Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24

موسی اسے گھر چھوڑ کر جا چکا تھا، وہ تھکی ہاری گھر میں داخل ہوئی ۔۔۔۔۔۔ اور سیدھ میں کمرے کی طرف بڑھی جب اسے سٹڈی کی لائٹس جلتی نظر آئی
’’اس وقت کون ہوگا؟۔۔۔۔۔۔ بابا!!‘‘ خود سے اندازے لگاتے ایک دم اسکے زہن میں اپنے باپ کا خیال آیا اور وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی سٹڈی کی طرف بڑھی
اس نے اپنے والدین کو جتنی تکلیف دی تھی اب اس سے زیادہ شرمندگی محسوس ہورہی تھی
وہ کمرے میں داخل ہوئی تو اپنے بابا کو کرسی پر بیٹھے گہری سوچ میں پایا
تھوڑا اور نزدیک جاکر دیکھا تو انکے ہاتھ میں اسکی بچپن کی تصویروں کی البم تھی۔۔۔ کسی میں وہ پہلی بار چمچ سے کھانا کھا رہی تھی تو کسی میں چلنا شروع کیا تھا
کہی وہ کسی سکول کے فنکشن کی تھی تو کہی کسی کی شادی کی
’’آگئی تم‘‘ انہوں نے بند آنکھوں سے سوال کیا
’’وہ میں۔۔۔‘‘ عمارہ کچھ بول نا پائی
’’مراد چھوڑنے آیا تھا؟‘‘ انہوں نے پھر سے سوال کیا
’’نہیں۔۔۔۔ یونی کا ایک فرینڈ۔۔۔ موسی‘‘ اسنے نام بتایا
اب کی بار انہوں نے آنکھیں کھولے اسے دیکھا جس کی حالت کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح تھی مگر کم اذیت میں تو سلطان صاحب بھی نا تھے
’’آئندہ سے اگر مراد نا ہو تو مجھے بتا دینا مگر کسی اور کے ساتھ مت آنا۔۔۔۔۔۔ اب جاؤ شاباش جاکر کھانا کھاؤ اور پھر سو جانا۔۔۔ رات کافی ہوگئی ہے۔۔۔۔۔ صبح یونی کے لیے آنکھ نہیں کھلے گی‘‘ انہوں نے اسے نصیحت کی
’’بب۔۔بابا!!!۔ آئی ایم سوری بابا۔۔۔۔۔ مم۔۔۔۔مجھے معاف کردے۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت دل دکھایا نا میں نے آپ لوگوں کا۔۔۔۔ کتنے برے سے بات کی۔۔۔۔۔ پلیز مجھے معاف کردے‘‘ وہ یک دم ان کے گھٹنے سے لگی رونے لگی
سلطان صاحب کو کس قدر تکلیف ہوئی تھی اپنی بیٹی۔۔۔۔ اپنی جان کو اس حالت میں دیکھ کر
’’پلیز بابا مجھے مارے پیٹے۔۔۔۔۔ جو مرضی سزا دینی ہے دے مگر مجھ سے بات کرلے پلیز‘‘ وہ منت کرنے لگی
’’عمارہ رات کافی ہوگئی ہے اپنے کمرے میں جاؤ‘‘ انہوں نے بس اتنا کہا
’’بابا پلیز۔۔۔۔۔‘‘
’’ہم نے کہا جاؤ‘‘ ایک ہاتھ اٹھا کر اسکی بات کاٹتے وہ بولے
’’آئی ایم سوری بابا۔۔ پلیز معاف کردے نا جو کہے گے کروں گی بس معاف کردے‘‘ اسکو بہت تکلیف ہوئی اپنے باپ کے رویے پر ، مگر جو اس نے کیا تھا وہ بھی کم نا تھا
’’ہم نے کہا نا جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ انہوں نے بات ختم کی
عمارہ بنا کچھ کہے وہاں سے چل دی پیچھے سلطان صاحب کو گہری سوچ میں چھوڑے
انہیں مراد نے کال کرکے پہلے سے ہی تمام ترحالات سے آگاہ کردیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح کسی سے زلزلے سے کم نا تھی
سروج ابراہیم کو دودھ پلانے کے بعد اب ناشتے میں مصروف تھی۔۔۔۔۔ ھدی کل کے واقعےسے اتنا ڈر گئی تھی کہ اسے فیصلہ کرلیا تھا کہ اب وہ ایک ہفتہ یونی نہیں جائے گی
سروج نے بھی یہی بہتر سمجھا ویسے بھی دو ہفتےبعد سے ان سب کے مڈز ایکزامز تھے
سروج چائے کا کپ لبوں کو لگائے لاؤنج میں آئی جب اسکا موبائل بجا
’’ہیلو میم۔۔۔۔۔۔ میم میں اسرا پلیز جلدی ٹی۔وی اون کرے‘‘ اسکی پی۔اے تیز لہجے میں بولی، اسکا سانس چڑھا ہوا تھا
’’خیریت؟‘‘ سروج کو کچھ عجیب لگا
’’میم آپ دیکھے تو سہی‘‘ اسنے پھر سے کہا
’’اوکے ون سیکنڈ۔۔۔۔ کونسا چینل؟‘‘ ٹی۔وی اون کیے سروج نے پوچھا
’’یوتھ افیرز‘‘ چینل کا نام بتائے اسکی پی۔اے نے کال کاٹ دی
سروج نے حیرت سے موبائل دیکھا پھر چینل سرچ کرکے لگایا تو اسے زمین آسمان گھومتے محسوس ہوئے
چینل پر کل رات کی پارٹی کی فوٹیج اور جلال کی عمارہ کے ہاتھوں عزت افزائی زوروشور سے دکھائی جارہی تھی
عمارہ کا چہرہ بلر کیا گیا تھا مگر سروج پہچان گئی تھی کیونکہ یہ ہنگامہ اسکی موجودگی میں ہی شروع ہوا تھا مگر ھدی اور ابراہیم کی وجہ سے اس نے زیادہ نوٹس نہیں لیا
چینل نے جلال صدیق کو رسوا کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی
معاملہ اس نوعیت کا ہوجائے گا سروج نے سوچا بھی نا تھا
’’ڈیم یو جلال‘‘ ریمورٹ زور سے صوفہ پر پھینکتی وہ غصے سے چلائی
اسے بار بار آفس سے کال آرہی تھی۔۔۔ پہلے تو اسنے سوچا تھا کہ وہ نہیں جائے گی مگر اب ضروری ہوگیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علی زماد کی ساری فیملی اس وقت ناشتے پر موجود تھی۔۔۔ سوائے ندا کے جو بےدلی سے چینل بدل رہی تھی۔۔ جب ایک چینل پر موسی کی نظر پڑی اور وہ ٹھٹکا
’’ایک ۔۔۔ ایک منٹ ندا پیچھے کرنا‘‘ موسی جلدی سے ناشتے سے فارغ ہوتے بولا
’’کیوں؟‘‘ وہ بےزار سی بولی
’’ڈرامے مت کروں جو کہاں ہے وہ کروں‘‘ موسی نے جواب دیا۔۔۔ جبکہ ندا منہ بنائے دوبارہ سے ایک چینل پیچھے کیا
موسی اب آرام سے کل ہوئے لائیو شو کا رپیٹ ٹیلی کاسٹ دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ چہرے پر رہنے والی مخصوص قسم کی مسکراہٹ ابھی بھی تھی
’’جلال صدیق!!‘‘ علی زماد حیرانگی سے ٹی۔وی دیکھتے بولے
’’آپ اسے جانتے ہیں ڈیڈ؟‘‘ موسی نے حیران کن نظروں سے پوچھا
’’یس۔۔۔۔۔ یہ سروج کا جیٹھ۔۔۔۔۔ آئی مین یاسین کی بہن کا بیٹا ہے یہ تو‘‘ وہ تو ہنوز نظریں ٹی۔وی پر جمائے بولے
’’ریئلی؟‘‘ موسی کی تو مسکراہٹ ہی پھیل گئی یہ سن کر
’’بےچاری‘‘ وہ ہنسی قابو کرتے سروج کے بارے میں سوچتے بولا
’’اوکے گائز میں تو چلا یونی۔۔۔۔۔۔ با۔بائے‘‘سیڑھیوں پر دو تین چھلانگے لگاتا وہ اپنے کمرے میں گھس گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح وہ یونی کےلیے تیار ہوکر نیچے آئی تو ماحول میں عجیب سی ٹینشن تھی
اس سے پہلے کو وہ کسی نوکر سے کچھ پوچھتی۔۔۔ اسے لاؤنج سے آوازے سنائی دی
لاؤنج میں داخل ہوتے ہی اسکی نظر اپنی ماں پر گئی جو ٹینشن سے ادھر ادھر ٹہل رہی تھی اور پھر ٹی۔وی پر جہاں کل کا ڈرامہ۔۔۔۔ پوری مووی کے سٹائل میں دکھایا جارہا تھا
’’یہ۔۔۔ یہ رہی آپکی لاڈلی پوچھے اس سے کیا ہے یہ سب اور کیوں ہمیں اس عمر میں زلیل کروانے پر آئی ہے‘‘ عمارہ کو آرام دہ حالت میں دروازے سے ٹیک لگائے دیکھ کر وہ جلتی بھنتی سلطان صاحب سے بولی
’’عمارہ۔۔۔ عمارہ۔۔۔ کیا کروں میں تمہارا۔۔۔۔ بولوں کیا کروں میں؟؟ کہی منہ دکھانے کےقابل نہیں چھوڑا تم نے ہم لوگوں کو۔۔۔۔۔ کیا ہے یہ سب؟‘‘ اس کے سر پر سوار وہ چلائی
’’حقیقت ہے مام‘‘ وہ نارمل انداز میں کندھے اچکاتے بولی
’’ویسے بھی اس میں منہ نا دکھانے والی کونسی بات ہے؟ میں نے تو وہی سب کیا جو وہ ڈیزرو کرتا تھا اور ہے۔۔۔۔۔۔ اور یقین مانے ماما جب جب وہ شخص زندگی کے کسی موڑ میں میرے سامنے آیا تب تب میں اسے یونہی زلیل کرتی رہوں گی‘‘ وہ سنجیدہ انداز میں بولی
’’عمارہ۔۔۔۔‘‘
’’نہیں مام اب کچھ نہیں۔۔۔۔ اس شخص کی وجہ سے مام۔۔۔۔۔ اس شخص کی وجہ سے میں نے آپ دونوں سے بدتمیزی کی۔۔۔ آپ دونوں کے دل دکھائے۔۔۔۔۔ تکلیف دی آپ دونوں کو۔۔۔۔۔۔ وہ شخص یہ ڈیزرو کرتا ہے‘‘ وہ چیخ کر بولی
’’عمارہ‘‘ مسز سلطان آنکھوں میں آنسو لیے بولی
’’پلیز مام آئی ایم سوری مجھے معاف کردے پلیز۔۔۔۔۔‘‘ وہ منت کرتے ان کے گلے لگ گئی۔۔۔۔۔ وہ بھی آخر کو ماں تھی کتنا گریز کرتی اسکے آنسو انہیں تڑپا گئے اور انہوں نے محبت سے اسے گلے لگا لیا
’’نہیں میرا بچا روتے نہیں‘‘ وہ پیار سے اسکی پیشانی چومتی، اسکے آنسو صاف کرتے بولی
’’ڈیڈ پلیز اب تو آپ بھی معاف کردے‘‘ وہ ایک بار پھر سلطان صاحب کو دیکھ کر بولی
’’کیا تم واقعی اپنے کیے پر شرمندہ ہوں؟ کیا تمہیں واقعی معافی چاہیے؟‘‘ وہ اس سے بےتاثر چہرہ لیے پوچھنے لگے، جس پر عمارہ نے جھٹ سےسر ہاں میں ہلا دیا
’’تو پھر تمہیں کوئی اعتراز نہیں ہوگا اس فیصلے پر جو میں تمہارے لیے لینے والا ہوں؟‘‘ انہوں نے دوبارہ سے جانچنا چاہا
’’نہیں ڈٰیڈ آپ جو کہے گے، جیسا کہے گے میں کروں گی بس مجھے معاف کردے پلیز‘‘ وہ انکے ہاتھ تھماے جھٹ سے بولی
’’تو ٹھیک ہے ہم مراد کے رشتے کو ہاں کہنے والے ہیں۔۔۔ تمہیں کوئی اعتراز؟‘‘ انہوں نے سوال کیا
ایک پل کو تو عمارہ پر سکتہ طاری ہوگیا مگر اگلے ہی لمحے جھٹ سے سر نفی میں ہلا دیا
’’نہیں کوئی اعتراز نہیں جیسا کہے گے ویسا ہی ہوگا‘‘ وہ فورا سے سر ہاں میں ہلائے بولی
’’مجھے خوشی ہوئی کہ تمہیں سچ پتا چل گیا‘‘ وہ مسکرائے
’’مگر میں ناراض ہوں‘‘ انہیں نارمل ہوتا دیکھ کر وہ دوبارہ اپنی جون میں آکر بولی
’’کیوں؟‘‘ وہ حیران ہوئے
’’آپ نے مجھے سچ کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔۔۔ بتانا چاہیے تھا۔۔۔۔ مجھے بتاتے تاکہ میں اسکی لالچی شخص کی باتوں پر کبھی ایمان نا لاتی‘‘ اسنے شکوہ کیا
’’ہم ڈر گئے تھے میری جان۔۔۔۔۔ اگر تم یقین نا کرتی؟‘‘ وہ تھکے انداز میں بولے
’’کیسے نا کرتی ڈیڈ؟ آپ میرے ماں باپ ہیں۔۔۔۔ مجھے سہی اور غلط میں فرق سکھانے والے۔۔۔ مجھے زمانے کی اونچ نیچ اور دشواریوں سے آشنا کروانے والے۔۔۔۔ میں کیسے نا کرتی اعتبار؟‘‘ ایک اور شکوہ
’’ایم سوری‘‘ انہوں نے معافی مانگنی چاہی
’’نو ڈیڈ آئی ایم سوری۔۔۔۔۔۔۔ اور اب بس کوئی بھی اس حوالے سے بات نہیں کرے گا۔۔۔۔ مجھے اس شخص کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرنی‘‘ وہ انہیں تنبیہ کرتے بولی
’’جو حکم ملکہ عالیہ‘‘ سلطان صاحب سر کو خم کیے بولے تو وہ ہنس دی، جبکہ مسز سلطان تو اپنے گھر کے لیے دعائیں کرنے لگی
’’چلے اب ناشتہ کرلے پلیز کل سے کچھ نہیں کھایا‘‘ وہ چھوٹے بچوں جیسا منہ بنا کر بولی
’’اور وہ جو بیڈ کے نیچے پزا کا باکس پڑا ہوا ہے۔۔۔ وہ کس نے کھایا تھا‘‘ اسکا ایک کان پکڑے سلطان صاحب نے مصنوئی غصے سے پوچھا تو وہ کھلکھلا دی
سلطان صاحب نے محبت سے اسکی پیشانی چومی
’’میرا لاڈلا بچا‘‘ وہ محبت سے بولے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج جب آفس میں داخل ہوئی تو ہر طرف عجیب افراتفری مچی ہوئی تھی، سب لوگ اپنے کام چھوڑ کر ابھی تک ٹی۔وی پر چلنے والی نیوز کے بارے میں اپنی اپنی رائے دے رہے تھے
سروج نے یہ سب دیکھا تو غصے سے ان سب کو واپس کام کرنے کا بولا جس پر وہ سب تیزی سے اپنے اپنے کام میں جٹ گئے
ایک جھٹکے سے اس نے آفس کا دروازہ کھولا اور بیگ زور سے ٹیبل پر پٹخا
انٹرکام کے ذریعے اسنے اپنی پی۔اے کو بلوایا
’’میم؟ آپ نے بلایا؟‘‘دروازے پر ناک کے ساتھ ہی وہ اندر داخل ہوئی
’’یس مس اسرا۔۔۔ مسٹر جلال اور مسٹر صدیق کہاں ہے؟‘‘ غصے سے یہاں وہاں گھومتے اس نے پوچھا
’’میم وہ سر صدیق کے آفس میں ہے دونوں‘‘ اسنے جواب دیا
’’اوکے انہیں ابھی کے ابھی میری کیبن میں بھیجو‘‘ اسنے آرڈر جاری کیے
’’اوکے میم‘‘ تعبداری سے سر ہلایا گیا
’’اور ایک اور بات مس اسرا ابھی کا مطلب ابھی اور اس ابھی میں کوئی کوتاہی یا دیر نا ہوں‘‘ وہ وارن کرتے بولی
’’اوکے میم۔۔ سم تھنگ ایلس؟‘‘ اسنے سوال کیا
’’نو یو کین گو‘‘ سروج نے اسے جانے کی اجازت دی
ٹھیک ایک منٹ کے اندر اندر وہ دونوں باپ بیٹا اسکے کیبن میں موجود تھے جو ادھر ادھر چکر کاٹنے میں مصروف تھی، بیچ میں ایک آدھ گھوری انہیں بھی دے دیتی جو اس وقت سر اٹھانے کے قابل نہیں تھے
اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتی، اسکی پی۔اے بنا ناک کیے پھولی سانسوں کے ساتھ اندر داخل ہوئی
’’سوری ٹو انٹرپٹ میم، بٹ یو ہیو ٹو سی دس( مداخلت کے لیےمعافی مگر آپ کو یہ دیکھنا ہوگا میم)‘‘ ٹی۔وی اون کیے اسنے دوبارہ سے وہی چینل اون کیا
مگر اب کی بار تو سروج کو اپنے ارد گرد دھماکے ہوتے محسوس ہوئے
جلال کے خلاف تقریبا دس لڑکیوں نےانہیں ہراساں کرنے کے الزام لگائے تھے
سروج کی آنکھیں تو ابل کر باہر گرنے کو تھی
اس نے بےیقینی سے جلال کو دیکھا جس کی خود کی آنکھیں اس وقت پھیلی ہوئی تھی
’’یہ۔۔۔۔یہ، یہ سب جھوٹ ہے بکواس ہے، میری بات کا یقین کریں بھابھی یہ میں، میں نہیں جانتا ان لڑکیوں کو۔۔۔۔۔ کون ہے کہاں سے آئی ہیں۔۔۔۔۔۔ آئی سویر کوئی مجھے پھنسا رہا ہے‘‘ اسکی زبان کپکپا رہی تھی
’’شٹ اپ۔۔۔ جسٹ شٹ اپ۔۔ تم جانتے ہوں اسکا مطلب؟ اگر ان دس میں سے کسی ایک بھی لڑکی کا لگایا الزام سچ ثابت ہوگیا تو تمہیں سزا سے کوئی نہیں بچا پائے گا اور ہماری میڈیا کی پاورکو تو تم اچھے سے جانتے ہوں‘‘ وہ اس پر چلانے لگی
اسے فکر جلال کی نہیں بلکہ اپنی اور اس کمپنی کی تھی جسے یاسین صاحب اور عمیر کے دادا نے کتنی مشکل سے کھڑا کیا تھا، انکا کتنا پیسا، کتنا پسینا اور محنت لگی تھی اس کمپنی کو اسٹیبلش کرنے کے لیے اور اس شخص کی ایک بےوقوفی نے سب برباد کرکے رکھ دیا
’’میم!!!‘‘ اتنے میں ایک اور ورکر بھاگ کر آیا
’’ہاں؟‘‘ وہ جھنجھلائی
’’میم باہر میڈیا کی سب ٹیمز اکٹھی ہوئی ہے، آپ کو اور جلال سر کا انٹرویو لینے اس الزام کے حوالے سے‘‘
’’واٹ؟‘‘ سروج کا سر چکرانے لگ گیا
جلال اور مسٹر صدیق کے تو چہروں سے خون نچڑ کر رہ گیا
’’گاڈ اسرا جلدی سے سبھی گارڈز کو الرٹ کردوں کے میڈیا کہ کسی بھی نمائندے کو اندر نا آنے دیا جائے۔۔۔۔۔۔ انہیں کہوں اور مین ڈور بند کردے۔۔۔۔ اور تمام سٹاف اور آفس کے باقی ورکرز کو پیچھے کے راستے سے باہر نکالا جائے‘‘ اسکا دماغ کام کرنے لگا اسے کچھ بھی کرکے فلحال اس مصیبت سے جان چھڑوانی تھی
صورتحال اس حد تک پیچیدہ ہوجائے گی اسنے سوچا بھی نا تھا
عمارہ کے اٹھائے ایک اچھے قدم نے سروج کو ہزار مشکلوں میں دھکیل دیا تھا
صرف گھنٹے کے اندر اندر پورا آفس خالی کروا دیا گیا۔۔۔۔۔ ہر طرف جلال کی نیوز آگ کی طرح پھیل گئی تھی
اب آفس میں صرف وہ اور اسکی پی۔اے رہ گئی تھی
’’میم؟‘‘ اسرا نے اسے بلایا
’’ہاں!!‘‘ وہ جو سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھی تھی، اسکی آواز پر ہوش کی دنیا میں آئی
’’میم وہ یہ کال‘‘ اسنے فان بڑھایا
’’لاؤ دو‘‘ اسنے ہاتھ چہرے پر پھیرتے خود کو پرسکون کرتے موبائل پکڑا
’’ہیلو‘‘ وہ تھکے انداز میں بولی، مگر دوسری طرف سے ایک اور بری خبر اسکی منتظر تھی
اسکے ساتھ جن جن کمپنیز نے ڈیلز کی تھی سب نے ختم کردی، جب تک جلال والا واقعہ حل نا ہوجاتا کوئی بھی کمپنی اسکے ساتھ ڈیلنگ کو تیار نا تھی
صرف ایک دن کے اندر اندر مارکٹ میں اسکی کمپنی کے شیئرز بری طرح گرے تھے
اس وقت وہ خود کو انتہا سے زیادہ بےبس محسوس کررہی تھی
میڈیا والوں کو بھی اس بات کی یقین دہانی کروا کر واپس بھیجا گیا تھا کہ اس سلسلے میں وہ خود ایک پریس کانفرنس بلوائے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کیا؟؟؟ تو جانتا بھی ہے کہ تو کیا بول رہا ہے؟‘‘ مائز کو تو اسکی بات سن کر اچھو لگ گیا
’’سچ بول رہا ہوں‘‘ وہ کندھے اچکائے بولا
’’اسکا مطلب کے سروج اور ھدی۔۔۔۔۔ آئی مین وہ دونوں اس شخص سے تعلق میں ہے جس کی وجہ سے آج ماہم۔۔۔۔۔۔‘‘ اس سے آگے مائز سے بولا نا گیا
’’سروج عمیر کی بیوہ اور اسکے بچے کی بیوی۔۔۔۔۔۔۔ اور ھدی عمیر کی بہن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے چکر آرہے ہیں موسی‘‘ وہ سر تھامے بولا
’’سب حقیقت ہے مائز‘‘ موسی کا لہجہ سخت جبکہ آنکھیں نم تھی
’’تو اب تو کیا کرے گا؟‘‘ مائز نے فکرمندی سے پوچھا
’’بدلا‘‘ ایک لفظی جواب
’’مگر۔۔۔۔ مگر‘‘ مائز نے کچھ بولنا چاہا
’’مگر کیا مائز؟‘‘ موسی نے سوال کیا
’’وہ دونوں بےگناہ ہے۔۔۔۔ اور جس سے تونے بدلا لینا تھا جب وہ ہی مرچکا ہے تو چھوڑ دے سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ مائز نے سمجھانا چاہا
’’میری بہن بھی بےگناہ تھی اور معصوم بھی۔۔۔۔۔۔ ارے اسنے تو بس محبت کی تھی اور اسکی اتنی بڑی سزا دی اس شخص نے‘‘ موسی خالی کین ہاتھ میں دبائے بولا
’’وہ بھی تو معصوم ہے‘‘ مائز نے جواز پیش کیا
’’تجھے میری مدد کرنی ہے یا نہیں؟‘‘ موسی نے سوال کیا جس پر مائز گڑبڑا گیا
’’موسی لیکن۔۔۔‘‘
’’ہاں یا نا؟‘‘ جب مائز نے کوئی جواب نا بن پڑا تو موسی تمسخرانہ ہنسا
’’ہاں تو کیوں کرے گا میری مدد۔۔۔۔۔۔۔۔ بہن تو میری تھی، تکلیف تو میں نے سہی۔۔۔۔۔۔۔ عزت تو میری بہن نے کھوئی۔۔۔۔ تجھے کیا‘‘ موسی چبھتے لہجے میں بولا، اسکے لہجے میں موجود دکھ وہ اچھے سے محسوس کر سکتا تھا
’’ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ میں مدد کوتیار ہوں‘‘ مائز ہار مانتے بولا
’’مگر موسی سروج سے کس بات کا بدلا، اسنے کیا کیا ہے؟ وہ کونسا اس شخص کی بہن ہے۔۔۔۔ شاید وہ بھی ماہم کی طرح ایک وکٹم۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ مائز نے بولنا چاہا
’’وہ وکٹم نہیں ہے مائز اتنا تو میں جانتا ہوں۔۔۔۔۔۔ مگر میں سروج سے کیا چاہتا ہوں یہ نہیں جانتا۔۔۔۔ ویسے بھی اس سے بدلا نہیں لینا بس دوستی کرنی ہے‘‘ آنکھیں بند کیے اسنے جواب دیا
’’کیوں؟‘‘ مائز کو الجھن ہوئی
’’کیوں کا کیا مطلب۔۔۔۔۔موسی لڑکیوں سے دوستی کیوں کرتا ہے؟ ٹائم پاس کے لیے برو اور مجھے بھی ایک ٹائم پاس مل گیا ہے‘‘ ایک سیکنڈ لگا تھا موسی کو اپنی اصل اوقات میں واپس آنے کے لیے
’’وہ بیوہ ہے موسی‘‘ مائز سنجیدہ لہجے میں لفظ چباتے بولا
’’تو؟‘‘ اسنے بےنیازی سے جواب دیا
’’تو تو اسکا پیچھا چھوڑ دے‘‘ بہت تحمل سے اسنے اپنی بات مکمل کی
’’ناممکن‘‘ وہ ٹھوس لہجے میں بولا
’’موسی تم سمجھتے کیوں نہیں کہ وہ۔۔۔۔‘‘
’’کہ وہ بیوہ ہے‘‘ موسی اسکی بات کاٹتے بولا
’’بیوہ ہے تو کیا ہوا خوبصورت بھی تو ہے نا اور میں توصرف اس سے دوستی کرنا چاہتا ہوں‘‘ آنکھوں سے چشمے کو تھوڑا نیچے کیا وہ ساتھ بیٹھے مائز کی طرف دیکھ کر بولا
’’تو تو پیچھے نہیں ہٹے گا؟‘‘
’’بلکل بھی نہیں‘‘ اسے جواب دیتے، آنکھوں پرچشمہ لگائے اب وہ دوبارہ منہ سیدھا کیے بیٹھ گیا۔جبکہ مائز ایک لمبی سانس خارج کرکے رہ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ پورے گھر کو الٹ پلٹ دیکھ کرآہل نے آنکھیں ماتھے پر سجائے اس سے پوچھا
’’پیکنگ‘‘ زرار نے کارٹن بند کرتے جواب دیا
’’کیوں؟‘‘ آہل کا ایک اور سوال
’’کیونکہ ہم شفٹ ہورہے ہیں‘‘ اسے مصروف انداز میں جواب دیا
’’کہاں؟‘‘
’’یہ ایک سرپرائز ہے‘‘ وہ مسکراہٹ دبائے بولا۔۔۔۔ اتنے میں اسکے موبائل پر سروج کی کال آنا شروع ہوگئی
’’ہیلو سروج‘‘ زرار مصروف سا بولا
’’زرار!!‘‘ سروج کی آواز دھیمی اور گھٹی سے تھی زرار کو شک ہوا
’’سب کچھ ختم ہوگیا زرار۔۔۔ سب کچھ ۔۔۔۔ میں کچھ نہیں کرسکی۔۔۔ سب برباد کردیا میں نے۔۔۔۔۔ میں فالتو ہوں زرار۔۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔۔ میں مرنا چاہتی ہوں زرار۔۔۔۔ میں کچھ بھی سہی نہیں کرسکی۔۔۔۔۔ میں نے سب خراب کردیا زرار۔۔۔۔۔ سب کچھ‘‘ وہ جنونی انداز میں بول رہی تھی
’’سروج۔۔۔ سروج کہاں ہوں تم۔۔۔۔۔۔۔۔ بتاؤ مجھے‘‘ زرار کے ہاتھ پیر پھول گئے
’’کچھ ٹھیک نہیں ہوگا زرار۔۔۔۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔ میرے بچوں۔۔۔۔ میری ھدی اور ابراہیم کا دھیان رکھنا زرار۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اسکی آواز دھیمی ہوتی گئی جب کے زرار کی نسیں تن گئی
وہ جلدی سے اپنی کار کی طرف بڑھا اور جی۔پی۔ایس ڈیوائس اون کیا
اس سے اسے سروج کی لوکیشن معلوم ہوچکی تھی، وہ گاڑی فل سپیڈ پر چلائے نجانے کتنے سگنلز توڑ چکا تھا اور کتنے ہی ایکسیڈینٹ ہوتے ہوتے بچے تھے
وہ اسکے آفس پہنچتے ہی تیزی سے کار سے باہر نکلا اور سروج کے فلور کی طرف بڑھا
اسنے سروج کے کیبن کا دروزا کھولنا چاہا تو وہ لاک تھا۔۔۔ اسنے زور لگایا مگر جب کچھ بن نا پڑا تو آخر میں اسنے دروازہ توڑ دیا
اندر کا منظر دیکھ کر تو اسکے ہوش اڑ گئے۔۔۔۔ سروج زمین پر بےہوش پڑی تھی، اسکا رنگ زرد پیلا ہوچکا تھا، زرار نے پاس آکر چیک کیا تو اسکی سانسیں بہت مدھم چل رہی تھی
ایمبوولینس کا کال کرنے کا ٹائم نا تھا اسی لیے اسے اپنی باہوں میں اٹھائے وہ تیزی سے لفٹ کے ذریعے پارکنگ میں موجود اپنی کار کی طرف بڑھا اور کار ہوسپٹل کی طرف دوڑا لی
’’ڈونٹ وری سروج کچھ نہیں ہوگا تجھے۔۔۔‘‘ ایک نظر اپنی دوست پر ڈالے نظریں دوبارہ راستے کی طرف گامزن کرلی
اس وقت زرار کی حالت اگر کوئی دیکھ لیتا تو حیران رہ جاتا
ہاں وہ اس کے لیے ضروری تھی، وہ اسکی دوست اسکی رازدار تھی
اگر اسے کبھی سروج اور ھدی میں سے کسی ایک کو چننا ہوتا
اسے محبت یا دوستی میں سے کسی کو چننا ہوتا تو وہ دوستی چنتا
سچی محبت کرنے والے تو بہت ملے گے۔۔۔۔ مگر سچی دوستی بہت مشکل سے ملتی ہے
اور زرار کبھی بھی اپنی دوست گنواہ نہیں سکتا تھا۔۔۔ آنسو کا ایک قطرہ آنکھ سے بہہ کر گریبان میں جذب ہوگیا
وہ رویا تھا۔۔۔۔۔ ہاں دوستی کے لیے وہ رویا تھا
جب اسے زندگی میں کسی سہارے کی ضرورت تھی تو تب اسکی محبت ھدی اسکے پاس نہیں تھی۔۔۔۔ نا ہی اسکا بھائی موسی۔۔۔۔۔ نا وہ لوگ جنہیں وہ ماں باپ کا درجہ دیتا تھا
اس وقت اسکے پاس اسکی دوست تھی۔۔۔ جسکی دوستی بہت خالص تھی
یہی بات سروج کو زرار کی نظروں میں سب سے معتبر بنا دیتی تھی
اور یہی وجہ کافی تھی کہ زرار سروج سے کھایا تھپڑ تو برداشت کرسکتا تھا مگر کسی دوسرے کے منہ سے نکلا ایک لفظ بھی نہیں خواہ وہ ھدی ہی کیوں نا ہوں۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *