Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Last Episode (Pt.1)
Rate this Novel
(Beparwah) Last Episode (Pt.1)
تین دن بعد آج وکی آفس آیا تھا..
شکر ہے تیری شکل تو دیکھنے کو ملی ” اسے دیکھتے ہی روحان بول پڑا..
جسکا چہرہ ابھی بھی ویران ہی لگ رہا تھا..
“ہاں اب کام تو کرنا ہے نا” وکی بولا..
“تو اور کیا اب ساری زندگی سوگ ہی مناتا رہے گا.. ” روحان اسے تنگ کرتے بولا.. تو وہ پھیکا سا مسکرایا اور اپنے کیبن میں چلا گیا..
روحان بھی اپنے آفس میں آگیا..
کچھ دیر بعد علینا آگئی..
“السلام علیکم سر”..
وعلیکم السلام کیسی ہو علینا.. ” روحان نے مسکراتے جواب دیا..
میں ٹھیک ہوں سر میں آپ سے بات کرنے آئی تھی دراصل میں اب جاب کنٹینیو نہیں کر پاؤں کی تو یہ میرا ریزی نیشن ہے سر.. ” وہ لیٹر انکے آگے رکھتے ہو ئے بولی
مگر علینا ابھی کمپنی کو آپکی ضرورت ہے “
ییس سر بٹ اب عادل نہیں چاہتے کہ میں جاب کروں.. وہ میرا خرچہ اٹھا سکتے ہیں.. علینا بولی..
وہ تو ٹھیک ہے مگر علینا تمہیں جاب نہیں چھوڑنی چاہئے.. تم خود کو گھر بٹھا کر نکارا بنا لو گی عورت کو اپنے مضبوط پیروں پہ ہی کھڑا ہونا چاہئے تاکہ وہ ہر برے وقت کے لئے تیار رہے.. اب آگے تمہاری مرضی.. تمہارا استعفیٰ قبول کرلیتا ہوں..
آپ ٹھیک کہہ رہے سر مگر عادل چاہتے ہیں کہ میں یہ وقت بچوں کی تربیت پہ دوں..
اچھا ایک بات کرنی تھی تم سے.. وکی تمہیں پسند کرتا تھا.. تم نے اسکے ساتھ ٹھیک نہیں کیا.. بے چارہ اداس ہوگیا ہے تمہاری شادی کو لیکر.. اب اس سے سمجھا دو کچھ میری تو مانتا نہیں.. روحان نے صاف گوئی سے کہا..
سر میں کیا کہوں مجھے تو اس بارے میں علم نہیں ہوا.. عادل میرے کزن ہیں ہم بچپن سے اچھے دوست ہیں ایک مہینہ پہلے وہ مجھے ملے.. انکی وائف کی بھی دو سال پہلے دیتھ ہوگئی تھی.. ایک بیٹا انکا بھی تھا اور پھر ہم ایک دوسرے کا سہارا بن گئے.. وقار سر کو مجھ سے اچھی لڑکیاں مل جائیں گی.. ” علینا نے کہا..
وہ کہتی آفس سے نکلی اور وکی کے آفس کی طرف بڑھی..
ناک کرکے وہ اندر..
کیسے ہیں سر آپ..
وکی جو سوچوں میں گم سا بیٹھا تھا.. علینا کی آواز سن کر چونک کر نظریں اٹھا کر دیکھا..
تمہارے سامنے ہی ہوں دیکھ لو.. سرد سے لہجہ میں کہا.. ایسا انداز اسکا پہلے تو کبھی نہیں دیکھا تھا علینا نے ہر وقت ہنسی مذاق کرنے والا اتنا سنجیدہ..
سر میری وجہ سے آپ ہرٹ ہوئے”.. نکاح والے دن بھی علینا کو اندازہ ہوگیا تھا..
ہاں کچھ کچھ”.. وہ بس اتنا ہی بول پایا اور اس سے نگاہیں پھیر گیا..
سر مجھے اندازہ نہیں تھا آپکا.. آپ اتنا ہرٹ ہو گے میری وجہ سے.. “وہ شرمندگی سے بولی..
علینا میں تمہاری وجہ سے پریشان نہیں مجھ سے ایسا گناہ سرزد ہو گیا ہے جو مجھے بے چین کر رہا ہے.. وہ اسکی شرمندگی دور کرنے کیلئے کہہ گیا..
کیسا گناہ سر ” علینا نے پوچھا..
میرا گناہ بہت بڑا ہے.. کسی کو بہت نقصان پہنچا بیٹھا ہوں.. اور اب میرا خود کا نقصان ہوگیا ہے ..میں نے مکافات تو پالیا مگر سکون میں ابھی بھی نہیں.. یہ ندامت تو مجھے سکون کا چین نہیں لینے دیتی.. “
تو آپ ازالہ کیجئے جسکا نقصان کر چکے ہیں وہ بھر دیں.. معافی مانگ لیں شاید آپکا ضمیر مطمئن ہو جائے.. علینا کہتی نکل گئی وہاں سے مگر اس سے پھر سے گہری سوچ میں دھکیل گئی..
اسکے کہے گئے لفظ اسے جھنجھوڑنے لگے.. جسکا نقصان کر چکے ہیں بھردیں..
“کیسے بھروں نقصان.. ” وہ خود سے سوال کر بیٹھا..
تم نے جو کچھ میرے ساتھ کیا ہے میں اسے بھولنے کیلئے ریڈی ہوں اگر تم مجھے اپنا لو.. پلیز وکی مجھ سے نکاح کرلو.. لے لو مجھے اپنی دسترس رحم کھا لو مجھ پہ.. میرے حال پہ.. وہ روتے ہوئے اسکے آگے ہاتھ جوڑ گئی جیسے بھیک مانگ رہی زندگی کی..
ماریہ کے الفاظ اسکی سماعتوں سے ٹکرانے لگے..
نکاح.. ماریہ سے شاید یہی میرا ازالہ ہے.. ” وہ خود سے بڑبڑا رہا تھا اسکا ازالہ اتنا آسان نہیں تھا جتنا وہ سوچ رہا تھا..
🥀🥀🥀2
کیسی ہو””
میں ٹھیک ہوں آپ سنائیں” روحان آفس سے آتے ہی زویا کو کال لگائی جو اس نے فٹ سے اٹھائی جیسے اسی کے انتظار میں بیٹھی ہو..
آپ نے کھانا کھایا”..
ہاں کھا لیا تھا ” تم بتاؤ تم اپنا خیال رکھ رہی ہو یا پھر مجھے بنا رہی ہو.. روحا بتا رہی تھی تمہارا کل بی پی لو ہوگیا تھا اور تم نے مجھے بتایا نہیں.. وہ الماری سے اپنے نکالتا ہوا بولا..
وہ میں نے آپ کو پریشان. نہیں کرنا تھا یہ روحی بھی نا..
روحی کو کچھ مت بولو وہ تو خاص جاسوس لگایا ہے میں تمہارے پیچھے.. تو دونوں ہسنے لگ گئے ..
اچھا یہ بتائیں وکی بھائی آۓ آج آفس مجھے سچ میں انکے لئے اچھا نہیں لگ رہا.. وکی کے بارے میں روحان نے بتایا تھا زویا کو اس لئے فکر مندی سے پوچھا..
مجنوں بن گیا ہے علینا کے غم میں آیا تھا آج سمجھایا ہے میں نے اسے.. اتنا دکھی ہوگا یہ میں نے سوچا نہیں تھا.. روحان بھی فکر مند ہوا.. اچھا میں چینج کرلوں پھر کرتا ہوں بات تم سے..
🥀🥀🥀
وکی اپنے بستر پہ دراز تھا.. انگلیوں میں سگریٹ دباۓ دھواں اڑاتا پھر وہ سوچ میں گم تھا..
ہر روز اسکا ضمیر اسے ملامت کرتا تھا.. اسے جھنجوڑتا تھا اسکے گناہ اسے یاد دلاتا..
کیا ہوا اب کیوں پریشان ہو پہلے خیال نہیں آیا جب تم یہ گناہ سر انجام دے رہے تھے.. اسکا سایہ اسکے سامنے نموادر ہوا..
میں تو اسے سزا دینا چاہتا تھا اس نے میرے دوست کو برباد کرنے کی کوشش کی.. وکی نے جواز دیا..
اچھا سزا تم ہوتے کون ہو کسی کو سزا دینے والے.. تمہارا دوست برباد خود کر رہا تھا خود کو.. وہ نہیں.. یونہی خود سے سوال جواب کرتے اسکی رات گزرگئی..
🥀🥀🥀
اب امید ہے تم سدھر جاؤ گے اتنے دن جیل کی ہوا کھا ہی ہے.. ارحم ضمانت پہ رہا ہوا تھا تو ایس ایس پی اس سے کہہ رہا تھا..
میں یہ ملک ہی چھوڑ کر جا رہا ہوں دبئی کا ویزہ ہے میرے پاس.. میں نہیں رہ سکتا یہاں”.. ارحم بولا..
تم کم از کم اپنی بوڑھی ماں کا ہی خیال رکھتے جو بیچاری اس عمر میں جیل کے چکر کاٹ رہی تھی ” ایس پی نے اسے شرم دلانا چاہی..
میں زرتاج سے محبت کرتا ہوں شاید اس لیے انجام سے بےپرواہ میں نے سنگین قدم اٹھا لیا ” ارحم شرمندگی سے
کہا..
پھر سے تم نے زرتاج کا نام لیا.. وہ اب زارون کی بیوی ہے.. ” اب کے ایس پی سخت لہجہ میں کہا..
سوری اب میں نہیں لوںگا نام.. وہ کہتا نکل گیا پولیس اسٹیشن سے..
اسکے جانے کے بعد ایس پی نے کال لگائی زارون کو..
ہاں بول ” زارون نے کال اٹھا تے فٹ سے کہا..
رہا کردیا ہے اسے.. ایس پی بولا…
اسے اچھے سے سمجھا دینا تھا دوبارہ ایسی کوئی غلطی نا کرے.. اسکی ماں کی وجہ سے اسے رہا کیا ہے ورنہ.. وہ سخت ہوا..
ہاں ہاں سمجھا دیا باس سمجھا دیا عقل ٹھکانے لگ گئی ہے اسکی اب کی بار دوبارہ غلطی نہیں کرے گا وہ.. بلکہ یہ ملک ہی چھوڑ رہا ہے..
گڈ یہ تو اور بھی اچھا ہے.. ” زارون بول رہا تھا جب زرتاج واش روم سے باہر نکلی..
تم کہاں اسے کمرے سے باہر جاتا دیکھ زارون نے کال کٹ کرکے پوچھا..
وہ میں کافی لینے جا رہی تھی آپ کیلئے وہ منمنائی
چھوڑو کافی کو ادھر آؤ… وہ ہاتھ پھیلاتا اپنے پاس بلاتے کہا..
تو وہ آہستہ چل کے اسکے پاس آئی.. زارون نے اسکا ہاتھ کھینچتے خود پہ گرایا.. پھر اسے بیڈ کے ساتھ پن کرتے اس کے اوپر آیا..
“زارون پلیز ” وہ اسے خود کو چھڑاتے بولی..
کیا” وہ آئبرو اچکاتا پوچھا..
میں تھک گئی ہوں پلیز مجھے نیند آرہی ہے .. وہ ملتجی نظروں سے اسے دیکھتے بولی..
“میں بھی تو دن بھر کام کرتا ہوں اپنا وزن کا پتا ہے پھر بھی میرا حوصلہ ہے جو روز اٹھاتا ہوں.. دن بدن بھاری ہوتی جا رہی ہو”.. وہ اسے تنگ کرتا بولا..
وزن کے نام پہ تپ چڑھی زری کو..
“فلحال تو تمہارا وزن میں برداشت کر رہی ہوں ہٹو میرے اوپر سے”
تو تم اوپر آجاؤ مجھے تو کوئی اعتراض نہیں.. ” وہ اسکا گھیرا مزید تنگ کئے بولا..
تم”وہ کچھ بولتی کہ اسکے گلابی ہونٹوں کو قید کرگیا تھا.. کچھ لمحہ یونہی بیتے اور آزادی دی ان لبوں کو زرتاج لمبے لمبے سانس لینے لگی.. تو وہ ان سانسوں کو اپنے اپنے اندر اتارنے لگانا..
زرتاج تم زندگی ہو میری تمہاری یہ سانسیں جب میری سانسوں میں گھلتی ہیں تو میری سانسیں جیسے بحال ہو جاتی ہیں.. تم نے ابھی تک مجھ سے محبت کا اظہار نہیں کیا.. وہ اسے یونہی اپنے حصار میں لئے بولا..
زرتاج تو گلنار ہوئی تھی..
وہ اس کے جواب کا منتظر تھا..
کیا ابھی بھی اظہار کی ضرورت ہے پوری کی پوری تمہاری دسترس میں ہوں.. وہ نگاہیں جھکائیں بولی.. پھر تھوڑا سر اونچا کر کے اسکے ہونٹوں پہ ہلکا سا بوسا دے کر پیچھے ہوئی تھی.. تو زارون نے شدت سے ان ہونٹوں پہ جھکا تھا..
تو وہ ہلکان ہوئی اسے خود کو چھڑاتے..
🥀🥀🥀
تین دن بعد وکی ہمت کر کے ماریہ کے گھر کے سامنے پہنچا.. بہت ہمت کر کے دروازے کی بیل بجائی.. مگر کوئی باہر نا آیا..
ایک دو بار پھر بجائی.. پھر کچھ دیر بعد دروازہ کھلا ایک بڑھی خاتون باہر آئی..
ماریہ گھر پہ ہے مجھے اس سے ملنا ہے.. اس خاتون نے اسے انجان نظروں سے گھورا تھا..
کون ماریہ.. ” وہ بولی
ماریہ یہاں رہتی ہے اپنی گرینی کے ساتھ آپ اسکی.. “
اچھا اچھا.. وہ تو چلی گئی ہیں یہاں سے تقریباً تین چار دن پہلے.. ” اس بڑھی خاتون نے جواب دیا..
چلی گئی مگر کہاں.. ” وہ پریشانی سے بولا..
وہ دونوں تو گھر چھوڑ کر جا چکی ہیں.. یہ گھر انہوں کافی سالوں سے کرایہ پہ لیا تھا مجھ سے پھر اچانک ہی گھر کی چابیاں میرے حوالے کرکے چل دیں.. اس عورت نے تفصیل سے بتایا..
“کیا آپ بتا سکتی ہیں کے وہ کہاں گئی ہوں گی.. “وہ پریشان سا ہوا تھا کہ اچانک کیسے غائب ہوگئی وہ..
یہ تو مجھے نہیں پتا ” اتنا کہتے ہی دروازہ بند کردیا..
“کہاں چلی گئی ہوگی.. اب کہاں ڈھونڈوں میں اسے ” مجھے تلاش کرنا ہوگا اسے کیسے وہ مجھے اس پپچھتاوے کی آگ میں دھکیل کر جاسکتی ہے.. ” وہ چلتا گاڑی میں آکر بیٹھ گیا.. ایک نئی کشمکش میں مبتلا ہو چکا تھا..
🥀🥀🥀
ہیلو..
کہاں ہے تو اتنے دن سے آفس کیوں نہیں آ رہا سا را برڈن میرے کاندھوں پہ آگیا ہے اور تیری یہ مجنوں والی کہانی ہی ختم نہیں ہورہی.. فون اٹھاتے ہی روحان پھٹ پڑا تھا.. کافی دن سے وہ آفس سے غائب تھا..
بس یار طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لئے نہیں آ پایا” اسکی آواز بجھی بجھی سی لگی روحان کو..
اچھا ٹھیک ہے کل آنا لازمی “
“ہاں آجاؤں گا ..” کہتے کال کاٹ دی.. ” اور اپنا ماتھا ملنے لگا..
کتنے دن وکی نے ماریہ کو ڈھونڈا کبھی سڑکوں پہ پیدل نکل پڑتا تو کبھی کہیں بس میں سوار ہوجاتا شاید وہ اسے کہیں نظر آجائے مگر بے سود رہا تھا..
🥀🥀🥀
آج شائنہ کی طلحہ کیساتھ رخصتی تھی جو سیدھا کینیڈا لینڈ کرنی تھی رخصتی تو بس سادگی سے تھی نا کوئی بارات نا کوئی مہمان بس طلحہ کیساتھ اسکے والد آۓ..
شائنہ کا ویزہ ٹکٹ سب ایک ہفتہ میں ریڈی ہوگیا تھا..
لال رنگ کی فراک پہنے ہلکی سی گولڈ جیولری پہنے بالوں کو کھلا چھوڑے.. شفون کا ڈوپٹہ ہلکا سا سر پہ ٹکایا تھا.. شائنہ کے گھر سے سیدھا ایئر پورٹ کیلئے نکلے تھے وہ دونوں ..
آٹھ گھنٹے کے سفر کرکے وہ گھر پہنچےتھے ساری راستہ بس طلحہ بول رہا تھا اور وہ بس ہوں ہاں میں جواب ہی دے رہی تھی ..
وہ گھر کا جائزہ لینے لگی جو چھوٹا اور بہت ہی خوبصورتی اور نفاست سے سجایا گیا تھا..
آۓ میں آپکو اپنا بیڈ روم دکھاتا ہوں باقی سارا گھر آپکا فرست میں دیکھ لینا.. ” وہ اسکا ہاتھ پکڑے بیڈ روم میں آیا تھا شائنہ کے تو پسینہ چھوٹے تھے اگلے پل کا سوچتے ہوئے..
وہ اسے لئے اپنے کمرے میں آیا تھا.. شائنہ نے ایک تنقیدی نگاہ کمرے میں دوڑائی تھی..
طلحہ اسے دونوں شانوں سے پکڑا اپنے سامنے کیا.. شائنہ اسے ہی دیکھ رہی تھی اسکی سحر انگیز شخصیت اس پہ بھی طاری ہو رہی تھی مگر نروس بھی ہو رہی تھی یہ نکاح اسکی مرضی کے خلاف تھا مگر اب شاید اسکے دل کے حالات بھی کچھ کچھ بدل رہے تھے..اسکے تاثرات ابھی بھی سنجیدہ تھے مگر طلحہ کی آنکھوں میں محبت کا جہاں نظر آیا وہ اسے کن اکھیوں سے گھور رہا تھا.. پھر جھک اس کے ماتھے پہ محبت کی پہلی مہر ثبت کی اور پیچھے ہٹا.. شائنہ بھگتو زور سے آنکھیں میچ لی تھی..
وہ محفوظ ہوا تھا اسکی حالت دیکھ.. تو اسنے آہستگی سے آنکھیں وا کیں تھی..
مسز تھک گئی ہوں گی آپ چینج کر کے ریسٹ کرلیں.. ” وہ کہتا کمرے سے چلا گیا.. تو اسکی رکی سانسیں بحال ہوئی.
اب وہ ان بھاری کپڑوں سے جان چھڑانا چاہتی تھی..
بیگ سے اپنے لیے.. ٹی شرٹ اور ٹراوزر نکالا تھا..
واشروم سے فریش ہوکر باہر نکلی تھی.. اور بیڈ پہ کمبل اوڑھے لیٹ گئی تھکن کے باعث جلد ہی نیند آگئی..
وہ کافی دیر تک سوئی رہی تھی.. جب بیدار ہوئی تو ارد گرد نگاہ دوڑائی.. ٹائم دیکھا تو رات کے آٹھ بج رہے تھے.. وہ دوپہر کی سوئی تھی.. اور اب اٹھی تھی.. وہ کمرے سے باہر نکل آئی.. سامنے ہی کچن نظر آیا.کچن میں آئی فرخ سے پانی کی بوتل نکالتے کچن کا جائزہ لینے لگی.. تب ہی عقب سے طلحہ کی آواز آئی.. آج آآپکا پہلا دن ہے تو کل سے کچن کو جوائن کیجئے گا میں کھانا لے آیا ہوں وہ کھانے کے پیکٹ اسکے سامنے رکھتے بولا..
پنک ٹی شرٹ پہنے کھلے بال صاف شفاف چہرہ اسے اپنی طرف متوجہ کررہا تھا.. آپ کھانا لگائیں میں فریش ہو کر آیا زرا.. “
تو شائنہ نے اسکے جاتے ہی کھانا نکالنا شروع کیا اسے واقعی بہت بھوک لگی ..
اسکے واپس آتے ہی وہ کھانا لگا چکی تھی اور اسی کے آنے کے انتظار میں بیٹھی تھی.. اور وہ اسکے سامنے والی چیئر پہ بیٹھ گیا..
تو مسز کیا کیا بنا لیتی ہیں آپ کھانے میں.. وہ بس چپ چاپ کھانے میں مصروف تھی تو اسکی طرف متوجہ ہوئی اور بس نفی میں سر ہلایا..
”مجھے تو کچھ بھی نہیں آتا.. ” بس انڈا پکا لیتی ہوں یا چاۓ کافی وغیرہ باقی سب کی نوبت ہی نہیں آئی پکانے کی.. ” اس نے آہستگی سے جواب دیا..
ہہم تو مسز پھر میں تو گزارہ کرلوں گا مگر میرے بچے تو نہیں کر سکتے.. ” طلحہ نے شرارتی لہجہ سے کہا..
” شائنہ نے ناسمجھی میں اسکی طرف دیکھا اور پھر بولی” آپکے بچے بھی ہیں ” انتہائی معصومانہ انداز تھا..
طلحہ نے بمشکل اپنی ہنسی کنٹرول کی.. “آپ زرا یہ سب سمیٹ کر چاۓ لیکر روم میں آؤ پھر بتاتا ہوں.. اور وہ آٹھ کر چلا گیا اور وہ پیچھے سوچتی رہ گئی..
کچھ دیر بعد وہ چاۓ لئے روم میں آئی.. وہ بیڈ پہ ٹانگیں سیدھی کئے بیڈ کراؤن کی ساتھ ٹیگ لگائے فون یوز کررہا تھا.. سائیڈ ٹیبل پہ چاۓ رکھی وہ ٹی شرٹ میں تھی.. جس بازو ہاف تھے.. وہ اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا.. وہ باہر جانے لگی تب اس نے آواز دی..
مسز.. کہاں.. ” یہاں آؤ میرے پاس.. “
تو وہ دھیرے دھیرے چلتی اسکے قریب رکی.. طلحہ نے اسکا ہاتھ تھاما تھا..
کن سوچو میں گم ہے.. “اس نے بس نفی میں سر ہلایا تھا..
آپکو پتا ہے میں کن بچوں کی بات کررہا تھا.. ” اسنے پھر نفی میں سر ہلایا تھا..
آپکے اور میرے بچے” وہ اسکے مزید قریب ہوتے سرگوشی کرتے بولا تو وہ کان کی لو تک سرخ پڑی تھی.. اسکا شرمیلا سا روپ دل میں اتر رہا تھا..
وہ اٹھنے لگی تو پھر سے روکا “کہاں.
وہ مم.. مجھے نیند آ رہی ہے.. ” وہ منمنائی..
سارا دن سوتی رہی ہو.. واشروم میں ڈریس پڑی ہی پہن کر آؤ.. ” حکمیہ انداز میں کہتے چاۓ کا کپ منہ سے لگا گیا..
تو وہ واشروم میں بند ہوئی.. ڈریس دیکھی تو وہ ریڈ کلر نائٹی تھی جو گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تھی.. کافی دیر کھڑی وہ اسے تکتی رہی.. وہ بھی بولڈ تھی مگر اسکے سامنے ناجانے کیوں شرم سی آ رہی تھی..
مسز جلدی باہر آئیں. ” اتنا ٹائم چینج کرنے میں..” کچھ دیر میں باہر آئی تو نروس سی ہو رہی تھی.. وہ اپنی جگہ پہ ساکت کھڑی تھی.. ہاف سلیوز اور گھٹنوں سے کچھ نیچے تھے وہ محض نظریں جھکاۓ کھڑی تھی..
وہ آہستہ سے چلتے اسکے قریب آیا اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اپنے ساتھ لگایا تھا..
شائنہ میں تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں تو کیا تمہیں میرا ساتھ قبول ہے.. گھمبیر لہجہ میں سرگوشی کرتا اسکے جواب کا منتظر تھا جو محض ہاں میں ہی سر ہل سکی.. مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی اسکے چہرے پہ..
اسکے بالوں میں انگلیاں پھنساتے اسکے لبوں کو قید کرگیا تھا ..
🥀🥀🥀
وکی پلیز مجھے بچا لو.. وکی.. مجھے بچا لو.. وکی..
وکی.. وکییی..
ماریہ کی چیخنے کی آواز میں اسے پکار رہی تھی..
ماریہ.. وہ یہاں سے وہاں نیند میں سر گھوما رہا
وہ نیند میں بھی پسینے سے شرابور ہوا تھا..
ماریہ…
ایک دم سے اٹھ بیٹھا..
وہ روز ہی ایسے ہی اسکے خوابوں میں آتی اور اسکی آنکھ کھل جاتی..
وہ جب سے غائب ہوئی تھی ایک پل کیلئے بھی وہ سکون سے نہیں سو سکا تھا..
اور.. نیند کہاں آنی تھی.. پھر سے سگریٹ کا دھواں اڑانے لگا اور سوچتے سوچتے صبح ہوگئی.
🥀🥀🥀
وہ آفس آیا تھا آج کتنے دنوں بعد..
روحان تو اسکی حالت دیکھ ٹھٹھکا..
آنکھوں کے گرد حلقے سموکنگ کرنے سے ہونٹ سیاہ ہوئے پڑے تھے.. ستا ہوا چہرہ..
یار کس چیز کا ماتم منا رہا ہے..
سچ سچ بتا دے مجھ کو کونسا دکھ تجھے اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے.. ” روحان تو اسے دیکھتے ہی پھٹ پڑا تھا..
سچ ہی تو نہیں بتا سکتا وہ اتنا کہہ کر کرسی پہ بیٹھ گیا..
کیوں نہیں بتا سکتا میں آج تیرے منہ سے صرف سچ سننا چاہتا ہوں یہ علینا کے جانے کا غم نہیں ہے یہ کچھ اور ہی ہے جو تو بتا نہیں رہا ” روحان کا لہجہ سخت ہوا تھا اتنا تو وہ بھی جان چکا تھا کہ بات کچھ اور ہی ہے..
وقت آنے پہ ہی سچ بتاؤں گا اگر ابھی بتا دیا تو نفرت کرے گا مجھ سے جو میں نہیں سہہ سکتا.. اس نے قرب سے کہا..
آاچھا ٹھیک ہے تو چل پاکستان میرے ساتھ وہاں تیرا کچھ من بہل جاۓ گا اس ٹرانس سے باہر آئے گا..
میں نہیں جا رہا کہیں بھی.. وہ کہتا نکل گیا وہاں سے اور روحان سر ہلاتا رہ گیا اس سے بھی اپنے دوست ک۸ حالت دیکھی نہیں جاتی تھی..
🥀🥀
روحان اسے زبردستی باہر لے آیا تھا وہ کیفے ٹیریا میں بیٹھے تھے وکی بس بے دھیانی میں بیٹھا تھا جب اسکی سامنے کھڑی لڑکی پہ نظر گئی وکی کی طرف اسکی بیک تھی.. وہ لڑکی بلیک شرٹ کے ساتھ بلیک ہی جینس پہنی ہوئی تھی.. پتلی سی کمر تھی گولڈن بال جو کرل کئے ہوئے تھے..
وکی کوماریہ کا شبہ ہوا تھا. . وہ بھی اپنے گولڈن بالوں کے زیادہ تر کرل ہی بنائے رکھتی تھی..
وہ ایک دم سے اپنی جگہ آٹھ بیٹھا..
مماریہ.. اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھے اسے پکارا تھا اور وہ جھٹ سے مڑی تھی..
ییس.. “
وہ کوئی اور ہی تھی مسکراتے ہوئے بولی تھی..
سوری کہتا وہ مڑا تھا ..اور اسکے پیچھے ہی روحان کھڑا تھا..
تو وہ ٹھٹکا..
ماریہ کیوں بلایا تو نے اسے.. ” روحان نے پوچھا.
وہ ” وہ مجھے لگا شاید وہ ماریہ تھی. .تو میں.. وہ.. وکی گڑبڑا گیا تھا..
اگر ہوتی بھی تو بھی ہمارا اسکے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے ” روحان بولتا آگے بڑھ گیا..
وکی بھی گہرا سانس لیتے اسکے پیچھے ہو لیا.. شکر ہے کہ زیادہ سوال جواب نہیں کئے ورنہ وہ پھنس سکتا تھا..
