچھا جو سر پر ڈبٹا جمائے نظریں جھکائے کھڑی تھی۔
’’او یہ!!! شی از نو ون، ایکچول شی از مائی ڈیڈ سرونٹ ڈاٹر(یہ!یہ کوئی بھی نہیں، دراصل یہ میرے ڈیڈ کے نوکر کی بیٹی ہے) یو نو نا ڈیڈ کو کتنا شوق ہے ان غریب غربا پر پیسا خرچ کرنے کا،اسی لیے انہوں نے اپنے نوکر کی بیٹی کا ایڈمیشن بھی یہی کروا دیا اسی یونیورسٹی میں‘‘ سوہائے کو جواب دیتے ایک ناپسندیدہ سی نظر اس پر ڈالتے وہ بولا
’’او یور ڈیڈ از ریئلی آ کائینڈ ہارٹ مین‘‘
’’تمہارے والد واقعی میں ایک اچھے دل کے انسان ہے) وہ امپریس ہوئے بولی
’’اوکے ایاز میری کلاس کا ٹائم ہوگیا ہے اب میں چلتی ہوں‘‘ گھڑی پر نظر ڈالے وہ اپنے بلاک کی طرف بڑھی
’’بائے ڈارلنگ۔۔۔۔ بلڈی ہوکر‘‘ اسکی جاتے ہی ایاز بولا، جبکہ وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی جس کا لہجہ جو کچھ دیر پہلے تک کتنا شیریں تھا اب یکسر بدل گیا
’’تم کیا مجھے ایسے گھور رہی ہوں، تمہارے لیے کیا بینڈ باجا لاؤ، چلو تمہیں تمہاری کلاس دکھا آؤ، چیپ عورت‘‘ ایک گھٹیا سا طعنہ اسے دیتے وہ اسے کلاس کی طرف لےگیا،جبکہ وہ پیچھے آتی اپنے آنسو پی کر رہ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’لک گائز کیا ملا مجھے‘‘ وہ جو سب آپس میں چھیڑ کھانی میں مصروف تھے اسکی بات سن کر اسکی طرف متوجہ ہوئے
’’کیا اللہ دین کا چراغ ہاتھ لگ گیا ہے‘‘ نیل فائلر استعمال کرتی یشفہ اسے بورنگ سی لک دیتے بولی
’’ارے اس سے بھی زیادہ قیمتی چیز‘‘ آنکھوں میں چمک لیے وہ بولا
’’اچھا ایسا بھی کیا مل گیا ہے دکھاؤ زرا ہمیں‘‘ اب کی بار وقار بولا
’’دیکھو زرا مجھے کیا ملا، بیسٹ کی دھڑکن اسکی جان اسکا موبائل‘‘ سب کے سامنے موبائل لہراتے وہ بولا،جبکہ اسکی بات سن کر نیل فائلر استعمال کرتی یشفہ کے ہاتھ تھمے، اس سے پہلے کوئی اور کچھ کہہ یا کر سکتا اسنے ارسلان کے ہاتھ سے موبائل اچک لیا
’’یہ مجھے دو‘‘ موبائل لیتے ہی اب وہ اسے کھولنے کی تگ و دو میں مصروف ہوگئی جبکہ موبائل پر پاسورڈ دیکھ کر اسکا منہ بن گیا
’’افف اب یہ کیا مصیبت ہے‘‘ وہ جھنجھلائی ، اس سے پہلے کے وہ کچھ کر سکتی ان سب کے کانوں میں ایک چنگھارٹی آواز پہنچی
’’میرا موبائل کہاں ہے؟ بتا تو کہاں رکھا ہے تونے میرا موبائل، بتا مجھے‘‘ اسکا کالر پکڑے، اپنے سامنے کھڑے لڑکے کے منہ پر ایک گھونسہ مارے وہ غصے سے بولا
’’مم۔۔مجھ۔۔مجھے نہیں پتا‘‘ سامنے کھڑا لڑکا گھٹی آواز میں بولا، اور زرار کا غصہ تو ساتویں آسمان پر پہنچ گیا
’’تو تو تجھے نہیں پتا ٹھیک ہے، لیکن اب جو میں تیری حالت کروں گا نا تجھے سب پتا بھی چل جائے گا اور یا د بھی آجائے گا‘‘ اسکے کالر کو جھٹکا دیا وہ دھاڑا
یشفہ کا تو روم روم اسکا غصہ دیکھ کر کانپ اٹھا، اسنے ایک نظر اپنے ہاتھ میں پکڑے موبائل کو دیکھا اور پھر اس بیسٹ کو جو کسی کو نہیں بخشتا تھا، اسے کچھ بھی کرکے زرار کے قہر سے بچنا تھا، وہ ابھی انہی سوچوں میں غم تھی جب اسے اپنے پاس ایک نسوانی آواز آئی
’’ایکسکیوز می؟ کیا آپ مجھے بی۔ایس فرسٹ سمسٹر کی کلاس کا بتا سکتی ہے؟‘‘ ھدی نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا
یشفہ جو زرار کے غصے سے بچنے کا سوچ رہی تھی اسکے زہن میں ایک جھماکا سا ہوا اسنے ایک نظر اپنے سامنے کھڑی، بڑی سی چادر میں لپٹی اس دبو سی لڑکی کو دیکھا اور دوسری اپنے ہاتھ میں پکڑے موبائل کو، اب وہ ھدی کو دیکھ کر مسکرانے لگی، اسکی مسکراہٹ پر ھدی بھی مسکراہ دی اسے یقین ہوا چلا تھا کہ یہ لوگ اسکا مزاق نہیں بنائے گے۔
’’کیوں نہیں ضرور، مگر پہلے مجھے !!! ڈانس کرکے دکھاؤ‘‘وہ جو یشفہ کے حامی بھرنے پر خوش ہوگئی تھی اسکی اگلی بات سن کر گھبرا گئی۔
’’مم۔۔میں، میں ننن۔۔نہیں کر سکتی‘‘ یشفہ کے ساتھ تین چار لڑکوں کو دیکھ کر وہ منمنائی
’’کیوں کیوں نہیں کرسکتی؟ دیکھو لٹل گرل ڈانس تو کرنا ہوگا ورنہ کلاس کا پتا نہیں ملے گا‘‘ اب کی بار ارسلان اچھل کر بولا
’’مم۔۔مجھے نہیں آتا‘‘ اسکی آواز بھرا گئی تھی
’’اوکے فائن ڈانس نہیں کرنا نو پروبلم لیکن اگر تم چاہتی ہوں کہ ہم تمہیں کچھ نا کہے تو ایک کام کرنا ہوگا۔۔۔‘‘ یشفہ یو بولی گویا احسان کیا ہو
’’ہاں ہاں بتائے میں کروں گی‘‘ وہ جلدی سے سر ہاں میں ہلاتے، ہاتھوں کی پشت سے اپنے آنسوؤں صاف کرتے بولی
’’اوکے فائن تو کرنا بس اتنا ہے کہ سامنے وہ بلیو چیک شرٹ والا جو لڑکا ہے نا اسے یہ موبائل دے آؤ اور ہم تمہیں کچھ نہیں کہے گے‘‘ یشفہ نے اتنی چالاکی سے گیم کھیلی کے اسکے سب دوست اسے داد دیے بنا نا رہ سکے
’’بس اتنا ہی‘‘ ھدی خوشی سی چہکی، سینیئرز کی ریگنگ سے بچنے کے لیے اس نے جھٹ سے ہاں میں سر ہلایا اور وہ زرار کو غصہ تو دیکھ ہی نا سکی
’’یس بےبی ڈول بس اتنا ہی‘‘ یشفہ اسکے ہاتھ میں موبائل تھماتے پیار سے بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’اللہ میاں کتنے اچھے سینئرز ہیں نا مجھے کچھ بھی نہیں کہا وہ بھی صرف اس شرط پر کے میں یہ موبائل اس لڑکے کو دےدو‘‘ دل میں اللہ سے مخاطب ہوئے وہ بولی، اب وہ زرار کی پشت کی طرف کھڑی تھی
’’ایکسکیوز می؟ وہ یہ آپ کا موبائل‘‘ وہ جو اپنے کلاس فیلو کا گریبان پکڑے کھڑا تھا ایک نسوانی آواز پر اسے جھٹکے سے چھوڑتا پیچھے مڑا، اپنا موبائل اسکے ہاتھ میں دیکھے تو زرار کے غصے کا گراف اونچا ہوگیا اور بنا کوئی لحاظ کیے اسنے ایک زورداز طمانچہ اسکے چہرے پر جڑ دیا، جبکہ ھدی کو تو اپنی دنیا گھومتی محسوس ہوئی، اسے تو بس سینئرز کی ریگنگ سے بچنے کے لیے انکا دیا گیا ٹاسک پورا کرنا تھا جو کہ اس نیلی چیک والی شرٹ والے لڑکے کا موبائل واپس کرنا تھا مگر یہ ٹاسک اسے اس قدر بھاری پڑے گا اسکے تو وہم و گمان بھی یہ بات نا آئی تھی۔
’’تم،تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے موبائل کو ہاتھ لگانے کی، آج تک کسی نے بھی میری چیزوں کو چھوا تک نہیں ہے اور تم نے اس کا استعمال کرنے کی کوشش کی‘‘ جب تھپڑ سے بھی اسکا غصہ کم نا ہوا تو اسکی گردن دبوچے دیوار کے ساتھ لگائے وہ اس پر چلانے لگا، ھدی کو تو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا، اسکی آنکھوں سے پانی نکلنے لگا،چہرہ سرخ ہوگیا جبکہ آنکھیں باہر نکلنے کوتھی۔
’’ہاؤ ڈئیڑ یو میں، میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گا یو بلڈی بیچ‘‘ اسکے گلے پر دباؤ ڈالتے وہ دھاڑا اور ھدی اسکی نظروں کے سامنے تو اندھیرا چھانے لگ گیا اور کچھ سیکنڈز میں ہی وہ زرار کی باہوں میں بےہوش ہوکر آگری مگر وہ اسکی پرواہ کیے بنا اسے زمین پر دھکا دیتے وہاں سے چلا گیا یوں جیسے کچھ ہوا ہی نا ہوں، کسی میں بھی اتنی ہمت نا تھی کہ وہ زرار کو روک سکتے اسی لیے اسکے جانے کے بعد ہی تمام مجمعہ ھدی کے پاس آکھڑا ہوا، مگر ان بےحسوں میں سے کسی نے بھی ڈاکٹر کو کال کرنے کی کوشش نا کی، بلکہ آپسی چہ مگوئیاں شروع ہوگئی
’’او مائی گاڈ یہ مر جائے گی‘‘ یشفہ کو حقیقتا پریشانی ہونے لگی
’’کھڑے کھڑے میری شکل کیا دیکھ رہے ہوں، جلدی سے لیکر چلو اسے ہسپتال‘‘ یشفہ کی بات پر وہ دونوں سر ہاں میں ہلاتے اسے اٹھائے فورا کیمپس سے ملحقہ کلینک کی طرف بڑھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے جب ہوش آئی تو خود کو سفید کمرے میں پایا
’’ارے تم ہوش میں آگئی چلو شکر ہے خدا کا ورنہ مجھے تو لگا تھا کہ تم گئی‘‘ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتی ڈاکٹر کی آواز اسکے کان سے ٹکڑائی
’’کہی تم یہ تو نہیں سوچ رہی کہ یہاں کیسے آئی؟‘‘ اسکو اپنی سوچوں میں گم دیکھے وہ مسکرا کر بولا
’’نہیں مجھے سب یاد ہے‘‘ اٹک اٹک کر بولتے اسنے اپنی بات پوری کی
’’چلو یہ تو اور بھی اچھی بات ہے‘‘ ڈاکٹر مسکرا کر بولا
’’ڈاکٹر کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے نا؟ میری بہن تو ٹھیک ہے نا؟‘‘ اس سے پہلے کوئی اور بات ہوتی ایاز ایک دم سے دروازہ کھولے اندر داخل ہوا
’’او تو آپ مسٹر ایاز کی بہن ہے؟‘‘ ایک نظر اسے ایاز پر ڈالے اب وہ ھدی کی طرف منہ کیے پوچھنے لگا، ھدی کو یو لگا جیسے وہ ڈاکٹر اس پر خوش نا تھا مگر اسے اس سے کیا لینا دینا
’’ڈاکٹر کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے نا؟‘‘ ھدی کے پاس بیٹھے فکرمندی وہ ڈاکٹر سے پوچھنے لگا
’’کوئی فکر کی بات نہیں مسٹر ایاز سب ٹھیک ہے بس یونی کے پہلے دن سٹودنٹس ایسے ہی نروس ہوجاتے ہیں اور آپ کی بہن بھی اسی کا شکار ہوئی تھی‘‘
’’او کیا سچ میں ایسا تھا؟‘‘ اب وہ ھدی سے پوچھنے لگا جس نے اپنا سر ہاں میں ہلا دیا اور چادر اس طریقے سے اپنے گرد لپیٹی کے اسکی گردن پر موجود نشان ایاز کی نظروں سے چھپ گئے۔
’’ہمم۔۔ تو اسکا مطلب کے اب میں اسے گھر لیجا سکتا ہوں نا؟‘‘
’’یا شیور مسٹر ایاز کیوں نہیں‘‘ ڈاکٹر نے گویا اجازت دی
’’چلو ھدی چلے‘‘ اسے اشارہ کرتے وہ باہر کو بڑھ گیا
’’آپ کا شکریہ ڈاکٹر‘‘ ڈاکٹر کے پاس سے گزرتے وہ بولی
’’نو پروبلم ینگ لیڈی‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’تو میں نے سنا ہے کہ مسٹر زرار نے آج تقریبا تقریبا ایک قتل کردیا تھا‘‘ وہ جو یونیورسٹی سے باہر جارہا تھا اپنے قریب سے آواز آتے اس نے رک کر دیکھا، جہاں کھڑا مائز ہاتھوں میں فرائز کی پلیٹ لیے اسے دیکھ کر دانت نکالنے لگا، جب زرار سے اسکی فرائز کو دیکھا تو مائز نے چھوٹے بچوں کی طرح فرائز اپنے پیچھے چھپا لی
’’یہ میں نہیں دوں گا‘‘ چھوٹے بچوں کی طرح سرزورزور سے نا میں ہلائے وہ بولا، جبکہ زرار تو اسکی بات پر سر نفی میں ہلانے لگا
’’تمہیں کچھ کہنا ہے؟‘‘ زرار نے سنجیدہ سے لہجے میں بےتاثر چہرہ لیے اس سے پوچھا
’’وہ؟ او یس تو مسٹر زرار میرا آپ سے ایک اہم سوال آپ نے کب سےمعصوم اور مظلوم لوگوں کو اپنے غصے کا نشانہ بنانا شروع کردیا، اور وہ بھی بےقصور معصوم بچیوں کو؟‘‘ مائز نے افسوس بھرے لہجے میں پوچھا
’’پہلی بات تو یہ کہ وہ بچی تو کہی سے بھی نہیں تھی، اور دوسری بات یہ کہ اس معصوم اور مظلوم نے میرے موبائل کو ہاتھ لگایا، شکر مناؤ میں نے اسکا ہاتھ نہیں کاٹ دیا؟‘‘
’’اففف اتنا غصہ، مگر فائدہ تو تب نا جب غصہ سہی بندے پر نکلے‘‘
’’جو بھی بات کہنی ہے سیدھے طریقے سے کہوں میرے پاس فالتو کا وقت نہیں ہے، اور اگر بکواس ہی کرنی ہے تو میں چلا‘‘ یہ کہتے ہی اسنے باہر کو قدم بڑھا دیے
’’موبائل ارسلان نے اٹھایا تھا، اور جس لڑکی نے تمہیں موبائل دیا تھا نا وہ صرف انکی ریگنگ سے بچنے کے لیے تھا اور ارسلان نے تیرے غصے سے بچنے کے لیے اسکا استعمال کیا تھا‘‘مائز کے بتانے پر اسکے قدم تو تھمے تھے مگر پھر وہ اسی طرح قدم اٹھائے باہر کو بڑھ گیا، یشفہ کا ذکر تو مائز نے بھی نہیں کیا تھا کیونکہ اسے معلوم تھا زرار سزا دیتے وقت لڑکا اور لڑکی میں فرق کرنے والوں میں سے نا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی ایک جھٹکے سے یاسین ولا کے باہر رکی تھی، وہ جو گاڑی سے باہر نکل کر قدم اندر بڑھانے کو تھی، ایک دم سے ایاز اسکے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑے، غصیلے چہرے کے ساتھ اسے اندر کی طرف لیکر بڑھا جبکہ ھدی تو اسکی اتنی زور کی پکڑ پر غصے سے کہرانے لگی
’’بھابھی او بھابھی کہاں مر گئی ہوں؟‘‘ گھر میں داخل ہوتے ہی وہ اونچی آواز میں چیخنے لگا
’’کک۔۔کیا ہوا؟‘‘ اتنےمیں کیچن سے ایک ستائس سال کی لڑکی نکلی جسکا چہرا تھپڑ سے سجا ہوا تھا، اسکی شکل دیکھ کر ھدی کے آنسوؤں میں مزید تیزی آگئی، اسکے چہرے پر موجود نشان اسکے ساتھ ہوئی داستان سنا رہے تھے
’’پکڑ اس طوائف کی اولاد، خبیث عورت ایک دن نہیں ہوا اس کتیاں کو میرے ساتھ یونیورسٹی پڑھنے گئی کو کہ وہاں جہاں کر دڑامے لگانا شروع کردیے ہیں اسنے‘‘ غصے میں کھولتے اسنے ھدی کو ایکھ جھٹکے سے دھکا دیا کہ وہ شمائلہ کے قدموں میں جاگری، اور رونے لگی
’’سنبھال اسے نہیں تو میں ہڈیاں توڑ دون گا، اس زانی کی اولاد کی‘‘ اسکے ماں باپ کے بارے میں اول فول بکتا وہ وہاں سے چل دیا، جبکہ شمائلہ اسے اپنے ساتھ لگائے اپنے کمرے میں لے آئی، اور ھدی کی تو روتے روتے ہچکیاں بندھ گئی
’’ھدی میری جان رونا بند کروں اور بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے؟‘‘ ڈوبٹے سے اسکے آنسو صاف کرتے انہوں نے پیار سے پوچھا
’’بھابھی۔۔۔بھابھی وہ۔۔‘‘ وہ اسکی حالت دیکھ کر مزید رونے لگ گئی
’’ہاں بتاؤ میری جان‘‘
’’مجھے،مجھے یونی نہیں جانا بھابھی پلیز مجھے مار دے مجھے اس جہنم سے نجات چاہیے بھابھی، مجھے ماما،بابا اور بھیا کے پاس بھیج دے پلیز بھابھی‘‘ اسکے گلے لگے وہ رونے لگی،اور شمائلہ کو دل تو اسکی اس حالت پر کٹ کر رہ گیا، اور دل میں ہی اسنے خود سے ایک فیصلہ کرلیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب لوگ اس وقت رات کے کھانے پر موجود تھے۔
’’ارے بھئی یہ ایاز کہاں غائب ہے؟‘‘ کھانے کی ٹیبل پر سب کو موجود پاکر انہوں نے سوال کیا
’’اسے کہاں ہونا ہے ڈیڈ ہوگا اپنے ان آوارہ دوستوں کے ساتھ‘‘ جلال جھنجھلا کر بولا
’’یہ کیا بکواس کھانا بنایا ہے تم نے اسے کھانا کہتے ہیں اس سے اچھا تو مین زہر کھا لو‘‘ غصے میں بولتا وہ ایک دم سے اپنی کرسی سے اٹھا اور اپنی ٹیبل میں سالن ڈالتی شمائلہ کے منہ پر اتنی زور سے تھپڑ مارا کے سالن کا ڈونگا اسکے ہاتھ سے اچھل کر گرا اور خود اسکا سر ٹیبل کے کونے سے لگا اور خون بہنے لگا، ھدی کا تو یہ منظر دیکھ کر منہ کو جاتا نوالہ ہاتھ سے چھوٹ گیا۔جب کے جلال تن فن کرتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا
’’ایک تو یہ لڑکا اور اسکا غصہ‘‘ صدیق صاحب نا میں سر ہلاتے دوبارہ کھانے کی طرف متوجہ ہوگئے جبکہ ھدی تیزی سے شمائلہ کی طرف لپکی، جم تو اپنی جگہ اشنا بیگم بھی گئی تھی، پوری زندگی انکے شوہر نے انہیں پیر کی جوتی کی طرح رکھا تھا اور اب ان کے دونوں بیٹے بھی اسی نقش قدم پر چل دیے تھے اور وہ کچھ بھی کر نا سکی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت کمرے میں بیٹھی کانپ رہی تھی، رات کے گیارہ بج چکے تھے مگر آنکھوں میں نیند ہوتے ہوئے بھی وہ سو نا سکی، کڑکڑاتے بادل اور تیز برستی بارش سے اسکا دل کانپ کر رہ گیا تھا۔
’’ھدی؟‘‘ اشنا بیگم جو کچن میں پانی کا جگ بھرنے گئی تھی ھدی کے کمرے کی لائٹس اون دیکھ کر اسی طرف آگئی
’’ھدی میری جان کیا ہوا ہے؟‘‘ اسے یوں کانپتے دیکھ کر وہ پریشان ہوگئی
’’پھوپھو؟ وہ وہ‘‘ انکے گلے سے لپٹتے روتے ہوئے اسنے باہر طوفانی موسم کی طرف اشارہ کیا
’’میری جان ایم سوری میں بھول گئی تھی کہ آپ کو ڈر لگتا ہے‘‘ وہ پریشانی سے بولی
’’پھوپھو مجھے یہاں نہیں رہنا، یہاں سب بہت برے ہیں، جلال بھیا، ایاز بھیا اور انکل سب بہت برے ہیں پھوپھو پلیز مجھے یہاں سے بھیج دے؟‘‘ وہ روتے ہوئے بولی
’’میری جان کسی نے کچھ کہاں آپ سے؟‘‘
’’پھوپھو آپ نے دیکھا نہیں کہ جلال بھیا نے کیسے مارا بھابھی کو اور ایاز بھائی نے آج سب کو بولا کہ میں نوکرانی ہوں اور یہ بھی کہ۔۔کہ میری ماما طو۔۔طوائف اور بابا زانی ہے، مجھے بھیج دے یہاں سے پھوپھو‘‘
اپنے بھائی اور بھابھی کے بارے میں اپنی ہی اولاد کے منہ سے ایسے الفاظ سن کر اشنا بیگم کا دل کٹ کر رہ گیا
’’میری جان کہاں جاؤ گی آپ؟‘‘
’’پھوپھو مجھے سر۔۔سروج بھابھی کے پاس بھیج دے یہاں انہیں یہاں بلا لے مجھے نہیں رہنا ایسے پلیز‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی
’’سروج‘‘ اسکا خیال دماغ میں آتے ہی وہ چونکی اسکے بارے میں تو انہوں نے سوچا ہی نہیں تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو سب کے سونے کا یقین کرتے وہ جیسے تیسے پی۔ٹی۔سی۔ایل کے پاس آئی اور اب نمبر ڈائل کرنے لگ گئی۔
’’ہیلو؟‘‘ نیند میں ڈوبی آواز کان کے پردوں سے ٹکڑائی
’’سروج!!!‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
