94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 27

آج زرتاج کو دیکھنے کیلے لڑکے والوں نے آنا تھا..
شام ہونے کو آئی تھی… سفینہ سارا کھانا اپنی نگرانی میں بنوا رہی تھی.. زرتاج کمرے سے باہر نہیں آئی تھی اسے تیار کرنے کی ذمہ مہ داری روحا کو سونپی گئی تھی..
کچن میں پہلے تمام پکوان تیار پہ نگاہ ڈال کر اب اسکا رخ زرتاج کے کمرے کی. طرف تھا.. اور انہیں پکا یقین تھا وہ تیار نہیں ہوئی ہوگی.. اور انکی سوچ کے عین مطابق وہ سادہ حلیہ میں ہی تھی..
ایک غصیلی نگاہ زرتاج پہ ڈالی تھی.. ایک پہلے ہی وہ زویا کو لیکر پریشان تھی.. اور اوپر سے یہ زری کی حرکتیں..
زرتاج ..” تمہیں اللہ کا واسطہ ہے مت تنگ کرو مجھے جلدی سے تیار ہوجاؤ مہمان بھی پہنچنے والے ہیں یا ماں کی جان لیکر ہی دم لینا ہے” وہ جذباتی ہوئیں ..
ماما پلیز.. ” زرتاج نے فوراً سے ٹوکا انہیں..
روحی تمہیں کہا تھا اسے تیار کرنے کا ” اب وہ روحا کی جانب مڑی..
جی” جی چاچی بس ابھی تیار ہوگئی آپ ٹینشن نا لے.. “
روحا جلدی سے بولی..
اور زرتاج کو گھورتی چلی گئی..
زری پلیز نا منتیں کرواؤ پلیز تیار ہوجاؤ دیکھو چاچی کتنی پریشان لگ رہی تھی.. ” روحا نے زری کو ڈریس تھماتے زبردستی واشروم بھیجا..
🌹🌹🌹🌹
کچھ دیر بعد لڑکے والے بھی آگئے تھے.. ڈرائنگ روم سب بیٹھے تھے..
سفینہ یہ ارحم ہے اور یہ اسکی والدہ صائمہ ہے اور یہ
ارحم کی پھپھو عقیلہ ہے.. جو مزاج کی تیز لگی تھی..
عالم صاحب نے دونوں طرف سے تعارف کروایا تھا زارون بھی اس وقت وہیں موجود تھا..
کیسی ہے آپ بہن سیما نے بھی خوش مزاجی مظاہرہ کیا تھا.. کچھ دیر آپس میں باتیں کرنے کے بعد عقیلہ پھپھو بولی.. بھئی اب لڑکی کو تو بلوائیں..
جی بس وہ آتی ہی ہونگی پیغام بھجوایا ہے.. ” سفینہ بولی..
اور کچھ ہی دیر میں روحا زرتاج کو لئے حاضر ہوئی..
یہ لیں آگئی میری بیٹی.. زارون نے بھی اسے دیکھا جو اچھی لگ رہی تھی..
نیوی بلو کلر کا سوٹ پہنے سر پہ شفون کا ہم رنگ دوپٹہ اوڑھے لائٹ سا میک اپ کئے.. نیلے رنگ میں اسکی گوری رنگت دمک رہی تھی.. خوبصورت موٹی آنکھوں میں کاجل بھرے چہرے پہ سنجیدگی سجاۓ.. اونچا لمبا قد.. روحا کے ساتھ آہستگی سے چلتی ہوئی آرہی تھی ہاتھوں میں چاۓ کی ٹرے تھامے ہوئے تھی.. بس ایک تنقیدی نگاہ ہی ارحم پہ ڈالی.. جو اسے ہی دیکھ رہا تھا..
ارحم تو چونک کر سیدھا ہوا تھا وہ تو بس اسے دیکھتا ہی رہ گیا تھا.. اسنے اپنی ماں کو مسکرا کر دیکھا اور ہاں میں سر ہلایا کہ وہ اسے پسند آگئی..
روحا نے بھی ارحم کا سر تا پیر بغور جائزہ لیا..
گندمی رنگت کلین شیو وائٹ شرٹ بلیک پینٹ پہنے جاذب نظر آرہا تھا.
ادھر آؤ میرے پاس بیٹھو..ارحم کی ماں صائمہ نے اسے اپنے پاس بٹھایا..
ماشاللہ” بہت پیاری لگ رہی ہو.. ” صائمہ نے اسکی تعریف کی.. مگر عقیلہ پھپھو اپنی عادت سے مجبور..
اسکی نظر زارون پہ تھی جو ہر لحاظ سے بہتر تھا آج بادامی رنگ کا سوٹ پہنے پرکشش لگ رہا تھا..
بہن جب لڑکا گھر میں موجود ہے تو باہر رشتہ جوڑنے کی کیا ضرورت ہے.. ” ایک پل کیلئے تو سارے چونکہ.. اور صائمہ کا دل کیا اپنآ سر پیٹ لے..
زرتاج کی بڑی بہن زویا کی شادی میرے بڑے بیٹے روحان کیساتھ ہوئی ہے جو اس وقت دونوں آسٹریلیا میں رہ رہے ہیں.. زارون کی منگنی میں نے اپنی بہن کی بیٹی کے ساتھ کی ہے جو میری خواہش بھی تھی .. سیما نے بڑے تحمل کیساتھ قرارا جواب دیا..
جی میں معذرت خواہ ہوں.. ” صائمہ فٹ سے بولی.. بلقیس نے اسے آنکھیں دکھائی..
مجھے آپکی بیٹی بہت پسند آئی ہے.. آج میری تلاش ختم ہوئی میرا اکلوتا بیٹا ہے ارحم اور ایک بیٹی ہے جو شادی شدہ ہے اور ملک سے بھی باہر ہے.. بچپن میں ہی اسکے والد ہمیں چھوڑ کر اس دنیا سے چلے گئے تھے..” انہوں نے بات کو سنبھالتے سب کا موڈ بحال کیا..
ارحم کی نظریں تو زرتاج سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی..
زرتاج اسکی نظریں خود پہ محسوس کررہی تھی.. مگر اسکی طرف دوبارہ دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا.. اور خاموشی سے نظریں جھکاۓ بیٹھی رہی الجھن سی ہو رہی تھی دل کر رہا تھا کہیں غائب ہوجائے..
پھر کچھ ہی دیر میں کھانا لگ گیا تو زرتاج نے شکر کیا جان چھوٹی..
سب لوگ آہستہ آہستہ ڈرائنگ روم سے نکلتے چلے گئے زرتاج ابھی سب کے جانے کا انتظار کررہی تھی..
ارحم بھی اپنی کرسی پہ جما بیٹھا رہا زرتاج بھی اٹھنے لگی..
ایک سیکنڈ زرتاج.. ارحم اسے اٹھتا دیکھ فٹ سے بولا..
کیا آپ خوش نہیں اس رشتہ سے.. ” ارحم بولا..
نہیں.. ایسی کوئی بات نہیں ” زرتاج نے کہا
…
پھر آپ خوش نہیں لگ رہی.. ” کیا کوئی اور پسند ہے. ” ارحم نے اسے دیکھتا بولا..
زرتاج تو ایک پل کیلئے حیران ہوئی اسکی عجیب باتوں سے.. اور گھور کر اسے دیکھا
میں نے کہا نا ایسی کوئی بات نہیں ہے.. مجھے ابھی اتنی جلدی شادی نہیں کرنی تھی.. زرتاج غصہ سے بولی
“پھر ٹھیک ہے.. آگے میں سنبھال لوں گا… ” ارحم مسکراتا بولا..
اور وہ اٹھ گئی وہاں سے..
واہ گڈ اٹیٹیوڈ آئی لائک اٹ.. ارحم بھی اسکے پیچھے اٹھ کھڑا ہوا تھا
اور دونوں آگے پیچھے باہر نکلے تھے
زارون نے دونوں کو ایک ساتھ باہر نکلتے دیکھا تو پتہ نہیں کیوں اسے اچھا نہیں لگا تھا
زرتاج کھانے کی ٹیبل پہ نہیں آئی تھی وہ سیدھا کچن میں چلی گئی.. وہ کہاں بھوکی رہنے والی تھی
پھر وہ لوگ اجازت لیتے رخصت ہوئے
..
🌹🌹🌹🌹
ارحم گاڑی چلا رہا تھا چہرے پہ مسکراہٹ تھی..
میرا بچہ بہت خوش لگ رہا ہے ساتھ بیٹھی اسکی ماں بولی.. وہ تو انہیں دیکھ کر مسکرا دیا پیچھے بیٹھی بلقیس پھپھو جلی بھنی بولی..
بھئی مجھے لڑکی زرا پسند نہیں آئی.. صحت دیکھی تھی اور اوپر سے نخرے ٹھیک سے بات تک نہیں کی.. میں تو کہتی ہوں تم ان سے انکی چھوٹی بیٹی کیلئے پوچھ لو..
واٹ پھپھو روحا بہت چھوٹی سی ہے.. مجھے زرتاج ہی پسند ہے.. اور موٹی تو نہیں ہے وہ قد کے لحاظ سے اتنی صحت تو ٹھیک ہے.. مجھے نہیں پھونک مارے سے اڑتے لڑکیاں پسند” ارحم چپ نا رہ سکا پھپھو کی بات سے اسے شاک سا لگا..
یہ دیکھ لو صائمہ ابھی سے ہی تمہارا بیٹا اسکے قصیدہ پڑھنے لگ گیا..
ارے آپا یہ کوئی دسواں رشتہ ہے اور آپکو ہر لڑکی میں کوئی نا کوئی نقص نظر آجاتا ہے.. ماشاللہ سے لڑکی بہت خوبصورت ہے ارحم کو بھی پسند آئی ہے”.. صائمہ نے اسے چپ کروایا..
چلو بھئی مرضی ہے تمہاری”.. وہ منہ بناتی بولی..
🌹🌹🌹🌹
مہمانوں کے جانے کے بعد زرتاج اور روحا لیونگ روم میں بیٹھی تھیں..
زری لڑکا تو صحیح ہے.. تم پہ لائن بھی مار رہا تھا.. روحا نے اسے چھیڑا..
ہہم ٹھرکی کہیں کا.. ” زرتاج نے برا سا منہ بناتے کہا
زارون بھی انکے بیچ آکر بیٹھا..
روحا کافی تو لادو پلیز” ..
زی بھائی ابھی تو بیٹھی ہوں”.. روحا نے برا سا منہ بنایا..
ایک تو جب سے زوئی گئی مجھ بیچارے کو تو کوئی پوچھتا نہیں.. “
چلو جتنے دن ہو تم اس گھر میں میری تھوڑی سی خدمت ہی کردو..” زارون اب زرتاج کی طرف متوجہ ہوا..
مہمانوں سے کام نہیں کرواتے.. ” روحا نے بھی اسے چھیڑا.. تو زری نے اسے گھورا.. میں آپ دونوں کے لیے کافی لائی.. روحی نکل گئی وہاں سے..
تو زرتاج اٹھنے لگی تھی.. کہ زارون نے اسے روک لیا..
“زری” کہاں جا رہی ہو بیٹھو تو صحیح روحا کافی بنانے گئی ہے ہم دونوں کیلئے..
تو زرتاج بنا کچھ بولے صوفہ پہ اسکے برابر بیٹھ گئی..
زارون تھوڑا سا کھسک کر اسکے پاس ہوا..
اسکے چہرے کو غور سے دیکھتا ہوا بولا..
” زری اگر تمہیں اس رشتہ سے کوئی پروبلم ہے تو بتا دو.. ” میں ساتھ ہوں تمہارے.. ” اس کا چہرہ ہر طرح کے جذبات سے عاری تھا.. اس لیے زارون نے پوچھا..
“تو تم کیا کرلو گے” اسنے چہرہ موڑ کر اسکی طرف دیکھا دونوں کے چہرے آمنے سامنے تھے..
“میں تمہارے ساتھ ہوں تم مجھے بتا سکتی ہو” زارون ہلکا سا مسکرایا..
“
مجھے تمہارے ساتھ کی ضرورت نہیں ہے خود حل کر سکتی ہوں اپنی پروبلم اپنی فکر کرو تم بس شانو کے ساتھ تمہارا مستقبل کیا ہوگا “.. وہ چلی گئی وہاں..
“بہت فکر ہے مجھے اپنی اس چھپکلی کے ساتھ میرا کیا بنے گا” وہ جھنجھلایا تھا شائنہ کے نام سے
🌹🌹🌹🌹
فون کے زور و شور سے بجنے پہ روحان کی آنکھ کھلی تھی.. ابھی بھی زویا اسکے حصار میں تھی..
ٹائم پہ نگاہ دوڑائی تو گھڑی کی سوئیاں آٹھ بجا رہی تھی.. اور زویا کے چہرے پہ نگاہ ڈالی جو اسکے چہرے سے بلکل قریب تر بغور اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو دیکھا وہ جانتا تھا کہ وہ بھی جاگ چکی تھی مگر آنکھ نا کھولی..
موبائل ایک بار پھر سے شور مچانے لگا تھا ہاتھ بڑھا کر فون کا گلا دبا دیا تھا.. اور پھر سے اسکی طرف متوجہ ہوا باری باری زویا کی آنکھوں پہ اپنے تشنہ لب رکھے تھے.. آہستہ سے اسے خود سے الگ کرکے اٹھا تھا.. اور واشروم میں بند ہوا تھا..
زویا نے فٹ سے آنکھیں کھولی تھیں.. رات کا سارا منظر آنکھوں کے سامنے گھوما تھا.. ایک آنسو بے مول ہو کر گرا تھا..
انہیں سوچوں گم تھی کہ واشروم کا دروازہ کھلا اور اسنے فٹ سے سر تک کمبل تان لیا..
روحان تولیہ سے بال رگڑتا باہر نکلا تھا.. آفس جانے کیلئے جلدی جلدی تیار ہونے لگا تھا آج بہت ہی ضروری میٹنگ تھی اور وہ لیٹ ہو رہا تھا..
شیشہ کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا.. اور آئنہ کے عکس میں زویا پہ بھی نظر رکھی ہوئی تھی جو کمبل سر تک اوڑھے ہوئے تھی..
دھیرے دھیرے چلتا اس تک آیا اور اسکے اوپر جھک کر نرمی سے اسے پکارا “زویا.. ” وہ جوں کی توں ہی تھی ہلی تک نہیں..
آہستہ سے اسکے منہ سے کمبل اتارا.. اب کے اسکی آنکھیں کھلی تھی.. جو سرخ ہورہی تھی
زویا آج سے ایک نئے دن کا آغاز کرتے ہیں سب پچھلی باتوں کو بھلا کر نئی زندگی کی طرف بڑھتے ہیں مان گیا ہوں بہت تکلیف پہنچائی ہے میں نے تمہیں اور سب کو اور خود کو.. ” کہتے ہی اسکے ماتھے پہ لب رکھ دیئے اور اپنا بیگ اٹھاتے کمرے سے چلا گیا..
اسکے جاتے ہی وہ ہمت کرکے بستر سے اٹھی تھی.. جینی کے آنے کا وقت ہونے والا تھا..
اور روحان کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں آئی تھی.. واش روم میں بند ہوئی تھی.. شاور لیکر وہ باہر آئی آئینہ کے سامنے کھڑی ہوئی تھی گردن پہ چھوڑے گئے اسکے لمس کے نشان ابھی بھی موجود تھے..
وہ خود پہ جا بجا ابھی بھی روحان کے لمس محسوس کر پارہی تھی.. دل بدزن ہو رہا تھا اس سے.. اسے لگ رہا تھا یہ سب روحان نے نفرت کی آڑ میں کیا ہے.. روتے ہوئے کپکپی طاری ہوگئی تو بستر پہ آکر لیٹ گئی کمبل اوڑھے..
جینی گھر میں داخل ہوئی تو پہلے کی طرح اسے زویا نظر نہیں آئی..
🌹🌹🌹
روحان کو آفس پہنچتے دس بج گئے تھے.. وہ آفس میں خلاف عادت پہلی بار لیٹ پہنچا تھا.. سب اسے دیکھتے مارننگ کہنے لگے اور ہنستا ہوا سب کو جواب دیتا آفس میں آیا تھا..
آفس والوں نے اسے بہت کم ہی اتنا خوش دیکھا ہو شاید..
اور جلدی سے لیپ ٹاپ کھولے بیٹھ گیا..
وکی ہمیشہ کی طرح بغیر ناک کئے اسکے کیبن میں گھسا چلا آیا..
یار تجھے پتا ہے نا آج مارک کیساتھ ڈیل ہونی ہے ایک گھنٹہ بعد میٹنگ رکھی ہے اور وہ انگریز کا بچہ آنے والا ہے تو ابھی تشریف لا رہا ہے.. اور کال کیوں نہیں اٹھا رہا دو گھنٹے سے کال کئے جا رہا ہوں..
سوری یار راستہ میں تھا ٹریفک زیادہ تھی اور مجھے پتا ہے میٹنگ کا میں نے ساری تیاری کی ہوئی ہے.. روحان نے بڑے تحمل سے جواب دیا.. اور نظریں لیپ ٹاپ پہ مرکوز کرلیں..
ہاں آسٹریلیا میں بھی اب ٹریفک جام ہونے لگ گئی ہے..دو گھنٹہ پہلے گھر سے نکلنا پڑتا ہے” .. جانتا تھا کہ جھوٹ بول رہا ہے اسلیے بات لگا کر کی..
تو روحان نے اسے گھرکا.. باتیں کم کر اور کام زیادہ.. ادھر آ پریزینٹیشن دیکھ تو وکی اسکے برابر آ کھڑا ہوا.. آپس میں بات چیت کرتے وکی نے اپنا ہاتھ روحان کی گردن پہ رکھ دیا..
سسس.. روحان اچانک وکی کا ہاتھ رکھنے سے سسکا..
“کیا ہوا لگتا ہے بلی نے نوندریں ماریں ہیں..” اسکی گردن پی ناخن کے نشان وہ دیکھ چکا تھا .
روحان نے فٹ سے کالر درست کیا.. کچھ نہیں ہوا تم جاؤ میٹنگ ارینج کرواؤ میں آرہا ہوں.. روحان جلدی سے فائلز کی طرف متوجہ ہوا اسکا دھیان ہٹانے کیلئے.. تو وکی وہاں سے ہنستا نکل گیا..
اسکے جاتے ہی روحان نے گردن پہ ہاتھ رکھا جہاں ابھی بھی اسے جلن کا احساس ہو رہا تھا.. رات کو زویا نے اسکی گردن پہ ناخن کے نشان چھوڑے تھے اپنے بچاؤ کیلئے.. تو وہ مسکرایا تھا..
🌹🌹🌹🌹
جینی گھر آئی تو اسے زویا پہلے کی طرح باہر نظر نہیں آئی.. تو زویا کے کمرے میں گئی..
زویا بیڈ پہ منہ تک کمبل لئے لیٹی تھی..” پہلے ہم روحان سر کا روم صاف کرلیتا ہے پھر زویا کے پاس آتا ہے. “
روحان کے کمرے میں آئی تو کمرے کی بکھری ہوئی حالت کچھ اور ہی داستان بیان کررہا تھا..
صوفہ پہ جھولتا زویا کا دوپٹہ.. تو وہ کشمکش میں مبتلا ہوئی..
پھر بیڈ تک آئی کمبل اٹھایا تو.. جگہ جگہ پر ٹوٹی ہوئی چوڑیاں بکھری تھیں تکیہ پہ اسکا جھمکا پھنسا ہوا تھا.. ایک پل ہی لگا اس کمرے میں گزری داستان سمجھنے کا.. وہ کم از کم زویا کو ایسا نہیں سمجھتی تھی اسکے نزدیک زویا روحان کی کزن ہے..
روحان کا کمرہ صاف کرنے کے بعد اسکا رخ زویا کے کمرے کا تھا..
زویا جینی کو دیکھتی اٹھ بیٹھی.. جینی خاموشی سے اسکے کمرے میں آئی اسکا بنا حال چال کئے سیریس موڈ میں اسکے پاس آئی..
ایک نظر زویا پہ ڈالی.. بھیگے بال لال سرخ آنکھیں..
زویا میم آپکا دوپٹہ اور یہ آپکا ائیر رنگز اسکو تھماتے اپنے کام میں لگ گئی.. چیزیں صاف کرتے ہوئے پٹخ رہی تھی..
زویا سمجھ گئی تھی جینی غلط فہمی کا شکار ہوگئی ہے اسے روحان اور اسکے رشتہ کے متعلق نہیں معلوم
.
جینی”.. روحان میرے ہسبنڈ ہیں.. زویا نے بھرائی آواز میں کہا.. آنسوں ٹپ ٹپ گرنے لگے..
جینی فوراً مڑی اسکی طرف..
“سسٹر پھر تم رو کیوں رہا ہے.. ” اور اپنا رشتہ کیوں چھپایا.. “
پانچ سال پہلے ہمارا نکاح ہوا.. اور روحان یہاں آگئے.. انہیں میں پسند نہیں.. وہ سسک پڑی تھی بولتے ہوۓ.. وہ یہ رشتہ ختم کرنا چاہتے تھے مگر..
تایا ابو روحان کے ڈیڈ نے انکی بات نہیں مانی اور مجھے یہاں بھیج دیا انکے پاس.. اور انہوں نے مجھے ایکسپٹ نہیں کیا.. خود ہی کہا کہ میری انکی زندگی میں کوئی جگہ نہیں…
مگر کل رات.. رات کا تکلیف دہ منظر پھر سے اسکی آنکھوں کے سامنے گھوما تو روپڑی..
جینی جب مجھ سے وہ نفرت کرتے ہیں تو کیوں یہ سب.. وہ روتے جینی سے بول رہی تھی
..
پلیز سسٹر رو مت” روحان آپکا ہسبنڈ ہے.. وہ بہت اچھا انسان ہے ہماری بہت ہیلپ کیا.” آپ بہت اچھا ہے اسلئے وہ آپ سے دور نہیں رہ سکا.. “وہ اسے سمجھاتے ہوۓ بولی.. اور زویا کا ہاتھ پکڑ لیا
..
زویا سسٹر آپکو بخار ہو رہا ہے.. ناشتہ کیا.. اسکے تپتے ہوئے ہاتھ کو پکڑ کر فکر مندی سے پوچھا جنینی نے.. تو اسنے نفی میں سر ہلایا..
تو جینی نے اس کیلئے ناشتہ بنا کر لائی اور ساتھ کچھ دوائیں بھی
..
زویا سسٹر یہ کیا آپ نے ناشتہ فنش نہیں کیا..
جینی سارا کام کر کے اسکے پاس دوبارہ آئی تو ناشتہ کی پلیٹ جوں کی توں ہی تھی.. بس تھوڑا سا بریڈ کا کونا توڑا تھا اور چاۓ لی تھی..
“جینی ابھی دل نہیں ہے میں بعد میں کھا لوں گی.. “
پکا نا ابھی ہمارا جانے کاٹائم ہو رہا ہے ” کل ملے گا اور خوش رہے..
جینی چلی گئی اور وہ پھر لیٹ گئی سر بھاری ہورہا تھا.. 🌹🌹🌹
روحان کی بہت ہی اچھی میٹنگ ہوئی بہت ہی زبردست اس نے پریزینٹیشن دی تھی اور اور اسکی ڈیل فائنل ہوگئی.
وہ بہت خوش خوش سا تھا..
کونگریچولیشن سر.. علینا نے اسے مبارکباد دی تو وہ مسکرایا تھا.. آج وہ بہت ہی خوش اور پرسکون سا لگ رہا تھا..
سر یہ خوشی کامیابی کی نہیں بلکہ کچھ پا لینے کی خوشی لگ رہی ہے.. اس خوشی میں سکون اور اطمینان بھی..
تو وہ کھل کر مسکرایا تھا.. اور آفس کی طرف بڑھ گیا.. آج اسکے چہرے پہ چمک تھی.. ہر وقت کا اداس چہرہ کھل اٹھا تھا آج..
🌹🌹🌹🌹
سفینہ کو زویا کی فکر ہوئے جا رہی تھی وہ فون نہیں اٹھا رہی تھی کتنی بار کالز کی مگر اس نے ایک نا اٹھائی.. “پتہ نہیں کل ناراض ہوگئی ہو گی.. مگر اتنی بھی کیا ناراضی اب کال بھی نا اٹھاۓ
“..
“ماما کیا ہوا ہے کچھ پریشان سی لگ رہی ہیں..
زرتاج اپنی ماں کے پاس بیٹھتی بولی..
کچھ نہیں زویا سے بات کرنی تھی فون ہی نہیں اٹھا رہی.. ” بزی ہوگی کسی کام میں ” اس میں ٹینشن کی کیا بات.. ” زرتاج بڑے آرام سے بولی..
پتا نہیں روحان کا اسکے ساتھ کیسا رویہ ہوگا.. ” وہ فکر مندی سے بولی..
سب ٹھیک ہے ماما آپ بس ٹینشن نا لے.. ” زرتاج اس دن روحان اور زویا کو ساتھ ویڈیو کال پہ دیکھ کر مطمئن تھی..
🌹🌹🌹🌹
روحان رات گئے گھر لوٹا تھا.. بارا بج گئے تھے آفس میں ہی بہت ٹائم لگ گیا اسے
..
اپنے پاس ایکسٹرا چابی سے فلیٹ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا ہمیشہ کی طرح خالی گھر نے اسکا استقبال کیا.. لائٹس آف تھیں سب..
اپنے کمرے میں آیا لائٹس آن کی سب اسکا کمرہ خالی تھا.. زویا کو کمرے میں نا پاکر اسے غصہ آیا تھا..
“رسی جل گئی مگر بل نہیں کیا.. “
بعد میں اسکی خبر لینے کا ارادہ رکھتے.. پہلے وہ واشروم گیا فریش ہونے کیلئے..
چینج کرکے وہ باہر آیا..
پتا نہیں کیا سمجھتی ہے خود کو” دروازہ ناک کیا..
زویا”.. ہلکا سا دروازہ بجایا
زویا.. اب کے آواز تیز تھی.. مگر بے سود رہا..
پھر دروازہ زور دار بجایا..” زویا دروازہ کھولو اگر میں نے خود دروازہ کھولا تو تمہاری خیر نہیں.. ” اب کے اسکا پارہ ہائی ہوا..
پھر کچن سے دروازہ کی چابی لایا ..
دروازہ کھول کر وہ اندر آیا. تو وہ منہ تک کمبل تانے لیٹی تھی..
تمہیں میری آواز سنائی دے رہی تھی.. کب سے دروازہ بجا رہا ہوں.. بس ایک دن میں ہی بیوی بننے کا شوق پورا ہوگیا.. اب تمہیں میرے کمرے میں ہونا چاہیے تھا…کہتے اس نے زویا کے منہ سے کمبل اتارا.. تو اسکی آنکھیں پھٹی رہ گئی اسکی حالت دیکھ
زویا ” زویا کیا ہوا تمہیں.. اسکا چہرہ نیلا پڑچکا تھا وہ اس پہ جھکا تھا اسکا منہ تھپ تھپانے لگا وہ تو ہوش و حواس سے بیگانہ تھی.. ماتھا شدید تپ رہا تھا..
روحان پریشان ہوگیا تھا اسے سمجھ ہی نہیں آپ کیا کرے..
فٹا فٹ پاکٹ سے موبائل نکال وکی کو کال لگائی..
وکی ابھی پانچ منٹ پہلے ہی سونے کیلئے لیٹا تھا مگر اس وقت روحان کی کال دیکھ حیران ہوا ..
ہیلو”
“وکی جلدی گاڑی لیکر آ میرے فلیٹ پہ” روحان گھبرایا سا بولا..
“کیا ہوگیا یار” اسے بھی ٹینشن ہوئی..
یار پتا نہیں زویا کو کیا ہوگیا ہے بے ہوش پڑی ہے اسے ہاسپٹل لیجانا ہے”..
بے ہوش کیا کیا ہے تونے اسکے ساتھ”
یار میں نے کچھ نہیں کیا گھر آکر اسے دیکھا تو بے ہوش پڑی تھی تو جلدی آ جا بس” روحان کو اسکے سوال جواب سے تپ چڑھی تھی..
آ رہا ہوں وکی جلدی سے گاڑی کی چابیاں اٹھاتا باہر نکلا اور فون کاٹ کر گاڑی اسٹارٹ کی..
روحان نے زویا کی الماری کھولی اسکے کپڑوں میں سے اسکی چادر ڈھونڈی اچھے طرح سے اسے اڑھائی..
دس منٹ میں وکی پہنچا تھا.. اسنے روحان کو کال کر کے آنے کا بتایا.
روحان زویا کو کاندھے پہ ڈالے بلڈنگ سے باہر آیا تھا وکی گاڑی کے باہر کھڑا اسکا انتظار کررہا تھا.. جب روحان ایک نازک سا وجود اپنے کاندھے پہ ڈالے باہر آ رہا تھا چادر سے وہ وجود پورا ڈھکا ہوا تھا بس ایک ہاتھ باہر لہرا رہا تھا.. اسکے پاس آتے ہی وکی نے جلدی سے بیک سیٹ کا دروازہ کھولا.. روحان نے زویا کو بیک سٹ لٹایا اور خود اسکے ساتھ بیٹھ کر اسکا سر اپنی گود میں رکھ اسکا ہاتھ تھام لیا وہ ابھی بھی بے سدھ پڑی تھی..
وکی نے جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کرکے ہاسپٹل کے رشتہ ڈالی..
روحان پریشان حال زویا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے اسے رگڑ رہا تھا.. زویا کا چہرہ مکمل ڈھکا ہوا تھا بس ہاتھ اسکے ہاتھ میں تھا..
وکی اسے بیک ویو مرر اے دیکھ رہا تھا اسکا پریشان ہونا زویا کیلئے اسے اچھا لگا تھا مگر وہیں زویا کے لئے فکر بھی تھی..
جلد ہی وہ ہاسپٹل پہنچ گئے جہاں ڈاکٹرز نے فوری ٹریٹمنٹ دیا تھا زویا کو..
آپ پیشنٹ کے کیا لگتے ہیں.. ڈاکٹر نے زویا کے ساتھ روحان اور وکی کو دیکھ انگلش میں پوچھا..
ہسبنڈ” وکی بولا ہی تھا کہ..
میں ہسبنڈ..” روحان جھٹ سے بولا اور وکی کو گھورا..
“ہاں تو تیرا ہی بتانے والا تھا”.. وکی نےکہا
“میں ہوں نا بتانے کیلئے تو بیٹھ جا..”روحان بولا..
شی از مائی وائف.. ڈاکٹر سے بات کرنے لگا.. تو ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ.. بخار تیز ہونے کی وجہ سے بی پی کافی لو ہوگیا تھا کچھ نا کھانے پینے کی وجہ سے ویکنیس ہوگئی ہے.. ٹریٹمنٹ کررہے ہیں.. پیشنٹ اب پہلے سے بہتر ہے.. زویا کو ڈرپس لگی ہوئی تھی روحان اسکے پاس چیئر پہ بیٹھا اسکا ہاتھ پکڑے ہوۓ بیٹھا تھا.. اسکے مرجھاۓ چہرے کو غور سے دیکھے جا رہا تھا اور اپنے رات والے کئے گئے رویہ پہ نادم بھی تھا.. شکر ادا کررہا تھا کہ وہ ٹھیک ورنہ ڈیڈ اسے نہیں چھوڑنے والے تھے..
اب پہلے سے کافی بہتر تھی.. دوائیوں کے زیر اثر ابھی بھی نیم بے ہوش تھی رات کے تقریباً تین بجے زویا کو ڈسچارج کردیا گیا…. اور وہ اسے لئے گھر آیا وکی اسے وکی اسے ڈراپ کرکے جا چکا تھا..
روحان زویا کو اٹھاۓ اپنے کمرے میں آیا.. اسے بیڈ پہ لٹا اوپر اچھے سے کمبل اڑھا کے واشروم چلا گیا..
کچھ ہی دیر میں وہ منہ ہاتھ دھو کر باہر آیا اور اسکے برابر میں آکر لیٹ گیا.. وہ ابھی بھی غنودگی میں تھی.. ایک ہی دن میں اسکا چہرہ اتر گیا تھا.. اسکے ماتھے پہ لب رکھے تھے پھر اسے اپنے ساتھ لگاۓ آنکھیں بند کریں نیند اس پہ حاوی ہونے لگی.
🌹🌹🌹
چاچی آپ یہاں اس وقت.. رات کے دو بج رہے تھے جب زارون پانی پینے کی غرض سے کمرے سے باہر آیا کچن کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اسے سفینہ حال میں ٹہلتی ہوئی نظر آئیں..
کچھ نہیں بیٹا بس نیند نہیں رہی” جبکہ انہیں زویا کی فکر ہورہی تھی کہ سے بات نہیں کی اسنے..
کوئی ٹینشن ہے تو بتا دیں آپ.. زارون کو وہ پریشان سی لگی..
نہیں بیٹا ” پریشانی زویا کی ہے ” وہ چھپانا چاہتی تھیں مگر پھر بتا دیا..
زویا کی مگر کیوں.. “
“وہ اسکا نمبر بند جا رہا ہے صبح سے کال کئے جا رہی ہوں.. ” مجھے لگتا ہے وہ ٹھیک نہیں شاید..
“چاچی آپ صاف صاف بتائیں کیا بات ہے.. “زارون اب سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا..
“وہ زویا اور روحان کے بیچ کچھ ان بن سی ہوگئی ہے..”
چاچی آپ پریشان نا ہوں میں کرتا ہوں روحان سے بات.. ” زارون کو غصہ شدید آیا تھا.. “یہ روحان کے دماغ کا فتور ہے میں اچھے سا جانتا .. ” وہ سوچتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھا روحان کو کال پہ اسکی خبر لینے کیلئے ..
سفننہ بھی اسکے پیچھے گئی..