Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15

زرار یونی سے سیدھا ہوسپٹل گیا تھا، جہاں آہل اس وقت (دا تھری مسکٹیرز) پڑھنے میں مصروف تھا۔
’’ہیلو بڈی۔۔۔۔ہاؤ آر یو(کیسے ہو تم)؟‘‘ اسکے پاس بیٹھتے زرار نے سوال کیا
’’لیو می۔۔ٹیل می اباؤٹ یو؟ ہاؤ آر یو فیلنگ؟(مجھے چھوڑے۔۔۔اپنے بارے میں بتائے؟ آپ کیسا محسوس کررہے ہیں)‘‘ اسکی ہونٹوں کی مسکراہٹ اور آنکھوں کی چمک زرار کو ٹھٹکنے پر مجبور کرگئی
’’واٹ یور مین؟(تمہارا مطلب کیا ہے)‘‘ زرار نے تیکھے لہجے میں پوچھا
’’او پلیز دونٹ ٹرائے ٹو بی انوسنٹ۔۔۔۔۔آئی نو دا مین ریزن۔۔۔وائے یو وانٹ ٹو کم بیک پاکستان سو ارجنٹلی(او پلیز ہاں اتنے بچے نا بنے۔۔۔۔۔۔۔آپ پاکستان جلد از جلد کیوں آنا چاہتے تھے۔۔۔مجھے سب معلوم ہے)‘‘ وہ مسکراہٹ پر قابو پاتے بولا
’’رئیلی دین ٹیل می ٹو(اچھا زرا مجھے بھی پتا چلے)‘‘ زرار نے حیرانگی سے پوچھا
’’یور ہوپوئی (آپکی ھدھد)‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولا، جس پر زرار نے بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ دبائی، اور آہل کو گھوری سے نوازہ، جسکا آہل پر خاطر خواہ اثر نا ہوا
’’یو رئیلی لو ہر۔۔۔۔ڈونٹ یو(آپ اس سے واقعی محبت کرتے ہیں۔۔۔۔ہے نا)‘‘ آہل نے زرار کو دیکھتے پوچھا، جس کی آنکھیں اسکے زکر پر چمک اٹھی
’’یس آئی ڈو(ہاں مجھے ہے)‘‘ آہل کے بال بگاڑتے وہ بولا
’’آئی وانٹ ٹو مٹ ہر(مجھے اس سے ملنا ہے)‘‘ آہل نے اپنا مطالبہ پیش کیا
’’می ٹو۔۔۔۔۔۔بٹ شی از ناٹ ریڈی رایٹ ناؤ۔۔۔۔شی نیڈ سم ٹائم(میں بھی اسے تم سے ملوانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔مگر وہ فلحال تیار نہیں۔۔۔۔اسے کچھ وقت چاہیے)‘‘ زرار نے جواز پیش کیا
’’شی از ناٹ ریڈی اور یو سکیرڈ ہر(وہ تیار نہیں یا آپ نے اسے ڈرایا ہے)‘‘ آہل کے اس سیدھے جواب پر وہ گڑبڑا گیا
’’دونٹ ٹرائے ٹو بی ایکٹ سو سمارٹ(زیادہ ہوشیار بننے کی کوشش نا کروں)‘‘ زرار نے اسے لتاڑا مگر وہ بھی اسکا ہی بھائی تھا مجال ہے جو کوئی اثر لیا ہوں
’’آئی ایم آل ریڈی سمارٹ(میں پہلے سے ہی ہوشیار ہو)‘‘ وہ کندھے اچکائےمزے سے بولا
’’ناؤ سٹاپ ٹاکنگ اینڈ اٹس ٹائم ٹو سلیپ(اچھا اب بولنا بند کروں۔۔۔سونے کا وقت ہوگیا ہے)‘‘ اسکے ہاتھ سے کتاب لیے اسنے سٹینڈ پر رکھی اور اسے بیڈ پر سہی سے لٹاتے ہوئے اس پر لحاف اوڑھا
’’آر یو ٹرائینگ ٹو چینج دا ٹوپک؟(کیا آپ موضوع بدلنے کی کوشش کررہے ہیں؟)‘‘
’’آہل۔۔۔۔‘‘ زرار نے آنکھیں دکھائی
’’اوکے اوکے فائن(اچھا اچھا ٹھیک ہے)‘‘ وہ آنکھیں بند کیے بولا جس پر زرار مسکراہ دیا
’’گڈنائٹ بڈی‘‘
’’گڈ نائٹ بگ برو‘‘ آہل ہلکی آواز میں بولتا نیند کی آغوش میں چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح ان سب کی زندگیوں میں ایک نئی کہانی، ایک نیا موڑ لانے کے آچکی تھی، مگر وہ سب اس سے انجان۔
آج ان سب کی آنکھیں وقت سے پہلے کھل گئی تھی، جہاں فریحہ کو یونی سٹارٹ کرنے کی خوشی، وہی مائز کو آج عمارہ سے لگائے گئے فرائز کی دس پلیٹیں کھانے کی شرط پوری کرنی تھی
مراد آج ہر حال میں عمارہ سے اسکے اور اپنے رشتے کو لیکر بات کرنا چاہتا تھا جبکہ عمارہ ان سب سے بےخبر اپنی دنیا میں مگن تھی
ھدی آج خوش تھی کیونکہ سروج اسکے ساتھ جوجارہی تھی، جس کا مطلب وہ بیسٹ اسے کچھ کہہ نہیں پائے گا، زرار کا آج صبح سے ھدی کو دیکھنے کا شدت سے دل چاہ رہا تھا۔
موسی تیار تھا یونی میں ایک نیا فیز شروع کرنے کے لیے اور اب جب وہ اور زرار ایک ہی کلاس میں تھے تو اسے کچھ بھی کرکے ان دونوں کے مابین حالات ٹھیک کرنے تھے، تو دوسری طرف سروج آج ایک بار پھر عمیر کی یادوں میں کھو چکی تھی آج کا دن ہی تو وہ دن تھا جب اسکی اور عمیر کی پہلی ملاقات ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’بھابھی آپ تیار ہے؟‘‘ ھدی نے دروازے پر ناک کرکے اندر داخل ہوتے پوچھا
’’ہاں بس یہ اپنے شہزادے کو اٹھا لوں، کب سے سویا ہوا ہے‘‘ سروج کا اشارہ ابراہیم کی طرف تھا
’’بھابھی!!!!‘‘ وہ جو بال بنا رہی تھی ھدی کی آواز پر مڑی
’’کیا ہوا؟‘‘ وہ پریشان ہوئی
’’بھابھی ابراہیم کو تو بخار ہے‘‘ اسنے پریشانی سےبتایا
’’اب۔۔۔اب کیا کرے؟‘‘ وہ دونوں پریشان ہوگئی تھی
’’بھابھی آنٹی کے پاس چلے نا پلیز‘‘ ھدی روتے بولی
’’ہاں چلو‘‘ سروج نے حامی بھری
تھوڑی دیر میں ہی وہ مسز عاسم کے گھر تھی، جنہوں نے ابراہیم کو دیکھ کر پرسکون سانس خارج کی
’’فکر کی بات نہیں بچے، موسم کے بدلاؤ کی وجہ سے ہے، تم لوگ آرام سے یونی جاؤ میں ڈاکٹر کو گھر بلا لوں گی‘‘ وہ مسکراہ کربولی
’’نہیں آںٹی میرا دل نہیں مانتا‘‘ سروج نے احتجاج کیا
’’میرا بھی‘‘ ھدی نم آنکھوں سے بولی
’’ارے بچوں جانا ضروری ہے تم لوگ فکر مت کروں اور سکون سے جاؤ‘‘ انہوں نے دونوں کو بےفکر کیا
پھر کچھ دیر نا نا کرنے کے بعد وہ دونوں یونی کے لیے نکل گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں یونی پہنچی تھی کہ سروج کو اسکی مام کی کال آنا شروع ہوگئی
’’ایک منٹ ھدی ادھر ہی رکو میں آئی اوکے‘‘
’’جی بھابھی‘‘ اسنے تعبداری سے سر ہلا دیا
سروج تھوڑا سائڈ کو ہوکر بات سننے لگ گئی جب ھدی کی نظر سامنے کے منظر پر ٹہر گئی۔۔۔جہاں ایک لڑکی ایک لڑکے کی ٹھکائی کررہی تھی، ھدی کو اس لڑکی پر رشک آیا
’’کاش میں بھی اس بیسٹ کا یہی حال کرسکتی‘‘ وہ پرسوچ انداز میں بولی
’’ایکسکیوز می لٹل گرل‘‘ اسے اپنے پیچھے سے آواز آٗی، مڑ کر دیکھا تو ایک عجیب حلیے والا لڑکا اسکے سامنے کھڑا تھا، ھدی تو اسکو دیکھ کر ڈر گئی اور اسکے پیر کانپنے لگ گئے
’’ارے ڈروں مت میں تو بس کینٹین کا پوچھنے آیا تھا‘‘ موسی جانتا تھا کہ وہ اسے دیکھ کر ڈر چکی ہے
’’وہ۔۔۔۔وہ‘‘ ھدی کچھ بول نا پائی اور ہونٹوں پر زبان پھیرے، نظریں تیرچھی کیے سروج کو دیکھنے لگی جو نجانے کہاں غائب ہوگئی
’’یار پلیز بتا دوں بہت بھوکا ہوں۔۔۔۔ناشتہ بھی نہیں کیا‘‘ اب کی بار وہ بےچارگی سے بولا۔ جس پر ھدی نے ڈرتے ڈرتے اسے راستہ بتایا۔
’’تھینکیوو لٹل گرل اینڈ سوری، میرے اس خوفناک چہرے نے تمہیں ڈرا دیا‘‘ وہ مسکراہ کر بولا تو ھدی کو بھی تھوڑا حوصلہ ہوا
’’ویسے میری بہن سہی ہی کہتی ہے‘‘ وہ منہ نیچے کیے بولا
’’کیا کہتی ہے ؟‘‘ ھدی کو تجسس نے آن گھیرا، جبکہ موسی مسکراہ دیا، پتا نہیں کیوں مگر وہ اس سے نارمل طریقے سے بات کرنا چاہتا تھا، اسے پسند نا آیا ھدی کا اس سے ڈرنا، وہ کمزوروں کا مزاق اڑانے والوں میں سے نا تھا
’’یہی کہ مجھے انسانوں والا حلیہ اپنا لینا چاہیے۔۔۔۔بچے ڈر جاتے ہیں‘‘ وہ ہنس کر بولا، جبکہ ھدی جھینپ گئی اسے اپنا بچا کہنا اچھا نا لگا
’’میں بچی نہیں ہوں‘‘ وہ ناک سکیڑتی بولی
اس سے پہلے کے موسی کوئی جواب دیتا اسے مائز کی کال آنے لگی جو اسے اپنے آج کے کمپیٹشن کے لیے بلا رہا تھا
’’اوکے لٹل گرل اللہ حافظ‘‘
’’خدا حافظ‘‘
’’ھدی چلے؟‘‘ موسی کے جاتے ہی سروج وہاں آگئی تھی
’’جی بھابھی لیکن پہلے کینٹین چلے ناشتہ کرنا ہے، بھوک لگی ہے‘‘ موسی کے بولنے پر اسے بھی یاد آیا کہ اسنے ناشتہ نہیں کیا تھا
’’ہمم چلو ٹھیک ہے چلتے ہیں‘‘ سروج نے حامی بھری۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’وہ کون ہے؟‘‘ کینٹین میں اپنے دوستوں سے گپے لڑاتے اسکی نظر اچانک سامنے سے آتی دو لڑکیوں پر پڑی۔
’’کون سی والی؟‘‘ اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھتے مائز نے پوچھا۔
’’وہ لال آنچل والی‘‘ اسنے آنکھ سے اشارہ کیا جبکہ مائز کوتو غصہ آگیا کیونکہ دونوں نے ہی اس وقت لال ڈوپٹہ لیا ہوا تھا۔
’’دیکھ میرے بھائی اگر تو تو دایئں والی کی بات کررہا ہے تووہ ھدی ہے اور تو اسے بھول جا، وہ سائیکو زرار تجھے نہیں بخشے گا، پوری یونی میں کسی کو بھی اس سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے،ورنہ زرار کے قہر سے کون بچائے اور اگر اشارہ بایئں جانب ہے تو بھی بھول جا کیونکہ وہ لڑکی خود ایک سائیکو ہے کسی سے بھی بات نہیں کرتی صرف ھدی سے ہی چپکی رہتی ہے‘‘ فرائز سے انصاف کرتا وہ مزے سے بولا جبکہ موسی نے ایک نظر سامنے والی ٹیبل پرسب سے علیحدہ بیٹھے زرار کو دیکھا جو اب نہایت فرست سے ھدی کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کررہا تھا اور پھر ایک نظر ھدی کو دیکھا جوکہ شائد زرار کو دیکھ چکی تھی اور اس سے چھپنے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی،خیر اسے کیا اسے تو اس سائیکو سے مطلب تھا وہ لال آنچل والی
’’اسکا نام کیا ہے؟‘‘ کرسی سے ٹیک لگائے اسنے پوچھا
’’اسےفرائز کہتے ہے‘‘ فرائز کھاتا مائز ایک فرائز اسکے سامنے کرتے بولا
’’او ڈفر اسکا نہیں اسکا وہ لال آنچل والی،وہ سائیکو‘‘ اسکے سر پر ٹھپڑ مارتے وہ بولا
’’او اچھا وہ، اسکا نام کیا تھا؟ ہاں ’’سروج۔۔سروج حیدر‘‘ اسے بتاتا وہ پھر سے فرائز کھانے میں مگن ہوگیا،جبکہ ایک پراسرا مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھو لیا
’’مزہ آئے گا اس سائیکو کے ساتھ‘‘ مزے سے بولتا وہ مائز کی پلیٹ سے فرائز کھانے لگ گیا جس پر مائز نے اسے خونخوار نظروں سے گھورا
’’او بھائی میرے اس سے دور ہی رہ تو اچھا ہے‘‘ مائز نے سمجھانا چاہا
’’ہاں تو ان دوریوں کو نزدیکیوں میں نا بدل دیا تو میرا نام بھی موسی علی زماد نہیں‘‘ اسکی آنکھوں میں بلکل ویسی ہی چمک تھی جیسی شکار کو دیکھ کر شکاری کی نظروں میں آجاتی تھی، شکاری اپنا اگلا شکار ڈھونڈ چکا تھا۔
’’او میرے بھائی تجھے دیر ہی کتنی ہوئی ہے یونی آئے اور تو ان کاموں میں لگ گیا ہے‘‘مائز منہ بناتے بولا
’’اچھا چھوڑ دوبارہ نام بتانا ان دونوں کا‘‘ موسی کو نام بھول چکا تھا
’’سروج حیدر اور ھدی یاسین‘‘ مائز تو فرائز کھاتے مزے سے بولا جبکہ موسی کا تو سارا دھیان ھدی یاسین پر اٹک گیا، اسنے نظر اٹھا کر اس لڑکی کو دیکھا جو اب سروج کے ساتھ بیٹھے ناشتے میں مصروف تھی
’’تو کیا یہ وہی ھدی ہے؟‘‘ وہ سوچنے لگا، جس لڑکی کو صبح تک وہ ایک بچی کی طرح ٹریٹ کررہا تھا وہی لڑکی اسکی بہن کے گنہگار کی بہن ہوگی سوچا بھی نہیں تھا
’’اگر تم واقعی میں وہی ھدی ہوں جو میں سوچ رہا ہوں، تو یاد رکھنا کہ تمہیں مجھ سے کوئی بھی بچا نہیں پائے گا، تم معصوم ہوں مگر اپنے بھائی کا کیا تو بھگتنا ہوگا نا‘‘ مائز کی بکواس کو اگنور کیے وہ ھدی پر غور کیے، سوچنے لگا
یہ منظر دو آنکھوں نے بڑی غور سے دیکھا تھا جن میں سے اب چنگاریاں پھوٹ رہی تھی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *