Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280

Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 Last updated: 1 October 2025

61.9K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

BeParwah

By Ayesha Noor

ایک بجے تک اختتام ہوا تھا ولیمہ کا سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہوۓ.. تھکے تھکے سے گھر داخل ہوئے.. سب بڑے اپنے کمروں کو ہولیے.. "آؤ تمہیں ہم اپنے کمرے تک چھوڑ دیں.. " روحان زارون کے پاس کھڑا بولا.. شکریہ آپکا " زارون نے زرتاج کا ہاتھ پکڑا اور سیڑھیاں چڑھنے لگا.. روحان اور زویا بھی پیچھے تھے.. آل ڈا بیسٹ" وہ اپنے کمرے میں جانے لگے تو روحان بولا.. زویا کو لئے اپنے کمرے میں گھس گیا.. زرتاج کا ہاتھ ابھی بھی اسکی گرفت میں تھا.. زارون کمرے میں زرتاج کو لئے داخل ہوا.. تو کمرے کو دیکھ دونوں حیران ہوئے سارا کمرا پھولوں سے سجا ہوا تھا.. بیڈ پہ بھی خوبصورت سیج سجائی ہوئی تھی.. زارون نے گیٹ لاک کیا.. اور کمرے کے بیچوں بیچ آیا.. "واہ واٹ آ سراپرئز" انکے جانے کے بعد روحان نے زویا کیساتھ مل کر زارون کا کمرہ سجایا تھا.. اب زارون کو روحان کی باتوں کا مطلب سجھائی دیا.. واہ آج کی رات تو یاد گار بنا دی.. " زارون نے زرتاج کو کھینچ کر اپنے ساتھ لگایا تھا.. زرتاج کی تو مارے شرم کے پلکیں ہی نہیں اٹھ رہی تھیں.. باری باری اسکی آنکھوں پہ دھکتے لب رکھے تھے اسکے لمس سے جان پہ بنی تھی زرتاج کے اسکے سینے پہ ہاتھ رکھے پیچھے ہونا چاہا تھا مگر زارون نے اسکا ارادہ بھانپتے کمر پہ گرفت کو مضبوط کیا تھا.. "جان من" آج نہیں رک سکتا.. گھمبیر آواز میں سرگوشی کی.. وہ مم.. مجھے چینج کرنا ہے.. " اسکی سرگوشی سے بے ساختہ دھڑکنیں تیز ہوئی تھی.. زارون نے بغور اسکا جھکا ہوا چہرہ دیکھا.. آج وہ کچھ الگ ہی لگ رہی تھی سیدھا دل میں اتر رہی تھی.. مم مجھے نیند آرہی ہے پلیز.." ایک اور بہانا تراشا. پہلے چینج کرنا ہے یا سونا ہے.. " زارون نے شرارتی انداز میں کہتے اسکی دوپٹہ کی پنز نکالنے لگا.. دوپٹہ سے آزاد کرتے اسے بیڈ تک لے آیا.. اب اسکی جیولری اتارنے لگا.. گلے سے ڈائمنڈ کا نیکلیس اتارا ..زرتاج کی نظریں ہنوز جھکی ہوئی تھی.. گھبراہٹ اسکے چہرے سے عیاں تھی.. ایک باکس اسکے سامنے کیا.. زرتاج نے نا سمجھی اسکی طرف دیکھا.. تمہاری رونمائی کا گفٹ ہے.. دیکھو" زرتاج نے باکس کھولا تو اس میں خوبصورت سا پینڈت تھا.. " یہ تو بہت پیارا ہے" زرتاج کو پسند آیا.. یہ وہی پینڈت تھا جو اسنے جیولری شاپ پہ دیکھا تھا "مے آئی " زارون نے اجازت چاہی پہنانے کی تو زرتاج نے ہاں میں سر ہلایا.. تو زارون اسکے مزید قریب ہوکر وہ پینڈت اسکی صاف شفاف صراحی دار گردن کی زینت بنایا.. چہرہ اسکے چہرے سے مزید قریب تر ہوا پینڈت پہناتے ہوئے.. دونوں کی ناک مس ہورہی تھی.. انچ کا فاصلہ تھا ہونٹوں کے درمیان جو زارون نے وہ فاصلہ بھی مٹاتے نرمی سے اسکے ہونٹوں کو قید کیا.. ایک ہاتھ اسکے بالوں میں پھنسایا تھا اور دوسرا اسکی کمر پہ گردش کرتا اسکی بیک گلے کی ڈوری پہ جا پہنچا تھا جسے اسنے کھینچ دیاگلےڈوری کھلتے گلہ مزید گہرا ہوگیا آگے سے .. اسکے حسن کی رعنائیاں مزید عریاں ہوگئی.. زارون اسکے لبوں کو آزاد کرتا پیچھے ہوا تو اسکے وجود میں کھو سا گیا.. زرتاج کو تو ڈھیروں شرم نے آن گھیرا تھا.. وہ بہت نروس ہو چکی تھی.. زارون اسکے ایکسپریشن انجوائے کرنے لگا.. اور اسے مزید تنگ کرنے کا موڈ بنا.. "یہ کیا تم ڈر کیوں رہی ہو.. تم مجھے اجازت دے چکی ہو.. پہلے سے تو..اب.. تمہیں میرا ساتھ دینا ہوگا.. وہ اسکا چہرہ غور سے دیکھتا شرارتی انداز میں کہہ رہا تھا.. جس کے رنگ بدل رہے تھے.. وہ اسکی باتوں پہ حواس باختہ ہوئی.. "کم بے بی " وہ اسکے برابر میں لیٹ چکا تھا اور ہاتھ سے اشارہ کرتے اپنے پاس بلا رہا تھا.. وہ اپنی جگہ پہ ساکت بیٹھی تھی کہ کیا کرے.. "ہاۓ کتنی اچھی لگ رہی ہو نا شرماتے ہوۓ " اسنے منہ موڑ کر زارون کو دیکھا تو زارون کی ہنسی چھوٹی.. "ہاہا" زری تم اتنی ڈرپوک بھی ہو.. زارون تم مجھے تنگ کررہے ہو ہو.. " ایک دم سے زرتاج کے تیور بدلے اسے اسکا مذاق اڑاتا دیکھ.. تو زارون نے زرتاج کا ہاتھ جھٹکا.. اسکی طرف لپکتے زرتاج کی چیخ نکلی.. آآاہ.." کیوں کہ اسکا ہاتھ بھی مڑ چکا تھا... فٹ سے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھتے زارون نے اسکی چیخ کا گلہ دبایا.. زری.. یہ زری کی آواز ہے.. زویا روحان کے سینے پہ سر رکھے لیٹی تھی جبھی اسکی کانوں میں مدھم سی آواز پڑی..زویا بیڈ سے اترتی کے روحان نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور خود پہ واپس گرایا.. "پاگل ہو کہاں جا رہی ہو یہ انکا آپس کا معاملہ کا.. انکا فرسٹ ایکسپیرینس ہے"آفٹر آل میرا ہی بھائی ہے.. " روحان نے شرارت سے کہتے آنکھ دبائی.. تو زویا کی ہنسی نکلی.. اسنے دوبارا اسکے سینے پہ سر رکھے آنکھیں موندیں.. زارون نے فٹ سے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھا تھا.. "پاگل ہو چیخیں کیوں مارتی ہو.. " زارون نے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھا ہوا.. زرتاج نے اسکا ہاتھ پہ زور سے کاٹا.. آاہ.. اب کے زارون کی چیخ برآمد ہوئی.. جنگلی کہیں کی.اپنے ہاتھ کو جھٹکتا بولا ! ابھی زویا نے آنکھیں بند ہی کی تھی کہ زارون کی مدھم سی آواز کان میں پڑی.. ہاہاہاا"" تمہاری بہن بھی کم نہیں ہے.. " روحان کی ہنسا تھا.. آپ کال کریں کیوں رولا ڈالا ہوا.. " تو روحان نے لیٹے ہوئے موبائل سے نمبر ڈائل کیا زارون کا.. زویا اسکے سینے سر رکھے ہوے تھی.. جنگلی کہیں کی عقل نام کی کوئی چیز ہے تم میں.. وہ اپنا ہاتھ دیکھتا بولا جہاں اسکے دانتوں کے نشان پڑ چکے تھے.. تب ہی اسکا موبائل بج اٹھا.. روحان.. نمبر دیکھتے کال اٹھائی.. کیا مسئلہ ہے.. جو کرنا خاموشی سے کرو آوازیں اپنے کمرے تک محدود رکھو.. ہمیں تو نا ڈسٹرب کرو.. حد ہے ویسے تمہاری چیخیں نکل رہی ہیں. .." ہاں تو آپکی سالی کہاں قابو میں آنی والی ہے اچھا اب تم تو نا ڈسٹرب کرو.. زارون نے اسے بیڈ سے دیکھ فٹ سے اسکا بیک سے شرٹ پکڑی.. اور کال کاٹ دی.. "تم کہاں".. وہ.. مم.مجھے چینج کرنا کرنا ہے. اسکو بیڈ پہ گراتے اسکے اوپر آیا"ابھی جو کاروائی کی ہے نا میرے ساتھ سود سمیت بدلہ لوں گا.. "کہتے اسکے اوپر آیا کاندھے سے شرٹ کھسکتے اپنے تشنہ لب رکھے تھے.. زرتاج کی تو جان لبوں پہ آئی اسکا لمس سہتے.. زار.. زارون پلیز .. مجھے سونا ہے.. " وہ ملتجی نظروں سے اسے دیکھتے بولی.. مگر زارون کہاں آج سننے والا تھا.. اسکے ہلتے لبوں کو قید کردیا تھا.. اسکے مزاحمت کرتے ہاتھوں کو قابو کرکے تکیے کے ساتھ پن کئے تھے.. جا بجا شدت بھرا لمس چھوڑتا اسے بے حال کردیا.. اسکی روح تک رسائی حاصل کرچکا تھا.. ساری رات اس پہ اپنا پیار لوٹاتا رہا.. کبھی سوچا بھی نہیں تھا دونوں نے کے وہ ایک دوسرے میں سمو کر یکجان ہو جائیں.. یہ قدرت کے فیصلہ تھے جس کے آگے وہ سر خم کر جائیں گے