Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 38
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 38
آج مہندی کا فنکشن تھا تو صبح سے تیاری کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا ناشتہ کے بعد ہی سب اپنے اپنے کاموں میں جت گئے..
روحان کو بہت غصہ تھا زویا کے رات کو کمرے میں نا آنے کے اس لئے وہ کڑی نظروں سے گھور رہا تھا..
آخر کار زویا اسکے ہتھے چڑھ ہی گئی وہ کچن میں تھی جب روحان نے پیچھے سے اپنے حصار میں لے لیا..
زویا پہلے تو گھبرا گئی مگر روحان کا لمس پاتے ہی پرسکون ہوگئی..
“رات کو کیوں نہیں آئی روم میں گھمبیر آواز میں اسکے کان میں سرگوشی کی.. “
“روحان پلیز دور ہوکر بات کریں کوئی دیکھ لے گا تو کیا سوچے گا”.. زویا شرمسار سی ہوئی تھی..
ہہم دیکھنے دو.. تم میری بات کا جواب دو”.. روحان نے اسے ایک انچ بھی ہلنے نہیں دیا اور اپنی بات پہ قائم رہا..
“وہ مجھے ماما نے روک لیا تھا میں آرہی تھی”..
“کیوں روکا”.. اسکے بولتے ہوئے ہونٹ اسکی کان کی لو کو چھو رہے تھے ..
پتا نہیں..پلیز چھوڑیں..” وہ روہانسی ہوئی
بہانے بنا رہی ہو اب تو ڈبل معاوضہ وصول کروں گا رات کا بھی اور ابھی کا بھی”.. گھمبیر لہجہ میں
سرگوشی کرتا اسکی جان لینے پہ تلا تھا..
لو برڈز”… یہ رومانس کی جگہ نہیں اپنے کمرے میں پرفارم کریں یہ سب “..زرتاج انہیں وہاں اس طرح سے دیکھ اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتی بولی.. زویا کے تو مانو ہوش اڑے تھے مگر آگے بھی روحان تھا..
تو کیا کرو تمہاری بہن کمرے میں آتی ہی نہیں.. اور تم کیا ہر جگہ ٹپک پڑتی ہو..” ساری موڈ کی واٹ لگا دی..
اس سے کہو کے کمرے میں چائے لے کر آئے”.. وہ مصنوعی غصہ دکھاتے سیریس انداز میں کہتا چلا گیا..
زرتاج کی ہنسی چھوٹی تھی اس کی بے چینی دیکھ..
جاؤ بھی اپنے میاں کے پاس اسکی بھڑاس نکلے کچھ.. کل سے ستا ہوا پھر رہا ہے”.. رات کو تم ماما کے ہی کمرے میں تھی میاں کے پاس نہیں گئی”.. زرتاج کہتی زویا کے قریب. آئی
“وہ ماما نے روک لیا تھا.. “
“تو اب جاؤ چاۓ لیکر.. “
نہیں سب کیا کہیں گے”.. وہ روہانسی ہوئی ..
پاگل لڑکی شوہر ہے تمہارا.. ” زرتاج نے اسکے سر پہ چت لگائی..
زویا چائے لئے ابھی ایک دو سیڑھیاں ہی چڑھی تھی کہ..
رکو.. کہاں جا رہی ہو..” سیما نے تیز آواز سے اسے روکا..
“وہ تائی.. امی.. میں یہ.. وہ چائے”.. زویا کے تو پسینے چھوٹے تھے..
روحان آواز سن کر سامنے آیا اور اوپر سے ہی آواز لگائی..
“ماما میں نے زویا سے چاۓ منگوائی تھی”..
“کیوں تمہیں چاۓ پینی ہے تو نیچے آکر پی لو یہ اوپر نہیں جائے گی”.. . سیما نے بھی وہی کھڑے اسے لتاڑ
یہ اوپر کیوں نہیں آئے گی بیوی ہے میری”.. رات کو چاچی نے نہیں آنے دیا اور اب آپ”..وہ مسکین سی شکل بناتے بولا..
“روحان لگتا ہے تم نے ساری شرم آسٹریلیا میں بانٹ دی ہے شادی تک یہ اوپر نہیں آسکتی دو دن تو دور ہی رہو”..
چلو زویا تم کمرے میں جاؤ”.. زرتاج اور روحی بھی دبی دبی سی ہنسی نکلی تھی..
تو زویا سیما کی بات کی تائید کرتے سفینہ کے کمرے کی طرف مڑی.. “دھیان سے چلو زویا”.. ساتھ پڑے واز کیساتھ ٹکراتے بچی تو سیما بولی..
شام ہونے کو آئی مہندی کی تیاریاں عروج پہ تھی مہندی لگانے والی کو بلایا گیا تھا جو وقت پہ آگئی تھی.. پہلے زرتاج کو مہندی لگائی گئی ” آپ کے ہونے والے دلہا کا کیا نام ہے” مہندی لگانے والی نے اس سے پوچھا..
کیوں؟اسنے برا سا منہ بناتے پوچھا.. “وہ نام لکھنا ہے نا ہاتھ پہ.. “
جی نہیں.. امم میرا مطلب مجھے ہاتھوں پہ نام لکھنا پسند نہیں ہے”.. معقول سا جواب دیا
“جیسے آپ کی مرضی ” اسے عجیب سا لگا لڑکیاں تو شوق سے نام لکھواتی ہیں..
“ماشاللہ مہندی تو بہت پیاری لگی ہے” زویا اور ارم اندر آتی اسکے پاس بیٹھ گئی ارم ابھی ہی آئی اور اسکی مہندی دیکھتی بولی..
“یہ کیا آپ نے نام نہیں لکھا انکے میاں کا”..زویا مہندی والی سے پوچھنےگی..
“جی انہوں نے نام بتایا ہی نہیں بلکہ منع کردیا لکھنے سے.. “
“واٹ زری.. ” زویا نے اسے آنکھیں دکھائی
“زویا پلیز مجھے اس معاملے میں فورس نا کرنا وہ کہتی اٹھ کر چلی گئی.. “
زویا تم مہندی لگواؤ میں دیکھتی ہوں.. اور اسکے پیچھے گئی..
وہ خاموش ہوگئی اور مہندی لگوانے لگی
مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ” ارم اسکے پیچھے آئی..
“تمہیں پتا ہے میرا کیا مسئلہ ہے”
“یار کیا ہوگیا ہے اس طرح موڈ بنانے سے کیا مسئلہ حل ہوجائے گا.. “
کسے سمجھا رہی ہو آپ ” روحا بھی آئی وہاں..
آؤ ہم مہندی لگوائیں.. تم بھی آرام یہاں کھڑی سڑتی نا رہنا ” پٹک کر جواب دیتی وہ ارم کے لیکر نکل گئی..
🌹🌹🌹
…
شام میں مہندی کا فنکشن لان میں سجایا گیا.. پورا لان گیندے کے پھولو اور پیلے رنگوں سے دمک رہا تھا..
زارون ساری ارینجمنٹ کروا رہا تھا..” یہ لائٹس یہاں لگاؤ بھائی !..چھت پہ کھڑے لڑکے کو وہ گائیڈ کررہا تھا جو لائٹنگ کر رہا تھا..
شائنہ کی انٹری ہوئی تھی وہاں اسے مصروف سا دیکھ اسکے پاس آئی..
“بس کردو زارون اب.. تم بھی اپنی تیاری کرو مہمان آ رہے ہیں اور تم یہاں لگے پڑے ہو نوکروں کی طرح.. “
آس پاس لڑکے کھڑے تھے جو لائٹنگ اور سجاوٹ کرنے آئے تھے ان سب کا دھیان شائنہ پہ تھا چھوٹی ہاف سلیو چولی اور لہنگے پہنے تھی دوپٹہ بس بازوؤں پہ جھول رہا تھا.. زارون کی نظر ان سب پر اور پھر شائنہ کے حلیہ پہ گئی..
“شائنہ پلیز اندر جاؤ یہاں میں بزی ہوں”. زارون سخت لہجہ میں کہا..
“زارون میں..” شائنہ مزید کچھ کہتی زاروں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے گھر کے اندر دھکیل دیا..
اور واپس سے کام میں جت گیا..
شائنہ منہ بناتی اپنی کلائی مسلتی ہوئی اندر آئی جو زارون نے بہت زور سے پکڑی تھی..
سیما نے زویا کو مہندی کا ڈریس دیا جو اس نے پہن لیا تھا اور پارلر والی نے بھی اسے بہت پیارا تیار کیا..
زرتاج بھی پیلے اور اورنج کلر کا لہنگا پہنے بالوں میں گجرے لگائے تیار ہوئی دونوں پہ بہت روپ آیا تھا.. دونوں کے لہنگے تقریباً سیم ہی تھے ..
“یار ایسا لگ رہا ہے جیسے میری مہندی ہے”.. زویا اپنے آپ کو آئینہ میں دیکھتی بولی جو بلا کی خوبصورت لگ رہی تھی..
“تو کیا ہوا تمہیں ایسے ہی خوبصورت لگنا چاہیے”.. زرتاج بھی اسکے ساتھ کھڑی ہوتے بولی..
روحا بھی تیار ہوکر انکے پاس آئی واؤ کتنی پیاری لگ رہی ہو دونوں”.. روحا پیلا اور ہرے رنگ کا شرارہ پہنے ہوئے ان سے کم نہیں لگ رہی تھی..
تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو” زویا نے اسکی تھوڑی پکڑتے ہوۓ کہا..
ہمارے بارے میں کیا خیال جیٹھانی جی”.. وہیں پہ شائنہ آئی ایک ادا سے بال پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی..
تم بھی بہت پیاری لگ رہی دیورانی جی”.. زویا نے اسکی بھی تعریف کی جو پیلے رنگ کا لہنگا پہنے گولڈن ڈائی بالوں کو کرل کیے ہوئے تھی..
سٹیج سج چکا تھا.. سب مہمان بھی آچکے تھے..
“سب لوگ آچکے ہیں تو بچیوں کو بھی بلوا لیتے ہیں ” سیما نے سفینہ کہتے ایک لڑکی کو آواز لگائی.. اور اسکے کان میں کچھ کہا..
سب لڑکیاں زرتاج کو لال دوپٹہ کے ساۓ تلے لئے آگے اسٹیج کی طرف لا رہی تھیں.. زویا اور روحا لال دوپٹہ کو نکر سے پکڑے آگے تھی.. وہ اسٹیج پہ پہنچی تو سیما اور سفینہ کھڑی ہوکر آگے آئی سیما نے زویا کا ہاتھ پکڑ کر اسے پھولوں سے سجے جھولے پہ بٹھایا..
“زرتاج کے ساتھ زویا اور روحان کی بھی تمام رسم ادا کی جائے گی.. آج مہندی اور کل بارات” سیما نے مسکراتے کہا تو ..
زرتاج اور روحا حیران بھی اور ساتھ خوش بھی..
زویا تو حیران تھی اور سامنے آتے روحان پہ نظر گئی..
جو کڑک دار سفید شلوار قمیض میں گلے میں پیلا اور ہرے رنگ کا پٹکا ڈالے.. گھنی مونچھوں تلے مسکراتے ہوئے عنابی لب ہلکی بڑھی ہوئی شیو سلیقہ سے بال سیٹ کئے ہوئے .. اپنی مغرورانہ چال چلتے ہوئے آریا تھا..
شائنہ کی تو روحان پہ نظریں ٹھہر سی گئی..
اور پھر زویا کی طرف دیکھا جو مہبت سے اسے دیکھ رہی تھی..
روحان اسٹیج پہ آتا اپنی ماں کے گلے لگا..
“آہ بیٹھ سکتا ہوں یہاں.. ” انتہائی مودبانہ انداز میں اپنی ماں سے اجازت لی..
“ہاں ہاں بیٹھو.. ” انہوں مسکراتے کہا..
روحان زویا کے ساتھ بیٹھا.. زویا تھوڑا فاصلہ پہ ہوگئی.. روحان نے اور کھسکتے وہ فاصلہ بھی مٹا دیا..
زرتاج نے دو پتے لئے اور انکے ہاتھ پہ رکھنے لگی..
ایسے نہیں ” روحان نے ٹوکا..
“تو کیسے” زرتاج نے پوچھا..
“ایسے. ” روحان نے ایک پتا لیا اپنے ہاتھ پہ زویا کا ہاتھ رکھا..
“اوووو” ینگ پارٹی نے ہوٹنگ کی..
زویا بیچاری تو شرم سے پانی ہو رہی تھی.. اور اپنا بھی نہیں کھینچ سکی.
“یہ تو گڈ ہوگیا جی” زارون بھی سائیڈ سے نکلتا سامنے آیا زرتاج کے کاندھے پہ کہنی ٹکا کے کہا.. تو اسنے جھٹک دی..
زارون بھی سفید کرتا شلوار میں ڈیشنگ اور کافی اٹریکٹ لگ رہا تھا..
پھر سب نے باری باری رسم کی..
سامنے ہی ڈھول کی آواز آنا شروع سامنے دیکھا تو.. تو عمار ڈھول کی تھاپ پہ رقص کرتا ہوا آگے آریا تھا..
شاہانہ پھپھو بھی ساتھ ہاتھ ہلاتے آرہی تھی کچھ لڑکیاں مہندی کی تھالی پکڑی ہوئی تھیں..
زارون نے بھی عمار کو جوائن کیا تھا اور دونوں بھنگڑے ڈالنے لگے انہیں دیکھتے اورڑکے بھی شامل ہوئے.. انٹرٹینمنٹ والا ماحول بن گیا..
زرتاج اور روحا سے بھی نا رہا جا رہا تھا بس نہیں چل رہا تھا وہ بھی ان میں شامل ہوجائیں..
اسٹیج پہ کھڑی ہی ہاتھ ہلا رہی تھی..
پھر پھپھو اسٹیج پہ آئیں روحان آٹھ کر ان سے گلے ملا..
” ماشاللہ میرا بچا تو اور بھی پیارا ہوگیا ہے پہچانا ہی نہیں جا رہا.. “
پھر انہوں نے بھی مہندی کی رسم کی..
عمار بھی اسٹیج پہ آیا.. روحان سے ملا.
زویا کو روحان کیساتھ خوش دیکھ اس نے بھی اپنے دل کو سمجھایا.. زویا کی خوشی روحان کیساتھ ہے..
🌹🌹🌹🌹
جلدی کرو بھئ ” صائمہ گاڑی میں مٹھایا وغیرہ رکھ وا رہی تھی اور سب کو گاڑی میں بھی بٹھا رہی تھی.. ارحم کی مہندی کی رسم کرنے کے بعد اب زرتاج کی بھی رسم کرنے جانا تھا..
ماما پلیز ” ارحم بھی ساتھ جانے کیلئے ماں کے ترلے مار رہا تھا..
“بھائی میں آکر آپکو سب بتا دوں گی.. ” ارحم کی بہن بولی جو آج ہی باہر سے آئی تھی..
“ارحم تم نکاح سے پہلے لڑکی کیساتھ نہیں بیٹھ سکتے.. انہوں سختی سے منع کردیا ہے میں پوچھ چکی ہوں.. “
اور تم سے صبر نہیں ہوتا ایک رات کی ہی بات ہے بس کل تمہارے پاس ہوگی.. ” صائمہ نے اسے لتاڑا
وہ بیچارہ سا منہ بناتے رہ گیا.. اور سب چلے گئے..
🌹🌹🌹
“چلو اٹھو اب زری کی رسم کرنی ہے جورو کیساتھ خوب موقع مل گیا ” شہانا پھوپھو نے لتاڑا.
“بیوی ہے میری جیسے بھی بیٹھو. ” روحان نے بھی ڈھٹائی سے کہتے زویا کے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے اسے اپنے ساتھ لگایا..
ینگ پارٹی نے ہوٹنگ کی..
زویا بیچاری تو شرمسار ہی ہوتی رہی..
تو روحان نے ترس کھاتے اٹھ ہی گیا.. زویا کی تو جیسے سانس بحال ہوئی..
چلو زری بیٹھو.. ” زرتاج کا بحال ہوا موڈ پھر سے خراب ہوا منہ بناتی بیٹھ گئی..
سب سے پہلے زارون ساتھ آکر بیٹھا..
“تو فائنلی کزن وہ مبارک دن آ ہی گیا ..آج تمہاری آخری رات ہے یہاں.. “وہ اسے تنگ کرتا بولا
“کیوں کل کونسا میں نے مرجانا ہے وہ غصہ سے ناک چڑھاتی بولی..
کتنا بے صبری سے انتظار تھا مجھے کب دفع ہوگی تم.. آج تو جشن ہوگا میں تو خوب ناچوں گا” وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں اٹھاتا ناچنے کے انداز میں بولا وہ کہاں باز آنے والا..
“زارون آج تو بچی کو تنگ مت کرو.. “عالم صاحب بولے..
زارون نے لڈو اٹھا کر پورا کا پورا اپنے منہ میں ڈال لیا اور اسکی ہاتھ سے اسکی گال کھینچتا اٹھ گیا..
“جاہل کہیں کا” اپنی گال پہ ہاتھ رکھتی آہستہ آواز میں بولی..
زارون سامنے ڈھول کی تھاپ پہ ناچتے لگا اور شریر سی مسکراہٹ زرتاج کی طرف اچھالی اور ایک آنکھ بھی دبائی جو غصہ سے اسے گھور رہی تھی..
زرتاج کا دل کیا کہ یہی ڈھول پکڑ اسکے سر پہ دے مارے.
شائنہ ان دونوں کی آنکھ مچولی کب سے دیکھ رہی تھی.. اور ساتھ کچھ بھی رہی تھی..
ابھی سب رسم کر ہی رہے تھے..
لڑکے والے آگئے.. صائمہ کو مہمانوں کیساتھ حال آتے دیکھ کسی نے کہا..
“کافی دیر کردی آپ لوگوں نے”سفینہ مسکراتے ہوئے ملتے بولی..
“بس ارحم کی بھی رسم میں دیر ہوگئی. “پھر زرتاج کی بڑھی..
“کیسی ہو بیٹا.. “
وہ بس پھیکا سا مسکرائی.. بغل میں پڑا زرتاج کا موبائل سائلنٹ پہ تھا جو کب سے بجے جا رہا تھا.. ایک تو یہاں زارون نے تپایا ہوا تھا دوسرا موبائل پہ ارحم نے.. اسکے موبائل سائلنٹ موڈ کردیا..
سسرال والے بھی اور سب رسم ادا کرے چلتے بنے اب بس گھر والے ہی موجود تھے..
اب عمار سٹیج پہ آیا اور اپنے فیورٹ گانے پہ ڈانس کرنے لگا اور سب ہی نے خوب تالیاں بجائی روحا اور ارم نے بھی ڈانس کیا..
عمار روحان اور زویا کو بھی کھینچ لایا جو کب سے اسے تنگ کئے جا رہا تھا.. ڈانس کے معاملے میں دونوں کنجوس تھے.. سب کے اسرار پہ تھوڑا سا ہلہ گلہ کیا تھا.. زویا تو اپنی جان بچاتی بھاگ گئی..
اب زرتاج بھی اسٹیج پہ آئی ڈانس تو اسے بھی پسند تھا..
اسنے ابھی ناچنا شروع کرنا ہی تھا کہ زاروں تنگ کرتے کود پڑا اور اسکے دونوں ہاتھ کو نچاتا اسکے آگے پیچھے جوش سے ناچنے لگا..
زرتاج پیر پٹکتی بیٹھ گئی..
شائنہ کو اپنا آپ ان فٹ لگا وہاں وہ اپنی ماں کیساتھ بس بیٹھی.. سب لوگ خوش تھے اور زارون بھی کتنا خوش تھا بھر پور ایونٹ انجوائے کررہا تھا سب کیساتھ.. روحان بھی زویا کے آگے پیچھے تھا..
ماما گھر چلیں بہت تھک گئی. ہوں ” ہاں چلو ” وہ بھی وہاں سے رخصت ہوئیں..
تمام بزرگ بھی اب اپنے کمروں میں جا چکے تھے..
زویا نے پہلے تو چینج کیا اور پھر چاۓ بنا کر باہر لائی..
روحان. زارون اور عمار کل کے ایونٹ کو ڈسکس کررہے تھے” ہاں میں نے سب انتظام دیکھ لیا ہے آج بھی گیا تھا..”
چاۓ” زویا نے انہیں چاۓ پیش کی.. تھینکس کہتے انہوں نے لی..
جبکہ زرتاج کو ارم اور روحا گھیر کر کھڑی تھیں انکی سیلفیاں ہی نہیں ختم ہو رہی تھی..
“یار زویا پلیز بچا لو” وہ بیچارگی سے بولی..
“روحی بس کردو اب ” زویا نے روحا کو ٹوکا..
“اوکے بھابھی.. “
وہ کافی عرصہ بعد وہ کزن اکٹھے ہوئے تھے.. ایک بج گیا تھا رات کا انہیں.. اور پھر اپنے کمروں میں چل دیے
