Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36

موسی گھر آگیا تھا اور پہلے سے زیادہ خاموش بھی ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔ اسنے اس دن کے بعد سے سروج کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔مگر علی صاحب کو یہی بات ٹینشن دیے جارہی تھی
انہیں جلد از جلد موسی کے حوالے سے کوئی اہم فیصلہ کرنا تھا
موسی کی ٹانگ پر چوٹ زیادہ آئی تھی اسی وجہ سے وہ سٹک کی مدد سے چلتا پھرتا تھا۔۔۔۔۔۔ اسکا سارا سامان بھی نیچے گیسٹ روم میں شفٹ کردیا گیا تھا
رات کے کھانے کے بعد وہ سب لاؤنج میں بیٹھے چائے پی رہے تھے جب علی زماد نے ایک تصویر موسی کے سامنے رکھی
’’موسی یہ لڑکی دیکھو کیسی ہے؟‘‘علی صاحب نے سوال کیا
’’اچھی ہے ڈیڈ‘‘ ایک نظر تصویر دیکھ کر وہ ٹی۔وی پر چلتی مووی کی طرف متوجہ ہوگیا
’’یہ کون ہے ڈیڈ؟‘‘ ندا نے سوال کیا
’’میرے دوست کی بیٹی ہے۔۔۔۔ ماشااللہ سے بچی ڈاکٹر بن رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔ احسان اب اپنی بیٹی کا رشتہ کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔ وہ چاہتا ہے کہ اب وہ اپنی بیٹی کی شادی کردے۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تو بچی بہت اچھی لگی ‘‘ علی صاحب تفصیل سے بولتے موسی کو دیکھے گئے جو بلکل پرسکون سا بیٹھا تھا
’’تو اس میں ہم کیا کرے؟‘‘ موسی نے سوال کیا
’’تم بتاؤ تمہیں لڑکی کیسی لگی؟‘‘ علی صاحب نے دوٹوک لہجے میں پوچھا
’’شادی تو آپکو کرنی ہے ڈیڈ مجھسے کیوں پوچھ رہے ہیں؟ ویسے بھی آپ کو تو بچی اچھی لگی ہے تو میرا کیا؟‘‘ موسی مسکراہٹ دبائے بولا
’’میں نے یہ لڑکی تمہارے لیے پسند کی ہے موسی‘‘ علی صاحب خود پر قابو پاتے بولے
’’چچچ۔۔۔۔۔۔۔ سوری ڈیڈ پھر تو آپ لیٹ ہوگئے میں آلریڈی اپنے لیے لڑکی پسند کرچکا ہوں۔۔۔۔۔ اب تو دو ہی طریقے بچتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ یا تو آپ خود اس اچھی بچی کو اپنےنکاح میں لے آئے یا پھر اسکی شادی کی فکر اسکے ماں باپ کو کرنے دے‘‘ موسی تیر پر تیر چلاتا گیا
’’اور میں بھی تمہیں بتا چکا ہوں کہ تمہاری شادی کبھی بھی وہاں نہیں ہوگی جہاں تم چاہتے ہوں‘‘ علی صاحب دانت پیستے بولے
’’یہ تو وقت بتائے گا ڈیڈ۔۔۔۔۔ اور یقین مانے آپ خود اس شادی پر راضی ہوگے‘‘ موسی نے دوبدو جواب دیا
’’میری مرضی کو چھوڑو برخودار پہلے اسکی رضا تو حاصل کرلو ۔۔۔۔۔ جس کے ساتھ کا خواب تم سجائے بیٹھے ہوں‘‘ علی صاحب تمسخرانہ بولے تو موسی ہنس دیا
’’اسکی فکر مت کرے ڈیڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف ایک مہینہ ڈیڈ۔۔۔۔۔۔۔ صرف ایک مہینہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک مہینے بعد سروج اس گھر میں میری بیوی اور آپ کی بہو کے طور پر آپ کو نظر آئے گی اور وہ بھی سب کی دلی رضامندی سے‘‘ یہ کہتے ہی وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور سٹک کا سہارا لیتے اپنے کمرے کی جانب چل دیا
علی صاحب تو اسکے اس قدر پختہ لہجے پر فکرمند ہوگئے تھے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ایک بار پھر وہ یاسین ولا کے باہر کھڑا تھا
’’او صاحب تم پھر سے آگیا؟‘‘ وہاں کھڑا وہ چوکیدار موسی کو دیکھ کر منہ بنائے بولا
’’ہاں ام کو تم کا یاد ستا رہا تھا‘‘ موسی دانت پیستے بولا
’’کیا کام سے آیا ہے تم یہاں؟‘‘ چوکیدار نے تفتیشی لہجے میں پوچھا
’’موسی صاحب آپ ارے آئیے نا‘‘ ہیڈ میڈ نے ایک بار پھر موسی کو چوکیدار سے بچا کر اندر بلوالیا
اندر داخل ہوتے ہی موسی نے ایک نظر پیچھے دیکھا جہاں چوکیدار اپنی کرسی پر جابیٹھا تھا
’’گھر میں تمہارے علاوہ کوئی اور تو نہیں؟‘‘ موسی نے اس سے سوال کیا
’’نہیں سر‘‘ میڈ نے سر نفی میں ہلایا
’’ہمم ویری گڈ۔۔۔۔۔۔۔ یہ لو‘‘ اسے شاباشی دیتے پانچ۔پانچ ہزار کے کئی نوٹ اسکے ہاتھ میں رکھ دیے۔۔۔۔۔۔ جسے لیتی وہ خوشی سے وہاں سے چلی گئی
’’سنو اپنے کواٹر میں جاؤ اور تب تک یہاں نا آنا جب تک میں نا بلاؤ۔۔۔۔۔۔۔ سمجھی‘‘ موسی نے انگلی اٹھائے وارن کیا
’’جی سر‘‘ وہ سر اثبات میں ہلاتی وہاں سے چلی گئی
موسی نے ایک بار پھر عمیر کے کمرے کی جانب قدم بڑھائے
کمرے میں داخل ہوتے ہی اسنے الماری کھولی اور اسکے سائڈ پر بنا سیکریٹ خانہ کھولا
موسی نے اسکے اندر ہاتھ ڈالا مگر خانہ بلکل خالی تھا۔۔۔۔۔ وہ منہ بناتے ہاتھ باہر نکالنے لگا تھا جب اسکا ہاتھ خانے کی سائڈ پر لگا اور اسے کچھ محسوس ہوا
موسی نے ایک دو جتن کرنے کے بعد ہاتھ باہر نکالا تو ہاتھ میں ایک خاکی لفافہ تھا
’’یہ کیا؟‘‘ موسی حیران ہوا اور تیزی سے لفافہ کھولا۔۔۔۔۔ مگر اسے اپنے زمین و آسمان گھومتے محسوس ہوئے
وہ نکاح نامہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر عمیر اور سروج کا نہیں۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ عمیر اور ماہم کا۔۔۔۔ جو ایک سال پہلے ہوئے تھا
’’یہ۔۔۔۔یہ کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ موسی کو کچھ سمجھ نہیں آیا
اسنے تیزی سے نکاح نامہ جیب میں ڈالا اور گھر سے باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسی تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا اسنے الماری کا پٹ کھول کر عمیر کی فائل نکالی جس میں اسکی سب انفارمیشن تھی
فائل کے مطابق عمیر سات مہینے پہلے دبئی گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ ماہم پچھلے سال سے لاپتہ تھی
عمیر کا اچانک دبئی جانا۔۔۔۔۔۔۔ ماہم کا پچھلے ایک سال سے لاپتہ ہونا۔۔۔۔۔ اور پھر ابراہیم۔۔۔۔۔
ابراہیم کی عمر اب پانچ ماہ تھی اور ماہم کی موت کو بھی پانچ مہینے ہوگئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہی دوسری طرف عمیر اور سروج کا نکاح بھی پانچ ماہ پہلے ہوئے تھا
اسکا دماغ سن ہونے لگا تھا کانوں میں ماہم کی روتی آواز گونج رہی تھی
’’بھیا۔۔۔۔۔ بھیا اسنے دھوکہ دیا مجھے بھیا۔۔۔۔۔ میں میں اس سے محبت کرتی تھی مگر اسنے میرا استعمال کیا۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔ وہ کسی اور کے ساتھ کمیٹڈ ہے بھیا۔۔۔۔۔۔۔۔ مار ڈالا اسنے مجھے۔۔۔۔۔ ماڑ ڈالا آپ کی ماہم کو اسکی محبت نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب کچھ ختم ہوگیا بھیا۔۔۔۔۔۔ سب کچھ‘‘ ماہم کی روتی آواز موسی کو بےچین کیے ہوئے تھی
’’ماہم!!!‘‘ وہ یکدم دھاڑا اور کانچ کا شیشہ پرفیوم کی بوتل سے توڑ ڈالا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج نے بیل کی آواز سنی تو تیزی سے دروازہ کھولا مگر کسی کو ناپاکر حیران ہوئی۔۔۔۔۔ مگر جب دروازے پر روز کا بوکے دیکھا تو حیران رہ گئی
وہ بوکے اٹھائے اندر لے آئی
’’ارے بھابھی یہ کیا ؟ یہ کہاں سے آیا ہے؟‘‘ ھدی پھول دیکھ کر حیران ہوئی
’’پتہ نہیں دروازہ کھولا تو بوکے وہاں پہلے سے تھا‘‘ سروج نے جواب دیا
’’کوئی کارڈ وغیرہ ؟‘‘ ھدی نے سوال کیا
’’نہیں کچھ بھی نہیں صرف بوکے ہے‘‘ سروج بوکے کو ادھر ادھر کرتے بولی
’’عجیب ہے‘‘ ھدی نے کہا
’’ہمم۔۔۔۔۔۔۔ چھوڑو ضرور مذاق کیا ہوگا کسی نے‘‘ سروج نے اسکی توجہ ہٹائی
’’تم ریڈٰی ہوجاؤ پھر یونی کے لیے نکلنا ہے‘‘ سروج کی بات پر وہ سر ہلاتے کمرے میں چل دی
سروج کے موبائل پر میسج ٹون بجی اسنے موبائل دیکھا تو وہاں ایک میسج تھا
میسج کھول کر پڑھا تو ماتھے پر بل پڑگئے
’’امید ہے یہ پھول آپ کے شایان شان ہوگے‘‘ موسی کی طرف سے آیا میسج پڑھ کر سروج کا دماغ گھوم گیا تھا
’’بدتمیز‘‘ صبح ہی صبح سروج کا موڈ خراب ہوگیا تھا۔۔۔۔
اور پھر ایسا روزانہ ہونے لگا۔۔۔۔۔۔ روزانہ صبح ، شام اور رات کو سروج کے لیےایک بوکے آتا
صرف یہی نہیں بلکہ ایک بوکے سروج کے آفس بھی بھیجا جاتا
اب تو سروج کا غصے سے برا حال تھا
وہ دندناتی موسی کے آفس میں داخل ہوئی اور بنا ادھر ادھر دیکھے ڈائریکٹ اسکے روم میں داخل ہوگئی
’’تمہارا مسئلہ کیا ہے؟‘‘ موسی کے سر پر پہنچ کروہ چیخی
موسی نے ایک نظر اسکے پیچھے دیکھا جہاں گارڈز اندر آرہے تھے۔۔۔۔ اسنے ہاتھ کے اشارے سے انہیں آنے سے روکا اور پھر ہاتھ کے اشارے سے ہی واپس جانے کو کہا
’’آؤ بیٹھو‘‘ موسی نے آفر کی
’’بیٹھنے نہیں آئی تمہیں صرف یہ سمجھانے آئی ہوں کہ اپنی یہ چھچھوری حرکرتیں چھوڑ دوں‘‘ سروج مٹھی بھینچے غصے پر قابو پاتے بولی
’’چھچھوری حرکت میں نے کیا کیا؟‘‘ موسی معصوم بنا
’’تم نے کیا کیا؟ واؤ۔۔۔۔۔۔۔ ایکسٹریملی واؤ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نے کچھ نہیں کیا تو یہ پھول بھیجنے والی چھچھوری حرکت سے کیا مطلب اخذ کروں میں؟‘‘ بازو سینے پر باندھے سروج نے جواب طلب کیا
’’اب میری محبت کو چھچھوری حرکت تو مت کہوں۔۔۔۔۔۔ اتنی محبت اور محنت سے روزانہ خود تمہارے لیے پھول چن کر انکا بوکے بنوا کر بھیجتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حالانکہ میری حالت مجھے اجازت دیتی نہیں ہے‘‘ موسی نے تو الٹا اس سے گلہ کیا
’’بڑا احسان کرتے ہوں‘‘ سروج دانت پیستے بولی
’’میں تمہیں پہلی اور آخری بار وارن کرنے آئی ہوں موسی علی زماد اپنی یہ حرکتیں چھوڑ دوں۔۔۔۔۔۔ آخر تم چاہتے کیا ہوں کیوں میرے پیچھے پڑے ہوں؟‘‘ سروج موسی کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ کر بولی
’’تم جانتی ہوں سروج میں تم سے کیا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ مان جاؤ تم‘‘ موسی آرام سے بولا
’’تم میرا جواب جانتے ہوں‘‘ سروج ٹیبل پر ہاتھ مارتے بولی
’’اور اگر میں تمہارا انکار ہاں میں بدل دوں تو؟‘‘ موسی نے ابرو اچکائے پوچھا
’’ناممکن‘‘ سروج تمسخرانہ ہنسی
’’فائن سروج تم نے میرے لیے کوئی اور آپشن نہیں چھوڑا۔۔۔۔۔ ایسا ہے تو پھر ایسا ہی سہی‘‘ موسی نے اپنے ٹیبل کے ڈرا سے ایک فائل نکال کر سروج کے سامنے رکھ دی
’’یہ کیا ہے؟‘‘ سروج نے حیران نظروں سے پوچھا
’’خود کھول کردیکھ لو‘‘ موسی نے فائل اسکی طرف بڑھائی
آج تک صرف موسی کو جھٹکے لگے تھے مگر آج سروج کو لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔ وہ ڈی۔این۔اے رپورٹ تھی سروج اور ابراہیم کی۔
جس کے مطابق ابراہیم سروج کا بیٹا نہیں تھا
سروج کو اپنے پیروں سے زمین نکلتی محسوس ہوئی
’’یہ۔۔۔یہ کیا ہے؟‘‘ سروج کے ہونٹ خشک ہوگئے
’’پڑھی لکھی ہوں تم۔۔۔ خود سمجھ جاؤ‘‘ موسی اسکی حالت دیکھ کر بولا
’’یہ۔۔یہ۔۔۔کیسے۔۔۔۔۔۔کب کیا تم نے‘‘ سروج کو سمجھ نہیں آئی
موسی کو یاد تھا کہ جس دن اسنے سروج کو نیند کی گولی ملا جوس پلایا تھا اسی دن کیسے اسنے اسکے کچھ بال لیکر اپنے ساتھ ساتھ اسکی بھی ڈی۔این۔اے رپورٹ حاصل کی تھی
سروج کانپ رہی تھی
’’ارے ارے تم تو ابھی سے کانپنا شروع ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔ ابھی تو تمہیں کچھ اور بھی دکھانا ہے‘‘
بولتے ہی موسی نے ایک اور فائل اسکے آگے رکھ دی۔۔۔۔۔۔۔ سروج نے جلدی سے فائل کھولی تو آنکھیں مزید پھیل گئی
ابراہیم اور موسی کا ڈی۔این۔اے میچ کررہا تھا
’’ویسے کتنی عجیب بات ہے نا سروج، ابراہیم بیٹا تمہارا ہے مگر ڈی۔این۔اے مجھ سے میچ کررہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ آئی مین معجزہ ہوگیا نا یہ تو‘‘
’’یہ جھوٹ ہے۔۔۔ یہ‘‘ ہذیانی کیفیت میں چلاتے اسنے دونوں فائلز پھاڑ دی
’’ارے ارے ریلیکس یار یہ تو صرف مووی کا ٹریلر اور سٹارٹ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اب تو انٹرول کی باری ہے۔۔۔۔۔۔ یہ لو‘‘ اور اب کی بار موسی نے اسکو ایک اینویلپ پکڑایا
سروج کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمت کرکے اسنے انویلپ پکڑا اور کانپتے ہاتھوں سے کھولنے لگی
انویلپ کے اندر موجود صفحہ دیکھ کر سروج کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی۔۔۔۔۔۔ وہ نکاح نامہ تھا اس کا اور عمیر کا
سروج نے نظریں اٹھائے موسی کو دیکھا۔۔۔۔۔۔ موسی نے خاموشی سے ایک اور انولیپ اسکے سامنے رکھ دیا
سروج نے وہ کھولا تو اس میں ابراہیم کا برتھ سرٹیفیکیٹ تھا
’’ویسے کتنی حیرت کی بات ہے نا سروج تمہارا بیٹا تمہاری شادی سے پہلے ہی اس دنیا میں آگیا کیسے؟ ہاؤ از اٹ پاسیبل؟ تمہارا نکاح بھی پانچ مہینے پہلے ہوا تمہارا بیٹا بھی پانچ ماہ کا ہے۔۔۔۔۔۔۔ کیا شادی کے ساتھ ہی ہوگیا تھا‘‘ موسی کے لفظ ہتوڑے کی مانند سروج پر برس رہے تھے
’’او پلیز اب یہ مت کہنا کہ یہ نکاح نامہ بھی جھوٹا ہے‘‘ موسی آگے کو ہوکر بیٹھا اور سروج کا منہ کھولتا دیکھ کربولا
’’ابھی تو ایک اور بھی سرپرائز ہے تمہارے لیے‘‘ موسی طنزیہ مسکرا رہا تھا
’’کیا؟‘‘ سروج نے بےساختہ پوچھا
’’یہ لو سروج اس مووی کا اینڈ‘‘
اور اب پھینکا تھا موسی نے آخری پتا
سروج کی ہمت اب جواب دے رہی تھی مگر پھر بھی اسنے اس کاغذ کو کھولا
ایک اور نکاح نامہ دولہا وہی مگر دلہن کوئی اور
آنکھوں میں جمع پانی قطرہ قطرہ بہنے لگا
’’کیا چاہتے ہوں موسی‘‘ وہ تھکی آواز میں بولی
’’اگر سچ بولوں گا تو یقین کروں گی؟‘‘ موسی نے تھوڑا سا آگے ہوکر پوچھا
’’پتا نہیں‘‘ سروج بولی
’’تو سنو سروج حیدر تمہیں چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارا ساتھ چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ تمہیں اپنا بنانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اپنی پوری زندگی تمہارے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں‘‘
سروج نے موسی کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔ موسی کے الفاظ پر اسکو یقین نہیں تھا مگر اسکی آنکھیں تو کچھ اور کہہ رہی تھی
وہ سیریس تھا۔۔۔۔۔۔۔
کیاکیا نا دیکھا تھا سروج حیدر نے ان آنکھوں میں
چاہت۔۔۔۔۔ اپنائیت۔۔۔۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر محبت
نہیں یہ نہیں ہوسکتا ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا
موسی علی زماد سروج حیدر سے محبت نہیں کرسکتا
’’ایسا کبھی نہیں ہوگا۔۔۔۔ سنا تم نے مرکر بھی۔۔۔۔۔۔۔ سن لو موسی علی زماد۔۔۔۔۔۔ میں مر جاؤں گی مگر ایسا کبھی نہیں ہوگا‘‘ سروج چیختی ہوئی اسکے ٹیبل پر موجود ساری چیزیں گرا چکی تھی
’’شوق سے کرو، جو کرنا چاہتی ہوں کرلوں۔۔۔۔۔۔ مگر مجھے جواب ہاں میں چاہیے۔۔۔۔۔۔ جاسکتی ہوں اب تم‘‘ موسی نے اسے اجازت دی
’’اور اگر جواب ہاں میں نا ہوا تو؟‘‘ سروج نے ڈر ظاہر کیا
’’تو مجھے ڈر ہے سروج کہ ہماری اگلی ملاقات کورٹ میں ہوگی‘‘ موسی کی وارننگ پر سروج اندر تک کانپ گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج کب اسکی بلڈنگ سے باہر نکلی۔۔۔۔۔ کب وہ فلیٹ میں پہنچی اسے کچھ پتا نہیں چلا
سروج گھر آکر نا تو روئی اور نا ہی چلائی بلکہ پوری رات وہ ایک ہی نقطے پر سوچتی رہی
ہمت جواب دے گئی تو موبائل اٹھایا اور زرار کو کال ملادی
’’ملنا ہے تم سے گھر آجاؤ‘‘ اور سروج نے موبائل بند کردیا
زرار بھی آدھے گھنٹے میں سروج کے پاس پہنچ چکا تھا
’’سروج کیا ہوا ہے؟‘‘ زرار اسکی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا
’’سب کچھ ختم ہوگیا زرار۔۔۔۔۔۔میری آنکھوں کے سامنے سب کچھ ختم ہورہا ہے۔۔۔۔۔۔ میں کچھ بھی نہیں کرسکتی۔۔۔۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں‘‘ وہ زرد پڑتے رنگ کے ساتھ بولی
’’سروج کیا ہوا ہے؟ بتاؤ مجھے آخر ہوا کیا ہے؟‘‘
’’اسے سب کچھ پتا چل گیا ہے زرار۔۔۔۔۔ سب کچھ‘‘
’’کسے سروج؟ کس کی بات کررہی ہوں‘‘ زرار پریشان ہوا
’’موسی۔۔۔۔ زرار اسے سب کچھ پتا چل گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عمیر، ماہم، ابراہیم وہ سب راز پاگیا ہے‘‘ سروج کی بات پر زرار بھی اپنی جگہ جم کر رہ گیا
’’وہ کہتا ہے میں اسکی ہوجاؤں زرار نہیں تو وہ چھین لے گا مجھ سے ابراہیم کو۔۔۔۔۔۔‘‘ سروج کی بات پر زرار کا غصہ مزید ڑھ گیا
’’کیا کہا اسنے سروج؟‘‘ زرار نے پوچھا
’’اگر اسکی بات نہیں مانی تو کورٹ تک جائے گا زرار۔۔۔۔۔۔۔۔ کورٹ کا مطلب جانتے ہوں نا زرار سب کچھ ختم ہوجائے گا سب کچھ‘‘
’’کچھ نہیں ہوگا سروج بلیو می کچھ بھی نہیں ہوگا‘‘ زرار نے مانو یقین دلایا
’’کیسے کرلوں بلیو زرار۔۔۔۔۔۔ کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔ سب کچھ ہاتھوں سے نکل رہا ہے سب کچھ‘‘ وہ سرگھٹنوں میں دیے رو دی
زرار تو بےسبی سے اسے دیکھے جارہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح زرار جتنی جلدی ہوسکے اتنی جلدی یونی پہنچا تھا
ھدی اس سب قصے سے لاعلم تھی۔۔۔۔۔۔ اور اسکا لاعلم ہونا ہی بہتر تھا
زرار کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ آج موسی کا کام تمام کرہی دے مگر خود پر قابو کیے رکھا
کاریڈور اس وقت بلکل خالی تھا۔۔۔۔ جب زرار نے موسی کو دوسری طرف سے آتے دیکھا
وہ تیز تیز چلتا اسکے سامنے آکھڑا ہوا
زرار کو دیکھ کر موسی نے پرسکون سی سانس خارج کی
’’تمہارا ہی انتظار تھا مجھے۔۔۔۔۔۔ مل آئے اپنی دوست سے؟‘‘ موسی طنزیہ بولا
دوسری طرف سے آتے مائز، فریحہ اور عمارہ اپنے راستے میں رک گئے انہیں دیکھ کر
’’بہت مزہ آتا ہے نا تمہیں دوسروں کی زندگیوں کو اجیرن کرکے‘‘ زرار نے سپاٹ لہجے میں پوچھا
’’آہ یقین مان میرے بھائی۔۔۔۔۔۔ اٹ از دا بیسٹ فیلینگ ان دا ورلڈ‘‘ موسی دل پر ہاتھ رکھے بولا
’’سروج تمہاری کبھی بھی نہیں ہوگی موسی‘‘ تپا دینے والی مسکراہٹ لبوں پر سجائے وہ بولا
’’اگر سروج میری نا ہوئی نا زرار تو یاد رکھنا ھدی کو بھی میں کبھی تمہارا ہونےنہیں دوں گا‘‘ دل جلا دینے والی مسکراہٹ تھی اسکی
’’ہم دیکھے گے موسی علی زماد‘‘ اسنے چیلنج کیا
’’کیوں نہیں زرار احمد زماد‘‘ چیلنج قبول کیا گیا
’’کیا ان بیوٹیز کو پتا ہے کہ دوبیسٹ ان کے پیچھے پڑ چکے ہیں‘‘ عمارہ کے پوچھنے پر مائز نے سر نفی میں ہلایا اور عمارہ تو ایک لمبی سانس کھینچ کر رہ گئی
’’اللہ بھلا کرےانکا‘‘ عمارہ نے دعا کی
’’اور ہمارا بھی‘‘ مسکینوں جیسی صورت بنائے مائز بولا
’’یہ تو خدا اور وقت ہی جانتا ہے کہ کس کا بھلا ہوگا اور کس کا برا‘‘ موسی اور زرار کو یوں آمنے سامنے دیکھ فریحہ سپاٹ لہجے میں بولی، جبکہ عمارہ اور مائز تو ایک دوسرے کی شکل دیکھ کر رہ گئے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *