Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07

صبح اسکی آنکھ ایک انجانے جذبے کے تحت کھلی، اسنے آنکھیں کھولے پورے کمرے پر نظریں دوڑائی جب اسکی نظر بیڈ پراپنے ساتھ لیٹے اس ننھے سے وجود پر گئی جو اب ہاتھ اور پیر دونوں ہواوؤں میں پھیلائے، اوں آں کی آواز نکالے کھیلنے میں مصروف تھا، ھدی حیرانگی سے اسے دیکھے گئی جب کھیلتے کھیلتے ابراہیم نے بھی کروٹ اسکی طرف لی اور اب اپنی گول بڑی آنکھوں سے غور سے اسے دیکھنے لگا۔
’’اٹھ گئی تم!!!‘‘ یہ آواز؟ اسنے تیزی سے دروزے کی طرف دیکھا جہاں سروج سر پر نماز کے سٹائل میں ڈوپٹا لیے، ہاتھ میں قرآن پاک پکڑے اسے دیکھ رہی تھی، اور اب اسنے قران پاک لاکر اسکی جگہ پر رکھا۔
’’تو کیا جو کل رات ہوا وہ سب حقیقت تھی، سچ تھا، جھوٹ نہیں‘‘ وہ حیرانگی سے سوچنے لگی۔
’’ہمم ۔۔ شکر ہے بخار نہیں ہوا تمہیں‘‘ اپنی سوچوں میں گم اسے سروج کا ہاتھ اپنے ماتھے پر محسوس ہوا، جواب غور سے اسے دیکھ رہی تھی، ھدی کی یہ عادت تھی وہ جب بھی کسی بات یا چیز کی ٹینشن ضرورت سے زیادہ لے لیتی تو بخار ہوجاتا اسے۔
’’بھابھی!!!‘‘ وہ بےیقینی کی کیفیت میں بولی
’’ہاں‘‘
’’آپ۔۔۔آپ سس،،سچ میں ہے‘‘ اسکی آنکھوں سے اشک ایک بار پھر نکلنا شروع ہوگئے۔
’’ہاں میں ہی ہوں‘‘ محبت سے اسکے آنسو صاف کرتے وہ بولی
’’تو۔۔تو وہ خواب نہیں تھا، میرا سچ میں نکاح نہیں ہوا، آپ نے۔۔۔۔آپ نے بچا لیا مجھے بتائے نا‘‘اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑے وہ اس سے پوچھنے لگی۔
’’ہاں میری جان نہیں ہوا نکاح تمہارا سب بلکل ٹھیک ہے‘‘ اسے گلے سے لگائے وہ بولی
’’بھابھی۔۔۔بھابھی آپ جانا مت اوکے کہی نہیں جانا، پلیز مجھے چھوڑ کر نہیں،، نہیں تو یہ لوگ مجھے مار دے گے بھابھی۔۔۔ آپ آپ جائے گا مت، ایک منٹ ہاں۔۔۔۔اب ٹھیک ہے سب، اب آپ کہی نہیں جائے گی‘‘ اسے کہتے ہی وہ ایک دم سے اپنی جگہ سے اٹھی اور فورا سے دروازے کو لاک لگا دیا۔
’’اب میں آپ کو کہی جانے نہیں دوں گی۔۔۔دیکھنا اب آپ کہی نہیں جاؤ گی، میرے۔۔۔میرے پاس ہی رہو گی، ہے نا۔۔۔نہیں جاؤ گی نا چھوڑ کے؟‘‘ پاگلوں کی سی کیفیت میں بولتی اب وہ آخر میں سروج سے اسکی رائے جاننے لگی۔
’’ہاں میری جان میں کہی نہیں جاؤ گی‘‘ اسے گلے لگائے بڑی مشکل سے آنسوؤں پر قابو پائے وہ بولی۔
اتنی دیر میں ابراہیم کی ہلکی ہلکی رونے کی آواز انہیں سنائی دی، ھدی سروج سے علیحدہ ہوئے اب غور سے ابراہیم کو دیکھنے لگی، جسے کسی طور بھی سروج کا خود کے علاوہ کسی اور کی فکر کرنا پسند نہیں آیا۔
’’بھابھی یہ؟‘‘ ھدی حیرانگی سے اسکی طرف دیکھے پوچھنے لگی
’’یہ ابراہیم ہے۔۔۔۔ ھدی پھوپھو کا پیارا سا بھتیجا‘‘ وہ مسکرا کر بولی جبکہ ھدی کی آنکھیں حیرت سے بڑی ہوگئی
’’یہ۔۔یہ بب۔۔بھیا کا بیٹا؟ آپ کا بیٹا؟ ابراہیم؟‘‘ وہ اب اسے سوال کرنے لگی جس پر سروج نے مسکرا کر سر ہلا دیا
’’اللہ بھابھی دیکھے کتنا پیارا اور چھوٹو سا ہے یہ، بلکل ڈورےمون کی طرح، یہ تو میرا ڈورےمون ہے‘‘ ھدی اب ابراہیم کے پاس بیٹھے کبھی اسکے ہاتھ تو کبھی پیروں سے کھیلنے لگی اور ابراہیم جو رونے میں مصروف تھا اب اسکو یوں خود کے ساتھ کھیلتے دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس پڑا، ھدی بھی اس کے ساتھ ہنستے ہوئے کھیل رہی تھی، شاید کے اتنے دنوں میں یہ پہلی بار تھا جب وہ ہنسی تھی۔
سروج نے نم آنکھوں سے منظر دیکھا تھا، اسکی فیملی۔۔۔۔اسکی اپنی فیملی۔
’’نہیں بھئی یہ ڈورےمون نہیں ہے‘‘ سروج نے ھدی کی بات سے انکار کیا جس پر ھدی کا منہ بن گیا
’’کیوں؟‘‘ اسے سروج کی بات پسند نا آئی
’’وہ اس لیے کیونکہ میرا ڈورےمون تو یہ ہے‘‘ ھدی کی طرف اشارہ کرتے ہی اسنے اسکے بال بگاڑے جس پر وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔
’’جی نہیں یہ میرا ڈورےمون ہے بلکل ویسے ہی جیسے میں آپ کی ڈورےمون ہو‘‘ ھدی سمجھداری سے بولی، وہ کہی سے بھی وہ ھدی نہیں لگ رہی تھی جو چند منٹ پہلے بہت ڈری اور سہمی سی تھی۔
اتنے میں کمرےکا دروازہ ناک ہوا جب ملازمہ نے انہیں ناشتے کا بلاوا دیا اور ھدی جو سب کچھ بھول بھال کر ابراہیم سے کھیلنے میں مصروف تھی اسکا رنگ ایک دم سفید پڑ گیا۔ جسے سروج نے باخوبی نوٹ کیا
’’بھابھی!!‘‘ ڈر کے مارے وہہ بس اتنا ہی بول پائی
’’ھدی میری جان کچھ نہیں ہوگا ٹھیک ہے میں ہوں نا کوئی کچھ نہیں کہے گا سمجھی‘‘ سروج اسے سمجھانے لگی اور ھدی بھی سروج کی موجودگی سے اب پرسکون ہوگئی تھی اسی لیے اسکی بات پر سر ہاں میں ہلا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ارے بھئی جلدی جلدی کروں سب کہاں رہ گئے ہیں؟ بوا۔۔۔بوا بھئی سب کہاں ہے؟‘‘ وہ ملازم کو آواز دینے لگی، آج انکے چہرے پر عجیب سی خوشی تھی
’’ارے چھوٹی دلہن بلایا ہمیں؟‘‘ اتنے میں ایک بڑی عمر کی ملازمہ نے آکر پوچھا
’’جی بوا سب کام ہوگئے ہیں نا؟ سب تیاریاں مکمل ہے ناَ؟ کوئی کمی بیشی نا ہوں دیکھ لیجیے گا سب کچھ پرفیکٹ ہونا چاہیے‘‘ وہ بوا کو ہدایت دیتے بولی
’’ارے چھوٹی دلہن فکر نا کرے سب کچھ بلکل ٹھیک ہے، سارے انتظامات اور تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں، ہم نے سب کام اپنی نگرانی میں کروائے ہیں‘‘ وہ انہیں تسلی دیتے بولی
’’ارے بھئی بیگم کیا ہوگیا ہے آپ کو آرام سے سب کام ہوجائے گے‘‘ اتنی میں علی زماد کمرے سے نکلتے ہوئے بولے
’’آرام؟ نہیں نہیں آرام نہیں کرسکتی میں آپ نہیں جانتے آج میں کتنی خوش ہوں، آخر کو میرا بیٹا میرا موسی آرہا ہے اتنے مہینوں بعد پاکستان‘‘ وہ خوش لہجے میں بولی، انکی آنکھوں سے جھلکتی ممتا، انہیں بےصبری سے اپنے بیٹے کا انتظار تھا۔
اتنے میں کار کا ہارن بجا، اسکا مطلب وہ آچکا تھا، وہ جلدی سے مین دروازے کی طرف بڑھی جہاں سامنے سے انکا بیٹا، انکی جان، انکا وارث موسی کار میں نے نکلا
وائٹ ہاف ٹی شرٹ کے ساتھ نیلی جینز اور آنکھوں پر نیلے ہی گوگلز لگائے، بھورے لمبے بال جنکی اسنے پونی کی تھی، ایک ہاتھ میں بریسلیٹ پہنے، اسنے ایک کان میں بھی میگنیٹک بالی پہنی ہوئی تھی، اور گلے میں ایک لمبا سا لاکٹ، جیکٹ اسنے شانوں پر پھیلائی ہوئی اور اب وہ مسکرا کراپنی ڈارھی پر ہاتھ پھیرتا اپنی ماں کی طرف بڑھا
’’مام!‘‘ اسنے جاتے ہی انہیں گلے لگایا اور انکا گال چوما
’’موسی مائی سن‘‘ وہ بھی اسکا ماتھا چومتے محبت سے بولی
’’ہاؤ آر یوو مام( آپ کیسی ہے ماما)؟‘‘ انہیں اپنے ساتھ لگائے قدم اندر کی طرف بڑھاتے اسنے پوچھا
’’آئی ایم فائن اینڈ بیوٹیفل ایز آلویز( ہمیشہ کی طرح ٹھیک اور خوبصورت)‘‘ وہ ایک ادا سے بولی جس پر موسی کا قہقہ گونجا
’’بھائی!!!‘‘ اتنی دیر میں اوپری منزل سے ایک لڑکی کی چیخ سنائی دی جو اب سیڑھیاں تیزی سے اترتے نیچے اسکی طرف بڑھی
’’ندا مائی پریٹی ڈول‘‘ اپنی چھوٹی بہن کو گلے لگائے وہ محبت سے بولا
’’آئی مسڈ یو سو سو سووووووو مچ بھائی‘‘ اسکے گلے لگے وہ محبت سے بولی
’’می ٹو مائی ڈول‘‘ اسکے سر پر محبت سے ہاتھ رکھے وہ بولا
’’اب آپ جائے گے تو نہیں نا؟‘‘ اسنے سر ہٹا کر جواب دیا
’’اور اگر چلا جاؤ؟‘‘ وہ شرارت سے بولا، جبکہ اسکی یہ بات ندا کو تکلیف پہنچا گئی
’’ٹھیک ہے چلے جائے آپ بھی ماہم اپو کی طرح ہم سب کو چھوڑ کر‘‘ اسے دھکا دیتے وہ غصے سے بولی، تھوڑی دیر پہلے والی خوشی کی جگہ اب غم نے لے لی تھی۔
’’ہے ہے کڈو آئی واز جسٹ کیڈینگ( اوئے بچا میں صرف مذاق کر رہا تھا)‘‘ اسکے سر پر محبت سے چت لگائے وہ بولا
’’نیور ایور ڈو دس اگین( دوبارا کبھی بھی ایسا مذاق مت کیجیے گا)۔ اٹس سکیئرز می( مجھے ڈر لگتا ہے ایسے مذاق سے)‘‘ وہ غمگین لہجے میں بولی
’’اوکے پرامس نیور( اچھا وعدہ کبھی نہیں کروں گا)‘‘
’’بائی دا وے ویر از مائی گفٹس( ویسے میرے تحفے کہاں ہے)‘‘ دنوں ہاتھ کمر پر ٹکائے وہ اس سے پوچھنے لگی جس پر دونوں ماں بیٹا کی ہنسی نکل گئی
’’وٹ گفٹس( کونسے تحفے)؟‘‘ وہ حیران ہوا
’’بھائی!!!!!‘‘ وہ چیخی
’’اوکے اوکے مذاق کر رہا تھا یہ لو بھئی یہ سارا سامان تمہارا ہے‘‘ ایک بیگ اسکی طرف بڑھاتے وہ بولا
’’آ لو یو بھائی‘‘ خوشی سے اسکے گلے لگے وہ بولی
’’لو یو ٹو چڑیل‘‘ اسکے بال بگاڑتے وہ بولا
’’موسی‘‘ اتنی ہی دیر میں علی زماد بولے جو تب سے اپنی اولاد کی آپس کی چھیڑ خانی سے لطف اندوز ہورہے تھے
’’ڈیڈ‘‘ وہ انکی طرف بڑھا اور انکے گلے لگا
’’سفر کیسا رہا؟‘‘ انہوں نے پوچھا
’’آہ۔۔۔ جب خوبصورت ائیر ہوسٹیس کا ساتھ ہو تو سفر کیسا گزر سکتا ہے‘‘ ٹھنڈی آہیں بھرتا وہ بولا
’’موسی‘‘ اسے کمر پر ایک مکا اپنی ماں کی طرف سے ملا
’’اف ظالم عورت آتے ہی ساتھ تشدد‘‘ وہ کراہ کر رہ گیا، جبکہ اسکی اس ایکٹینگ پر باقی سب دل کھول کر ہنسے
’’اللہ نظریں بد سے بچائے ، کتنے اچھے لگ رہے ہیں سب یوں مل جل کر بیٹھے‘‘ موسی کو پانی لاکر دیتی بوا دعا دیتے بولی
’’ہاں اور یہ سب اور بھی اچھا ہوجاتا اگر آج ماہم اور وہ دونوں یہاں ہوتے‘‘ اسکی اس بات پر ایک پل کو بوا کی بھی آنکھیں بھیگ گئی
’’اور بوا آپ سنائے کیا حال چال ہے؟ ویسے بہت خوبصورت لگ رہی ہے دل چاہ رہا ہے کہ آج ہی آپ سے نکاح پڑھوا لو‘‘ اپنی کی گئی بات کا اثر زائل کرنے کے لیے وہ شرارتی لہجے میں بوا کو چھیڑتے بولا
’’ہاں۔۔۔ہٹ بدماش کہی کا اور چھوٹی دلہن زرا اپنے شہزادے کو تو دیکھو کیسا آوارہ بن کر آیا ہے‘‘ بوا تو اسکی بات سن کر ایک دھموکا اسکی کمر پر جڑے بولی جبکہ ندا زور زور سے ہنسنا شروع ہوگئی اور اب بوا کی توپوں کا رخ اسکی ماں کی طرف تھا
’’بوا یار فیشن ہے یہ‘‘ موسی اترا کر بولا
’’ہائے اللہ توبہ کیسے الفاظ اسستعمال کر رہا ہے توبہ بھئی چھوٹی دلہن اپنے لونڈے کو کسی پیر کے پاس لے چلو مجھے تو لگتا ہے معصوم پر چڑیلیں عاشق ہوگئی ہیں تبھی ایسی حرکتیں کر رہا ہے‘‘ بوا کہ یو سنجیدہ انداز پر وہاں بیٹھے سب لوگوں کو قہقہ بلند ہوا جبکہ موسی منہ بسور کر رہ گیا
’’توبہ بھئی یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے‘‘ انکی حالت پر ترحم بھری نظر ڈالتے وہ وہاں سے چل دی
’’آجاؤ بھئی سب ناشتہ کرلو‘‘ بوا کی آواز پر وہ سب بھی ڈائنگ کی طرف چلے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *