Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25

’’ڈاکٹر۔۔۔ ڈاکٹر۔۔۔۔۔ نرس۔۔۔۔ بلڈی ہیل کوئی ہے یہاں؟‘‘ ہسپتال میں داخل ہوتے وہ چلایا، اسکی حالت غیر ہوچکی تھی
اسکے چلانے پر ڈاکٹرز اور نرس کی ایک ٹیم دوڑتے اسکے پاس آئی اور اسکی گاڑی سے سروج کو سٹریچر پر ڈالے وہ لوگ آئی۔سی۔یو کی طرف لے گئے
سروج کی سانسیں مدھم ہوچکی تھی۔۔۔۔۔ زرار شدید خوف میں مبتلا تھا
ویٹنگ میں بینچ پر بیٹھے، سر ہاتھوں میں گرائے وہ سخت مضطرب تھا، اتنے میں اسکی پاکٹ میں موجود سروج کا موبائل بجنے لگا
نمبر دیکھا تو ھدی کا تھا، پہلے تو کاٹنے کا سوچا مگر پھر اٹھا لیا
’’السلام علیکم!!! بھابھی کہاں ہے آپ؟ کب آئے گی؟ اور میں نے ٹی۔وی پر نیوز دیکھی یہ۔۔۔یہ لوگ کیا دکھا رہے ہیں بھابھی۔۔۔۔۔۔ جلال بھائی نے کیا کیا ہے؟ اور آپ آپ تو ٹھیک ہے ناْ۔۔۔۔۔ بھابھی جواب دے نا کہاں ہے آپ؟‘‘ ھدی بنا روکے بولی جارہی تھی
زرار تو ٹی۔وی اور جلال پر اٹک گیا تھا، بنا کچھ سوچے سمجھے اسنے کال کاٹ دی اور ویٹنگ میں موجود ایل۔ای۔ڈی کو اون کروا کر نیوز چینل چلوایا
اسنے آج پیکنگ میں مصروف ٹی۔وی نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔ ٹی۔وی پر دکھائے جانے والی ہیڈ لائنز سے اسکی دماغ کی شریانیں پھٹنے کے قریب تھی
میڈیا اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لیے۔۔۔۔۔ نیوز کو مزید چٹ پٹا بنا رہا تھا، سروج کا موبائل بج بج کر بند ہوچکا تھا
زرار تو حیرت سے اپنی میڈیا کی چالبازیاں دیکھ رہا تھا
صرف ریٹنگ کے چکر میں میڈیا نے اس بات کا شوشہ چھوڑ دیا تھا کہ سروج بھی جلال کے ساتھ اس سب میں ہے اور یہ لوگ معصوم لڑکیوں کو پھنسا کر پیسے ہتیانے کے لیے ان کے ساتھ یہ سب کرتے ایک، ایک طریقے سے سروج پر الزام عائد ہوا تھا کہ یہ انکا سائڈ بزنس ہے
زرار کا دل چاہا کے اس سارے فساد کی جڑ ختم کردے
اسنے ایک بار پھر اپنے ہاتھ میں موجود سروج کے موبائل پر آتی کال کو دیکھا ااور کچھ سوچتے ہوئے ھدی کے نمبر پر ہسپتال کا ایڈریس سینڈ کردیا
دوسری طرف ہسپتال کا ایڈریس دیکھ کر ھدی کے پیروں سے تو زمین کھسک گئی
وہ وہی لاؤنج میں صوفہ کے پاس بیٹھے منہ پر ہاتھ رکھے رونے لگی
’’بھابھی!!!‘‘ وہ کانپتی آواز میں بولی
آنکھوں کے سامنے وہ منظر آگیا جب اسکا بھائی آئی۔سی۔یو میں اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا
اور جب اسکے ماں باپ کو ہسپتال میں لے جایا جارہا تھا
تو کیا سروج بھی اسے چھوڑ کر چلی جائے گی؟
یہ سوچ ہی جان لیوا تھی اسکے لیے
’’نن۔۔۔نہیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔ بھابھی۔۔۔۔ پپ۔۔۔پلیز ۔۔۔۔۔۔۔ آپ نہیں۔۔۔۔۔۔۔اللہ۔۔۔۔ پلیز نہیں‘‘ بالوں کو مٹھیوں میں جکڑے وہ چیخنے لگی، اسکی حالت غیر ہورہی تھی
ھدی نے خود کو کیسے سنبھالا یہ وہی جانتی تھی، خود پر قابو پائے وہ روم میں آئی۔۔۔۔۔ ابراہیم کو اچھے سے کوور کیے۔۔۔۔ اور خود کو سنبھالے وہ بےجان وجود کی طرح ہسپتال کی طرف نکلی
پورے راستے صرف ایک بات تھی اسکے دماغ میں گردش کر رہی تھی
’’بھابھی کو کچھ نا ہو۔۔ یا اللہ کچھ نا ہوں انہیں۔۔۔۔۔۔۔ انہیں کچھ نا ہوں‘‘ وہ یہی بڑبڑا رہی تھی
اسکی آنکھوں سے آنسو قطرہ قطرہ بہہ کر ابراہیم کے چہرے پر گر رہے تھے، جو اسکی نیند کو خراب کر رہے تھے
ابراہیم کو آوازیں نکالتے دیکھ کر اسنے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے اور ابراہیم کو سینے میں بھینچ لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونی سے آتے ہی وہ سوگیا تھا اور اب ڈنر کے ٹائم شاور لیے وہ نیچے آیا
آج گھر کا ماحول خاصا سنجیدہ تھا
اسے عجیب سی وحشت ہونے لگی اس خاموشی سے
مام، ڈیڈ اور ندا سب لوگ بہت سنجیدہ نظر آرہے تھے
’’کیا ہوگیا بھئی کون مرگیا ہے؟ اتنا سوگوار ماحول‘‘ موسی کا مزاق علی زماد کو اس وقت سضت برا لگا
’’بھائی‘‘ ٹیبل کے نیچے سے ندا نے پیر مار کر اسے آنکھ کے اشارے سے چپ رہنے کا کہا
’’کیا ہوگیا بھئی۔۔۔۔ آپ سب لوگ اتنے سیریس کیوں ہیں؟‘‘ موسی نے پھر مزاحیہ انداز اپنانے کی کوشش کی مگر سب کی صورتیں دیکھ کر اسے واقعی معاملہ سنجیدہ لگا
’’مام ڈیڈ کیا ہوا ہے؟ آپ سب لوگوں کے چہرے اتنے سیریس کیوں ہیں؟‘‘ اب کی بار موسی نے بھی سنجیدگی سے پوچھا
’’موسی وہ۔۔۔۔‘‘
’’کچھ نہیں تم ڈنر کروں‘‘ اس سے پہلے کے مسز علی کچھ بولتی، اسکے ڈیڈ بات کاٹ کر بولے
’’مام ڈیڈ میں واقع میں سیریس ہوں۔۔۔ بتائے مجھے کیا ہوا ہے؟‘‘ وہ ایک دم سیریس ہوچکا تھا
’’تم نے آج نیوز دیکھی تھی؟‘‘ انہوں نے سوال کیا
’’کونسی؟ او وہ جلال والی۔۔۔ ڈیڈ میں نے صبح آپ کے ساتھ ہی تو دیکھی تھی۔۔۔۔۔ کم آن اس میں اتنا پریشان ہونے والی کونسی بات ہے‘‘ وہ پرسکون ہوا
’’اوہ۔۔۔۔ یعنی کے تم نہیں جانتے‘‘ انہوں نے جیسے سمجھتے ہوئے سر ہلایا
’’کیا نہیں جانتا ڈیڈ بتائے مجھے کیا ہوا ہے؟‘‘
’’سروج۔۔۔ موسی‘‘
’’سروج؟ کیا ہوا ہے سروج کو؟‘‘ اسنے ایک دم اپنی جگہ سے اٹھتے پوچھا
’’کچھ نہیں ہوا اسے تم بیٹھو بتاتے ہیں ہم لوگ‘‘ مسٹر علی زماد نے جواب دیا
’’ کل رات کی پارٹی کی وڈیو لیک ہونے کی صورت میں بہت سی لڑکیوں نے جلال پر انہیں ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے۔۔۔۔ میڈیا نے اس بات کو یاسن انڈسٹریز سے جوڑ دیا ہے اور اب جیسا کہ سروج اسکی اونر ہے تو اس پر الزام لگا دیا گیا ہے کہ وہ جلال کے ساتھ مل کر پیسوں کے لیے ایسا گھناؤنا کام کرتی تھی‘‘ علی زماد کی بات پر تو موسی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی اور اسے ان میڈیا کے لوگوں پر غصہ آنے لگ گیا
’’انبلیوایبل۔۔۔۔۔ ہاؤ کین دے ڈو دس‘‘ موسی نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لی
’’مے بی وہ سچ کہہ رہے ہوں۔۔۔۔۔‘‘ ندا نے اضافہ کیا
’’تم کیا پاگل ہو ندا سروج ایسی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ حالانکہ مجھے اس لڑکی سے ملے زیادہ عرصہ نہیں ہوا مگر وہ ایک بااصول لڑکی ہے یہ میں آنکھ بند کرکے کہہ سکتا ہوں‘‘ وہ ندا کی طرف دیکھتے بولا
’’ہاں بیٹا میں سروج کو بہت عرصے سے جانتا ہوں وہ بچی ایسی نہیں ہے۔۔۔ اور ویسے بھی اس بچی کو بزنس سنبھالے صرف چار ماہ ہوئے ہیں وہ ایسی نہیں ہے‘‘ علی زماد نے بھی موسی کی ہاں میں ہاں ملائی
اتنے میں انکا موبائل بجا
’’واٹ کیا کہہ رہے ہوں تم؟ ہوش میں تو ہو؟ آر یو شیور اوہ مائی گاڈ‘‘ علی زماد کی بات پر ان تینوں نے انہیں دیکھا
’’کیا ہوا ڈیڈ؟‘‘ موسی نے سوال کیا
’’سروج۔۔۔۔۔ سروج ہسپتال میں ہے وہ۔۔۔۔‘‘
’’کیا؟ کیا ہوا ہے اسے؟‘‘ موسی کے لہجے میں کچھھ ایسا تھا کہ ندا نے چونک کر اپنے بھائی کو دیکھا
’’بہت۔ بہت برا ہوا ہے اس بچی کے ساتھ‘‘علی زماد تھکے ہارے بولے
’’ہوا کیا ہے علی بتائے تو سہی؟‘‘ اس بار مسز علی نے پوچھا
’’مجھے ابھی خبر ملی ہے کہ جلال کے کیس کی وجہ سے یاسین انڈسٹریز کے ساتھ کی گئی سب ڈیلز کینسل ہوگئی ہے اور مارکیٹ میں انکے شئیرز بھی بری طرح گر گئے ہیں‘‘ علی زماد کی بات پر موسی نے ایک ہنکارہ بھرا
’’ڈیڈ سروج کا بتائے مجھے کیا ہوا ہے اسے، ہمارا اس بزنس سے کیا لینا دینا؟‘‘ موسی چبھتے لہجے میں بولا
’’ہاں علی سروج کیسی ہے؟‘‘
’’وہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔ ہسپتال میں ہے وہ۔۔۔۔۔ آئی۔سی۔یو میں ہے وہ۔۔۔۔۔ کنڈیشن کریٹیکل ہے اسکی بہت‘‘
انکی بات سنتے موسی تیزی سے مڑا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے کی طرف چل دیا
تھوڑی دیر میں وہ کار کی چابیاں لیے اجلت میں نیچے اترا
’’تم کہاں جارہے ہوں موسی؟‘‘ مسز علی نے سوال کیا
’’ہوسپٹل‘‘ ایک لفظی جواب دیتا وہ یہ جا وہ جا
ندا تو حیرت سے اپنے بھائی کو دیکھتی رہی
یہ وہی بھائی تھا نا جو عمیر سے بدلا لینا چاہتا تھا اور اب وہی بھائی اسکی بیوی کے لیے اتنا فکرمند
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’بھابھی۔۔۔۔۔ بھابھی کہاں ہے وہ بتائے مجھے؟‘‘ ابراہیم کو اپنے سینے سے لگائے وہ دوڑتی زرار کے پاس آئی اور اسکا بازو جھنجھوڑے پوچھنے لگی
اس وقت زرار کو ہمت کرکے ھدی کو سنبھالنا تھا
’’آرام سے ھدی ادھر بیٹھو‘‘ وہ اسے بیٹھاتے بولا
’’نہیں بیٹھنا نہیں ہے مجھے۔ْ۔۔۔۔۔ بتاؤ بھابھی کہاں ہے مجھے انکے پاس جانا ہے۔۔۔۔ پلیز لے چلو‘‘ ایک ہاتھ سے ابراہیم کو سنبھالے دوسرے ہاتھ سے زرار کا ہاتھ تھامے وہ اسکی منتیں کرنی لگی
اگر کوئی اور وقت ہوتا تو زرار کے لیے ھدی کا یوں اسکا ہاتھ پکڑنا بہت خوبصورت منظر ہوتا ، مگر اس وقت حالات کچھ اور تھے
’’دیکھو ھدی میری بات سنو وہ انڈر اوبزرویشن ہے بس کچھ دیر اور۔۔۔۔۔ دیکھو ڈاکٹر اندر اسے ٹریٹ کررہے ہیں نا؟‘‘ وہ اسے سمجھاتے بولا
مگر ھدی تو شاید کچھ سمجھنے کے موڈ میں نہیں تھی
’’مم۔۔۔مجھے۔۔۔بب۔۔۔۔بھابھی پاس لے چلو۔۔۔۔دد۔۔۔دیکھو میں ہاتھ۔۔جج۔۔۔جوڑتی ہوں۔۔۔۔پپ۔۔۔پلیز لے چلو‘‘ اسکے سامنے ہاتھ جوڑتے وہ بولی، زرار کا دل کٹ کر رہ گیا
’’ھدی بس تھوڑی دیر اور پھر پکا لیکر چلو گا‘‘ وہ سمجھاتے بولا
’’پپ۔۔پلز ۔۔۔لل۔لے چلوو۔۔۔۔نن۔۔۔نہیں تو میں۔۔۔مم۔۔۔مر جاؤ گی‘‘
’’ھدی!!!!‘‘ زرار دھاڑا
اور ساتھ ہی روتی ھدی کو اپنے سینے سے لگالیا جو سہارا ملتے ہی کرچی کرچی ٹوٹ گئی
’’وہ۔۔۔وہ لوگ بھی یونہی چلے گئے تھے۔۔۔۔بب۔۔بھائی۔۔۔۔۔ماما، پاپا۔۔۔ سب چلے گئے تھے۔۔۔۔بب۔۔۔۔بھابھی نہیں۔۔۔۔پلیز وہ نہیں‘‘ ہچکیوں میں روتی وہ بولی
’’آئی پرامس کچھ نہیں ہوگا اسے۔۔۔ آئی پرامس ھدی‘‘ ضبط سے اسکی آنکھیں سرخ ہوگئی تھے
رو تو وہ بھی رہا تھا۔۔ ہاں بس اسکے آنسو کسی کو نظر نا آئے تھے
’’ایکسکیوز می؟ پیشنٹ کے ساتھ آپ لوگ ہیں؟‘‘ اتنے میں ایک ڈاکٹر نے انہیں مخاطب کیا
’’جی۔۔۔ ڈاکٹر کیا ہوا ہے اسے ‘‘ ھدی اور ابراہیم کو ساتھ لگائے اسنے جواب دیا
’’ہارٹ اٹیک‘‘ ڈاکٹر نے جتنے آرام سے جواب دیا اتنی ہی زوروں سے ان دونوں کو لگی تھی
حتی کے انکے پاس آتے موسی کے پاؤں بھی وہی جم گئے
’’ہا۔۔ہارٹ۔۔۔ اٹیک‘‘ ھدی سے تو بولا ہی نا گیا
’’یہ۔۔یہ کیا کہہ رہے آپ۔۔۔۔ زرار دیکھے نا یہ کیا کہہ رہے ہے؟‘‘ ڈاکٹر کی بات سنتے ہی ھدی زرار سے بولی
’’ڈاکٹر پیشنٹ کی کنڈیشن کیسی ہے؟‘‘ زرار نے ڈاکٹر سے پوچھا
’’شی از ویل ناؤ‘‘
’’شکر اللہ کا‘‘ یہ بولنے والا موسی تھا، جو آنکھیں بند کیے خدا کا شکرگزار تھا
’’اے اللہ تیرا شکر‘‘ زرار نے شکر ادا کیا
ھدی کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ نکلے
’’مم۔۔میں ان سے مل لو؟‘‘ ھدی نے سوال کیا
’’ابھی نہیں کچھ دیر تک۔۔۔ وہ ابھی بھی انڈر ابزرویشن ہے‘‘ ڈاکٹر نے جواب دیا
موسی تو سن کر الٹےپاؤں باہر نکل گیا
’’اب کیوں رو رہی ہوں تم؟‘‘ زرار نے اچھنبے سے اسے دیکھا
’’خوشی کے آنسو ہے‘‘ ھدی نے جواب دیا
’’سیریسلی‘‘ زرار نفی میں سر ہلانے لگا اور پھر ہاتھ بڑھا کر اسکے آنسو صاف کیے
’’دیکھو کتنا کیوٹ کپل ہے نا؟‘‘ انسے تھوڑی دور دو نرسز آپس میں ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے بولی
’’ہاں مجھے تو لو میرج لگتی ہے دیکھو تو زرا۔۔۔۔ بیٹا بھی ہے انکا‘‘ وہ جو بھی تھی انکے تبصرے کا نشانہ زرار اور ھدی تھے وہ دونوں جان بھی چکے تھے
’’مجھے تو بہت محبت لگتی ہے دونوں میں دیکھو کیسے چپکے بیٹھے ہیں‘‘ انکی بات سن کر جہاں زرار کے لبوں پر مسکان مچلی وہی ھدی اپنی موجودہ حالت کے زیر اثر شرمندہ سی زرار سے دور ہوکر بیٹھی
’’نرس‘ اپنی مسکان پر قابو پائے اسنے نرس کو آواز دی
’’جی؟‘‘ نرس نے سوال کیا
’’ایکچولی۔۔۔ ہمیں شائد یہاں رات گزارنی پڑے تو کیا آپ ہمارے بیٹے کو آج نرسری میں رکھ سکتی ہے؟‘‘ ہمارے بیٹے پر زور دیتے وہ بولا
’’شیور سر‘‘ ابراہیم کو ھدی کی گود سے لیے وہ نرسری کی طرف بڑھ گئی
’’ابراہیم‘‘ ھدی نے اسے لینا چاہا تو زرار نے روک دیا
’’زرار وہ۔۔۔۔۔‘‘
’’ڈونٹ وری وہ ٹھیک رہے گا۔۔۔۔ ہمیں یہاں رات رکنا پڑے گی۔۔۔۔ ایسے میں وہ بیمار پڑ سکتا ہے‘‘ زرار کی بات سمجھ میں آتے ہی اسنے سر ہاں میں ہلایا
ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے چھڑواتی وہ ذرا سائڈ پر ہوکر بیٹھ گئی
زرار نے بہت مشکل سے اپنی مسکان روکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی سے ٹیک لگائے وہ نجانے کتنی سیگرٹیں پھونک چکا تھا
اسے سمجھ نہیں آئی تھی کہ وہ کیوں اس کے لیے اتنا پریشان تھا
اسے دیر ہی کتنی ہوئی تھی اس سے ملے اور اب وہ اسکے لیے اتنا فکرمند کیوں تھا؟
دماغ پھٹنے کو تھا اسکا
اسے تکلیف ہوئی تھی وہ مانتا تھا، مگر کیوں؟ یہ وجہ اسکی سمجھ سے باہر تھی
’’گاڈ ڈیم اٹ‘‘ غصے سے گاڑی کی بونٹ پر ہاتھ مارتے وہ بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمارہ آج خود کو بہت پرسکون محسوس کررہی تھی
آج پورا دن اسکا سامنا مراد سے نا ہوا تھا جس پر وہ شکر گزار تھی
مگر اسے حیرت ہوئی تھی ، جب اسے پتا چلا کہ جلال سروج کا رشتہ دار ہے
مگر جب اسے رشتے کی نوعیت کا پتا چلا تھا تو اسے افسوس ہوا سروج کے نصیب پر
مائز نے اسے ماہم کے بارے میں بتایا تھا، اور اب یہ حقیقت کے سروج کا شوہر ہی ماہم کا گنہگار ہے۔۔۔۔ اسے سروج سے ہمدردی ہوئی
مگر اصل جھٹکا تو تب لگا جب اسے پتا چلا کہ جلال ھدی کا کزن بردر ہے
تب عمارہ کو احساس ہوا کہ اس خاندان کے لڑکوں اور لڑکیوں میں کتنا فرق تھا
ھدی جیسی معصوم لڑکی کا تعلق ایسے خاندان سے ہونا بےشک اسکے دھچکا تھا
مگر خیر وہ تو پرسکون ہوتی نیند کی آغوش میں چلی گئی۔۔۔۔ مگر جو بےسکونی دوسروں کی زندگی میں گھل چکی تھی اس سے وہ بلکل انجان تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج شاید قدرت انکے صبر کا امتحان لینا چاہتی تھی
ابزرویشن کے دوران ہی سروج کی طبیعت پھر سے خراب ہوگئی تھی
وہ بےہوشی میں باربار عمیر کو بلا رہی تھی
ھدی کو پتا چلا تو اسکے آنسو پھر سے بہنا شروع ہوگئے
اسے ایسی حالت میں دیکھتے زرار کو افسوس ہوا
وہ کینٹین سے کافی لینے چلا گیا
’’فکر مت کروں زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ہے وہ ٹھیک ہوجائے گی‘‘ کافی کے دو کپ پاتھوں میں پکڑے وہ اسکے سامنے کھڑا اس سے مخاطب ہوا۔
اسکی بات پر بینچ پر بیٹھی ھدی نے اپنا سر اٹھایا، آنکھیں رونے کی وجہ سے لال ہوچکی تھی، زرار کی بات پر تو اسکی آنکھوں میں حیرت در آئی تھی سروج کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں، کیا یہ شخص اتنا ہی سنگدل تھا یا صرف ھدی کو تکلیف دینے میں اسے مزہ آتا تھا۔
اسکی بات پر وہ تو بس بنا پلکیں جھپکائے اسکو دیکھتی رہی۔
’’کیا ایسے کیا دیکھ رہی ہوں؟ سچ کہہ رہا ہوں میں وہ بلکل ٹھیک ہوجائے گی،لو کافی پیو ورنہ ٹھنڈی ہوجائے گی اور پینے کا مزہ نہیں آئے گا‘‘ دوستانہ لہجے میں بات کرتے چہرے پر مسکان سجائے اسنے کافی والا ایک کپ اسکی طرف بڑھایا جبکہ زرار کی یہی مسکراہٹ ھدی کے غصے کو بڑھانے کا سبب بن گئی، اس کے ہاتھ سے کافی لیےوہ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی اور اتنی ہی تیزی سے وہ کافی زرار کے کپڑوں پر پھینک دی۔
’’تم ایک بےحس انسان ہوں زرار احمد اور ھدی یاسین کو تم سےبےانتہا نفرت ہے‘‘ اپنی زبان سے ذہر اگلتے وہ وہاں سے چل دی، آنکھوں سے آنسوؤں کا سلسہ رکھے،جبکہ زرار اپنی جگہ جما رہا۔ کافی اسکی سفید شرٹ کو داغدار کرگئی تھی مگر اسے ہوش ہی کہاں تھی
اسے تکلیف ہوئی تھی، جلن کا احساس بھی ہوا تھا مگر تکلیف یا جلن کی وجہ کافی نہیں بلکہ ھدی کے وہ زہرخندہ الفاظ تھے۔ اسکی آنکھیں بھیگ گئی تھی مگر اسنے نہایت مہارت سے ان آنسوؤں کو اپنے اندر اتارا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہوسپٹل سے باہر نکل کر باہر لگے بینچ پر آبیٹھی
اسے نفرت ہورہی تھی، وہ شخص کیا اس میں احساس۔۔ جذبات۔۔۔۔ کچھ نہیں تھا
اتنا بےحس انسان اسنے اپنی زندگی میں کہی نہیں دیکھا تھا
’’وہ ٹھیک ہوجائے گی‘‘ اسے اچانک اپنے پاس سے آواز آئی
گردن گھما کر دیکھا تو موسی کو ساتھ بیٹھے پایا
’’سچ میں؟‘‘ ھدی نے جیسے وعدہ چاہا
’’سچ میں‘‘ ہلکی سے مسکان سے اسنے یقین دلوایا
’’اگر وہ ٹھیک نا ہوئی تو۔۔۔‘‘ ھدی نے بات ادھوری چھوڑی
’’تو؟‘‘ موسی نے بات پوری جاننا چاہی
’’تو میرا دل بند ہوجائے گا‘‘ ھدی نے کھوئے کھوئے لہجے میں جواب دیا
’’ہاہاہا‘‘ موسی ہنسا
ھدے نے اچھنبے سے دیکھا جیسے پوچھنا چاہتی ہو ہنسنے والی کیا بات
’’کوئی کسی کے لیے نہیں مرتا ھدی‘‘ موسی نے اسے حقیقت بتائی
’’غلط مرتے ہیں۔۔۔ میں نے دیکھا ہے‘‘ وہ سنجیدہ لہجے میں بولی
’’اچھا کسے مرتے دیکھا ہے؟‘‘ موسی نے سوال کیا
’’بھابھی کو‘‘ ھدی سے اسے ایسے جواب کی امید نا تھی
موسی تو اسے دیکھ کر رہ گیا
’’سچ بول رہی ہوں۔۔۔ وہ تو اسی دن مرگئی تھی، جب بھائی ہمیں چھوڑ کرچلے گئے تھے۔۔۔ اب تو بس ایک انسانی لاش ہے وہ۔۔۔۔ جو اپنے لیے نہیں بلکہ اوروں کے لیے جیتی ہے‘‘
’’اگر انہیں کچھ ہوگیا نا تو میں اور ابراہیم بھی ختم ہوجائے گے۔۔۔ وہ ہے تو ہم ہیں‘‘
موسی تو حیران رہ گیا تھا۔۔۔۔ وہ اسکی سگی بہن نا تھی۔۔۔ وہ تو اسکے بھائی کی بیوہ تھی وہ بھی بہت کم عرصہ کےلیے۔۔۔ ایسے رشتے اسنے دیکھے ہی کہا تھے
اسے واقعی سروج کی قسمت پر رشک آتا تھا
زرار جیسا دوست
ھدی جیسی نند
’’تم تو ایسے کہہ رہی ہوں جیسے وہ تمہاری سگی بہن ہوں۔۔۔۔ رشتہ وہی جو خون کا ہوں‘‘ موسی نے اسکی بات کا اثر زائل کرنے کو کہا
’’غلط رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ جہاں احساس نہیں وہاں کوئی رشتہ نہیں۔۔۔ اور جہاں احساس ہوں بس وہی تمہارا رشتہ‘‘ سنجیدگی سے اسکی بات کا جواب دیتی وہ اسے لاجواب کیے دوبارہ اندر چل دی
بینچ پر بیٹھے موسی اور اسکے پیچھے کھڑے زرار۔۔۔ دونوں نے حیرت سے اس لڑکی کو دیکھا تھا
اسکی باتیں ان دونوں کو باور کرواگئی تھی کہ وہ کم عمری میں ہی بہت کچھ جھیل چکی تھی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *