Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19

آج ھدی کا پورا دن زرار سے کوئی سامنا نہیں ہوا تھا جس پر وہ بہت خوش تھی، مگر دوسری طرف زرار اتنا ہی بےچین۔
سروج کو بزنس ڈنر پر جانا تھا اسی لیے ھدی بھی یونی سے جلد ہی واپس آگئی تھی، تاکہ وہ سروج کی مدد کرواسکے اور ابراہیم کو سنبھال لے۔
’’اففف کچھ سمجھ نہیں آرہی کے آپ کیا پہنے گی؟‘‘ سروج سے زیادہ ھدی ایکسائٹڈ تھی، جس پر وہ مسکراہ دی
’’کیا ہوگیا ہے ھدی اتنی جزباتی کیوں ہورہی ہوں کچھ بھی پہن جاؤ گی‘‘ وہ سادگی سے بولی
’’کیا مطلب ہے آپ کا کچھ بھی سے؟ بھئی آپ کو سب سے بیسٹ دکھنا ہے اوراسکے لیے ضروری ہے کہ آپ اچھا سا تیار ہوں‘‘ وہ سروج کو آنکھیں دکھاتے بولی
’’اچھا سب چھوڑے یہ بتائے کہ یہ کیسا لگے گا ؟‘‘ ایک سرخ جوڑا اسکے سامنے رکھتے وہ بولی
’’یہ نہیں بہت ڈارک کلر ہے یہ نہیں پہنو گی‘‘ سروج نے تیزی سے سر نفی میں ہلایا
’’کیوں؟کیوں نہیں پہنے گی، کل یونی تو آپ نے لال ڈوبٹا لےلیا تھا‘‘ ھدی نے آنکھیں دکھاتے پوچھا
’’کل کا دن خاص تھا ھدی، جانتی ہوں نا کل میری اور عمیر کی پہلی ملاقات کو چھ سال ہوگئے تھے۔۔۔۔ اور ویسے بھی صرف لال ڈوپٹا تھا۔۔۔۔ مگر یہ ڈریس ۔۔۔ نا بابا نا۔۔۔ بزنس ڈنر ہے میرا نکاح نہیں‘‘ ھدی تو سروج کو دیکھ کر رہ گئی، اسنے کہاں دیکھی تھی ایسی سچی اور پاکیزہ محبت، وہ تو ان سب کو قصے، کہانیوں کا حصہ سمجھتی تھی۔ اسے اپنے بھائی کہ انتخاب پر فخر محسوس ہوا اور ساتھ ہی ساتھ سروج کی عمیر سے محبت پر رشک بھی آیا
’’اچھا!!!! تو پھر یہ کیسا ہے؟‘‘ ایک فینسی مگر خوبصورت سا رائل بلو کلر کا سوٹ اسکے سامنے رکھتے ھدی نے پوچھا
’’نہیں ھدی پھر سے ڈاڑک کلر‘‘ سروج نے منہ بنایا
’’اوہو بھابھی تو کیا ہوا‘‘ ھدی نے چڑ کے کہا
اب سروج اسے کیا بتاتی کہ وہ ایک بیوہ تھی اور یہ سجنا سنورنا اس پر حرام تھا، وہ کس حق سے اور کس کے لیے اتنا تیار ہوتی
’’ھدی پلیز!!‘‘ سروج کے معصومانہ لہجے پر ھدی پگھل گئی
’’اوکے فائن مگر صرف اس بار اگلی مرتبہ سے آپ میرے مطابق تیار ہوگی‘‘ ھدی نے انگلی دکھاتے وارننگ دی
’’جو حکم ملکہ عالیہ‘‘ سروج نے سر خم کیا، جس پر وہ دونوں کھلکھلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’موسی کہا ہے ابھی تک آیا نہیں؟‘‘ لاؤنج میں بیٹھے اخبار کی ورق گردانی کرتے علی زماد نے پوچھا
’’لے آگیا آپکا برخودار‘‘ موسی کو اندر داخل ہوتا دیکھ کر مسز علی بولی
’’شیطان کا نام لیا اور شیطان حاضر‘‘ ندا ہنستے بولی
’’شیطان تو میں واقعی میں ہوں۔۔۔۔چھوٹی‘‘ ندا کی پونی کھینچتے وہ اسکے ساتھ صوفہ پر دھپ سے بیٹھتے بولا
’’ماما!!!‘‘ ندا چلائی
’’بہن کو تنگ مت کروں‘‘ مسز علی نے اسے تنبیہ کی
’’آپ کا حکم سر آنکھوں پر‘‘ ادب سے ایک ہاتھ سینے پر رکھے وہ سر کو خم کیے بولا
’’اگر تمہاری ایکٹنگ ہوگئی ہو تو یاد ہے نا ہمیں آج جانا ہے ایک بزنس ڈنر پر‘‘ علی صاحب نے اسے یاد دلایا جس پر اسکا منہ بن گیا
’’ڈیڈ نہیں!!!‘‘ وہ منہ بنائے بولا
’’شرافت سے تیار ہوجانا سمجھے‘‘ انہوں نے سخت لہجے میں وارن کیا، جس پر موسی منہ بسور کر رہ گیا۔
’’اچھا ویسے اس ڈنر پر کون کون آرہا ہے؟‘‘مسز علی نے چائے کا کپ علی زماد کو پکڑاتے پوچھا
’’ارے سب وہی پرانے یار دوست، اور ایک مزے کی بات، اس بار یاسین انڈسٹری کی اونر ہم سے خود ڈیل کرنا چاہتی ہے‘‘ وہ تو مزے سے بولے جبکہ موسی تو لفظ یاسین پر ہی اڑ گیا
’’ڈیڈ؟ یاسین انڈسٹری؟‘‘ اسنے ناسمجھی سے پوچھا
’’ہاں یاسین انڈسٹری میرے بہت اچھے اور گہرے جگری یار یاسین کا بزنس تھا جو بعد میں اسکے بیٹے عمیر نے سنبھالنا تھا، مگر قسمت کی ستم ظرفی تو دیکھو ایک باپ نے ہی اپنے بیٹے کی میت کو کندھا دیا، اور بیٹے کے مرنے کے کچھ دن بعد وہ اوراسکی بیوی بھی اس دنیا سے چلے گئے، اب بچے ہیں تو اسکی بیٹی اور بہو اور ایک پوتا جو انکا والی وارث ہے‘‘ اب موسی کو ساری بات سمجھ میں آئی کہ اسے عمیر کا ٹھکانہ کیوں نہیں مل رہا تھا
’’ویسے ڈیڈ آپ کے دوست کے بیٹے کی ڈیتھ کیسے ہوئی تھی؟‘‘ موسی نے کریدنا چاہا
’’کار ایکسیڈنٹ‘‘ وہ دو لفظوں میں بولے
’’بیچارہ بڑا بھلا اور اچھا بچا تھا، صرف سال ہی تو ہوا تھا اسکی شادی کو۔۔۔۔‘‘ مسز علی تاسف سے بولی، جبکہ موسی کا دل چاہا کہ انہیں بتائے جس کے لیے وہ اتنے دکھی ہیں اسی کی وجہ سے آج انکی بیٹی انکے مابین موجود نہیں، مگر اسنے خود پر قابو پایا
’’ارے ان کی ایک چھوٹی بیٹی بھی تھی نا۔۔۔کیا نام تھا اسکابھلا؟۔۔۔۔۔ہاں یاد آیا۔۔۔ھدی، ھدی نام تھا اسکا، ارے اپنی ندا کے ساتھ پڑھتی رہی تھی وہ تو۔۔۔۔۔ کالج کے دو سال اسی کے ساتھ گزارے ہیں ندا نے‘‘ مسز علی کے انکشاف پر موسی نے گھور کر ندا کو دیکھا جو اپنی جگہ چور سی بن گئی تو گویا یہ وجہ تھی جو وہ عمیر کے نام پر ایکدم چونکی تھی۔۔۔
’’کتنے بجے جانا ہے ڈنر پر ڈیڈ‘‘ موسی کے اچانک پوچھنے پر وہ حیران ہوئے۔
’’دماغ تو ٹھیک ہہے نا برخودار ابھی کہہ رہے تھے موڈ نہیں اب وقت پوچھ رہے ہوں جانے کا؟‘‘ انہیں اسکی دماغی حالت پر شک ہوا
’’ہاں بس موڈ بدل گیا‘‘ وہ کندھے اچکائے بولا
’’ہمم ٹھیک شام سات بجے تیار رہنا‘‘ وہ صوفہ سے اٹھتے سے بولے
’’اور سنوں مجھے وہاں کوئی ڈرامہ نہیں چاہیے‘‘ وہ جاتے جاتے اسے انگلی اٹھا کر وارننگ دینا نا بھولے، کیونکہ اپنے بیٹے کے عزیم کارناموں سے وہ بہت اچھے سے واقف تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ہیلو مراد ہاں یار کہا ہے تو؟‘‘ اسکے دوست نے کال پر اس سے پوچھا جو بستر پر سرخ آنکھیں لیے لیٹا ہوا تھا
عمارہ سے ملنے کے بعد وہ سیدھا گھر آگیا تھا اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ دوبارہ یونی جا سکے، جب اتنے میں اسے اس کے دوست کی کال آئی
’’گھر پر ہوں تو بول کیا کام ہے؟‘‘ اسنے بیزار لہجے میں جواب دیا
’’اچھا سن اوفر ہوئی ہے، آج ایک بہت بڑا بزنس ڈنر ہے اسکی کوریج کرنی ہے‘‘ اسکا دوست اسے جوش سے بتانے لگا، مگر مراد کے جواب پر بجھ سا گیا
’’منع کردے‘‘ مراد نے جواب دیا
’’منع کردوں ایسے کیسے منع کردوں۔۔۔۔ مراد بہت اچھی پیمنٹ مل رہی ہے یار‘‘ اسکا دوست سمجھاتے بولا
’’بات پیسے کی ہے نا بہت پیسہ ہے میرے پاس مجھے نہیں ضرورت‘‘ وہ درشتگی سےبولا
’’تونے سہی کہا تجھے نہیں ضرورت مگر مجھے ضرورت ہے مراد، میرا باپ کوئی سیٹھ نہیں ہے نا ہماری فیکٹریاں ہے سمجھا‘‘ اسکے دوست نے غصے سے کال کاٹ دی جبکہ مراد ہاتھ بالوں میں پھیر کر رہ گیا۔
اسنے اپنے دوست کو دوبارہ کال ملائی، جو تیسری بیل پر اٹھا لی گئی
’’سوری یار بس طبیعت ٹھیک نہیں ہے‘‘ مراد نے فورا جواز پیش کیا
’’ہمم سہی تو اب کیا کروں انکار کردوں؟‘‘ مراد اسکے لہجے میں چھپی مایوسی محسوس کرسکتا تھا
’’ایسے کیسے منع کردے بھائی کریر کا سوال ہے، ہم ضرور کوریج کریں گے‘‘ مراد کے بولنے پر اسکا دوست بھی مسکرا دیا
’’چل ٹھیک ہے پھر شام سات بجے تیار ہوجانا اور مجھے پک کرلینا‘‘ اسکے دوست نے ٹائم بتایا
’’چل ٹھیک ہے ڈن‘‘ مراد نے کہتے ہی کال بند کردی، مگر اب اسے ایک اور ضروری کام کرنا تھا اور وہ تھا مسٹر سلطان سے ملاقات۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’بھیا آپ فری ہے بات کرنی ہے‘‘ اسکا دروازہ ناک کرتے ندا نے ڈرتے ڈرتے پوچھا
’’ہمم آجاؤ‘‘ موسی کا لہجہ بےرخا تھا، اسکی آنکھوں میں آنسووں آگئے
’’ایم سوری بھیا‘‘ وہ موسی کی طرف دیکھتے بولی
’’کس بات کےلیے‘‘ وہ انجان بنا
’’وہ عمیر اور ھدی والی بات چھپانے کے لیے‘‘ ندا کانپتے لہجے میں بولی
’’ندا میں تم پر چلاؤ گا نہیں بس اتنا بتا دوں کے تم نے مجھے سچ کیوں چھپایا، تم انہیں جانتی تھی مجھے کیوں نہیں بتایا‘‘ موسی نے پرسکون لہجے میں پوچھا
’’وہ مجھے کنفرم نہیں تھا کہ آپ اسی عمیر کی بات کررہے ہیں، مجھے لگا شائد کوئی اور ہوں‘‘ اسنے نیچی نظریں کیے جواب دیا
’’ھدی اور تم دوست ہوں؟‘‘ موسی نے اگلا سوال کیا
’’ہیں نہیں تھے۔۔۔۔ ہماری دوستی ختم ہوگئی‘‘
’’وجہ جان سکتا ہوں؟‘‘ موسی نے پوچھا
’’نہیں‘‘ ندا سے صاف جواب دیا
’’ہممم، صرف یہی وجہ ہے عمیر کو پہچاننے سے انکار کرنے کا یا کچھ اور بھی ہے جو مجھے نہیں پتا؟‘‘ موسی کی بات پر ایک پل کوتو گڑبڑا گئی مگر پھر سنبھل کر فورا بولی
’’نہیں بھیا بھلا اس کے علاوہ کیا وجہ ہوسکتی ہے؟‘‘ ندا انجان بنتے بولی
’’ہمم ٹھیک ہے جاؤ‘‘ موسی کی اجازت ملتے ہی وہ دروازے کی طرف بڑھی
’’ایک بات یاد رکھنا ندا اگر وجہ کچھ اور ہوئی، تو تم ابھی تک صرف اپنے بھائی کی محبت دیکھی ہےاسکا غصہ نہیں‘‘ موسی کے سرد لہجے پر وہ کانپ کر رہ گئی، اور تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’سر آپ سے ملنے مسٹر مراد آئے ہیں‘‘ فون پر پی۔اے نے سلطان صاحب کو بتایا
’’مراد؟ چلو بھیجو اسے اندر‘‘ انہوں نے اجازت دی
’’السلام علیکم انکل‘‘ مراد انکل داخل ہوتے بولا
’’وعلیکم السلام بیٹا کیسے ہوں؟‘‘ انہوں نے محبت سے پوچھا
’’ٹھیک ہوں‘‘ وہ مختصر سا بولا
’’آؤ بیٹھو، بتاؤ کیا منگواؤ تمہارے لیے چائے یا کافی؟‘‘ انہوں نے پوچھا
’’نہیں انکل کچھ نہیں بس کچھ سوالات کے جواب چاہیے‘‘ مراد کے لہجے پر وہ چونگ گئے
’’ہاں پوچھو بچے‘‘
’’انکل یہ جلال صدیق کون ہے؟‘‘ وہ ادھر ادھر کی باتیں کیا بنا اصل مدعے پر آیا
’’اب یہ مت کہیے گا کہ آپ جانتے نہیں کچھ بھی‘‘
’’کیا تمہیں عمارہ نے بتایا؟‘‘ انہوں نے سوال کیا
’’جی‘‘ وہ لب بھینچے بولا
’’بیٹا جلال عمارہ کی زندگی کا سب سے کڑوا سچ ہے، جس نے میری بچی کو مجھ سے بدگمان کردیا‘‘ وہ مایوس لہجے میں بولے
’’مطلب؟‘‘ مراد حیران ہوئے
پھر سلطان صاحب نے مراد پر کو سب کچھ سچ بتا دیا کہ کیسے اس شخص نے عمارہ کی دولت کے پیچھے اسے اپنے پیار کے جال میں پھنسایا اور کیسے صرف چند لاکھ کے لیے عمارہ کی زندگی سے نکل بھی گیا مگر جاتے جاتے اسے اپنے ماں باپ سے بدگمان کرگیا
’’تو آپ نے عمارہ کو حقیقت کیوں نہیں بتائی؟‘‘ مراد کا دل چاہا کہ وہ اس جلال کا قتل کردے
’’وہ یقین نہیں کرتی مجھے پتا ہے، اور میں صرف دعا کرسکتا ہوں کہ سچ اسکے سامنے خود بخود آجائے‘‘ وہ ہارے ہوئے لہجے میں بولے، مراد کو ان کی حالت پر ترس اور عمارہ پر غصہ آیا کہ وہ کیسے کسی اجنبی کے لیے اپنی ماں باپ سے نفرت کرنے ۔لگ گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’تم تیار ہوں؟‘‘ اسنے میسج بھیجا
’’ہاں‘‘ فقط ایک لفظی جواب، بھلا زرار سے اور امید بھی کیا تھی
’’ٹھیک ہے میں تمہیں پک کرلوں گی راستے میں سے‘‘ سروج نے ایک اور میسج بھیجا
’’اسکی ضرورت نہیں، غریب نہیں ہوں خود آسکتا ہوں‘‘ زرار کا ٹکا سا جواب
’’ایک تو یہ بندہ‘‘ وہ خود سے بولی
’’کس کی بات کررہی ہے آپ بھابھی؟‘‘ ھدی حیران ہوئی
’’کچھ نہیں میرے پی۔اے کی، وہ فائلز سائن کروانا بھول گئی مجھ سے تو بس۔۔۔۔۔‘‘ سروج نے بروقت بہانہ گڑھا
اب اگر وہ ھدی کو یہ بتاتی کہ وہ اسکے بیسٹ کے ساتھ بزنس ڈنر پر جارہی ہے تو یقینا ھدی کو ایک آدھ چھوٹا موٹاسا ہارٹ اٹیک آجاتا
ھدی نے ایک نظر اسے دیکھا جو سفید چوڑی دار پجامے کے ساتھ، پنک کرتا اور، ساتھ میں سفید ڈوپٹا لیے کھری تھی، ہونٹوں پر بس پنک گلوس لگایا ہوا تھا اس نے
ایک وقت تھا جب ھدی اسکا اور اپنا مقابلہ کرتی تھی، بلاشبہ اسکا کوئی مقابلہ نہیں تھا سروج کی خوبصورتی سے
’’ارے ایسے کیسسے کیا دیکھ رہی ہوں؟‘‘ اسے خود کو یوں تکتا پا کر سروج حیران ہوئی
’’ماشااللہ سے بہت پیاری لگ رہی ہے آپ‘‘ وہ سچے دل سے تعریف کرتے بولی
’’مکھن لگارہی ہوں؟‘‘ سروج نے شرارت سے پوچھا
’’آپ کو کیسے پتا چلا‘‘ ھدی بھی اسی کے انداز میں بولی جس پر دونوں کی ہنسی چھوٹ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’سمجھ نہیں آرہی کیا کروں کیا نا کروں؟‘‘ مرر کے سامنے بالوں کو برش کرتے وہ سوچنے لگا
’’میرا مقصد صرف عمیر سے بدلا لینا تھا مگر اب وہ ہی نہیں رہا تو کیا مجھے اب بھی اسکی بہن سے بدلا لینا چاہیے‘‘ کئی سوچیں اسکے دماغ میں گردش کرنے لگ گئی
’’نہیں اب میں اتنا گرا ہوا بھی نہیں ہوں کہ ایک مرے ہوئے شخص سے بدلا لینے کے لیے ایک زندہ انسان کی زندگی تباہ کردوں‘‘ اسنے اپنی سوچ کی تردید کی، مگر اچانک اسکے دماغ میں ماہم کی وہ آخری سسکیاں گونجنے لگی، اسکو دوبارہ سے غصہ آنے لگا
’’تم مروں یا جیوں عمیر یاسین مگر تمہاری بہن تمہارے کیے کا بدلا ضرور چکائے گی، میری بہن اتنی بےمول نہیں تھی، اسکی موت کا بدلا میں تم سے لیکر رہوں گا‘‘ بدلا اور غصہ ایک دفع پھر عقل پر غالب آگئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’افف کہاں نا تم سے کام ہوجائے گا، صبر نہیں ہے‘‘ مسز عاسم کو فون پر کسی سے لڑتے دیکھ کر ھدی ٹھٹکی
سروج کے کہنے پر وہ مسز عاسم کی طرف آگئی تھی، مگر وہ فون پر کسی سےبری طرح سے لرنے میں مصروف تھی
’’آنٹی کیاہوا سب ٹھیک ہے؟‘‘ ھدی کے سوال پر وہ گڑبڑا گئی اور جلدی سے فون رکھا
’’ارے ھدی تم کب آئی‘‘ انکے تو رنگ اڑگئے ھدی کو دیکھ کر
’’بس ابھی ابھی آئی ہوں‘‘ اسنے بتایا
’’کیا ہوا آنٹی سب کچھ ٹھیک ہے؟‘‘ ھدی نے دوبارہ سے سوال کیا
’’ہاں بچے سب ٹھیک ہے تم بیٹھو میں نے آج ٹرائفل بنایا تھا، ٹھنڈا ہونے رکھا ہے ابھی لائی‘‘ وہ ابراہیم کو پیار کرتے چہرے سے نا آنے والا پیسنہ صاف کرتے بولی
’’انہیں کیا ہوا؟‘‘ ھدی تو انکی حرکت پر حیران رہ گئی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *