Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28
سروج ہسپتال سے ڈیسچارج ہوچکی تھی۔۔۔۔زرار ھدی کیساتھ بحث کے بعد ہسپتال نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔نجانے کیوں مگر ھدی کو اسکی فکر ہورہی تھی۔۔۔۔مگر وہ یہ بات کسی سے بھی شیئر نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔۔
’’یہ لے بھابھی گرماگرم سوپ‘‘ اسکے آگے سوپ رکھے ھدی بولی
’’یار ھدی پھر سے نہیں۔۔۔‘‘ سروج زچ ہوچکی تھی سوپ پی پی کر
’’پینا تو پڑے گا‘‘ ھدی نے اسکی ایک نا سنتے ہوئے اسے سوپ پلا کر دم لیا
’’اچھا اب یہ سب چھوڑو اور جاکر سو جاؤ۔کل یونی بھی جانا ہے تم نے‘‘ سروج نے اسے بھگایا
’’میں یونی نہیں جارہی۔۔‘‘ ٹی۔وی کے سامنے بیٹھے ھدی مزے سے بولی
’’کیوں؟‘‘ سروج نے آنکھیں چھوٹی کیے پوچھا
’’کیونکہ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں تو آپ کو ریسٹ چاہیے اور ابراہیم کو کون سنبھالے گا؟‘‘ ھدی نے وجہ پیش کی
’’کوئی ضرورت نہیں ہے میرے یا ابراہیم کے بارے میں فکر مند ہونے کی ایگزامز سر پر ہے اور محترمہ کو یونی نہیں جانا۔۔۔۔۔۔۔۔چلو چپ چاپ جاؤ کمرے میں تم کل یونی جارہی ہوں‘‘ سروج نے گویا بات ختم کردی
’’بھابھی۔۔۔‘‘ ھدی منمنائی
’’ھدی!!‘‘ سروج نے آنکھیں دکھائی تو دھپ سے صوفہ سے اٹھتی ھدی کمرے میں چل دی
اسے معلوم تھا سروج نے منع کردیا سو کردیا۔اور اب اسے یونی جانا ہی ہوگا
سروج ھدی کی اس حرکت پر مسکراہ دی مگر ساتھ ہی اسکے چہرے پر سنجیدگی چھاگئی
’’تم کل آجانا ھدی تمہارے ساتھ یونی جائے گی‘‘ یہ میسج زرار کے نمبر پر بھیجتے وہ آرام سے آنکھیں موند گئی جب جھٹ سے رپلائے آیا
’’میں تمہارا نوکر۔۔۔۔۔یا تمہاری اس نند کا بےبی سیٹر نہیں ہوں‘‘ زرار کا رپلائے پڑھ کر سروج آںکھیں گھما کر رہ گئی
زرار سے اسے یہی امید تھی وہ انسان کبھی بھی سیدھا جواب نہیں دے سکتا تھا۔۔۔شائد اپنی توہین محسوس کرتا تھا وہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسی کا دماغ حد درجہ الجھا ہوا تھا۔۔۔۔وہ کیا کرے؟ کیا نا کرے؟ سب کچھ سمجھ سے باہر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکا دل اور دماغ کسی بھی طور یہ ماننے پر راضی نا تھا کہ سروج جیسی لڑکی بھی کسی سے کوئی ناجائز رشتہ رکھ سکتی ہے
اپنی ساری سوچیں جھٹکتا وہ نیچے ڈائنگ میں آیا جہاں بحث گفتگو موضوع سروج ہی تھی
’’بےچاری بچی مجھ سے تو اسکی حالت نا دیکھی گئی۔۔۔۔کتنی کمزور لگ رہی تھی وہ‘‘ مسز علی تاسف سے بولی
’’سہی کہا مجھے تو خود افسوس ہورہا ہے اس پر۔۔۔۔۔۔۔۔یہ صدیق اور جلال گھٹیا ہے مجھے معلوم تھا مگر اتنا گر جائے گے امید نہیں تھی‘‘ مسٹر علی تاسف سے بولے
’’ویسے یاد آیا وہ لوگ کہاں گئے؟‘‘ مسز علی نے جلال اور صدیق صاحب کے بارے میں پوچھا۔۔۔۔۔وہ لوگ تو یوں غائب تھے جیسے انکا اس سے سب کوئی تعلق ہی نا ہوں
’’بھاگ گئے‘‘ مسٹر علی چبا چبا کر بولے۔۔۔اتنے میں موسی انکے پاس آبیٹھا اور پلیٹ میں چاول ڈالے کھانا شروع ہوگیا
’’کہاں؟‘‘ مسز علی نے حیرانگی سے پوچھا
’’بیلجیم۔۔۔ پورا خاندان‘‘ مسٹر علی نے جواب دیا
’’مجھے کم از کم اشنا سے ایسی امید نا تھی‘‘ مسز علی نے تاسف سے ھدی کی پھوپھو کے بارے میں بات کی
’’خیر جو بھی ہے۔۔۔۔۔فلوقت تو ان بچیوں کو ہماری ضرورت ہے، اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ اور ندا یا تو ان کے گھر چلی جائے کرے یا پھر انہیں یہاں بلا لیا کرے تاکہ بچیوں کا دل بہل جائے‘‘ مسٹر علی نے کھاتے تجویز پیش کی
’’ضرور کیوں نہیں‘‘ مسز علی نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔۔اتنے میں ندا جو اتنی دیر ان سب باتوں سے لاتعلق بیٹھی تھی ایک جھٹکے سے اٹھی اور کھانا چھوڑتی اپنے کمرے کی جانب چل دی
’’اسے کیا ہوا ہے؟‘‘ وہ دونوں میاں بیوی حیران ہوئے
’’ڈیڈ مجھے ایک بات کرنی ہےآپ سے‘‘ موسی نے انہیں متوجہ کیا
’’ہاں بولو سن رہا ہوں‘‘ انہوں نے اجازت دی
’’ڈیڈ میں نے مائنڈ بنا لیا ہے بزنس جوائن کرنے کا‘‘ موسی نے سنجیدگی سے اپنا فیصلہ سنایا
’’کیا تم سچ کہہ رہے ہوں؟‘‘ علی زماد نے تصدیق چاہی۔۔۔انہیں اپنے سپوت سے کوئی خاص امیدیں نا تھی
’’سو فیصد سچ ڈیڈ۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں نے اپنی پہلی ڈیل کس کے ساتھ کرنی ہے وہ بھی سوچ لیا ہے‘‘ موسی نے بات آگے بڑھائی
’’اچھا کس سے؟‘‘ علی صاحب نے حیرت سے سوال کیا
’’یاسین انڈسٹریز کی اونر سروج حیدر کے ساتھ‘‘
’’سروج کے ساتھ؟ مگر کیوں؟‘‘ نجانے کیوں مگر انہیں موسی کا انداز اور لہجہ بدلا بدلا لگا
’’کیونکہ اب اسکے ساتھ کوئی کام نہیں کرے گا‘‘ وہ بےفکر انداز میں بولا
علی زماد نے ابرو اچکائے اس بات کا مطلب پوچھا
’’او کم آن ڈیڈ۔۔۔۔۔۔جو کچھ پچھلے دنوں میں ہوچکا ہے اس سے آپ کو لگتا ہے کہ اب کوئی یاسین انڈسٹریز کے ساتھ ڈیل کرنا چاہے گا؟ اور ویسے بھی آپ کی انفارمیشن کے لیے اگر آپ نے نیوز نہیں دیکھی تو یاسین انڈسٹریز کے شیئرز بہت برے سے گرے ہیں اس سکینڈیل کے بعد۔۔۔اور میں تو صرف مدد کرنا چاہتا ہوں‘‘ وہ آرامدہ حالت میں انکو سب انفارمیشن دے رہا تھا۔۔۔۔جبکہ علی زماد کے ماتھے کے بل گہرے ہوگئے تھے
’’کیا صرف مدد ہی ریزن ہے یا کوئی اور وجہ بھی ہے اس ڈیل کی؟‘‘ وہ بھی باپ تھے اسکے اسکی رگ رگ سے واقف تھے
بھلا موسی جیسے انسان کو کب کسی کا احساس ہونے لگا
’’بتا دوں گا جلد ہی بتا دوں گا اتنی بھی کیا جلدی ہے‘‘ پراسرا سی مسکان لیے وہ کھانا ختم کیے واپس چلا گیا
علی زماد کی پرسوچ نظروں نے پیچھے سے دور تک اسکا پیچھا کیا
’’بیگم صاحبہ اپنے لاڈلے پر زرا نظر رکھا کیجیے‘‘ علی زماد موسی کی پشت کو تھیکی نظروں سے گھورتے بولے
’’افف آپ بھی نا ہر وقت میرے چاند کے پیچھے پڑے رہتے ہیں‘‘ وہ منہ بنائے بولی
’’مجھے ڈر ہے کہ تمہارا یہ چاند کسی دن کوئی چاند چڑھا ہی نا دے‘‘ وہ بھی کھانے سے فارغ ہوتے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے
’’ایک کپ چائے لے آئیے گا‘‘وہ انہیں چائے کا بولتے کمرے کی جانب چل دیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سویرے اسکی آنکھ موبائل کے بجنے پر کھلی تھی اور وہ جو میٹھی نیند کا مزہ لے رہی تھی۔۔۔۔۔۔ جی بھر کر بدمزہ ہوئی
’’ہیلو!!‘‘نیند سے ڈوبی آواز میں وہ موبائل کان کو لگائے بولی
’’میں آدھے گھنٹے تک تمہارے فلیٹ کے نیچے آرہا ہوں۔۔۔۔۔۔تیار رہنا‘‘ اور فون کھٹاک سے بند ہوگیا
ھدی نے حیرانگی سے آنکھیں واہ کیے موبائل کی طرف دیکھا تو ایک جھٹکے سے اپنے بستر سے اچھلی، موبائل پر کالر کے نام پر ’’بیسٹ‘‘ پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا
زرار سے اسنے نمبر ہسپتال میں ایکسچینج کیا تھا
’’یہ۔۔۔۔یہ۔۔۔یہ؟ یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ وہ سر پکڑ کر بستر پر بیٹھ گئی
ایک بار پھر سے اسکا موبائل بجنے لگا
’’سر پکڑ کر بیٹھ جانے سے نا تو میری گاڑی کا پیٹرول ختم ہوجانا ہے اور نا ہی کچھ ایسا جس کی وجہ سے میں تمہیں لینے نا آپاؤ۔۔۔۔۔جلدی تیار ہوجاؤ تمہارے پاس صرف پچیس منٹ بچے ہیں۔۔۔۔زرا سی دیر اور دیکھنا ھدی یاسین میں تمہارا کیا حشر کرتا ہوں‘‘ زرار کی آواز سنتے ہی ھدی کو چکر سے آنے لگ گئے
وہ زرار کو اتنا تو جان چکی تھی کہ اگر وہ لیٹ ہوتی تو اسنے واقعی اسکا حشرنشر کرکے رکھ دینا تھا
تیزی سے بیڈ سے اٹھتے وہ واشروم میں گئی اور تیار ہونے لگ گئی۔۔۔۔۔۔کچن میں آتے اسنے تیزی سے ہاتھ چلائے اور ساتھ ہی ساتھ وہ وال کلاک پر بھی نظر ڈال لیتی جو اس بات کی نشاندہی کررہا تھا کہ اسکے پاس وقت کم ہے
ابراہیم کا فیڈر بنانے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔اسنے جلدی سے چائے کے ساتھ سروج کے لیے بڑید اور فرائی ایگ کا ناشتہ بنایا اور اپنے لیے اسنے پراٹھا اور آملیٹ بناکر ڈھک دیا
اسکے پاس صرف دومنٹ تھے۔۔۔۔۔۔وہ جلدی سے سروج کے کمرے میں ناشتہ لیکر داخل ہوئی
’’بھابھی یہ آپکا اور ابراہیم کا ناشتہ۔۔۔۔۔۔۔میں لیٹ ہورہی یونی جارہی ہوں۔۔۔۔۔وہ بیسٹ مجھے لینے آرہا ہے وہ بھی زبردستی اگر نا گئی تو میرا حشر نشر کردے گا۔۔۔۔۔آپ ناشتہ کرلیجیے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ اللہ صرف ایک منٹ رہ گیا ہے جارہی ہوں۔۔۔۔۔۔اللہ حافظ۔۔۔۔۔۔۔ٹیک کیر‘‘ سروج سے بات کرتے وہ وال کلاک کی طرف دیکھ کر بولی اور اسکی سنے بنا تیزی سے کچن میں گئی جہاں اسنے اپنے انڈے پراٹھے کا رول بنایا اور بیگ اٹھائے وہ تیزی سے لفٹ کی جانب بھاگی
سروج تو پیچھے سے ہونقوں کی طرح منہ کھولے اسکی ساری کاروائی دیکھ رہی تھی
’’اللہ!!! زرار‘‘ سروج صرف اتنا ہی بول پائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک آدھے گھنٹے کے اندر وہ اسکی بلڈنگ میں آگیا تھا۔۔۔۔۔اسنے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھا ٹائم اوپر ہورہا تھا اور پھر سامنے کی طرف دیکھا جو وہ ہانپتی کانپتی سی اپنی گاڑی کی جانب اسے آتی دکھائی
اسکا سانس پھولا ہوا تھا یقینا وہ بھاگ کر آئی تھی۔۔۔ زرار کی نظر اسکے سینڈیلز پر گئی جن کے سٹریپس بھی بند نا تھے۔۔۔۔۔۔۔ اور بالوں کو دیکھ تو صاف پتا چل رہا تھا کہ انہیں ہاتھ سے ہی کنگھی کیا گیا ہے
اسکو ھدی کی حالت پر افسوس کے ساتھ ساتھ ہنسی بھی آئی
’’افففف میری معصوم محبت‘‘ وہ زیرلب بولا
ھدی نے جلدی سے کار کا دروازہ کھولا اور فرنٹ سیٹ میں اسکے برابر بیٹھے، سیٹ سے پشت ٹکائے ، آنکھیں موندے وہ لمبی لمبی سانسیں لینے لگی۔۔۔اس وقت وہ یہ بھول چکی تھی وہ کہاں ہے اور کس کے ساتھ ہے
زرار جو اسکی ایک ایک حرکت کو نوٹ کررہا تھا کھل کر مسکراہ دیا
’’کیا ریس لگا کر آئی ہوں۔۔۔۔۔۔سانسیں کیوں اتنی پھولی ہوئی ہیں؟‘‘ لہجے کو مصنوئی طور پر سخت بنائے اسنے پوچھا
ھدی نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولی تو اسے دیکھا جو اپنی سیٹ کے ساتھ سائڈ ٹیک لگائے، بازو باندھے۔۔۔۔۔فرصت سے ھدی کو دیکھ رہا تھا
’’وہ۔۔۔وہ۔۔وہ یونی جانا ہے لیٹ ہورہا ہے‘‘ نظریں نیچی کیے اسنے زرار کو بتایا
’’کیا سچ میں دیر ہورہی ہے؟‘‘ اسکی طرف جھکے زرار نے پوچھا
’’ہاں۔‘‘ نظریں نیچی کیے اسنے ویسے ہی جواب دیا
زرار کی نظریں اب اسکے ہاتھ میں پکڑے رول پر گئی، اسنے ایک جھٹکے سے اسکے ہاتھ سے رول کھینچا اور سیدھا ہوکر بیٹھ گیا
ھدی تو اسکی اس حرکت پر ششر رہ گئی
وہ حیرانگی سے زرار کو دیکھنے لگی جو مزے سے اسکے رول کے بائٹ لےرہا تھا
’’یہ۔۔یہ میرا ہے‘‘ وہ منمنائی
مگر زرار نے تو مزے سے سارا پراٹھا کھایا
’’ہاں کچھ کہہ رہی تھی تم؟‘‘ پراٹھا کھانے کے بعد وہ اب ھدی کی جانب متوجہ ہوا۔جس کی للچائی نظریں اب خالی ریپر کی طرف تھی
’’کچھ نہیں‘‘ زرار کے سوال پر اسنے نفی میں سر ہلایا
’’اوکے‘‘ زرار نے کندھے اچکائے گاڑی سٹارٹ کرلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج ابھی ابھی ابراہیم کے کپڑے چینج کرکے ہٹی تھی ، اسے گھر میں رہ کر بوریت سی ہونے لگی تھی
اتنے میں اسنے اپنے ماں باپ کو کال ملائی اور گھنٹہ ان سے باتیں کرنے کے بعد وہ پھر سے بور ہونے لگی
ایک نظر وال کلاک پر ڈال کر اسنے فیصلہ کیا اور ریڈی ہوکر ابراہیم کو ساتھ لیے آفس کی راہ لی۔۔۔۔حالانکہ اسکی صحت ابھی کچھ خاص بہتر نا تھی مگر پھر بھی کچھ ایسے معاملات تھے جنہیں اسے سلجھانا تھا اسی لیے آفس کے لیے نکل گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفس میں داخل ہوتے ہی سب کو مارننگ وش کیے وہ اپنے روم کی طرف بڑھ گئی
تھوڑی دیر بعد اسکی سیکٹریری اندر داخل ہوئی
’’گڈمارننگ میم‘‘
’’گڈمارننگ مس اسرا۔۔۔۔۔۔۔مجھے فورا سے عاطف صاحب کے ساتھ ڈیل کی جو فائل ہے وہ لادے‘‘ اپنی کرسی پر بیٹھتے وہ بولی
’’وہ میم۔۔۔۔وہ دراصل‘‘ اسرا ہچکچائی
’’اینی پرابلم مس اسرا؟‘‘ سروج نے ایک ابرو اچکائے پوچھا
’’میم وہ مسٹر عاطف اور دوسری جتنے بھی ڈیلرز تھے ان سب نے ہمارے ساتھ کسی بھی قسم کی ڈیل کرنے سے منع کردیا ہے نا صرف یہ بلکہ مارکٹ میں ہمارے شئیرز بھی بہت برے سے گرے ہیں‘‘ اسرا نے ایک سانس میں ساری بات کی اور ساتھ ہی سروج کی طرف دیکھ کر اسکے تاثرات جانچنے کی کوشش کرنے لگی
سروج کا چہرہ بلکل سپاٹ تھا
’’اس کے علاوہ کچھ اور مس اسرا؟‘‘ سروج نے سوال کیا
’’وہ میم دراصل بہت سے امپلائیں کمپنی چھوڑنے کی بات کررہے تھے۔۔۔۔ اور آپ کے آنے کا انتظار تھا تاکہ وہ ریزائن کرسکیں‘‘ اسرا کی بات سن کر سروج نے خود کو کمپوز کیا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر اسرا کو باہر آنے کا اشارہ کرتی وہ باہر چل دی
سارہ سٹاف اسے دیکھ کر ایک جگہ اکٹھا ہوگیا تھا
سروج نے ان سب کو دیکھ کر ایک سانس خارج کی اور اپنی بات شروع کی
’’میں جانتی ہوں کہ اس وقت آپ سب کیا سوچ رہے ہوں گے؟۔۔۔۔ کمپنی کے شیرز گرگئے ہیں۔۔۔۔۔۔کوئی پروجیکٹ پاس نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت جلد ہی کمپنی خسارے میں جانے والی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کوئی اور نقصان ہوں کمپنی چھوڑ دیتے ہیں‘‘ سروج نے ایک سانس میں ساری بات ختم کی
’’آئی نو کے جو حالات بگڑے ہیں وہ اتنی جلدی ٹھیک نہیں ہوسکتے۔۔۔۔۔مگر ہم لوگ کوشش تو کرسکتے ہیں نا؟ محنت کرسکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ امید کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔کہ بہت جلد ہمیں کوئی ڈیل مل جائے؟‘‘ سروج نے اپنی جانب سے انہیں مائل کرنے کی پوری کوشش کی
’’تو پھر آپکو کوشش جاری رکھنی چاہیے کیونکہ اللہ نے آپ کی سن لی ہے‘‘ ایک جانی پہچانی آواز اس کے کانوں سے ٹکڑائی
نظریں اٹھی تو سامنے دیکھ کر اسکا منہ بن گیا۔۔۔۔۔۔۔وہ سامنے ہی تو تھا
’’مسٹر علی زماد آپ یہاں؟‘‘ لہجہ نارمل رکھے سروج نے موسی سے پوچھا
تھری پیس بلیک سوٹ۔۔۔۔۔۔۔۔آنکھوں پر نیلا چشمہ لگائے وہ اپنے چہرے پر ہمہ تن موجود رہنے والی مخصوص سی مسکراہٹ لیے اسکے سامنے آکھڑا ہوا
لمبے بالوں کا اسنے جوڑا بنایا ہوا تھا
’’اب جہاں آپ وہاں ہم‘‘ ایک ادا سے بولتے اسنے اپنا چشمہ اتارا
’’ایکسکیوز می!!‘‘ پورے سٹاف کے سامنے ایسی بات پر سروج چباچبا کر بولی
’’مس سروج اب ہم آفس میں چلے گے تو میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ میں یہاں کیوں ہوں‘‘ پورے سٹاف پر نظریں ڈالے اسنے بات کی
’’ہمم چلو‘‘ سروج نے اسنے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا
’’یہ کون تھا یار؟‘‘ انکے آفس میں جانے کے بعد ایک لڑکی نے دوسری سے پوچھا
’’ہیرو‘‘ دوسری لڑکی سحرانگیز لہجے میں بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل رات سے ھدی نےکچھ نہیں کھایا تھا اور صبح کا ناشتہ بھی وہ ’’بیسٹ‘‘ کھاگیا۔۔۔۔۔اب ستم یہ کہ وہ اپنا پاؤچ بھی گھر بھول آئی تھی۔۔۔۔۔۔اس وقت اسے شدید بھوک لگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ اسے لگ رہا تھا کہ اگر اسنے اب کچھ نا کھایا تو وہ مر جائے گی
پریکٹیکل کی وجہ سے وہ کلاس روم سے باہر تھی اور اسکا بیگ کلاس میں ہی تھی
وہ واپس جاکر اپنی سیٹ پر بیٹھی اور اس میں سے اپنی سکیچ بوک دھونڈنے لگی جب اسکے ہاتھ میں کچھ آیا
ایک پل کو تو اسکی آنکھیں حیرت اور ڈر کے مارے کھل گئی مگر جب باہر نکالا تو وہ تین چکن رول تھے
ھدی کی آنکھیں بھوک سے چمک اٹھی
اسنے ایک نظر ادھر ادھر دیکھا اور کسی کو ناپاکر تیزی سے رول کا کور اتارا اور کھانا شروع کردیا
اسے کتنی بھوک لگی تھی اسکے کھانے کی سپیڈ کو دیکھتے ہوئے دروازے کی اوٹ میں چھپے زرار کو اندازہ ہوگیا تھا
زرار کو اسکے کھانے پر ہنسی تو آئی مگر ساتھ ہی ساتھ خود پر غصہ بھی جو اسنے ھدی کو تنگ کرنے کےے لیے اسکا ناشتہ کھالیا
مگر وہ کیا کرتا وہ مجبور تھا اپنی فطرت سے۔۔۔۔۔ وہ اسے ایسا ہی دیکھنا چاہتا تھا اپنے اشاروں پر اپنی محبت کو چلانا زرار کو سکون دیتا تھا
ھدی نے ایک سے ڈیڑھ رول کھا کر باقی احتیاط سے واپس بیگ میں رکھ دیا اور دوبارہ سے اردگرد دیکھ کر پرسکون سی سکیچ بوک پر جھک گئی
زرار بھی تھوڑی دیر بعد واپس اپنی کلاس کی طرف چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسی سروج کے پیچھے پیچھے اسکے آفس میں داخل ہوا جب نظریں بےساختہ صوفہ پر بیٹھے کار سے کھیلتے ابراہیم پر گئی ایک پل کو موسی راہ میں رک گیا اور غور سے اسے دیکھنے لگا
’’ماہم‘‘ موسی ابراہیم کو دیکھ کر بولا جبکہ موبائل پر میسج ٹائپ کرتی سروج کے ہاتھ کانپ اٹھے
وہ بلکل ماہم جیسا تھا۔۔۔۔۔۔موسی دھوکہ نہیں کھاسکتا تھا ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو ماہم کی کاپی تھا
یہ کیا ہورہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ موسی کا دماغ پھٹنے کو تھا
’’مسٹر موسی؟‘‘ سروج نے اسے ہلایا
’’یس؟‘‘ موسی نے سوالیہ انداز میں پوچھا
’’مسٹر موسی آپ یہاں کیوں آئے ہیں وجہ بتانا پسند کرے گے؟‘‘ سروج نے اپنی سیٹ پر بیٹھتے اس سےپوچھا
’’ڈیٹ کی آفر کرنے‘‘ موسی اسکے سامنے بیٹھتے بولا
’’مسٹر موسی لہجہ!!!!!!‘‘ سروج نے تنبیہ کی
’’ایک ڈیل کرنا چاہتا ہوں آپ کے ساتھ‘‘ موسی نے بات کا آغاز کیا
’’میرے ساتھ مگر کیوں؟‘‘ سروج نے حیرت سے پوچھا
’’میں بزنس میں نیا ہوں اور کسی پر جلد بھروسہ نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔اور آپ کو بھی اس وقت اپنے بزنس کو سنبھالنا ہے تو یہ ایک اچھی اوفر ہے‘‘ موسی نے وجہ بیان کی
سروج نے اسکی بات سمجھ کرسر اثبات میں ہلادیا
’’تو آپ کے پاس کوئی آئیڈیا بھی ہوگا۔۔۔۔ہےنا؟‘‘ سروج نے سوال کیا
موسی کھل کرمسکرایا ۔۔۔۔۔ اسے معلوم تھا کہ سروج کبھی بھی انکار نہیں کرے گی فلحال اسکے پاس کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ انکار کرسکتی
’’جی بلکل آئیڈیا تو ہے بس آپ بتائے کہ میٹنگ کب کی رکھے؟‘‘ موسی نے پروفیشنل انداز میں پوچھا
’’لیٹس کپ اٹ اوور کمنگ فرائڈے۔۔۔۔۔مینز ڈے آفٹر ٹومارو‘‘ سروج کی بات پر موسی نے متفق ہوکر سر ہلا دیا
’’اوکے اب مجھے اجازت مل کر اچھا لگا مس سروج۔۔۔۔۔۔بائے دا وے اب آپ کیسا فیل کر رہی ہے؟‘‘ موسی نے لگے ہاتھوں اسکی طبیعت کے بارے میں پوچھ لیا
’’جی بہتر‘‘ سروج نے مدھم لہجے میں جواب دیا
’’اب مجھے اجازت‘‘ کہتے ہی موسی دروازے کی طرف چل دیا
’’ویسے آپکا بیٹا۔۔۔۔۔‘‘ موسی جاتے جاتے ایک دم پلٹا اور ابراہیم کے بارے میں کچھ بولتے سروج کے چہرے کو دیکھا جس کا رنگ نچڑ گیا تھا
’’میرا بیٹا؟‘‘ سروج نے کانپتی آواز پر قابو پائے پوچھا
’’آپکا بیٹا آپ جیسا تو بلکل بھی نہیں ہے۔۔۔ضرور اپنے والد پر گیا ہوگا۔۔۔۔ ہے نا؟‘‘ موسی کے سوال پر سروج کے لیے دوسرا سانس لینا محال ہوگیا
’’جج۔۔جی۔۔۔۔ابراہیم اپنے ڈیڈ پر گیا ہے‘‘ سروج نے بامشکل مسکراتے جواب دیا
’’ہاں وہ تو نظر آرہا ہے‘‘ موسی نے طنزیہ مسکراہٹ لیے جواب دیا اور باہر کو چل دیا
پیچھے کھڑی سروج ایک دم سے اپنی کرسی پر گرنے کے انداز میں بیٹھی
’’یا میرے اللہ۔۔۔اگر اسے شک ہوگیا۔۔۔۔۔۔اگر اسے سچ پتا چل گیا تو؟‘‘ سر ہاتھوں میں گرائے وہ خود سے بولی
’’نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں ایسا نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔انکل نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کسی کو کچھ نہیں بتائے گے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں نے بھی تو عمیر سے وعدہ کیا تھا نا کہ میں ہمیشہ ابراہیم کو اپنے پاس رکھوں گی‘‘ وہ خود سے بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نجانے کتنے راز۔۔۔۔۔۔۔ کتنی کہانیاں۔۔۔۔۔۔۔کتنے موڑ ہیں جن سے میں انجان ہوں۔۔۔
پورا راستہ موسی کا دماغ ابراہیم میں اٹکا رہا
’’تو کیا وہ سچ میں ماہم کا بیٹا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر کیسے؟‘‘ موسی کا دماغ خراب ہورہا تھا
اسنے گاڑی سائڈ پر روکی اور سٹرینگ کے ساتھ سر ٹکا لیا
ماہم۔۔۔۔۔۔۔۔سروج۔۔۔۔۔۔ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔زرار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ندا۔۔۔۔۔۔۔۔ھدی۔۔۔۔۔۔۔۔عمیر
یہ سب لوگ ایک دوسرے سے جڑے تھے۔۔۔۔۔۔ مگر جو غائب تھا وہ تھا وہ ایک خاص سرا جس سے یہ سب جڑے ہوئے تھے.
جاری ہے
