Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06
’’یہ، یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ وہ جو مسکراتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی تھی سامنے ہی دلہن بنی بیٹھی ھدی اور ساتھ ایاز کو دولہے کے طور پر دیکھ کر سہی معنوں میں چکرا گئی
اسکو وہاں دیکھ کر جہاں اشنا بیگم اور شمائلہ نے شکر کا سانس لیا وہی صدیق صاحب اور انکے بیٹوں کو اپنا سانس حلق میں اٹکتا محسوس ہوا
سروج آجائے گی انکے تو وہم و گمان میں بھی یہ بات نا تھی، وہ تو اپنے طور پر سب سے اسکا رابطہ ختم کیے بیٹھے تھے۔
جبکہ ھدی کا ضبط آخر کار ٹوٹ گیا اور وہ جھٹکے سے وہاں سےاٹھتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
’’سروج کیسی ہوں؟ اور یو یہاں اچانک؟ میرا مطلب کے بتا دیتی میں ڈرایئور کو بھیج دیتا‘‘ صدیق صاحب ہوش میں آتے بولے
’’میں کیسی ہوں اور یہاں اچانک کیسے اور کیوں ہوں؟ یہ تو میں آپ کو تھوڑی دیر میں آکر بتاتی ہوں‘‘ آنکھوں میں غصہ اور وارننگ لیے وہ ھدی کے پیچھے چل دی
حالات کی سنگینی کو دیکھ کر شمائلہ بھی اسکے پیچھے لپکی، جبکہ صدیق صاحب تو سونے کی چڑیا ہاتھ سے نکل جانے پر ضبط کے کڑوے گھونٹ پی کر رہ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج کمرے میں آئی تو سارا کمرہ تہس نہس ہوا پڑا تھا، اور ھدی کمرے کے وسط میں زمین پر بیٹھی سر ہاتھوں میں دیے ہچکیوں کی صورت میں رو رہی تھی، اسکی ایسی حالت دیکھ کر سروج کا دل کٹنے لگا، اسنے ایسا تھوڑی نا چاہا تھا، وہ ھدی کو یوں نہیں دیکھ سکتی تھی۔
’’ھدی چندا!!!‘‘ سروج محبت سے بولتےابراہیم کو پیچھے کھڑی شمائلہ کو پکڑائے اسکی طرف بڑھی
’’نہیں لگتی میں آپ کی کچھ کسی کا کوئی تعلق نہیں ہے مجھ سے، جن کا تھا وہ چلے گئے ہیں مجھے چھوڑ کر‘‘ وہ چیخ رہی تھی چلا رہی تھی جبکہ اسکی یہ حالت سروج کو مسلسل تکلیف دے رہی تھی
’’ھدی میں آگئی ہوں نا؟‘‘ سروج نے ایک اور کوشش کی اسے منانے کی
’’اب بھی کیوں آئی ہے نا آتی، کیوں آئی ہے آپ اب؟میری ذات کا تماشہ دیکھنے ‘‘ روتے روتے وہ بیڈ کے ساتھ زمین پر بیٹھ گئی
سروج تو خود سے نظریں ملانے کے قابل نا رہی، کتنے اوتماد سے اسنے عمیر سے وعدہ کیا تھانا کہ وہ ھدی کا دھیان رکھے گی، مگر اسنے کیا کردیا، آج ھدی کی حالت دیکھ کر اسے خود سے نفرت محسوس ہونے لگی تھی۔
’’ایم سوری ھدی، ایم رئیلی سوری‘‘ زمین پر اسکے پاس بیٹھتے اسے خود کے گلے لگائے وہ روتے ہوئے بولی جبکہ اسکے یوں گلے لگانے پر ھدی کے آنسوؤں میں مزید روانی آگئی۔
’’مم۔میں، ڈڈ۔ڈر گئی تھی، مم۔مجھے نہیں رہنا تت۔تھا یہاں، یی،یہ لوگ۔۔ مم۔ماما اور بابا اور بب، بھیا کے بارے میں گندا بولتے تھے، انہوں نے زز،زبردستی۔۔ مم، میری شادی کروانے کک۔کوشش کی، میں نہیں کرنا چچ،چاہتی تھی۔ اور وو،وہ ۔۔۔۔ ایاز بب،بھائی کل رات میں کک،کمرے میں آگئے۔۔ سب غلط ہوجاتا، اگر، اگر جلال بب،بھائی نا آتے، اور وو،وہ کہتے مم۔میں مائل کرتی ہوں لڑکوں کو، اور اور ایاز بھائی نے مجھے مارا بھی، ہاتھ اٹھایا اتنی زور کا اور بازو میں بھی تت۔۔تکلیف دی‘‘ اسکے گلے لگے ہچکیوں میں روتا وہ وجود اپنے دکھوں اور تکلیف کی داستان سنا رہا تھا۔
سروج تو اسکی حالت دیکھ کر آنکھیں میچ کر رہ گئی، کیا کچھ نہیں سہا ہوگا اسکی بہن اور دوست جیسی نند نے، کتنی تکلیف میں تھی وہ، اسکے معصوم ذہن پر کیا نا بیتی ہوگی، دروازے پر کھڑی شمائلہ تو اپنے دیور کے کارنامے اور شوہر کے الفاظ سن کر اپنی جگہ شرمندہ ہوگئی۔
مگر کوئی تھا جس کے لیے یہ منظر کسی قیامت سے کم نا تھا، کھڑکی سے باہر کھڑے اس ہیولے کی آنکھیں غصے اور برداشت سے لال ہوچکی تھی، اسکا دل چاہ رہا تھا کے وہ پوری دنیا تہس نہس کردے، سارے جہاں کو آگ لگا دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونیورسٹی سے نکلتے ہی اسنے اپنی ہیوی بائیک کا رخ یاسین ولا کی طرف کر دیا، اسے نہیں معلوم تھا کہ کیا ہورہا ہے مگر صرف اتنا کہ وہ کسی بھی صورت اپنی ھدھد کو کسی اور کا نہیں ہونے دے گا، وہ بیچ راستے میں ہی تھا جب اسے گھر سے کیر ٹیکر کی کال آگئی
’’ہیلو!!‘‘ ہینڈفری لگائے اسنے کال اٹینڈ کی
’’ہیلو زرار سر، آپ پلیز جلدی سے گھر آجائے، آہل سر کی طبیعت پھر سے بگڑ گئی ہے انہوں نے میڈ کا سر پھاڑ دیا ہے، آپ پلیز جلدی سے آجائے‘‘ کیر ٹیکر نے کہتے ہی فون بند کردیا جبکہ زرار جھنجھلا کر رہ گیا، اب اسے چننا تھا بھائی یا ھدھد اور اسنے اپنے بھائی کو چنا اور ہیوی بائیک گھر کی طرف موڑ لی۔
وہ گھر پہنچا تو پورا گھر الٹا پلٹا ہوا پڑا تھا
’’آہل کہا ہے؟‘‘ اسنے اپنے انتظار میں کھڑی کیر ٹیکر سے پوچھا
’’وہ، وہ سر اپنے کمرے میں، انہوں نے اندر سے لاک کر دیا ہے میں نے بہت کوشش کی مگر انہوں نے نہیں کھولا‘‘ وہ زرار کے ساتھ ساتھ چلتے اسے بتانے لگی۔
’’ہمم تم ٹھیک ہون چوٹ تو نہیں لگی تمہیں؟‘‘ اسنے اس سے پوچھا جبکہ نظریں سامنے ہی تھی
’’نو سر ایم پرفیکٹلی فائن‘‘ اسنے مسکراہ کر جواب دیا جس پر زرار نے صرف سر ہلا کر اکتفا کیا۔
’’مس عالیہ آپ جا سکتی ہے، تھینکیو آہل کا دھیان رکھنے کے لیے‘‘ اسنے کیر ٹیکر کو کہا مطلب صاف تھا اب جاؤ تمہاری ضرورت نہیں
’’آر یو شیور سر ( سر آپ یقین سے کہہ رہے ہیں)؟‘‘اسنے جانچنا چاہا
’’یا ہنڈریڈ پرسنٹ( ہاں سو فیصد)‘‘
’’اوکے گڈ بائے ٹیک کیر( ٹھیک ہے، خدا حافظ، دھیان رکھیے گا)‘‘ اپنا ھینڈ بیگ کندھے پر ڈالے وہ وہاں سے چل دی جبکہ زرار کی اب تمام تر توجہ بند دروازے کی طرف تھی
’’آہل اوپن دا دوڑ( آہل دروازہ کھولو)‘‘ دروازہ بجاتے وہ بولا، جبکہ جواب نا آیا
’’آہل اوپن دا دوڑ بڈی اٹس می یور بیسٹی زرار( آہل یار دروازہ کھولو میں ہوں تمہارا بیسٹی زرار)‘‘اسنے دوبارہ ناک کیا، جب اندر سے ہلکی سے آوازیں آنے لگی اور پھر اچانک لاک کھلنے کی آواز سنائی دی
زرار دھیرے سے دروازہ کھولتا کمرے میں داخل ہوا، کمرے میں مکمل اندھیرا تھا، جب اسکے پیروں کے نیچے کچھ آیا، ہاتھ بڑھا کر اسنے لائٹس اون کی تو اسکی توقع کے مطابق پورا کمرہ بکھرا پڑا تھا، وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا صوفہ کی طرف بڑھا جس کے پیچھے لگے پردوں میں دیوار کے کونے میں بازو اپنی ٹانگوں کے گرد کیے سولہ سالا بچا خوف سے کانپ رہا تھا۔
’’آہل؟‘‘ زرار اسکے سامنے بیٹھتے اسے ہاتھ لگاتے بولا
’’نہیں!!!!‘‘ آہل نے چیختے ہی اسکا ہاتھ دور جھٹکتے اس پر وار کرنا شروع کردیے، جبکہ زرار آرام سے اسکے وار سہتا، اسے اپنی آغوش میں چھپا گیا
’’اوئے سپر مین میں ہوں، یار رحم کروں کیا جان لو گے بچے کی‘‘ اسے گکے لگائے پیار سے پچکارتے وہ بولاجبکہ آہل اسکے سینے سے لگا اب لمبے سانس بھرنے لگا، کچھ دیر یونہی وہ اسے اپنے سینے سے لگائے بہلانے لگا
’’زز۔۔۔زرار‘‘ کچھ دیر بعد اسکی گھٹی گھٹی آواز سنائی دی
’’یس؟‘‘
’’ڈونٹ لیو می( مجھے چھوڑنا نہیں)‘‘ وہ کانپتے لہجے میں بولا
’’ہے وٹ ہیپنڈ( اوئے کیا ہوا ہے)؟‘‘ زرار پریشان ہوا کیونکہ آہل ایسی باتیں تب ہی کرتا تھا جب وہ بہت زیادہ ڈر جاتا تھا مگر اب کی بار وجہ کیا تھی وہ حیران ہوا
’’ڈیٹ کیر ٹیکر شی واز سئینگ ڈیٹ یو ول لیو می، ونس شی ول میری یوں، اینڈ میک شور ڈیٹ ایم ایڈمیٹڈ ٹو مینٹل ہوسپیٹل‘‘
(وہ کیر ٹیکر بول رہی تھی کہ ایک بار تمہاری اس سے شادی ہوجائے تو تم مجھے چھوڑ دوں گے اور مجھے پاگل خانے بھیج دوں گے) وہ روتا ہچکیوں میں بولا، زرار تو اسکی بات پر مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔
’’نو آئی ول نیور ایور گوئینگ ٹو لیو یو‘‘
(نہیں میں تمہیں کبھی بھی نہیں چھوڑو گا) وہ اسے اپنے ساتھ بیڈ پر لائے وہاں لٹاتے بولا
’’سو یو آر گوئینگ ٹو میری‘‘
(تو اسکا مطلب کے تم شادی ضرور کروں گے) وہ منہ بنا کر بولا جبکہ زرار کے ہونٹ مسکرا اٹھے
’’آئی شیل‘‘
(بلکل کروں گا) وہ اب کی بار کھل کر مسکرایا
’’ہو(کس سے)؟‘‘
’’مائی ہوپوئی( میری ھدھ سے)‘‘ ابکی بار اسکی آںکھیں چمک رہی تھی۔
’’از شی پریٹی( کیا وہ خوبصورت ہے)؟‘‘ آہل کو تجسس ہوا
’’ویٹ آمنٹ لیٹ می شو یو ( ایک منٹ روکو میں دکھاتا ہوں تمہیں)‘‘ اپنے موبائل سے ھدی کی یونیورسٹی میں ہی لی گئی ایک تصویر نکال کر اسنے آہل کے سامنے کی
اب آہل غور سے اسے دیکھ رہا تھا، ھدی کا قد اور جسم دونوں مناسب تھے، اور اسکی رنگت گندمی ، اسکی آنکھیں بھی نارمل تھی، اور ناک بھی نارمل تھی مگر اس میں پہنی نوز رنگ اس پر جچتی تھی۔
’’شی از فائن( بس ٹھیک ہے)‘‘ نجانے کیوں مگر وہ لڑکی آہل کو اپنے بھائی کے لیے کچھ خاص پسند نہیں آئی تھی۔
’’ڈونٹ یو لائک ہر( کیا تمہیں وہ پسند نہیں آئی)‘‘ زرار جیسے مایوس ہوا
’’نو نو شی از ریئلی پریٹی( نہیں نہیں وہ بہت خوبصورت)‘‘ آہل کو اپنے بھائی کا اترا چہرہ پسند آیا جبکہ زرار تو اسکے اس طرح بیان بدلنے پر مسکرا دیا
’’یو ول شیورلی لائک ہر مائی برو‘‘
( تمہیں وہ یقیننا پسند آئے گی میرے بھائی) اسکے اوپر لحاف اوڑھتے اسے سلاتے ہوئے وہ بولا
’’آئی ول انیکشیوسلی ویٹنگ فار ڈیٹ ڈے‘‘
(مجھے اس دن کابےصبری سے انتظار ہے) آنکھیں موندے وہ ہلکی آواز میں بولا
’’می ٹو( مجھے بھی)‘‘ اسکو جواب دیتے اسکے سونے کا یقین کیے اسنے ایک نظر پورے کمرے پر ڈالی اور پھر کمرے سے باہر نکل گیا۔
’’ماجد، ماجد‘‘ وہ نوکر کو آواز دینے لگا
’’جی صاحب جی؟‘‘ اسکے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا وہ پوچھنے لگا
’’خالدہ بی کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘ اسنے میڈ کا پوچھا جس کا آہل کی وجہ سے پھٹ گیا تھا
’’ڈاکٹر نے دیکھا تھا صاحب زیادہ پریشانی کی بات نہیں ہے شکر اللہ کا گھاؤ گہرا نہیں تھا‘‘ اسنے جواب دیا
’’ٹھیک ہے تو ایسا کروں وہ کیر ٹیکر، کیا نام تھا۔۔ ہاں عالیہ اسے کہہ دوں کے کل سے یہاں آنے کی کوئی ضرورت نہیں اور اگر زیادہ ڈرامہ کرے تو بےشک دھکے دے کر نکال دینا‘‘اپنی بات پوری کرتے اسنے ماجد کی طرف دیکھا جو ہر بار کی طرح اس بار بھی سر ہلا گیا
’’ہمم ٹھیک ہے تم جاؤ‘‘ اسنے اجازت دی
’’صاحب وہ آہل بابا کا کمرہ؟‘‘
’’وہ میں صاف کرلوں گا تم جاؤ‘‘
’’جی ٹھیک صاحب جی‘‘
وہ دوبارہ کمرے میں آیا اور پھیلاؤ سمیٹنے لگا مگر ھدی کا خیال اسکے ذہن میں ہی تھا، اسنے اپنے ایک جاننے والے سے پتا کروایا تو معلوم ہوا کہ نکاح رات کو ہے اسی لیے وہ تھوڑا پرسکون ہوا۔
اسے کمرا سمیٹنے اور پھر آہل کو جگا کر کھانا کھلانے اور دوائی دینے میں کافی وقت ہوگیا تھا، اب بھی وہ آہل کو دونارہ سلا کر ہٹا تھا اور سٹینڈ سے بائیک کی چابی اٹھائے اسنے یاسین ولا کی راہ لی
وہ گیٹ کی طرف برھنے والا تھا جب اسے کوئی سایا سا نظر آیا، زرا قریب میں آکر دیکھا تو وہ حیران رہ گیا
’’سروج؟؟‘‘ اسکے لب پھڑپھڑائے
مگر سروج یہاں کیسے وہ امریکہ تھی اپنی فیملی کے ساتھ، زرار سہی معنوں میں چکرا گیا تھا، مگر پھر وہ سب سے چھپتا چھپاتا سروج کے پیچھے ہی اندر کی طرف بڑھا، ھدی کو دلہن کے روپ میں وہ بھی کسی اور کے لیے سجا دیکھ کر اسکی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے، اس سے پہلے کے وہ کچھ کر پاتا ھدی تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھی اور سروج نے بھی اسکا پیچھا کیا تو اب زرار کا یہاں عہنے کا کوئی ارادہ نا تھا سو وہ بھی ولا کے سائڈ سے ہوتا ھدی کے کمرے کی کھڑکی کی طرف چلا گیا، ھدی کا کمرہ گراؤنڈ فلور پر تھا اسی لیے اسے زیادہ مشکل نہیں ہوئی تھی۔
اندر سے آتی ھدی کی آوازوں نے اسکا دماغ سن کردیا تھا، مگر جب اسنے ایاز کے بارے میں ھدی کے الفاظ سنے تو دل چاہا کے پوری دنیا کو تہس نہس کردے، کسی کو نا چھوڑے۔
’’ڈونٹ وری ھدی بہت جلد میں ہر اس شخص کو سزا دوں گا جو تمہاری تکلیف کا باعث بنا‘‘ خود سے عہد کرتے، سروج کی باہوں میں چھپی روتی ھدی پر آخری نظر ڈالے وہ وہاں سے چل دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ھدی کو سنبھالنے اور سلانے میں اسے آدھی رات سے زیادہ کا وقت بیت چکا تھا، وہ تب سے ھدی کے کمرے میں ہی تھی اسے باہر کا کوئی ہوش نہیں تھا، وہ تو بس کھڑکی سے تن تنہا چاند کو دیکھنے میں مگن تھی، ایک سوچ دماغ میں آئی
’’جانتی ہوں میرا دل کیا چاہتا ہے سروج؟‘‘ رات کے وقت لان میں بیٹھے عمیر نے اسے مخاطب کیا جو مزے سے چاند دیکھنے میں مگن تھی
’’کیا؟‘‘ اسنے بنا اسکی طرف دیکھے پوچھا
’’یہی کے تمہاری ہمسفری میں میری ہر رات اس پورے چاند کو دیکھ کر گزرے‘‘ وہ دھیمی مسکان لیے بولا، اور سروج تو اسکی عقل پر دنگ رہ گئی
’’عمیر آپ پاگل ہے کیا بھلا ہم پورا چاند روزانہ کیسے دیکھ سکتے ہیں‘‘ وہ منہ بنائے بولی جس پر عمیر کا بےساختہ قہقہ گونجا
’’تو تم فکر کیوں کرتی ہوں ؟ میں ہوں نا ۔ دیکھنا ہر روز تمہارے لیے آسمان پر پورا چاند نا لایا تو میرا نام بھی عمیر یاسین نہیں‘‘ وہ فرضی کالر جھاڑتے بولا جبکہ سروج آنکھیں گھما کررہ گئی
’’ہنہ میں ہوں نا۔۔ اتنے رہتے نہیں شارخ خان کہی کے، اور بات سنے یہ بڑی بڑی باتیں اور فلمی ڈائیلاگ میرے سامنے نا بولے، ایک منگنی کی انگوٹھی پہناتے وقت تو یوں شرما رہے تھی جیسے میں دلہا اور آپ دلہن ہے اور سجانے چلے ہیں صاحب بہادر پورا چاند‘‘ اسکی باتوں پر عمیر سر کھجا کر رہ گیا اور پھر اچانک سروج کی تیسری انگلی سے انگوٹھی اتار کر اسکے سامنے زمین پر ایک گھٹنہ ٹکائے انگوٹھی اسکے سامنے لے آیا۔
’’عمیر یہ۔۔۔۔۔‘‘
’’سو مس سروج حیدر، سون ٹو بی مسز سروج عمیر، کیا آپ کو یہ معصوم، شریف اور ہینڈسم قسم کا بندہ اپنے ہم سفر کے طور پر قبول ہے؟ جواب دینے کے لیے کوئی ایک آپشن چوز کیجیے۔
آپشن ون:۔ ہاں
آپشن ٹو:۔ بلکل جناب
آپشن تھری:۔ میں تمہارے علاوہ اور کسی کی نہیں ہوں عمیر‘‘
آنکھوں میں شرارت کیے مسکراہٹ دبائے اسنے پوچھا جبکہ سروج ہنس دی
’’جلدی بتاؤ لڑکی‘‘ وہ تھوڑا روعب جھاڑ کر بولا
’’اممم۔۔ آپشن تھری‘‘ مسکراہٹ ضبط کیے اسنے جواب دیا
’’کیا کہا میں نے سنا نہیں‘‘ وہ کان کھجانے لگا
’’میں نے کہا آپشن تھری‘‘
’’پھر سے کہنا سمجھ نہیں آئی‘‘
’’مرو تم عمیر‘‘ وہ اسے دھکا دیتے بولی
’’اچھا اچھا سوری بابا‘‘ اس اٹھ کر جاتا دیکھ کر عمیر نے دوبارہ اسے اسکی جگہ پر بٹھایا اور اب اسکے ہاتھ میں وہ انگوٹھی پہنا دی
’’بھیا، بھابھی آجائے کھانا لگ گیا‘‘ اس سے پہلے کے وہ کوئی اور بات کرسکتے، گول مٹول سی آٹھویں جماعت کی ھدی چہرے پر نظر کی عینک لگائے ان کے پاس آکر بولی
’’ہاں بھئی چلو، ظالم سماج کا بلاوا آگیا ہے‘‘ ھدی کو دیکھ کر منہ بنائے وہ بولا کیونکہ اسنے معلوم تھا کہ جب تک وہ دونوں اندر چلے نہیں جاتے ھدی یونہی ان کے سروں پر سوار رہے گی۔
’’چلو میرے پانڈہ‘‘ ھدی کے بھرے بھرے گال کھنچتا وہ شرارت سے بولتا اندر کی طرف بھاگا
’’بھائی!!!‘‘ وہ رو دینے کو تھی جب سروج نے اپنی مسکان دبائی
’’بھابھی آپ بھی‘‘ اب اسکی توپوں کا رخ سروج کی طرف تھا
’’ارے نہیں بابا‘‘ سروج نے فورا دونوں ہاتھ اٹھائے
’’تو پھر آپ ہنس کیوں رہی تھی‘‘ اسنے منہ بسورا
’’ارے پاگل میں تو اس لیے ہنس رہی تھی کہ اب میرے دماغ میں تمہارے بھیا سے بدلہ لینے کا زبردست طریقہ آیا، آخر کو اسنے میرے ڈورےمون کا مزاق بنایا ہے‘‘ ھدی کو ڈورےمون بہت پسند تھا اسی لیے سروج اسے ڈورےمون بلاتی تھی۔
’’کیا آئیڈیا؟‘‘ ھدی کی آنکھیں چمکی
’’یہ تو تمہیں کھانے کی میز پر پتا چلے گا‘‘
اور پھر واقعی میں ھدی کو سروج کا بدلہ سمجھ میں آگیا جب عمیر نے بریانی میں مرچوں کی زیادتی کی کمپلین کی جبکہ ھدی کی بریانی ایک دم پرفیکٹ تھی، اور بریانی کے شوقین بھی صرف یہی دونوں بہن بھائی تھے اسی لیے کسی اور نے نہیں کھائی تھی۔
ھدی نے نظریں اٹھا کر سامنے بیٹھی سروج کو دیکھا جس نے اسے آنکھ ماری اور ھدی ساری بات سمجھتے ہوئے مسکرا کر دوبارہ کھانے کی طرف متوجہ ہوگئی۔
وہ یونہی پرانی پرانی یادوں کو سوچے مسکراہ رہی تھی جب اسے ابراہیم کے رونے کی آواز آئی اسنے نظریں موڑ کر بیڈ پر سوئے ان دو لگوں کو دیکھا جن کی اب اسکی اسکی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت تھی، ابراہیم کے رونے سے ھدی کی نیند میں خلل پڑ رہا تھا، جسے نوٹ کرتے ہوئے وہ ابراہیم کو اٹھائے کمرے سے باہر چل دی جبکہ ھدی پرسکون سی آنکھیں موند گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’آہ مجھے یقین نہیں ہوتا کہ یہ ہمارے ساتھ کیا ہوگیا؟‘‘ جلال اس وقت سخت جلال میں تھا
وہ تینوں باپ بیٹا اس وقت سٹڈی میں موجود تھے، آج مہمانوں کے سامنے انہیں بہت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا مگر وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کرپائے
’’اب ہم کیا کرے گے؟‘‘ ایک ہاتھ کا مقا بنائے دوسرے ہاتھ پر مارتے ایاز بولا
’’تم تو رہنے دوں پہلے بہت کیا ہے نا تم نے‘‘ جلال نے اسے لتاڑا
’’ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے کیونکہ جو بھی کرنا تھا وہ یاسین کی بیٹی چند دن پہلے کرچکی تھی‘‘
’’مطلب؟‘‘ جلال کو سمجھ نہیں آئی
’’مطلب یہ‘‘ کہتے ہی انہوں نے ٹیلیفون کا کال ریکارڈ ان دونوں کے سامنے رکھ دیا جہاں ایک بیرون ممالک نمبر تھا۔
’’سالی، کتنی معصوم بنتی ہے اور ہمیں بےوقوف بنا گئی‘‘ ایاز کا بس چلتا تو اسے جان سے مار دیتا
’’اسے چھوڑو اور اپنا سوچو کیونکہ اب تک تو وہ لڑکی سروج کو سب کچھ سچ بتا چکی ہوگی اور سروج کو سب پتا چلنے کا مطلب ہے کہ ہماری بربادی اور خاص طور پر تم ایاز‘‘ انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں کو آئینہ دکھایا، جس پر دونوں ایک دوسرے کی شکل دیکھ کر رہ گئے۔
’’اسکا مطلب۔۔۔۔۔‘‘
’’اسکا مطلب کے اب ہمیں سامان باندھ لینا چاہیے کیونکہ اس محل سے نکلنے کا ہمارا وقت آگیا ہے‘‘ کہتے ہی انہوں نے ایک نئی سگار جلائی جبکہ دونوں بھائی تو ایسی عیاش زندگی کے ہاتھوں سے نکلنے پر ہاتھ ملتے رہ گئے۔
جاری ہے
