Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 (Watching)Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03
امریکہ میں اس وقت صبح کے پانچ بج رہے تھے، سروج ابھی تک شمائلہ کی کال میں پھنسی ہوئی تھی اسکی کوشش تھی کہ وہ جلد از جلد پاکستان پہنچ جائے مگر بہت کوشش کے باوجود بھی اسے دو ہفتے بعد کی سیٹ ملی تھی۔
’’دو ہفتے بعد یعنی کے ھدی کی سالگرہ‘‘ وہ سوچ کر مسکرا دی کتنی بےصبری سے انتظار کرتی تھی نا ھدی اس دن کا
’’کیا اب بھی اسے اتنا ہی شوق ہوگا اپنی سالگرہ کے آنے کا‘‘ وہ سوچنے گی
اس سے پہلے کے وہ کچھ اور سوچ سکتی اسے ہلکی ہلکی اوں آں کی آواز آئی، اسنے مڑ کر بیڈ کی طرف دیکھا جہاں ابراہیم کھیلنے میں مصروف تھا
’’ماما کی جان کیا ہوا ہے میرے بےبی کو؟‘‘ اسکے پاس لیٹتے وہ اسکے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے پوچھنے لگی جب کہ ابراہیم اپنی آنکھیں بڑی کیے اسے دیکھنے لگا جیسے وہ اپنی ماں کی ساری بات سمجھ رہا ہوں
’’جی تو اب بتائےکیا بات کرنی ہے آپ کو‘‘ اسکے ہاتھوں کو چومتے اسنے پوچھا، جس پر ابراہیم کھل کر مسکرایا یوں جیسے وہ سمجھ چکا ہوں اسکی ساری باتیں۔
’’بہت جلد ماما اور ابراہیم پاکستان جائے گے، ابراہیم کو اپنی پھوپھو سے ملنا ہے؟‘‘ اب وہ اس سے سوال کرنے لگی جس پر ابراہیم اوں آں کرنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی کلاسز لیکر باہر گراؤنڈ میں آگئی تھی، آج اسے بہت تکلیف ہوئی تھی اپنے کلاس فیلوز کا رویہ دیکھ کر
’’لگتا ہے ایاز بھیا سہی کہتے ہیں میں واقعی میں منحوس ہوں اسی لیے تو کوئی مجھ سے بات نہیں کرتا اور نا ہی کسی کو میں اچھی لگتی ہوں‘‘ درخت کے سائے میں بینچ کے نیچے بیٹھے وہ سوچنے لگی
ایاز کی کلاسز ختم ہونے میں ابھی دو گھنٹے باقی تھے اسی لیے اسے انتظار کرنا تھا
اسے ایاز کے علاوہ اور کسی کے بھی ساتھ یونی آنے کی اجازت نہیں تھی وہ ابھی انہی سوچوں میں گم تھی جب اسے اپنے پاس سے آواز آئی
’’ہیلو!!‘‘ ھدی نے نظر اٹھا کر دیکھا تواپنے سامنے ایک خوبصورت سی لڑکی کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔
بلیو جینز، کے ساتھ گرین شرٹ اور اسکے اوپر بلیو جیکٹ لیے، بالوں کو ہائی پونی میں باندھے وہ اپنا دایا ہاتھ آگے بڑھائے بولی
ھدی نے ایک نظر اس لڑکی کو دیکھا اور پھر پیچھے مڑ کر دیکھا کہ شائد وہ کسی اور سے مخاطب ہوں
’’ہیلو میں تم سے بات کر رہی ہوں‘‘ اسنے ایک بار پھر ھدی کو مخاطب کیا
’’واقعی میں مجھ سے‘‘ ھدی کے معصومیت بھرے سوال پر وہ کھلکھلا دی
’’بلکل تم سے‘‘ ھدی کا ہاتھ تھامتے اپنے ہاتھ سے ملاتے ہوئے بولی جس پر ھدی کھل کر ہنسنے لگی
’’ویسے میرا نام عمارہ ہے اور تم؟‘‘
’’میں۔۔میں ھدی، ھدی یاسین‘‘ وہ ہلکی سے آواز میں بولی
’’ھدی! نائس نیم، کس ڈیپارٹمنٹ سے ہوں؟‘‘ اسکے ساتھ بینچ پر بیٹھے اس نے پوچھا
’’میں بی۔ایس فرسٹ سمسٹر کی سٹوڈنٹ ہوں، آرٹس اینڈ کرافٹ کی‘‘
’’ریئلی !!! واؤ بہت ٹیلنٹیڈ ہوں تم تو‘‘ عمارہ جیسے امپریس ہوئی
’’آپ کیا کرتی ہے؟‘‘ ھدی نے سوال کیا
’’میں؟ میں تو بس ٹائم ویسٹ کرتی ہوں‘‘
’’مطلب؟‘‘ ھدی کو سمجھ نا آئی
’’ چھوڑو مطلب وطلب کو یہ بتاؤ تمہارے گال پر کیا ہوا ہے؟‘‘ عمارہ نے اسکے گال کی طرف اشارہ کیا جو پہلے زرار اور پھر ایاز کی تھپڑ کی وجہ سے سوج چکا تھا
’’وہ، وہ کچھ بھی تو نہیں،مم۔۔مچھر نے کاٹا تھا‘‘ اسنے بات بنائی
’’اوکے‘‘ عمارہ نے بھی بات کو زیادہ کریدا نہیں
’’تو تم یہاں کیوں بیٹھی ہوں گھر کیوں نہیں گئی؟‘‘ عمارہ نے سوال کیا
’’وہ میرے بھیا کی ابھی کلاسز ہیں تو بس اسی لیے‘‘
’’اسکا مطلب کے تم فری ہوں رائٹ؟‘‘ عمارہ نے جیسے یقین چاہا جس پر ھدی نے سر ہاں میں ہلا دیا
’’ویری گڈ تو اسکا مطلب ہے کہ تم میرے ساتھ چل سکتی ہوں‘‘ عمارہ کے اس طرح بولنے پر ھدی ڈر گئی
’’نن۔نہیں میں کہی نہیں جاؤ گی‘‘ وہ سر زور زور سے نفی میں ہلانے لگی
’’ارے کہی نہیں جانا صرف کینٹین تک جانا ہے، چلو گی نا؟‘‘ عمارہ نے اس سے پوچھا
’’ہاں‘‘ ھدی نے سر ہاں میں ہلایا
’’ویری گڈ چلو پھر‘‘ اسکا ہاتھ پکڑتے وہ اسے کینٹین کی طرف لے گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ھدی کو لیکر کینٹین پہنچی جہاں حسب معمول وہ فرایز کھانے میں مصروف تھا، عمارہ تو اسے دیکھ کر ایک ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئی
’’اسکا کچھ نہیں ہوسکتا‘‘ اسکی بات سن کر ھدی نے حیرت سے ادھر ادھر دیکھا جب عمارہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک ٹیبل کی طرف لے گئی جہاں ایک لڑکا ساری دنیا سے بےنیاز فرائز کھانے میں مصروف تھا
’’حد ہے مائز کبھی اپنی اس محبوبہ کو چھوڑ کر ارد گرد بھی نظر ڈال لیا کروں‘‘ اسے یوں فرائز پر ٹوٹے دیکھ کر وہ سر افسوس میں ہلاتے بولی
مائز تو اسکی بات اگنور کیے کھانے میں مصروف تھا جیسے آج کے بعد تو اسے کبھی کھانا نصیب ہی نہیں ہوگا یا یوں کہنا ٹھیک رہے گا فرائز نصیب نہیں ہوگی جب کھاتے کھاتے اسکی نظر عمارہ کے ساتھ کھڑی ھدی پر پڑی جو حیران کن نظروں سے اسے دیکھے جارہی تھی
حیران نظروں سے تو مائز بھی اسے دیکھ رہا تھا پھر ایک دم چار سال کے بچے کی طرح کھلکھلا کر ہنستے ہوئے اپنی جگہ سے اچھلا اور عین ھدی کے سامنے آکھڑا ہوا
’’ہیلو میرا نام مائز ہے، میں ایم۔ایس انگلش کا سٹوڈنٹ ہوں، میری عمر ۲۳ سال اور مجھے فرائز سے بہت محبت ہے، اب تم مجھے اپنے بارے میں بتاؤ‘‘ فرفر چلتی زبان کے ساتھ، آنکھوں میں شوق کا ایک جہان لیے وہ اب ھدی سے پوچھنے لگا جبکہ ھدی تو آنکھیں بڑی کیے یک ٹک اسے دیکھے جارہی تھی
’’او ہو تمہیں تو اٹک اٹک کر بولنے کی بیماری ہے چلو کوئی نا میں بتاتا ہوں، تم ھدی یاسین ہوں، تمہاری عمر انیس سال ہے، مطلب کے دو ہفتوں بعد تم انیس کی ہوجاؤ گی، تم بی۔ایس آرٹس اینڈ کرافٹ کے فرسٹ سمسٹر میں ہوں ہے نا اور تمہیں بیسٹ نے بہت زور کا تھپڑ مارا تھا دیکھو ابھی تک گال سوجا ہوا ہے‘‘ مائز کی اتنی انفارمیشن پر جہاں ھدی حیران ہوئی وہی فرائز کے ساتھ انصاف کرتی عمارہ بھی شاک کی کیفیت میں چلی گئی کیونکہ ھدی نے اسے یہی بتایا تھا کہ گال مچھھر کے کاٹنے سے سوجا ہے
’’کیا سچ میں؟‘‘ فرائز کھاتی عمارہ نے خود سے سوال کیا
’’ہاں نا میں نے خود دیکھا تھا‘‘ مائز نے ھدی کے گال کی طرف دیکھتے پیچھے بیٹھی عمارہ کو جواب دیا
’’عمارہ!!!!!!!!!!!!!!‘‘ وہ جو پیچھے پلٹا تھا عمارہ کو اپنی فرائز سے انصاف کرتے دیکھ کر چیخ اٹھا، اسکی آنکھیں غم اور غصے سے لال ہوچکی تھی
’’دد۔۔دیکھو مم۔مائز ، ہم تو دد۔۔دوست ہے نا، وو۔۔ویسے بھی دد۔۔دوستوں میں کیا تیرا کیا میرا۔ ویسے بھی بانٹنے میں عظمت ہوتی ہے، تم نے سنا نہیں یہ محاورا، تم نے تو سنا ہوگا نا ھدی‘‘ مائز کو شکاری کی طرح اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر وہ بولی اور پھر ھدی کی طرف دیکھتے محاورے کے بارے میں پوچھنے لگی، جس پر ھدی نے نفی میں سر ہلایا
’’ایسا تو کوئی محاورا ہے ہی نہیں‘‘ ھدی کی بات پر عمارہ نے اپنا تھوک نگلا اور مائز کو دیکھا جو آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے قتل کرنے کا ارادہ کرچکا تھا
’’دیکھو مائز۔۔۔میرے پیارے بھائ۔۔۔‘‘
’’اب تو تم گئی!!!‘‘ اس سے پہلے کے عمارہ بات پوری کرتی مائز چٹخ کر بولا اور ایک دم سے عمارہ پر جھپٹا
اب سین کچھ ایسا تھا کہ کینٹین کے تمام لوگ انہیں لڑتا دیکھ کر اپنا کھانا پینا چھوڑ چکے تھے، عمارہ آگے آگے اور مائز اسکے پیچھے ریڈ ایپل کی بوتل ہاتھ میں تھامے بھاگ رہا تھا، اسی اثنا میں عمارہ کی زوردار ٹکڑ ہوئی اور اسے دن میں ہی تارے نظر آگئے
’’یا وحشت!!‘‘ سامنے والی کی آواز تو عمارہ کڑوڑوں میں بھی پہچان سکتی تھی
’’عمارہ سلطان!!‘‘ عمارہ کو نظر کے سامنے دیکھ کر وہ جی بھر کر بد مزہ ہوا، یہی حال عمارہ کا بھی تھا
’’مراد شمشیر!!‘‘ نظریں تیکھی کیے، دانت پیستے وہ بولی
’’آنکھیں نہیں ہیں کیا تمہارے پاس‘‘ وہ جھنجھلایا
’’نہیں‘‘ پرسکون لہجے میں اسنے جواب دیا
’’تو جاؤ اور لے آؤ‘‘ مراد نے دانت پیستے مشورہ دیا
’’لاؤ دو‘‘ عمارہ اسکے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑی ہوگئی
’’کیا؟‘‘ مراد حیران ہوا
’’آنکھیں خریدنے کے پیسے‘‘ عمارہ کی معصومیت بھرے جواب پر جہاں مراد کا پارہ چڑھا وہی کینٹین میں موجود تمام عوام کے قہقےچھوٹ گئے۔
’’تم۔۔۔‘‘
’’ہاں میں‘‘ وہ جتنا دانت پیستے گویا ہوا تھا عمارہ کا لہجہ اتنا ہی پرسکون تھا، مراد ایک واحد شخص تھا اس دنیا میں جسے تپانے میں عمارہ کو خاصی فضیلت حاصل تھی
’’دیکھو مراد میرے زیادہ منہ متھے مت لگا کروں، سمجھے‘‘ اسے وارننگ دینے کے انداز میں وہ بولی
’’ارے یار سارا جوس لیپ ٹاپ پر گر گیا مگر شکر ہے چیپ بچ گئی ورنہ مارے جاتے‘‘ مراد کا ایک دوست سب ہنگامے سے دور، بیزار کن لہجے میں بولا
’’ارے مائز یہ دیکھو مجھے کیا ملا، ایک چیپ‘‘ مراد کے دوست کے ہاتھ سے چیپ چھنتے ہوئے اسنے مائز کو دکھائی
’’لیکن پلیز ہاں تم اسے اپنی چیپ سمجھ کر کھا نا جانا یہ کھانے والی تھوڑی نا ہے‘‘ اپنی ہی بات پر قہقہ لگائے وہ مائز سے بولی
جبکہ اسکی چیپ کھانے والی بات پر تو مراد اور اسکے دوست کی آنکھیں اور منہ دونوں کھل گئے
’’اگر میں غلط نہیں ہوں تو ابھی ابھی اس لڑکی نے چیپ کھانے کی بات کی وہ بھی مائکروسوفٹ چیپ کی‘‘ مراد کے دوست کی بات پر مراد بھی صرف سر ہلا سکا
’’یہ لو بھئی اپنی چیپ ‘‘ انکی طرف چیپ پھینکتے وہ مائز کو ساتھ لیے دوبارہ ھدی کی طرف چل دی
’’مراد میرےدوست ابھی بھی وقت ہے پیچھے ہٹ جا، اس دنیا میں عقلمند لڑکیوں کا فقدان نہیں ہے تجھے خدا کا واسطہ اس عمارہ کا خیال اپنے ذہن سے نکال دے‘‘ اپنے دوست کی بات پر وہ صرف اسے گھور سکا
’’زیادہ مشورے نا دے اور چل کلاس شروع ہونے والی ہے‘‘ اسکی بات اگنور کرنا مراد اسے وہاں سے لیے واپس مڑا ہی تھا کہ سب کہ کانوں میں ایک آواز ٹکڑائی
’’کیا ہورہا ہے یہاں‘‘ زرار جو ابھی ابھی کینٹین میں آیا تھا مائز کو ھدی کے ساتھ ہنستے دیکھ کر اسے بہت غصہ آیا اور وہ ان کے سر پر پہنچ گیا
جہاں زرار کی آواز سن کر کینٹین میں سناٹا چھایا وہی ھدی کو اپنا سانس رکتا محسوس ہوا
’’میں نے پوچھا کیا ہو رہا ہے یہاں؟‘‘ اسنے ایک بار پھر اپنی بات دوہرائی
’’ارے زرار تم آؤ نا‘‘
’’او تو اس بیسٹ کا نام زرار ہے‘‘ مائز کے اسکو بلانے پر ھدی ہولے سے بڑبڑائی
’’زرار احمد زماد‘‘ وہ عین ھدی کے سامنے کھڑا بولا
’’ہنہ!!!‘‘ ھدی کو اسکی بات سمجھ میں نا آئی
’’میرا نام زرار احمد زماد ہے، مس ھدھد‘‘
’’یہ تمہارے چہرہ کیوں سوجا ہوا ہے؟ کیا بہت تکلیف ہوئی تھی؟‘‘ اسکے تھپڑ والے گال کو انگلی سے چھوئے اسنا پوچھا جبکہ ھدی اسکی اس قدر نزدیکی پر فورا سے چار قدم دور ہوئی، اسکی یہی حرکت زرار کو طیش دلا گئی
وہ فورا سے سیدھا ہوا اور ایک نظر کینٹین میں موجود تمام لوگوں پر نظر ڈالی
’’ آج سے، اور ابھی سے اگر مجھے اس لڑکی جس کا نام ھدی یاسین ہے، اسکے ساتھ کوئی بھی نظر آیا بےشک وہ لڑکا ہوں یا لڑکی تو میں اسکا وہ حشر کروں گا کہ سب دیکھتے رہ جائے گے، اور ہاں یہ اعلان تم دونوں کے لیے بھی ہے‘‘ تمام سٹوڈنٹس کو بولتے اسنے عمارہ اور مائز کی طرف اشارہ کیا جو اسکی بات سن کر لب بھینچے رہ گئے
ایک نظر ھدی پر ڈالتے وہ وہاں سے چل دیا، اسکے جاتے ہی ھدی نے سر اٹھایا اور آس پاس دیکھا تو سب اسے اگنور کر رہے تھے جیسے وہ وہاں ہوں ہی نا، اسنے عمارہ اور مائز کی طرف بھی دیکھا جو اس سے نظریں چرا گئے، یہ سب دیکھ کر اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے ، وہ سب کو اگنور کرتی مراد کے پاس سے بھاگنے کے انداز میں گزری، جبکہ عمارہ اور مائز تو ایک دوسرے سے بھی نظریں ملانے کے قابل نا رہ پائے۔
’’اور ہم چلے ہیں عوام کو انصاف دلوانے جو ایک لڑکی کے لیے کچھ نہیں کرسکتے‘‘ اپنے دوست کی بات پر مراد نے ایک غصیلی نظر عمارہ پر ڈالی جس پر اسنے اپنی نظریں چرا لی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی گھر میں داخل ہوئی تھی کہ سامنے مسٹر صدیق اور جلال کو پاکر حیران رہ گئی
’’ارے ڈیڈ بھای آپ دونوں اس وقت گھر‘‘ اسکے ساتھ گھر میں داخل ہوتا ایاز بھی حیران ہوئے بغیر نا رہ سکا۔
’’ہاں بس ویسے ہی آج دل تھا کیوں نا ساری فیملی اکٹھے شام کی چائے پیے‘‘ شمائلہ کے ہاتھ سے چائے لیے وہ بولے
’’ارے ھدی بیٹا وہاں کہاں جا رہی ہوں ادھر آؤ میرے پاس بیٹھو‘‘ ھدی کو کمرے کی طرف بڑھتے دیکھ کر انہوں نے شیریں لہجے میں مخاطب کیا
ھدی کے لیے تو یہ انداز، یہ طریقہ بلکل نیا تھا، وہی صدیق صاحب کے انداز پر شمائلہ اور اشنا بیگم بھی ٹھٹھکی۔
’’تم جانتی ہوں ھدی تمہارے والدین عظیم لوگ تھے، مجھے واقعی انکی کمی محسوس ہوتی ہے، یاد تو تمہیں بھی آتی ہوگی نا‘‘ اپنے والدین کے زکر پر آنکھیں تو ھدی کی بھی بھر آئی تھی
’’تم تو انکی آخری نشانی ہوں، بہت معصوم، بھولی اور سیدھی اور یہ دنیا اتنی ہی چالاک ہے میری بیٹی، اور مجھے ہر وقت تمہاری فکر کھائے جاتی ہے پتا نہیں کیا ہوجائے تمہارے ساتھ، بس اسی لیے میں نے سوچا ہے کہ بہت جلد میں تمہارے فرض سے بھی آزاد ہوجاؤ، مگر باہر کے لوگ۔۔۔۔۔۔۔ تو میں نے بہت سوچنے سمجھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ دو ہفتوں بعد تمہارا اور ایاز کا سادگی سے نکاح کردیا جائے‘‘ جہاں اس بات پر سب گھر والوں کو جھٹکا لگا وہی ھدی کا دل بند ہونے کو آگیا، جبکہ ایاز جو کچھ بولنے جا رہا تھا جلال کے ہاتھ پکڑنے پر وہی رک گیا
’’مگر یہ؟یہ کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ اشنا بیگم کسی طور بھی اپنی بھتیجی پر ایسا ظلم ہوتے نہیں دیکھ سکتی تھی
’’کیو کیوں نہیں ہوسکتا‘‘ صدیق صاحب کے پتھریلے لہجے پر وہ کانپ گئی
’’میرا مطلب کے ھدی تو ابھی پڑھ رہی ہے نا اور ایاز بھی‘‘ انہوں نے فورا بات سنبھالی
’’اسکی فکر آپ مت کرے بیگم ابھی تو صرف نکاح ہوگا، رخصتی تو پڑھائی کے بعد ہی ہوگی۔
ھدی نے ایک زخمی نظر اپنی پھوپھی پر ڈالی جنہوں نے نظریں چرا لی اور تھکے قدم اٹھاتی اپنے کمرے کی طرف بڑھی، اسکی ایسی حالت پر شمائلہ اور اشنا بیگم دونوں کا دل کٹ کر رہ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’تو تم پاکستان جانے کا فیصلہ کرچکی ہوں؟‘‘ وہ جو ابھی ابھی گھر میں داخل ہوئی تھی اپنی ماں کی بات سن کر وہی رک گئی
’’جی‘‘ وہ بس اتنا ہی جواب دے پائی
’’دماغ خراب ہوچکا ہے تمہارا، اس شخص کی خاطر کیوں خود کواور ہمیں اذیت دینے پر تلی ہوں؟‘‘ وہ چیخ اٹھی
’’پلیز مام ابھی میں کسی قسم کی بحث کے موڈ میں نہیں ہوں‘‘ یہ کہتے ہی اسنے اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھا دیے
’’رک جاؤ سروج آج تمہیں میری بات سننا ہوگی‘‘ وہ سروج کے سامنے کھڑی ہوکر بولی
’’کیا مام کیا؟ کیا سننا چاہیے مجھے، میرے شوہر اور اولاد کے خلاف آپکے زہرخند الفاظ، یا اس معصوم ھدی سے آپکا خدا واسطے کا بیر جو میرے اور عمیر کی شادی سے پہلے ہی آپکو اس سے تھا‘‘
’’تم اسکی خاطر مجھ سے اس لہجے میں بات کر رہی ہوں؟ جو تمہیں اپنے نام کی انگوٹھی پہنا کر کسی اور سے رنگ رلیاں منا رہا تھا، اور اسکی اولاد تمہاری جھولی میں ڈال کر خود مٹی تلے جا سویا، اور تو اور یہ بھی نہیں معلوم کے اس سے شادی کی بھی تھی یا بس اپنے نفس کے ہاتھوں مجبور۔۔۔۔۔۔‘‘
’’بس!!!! بس ماما بہت کہہ لیا آپ نے اور بہت سن لیا میں نے اب اسے ختم کرتے ہیں میں اور ابراہیم پاکستان جارہے ہیں کبھی واپس نا آنے کے لیے، آج آپ نے مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا ہے، میری محبت کی تزلیل کی ہے آپ نے اور یہ سروج عمیر کو منظور نہیں‘‘
کہتے ہی ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کیے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی
