Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23

’’کب تک آؤ گے تم لوگ جلدی کروں۔۔ بچہ میرے پاس ہی ہے۔۔ ہاہاہا اسکی تم فکر نا کروں وہ بےہوش پڑی ہے کچھ نہیں کرسکتی۔۔۔ ہاں بس جلدی کروں۔۔ بہت مال ہے ان کے پاس۔۔۔۔ اب ہمارے بھی عیاشی کے دن آگئے ہیں‘‘ وہ فون پر مسلسل کسی سے رابطے میں تھی
ھدی کی آنکھیں آہستہ آہستہ کھل رہی تھی۔۔۔ اسنے مندی مندی آنکھوں سے ارد گرد کا جائزہ لینا شروع کیا
دماغ بیدار ہوا تو سب کچھ یاد آنے لگا
’’ابراہیم‘‘ وہ بڑبڑائی اور ایک سسکی نکلی اسکے منہ سے
اسنے آنکھیں کھولے، اس عورت کو دیکھا جو ابراہیم کو تھامے اب دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی اسکی پیٹھ ھدی کی طرف تھی، ساتھ ہی اسکی نظر ابراہیم پر گئی جس کے گال اور آنکھیں رونے کے باعث سرخ ہوگئے تھے، ابراہیم بھی اسے آنکھیں کھولے دیکھ چکا تھا اسی لیے آوازیں نکالے اسے پکارنے لگا، جس پر مسز عاسم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ھدی آنکھیں میچ گئی
اسے کچھ بھی کرکے خود کو ابراہیم کو بچانا تھا۔۔۔۔ مگر کیسے؟ وہ بےبس تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آیا
اس سے پہلے کو وہ کچھ سوچ پاتی ایک بار پھر نیند کا غلبہ اس پر حاوی ہوگیا اور وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگئی
’’آفیسر میرا بیٹا؟‘‘ پارکنگ میں آتے ہی سروج کار سے نکل کر پولیس کی طرف بڑھی
’’فکر مت کریں ہم انہیں بچا لے گے آپ بس ہمیں بتائے کہ کونسے فلور پر آپکا اپارٹمنٹ ہے؟‘‘ آفیسر نے تسلی آمیز لہجے میں پوچھا
سروج نے انہیں اپنے فلور کا پتا بتایا اور انکے پیچھے ہی چل دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیل کی آواز پر مسز عاسم کھل اٹھی۔۔۔ انہیں اپنی قسمت بدلتی نظر آئی۔۔۔ وہ خوشی سے جھومتے دروازے تک گئی اور اسے پورا کھول دیا۔۔ بنا دیکھے
آگے کا منظر انکے ہوش اڑانے کو کافی تھا، جب انہوں نے سروج کوپولیس کے ساتھ پایا
اس سے پہلے کے وہ کوئی بھاگنے کی تدبیر لڑاتی۔۔۔۔ پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا تھا
’’یہ یہ کیا کررہے ہیں آپ لوگ۔۔۔۔۔ شرم نہیں آتی آپ لوگوں کو ایک شریف انسان کو یوں حراست میں لیتے ہوئے‘‘ مسز عاسم چیخی
’’او مائی ہمیں ہمارا کام مت سکھا اور کون کتنا شریف ہے یہ تو تھانے جاکر ہی بتائے گی تجھے‘‘ ایک پولیس والا اسے جواب دیتے بولا
’’دیکھو میرے پاس بہت پیسہ ہے میں اس میں سے تم لوگوں کو بھی دوں گی بس مجھے جانے دوں‘‘ سروج اور زرار کو اپنے فلیٹ میں جاتے دیکھ کر وہ پولیس والو کو لالچ دیتے بولی
’’آفر تو تمہاری اچھی ہے بہت۔۔۔ مگر وہ کیا ہے نا ہر پولیس والا رشوت خور یا بےغیرت نہیں ہوتا سمجھی۔۔۔۔ ہمیں خدا کو بھی جواب دینا ہے‘‘ ایک آفیسر اسکی ساری امیدوں پر پانی پھیرتے بولا
’’سر!!‘‘ اتنے میں ایک اور پولیس والے نے آکر اسے سیلوٹ کیا
’’ہاں؟‘‘
’’صاحب یہ محترمہ اکیلی نہیں ہے۔۔۔ ایک بہت بڑا گینگ ہے انکا۔۔۔۔۔ ابھی نیچے اسکے کچھ آدمی پکڑے ہیں ہم نے جو اس کے ساتھ اس بچے کو اغواہ کرنے کے منصوبے میں شامل تھے‘‘ وہ پولیس والا مودبانہ لہجے میں بولا
’’ہممم ٹھیک ہے اسے اور ان سب کو تھانے لے جاؤ باقی کی خاطر داری ہم وہی کرے گے‘‘ آفیسر ہنکارہ بھرتے بولے
’’جیسا آپ کہے سر‘‘ اسسے سیلوٹ کرتے وہ مسز عاسم کو ہتکڑیاں پہناتے وہاں سے چل دیے
آفیسر اب اپنی باقی ٹیم کے ساتھ اندر داخل ہوا جہاں ایک طرف سروج ابراہیم کو اپنے سینے میں بھینچے رونے میں مصروف تھی۔۔۔ وہی دوسری طرف زرار ھدی کے پاس بیڈ پر بیٹھے اسکا ہاتھ تھامے اسے گھور رہا تھا
’’ان محترمہ کا کیا تعلق ہے آپ سے؟‘‘ آفیسر نے سوال کیا
’’جی یہ میری نند ہے ‘‘ سروج نے جواب دیا
’’اور یہ محترم؟‘‘ اب اسکا اشارہ زرار کی طرف تھا
’’یہ میرے بزنس پارٹنر اور دوست ہے‘‘ سروج نے پھر جواب دیا
’’ان دونوں کا آپس میں کیا رشتہ ہے؟‘‘ اسنے زرار اور ھدی کے متعلق سوال کیا جس پر وہ چونکی
’’آئی مین بہت کلوز لگتے ہیں یہ دونوں ایک دوسرے کے‘‘ اشارہ زرار کا ھدی کے قریب بیٹھے اسکے ہاتھ تھامنے پر تھا
’’وہ۔۔ وہ یہ دونوں‘‘
’’ہم دونوں کی بہت جلد منگنی ہونے والی ہے اور پھر شادی۔۔۔۔ ہم ایک کپل ہے‘‘ اس سے پہلے سروج کچھ بولتی جواب زرار کی طرف سے آیا
’’او آئی سی۔۔۔‘‘ آفیسرنے جیسے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا
’’اور ایک اور بات آفیسر میں چاہتا ہوں کہ اس عورت کو اتنی عبرت ناک سزا ملے کہ آئندہ کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے سے پہلے سو بار سوچے‘‘ زرار کا لہجہ خطرناک حد تک سنجیدہ تھا۔۔۔ ایک پل کو تو اس آفیسر کو بھی خوف محسوس ہوا
’’میں کوشش کروں گا۔۔۔۔‘‘
’’آہ ہاں کوشش نہیں کرنی کر کے دکھانا ہے‘‘ اس سے پہلے کے آفیسر پوری بات کرتا زرار اسے ٹوکٹے بولا
ہمم سہی ۔۔۔ آفیسر سر ہاں میں ہلائے وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج اور زرار ھدی اور ابراہیم کو ان کے فلیٹ میں لے آئے تھے
ھدی کو بیڈ پر لٹائے اور ابراہیم کو سلا کر سروج اور زرار اب لاؤنج میں بیٹھے تھے۔۔۔۔
ان دونوں کے درمیان طویل خاموشی تھی جسے سروج نے توڑا
’’تو موسی تمہارا کزن ہے؟‘‘ سروج نے سوال کیا
’’ہاں‘‘ زرار بےتاثر لہجے میں بولا
’’ہمم‘‘ سروج نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا
’’ویسے خاصہ موالی قسم کا کزن ہے تمہارا‘‘ سروج کے کمنٹ پر زرار نے اسے گھورا
’’آئی مین اسکا حلیہ۔۔۔۔۔ یو نو؟‘‘ سروج نے بات سنبھالی
’’نو آئی ڈونٹ نو۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مجھے اس بارے میں بات نہیں کرنی‘‘ زرار نے بات ختم کردی گویا خس کم جہاں پاک
اس سے پہلے وہ بات کرتی اسے ابراہیم کے رونے کی آواز آئی اور وہ تیزی سے کمرے کی جانب چل دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’آہ‘‘ ایک کراہ کے ساتھ اسنے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔۔ جب مانوس سی خوشبو اسے اپنے آس پاس سے آئی
آنکھیں کھلتے ہی جب اسنے چاروں اطراف دیکھا توحیرت کا کوئی مقام نا رہا کیونکہ وہ اس وقت اپنے کمرے میں تھی
اسکی آنکھیں فٹ سے کھلی
اتنی ہی تیزی سے اسنے خود پر اوڑھا لحاف اتارا اور بیڈ سے نکلی، جب دماغ میں اٹھنے والی ٹیس سے دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گئی
کچھ پل یونہی بیٹھ کر اپنے حواس سنبھالتے وہ دوبارہ سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکلی، وہ حیران ہوئے بنا نا رہ سکی کیونکہ وہ اس وقت اپنے ہی فلیٹ میں موجود تھی نا کہ مسز عاسم
’’بھابھی؟‘‘ وہ سرگوشی نما آواز میں بولی
’’بھابھی!!! ابراہیم!!‘‘ ابکی بار وہ قدرے اونچی آواز میں چلائی۔۔ جب لاؤنج میں بیٹھا زرار اور اپنے کمرے میں ابراہیم کو سلاتی سروج دونوں تیزی سے باہر نکلے
’’ھدی‘‘ سروج نے اسے آواز دی
’’بھابھی‘‘ سروج کو یوں سامنے پاکر وہ خوشی اور غم کے ملے جلے تاثرات لیے اسکے گلے لگ رونا شروع ہوگئی
’’بس میری جان چپ‘‘ اسکی پیٹھ سہلاتے سروج بولی
’’بب۔۔۔بھابھی۔۔۔ وہ۔۔ وہ آنٹی ۔۔بب۔۔۔بولی۔۔۔۔ ابراہیم۔۔۔ ابراہیم کو ۔۔۔ لل۔۔۔لیجائے گی۔۔۔۔۔ مم۔۔۔۔۔میں نے بچانے کی کک۔۔کوشش کی۔۔۔۔قسم سے۔۔۔۔ ابراہیم ، ابراہیم کہاں ہے؟‘‘ سروج سے علیحدہ ہوئے اب وہ روتے ہوئے ابراہیم کا پوچھنے لگی
’’ھدی۔۔ چندا۔۔۔ ادھر دیکھو ابراہیم بلکل ٹھیک ہے سویا ہوا ہے کمرے میں اور اب کوئی بھی اسے کہی نہیں لیکر جائے گا‘‘ اسکا چہرہ تھامے وہ اسے بتانے لگی جس پر ھدی دوبارہ سے اس سے لپٹ گئی
’’واہ کیا محبت ہے‘‘ اس سب ڈرامے سے بیزار زرار بولا
اجنبی آواز پر ھدی نے سر اٹھا کر دیکھا تو آنکھیں باہر آنے کو تھی، جبکہ سروج زرار کو گھورنے لگی۔
زرار نے سروج کی گھوری کو دیکھا ہی کہا تھا، وہ تو بس اپنی ھدھد کی آنکھوں میں ڈر اورخوف دیکھ کر۔۔ مسکرانے لگا
’’بب۔۔بھابھی یہ۔۔۔۔‘‘خوف سے کانپتی ھدی نے زرار کو دیکھتے سروج سے پوچھا
’’ھدی یہ۔۔۔۔ دراصل یہ میرا بزنس پارٹنر اور دوست ہے زرار احمد زماد‘‘ سروج یوں بولی جیسے اسے کچھ پتا نا ہوں۔۔۔۔ ھدی کو تو دنیا گھومتی محسوس ہوئی اپنے ارد گرد
اتنے میں ابراہیم کے رونے کی آواز سن کر سروج کمرے میں تیزی سے چلی گئی، اب ھدی خود کو زرار کی ایکسرے کرتی نظروں سے بچانے کے لیے تیزی سے اپنے کمرے کی طرف مڑی
’’یہاں آؤ‘‘ زرار کی آواز میں حکم تھا جس پر ھدی اپنی جگہ پر جم کر رہ گئی
’’وہ۔۔۔وہ مم۔۔۔مجھے۔۔۔۔ نیند۔۔۔ نیند آرہی۔۔۔۔۔۔ سونا ہے‘‘ وہ کانپتی آواز میں بولی
’’ابھی بھی سونا ہے؟‘‘ اسکے بلکل قریب کھڑے ہوتے زرار نے پوچھا، جس پر ھدی نے تعبیداری سے سر ہلا دیا
’’سو جانا مگر پہلے کچھ کھا لو۔۔۔۔ شاباش آجاؤ‘‘ اسکا ہاتھ تھماے وہ اسے کچن میں لے گیا۔۔۔ جبکہ ھدی بےبسی سے لب کچل کر رہ گئی
’’بب۔۔۔بھوک نہیں ہے۔۔ سونا ہے‘‘ وہ دھیمی آواز میں بولی
’’اتنا تو سوئی ہوں۔۔۔ ابھی بھی سونا ہے؟‘‘ اسکا ہاتھ تھماے کرسی پر بٹھائے وہ فریج میں سے پاستا نکالنے لگا
پاستا اوون میں گرم کیے اسنے پلیٹس نکالی اور ٹیبل پر رکھ دی۔۔۔ ساتھ ہی ساتھ اسنے فریج سے پانی کی بوتل نکال کر ٹیبل پر رکھ دی۔۔۔ ساس، کیچپ، مایونیز۔۔۔۔۔ پاستا کے ساتھ کے سارے لوازمات ٹیبل پر سجائے اب اس نے اوون سے پاستا نکالے ٹیبل پر رکھ دیا
ھدی اس سب میں نگاہیں جھکائے بیٹھی رہی
’’کھاؤ‘‘ زرار کی آواز پر اسنے نظریں اٹھائے اسے دیکھا جو اب کھانے میں مصروف تھا
’’کیا بہت ہینڈسم ہوں میں؟‘‘ زرار نے اس سے سوال کیا
’’نن۔۔نہیں‘‘
’’کیا نہیں ہوں‘‘ ہلکی سی مسکان سجائے اسنے پوچھا
’’وہ مجھے بھوک لگی ہے‘‘ کہتے ہی اسنے پلیٹ میں پاستا نکالا اور کھانے لگ گئی
زرار کھا چکا تھا تو اب فرصت سے اسے دیکھنے لگا جو چڑیا کی طرح کھانے میں مصروف تھی، وہ اسکی خود پر جمی نظروں سے پزل ہورہی تھی
’’کیا ہے؟آپ مجھے دد۔۔دیکھ کیوں رہے ہیں‘‘ وہ چڑ چکی تھی اسکے دیکھنے سے
’’تم بھی تو مجھے دیکھ رہی تھی میں نے کچھ کہا‘‘ زرار نے تو الٹا اس سے سوال کیا جس پر وہ شرمندگی سے سر جھکا گئی
’’وہ۔۔وہ میں یہاں کیسے آئی۔۔۔ میں تو وہاں تھی نا‘‘ اسنے سوال کیا
’’میں اٹھا کر لایا ہوں‘‘ زرار نے پرشوق نگاہوں سے جواب دیا اور اب اسکے چہرے پر بدلتے رنگ دیکھ رہا تھا
ھدی نے تو اپنی طرف سے بات بدلنا چاہی تھی مگر اسے ہی بھاری پڑی
’’وہ میں جاؤ‘‘ جب کچھ نا بن پڑا تو معصومیت سے بولی
’’اور اگر میں منع کردوں تو؟‘‘ زرار نے جواب دیا
’’مجھے جانا ہے‘‘ اسنے اپنی بات کہی
’’تو میرے ساتھ چلو‘‘
’’کیا؟‘‘ ھدی تو اسکی بات پر سٹپٹائی
’’میں سونے جارہی ہوں‘‘ کہتے ہی وہ تیزی سے اپنے کمرے میں داخل ہوئی اور اسے بند کردیا
اسکا دل دھڑک رہا تھا
’’میں جارہا ہوں‘‘ زرار نے اونچی آواز میں اپنے جانے کا بتایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’عمارہ عمارہ رکو‘‘ اسے باہر جاتے دیکھ کر موسی اسکے پیچھے گیا اور اسے روک دیا
’’واٹ؟‘‘ وہ چلائی
’’اففف آئرن وومن آرام سے‘‘ موسی ایک انگلی کان میں ٹھونسے بولا
’’کیا مسئلہ ہے بولو جلدی‘‘
’’آرام سے یار چلو آؤ میں تمہیں ڈراپ کردوں‘‘ موسی نے آفر دی
’’ہممم ٹھیک چلو‘‘ عمارہ کچھ بولنا چاہتی تھی مگر مراد کو وہاں آتے دیکھ کر اسنے حامی بھر لی
’’لیڈیز فرسٹ‘‘ اسکے لیے کار کا دروازہ کھول کر موسی بولا
عمارہ کو کار میں بٹھائے وہ مراد کی طرف آیا
’’اسے ٹائم دوں وہ سہی ہوجائے گی‘‘ مراد کے شانے کو تھپتھپاتے وہ بولا
’’ہمم اسے دھیان سے گھر پہنچا دینا‘‘ مراد گاڑی کی طرف نظریں کیے بولا
’’ٹیک کیر۔۔ اللہ حافظ‘‘ اسکے گلے لگتا موسی بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’بھابھی میں آجاؤ‘‘ دروازہ ناک کیے اسنے پوچھا
’’ہاں آجاؤ‘‘ سروج نے اجازت دی
’’کیا بات ہے چندا، کچھ چاہیے‘‘ اسے اتنی رات گئے اپنے کمرے میں دیکھ کر وہ حیران ہوئی
’’وہ بھابھی ایک سوال پوچھو؟‘‘ اپنی انگلیاں چٹخائے اسنے پوچھا
’’ہاں پوچھو؟‘‘ سروج نے اجازت دی
’’وہ بھابھی وہ آپ؟ وہ آپ بی۔۔ میرا مطلب کہ آپ زرار کو کیسے جانتی ہے؟‘‘ ھدی نے سوال کرہی لیا
سروج بھی اس سوال کے لیے اچھے سے تیار تھی
’’وہ میں نے اور زرار نے ایک ہی یونی سے بی۔ایس کیا تھا، ہم بہت اچھے دوست تھے، اور تو اور عمیر سے بھی زرار کی بہت اچھی دوستی تھی‘‘ سروج نے بتایا
’’بھائی جانتے تھے؟‘‘ ھدی حیران ہوئی
’’ہاں جانتے تھے اور تم کیوں اتنی حیران ہورہی ہوں۔۔۔ تم بھی تو ملی تھی زرار سے‘‘ سروج نے اسکے سر پر ایک اور بمب پھوڑا
’’میں!!! میں کب؟ ‘‘ ھدی حیران ہوئی
’’ارے تمہیں یاد نہیں ایک بار یونی میں کنسرٹ تھا تو تم آئی تھی تب ملی تو تھی‘‘ سروج نے اسے یاد دلایا
’ویسے تم یہ سب کیوں پوچھ رہی ہوں؟‘‘ سروج انجان بنی
’’وہ بھابھی آپ کو ایک بات بتاؤ آپ یقین نہیں کرے گی‘‘ ھدی تھوڑا آگے ہوکر بولی
’’ہاں بتاؤ‘‘
’’بھابھی یہ آپ کا دوست جو ہے نا۔۔۔۔ اصل میں۔۔۔۔ بھابھی یہی بیسٹ ہے۔۔۔ وہ میرا بیسٹ ہے۔۔۔ مطلب وہ بیسٹ‘‘ ھدی تو بول چکی جبکہ سروج کہ ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آکر غائب ہوئی
وہی دوسری طرف سروج کے ساتھ کال پر موجود زرار کے لب ’’میرے بیسٹ‘‘ پر مسکراہ اٹھے
’’تمہارا تو میں واقعی ہوں‘‘ ھدی کے تصور سے مخاطب ہوئے وہ بولا
’’کیا سچ میں؟‘‘ اسے سروج کی پریشان سی آواز سنائی دی
’’ہاں نا بھابھی سچ میں۔۔۔۔ بھابھی۔۔۔۔‘‘ ھدی نے اسے پکارہ
’’جی؟‘‘
’’بھابھی آپ اپنے دوست کو کہوں نا کہ وہ مجھے تنگ نا کرے اور فرینڈز بھی بنانے دے، سب کے پاس یونی میں فرینڈز ہیں۔۔۔ سوائے میرے، میرا بھی دل چاہتا ہے دوست بنانے کا، مگر کوئی نہیں کرتا‘‘ ھدی کی آواز سن کر ایک پل کو تو زرار کو افسوس ہوا
’’ڈونٹ وری ھدھد بہت جلد تم میری دوست بن جاؤ گی اور پھر تمہیں کسی دوست کی ضرورت نہیں رہے گی‘‘ وہ ایک بار پھر خود سے مخاطب ہوا۔
’’اچھا تم فکر نا کروں میں بات کروں گی اس سے تم جاؤ چندا شاباش سو جاؤ‘‘ سروج اسے پیار سے پچکارتے بولی، وہ سر ہاں میں ہلا کر اپنے کمرے کی طرف چل دی
’’سن لیا تم نے؟‘‘ فون کان کو لگائے سروج نے زرار سے پوچھا
ھدی کے کمرے میں آنے سے پہلے وہ زرار سے کال پر مصروف تھی، مگر ھدی کی وجہ سے اسنے کال بند نا کی بلکہ موبائل سائڈ پر رکھ دیا اور یوں زرار نے ان کی سب باتیں سن لی
’’ہاں سن لیا میں نے‘‘ وہ آنکھیں بند کیے، تصور میں ھدی کا چہرہ لائے ایک جذب سے بولا
’’اسے میں یاد نہیں‘‘ زرار نے بند آنکھوں سے شکوہ کیا
’’زرار وہ تم سے صرف ایک بار ملی تھی وہ بھی پانچ منٹ کے لیے‘‘ سروج نے اسے یاد دلایا
’’تو؟میں تو اس سے بہت بار ملا اور مجھے بھی تو یاد رہی نا وہ، تو میں اسے کیوں نہیں‘‘ زرار نے سوال کیا
’’شائد اس لیے کہ تم اس سے محبت کرتے ہوں‘‘ سروج نے جواز پیش کیا
’’وہ مجھ سے کب محبت کرے گی سروج؟‘‘ زرار نے آس سے پوچھا
’’جب تم اسے یقین دلاؤ گے زرار‘‘
’’دلاتا تو ہوں‘‘
’’نہیں تم اسے ڈراتے ہوں زرار، وہ تم سے محبت کرے نا کرے مگر تم سے خوف آتا ہے اسے۔۔۔۔ اسے ڈراؤ مت بلکہ اپنی محبت پر یقین دلواؤ‘‘ سروج کی باتیں آہستہ آہستہ اسکے ذہن میں بیٹھ رہی تھی
’’میں کل ہی سب کلیر کردوں گا‘‘ وہ ایک دم پرجوش سا بولا
’’ارے ارے باولے میاں آرام سے، کہی بھاگی تھوڑی نا جارہی ہے۔۔۔ ہمت سے کام لو‘‘ سروج مسکراہ کر بولی تو زرار ہنس دیا
’’نہیں سروج اب اور صبر نہیں۔۔۔۔ بہت انتظار کرلیا میں نے‘‘ وہ ایک جذب سے بولتا کال بند کرگیا
’’افففف یہ نہیں بدلے گا۔۔۔ سائیکو زرار‘‘ کال بند ہونے پر وہ منہ بنائے بولی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *