Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40

رخصت ہوئے وہ زماد ولا میں آچکی تھی۔۔۔۔۔۔ اسکی حالت کے زیر اثر موسی نے کسی بھی قسم کی رسم سے منع کردیا تھا
ندا اور علی زماد تو آتے ہی اپنے اپنے کمروں میں بند ہوگئے تھے
ندا نفرت کی وجہ سے اور علی زماد وہ سروج سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہے تھے
مسز علی سروج کو موسی کے کمرے میں لے آئی تھی۔۔۔ کمرے میں صرف پھولوں کے دو تین بوکے رکھے گئے تھے
’’بیٹا تم آرام سے بیٹھو میں موسی کو بھیجتی ہوں‘‘ مسز علی کو سروج کی حالت دیکھ کر افسوس ہورہا تھا
وہ بھی تو ماں تھی انکی بھی تو اولاد ان سے چھین لی گئی تھی۔۔۔ سروج کا ابراہیم کے لیے یوں تڑپنا انہیں موسی کے انتخاب پر رشک ہوا وہ واقعی میں ایک بےلوث لڑکی اور اچھی ماں تھی
’’آنٹی ابراہیم وہ کہاں ہے؟ اسے بھیج دے۔۔۔ اسے میرے یا ھدی کے بنا رہنے کی عادت نہیں۔۔۔۔۔۔۔ وہ ضرور کل رویا ہوگا ہے نا۔۔۔۔۔۔ آپ پلیز اسے بھیج دے میرا دل۔۔۔۔۔ میں ملنا چاہتی ہوں اسے‘‘ سروج کی بات پر وہ نظریں پھیر گئی ۔۔۔۔۔ اب وہ کیا بتاتی کہ وہ ایک رات بھی اسکا دھیان نا رکھ سکی۔۔۔۔
’’تم ریلیکس کروں میں بھیجتی ہوں اسے‘‘ اسے دلاسہ دیتے وہ کمرے سے باہر لاؤنج میں چلی گئی۔۔۔۔۔۔ جہاں موسی کو گہری سوچ میں پایا
’’کیا سوچ رہے ہوں؟‘‘ اسکے پاس بیٹھتے انہوں نے پوچھا
’’مام کیا میں نے غلط کیا؟‘‘ موسی نے انکی گود میں سر رکھے پوچھا
’’ہاں موسی بہت غلط کیا تم نے‘‘ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے وہ بولی
’’تو اب کیا کروں میں؟‘‘ معصوم بچے کی مانند سوال کیا اسنے
’’غلط کو سہی کروں اسے احساس دلاؤ اپنی محبت کا‘‘ انہوں نے پیار سے سمجھایا
’’اور اگر بدلے میں مجھے ویسی محبت نا ملی؟‘‘ اسنے خدشہ ظاہر کیا
’’محبت میں کیسی سودےبازی موسی۔۔۔۔۔ محبت کے بدلے محبت ملے ایسا ضروری نہیں اور یہ محبت کا اصول بھی نہیں۔۔۔ اگر اس سے محبت کرتے ہوں، بےغرض، بےلوث کروں‘‘
’’اب ماں کی گود سے نکلو اور بیوی کے پاس جاؤ۔۔۔۔ وہ ابراہیم کا پوچھ رہی ہے‘‘
’’مجھے نہیں جانا‘‘ اسنے منہ بنائے جواب دیا
’’کیوں؟‘‘ مسز علی نے پوچھا
’’کیا اپنے جوان جہان بیٹے کو قتل کروانا چاہتی ہے؟‘‘ اسنے گود سے سر اٹھاتے پوچھا
’’استغفراللہ کبھی تو اچھا بول لیا کروں۔۔۔۔۔ اور چلو جلدی سے میری بہو کے پاس جاؤ‘‘ اسکے سر پر چیت لگاتے انہوں نے کمرے میں بھیجا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا لہنگا سنبھالتے وہ بیڈ سے اٹھی اور صوفہ کے پاس پڑے اپنے بیگ کے پاس پہنچی جس میں اسکے کپڑے رکھے تھے۔۔۔۔۔۔ یہ کمرہ۔۔۔۔۔ اسکا دم گھٹ رہا تھا۔۔۔۔۔ وہ فیصلہ کرچکی تھی کہ وہ اس گھر میں تو رہے گی مگر وہ اور ابراہیم دوسرے کمرے میں رہے گے۔۔۔ وہ موسی سے کسی بھی قسم کا تعلق استوار کرنے کے حق میں نہ تھی
اس سے پہلے کے وہ جھک کر اپنا سوٹ نکالتی ایک دم دروازہ کھلا
’’ابراہیم‘‘ وہ خوشی سے بولتے پیچھے مڑی مگر آنے والے کو دیکھ کر مسکراہٹ ایک دم سکڑ گئی
موسی جو اندر داخل ہوتے اسکے منہ سے ابراہیم کا نام سن چکا تھا اسکی سکڑتی مسکراہٹ کو دیکھ کر اسے افسوس ہوا مگر تمام سوچوں کو جھٹکتے وہ دروازہ بند کرتا اس سے ٹیک لگائے سروج کو دیکھنے لگا
بہاروں کی جان پر بن آئی
آج دیکھا ہے انہیں سرخ لباس میں
ایک جذب سے شعر بولتا۔۔۔۔۔۔قدم بڑھاتا وہ اسکی طرف آنے لگا۔۔۔۔ سروج جو تب سے خود کو مضبوط ظاہر کررہی تھی اب اسے وحشت ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔ سروج کی یہ حالت موسی سے مخفی نا رہی
’’دیکھو قریب مت آنا میرے ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا‘‘ دلہن کے سرخ جوڑے میں ملبوس اسکے دل پر قیامت ڈھاتے وہ بولی
’’اور اگر میں قریب آؤ تو؟‘‘ وہ تو جیسے اسکی حالت سے لطف اندوز ہورہا تھا
’’تو؟تو، تو۔۔۔ تو میں اپنی جان دے دو گی‘‘ جب کچھ سمجھ نا آیا تو فروٹ باسکٹ میں رکھی چھری اٹھائے اپنی کلائی پر رکھتے وہ بولی
’’بہت محبت ہے تمہیں عمیر سے‘‘ چھری کو دیکھتے اسنے سکون سے پوچھا
’’ہاں بہت زیادہ سنا تم نے بہت زیادہ محبت ہے مجھے اس سے‘‘ وہ چیخی چلائی، جبکہ موسی تو دونوں بازوں سینے سے باندھے ابھی بھی آرام سے اسکی کاروائی دیکھ رہا تھا
’’تم جانتی ہوں سروج موسی علی کے تم اپنی جان کیوں لینا چاہتی ہوں‘‘ وہ پرسکون سا بولا اور سروج اسے دیکھنے لگی
’’تم اپنی جان اس لیے نہیں لینا چاہتی کے تم عمیر سے محبت کرتی تھی اور اسکے علاوہ کسی اور کی ہو نہیں سکتی، بلکہ اس لیے لینا چاہتی ہوں کیونکہ تمہیں موسی سے نفرت ہے اور تم اسکی کبھی ہوگی نہیں‘‘
’’مسئلہ عمیرسے محبت نہیں بلکہ موسی سےنفرت ہے جو تمہیں سکون میسرنہیں‘‘
’’موسی سے نفرت کی وجہ عمیر کی محبت نہیں بلکہ موسی کی ذات ہے جس میں تمہیں ہزار کھوٹ نظر آتے ہیں، مگر ایک بات یاد رکھنا اب جو بھی ہے تم موسی کی اور موسی تمہارا ہے، اور درمیان میں کسی تیسرے کی کوئی گنجائش نہیں‘‘ اس کے ہاتھ سے چھری پکڑ کر ٹیبل پر رکھتے وہ بولا، جبکہ وہ حیران نظروں سے اسے دیکھے جارہی تھی
’’کیا نظر لگانے کا ارادہ ہے؟‘‘ مسکراہٹ دباتے اسے خود کو گھورتے دیکھ کر وہ مسکراہ کر بولا۔
چاند سے چہرے کا صدقہ بھی اتارا کیجیے
مشورہ ہے یہ میری جان گوارہ کیجیے
اسکی نفرت بھری آنکھوں میں دیکھتے وہ بولا
’’فریش ہوجاؤ ابراہیم سے ملنے جانا ہے‘‘ اسکا گال تھپکتا وہ اپنے کپڑے لیے دوسرے کمرے میں چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ھدی چلو کھانا کھا لو‘‘ اسے یونہی اداس بیٹھے دیکھ کر زرار بولا
’’بھوک نہیں‘‘ وہ سر نفی میں ہلاتے بولی
’’میں پوچھ نہیں رہا بتا رہا ہوں‘‘ زرار اسکے سامنے کھڑا بولا
’’میں بھی بتارہی ہوں‘‘ ھدی نے ویسے ہی جواب دیا
’’ٹھیک ہے مت کھاؤں مجھے کیا۔۔۔۔۔ ویسے بھی انکل آنٹی نےبھی نہیں کھایا تماری وجہ سے کیا ہوجائے گا اگر ایک دن وہ نا کھائے‘‘ زرار مزے سے کندھے اچکاتے بولتا وہ وہاں سے چل دیا
’’رکوں۔۔۔۔۔۔ چلو چلے‘‘ ھدی اٹھتی اسکے ساتھ آکھڑی ہوئی
سروج سے اسنے وعدہ کیا تھا کہ وہ انکا خیال رکھے گی
ھدی کے نا نا کرنے کے باوجود بھی زرار اسے اچھا خاصہ کھلا چکا تھا
’’اب کیوں رو رہی ہوں‘‘ اسکی آنکھوں میں دوبارہ آنسو دیکھ کر زرار نے پوچھا
’’نہیں کچھ نہیں‘‘
’’ھدی سچ بتاؤ‘‘ زرار سخت ہوا
’’کچھ نہیں بس بھابھی کی یاد آرہی ہے۔۔۔۔۔ آج ایک بار پھر خود کو یتیم محسوس کررہی ہوں‘‘
ھدی کی بات پر زرار نے لمبی سانس لی
’’کیا تم مجھے اپنا مانتی ہوں؟‘‘ زرار نے اس سے سوال کیا
ھدی نے حیرانگی سے اسے دیکھا
’’بتاؤ ھدی جواب دوں‘‘ زرار کی بات پر ھدی نے سر ہاں میں ہلادیا
’’تو بس یقین کروں سروج خود کو سنبھال لے گی۔۔۔۔ بہت مضبوط ہے وہ‘‘
’’اور میں؟‘‘ اسنے سوال کیا
’’میں ہوں نا‘‘
’’شارخ خان ہے کیا آپ‘‘ ھدی نے منہ بنایا
’’اچھا اب باتیں بہت ہوگئی جاؤ سوجاؤ‘‘ زرار اسے بولا
’’ایک بات پوچھو؟‘‘
’’پوچھو‘‘
’’آپ بھابھی سے ناراض نہیں؟‘‘
’’ہوں نا مگر اس لیے نہیں کہ اس نے موسی سے شادی کی بلکہ اس لیے ہوں کہ وہ ہمیشہ دوسروں کے بارے میں سوچتی ہے۔۔۔۔ مجھے غصہ تھا کہ ابراہیم اسکا سگا بیٹا تو نہیں تو پھر وہ اس کے لیے اس قدر تڑپ رہی تھی۔۔۔۔۔ عجیب ہے نا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اب میں اس سے ناراض نہیں ہوں جانتا ہوں کہ وہ اسے بچانا چاہتی ہے‘‘ زرار بولا تو ھدی نے سمجھ میں سر ہلا دیا
’’چلو اب میرے چلنے کا وقت ہوگیا ہے تم دروازہ لاک کرلینا‘‘ اسے نصیحت کرتا وہ دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔۔ جب ھدی بھی اسکے پیچھے چل دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہسپتال کے سامنے گاڑی کے رکتے ہی سروج جلدی سے باہر نکلی اور موسی کی جانب دیکھے بنا وہ اندر کی طرف بھاگ گئی۔۔۔ موسی اسکی جلدبازی دیکھ کر حیران رہ گیا
ریسیپشن سے چائلڈ وارڈ کا پوچھتے وہ تیزی سے اس جانب بڑھی
چائلڈ وارڈ میں داخل ہوتے ہی اسکے کانوں سے ابراہیم کے رونے کی آواز ٹکڑائی۔۔۔۔۔۔ نرس اسے چپ کروانے کی ناکام کوشش کررہی تھی مگر بےسود
’’ابراہیم‘‘ سروج نے جلدی سے اسے نرس سے چھینا اور اپنے گلے لگائے چپ کروانے لگی۔۔۔۔۔ شائد ابراہیم بھی ماں کا لمس پاگیا تھا اسی لیے بہت جلد ہی وہ چپ کرگیا تھا
موسی انہماک سے منظر دیکھ رہا تھا
ابراہیم نے بخار میں اپنے ہاتھ اٹھائے اور سروج کے منہ پر پھیرنے لگا۔۔ سروج نےاسکا چھوٹا سا ہاتھ چوم لیا تھا
’’میری جان‘‘ سروج نے اسے گلے لگا لیا
تھوڑی دیر میں ابراہیم سو چکا تھا۔۔۔۔۔ اسکا بخار اب بہت حد تک کم ہوچکا تھا
’’سروج چلے‘‘ موسی نے آکر اس سے پوچھا۔۔ جو ابراہیم کے پاس بیٹھی تھی
’’کہاں؟‘‘ سروج نے حیرانگی سے پوچھا
’’سروج گھر‘‘ موسی کے جواب پر اسکی آنکھیں پھیل گئی
’’دماغ خراب ہے تمہارا؟‘‘ آس پاس کا خیال کرتے وہ ہلکی آواز میں چیخی
’’میرا بچہ یہاں ہوسپٹل میں ایڈمیٹ ہے اور تم چاہتے ہوں کہ میں گھر جاؤ‘‘
’’سروج ابراہیم کے پاس نرسز ہیں‘‘ موسی نے اختلاف کیا
’’واؤ مسٹر موسی جسٹ واؤ۔۔۔ ایک بات تو بتاؤ کیا تم شروع سے ہی اتنے بےحس ہوں؟۔۔۔۔۔ تمہیں جانا ہے تو جاؤ میں یہی رہوں گی اپنے بچے کے پاس‘‘ سروج کے دوٹوک الفاظ پر موسی سلگ اٹھا
’’ٹھیک جیسی تمہاری مرضی‘‘ موسی بھی ویسے جواب دیتا باہر کی جانب چل دیا
سروج نے نفرت اور حقارت سے اسے دیکھا
موسی غصے میں نکل آیا تھا۔۔۔۔ مگر باہر نکلتے ہی وہ مسکرانے لگا۔۔۔۔۔۔۔ موسی جانتا تھا سروج کی ابراہیم کے لیے محبت مگر وہ پھر بھی اس کو جانچنے سے نا روک پایا تھا۔۔۔ اب اسکے سروج اور ابراہیم کے حوالے سے تمام خدشات دور ہوگئے تھے۔۔۔۔ سچ تو یہ تھا کہ کل پوری رات موسی ابراہیم کے پاس رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اسے تکلیف ہوئی جب ندا نے انکار دیا تھا آنے کے لیے
خیر اب گھر جانے کا سوال تو پیدا ہی نہیں ہوتا تھا اسی لیے وہ کار میں بیٹھ گیا اور پوری رات وہی گزارنے کا سوچ چکا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابراہیم بلکل ٹھیک ہوگیا تھا۔۔۔۔۔ اسے ڈسچارج مل گیا تھا۔۔۔۔۔ سروج کے پاس موبائل نہیں تھا پہلے اسکا ارادہ اپنے گھر جانے کا تھا مگر پارکنگ میں موسی کی کار دیکھ کر وہ حیران رہ گئی
’’یہ کب آیا؟‘‘ سروج نے حیرانگی سے سوچا اور قدم اٹھاتی اسکی طرف بڑھی
ڈرائیونگ سیٹ کی طرف کی ونڈو اسنے ناک کی تب کہی جاکر نیند میں ڈوبے موسی کی آنکھ کھل گئی
ونڈو نیچے کیے اسنے حیرت سے سروج کو دیکھا
’’تم پوری رات یہی تھے؟‘‘ سروج نے حیرت سے اس سے پوچھا جو اب گردن کو دائیں بائیں جھٹکا دیتا نیند بھگانے کی کوشش میں تھا
’’ہاں۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔ہاں‘‘ موسی گڑبڑا کر بولا
’’ہاں یا ناں؟‘‘
’’ہاں‘‘ وہ سپاٹ لہجے میں بولا
’’ہمم‘‘
گاڑی گھر کی طرف رواں تھی۔۔۔۔۔ سروج اور موسی دونوں اپنی جگہ خاموش تھے۔۔۔۔ سروج کی گود میں موجود ابراہیم اب پرسکون سا سویا ہوا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ارے آگئے تم لوگ‘‘ انہیں گھر میں داخل ہوتے دیکھ کر مسز علی بولی
’’السلام علیکم‘‘ سروج نے سب سے سلام لیا
’’وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔۔۔ میرا بچہ کیسا ہے اب؟‘‘ سروج کو جواب دیکر انہوں نے محبت سے ابراہیم کے بارے میں پوچھا
’’الحمداللہ بلکل ٹھیک ہے‘‘
’’اچھا جاؤ فریش ہوجاؤ اور پھر آکر ناشتہ کرلینا‘‘ جس پر سروج سر ہاں میں ہلائے کمرے کی جانب بڑھ گئی
جب تک وہ کمرے میں پہنچی موسی نہانے جاچکا تھا
اسنے آرام سے ابراہیم کو بیڈ پر لٹایا اور موسی کا ویٹ کرنے لگی
ناشتے سے فارغ ہوکر سروج ابراہیم کے پاس جارہی تھی جب ٹکراؤ ندا سے ہوا
’’تو فائنلی تم یہاں آگئی‘‘ اس کا طنز بخوبی محسوس کرتے سروج نے اگنور کرنا چاہا
’’یہ مت سمجھنا کہ تم زیادہ عرصہ یہاں ٹک جاؤ گی بہت جلد ہی تم وہاں جانے والی ہوں جہاں سے آئی تھی‘‘ ندا غصے سے بولی
’’پہلی بات تو یہ کہ مجھے یہاں رہنے کا شوق نہیں اور دوسرا اگر تم واقعی میں مجھے یہاں سے نکال دوں گی تو یہ احسان میں تمہارا زندگی بھر نہیں بھولو گی۔۔۔۔۔۔ تیسرا کوشش کرنا کہ مجھے ھدی کے اکیس ہونے کے بعد ہی نکالنا تاکہ میں اپنا بچہ ساتھ لیجاؤ اور چوتھی اور آخری بات تم سے تمہارے پیچھے کھڑا تمہارا بھائی کرے گا۔۔۔ بیسٹ اوف لک‘‘ موسی کی طرف اسکا دھیان کرواتے وہ مزے سے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔۔
ندا کا رنگ موسی کی سرد نگاہیں دیکھ کر اڑ چکا تھا۔۔۔۔۔۔ موسی نے پہلے ہی اسے صاف الفاظ میں وارن کیا تھا کہ وہ ایسی کوئی حرکت نا کرے جو اسےغصہ دلائے
’’بھیا وہ میں۔۔۔۔‘‘
’’ایک لفظ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔ آخری بار وارن کررہا ہوں کہ میرے پرسنل میٹرز سے دور رہوں‘‘ اسے انگلی دکھاتا وہ بھی سروج کے پیچھے چل دیا جبکہ ندا پیر پٹخ کررہ گئی
۔۔۔۔۔۔۔
سروج کمرے میں آئی تو ابراہیم ہل رہا تھا جس کا مطلب تھا کہ وہ جاگ رہا تھا
’’ماما کا بیٹا اٹھ جاؤ‘‘ اسکے پاس بیٹھے پیار سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرے وہ بولی
ابراہیم تھوڑا سا کسمایا اور آنکھیں کھولے سروج کو دیکھنے لگا اور پھر ہاتھ آگے کیے وہ چاہتا تھا کہ سروج اسے اٹھا لے
سروج کے اٹھاتے ہی وہ پہلے تو اسے دیکھتا رہا پھر ایک دم ہاتھ اٹھا کر سروج کے چہرے پر دے مارا
’’ہاہاہا‘‘ اندر آتے موسی کی ہنسی چھوٹ گئی یہ سین دیکھ کر
’’ابراہیم!!‘‘ موسی کو گھور کر اسنے ابراہیم کو آنکھیں چھوٹی کیے دیکھا اور ناراضگی دکھاتے وہ دوسری جانب دیکھنے لگی
موسی پہلی بار اشتیاق سے یہ سب دیکھ رہا تھا
ابراہیم کے ہاتھ پر ڈرپ لگی ہونے کی وجہ سے اسے الجھن ہورہی تھی۔۔۔۔۔۔ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے سروج کا چہرہ اپنی طرف کیے وہ سروج کو اپنی تکلیف کے بارے میں بتانے لگا
سروج اسکی بات یوں سن رہی تھی جیسے وہ واقعی میں سمجھ رہی ہوں
’’میرے بےبی کو پین ہورہا ہے‘‘ اسکا ہاتھ چومتے سروج نے پوچھا
’’تمہیں کیسے پتہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟‘‘ اچانک موسی نے پوچھا
’’ماں ہوں۔۔۔۔۔۔۔ ماں سب سمجھ لیتی ہے‘‘ سروج نے بنا دیکھے جواب دیا
’’اچھا پھر تو میں بھی اب باپ کے عہدے پر فائز ہوچکا ہوں تو مجھے بھی کوشش شروع کردینی چاہیے سمجھنے کی‘‘ اسکے برابر میں بیٹھے موسی ابراہیم کو لیے بولا
’’کیا ایسے مت دیکھوں تم ماں ہوں اسکی تو یوں تمہارے شوہر کی حیثیت سے باپ ہوا نا میں اسکا‘‘ اسکی گھوری پر موسی مزے سے بولا
’’تمہیں ابراہیم کا باپ بننا ہے تو شوق سے بنوں مگر میرے شوہر نہیں ہوں تم اور اگر شوہر بننے کا اتنا شوق ہے تو شوق سے دوسری شادی کرلوں‘‘
’’واللہ ایسی بیوی تو ہرکسی کو ملے جو خوشی خوشی دوسری شادی کی اجازت دیتی ہوں‘‘ موسی اسکے پاس لیٹتے ابراہیم کو اپنے سینے پر بٹھائے بولا جو اب اسکے بٹن سے کھیل رہا تھا
’’ظاہر سی بات ہے اب مجھے تو تم سے میاں بیوی جیسا رشتہ رکھنا نہیں تو اپنے حقوق کے لیے شوق سے دوسری شادی کرلوں‘‘
’’یار میں تو تمہیں ایوی میں معصوم سمجھتا تھا تم تو بےشرم بھی نکلی۔۔۔۔۔۔ ابھی شادی ہوئے ایک دن پورا نہیں ہوا اور تم مجھ سےفری ہوگئی‘‘ موسی کی باتیں اسے تپارہی تھی
’’ابراہیم کو روم کونسا ہے؟‘‘ سروج نے اچانک بیڈ سے اٹھتے پوچھا
’’کیوں؟‘‘ موسی نے بھنویں اچکائے سوال کیا
’’کیونکہ مجھے اپنا سامان وہاں شفٹ کرنا ہے‘‘
’’اگر ایسی بات ہے تو ابراہیم کا روم یہی ہے‘‘
’’بکواس مت کروں‘‘ سروج تپی
’’نا تو بکواس ہے اور نا ہی مذاق ۔۔۔ میں سیریس ہوں۔۔۔۔ ابراہیم میرے ساتھ ہی رہے گا اور اسکی ماں بھی‘‘ اسکو فیصلہ سناتے وہ یونی کے لیے تیار ہونے چلا گیا
جبکہ سروج اسے گھورنے لگی
’’نظر بعد میں اتار لینا یونی کے لیے تیار ہوجاؤں‘‘ موسی واشروم سے چلایا
’’میں نہیں جارہی ابراہیم کے ساتھ رہوں گی‘‘ سروج نے جواب دیا
’’چلو مرضی‘‘ شیونگ جیل منہ پر ملتے وہ بولا
کچھ دیر بعد تولیہ منہ پر ملتے وہ باہر نکلا اور ایک جھٹکے سے تولیہ سروج کے منہ پر مارتا آئینے کے سامنے جاکھڑا ہوا
’’یہ کیا بدتمیزی۔۔۔۔۔۔ ہاہاہاہاہا‘‘ اس سے پہلے کے سروج بات پوری کرتی اسکا شیونگ چہرہ دیکھ کر پاگلوں جیسا ہنسنا شروع ہوگئی
’’کیا مسئلہ ہے ہنس کیوں رہی ہوں‘‘ شیشے سے دیکھتے موسی نے نظریں تیکھی کیے پوچھا
’’اپنی شکل غور سے دیکھو ایک دم شی میل لگ رہے ہوں‘‘ سروج پھر سے ہنسنا شروع ہوگئی ۔۔۔۔ ہاں مگر وہ موسی کو صاف صاف کھسرا صرف دماغ میں کہہ پائی
’’تمہاری تو۔۔۔۔‘‘ موسی تیزی سے اسکی جانب آیا
’’ہاں کیا کرلوں گے؟‘‘ سروج بھی جھٹکے سے اٹھتے اسکے برابر کھڑی ہوگئی
’’مجھے منہ مت ہی لگاؤ تو بہتر ہے‘‘ موسی اسے انگلی دکھاتے بولا
’’تم اس قابل بھی نہیں کہ میں تمہیں منہ لگاؤں‘‘ اسے ٹکا سا جواب دیتے وہ واشروم میں ٹاول رکھنے چلی گئی
’’تمہاری ماں مجھے دن میں تارے دکھانے والی ہے چھوٹے‘‘ ابراہیم کو دیکھتے موسی بڑبڑایا
خیر اب تو بس خدا سے رحم کی اپیل کرسکتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’نیچے آؤ‘‘ میسج کیا
’’کیوں؟‘‘ رپلائے آیا
’’تم یونی آج سے میرے ساتھ جاؤ گی‘‘ پھر سے میسج
’’مگر آج تو میں آف پر ہوں‘‘ رپلائے آیا
’’کیوں؟‘‘ اب کی بار یہاں سے سوال ہوا
’’دل نہیں‘‘ رپلائے فورا آیا
’’دل کی ایسی کی تیسی پندرہ منٹ دے رہا ہوں نیچے آؤ ورنہ میں نے اوپر آنے میں دیر نہیں لگانی‘‘ اب کی بار سختی کا عنصر شامل تھا
’’بیسٹ‘‘ زبان چڑاتے ایموجی کے ساتھ رپلائے آیا
’’صرف تمہارا‘‘ وہ میسج پڑھتا خود سے بولا
ٹھیک پندرہ منٹ بعد وہ پھولے منہ کے ساتھ اسے آتی دکھائی دی
’’منہ کیوں پھلایا ہوا ہے؟‘‘ اسکے کار میں بیٹھتے ہی زرار نے سوال کیا
’’بات مت کرے مجھ سے‘‘
’’اوکے ایز یور وش‘‘ مزے سے کندھے اچکاتا وہ ڈرائیو کرنے لگا
ھدی نے کچھ پل انتظار کیا کہ شائد اب وہ اس سے وجہ پوچھے گا مگر وہ بھی زرار تھا
’’آااااں‘‘ آخر وہ چلائی۔۔۔۔ اور اپنی بک اسے مارنے لگی
’’ھدی کیا کررہی ہوں؟‘‘ زرار نے اس سے پوچھا
’’میں تب سے ایسے بیٹھی ہوں اور آپ نے وجہ بھی نہیں پوچھی‘‘
’’پوچھا تو تھا تم نے انکار کردیا‘‘
’’تو جب لڑکی ایک بار منع کردے اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ دوبارہ نہ پوچھے۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ باربار پوچھے اور تب تک پوچھے جب تک وہ بتانا دے‘‘ ھدی نے اسے پتے کی بات بتائی
’’ھدی تم کس کی کمپنی میں رہ رہی ہوں؟ تم نے کب سے اتنا بولنا شروع کردیا؟‘‘ زرار تو اسکی چلتی زبان دیکھ کر حیران رہ گیا
’’جی نہیں میں پہلے بھی بہت بولتی تھی مگر پھر کوئی تھا نہیں بات کرنے کے لیے‘‘ وہ تھوڑا اداس ہوکر بولی
’’اچھا کس سے کرتی تھی اتنی باتیں؟‘‘ زرار نے مسکراہ کر اس سے پوچھا
’’بھیا سے‘‘ اس جواب پر زرار نے ایکدم سے گاڑی روکی
’’کیا ہوا؟‘‘ ھدی ایکدم پریشان ہوئی
’’اللہ کے لیے کہہ دوں ھدی کہ تم مجھسے اتنی باتیں اس لیے نہیں کررہی کہ تمہیں مجھ میں اپنا بھائی نظر آتا ہے اور تم مجھے اپنا بھائی مانتی ہوں‘‘ زرار کے چہرے سے ڈر خوف واضع تھا۔۔۔۔۔ جسے ھدی محسوس کرکے بےساختہ ہنسنے لگی
’’تو اس میں کیا پرابلم ہے؟‘‘ ھدی نے مسکراہٹ دبائے پوچھا
’’ھدی اگر ایسا ہوا نا تو میں تمہیں اسی گاڑی سے کچل ڈالوں گا‘‘ زرار نظریں چھوٹی کیے بولا
’’ اور ایسا کیوں؟‘‘ اب کی بار وہ یونی کی حدود میں داخل ہوچکے تھے
’’بکاز آئی لو یو‘‘ ایک جذب سے بولتے اسنے کار پارکنگ میں روکی اور مزے سے اسکی طرف کا دروازہ کھولا
ھدی اپنی جگہ سن بیٹھی رہی
’’میڈم اب نکل بھی جاؤ‘‘ زرار جھنجھلایا
’’یہ مذاق تھا نا؟‘‘ گاڑی سے نکلتے اسکے پیچھے بھاگتی وہ بولی
’’بلکل بھی نہیں‘‘ زرار نے جواب دیا
’’مگر ایسے کیسے؟‘‘ ھدی کو کچھ سمجھ نہیں آئی
’’تو تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں کیا اتنا ویلا ہوں جو ہرکسی کے لیے پک اینڈ ڈراپ سروس کھولو یاں پھر ہسپتال میں رات گزارو۔۔۔۔۔۔ آفکورس تم میرے لیے امپورٹنٹ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میری محبت بھی۔۔۔۔۔ اسی لیے ابھی سے میرے حوالے سے سوچنا شروع کردوں‘‘ اسکو سمجھاتے اسنے آگے کو قدم بڑھائے جبکہ ھدی وہی کھڑی رہی
’’اب سوچنے کا یہ مطلب نہیں کہ تم ابھی سے میرے حوالے سے خواب سجانا شروع کردوں‘‘ اسکی حالت پر چوٹ کرتے زرار بولا تو ھدی سٹپٹا گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں اپنے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھ رہے تھے جب ھدی کی نظر موسی پر گئی
’’ایک منٹ‘‘ زرار سے ہاتھ چھڑواتے وہ موسی کی طرف بھاگی
’’بھائی‘‘ اسنے موسی کو آواز دی
موسی نے پلٹ کا دیکھا تو ھدی کی ہنسی نکل گئی اسکی شیو دیکھ کر
’’کیا؟‘‘ موسی نے غصےسے پوچھا
’’وہ بھابھی؟‘‘ ھدی نے ہچکچا کر پوچھا
’’ہاں وہ سروج اب ولیمہ کے بعد سے جوائن کرے گی‘‘ موسی نے آرام سے جواب دیا
’’اوہ‘‘ ھدی نے سمجھ کر سر ہلایا
’’وہ۔۔۔وہ اب ٹھیک ہے نا؟‘‘ ھدی نے پھر سے سوال کیا
’’ڈونٹ وری وہ اب میری بیوی ہے اور میں اسکا دھیان رکھوں گا‘‘ ایک جتاتی نظر زرار پر ڈالتے وہ بولا
’’اور ابراہیم؟‘‘ اب کی بار اسکی آنکھوں میں آنسو تھے
’’وہ بلکل ٹھیک ہے ھدی یقین کروں میرا‘‘ اسکے سر کو تھپکتا وہ بولا
ھدی ایک دو اور باتیں کرکے اپنے ڈیپارٹمنٹ میں چلی گئی جبکہ موسی اور زرار ایک دوسرے کو سرد نگاہوں سے دیکھنے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج اور موسی کا ریسپشن بخیر و عافیت ہوگیا تھا۔۔۔ اب سروج کو دوبارہ سے یونی شروع کرنی تھی
موسی نے ابراہیم کو سمجھنا شروع کردیا تھا
سب کچھ ٹھیک تھا مگر جو غلط تھا وہ تھا۔۔۔ موسی اور سروج میں بنی اجنبیت کی دیوار
اس دن کے بعد ان دونوں میں سے کسی نے بھی ایک دوسرے سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی
سلمان ھدی سے تعلقات بڑھانے کی کوشش میں تھا جو کہ زرار کی نظروں سے پوشیدہ نا تھے۔۔۔۔۔ مگر ھدی کا اس میں انٹرسٹ نا لینا زرار کو روکے ہوئے تھا
ندا اب بھی سروج کو آتے جاتے کچھ نا کچھ سنا دیتی مگر سروج کو پہلے دن کی طرح فرق نہیں پڑا
علی زماد نے موسی سے کوئی بات نہیں کی تھی البتہ سروج کے سامنے شرمندگی ظاہر کی تھی جس پر اسنے بھی انہیں معاف کردیا تھا
مراد اور عمارہ کی منگنی بھی موسی اور سروج کے ریسپشن سے ایک دن پہلے ہوگئی تھی
اگر اب کچھ اچھا ہوا تھا تو وہ تھا حسیب کا نیلم کے لیے رشتہ مانگنا۔۔۔۔۔۔ ایسے میں مائز اور فریحہ کا برا حال ہوچکا تھا
وہ دونوں سب کو انوائٹ کرکے گئے تھے شادی میں اور اب انکے دوسرے سمسٹر کے شروع میں ہی شادی طے پائی تھی
’’اللہ اللہ لگتا ہے سب کام مجھ بیچاری کو ہی کرنے ہیں‘‘ گرین اور پیلے رنگ کا لہنگا پہنے وہ جنجھلا گئی
پھولوں کی ٹوکری ہاتھ میں پکڑے وہ لان کی طرف بڑھی جب اسکے سینڈل کا سٹرپ کھل گیا
’’شٹ یار‘‘ وہ عین دروازے پر کھڑی تھی اسی لیے کچھ نا کرسکی جب اسے مائز اندر آتے نظر آیا
’’مائز!!‘‘ فریحہ پکارا
بالوں کو ہاتھوں کی مدد سے سیٹ کرتے وہ اسکی طرف آیا
’’بولوں؟‘‘ اسنے پوچھا
’’وہ میری سینڈل کا سٹریپ کھل گیا ہے یہ پکڑلوں میں نے سٹریپ باندھنا ہے‘‘ اس سے پہلے کے وہ ٹوکری اسے پکڑاتی، مائز نیچے جھکا اور اسکا لہنگا تھوڑاسا اوپر کرتے سٹریپ باندھنے لگا
فریحہ تو سکتے میں آگئی
’’ہوگیا‘‘ اسکے سامنے کھڑا ہوتا نرم سی مسکراہٹ لیے وہ بولا اور فریحہ اعوان کو کلین بولڈ کرگیا
’’کیا ہوا؟‘‘اسے اپنی طرف یوں تکتا پاکر وہ بولا
’’کچھ نہیں ‘‘ فریحہ کا سر نفی میں ہلا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *