Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26
سروج کو پوری رات انڈر ابزرویشن رکھا گیا تھا۔۔۔۔ ھدی اسکے پاس روم میں ہی رکی تھی۔۔۔۔ جبکہ ابراہیم کو نرسری میں قابل نرسز کے زیر نگرانی دیا گیا تھا
’’تم یہاں کیا کررہے ہوں؟‘‘ موسی کی طرف قدم بڑھاتے زرار نے پوچھا
’’میں یہاں جس لیے بھی ہوں تم سے مطلب؟‘‘ موسی بھی اسے کے انداز میں بولا
’’مطلب ہے کیونکہ آج سروج جس بھی حالت میں ہے اسکی وجہ تم اور تمہاری وہ دوست ہے‘‘ اشارہ عمارہ کی طرف تھا
’’او پلیز زرار تمہیں ٹینشن کس بات کی ہے۔۔۔۔ سروج کی بیماری کی یا پھر اسکی اس سوکالڈ رشتوں کا گیان بانٹنے والی نند کی‘‘ موسی نے سیدھا وار کیا
’’میں نے تمہیں پہلے بھی وارن کیا تھا اور اب بھی کررہا ہوں میری ھدی سے دور رہنا‘‘ انگلی اٹھائے اسے وارن کیے زرار بولا
’’میری ھدی؟۔۔۔۔ امپریسوو‘‘ اسکی انگلی کو نیچے کیے، موسی داد دینے کے انداز میں بولا
’’ہاں میری ھدی‘‘ زرار اپنی بات کہتے وہاں سے چل دیا
زرار کی بات کا مطلب سمجھتے موسی کی ہونٹوں پر اداس مسکان آگئی
’’وہ تمھاری تب تک ہے جب تک تم اسکے خاندان کی اصلیت سے ناواقف ہوں۔۔۔۔ بٹ آئی سویر زرار جس دن تمھیں اصلیت معلوم ہوئی تم بھی ان سے اتنی ہی نفرت کروں گے۔۔۔۔۔ اس دن تمہیں بھی ھدی سے نفرت ہوجائے گی‘‘موسی خود سے بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دروازہ ناک کرکے وہ اندر آیا
سروج کی حالت اب بہتر تھی مگر وہ غنودگی میں تھی
اسنے ھدی کو دیکھا، جو صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے لیٹی تھی
وہ سونے کی کوشش کررہی تھی یا ڈرامہ زرار سمجھ چکا تھا
کیونکہ اگر یہ کوشش تھی تو وہ دروازہ کھلنے پر آنکھیں ضرور کھولتی مگر اسنے بند رکھی
سروج کی سائڈ ٹیبل پر اسکا موبائل سائلنٹ پر لگا کر وہ روم سے باہر چلا گیا
اب اسکا ارادہ نرسری کا چکر لگانے کا تھا، اسنے نرسری میں جاکر ابراہیم کو دیکھا جو پرسکون سا آنکھیں موندے سویا ہوا تھا
’’گڈ نائٹ لٹل منچیک‘‘ اسکے ماتھے کو چومتے وہ بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسی نے گھر کو راہ لی ۔۔۔ وہ رات دیر تک گاڑی سڑک پر دوڑانے کے بعد اب فجر کے قریب تھکا ہارا گھر لوٹا اور اپنے کمرے میں جاتے بنا چینج کیے سو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا اختتام ہوا اور سویرا چڑھ آیا
آئینے کے آگے بال بنائے اسے ایک نظر اپنی سی۔وی کو دیکھا
ایک لمبی سانس اندر کھینچتے وہ خود کو آنے والے لمحے کے لیے تیار کررہی تھی
’’السلام علیکم آپا‘‘ ناشتے کی ٹیبل پر سب کو سلام کیے وہ اپنی جگہ پر جابیٹھی
ڈائنگ پر اس وقت چار لوگ موجود تھے
زہرا آپا، ہالا،جینا اور وہ
’’وعلیکم السلام ۔۔۔ میرا بچا تیاری کیسی ہے آپ کی؟‘‘ بریڈ اسکی طرف بڑھائے انہوں نے پوچھا
’’تیاری تو اچھی ہے آپا۔۔۔ ہوپ سو کے جاب مل جائے‘‘ بریڈ پر جیم لگاتے اسنے جواب دیا
’’ارے آپی آپ تو اتنی ٹیلنٹڈ ہے۔۔۔ دیکھیے گا یوں جاب ملے گی‘‘ ہالا چٹکی بجاتے بولی
’’اللہ کرے ایسا ہی ہوں‘‘ اسنے دعا کی
’’ایسا ہی ہوگا آپی آپ فکر مت کرے‘‘ جینا نے بھی ہمت باندھی
’’اچھا ہالا آج نبیلہ اور شکیلا بھی آئے گی تو اچھی سی دعوت کا انتظام کروائیے گا‘‘ زھرا آپا نے ہالا کو مخاطب کیا
’’خیریت؟‘‘ نیلم نے سوال کیا
’’ جی بچے خیریت ہی ہے ۔۔۔۔ بلکہ بہت اچھی بات ہے ایک‘‘ وہ مسکرائی
’’کیا؟‘‘ جینا نے بےصبری سے پوچھا
’’آج جینا کے سسرال والے آرہے ہیں۔۔۔۔ رخصتی کی ڈیٹ فائنل کرنے‘‘ زہرا آپا مسکرا کر بولی تو جینا کے حلق میں جوس اٹک گیا
’’کیا سچ میں؟‘‘ نیلم خوشی سے چہکی
’’جی بلکل‘‘
’’او ہو۔۔۔۔ میری پیاری بنو بنے گی دلہنیا‘‘ ہالا نے اسے چھیڑا
’’آپی نا کرے نا‘‘ جینا کہتے ہی وہاں سے بھاگ نکلی
’’اچھا آپا میں چلتی ہوں دیر ہورہی ہے‘‘ انکے ماتھے پر بوسہ دیے وہ وہاں سے نکل گئی
نیلم کو آج جاب انٹرویو پر جانا تھا۔۔۔ زہرا آپا چاہتی تھی کہ وہ فیملی بزنس سنبھالے مگر نیلم ان لوگوں میں سے تھی جو خود کے بل بوتے پر کچھ کردکھانے کا جذبہ رکھتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’پپ۔۔۔پانی۔۔۔پانی‘‘ ھدی کی آنکھ ہلکی بڑبڑاہٹ پر کھلی اور نظر سروج پر گئی جو پانی مانگ رہی تھی
’’بھابھی‘‘ وہ تیزی سے سروج کی طرف بڑھی اور اسے سہارا دیے پانی پلایا
پانی پیتے ہی سروج دوبارہ غنودگی میں چلی گئی
ھدی اسکے پاس بیٹھے غور سے اسے دیکھے گئی، جب اچانک کچھ یاد آنے پر ماتھے پر ہاتھ مارا اورباہر کو بڑھی
باہر نکلی تو حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا۔۔۔۔ زرار سیٹ پر غیرآرام دہ صورت میں ٹیک لگائے سویا ہوا تھا
’’یہ ابھی تک یہی ہے؟‘‘ ھدی نے اچھنبے سے سوچا
’’خیر مجھے کیا؟‘‘ اسکو اگنور کرتے پاس سے گزرتے وہ بڑبڑائی
اسکی کلائی ایک دم زرار کی گرفت میں آگئی
’’کہاں جارہی ہوں؟‘‘ زرار نے سوال کیا
تو اس کا مطلب وہ جاگ رہا تھا
’’آپ سے مطلب‘‘ ایک جھٹکے سے اپنی کلائی آزاد کرواتے اسنے پوچھا
ایک رات میں اتنی ہمت۔۔۔۔۔ زرار مسکراہ دیا۔۔۔۔ مگر ایک ایسی مسکراہٹ جو بعد میں ھدی کو بہت مہنگی پڑنے والی
’’
جتنا سوال کیا ہے اتنا جواب دوں۔۔۔۔ بھولو مت میں کون ہوں‘‘ سرد نگاہوں سے اسے گھورتے وہ بولا
ھدی ڈر چکی تھی ان سرد نگاہوں سے
’’وہ۔۔۔ میں۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔‘‘ ھدی سے کچھ بولا نا گیا
’’وہ میں کیا؟‘‘ اسکے برابر کھڑے ایک ہاتھ سے اسکے چہرے پر جھولتی لٹ کو کان کے پیچھے کیے زرار نے پوچھا
’’وہ میں ابراہیم کو لینے جارہی تھی‘‘ اسکی نظروں سے خائف ہوتے۔۔۔ پلکیں جھکائے وہ بولی
’’تم رکو میں لے آتا ہوں‘‘ زرار نے مسکرا کرجواب دیا
’’نہیں اسکی ضرورت نہیں میں خود چلی جاؤ گی‘‘ اسنے انکار کیا
’’میں جارہا ہوں نا تو انکار کیسا؟‘‘ اسنے مدھم لہجے میں پوچھا
’’میں بھی کہاں نا کہ کوئی ضرورت نہیں تو مطلب کوئی ضرورت نہیں‘‘ ھدی کا لہجہ سخت ہوتا جارہا تھا
’’بےبی مانا میری غلطی ہے، مگر ناراض تو مت ہو۔۔۔۔میں سوری کرتا ہوں‘‘ دونوں کان ہاتھ سے پکڑے وہ اس قدر معصومیت سے بولا کہ ھدی تو اسکی ایکٹنگ پر دنگ رہ گئی
’’آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے کیا بول رہے ہیں آپ؟‘‘ ھدی کو ویسے ہی زرار پر اتنا غصہ تھا مگر اب تو حد ہوگئی تھی
’’اچھا اب بس بھی کروں غصہ تھوک دوں نا جان من۔۔۔۔ مان بھی جاؤ نا میں وعدہ کرتا ہوں آیندہ سے ایسا نہیں کروں گا‘‘ محبت سے اسکے ہاتھ تھامے وہ اتنی محبت سے بولا کہ ان کے آس پاس موجود سب نرسز کو اسکی لڑکی کی قسمت پر رشک آیا
بےبی۔۔۔۔ جان من۔۔۔۔ ھدی تو ان لفظوں پر چکرا کر رہ گئی
’’ہاتھ چھوڑے میرا‘‘ وہدھئمے لہجے میں غرائی
’’کیا کہا تم نے مجھے معاف کیا؟‘‘ زرار خوشی سے چہکا
’’آپ کو ڈاکٹر کی اشد ضرورت ہے‘‘ ھدی نے اسے شرم دلانا چاہی
’’کیا کہا تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہوں؟َ‘‘ زرار اونچی آواز میں بولا
ھدی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ زرار کا قتل کردے۔ مگر وہ بےبس تھی اور اب اسے اپنی بےبسی پر رونا آرہا تھا
اس سے پہلے کے وہ زرار کو کچھ سخت سناتی نظر اسکے سینے پر پڑی۔۔۔۔ اوپری دو بٹن کھلے ہونے کی وجہ سے وہ اسکا جلا سینہ دیکھا چکی تھی
اسے اپنی رات والی حرکت یاد آئی، اور افسوس ہوا۔۔ مگر ساتھ ساتھ ہی زرار کی لاپرواہ طبیعت پر غصہ بھی آیا
’’چلیے‘‘ اسکا ہاتھ تھامے وہ ڈاکٹر کے کیبن کی طرف بڑھی
’’کہاں؟‘‘ زرار نے ان دونوں کے جڑے ہاتھوں کو فوکس میں لیے پوچھا
’’ڈاکٹر کے پاس‘‘
’’کس لیے؟‘‘
’’میرا دماغ خراب ہے اسی لیے‘‘ وہ چڑ کر بولی
’’ھدی ڈارلنگ یہ حقیقت تم پر آج آشکار ہوئی ہے؟‘‘ زرار نے طنزیہ سوال کیا
’’دیکھیے میرے ساتھ فضول میں فری نا ہوں۔۔۔ ڈاکٹر پاس چلیے انہیں اپنا زخم دکھا کر کوئی آئنٹمینٹ لگائے‘‘ اسکے ڈارلنگ کہنے پر وہ پھر سے چڑی
اسکا جاواب سنے بغیر وہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفس میں انٹرویو دینے والوں کی ایک لمبی قطار تھی
وہ بار بار گھڑی کی طرف دیکھ کر اپنی باری آنے کے انتظار میں تھی
’’مس نیلم حسن‘‘ رسیپشنسٹ نے اسکا نام لیا
’’جی؟‘‘ وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی
’’اٹس یور ٹرن ناؤ۔۔۔۔ یو مے گو ناؤ‘‘ اسنے اندر جانے کی اجازت دی گئی
قرآنی آیتوں کا ورد کرتے وہ اندر داخل ہوئی
’’گڈمارننگ سر‘‘
’’گڈ مارننگ‘‘
مگر یہ کیا سامنے بیٹھے شخص کے سر اٹھاتے ہی اسکے منہ کی شکل یوں بن گئی جیسے کسی نے کڑوا بادام کھالیا ہوں
سامنے والی کا بھی یہی حال تھا
کیونکہ باس کی سیٹ پر تمام دنیا کے مرد حضرات کو چھوڑ کر حسیب اعوان صاحب برجمان تھے
’’ٹیک آسیٹ‘‘ اسنے بیٹھنے کا اشارہ کرتے وہ بولا
’’تھیکنس۔۔۔۔ یہ میری سی۔وی‘‘ نیلم نے فائل اسکی طرف بڑھائی
حسیب اسکی سی۔وی کو غور سے دیکھ رہا تھا جب ایک جگہ آکر وہ ٹھٹکا
وہ تھی نیلم کی عمر۔۔۔۔ جوکہ تیس سال تھی
اسنے ایک نظر اسکی عمر پڑھی اور پھر دوسری نظر اسے دیکھا جو اسی کی منتظر تھی
اسے کسی بھی اینگل سے نیلم تیس کی نا لگی وہ تو اسے پچیس کی سمجھتا تھا
’’آپ کی عمر کیا ہے مس نیلم؟‘‘
’’اٹھارا سال‘‘ نیلم نے پرسکون لہجے میں جواب دیا
’’واٹ مگر یہاں تو تیس سال لکھا ہے‘‘ وہ حیران ہوا
’’ہاں تو جب پڑھ لی ہے تو پوچھا کیوں؟ کیا میری بیما پالیسی کروانی ہے؟‘‘ وہ منہ بنائے بولی
حسیب ضبط کرکے رہ گیا
’’خیر میرے خیال سے آپ انٹرویو کے لیے آئی ہے تو وہی لیا جائے‘‘ حسیب نے بات گھمائی
’’میرا یہ خیال بھی آپ سے ملتا جلتا ہی ہے‘‘ نیلم نے اسکی تائید کی
’’ویسے ایک بات تو بتائے آپ کا تو خود کا فیملی بزنس ہے تو کہی اور جاب کیوں؟‘‘
’’سیلف ایکپیرینس‘‘ نیلم نے مختصر جواب دیا
حسیب کے ہونٹ او کی شکل میں آگئے
اور پھر شروع ہوئے حسیب کے لاتعداد سوال اور نیلم کے پوائنٹ ٹو پوائنٹ جواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’نظریں سیدھی۔۔۔‘‘ ڈاکٹر کو دیکھتے زرار بولا
’’ہوں؟‘‘ ڈاکٹر کو سمجھ نا آیا
’’میں نے کہا نظریں سیدھی رکھو میرے زخم پر۔۔۔ کیونکہ میری منگیتر کو دیکھنے سے مجھے نہیں لگتا کہ تم کریم سہی سے لگا پاؤ گے‘‘ زرار کی سخت بات پر ڈاکٹر شرمندہ ہوگیا
ھدی تو اسکو سخت سنانے کے موڈ میں تھی۔۔ اپنے منگیتر کہنے پر۔۔۔ مگر ڈاکٹر کی نظروں سے وہ بھی خائف تھی
وہ ڈاکٹر ینگ ایج کا تھا جو بار بار ھدی کو گھور رہا تھا
کریم لگوانے کے بعد وہ دونوں کمرے سے باہر نکلے ھدی تو پہلے ہی ابراہیم کو نرسری سے لینے جاچکی تھی۔۔۔ اب زرار تھا صرف
’’نظریں سیدھی تو یوں بول رہا تھا جیسے کوئی حور پری ہوں۔۔۔۔ یقین نہیں ہوتا کہ بیڈ پر لیٹی وہ حسینا اور یہ معمولی سی لڑکی دونوں بہنیں ہیں‘‘ ڈاکٹر پیچھے سے بڑبڑایا جو زرار نے باخوبی سنا
مگر اب جو اس ڈاکٹر کے ساتھ ہونے والا تھا اسے وہ انجان تھا
اسکا دماغ بعد میں ٹھکانے لگانے کا ارادہ رکھتے وہ فلحال پارکنگ کی طرف گیا۔۔۔۔۔ اسکا ارادہ ابراہیم کے سامان کے ساتھ ھدی کے لیے بھی ایک سوٹ لانے کا تھا اور وہ خود بھی فریش ہونے کا ارادہ رکھتا تھا.
جاری ہے
