Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16

’’مائز!!!مائز!!!مائز!!!‘‘ تمام سٹوڈنٹس اس وقت ٹیبل کے پاس کھڑے پرجوش سے نارے لگارہے تھے
مائز اس وقت فرائز کھانےمطلب ٹھوسنے میں مصروف تھا، تبھی کینٹین کے پاس سے گزرتی فریحہ کے قدم مائز کے نام پر رکے اور وہ کینٹین میں داخل ہوئے اس ٹیبل کی طرف بڑھ گئی جہاں سب سٹوڈنٹس کا رش تھا، سٹوڈنٹس کے بیچ و بیچ جگہ بنائے وہ تھوڑا آگے آئی جہاں مائز منہ میں تیزی سے فرائز ڈالے کھا رہا تھا، اسکی تو آنکھیں پھیل گئی
’’توبہ پیٹ ہے یا کنواں؟‘‘فریحہ سوچتے ہوئے باہر نکل گئی، جب اسکی نظر سامنے کھڑے ایک جوڑے پر پڑی جو سب سے غافل اپنی ہی جنگ میں مصروف تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائز کی سپیڈ دیکھتے ہوئے عمارہ جان چکی تھی کہ وہ شرط جیت جائے گا، مگر اب اسے رونا آرہا تھا کیونکہ اسے پکا یقین تھا کہ شرط وہی جیتے گی اسی لیے وہ اپنا والٹ نہیں لائی تھی اور اب ان فرائز کی پیمنٹ اسنے ہی کرنی تھی، اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر مراد اسی کی طرف چلا آیا
’’عمارہ؟تم یہاں اور یہ کیا رو کیوں رہی ہوں؟‘‘ وہ واقعی پریشان تھا یا نہیں عمارہ اندازہ نا لگا پائی
’’مراد وہ!!وہ کچھ کروں مراد ورنہ مائز جیت جائے گا مراد‘‘ وہ بس رو دینے کو تھی
’’غلط عمارہ مائز جیت جائے گا نہیں بلکہ مائز تقریبا جیت چکا ہے‘‘ وہ تصیح کرتے بولا
’’مراد۔۔اب۔۔۔۔اب میں کیا کروں؟‘‘
’’فلحال تو بل پے کروں‘‘ مراد ہاتھ ہلاتے بولا
’’میں نہیں کرسکتی!!!!‘‘ وہ دانت پردانت جمائے بولی
’’کیوں۔۔۔۔۔کیوں نہیں پےکرسکتی۔۔۔۔۔کم آن عمارہ ایک تو تم لڑکیوں کی پتا نہیں پرس کھولتے جان کیوں ہوا ہونے لگ جاتی ہے‘‘ وہ تو اس پر چڑھ دوڑا
’’پرس کھولو گی کہاں سے جب ہے ہی نہیں‘‘ وہ دبی آواز میں چیخی
’’مطلب؟‘‘ مراد حیران ہوا
’’وہ مراد۔۔۔۔۔وہ نا مجھے پکا یقین تھا کہ میں جیت جاؤ گی اور اسی خوشی میں پرس لانا بھول گئی۔۔۔۔۔اب میں کیا کروں مراد‘‘ وہ بےبسی سے بولی
’’او مائی گاڈ۔۔۔۔۔عمارہ میرا مطلب عمارہ سلطان اپنا پرس بھول گئی، اٹس آ بگ کرائم عمارہ(یہ تو بہت بڑا گناہ ہوگیا عمارہ) اب کیا کروں گی تم‘‘ وہ اسکی حالت کا مذاق بناتے بولا
’’مراد‘‘ عمارہ کا لہجہ پل بھر میں اتنا میٹھا ہوگیا کہ مراد کو اپنے کانوں پر یقین نا ہوا
اسنے عمارہ کو دیکھا جو معصومیت کا لبادہ اوڑھے آنکھیں پٹپٹائے اسے ہی دیکھ رہی تھی
’’کیا؟‘‘ اسنے شکی انداز میں پوچھا
’’مراد تم میرے دوست ہوں نا، پکے والے تو تم پیسے دےدوں پلیز‘‘ وہ آنکھیں پٹپٹائے اسے منانے لگی، مراد تو اسکی ایکٹینگ پر غش کھاکر رہ گیا
’’عمارہ میں تمہاری مدد ہرگز نہیں کروں گا‘‘ میٹھے لہجے میں اسکا نام لیتےوہ آخر میں سخت لہجے میں بولا، جس کی وجہ سے عمارہ کے چہرے پر مایوسی اتر آئی
’’میم یہ وہ آپکا بل۔۔۔‘‘ اتنے میں کینٹین کا ایک ورکر اسکے پاس بل لے آؤ
’’ہاں لاؤ دوں‘‘ وہ تو رو دینے کے قریب تھی جبکہ مراد نچلے ہونٹ کو دانت میں دبائے اسکی حالت سے لطف اٹھا رہا تھا
’’نہیں میم وہ میں نے بتانا تھا کہ یہ پے ہوگیا ہے‘‘ ورکر نے بات مکمل کی جس پر عمارہ کی آنکھیں پھٹنے کو تھی، یہی حال مراد کا بھی تھا، اسنے سوچا تھا کہ وہ عمارہ کو تھوڑا تنگ کرے گا اور پھر بل دے دے گا، مگر یہ کون تھا جس نے عمارہ کا بل پے کیا۔
’’مراد!!!‘‘ عمارہ حیرت سے چلائی
’’او تھینک یو سو مچ مراد مجھے پتا تھا کہ تم مجھے پریشان نہیں دیکھ سکتے اور بل بھی تم نے پے کیا ہے‘‘ وہ خوشی سے اچھلی، جس پر مراد اسے دیکھتا بامشکل مسکرایا۔
جبکہ دور کھڑی فریحہ ہنستے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی۔ وہ ان دونوں کی باتیں سن چکی تھی اور عمارہ کی حالت پر ترس کھاتے بل اسنے پے کردیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’فریحہ!!!!!!‘‘ مائز خوشی سے اچھلتا اسکی طرف آیا اور اسے گول گول گھمانے لگا
’’دیکھو میں جیت گیا‘‘ جبکہ فریحہ اپنے چکراتے سر کو سنبھالنے لگی
’’ویسے تم کل کیوں نہیں آئی۔۔۔۔جانتی ہوں میں نے اتنا ویٹ کیا، میں نے تو سوچا تمہیں کال کرلوں یا گھر آؤ مگر نا تو تم نے مجھے نمبر دیا اور نا ہی ایڈریس بتایا۔۔۔۔۔۔کتنی مسنی ہو نا تم۔۔۔۔۔چالاکو ماسی‘‘ مائز تو اسکی سنے بنا اپنی سنانے میں مگن ہوگیا
’’تم نے مجھے مس کیا اور میرا انتظار بھی؟‘‘ فریحہ حیران ہوئی
’’ ہاں نا سچی میں ۔۔۔۔اچھا چلو آؤ میرے ساتھ‘‘ وہ اسے اپنے ساتھ گھسیٹتا لے گیا
’’مائز چھوڑو مجھے ہم کہاں جا رہے ہیں‘‘ وہ اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتے بولی
’’میرے دوستوں سے ملنے‘‘ وہ اسے اس طرف لے گیا جہاں عمارہ اور مراد کے ساتھ اب موسی بھی آن کھڑا ہوا تھا
’’گائز اس سے ملو یہ ہے میری نئی سہیلی فریحہ‘‘ جہاں اسکے سہیلی کہنے پر فریحہ شرمندہ ہوئی، وہی موسی مسکراہ دیا اور مراد تو آنکھیں گھما کر رہ گیا
’’فریحہ یہ عمارہ میری بیسٹی کے ساتھ ساتھ میری ڈگری فیلو، یہ موسی میرے بچپن کا دوست۔۔۔۔۔اور یہ!!! یہ مراد عمارہ کا دم چھلا‘‘ مراد کے تعارف پر مائز منہ بناتے بولا، جس پر مراد غصہ ضبط کرکے رہ گیا
’’ہیلو ایوری ون‘‘ فریحہ نے سب کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا
’’ہیلو فریحہ‘‘
’’ہیلو فریحہ‘‘
مراد اور عمارہ دونوں ایک ساتھ بولے
’’ویل وٹ آ بیوٹی یو آر( کافی خبصورت ہو تم)‘‘ موسی آنکھ کا کونہ دباتے بولا
’’اور دم دار بھی ہوں‘‘ ہاتھ کا مکا بنا کر موسی کو دکھائے وہ بولی، جس پر موسی نے دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھا لیے
’’اور میرا ایک اور دوست بھی، زرار وہ جو کونے والی ٹیبل پر بیٹھا ہے نا، مگر اس سے دور رہنا وہ کسی سے دوستی نہیں کرتا سمجھی اور ۔۔۔۔۔۔‘‘ اسنے کونے والی ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے اسسے ھدی کی جانب سے آگاہ کرنے کی کوشش کی مگر فریحہ پہلے ہی چل دی
’’اچھا میری کلاس کا ٹائم ہے میں چلتی ہوں۔۔۔بائے‘‘ کہتے ہی وہ وہاں سے چل دی
وہ ابھی تھوڑا آگے ہی آئی تھی جب اسکی ٹکڑ ایک لڑکی سے ہوئی، جس کی بکس نیچے گر گئی
’’او ایم سوری۔۔۔۔۔۔ رئیلی سوری‘‘ وہ معذرات خواہ لہجے میں بولتے اسکی بکس اٹھانے لگی
’’ارے تم وہی ہوں نا‘‘ سامنے کھڑی لڑکی حیرت سے اسے تکتے بولی
’’ایکسکیوز می؟ کیا ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں؟‘‘ فریحہ حیران ہوئی
’’او ایم سوری میرا مطلب تم وہی ہوں نا جو تھوڑی دیر پہلے وہ گراؤنڈ میں اس لڑکے کو ۔۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ اٹک اٹک کر اپنی بات کرنے لگی
’’او ہاں میں ہی ہوں‘‘ فریحہ اسکی بات سمجھتے اسے بکس پکڑائے آگے چل دی
’’کاش میں بھی اس جیسی بہادر ہوتی تو اس بیسٹ کو سبق سکھاتی‘‘ فریحہ کے کانوں میں اسکی آواز پڑی تو اسے مڑ کر اس لڑکی کو دیکھا جس کے چہرے پر اب درد واضع تھا
’’ہیلو میرا نام فریحہ ہے۔۔۔۔مجھ سے دوستی کروں گی‘‘ فریحہ کو لگا اسے اسکی مدد کرنی چاہیے
’’نہیں۔۔۔۔۔۔نہیں میں نہیں کرسکتی‘‘ وہ دو قدم پیچھے ہوئی
’’کیوں؟‘‘ فریحہ حیران ہوئی
’’وہ اسنے منع کیا ہے نا‘‘ ھدی کے چہرے پر ڈر واضع تھا
’’کس نے؟‘‘ فریحہ کے ماتھے پر بل پڑ گئے
’’وہ۔۔۔۔۔وہ اس بیسٹ نے‘‘ ھدی زبان ہونٹوں پر پھیرتے جواب دیا
’’یہ یونی عجیب ہے‘‘ فریحہ بڑبڑائی
’’دونٹ وری یار تم دوستی تو کروں تمہارا وہ بیسٹ کچھ نہیں کر پائے گا‘‘ فریحہ ریلیکس موڈ میں بولی
’’اسنے کہا تھا کہ وہ اس انسان کو نہیں چھوڑے گا جو مجھ سے دوستی رکھے گا‘‘ اسنے فریحہ کو مکمل بات بتائی
’’تو کیا تمہاری کسی سے دوستی نہیں‘‘ فریحہ کو اس کے لیے برا لگا
’’نہیں ایک دوست ہے نا میری بھابھی، وہ بھی یہی پڑھتی ہے ان سے ہے میری دوستی‘‘
’’اور بیسٹ نے تمہاری بھابھی کو کچھ نہیں کہا‘‘ فریحہ نے حیرانگی سے پوچھا
’’نہیں‘‘ ھدی نے نفی میں سر ہلایا
’’اچھا چھوڑو اس بیسٹ کو وہ مجھے کچھ نہیں کہے گا تم نے دیکھا نا میں نے اس لڑکے کا کیا حال کیا تھا، تو یہ بیسٹ تو کچھ بھی نہیں میرے سامنے‘‘ وہ بات ہوا میں اڑاتے بولی
’’پکا؟‘‘ وہ ابھی بھی پر یقین نا تھی
’’ہاں بابا پکا۔۔۔ تو اب دوستی سمجھو‘‘ فریحہ نے مسکراتے ہوئے ہاتھ پھر سے آگے بڑھایا، جسے اس بار ھدی نے تھام لیا
’’میں فریحہ۔۔۔۔۔۔ فریحہ اعوان‘‘
’’میں ھدی۔۔۔۔۔ ھدی یاسین‘‘
’’تم سے ملکر خوشی ہوئی‘‘ فریحہ نے اسے کہا
’’مجھے بھی‘‘ ھدی نے دھیمی مسکان سے جواب دیا
’’ویسے تم کس ڈیپارٹمنٹ کی ہو؟‘‘ اب وہ ساتھ چلتے چلتے بات کر رہی تھیں
’’میں۔۔۔۔۔۔بی ایس آرٹس اینڈ کرافٹ میں‘‘ ھدی نے جواب دیا
’’واؤ یہ تو بیسٹ ہوگیا‘‘ فریحہ ہاتھ ہر ہاتھ مارکر بولی
’’ کیا ہوا؟‘‘ ھدی چونکی
’’میں ایم۔فل آرٹس اینڈ کرافٹ سے ہوں۔۔۔۔۔اسکا مطلب ہماری فیلڈ سیم ہے‘‘
’’ہمم تو اسکا مطلب اگر مجھے کبھی مدد چاہیے ہوئی تو آپ سے لے لو‘‘ ھدی پرسوچ انداز میں بولی
’’ہاں کتنی مطلبی ہوں تم یار‘‘ فریحہ نے چڑایا جس پر ھدی گڑبڑا گئی
’’نن۔۔۔نہیں میرا وہ مطلب تو نہیں تھا‘‘ اسے شرمندگی ہوئی
’’ہاہاہا۔۔۔۔ریلیکس یار مزاق تھا‘‘ فریحہ کی بات پر وہ پرسکون ہوئی
’’مطلب کے مدد مل سکتی ہے‘‘ اسے مزاحیہ انداز میں پوچھا
’’جی جی بلکل جناب‘‘ فریحہ نے کھلے دل سے آفر دیا
’’چلو بھئی تمہاری کلاس آگئی پھر ملے گے‘‘ اس کے روم کے باہر کھڑے فریحہ بولی اور اپنی کلاس کی طرف بڑھ گئی یہ جانے بنا کے وہ کسی کی ںطروں کے حصار میں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’السلام علیکم آنٹی کیسی ہے آپ اور ابراہیم کیسا ہے؟‘‘ فون پر مسز عاسم سے پوچھتے وہ کلاس میں داخل ہوئی جب اسکا ٹکڑاؤ اپنے آگے کھڑے موسی سے ہوا
’’او آئی ایم رئیلی سوری میں نے دیکھا نہیں‘‘ سروج کہتے ہی آگے بڑھنے والی تھی جب موسی کی بات پر پلٹ کر اسے دیکھا
’’خوبصورت لڑکیاں معافی مانگتے اچھی نہیں لگتی، اور آپ تو ہے ہی۔۔۔۔ ماشااللہ‘‘ اسکو اوپر سے بنیچے دیکھتا وہ بولا
’’چیپسٹر‘‘ سروج بولتے آگے بڑھنے لگی جب وہ اسکے آگے آ کھڑا ہوا
’’ماننا پڑے گا بہت میٹھی آواز ہے تمہاری بلکل کوئل جیسی‘‘ موسی کی بات پر سروج نے کال بند کی اور سر تا پیر اسکا جائزہ لیتے اپنی سیٹ کی طرف بڑھ گئی
میرے بس میں اگر ہوتا ہٹا کر چاند تاروں کو
میں نیلے آسماں پہ بس تیری آنکھیں بنا دیتا
موسی کے کہے گئے شعر پر سروج کے پیر اپنی جگہ جم کر رہ گئے
’’عمیر؟؟؟‘‘ وہ بڑبڑائی اور یکدم نم آنکھوں سے پیچھے مڑ کر دیکھا مگر وہ عمیر نہیں موسی تھا۔
سروج کو یاد ہے یہ شعر، آج ہی کا تو دن تھا جب وہ پہلی بار عمیر سے ملی تھی
اسکی یادیں اسے ایک بار پھر ماضی میں لے گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اسکے بی۔ایس کا پہلا دن تھا، وہ ڈری سہمی سی یونی میں داخل ہوئی اسے پتا چلا تھا کہ یونی میں سینیرز جونیئرز کی ریگنگ کرتے ہے اور اسے ڈر تھا کہ اسکے ساتھ بھی کہی یہ ہی نا ہوں
اسنے دیکھا جہاں ایک جگہ سینئرز جونیئرز کی ریگنگ کر رہے تھے، اسکے تو پیر کانپنے لگے، اسنے وہاں سے جانا بہتر سمجھا، جب ایک سینیر کی نظر اس پر پڑ گئی
’’ہے یو فریشر کم ہیر‘‘ آواز پر وہ آںکھیں بند کیے، آیتوں کا ورد کرتی انکی طرف بڑھی، اب وہ بلکل انکے سامنے آکھڑی تھی، جب ایک سینئر اسکے سامنے آ کھڑا ہوا
’’اپنی آنکھیں کھولو فریشر یقین مانو ہم سب انسان ہے‘‘ اسکی اس بات پر جہاں باقی سب کا قہقہ گونجا وہی سروج نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولی، اور سامنے والے کو چاروں شانے چت کرگئی وہ آنکھیں، کتنے ہی پل وہ بس ان آنکھوں کو دیکھتا رہا، جن میں ابھی بھی ڈر تھا
میرے بس میں اگر ہوتا ہٹا کر چاند تاروں کو
میں نیلے آسماں پہ بس تیری آنکھیں بنا دیتا
عمیر کے کہے اس شعر پر سروج کو اپنی دھڑکنیں بےقابو ہوتی محسوس ہوئی، اور اسنے نظریں فورا جھکا لی، جس پر عمیر کی مسکان گہری ہوگئی، اسنے نیچی نظروں سے سامنے کھڑے شخص کی مسکان دیکھی تو دل ایک الگ طریقے سے دھڑکنے لگا
’’میں جاؤ‘‘ اسنے اتنی دھیمی آواز میں پوچھا کے کسی کو سنائی نہیں دیا سوائے عمیر کے
’’کہاں جانا ہے؟‘‘ اسکے قد کے برابرجھکتے، آنکھیں اسکی آنکھوں پر مرکوز کیے عمیر نے پوچھا جس کی آنکھیں اب بند تھی
’’کلاس میں‘‘ سروج نے اسی مدھم لہجے میں جواب دیا
’’جانے دوں گا مگر میری ایک شرط ہے‘‘
’’کیا شرط‘‘ وہ سروج کے لہجے کی بےصبری کو محسوس کرتے مسکراہ دیا
’’اپنی آنکھوں کو کھولو اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے مجھ سے پوچھو‘‘ اسنے شرط بتائی
’’آنکھیں کیوں کھولو؟‘‘ سروج نے سوال کرنا ضروری سمجھا
’’کیونکہ مجھے ان دو روشن ستاروں کو دوبارہ دیکھنا ہے‘‘ عمیر کی اس بےساختہ بات پر سروج نے جھٹ سے آنکھیں کھولی، مگر اسے اس قدر نزدیک دیکھ کر فورا دو قدم پیچھے ہوئی
’’وہ میں جاؤ‘‘ اسنے دوبارہ اجازت مانگی
’’جاؤ‘‘ اب کی بار فراخ دلی سے اجازت دی گئی، جس پر وہ راکٹ کی سپیڈ پر وہاں سے بھاگی
’’یہ تو گیا کام سے‘‘ اسنے پیچھے کھڑے دونوں دوست ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر بولے، جبکہ آگے کھڑے عمیر کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی
’’زین آج ہمارے پورے گروپ کو میری طرف سے ٹریٹ‘‘ اسے کھڑے کھڑے آرڈر دیا
’’کس خوشی میں بھائی صاحب؟‘‘ زین نے پوچھا
’’تم لوگوں کی بھابھی مل گئی ہے‘‘ ایک واضع چمک تھی اسکی آنکھوں میں۔
’’تو سیریس ہے؟‘‘ زین نے حیرانگی سے پوچھا
’’حد سے زیادہ‘‘
’’وللہ۔۔۔۔ موصوف کو ملے وقت ہی کتنا ہوا ہے اور سیریس بھی ہوگئے۔۔۔ لو ایٹ فرسٹ سائٹ‘‘ اسکا دوست پھر سے ہنسا
’’چل بھائی خوش رہ‘‘ زین نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے سچے دل سے کہا
’’تمہیں تو میں ڈھونڈ لو گا، میرے روشن ستارے‘‘ عمیر نے خود سے وعدہ کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یکدم منظر بدلا اور اب نظروں کے سامنے عمیر کی بولتی نگاہیں نہیں بلکہ موسی کی مطلبی نگاہیں تھی
سروج کچھ بھی سوچے سمجھے بنا کلاس نے باہر نکل گئی، جب دروازے کے پاس کھڑے زرار نے اسے افسوس سے دیکھا، اور اسکے پیچھے چل دیا
وہ گراؤنڈ میں ایک قدرے ویران گوشے میں بینچ پرآکر بیٹھ گئی، اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی، آنسو پلکوں کی باڑ توڑے بہہ رہے تھے
’’اسے تکلیف ہوگی تمہارے اس طرح رونے سے‘‘ زرار اسکے برابر آکر بیٹھتے بولا
’’اور جس تکلیف میں، میں ہوں اسکا کیا؟‘‘ اسنے سوال کیا
’’تم اتنی کم ہمت تو نہیں ہوں؟‘‘
’’مگر انسان تو ہو، کبھی کبھی بہت تھک جاتی ہوں زرار، شدت سے اسکے سہارے کی طلب کرتی ہوں، مگر جب اپنے بچوں (ابراہیم اور ھدی) کو دیکھتی ہوں تو روزانہ خود کو تیار کرتی ہوں ایک نئی جنگ کے لیے‘‘ ہر بار کی طرح اس بار بھی وہ زرار کے سامنے ہی اپنے راز افشاں کر رہی تھی
’’آج کا دن بہت خاص تھا نا تمہارے لیے، اور وہ شعر بھی‘‘ زرار کی بات پر اسکی آنکھوں چمک اٹھی
’’ہاں آج کا دن بہت خاص ہے اور یہ شعر بھی۔۔۔جانتے ہوں۔۔۔‘‘
’’ہاں ہاں پتا ہے کہ آج کے دن تم پہلی بار عمیر سے ملی تھی اور یہ شعر اسنے تمہارے لیے بولا تھا، ہزار بار سن چکا ہوں‘‘ اسکی بات کاٹتے وہ بےزار سا بولا، جس پر سروج ہنس دی
’’جانتے ہوں آج جب میں نے یہ شعر سنا نا تو لگا کہ عمیر واپس آگیا ہے، مگر غلط تھی میں، وہ عمیر نہیں تھا، عمیر کی آنکھوں میں محبت تھی، احترام تھا، جبکہ اسکی آنکھوں میں۔۔۔۔۔۔مجھے نفرت ہو رہی ہے ان آنکھوں وحشت ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔وہی دن وہی شعر مگر عمیر نہیں تھا، اسکی محبت نہیں تھی۔۔۔۔تھا تو صرف مطلب‘‘
’’نہیں وہ ایسا نہیں ہے‘‘ زرار فٹ سے موسی کے حق میں بولا
’’کون زرار۔۔۔ کس کی بات کر رہے ہوں؟ وہ شخص؟‘‘ سروج حیران ہوئی
’’میرا مطلب کے عمیر ایسا نہیں تھا اور اس شخص تم فکر نا کروں اب کبھی تمہارے راستے میں وہ نہیں آئے گا‘‘ زرار نے اسے یقین دلایا جس پر وہ مطمئن ہوگئی تھی
’’تمہارا دماغ تو بہت جلد ٹھکانے لگانا پڑے گا۔۔۔۔ موسی علی زماد‘‘ سروج کے ساتھ کلاس میں داخل ہوتے، اسنے سامنے بیٹھے موسی کو دیکھ کر سوچا۔
’’تو کیا یہ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں؟ کیا زرار کا کسی بھی طرح عمیر سے کوئی تعلق ہے؟‘‘ ان دونوں کے ایک ساتھ باتیں کرتے اندر داخل ہوتا دیکھ کر موسی نے سوچا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *