Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18
’’عمارہ بیٹا جاگ رہی ہوں؟‘‘ اسکے کمرے میں داخل ہوتے مسز سلطان نے پوچھا
’’نو ماما ناچ رہی ہوں آئے آپ بھی جوائن کرلے مجھے‘‘ اسکے جواب پر تو مسز سلطان جل بھن کر رہ گئی، مگر خود پر قابو پایا
’’بیٹا ایک بات کرنی ہے تم سے‘‘ اسکے پاس بیڈ پر بیٹھتے وہ بولی
’’جی کہیے‘‘ موبائل استعمال کرتے اسنے گویا اجازت دی
’’بیٹا تم جانتی ہوں اس دن مراد اور اس کے پیرنٹس کیوں آئے تھے؟‘‘
’’ماما مجھے کیسے پتا، بھوکے لوگ آگئے ہوں گے روٹی کھانے‘‘ ایک تو اس لڑکی کے بدتمیزانہ جواب
’’وہ تمہارے لیے مراد کا رشتہ لیکر آئے ہیں اور مجھے اور تمہارے ڈیڈ کو بھی کوئی اعتراز نہیں بس تم سے کنفرم کرنا تھا کہ کب کی ڈیٹ دے انہیں منگنی کی؟‘‘ انکی بات پر تو عمارہ سپرنگ کی طرح اچھلی
’’ایک منٹ ایک منٹ کیا مطلب ہےاس بات کا کیا آپ صرف مجھ سے منگنی کس دن رکھنی ہے یہ پوچھنے آئی ہے۔ اور یہ نہیں کہ میں راضی ہوں یا نہیں؟‘‘ وہ تو کھول کر رہ گئی
’’بیٹا مراد راضی ہے اس رشتے سے‘‘ انہوں نے جواز پیش کیا
’’سو واٹ کیا میں راضی ہوں؟ یا میں نے ہاں کی جو آپ لوگ راضی ہوگئے، میری مرضی میری ہاں کی کوئی ویلیو نہیں‘‘ وہ تو پھٹ پڑی
’’عمارہ مراد ایک اچھا لڑکا ہے‘‘ انہوں نے پھر سے سمجھانے کی ناکام کوشش کی
’’اچھاا!!!!! اگر اتنا ہی اچھا ہے تو خود کرلے نا شادی مجھے کیوں آفر کررہی ہے آپ‘‘ اسکا غصہ کسی صورت کم ہونے کو نا آرہا تھا
’’بس زبان پر لگام دوں عمارہ کیا دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا۔۔۔۔کیا فضولیات بک رہی ہوں‘‘
’’میں؟ میں فضول بول رہی ہوں؟ ہاں سہی کہا میں فضول بک رہی ہوں کیونکہ میں خود بھی فضول ہوں۔۔۔۔اب خوش‘‘
’’عمارہ کیا ہوکیا گیا ہے تمہیں؟‘‘ وہ تو حیران رہ گئی اپنی بیٹی کا یہ رویہ دیکھ کر
’’مجھے کیا ہوا ہے؟ ہاں سہی کہا مجھے کیا ہونا ہے؟ کچھ بھی تو نہیں۔۔۔۔ آپ مجھے بتا ہی دے کہ آپ دونوں کا مسئلہ کیا ہے میرے ساتھ سکون نہیں ملا آپ دونوں کو ایک بار میری زندگی برباد کرکے جو دوبارہ وہی سب کچھ کررہےہیں‘‘ آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر چہرے کو بھگونے لگے
’’او مائی گاڈ عمارہ تم اس سڑک چھاپ کو بھول کیوں نہیں جاتی۔۔۔۔۔۔نکل چکا ہے وہ تمہاری زندگی سے۔۔۔چھوڑ دیا ہے اسنے تمہیں‘‘
’’اسنے مجھے نہیں چھوڑا۔۔۔وہ نہیں نکلا تھا میری زندگی سے آپ لوگوں نے نکالا تھا۔۔۔۔سمجھی آپ۔۔۔میرے ماں باپ ہی میرے دشمن بن گئے تھے۔۔۔۔کیا قصور تھا اسکا؟ کیا قصور تھا اسکا صرف اتنا کہ وہ ہم لوگوں جتنا امیر نہیں تھا، ہمارا سٹیٹس میچ نہیں کرتا تھا‘‘
’’عمارہ ہوش کے ناخن لو کیا بولے جارہی ہوں‘‘
’’سچ۔۔۔۔سچ بول رہی ہوں جو آپ لوگوں سے برداشت نہیں ہورہا۔۔۔۔۔۔ جھوٹے ہیں، فریبی ہے آپ لوگ، اپنی ہی اولاد کی خوشیوں کے قاتل‘‘
’’عمارہ!!!!‘‘ دروازے کے پاس کھڑے سلطان صاحب دھاڑے
’’بس بہت سن لی تمہاری۔۔۔۔۔تم تو تمیز ہی بھول گئی ہوں۔۔۔۔اپنی ماں سے بات کرنے کی تمیز نہیں تمہیں‘‘ جبکہ عمارہ لب بھینچ کر رہ گئی
’’بیگم آپ شمشیر صاحب کو کال کریں اور ہاں بول دے ہمیں یہ رشتہ منظور ہے‘‘ انکا لہجہ چٹانوں جیسا سخت تھا، عمارہ کی تو آنکھیں پھیل گئی
’’آپ۔۔۔آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے‘‘اسکی آواز اونچی ہوگئی
’’آواز نیچی۔۔۔اپنے باپ سے مخاطب ہوں تم بھولو مت۔۔۔اور ہاں ہم اس رشتے کے لیے ہاں کر رہے ہیں‘‘ وہ بارعب لہجے میں بولے
’’میں انکار کردوں گی‘‘ انکے جاتے ہی پیچھے سے وہ چلائی
’’اگر تم نے انکار کیا تو میرا مرا ہوا چہرہ دیکھوگی‘‘ وہ جذبات سے عاری لہجے میں بولے
’’اور اگر آپ نے ہاں کی تو میرا مرا ہوا چہرہ دیکھے گے۔۔۔۔میں خود کو ختم کرلوں گی سنا آپ نے‘‘ اسکی اس بےخوفی پر تووہ دونوں ہی کانپ اٹھے
’’عمارہ!!‘‘ مسز سلطان نے کچھ سوچے سمجھے بنا اس کے چہرے پر تھپڑ دے مارا
عمارہ اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے، بےیقینی سے اپنی ماں کو دیکھنے لگی، اسکی آنکھیں غصے سے بھر گئی اور اسنے تیزی سے خود کو واشروم میں بند کرلیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر میں داخل ہوئی تو ہر طرف خاموشی کا راج تھا، اسنے شکر منایا، مگر فورا ہی لاؤنج کی تمام لائٹس اون ہوگئی، وہ آنکھیں میچ کررہ گئی
’’تو یہ ہے تمہاری تھوڑی دیر؟‘‘ طنز سے ڈوبی آواز پر اسنے مر کر دیکھا تو حسیب کھڑا تھا
’’سوری بھیا تھوڑی دیر ہوگئی‘‘ اسنے اپنی طرف سے جواز پیش کیا، جبکہ حسیب کی نظر اسکے ماتھے پر لگی چوٹ پر گئی
’’یہ کیا ہوا ہے؟‘‘ اسکے پاس آتے چوٹ کا جائزہ لیے اسنے پوچھا
’’وہ کچھ نہیں بس دوبارہ چوٹ لگ گئی‘‘ وہ کھسیانی انداز میں ہنسی
’’مائزکی وجہ سے؟‘‘
’’ارے نہیں نہیں اس نے تو کچھ بھی نہیں کہا، بس بےدھیانی میں چلتے پیر سلپ ہوا اور سڑک پر گرگئی‘‘ اسنے گڑبڑا کر جواز پیش کیا، مبادا حسیب دوبارہ نا مائز کو کچھ کہہ دے، اسکا بھائی ان دونوں کے معاملے میں کتنا ٹچی تھا وہ اچھے سے جانتی تھی، حسیب نے اسکی بات پر یقین تو نہیں کیا مگر کچھ پوچھا بھی نہیں
’’ہمممم۔۔۔تو تم ان لوگوں کے ساتھ گھر واپس آئی ہو؟‘‘ حسیب نے سوال کیا
’’ہاں۔۔۔آپ جانتے ہیں بہت مزہ آیا ان لوگوں کے ساتھ، اسپیشلی نیلم اور ہالا آپی تو بہت اچھی ہے، انہوں نے اتنا روکا مگر۔۔۔۔۔‘‘
’’ہمم نیلم۔۔‘‘ اسنے چونک کر اپنے بھائی کو دیکھا جس کے چہرے پر کوئی اور ہی داستان رقم تھی
’’ویسے بھیا‘‘ اسنے بلایا
’’ہوں؟‘‘
’’نیلم آپی اتنی بری بھی نہیں سوچا جا سکتا ہے؟‘‘ وہ شرارت سے کہتی اپنے کمرے کو دوڑی، جبکہ پیچھے کھڑے حسیب کو جب تک بات کا مطلب سمجھ آیا وہ جاچکی تھی
’’ویل واقعی میں اتنی بری بھی نہیں‘‘ ایک مسکراہٹ اپنے آپ اسکے چہرے پر آگئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کام کب تک ہوگا؟‘‘فون کے دوسری طرف سے آواز سنائی دی
’’بس دو تین دن تک ہوجائے گا، بہت مالدار پارٹی ہے، بس تھوڑا صبر کرنا ہوگا‘‘ اس پار موجود شخص نے جواب دیا
’’ہاں جو بھی کرنا ہے جلدی کروں باس کہتے اب اور انتظار نہیں ہورہا‘‘
’’ہاں ہاں باس سے کہو بس کچھ دن صبر کرلے پھر اپنے عیش ہی عیش ہیں‘‘ کال والا مکروہ ہنسی ہنستے بولا
’’ہمم ٹھیک ہے‘‘ اور کھٹاک سے فون بند ہوگیا
جبکہ اب وہ شخص اپنے اگلے پلان کے بارے میں سوچنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’آپ اسے بتا کیوں نہیں دیتے سلطان؟‘‘ مسز سلطان انکے سامنے بیٹھتے پوچھنے لگی
’’کیا بتاؤں میں اسے؟‘‘ وہ تھکے انداز میں بولے
’’وہی جو سچ ہے۔۔۔۔یہی کہ وہ شخص جس کی خاطر آج وہ اپنے ماں باپ سے اس قدر بدتمیزانہ لہجے میں گفتگو کررہی ہے، وہ انسان بہت پہلے اسکو چھوڑنے کے بدلے آپ سے اچھی خاصی قیمت وصول کرچکا ہے‘‘
’’نہیں بیگم مجھ میں ہمت نہیں ورنہ اسکا دل ٹوٹ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔میری بچی برداشت نہیں کرپائے گی‘‘ انکی آنکھیں نم تھی
’’اور جو بدگمانیاں وہ پال چکی ہے ہمارے بارے میں کیا آپ وہ برداشت کرپائے گے، جی پائے گے، مجھے تو اس انسان سے نفرت محسوس ہورہی ہے، آہ نکلتی ہے میرے دل سے اسکے لیے، ہماری پھول جیسی بچی کا دل روند دیا اسنے،اگر سچ میں محبت کرتا تو لڑتا، مگر نہیں وہ انسان تو بیچ راہ اسے چند روپوں کے لیے چھوڑ گیا، اور اب وہ ہم سے بدگمان ہوچکی ہے، نجانے اب کیا ہوگا؟‘‘
’’سب ٹھیک ہوجائے گا آپ فکر نا کریں‘‘ انہوں نے دلاسہ دیا
’’اور وہ مراد کے گھر؟ کیا کال کردوں رشتے کے لیے ہاں کردوں؟‘‘ انہوں نے پوچھا
’’نہیں آپ ایسا کچھ بھی نہیں کرے گی، میں اپنی اولاد کی نفرت تو برداشت کر سکتا ہوں مگر دوری نہیں، اتنا حوصلہ نہیں ہے مجھ میں‘‘ وہ عمارہ کی دی گئی دھمکی سے حقیقت میں خوفزدہ ہوچکے تھے
’’لائٹ آف کردے مجھے نیند آرہی ہیں‘‘ کہتے ہی انہوں نے اپنی آنکھوں پر بازو رکھ لیا، اور مسز سلطان کو جی بھر کر افسوس ہوا اپنی اولاد کے رویے پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’گڈ مارننگ ڈیڈ، گڈمارننگ مام‘‘ صبح ناشتے کی ٹیبل پر پہنچتےہی وہ بولا
’’گڈمارننگ مائی سن‘‘ مسز علی پیار سے بولی
’’گڈمارننگ بوا‘‘ کچن سے جوس لاتی بوا سے وہ بولا
’’ارے میاں کتنی بار سمجھایا ہے سلام لیتے ہیں، برکت رہتی ہے، مگر نہیں تم لوگوں کو تو یہ موا انگریزوں کے پیچھے لگنے کا بہت شوق ہوتا ہے نا‘‘ بوا ناک منہ چڑھا کر بولی
’’ہائے یہی میرا زرار ہوتا نا تو کتنے پیار اور محبت سے سلام کرتا‘‘ انکی بات پر ایک پل کو ناشتہ کرتے تمام ہاتھ رکے، جبکہ بوا جوس رکھ کر واپس ہولی
موسی نے سب کے چہروں کو دیکھا، جہاں ہرکوئی ایک دوسرے سے اپنا دکھ چھپانے کی ناکام سی کوشش کر رہا تھا
’’موسی آج یونی سے جلدی آجانا تمہیں میرے ساتھ ایک بزنس ڈنر پر جانا ہے‘‘ علی زماد کی بات پر تو اسکا منہ بن گیا
’’نو وے ڈیڈ‘‘ اسنے منہ بسورا
’’میں نے رائے نہیں مانگی ، بتا رہا ہوں، شام سات بجے جانا ہے تو تیار رہنا‘‘ حکم صادر کرتے وہ آفس کے لیے نکل گئے، جبکہ موسی پیچھے برے برے منہ بنانے لگ گیا
’’ہٹلر۔۔۔۔۔۔افف مام کیا لو میرج کرنے کو کوئی اور نہیں ملا تھا آپ کو؟‘‘ موسی کے ڈائریکٹ سوال تو انکا پارہ ہائی ہوگیا، جبکہ ندا کا قہقہ پورے حال مین گونجا
’’جو پاپا کہہ رہے ہیں وہ کروں آخر کو یہ سب تمہارا ہے تمہیں ہی سنبھالنا ہے‘‘
’’اوہوں آپ غلط ہے یہ سب میرا نہیں ہمارا ہیں، میرا اور ازی کا اور بہت جلد وہ بھی میرے ساتھ اسے سنبھالے گا‘‘ وہ پریقین لہجے میں بولتا وہاں سے چل دیا، جس پر مسز علی کا منہ بن گیا، جبکہ ندا کے دل نے چپکے سے آمین کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’بات کرنی ہے تم سے مجھے یونی کے سامنے والے کیفے میں آکر ملو پندرہ منٹ میں‘‘ کلاس سے نکلتے ہی مراد کو عمارہ کا میسج موصول ہوا، جس پر وہ حیران رہ گیا، خیر کچھ سوچتے ہوئے وہ عمارہ سے ملنے چلا گیا
’’تم نے یاد کیا؟‘‘ اسکے سامنے والی کرسی پر بیٹھے اس نے پوچھا
’’ہاں بات کرنی ہے تم سے‘‘ وہ سپاٹ لہجے میں بولی، مراد کو اسکا لہجہ کھٹکا
’’بولو سن رہا ہوں‘‘
’’مجھے تم سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا تو میری طرف سے انکار ہے، مگر میں چاہتی ہوں کہ تم بھی انکار کردوں‘‘ اسنے بغیر کوئی لگی لپٹی رکھے بات کی
مراد تو سکتے میں آگیا
’’اگر تم انکار کرچکی ہوں تو میرے انکار کرنے کا کیا فائدہ؟‘‘ خود کو نارمل کرتے اسنے پوچھا
’’کیونکہ میرے ماں باپ مجھے زبردستی تمہارے پلے باندھ رہے ہیں‘‘ وہ غصے سے دھیمی آواز میں غرائی
’’کیا میں انکار کی وجہ جان سکتا ہوں؟‘‘
’’ہاں۔۔۔۔ تو سنوں مراد شمشیر میں کسی اور سے محبت کرتی ہوں، مگر میرے ماں باپ نے صرف سٹیٹس دفرینس کی وجہ سے ہمیں جدا کردیا،اور اسے دھمکی بھی دی کہ اگر اسنے مجھے نا چھوڑا تو ڈیڈ اسکی فیملی کو ختم کردے گے‘‘ عمارہ کی آنکھیں نم جبکہ لہجہ مضبوط تھا
’’کیا؟ کیا نام ہے اسکا؟‘‘ مراد پر تو حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے
’’جلال صدیق!!‘‘یہ کہتے ہی وہ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی اور باہر چلی گئی
مراد کے تو کان سایئں سایئں ہونے لگے اسے ابھی تک یقین نا آیا
عمارہ اور کسی سے محبت یہ کیسے ہوسکتا تھا، وہ جھلی سی لڑکی تو اسکی تھی، جس سے اسے کب محبت ہوئی مراد کو کچھ پتا نا چل سکا
وہ کئی منٹ اسی جگہ بیٹھا، بےزبان اپنی محبت کا ماتم مناتا رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج سروج کو کسی بزنس ڈنر پر جانا تھا اسی لیے وہ یونی نہیں آئی، موسی جو آج اپنا پلان شروع کرنے کا سوچ رہا تھا سروج کو ناپاکر ہاتھ مسل کر رہ گیا، زرار سے وہ پوچھ نہیں سکتا تھا اور کسی سے پوچھنے کا فائدہ نہیں تھا، کیونکہ سروج اگر کسی سے کبھی کبھار بات کر بھی لیا کرتی تھی تو وہ صرف زرار تھا۔
’’کوئی بات نہیں مس سروج حیدر آخر کب تک مجھ سے بچوں گی، کبھی نا کبھی تو میرے شکنجے میں آؤ گی نا‘‘ وہ خود سے بڑبڑایا اور پھر زرار کو دیکھا جو ایک بار پھر کسی کتاب کے مطالعے میں مصروف تھا
’’کاش ایک بار۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک بار تو مجھےگلے لگالے میرے یار‘‘ وہ اسے دیکھتا بےبسی سے سوچنے لگا
زرار خود پر موسی کی نظریں محسوس کرسکتا تھا مگر اب اسکا کوئی فائدہ نہیں، اب اسکا کسی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’بھاؤؤؤؤؤ!!!‘‘ پانی پیتے کوئی اسکے پیچھے سے کان میں اتنی زور سے چلایا کہ ھدی کو اچھو لگ گیا، اور وہ کھانسنے لگ گئی
’’اور تیری۔ سوری یار مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم اتنی ڈرپوک ہوں‘‘ یہ کہتے ہی فریحہ ہنسنے لگی جبکہ ھدی گھور کر رہ گئی
’’یہ کونسا طریقہ ہے کسی کو بلانے کا‘‘ وہ گھورتے بولی
’’آں میرا بےبی ناراض ہوگیا‘‘ اسکے گال کھینچتے فریحہ بولی
’’اففف مت کرے نا‘‘ اسنے فریحہ کے ہاتھ ہٹائے
’’یہ؟یہ آپ کے سر پر کیا ہوا ہے؟۔۔کہی اس بیسٹ نے تو کچھ۔۔۔‘‘ وہ تو ڈر گئی
’’او یہ۔۔۔ یہ توچوٹ لگی ہے۔۔۔ اور وہ بیسٹ میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتا‘‘ اسکو ڈرتے دیکھ کرفریحہ نارمل انداز میں بولی، حالانکہ ھدی کے اتنے پکے تکے پر وہ حیران ضرور ہوئی تھی۔
’’اچھا چلو اب کلاس کا وقت ہوگیا ہے جاؤ جلدی شاباش‘‘ وہ اسے منظر سے غائب کرتی بولی
آج فریحہ کے کچھ خاص لیکچر نہیں تھے، اسی لیے وہ یونی کا راؤنڈ لینے لگ گئی، جب اسے زرار کلاس سے نکلتا نظر آیا
’’کیسے ہوں مسٹر زرار اور میں کہوں ھدھد کے بیسٹ‘‘ فریحہ کی طنزیہ آواز کانوں سے ٹکڑائی تو زرار کے چہرے پر بھی پراسرار مسکان آگئی
’’ماننا پڑے گا تمہیں رسی جل گئی مگر بل نا گیا، آج تک کسی کی اتنی جرات نہیں ہوئی کہ بیسٹ اسے وارن کرے اسکے باوجود بھی وہ اسکے سامنے دھڑلےسے کھڑا ہوں‘‘ زرار داد دینے والے لہجے میں بولا
’’اور کسی میں اتنی ہمت بھی نا ہوگی کہ زرار دا بیسٹ کو چوٹ پہنچائے‘‘ اشارہ زرار کے ہاتھوں پر موجود فریحہ کے ناخنوں کے نشان تھے، جو کل اپنے بچاؤ کے لیے فریحہ نے استعمال کیے تھے
’’زرار کو یہ معمولی چوٹیں کچھ نہیں کہتی‘‘
’’فریحہ کو بھی یہ معمولی چوٹیں کچھ نہیں کہتی اسی لیے تو تمہارے سامنے ہوں‘‘ اپنے سر کی چوٹ کی طرف اشارہ کرتے اسنے بات مکمل کی
’’تم کیا ہوں کیا نہیں مجھے یہ جاننے کا شوق نہیں، بس اتنا جان لو کہ میری ھدی سے دور رہوں اچھا ہوگا تمہارے لیے‘‘ اسے وارننگ دیتے وہ وہاں سے چل دیا، جبکہ فریحہ پیچھے دانت پیس کر رہ گئی
’’تم سے مقابلہ کرنے میں مزہ آئے گا، مسڑ زرار‘‘ وہ زرار کے پیچھے سے خود سے بولی۔
جاری ہے
