Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 45
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 45
ماریہ اپنے بستر پہ دراز تھی جب ڈور بیل بجی تھی..
رات کا وقت تھا اسکی گرینی سونے کیلے کمرے میں جاچکی ہوگی اس لیے مجبوراً اسے ہی اٹھنا پڑا تھا..
دروازہ کھولا تو سامنے کھڑے نفوس کو دیکھتی شاکڈ ہوئی..
تم کیوں آۓ ہو یہاں “وہ سیخ پا ہوئی اسے سامنے دیکھ..
وکی اندر آیا تھا
” کول ڈاؤن بے بی” اب جب تم موبائل آف رکھو گی تو پھر میرے پاس آخری آپشن یہی ہے..
وہ ماریہ کو سر تا پیر بغور دیکھتا بولا.. جو اس وقت بلیک نائٹی میں ملبوس تھی جسکی ہاف آستینیں تھیں اور گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تھی..
دیکھو یہاں میری گرینی ہے پلیز جاؤ یہاں سے” ماریہ اسکی نظروں سے گھبراتی منتیں کرتی بولی..
یہ بس لاسٹ ہے پھر نہیں تنگ کروں گا تمہیں روحان بھی تو آنے والا ہے.. وہ خباثت سے کہتا اسکا بازو دبوچ کر سامنے والے کمرے میں لے جا چکا تھا جو ماریہ کا ہی تھا..
میں روحان کو بتاؤ گی کیسے تم نے مجھے یوز کیا ہے.. ” سفید رنگت پیلی پڑ چکی تھی.. رو رو کر آنکھیں لال تھی.
وہ بستر میں اپنا وجود کمبل سے چھپائے ہوئے تھی.. اپنا مطلب پورا کرنے کے بعد وکی کا رخ اب باہر کی طرف تھا کمرے کے دروازے کی جانب قدم بڑھائے تھے کہ اسکی بات پہ رکا..
“تم اتنی بھی ساوتری نہیں ہو جیسے میں تمہیں جانتا نہیں ہوں جانے کتنوں کے ساتھ تم ریلیشن میں رہی ہو گی.. بس میرے سامنے یہ ڈرامہ کررہی ہو…
ولیم جو چھوڑ چکا ہے تمہیں شادی کرلی ہے اسنے اسکا سوگ منا رہی ہو.. “
“تم نے خود کیا کیا ہے جو میرے کردار کو جج کررہے ہو” میں اتنی بھی گری ہوئی نہیں ہوں جتنا تم مجھے گرا چکے ہو.. بھرو گے ایک دن تم اس سب کا خمیازہ “
ہنہ.. وکی ہتک سے اسے گھورتا چلا گیا اور وہ تکیہ میں سر چھپاتی پھوٹ کر رو دی..
🌹🌹🌹🌹
مسلسل تین دن ارحم اسے یونیورسٹی کر باہر آتے جاتے پریشان کرتا رہا..
زرتاج پلیز آخری بار میری بات سن لو”.. چھٹی کے وقت زرتاج ارم کے ساتھ باہر نکلی تو ارحم پھر سے اسکے سامنے آیا..
“میں نے تم سے
کتنی بار کہا ہے کہ مجھے تنگ مت کرو نہیں کرنی کوئی بات تم سے ” وہ بھی تڑخ کر بولی..
آخری دفعہ صرف ایک بار بس.. ” میں بہت شرمندہ ہوں اپنے کئے پہ سکون برباد ہوگیا ہے میرا اگر تم بس ایک بار میری بات سن لو پکا دوبارہ کبھی تنگ نہیں کروں گا.. “”
زرتاج ایک پل کیلئے چپ ہوئی اسے جان چھڑوانی تھی اپنی کسی بھی طرح.. ارم نے بھی کہا..” سن لو ایک بار اور جان چھڑاو.. “
ٹھیک ہے بولو..” جان چھڑانے والے انداز میں کہا
یہاں نہیں کہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں.. ” ارحم نے خوش ہوتے کہا..
زرتاج کو تپ چڑھی تھی..
کہاں”
یہاں پاس ہی کیفے میں ..” آئی پرامس بس پانچ منٹ لوں گا تمہارے “
زرتاج بولی” اچھا چلو”
ارحم اپنی شاطر چال میں کامیاب ہوا تھا اور زری بنا سوچے سمجھے اسکے ساتھ چل دی یہ سوچے بغیر کے اسکے ساتھ کیا ہونے والا ہے..
زرتاج نے کال کر کے ڈرائیور کو آنے سے منع کردیا اور ایک میسج زویا کو بھیج دیا کہ وہ ارم کیساتھ ہے..
کچھ ہی دیر میں وہ ایک کیفے ٹیریا میں بیٹھے تھے..
دیکھو جلدی کہو جو بھی کہنا ہے میرے پاس ٹائم نہیں تمہارے لئے.. “
ریلیکس اب آ ہی گئی ہو تو کافی ہی پی لیں ساتھ” ارحم نے ویٹر کو اشارہ کیا..
مجھے کوئی کافی نہیں پینی پلیز جو بکواس کرنی ہے کرو. اور آج کے بعد دوبارہ مجھے تنگ نا کرنا.. ” وہ دو ٹوک بولی..
🌹🌹🌹
زارون آفس میں بیٹھا کسی فائل پہ کام کررہا تھا انگلیاں تیزی سے لیپ ٹاپ پہ چل رہی تھی جب اسکے موبائل کی ٹون بجی..
موبائل اٹھایا تو وٹس ایپ میسج تھا اسے اوپن کرتے ہی اسکے چودہ طبق روشن ہوۓ..
زرتاج ارحم کیساتھ ایک کیفے ٹیریا میں بیٹھی تھی جب وہ اسے کیفے لیکر گیا تب ہی اسنے اپنے ایک دوست کیساتھ مل کے اپنی اور اسکی پک بنالی اور اسی نے وہ پک زارون کو اسی وقت سینڈ کردی اور ساتھ میں جگہ کی لوکیشن بھی سینڈ کردی ..
زارون کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سب کچھ تہس نہس کردے.. ایک سیکنڈ کی بھی دیر کئے بغیر وہ آفس سے نکل گیا..
🌹🌹🌹🌹🌹
زرتاج میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں میرا دل نہیں لگتا تمہارے بغیر ..رات کو نیند نہیں آتی مجھے دماغ پھٹتا ہے میرا تمہیں کسی اور کے ساتھ سوچتے..
پلیز تم چھوڑ دو اس زارون کو کونسا تمہاری مرضی سے نکاح ہوا تھا.. مجھے پتا ہے تم اسے پسند نہیں کرتی.. ” ارحم بولتا جا رہا تھا مگر زرتاج شاک تھی اسکی باتیں سن کر..
“تمہارا دماغ خراب ہے یہ بکواس سننے کیلئے تم مجھے یہاں لائے تھے.. ” زارون میرا شوہر ہے ” یہی حقیقت ہے.. “تمہارے چھوڑنے کے بعد اس نے مجھے اپنایا بھی ہے اور عزت بھی دی.. “جو عزت تم میری دو کوڑی کی کر گئے تھے..
ارحم کی نظر باہر سے آتے زارون پہ پڑی تھی.. تو اس نے جلدی سے سامنے بیٹھی زرتاج کا ہاتھ تھام لیا..
زرتاج کی تو آنکھیں ابل کر باہر آئیں اس کی حرکت پہ..
” چھوڑو میرا ہاتھ ذلیل انسان.”. وہ اپنا ہاتھ چھڑا ہی رہی تھی کہ زارون ان کے سر پہ پہنچا..
؟زارون” زارون نے فٹ سے ارحم کو گریبان سے پکڑ کر کھڑا کیا تھا..
گھٹیا آدمی تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میری بیوی کو چھونے کی..” زارون کے سر پہ تو جیسے خون سوار تھا..
“تمہاری بیوی نے خود بلایا تھا مجھے ملنے کیلئے.. یہ تم سے پیار نہیں کرتی زبردستی کا رشتہ جوڑا گیا ہے اسکا تمہارے ساتھ.. ہم پیار کرتے ہیں ایک دوسرے سے ایک ہونا چاہتے ہیں.. “ارحم نے بڑی صفائی سے جھوٹ بولا..
زارون نے شولا برساتی نظروں سے زرتاج کو دیکھا جو سہم گئی تھی زارون کے غصہ سے..
نن..نہیں زا.. زارون یہ جھوٹا ہے جھوٹ بول رہا ہے.. یہ دھوکے سے لایا مم.. مجھے یہاں.. تین دن یہ مجھے تنگ کررہا تھا.. زرتاج نے لرزتے ہوئے لفظ ادا کئے..
زرتاج سچ بتا دو.. تم نہیں رہنا چاہتی اسکے ساتھ.. ارحم بولتا زارون نے زور داد مکا اس کے جڑ دیا جس سے وہ زمین پہ جا گرا تھا.. کیفے میں سب لوگ انکی طرف دیکھ رہے تھے.. زرتاج ڈر کے مارے دو قدم پیچھے ہٹی تھی.. اسکے تیور ہہت خطرناک لگ رہے تھے..
“تم جو کہو گے میں مان لوں گا یہ سوچ بھی کیسے لیا تم نے..” وہ ارحم پہ لاتیں اور گھونسے برساتا بول رہا تھا ..غصہ تھا کہ کسی قدر کم نہیں ہو رہا تھا.. پھر کچھ لڑکوں نے بیچ میں پڑ کے بچ بچاؤ کرایا.. زارون نے سہمی ہوئی زرتاج کا بازو پکڑا اور اسے کھینچنے ہوئے گاڑی میں پھینکنے والے انداز میں بٹھایا تھا..
زرتاج اسکے غصہ سے خائف چپ چاپ اپنے آنسوؤں کو اپنے اندر انڈیلتی رہی..
زارون کے پتھریلے تاثرات تھے غصہ سے ابھی بھی رگیں تنی ہوئی تھی تیزی سے گاڑی چلاتا ہوا گھر پہنچا تھا اور جھٹکے سے گاڑی پورچ میں رکی تھی..
زرتاج کی تو سانسیں رک گئی تھی گھر آتے آنے والے وقت کا سوچتے ڈر گئی تھی اب زارون گھر میں سبکو بتا دے گا کہ وہ ارحم سے ملنے گئی تھی.. آج تو اسکی عزت کا جنازہ نکل جائے گا.. مرے ہوئے قدموں سے گھر میں داخل ہوئی.. جبکہ زارون اس سے پہلے گھر آیا تھا..
تم جلدی گھر آگۓ زارون کو اس وقت گھر آتا دیکھ سیما بولی.. پیچھے سے زرتاج بھی اندر آئی..
“کام چھوڑ کر تم اسکے ڈرائیور بنے پھرتے ہو.. ” زرتاج جو دیکھ سیما بولی..
سفینہ اور زویا بھی وہیں بیٹھی تھیں..
زرتاج تو اپنی خیر منا رہی تھی..
مام میں کسی ضروری کام سے جا رہا تھا.. زری نے بتایا تھا کہ وہ اپنی دوست کیساتھ ہے تو سوچا اسے بھی گھر چھوڑ دوں.. زارون نے اصل بات کو چھپاتے ہوئے کہا تھا.. اور صوفہ پہ بیٹھ گیا.. خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کررہا تھا.. “زویا پانی پلانا” وہ تھکن زدہ لگ رہا تھا..
جبکہ زرتاج اپنی جگہ پہ منجمد کھڑی تھی جیسے کوئی مجرم ہو..
زویا اسی وقت پانی کا گلاس لے آئی تھی جو وہ ایک ہی سانس میں ختم کردیا..
تھکا سا لگ رہا ہے میرا بیٹا سیما اسکے بال سہلاتے بولی..
“جی مام جن چیزوں کے پیچھے ہم بھاگتے ہیں وہ ہمیں تھکا دیتی ہیں.. جیسا کہ آفس کا کام” آخر میں وہ بات پلٹ گیا مگر زرتاج سمجھ گئی تھی وہ اس سے بہت بدگمان ہوچکا ہے..
وہ اسکے پاس سے گزرتا وہاں سے جا چکا تھا.. زرتاج نے بھی اپنے کمرے کی راہ لی تھی..
کمرے میں آتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی.. وہ کیسے یقین دلائے اسے اپنی بے گناہی کا..
زارون نے اسکی عزت پھر سے بچائی تھی وہ ہر بار اسکا محافظ بن آجاتا تھا ہر طرح سے اسنے حفاظت کی تھی اسکی..
آج جیسے زارون نے گھر والوں سے بات چھپائی اسکا گھر والوں میں بھرم قائم رکھا.. اگر وہ سب گھر آکر بتا دیتا تو کیا عزت رہ جاتی سب کی نظروں میں اسکی.. وہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی گناہ گار ٹھہرائی جاتی..
جب اسکی بارات لوٹ گئی تھی تب بھی بھرے مجمع میں اسے عزت دی اور آج ایک بار پھر اسکی عزت کی حفاظت کرکے اسکی نظروں میں معتبر ہوگیا..
زارون کی بدگمانی برداشت نہیں ہورہی تھی اس سے..
🌹🌹🌹🌹
زارون گھر سے نکلنے کے بعد موبائل پہ اپنے دوست سے بات کی.. اسنے کام ہونے کی یقین دھانی کروائی..
دو گھنٹے بعد وہ پولیس اسٹیشن تھا..
کیا ہوا میرے کام کا.. ” اس وقت وہ اپنے دوست کامران کے پاس بیٹھا تھا.. جو ڈی ایس پی تھا.
کام ہوگیا ہے باس حوالات میں بند ہے ہریسمنٹ کا کیس ڈالا ہے”
گڈ” مجھے اس کمینہ سے ملنا ہے” زارون نے سخت لہجہ میں کہا..
آؤ.. وہ اسے ساتھ لئے جیل کی طرف آیا جہاں ارحم بند تھا..
زارون.. پلیز مجھے معاف کردو پلیز مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے پلیز..” زارون کو سامنے دیکھتے ہی ارحم اسکے سامنے ہاتھ جوڑنے لگا..
کیوں ” تمہیں یہ سب کرتے پہلے خیال نہیں آیا ہاں ” کیا سوچا تھا تم نے کہ زری سے بدگمان ہوکر اسے چھوڑ دوں گا..
” زری کو تم سے شروع سے ہی کوئی لگاؤ نہیں تھا.. جب تم اسے دھوکہ سے اپنے گھر لے گئے تھے تب ہی زری نے مجھے کال کرکے بلایا تھا تمہارے گھر.. ” وہ ارحم کا گریبان پکڑے غصہ سے بھرا بولا..
اسکے انکشاف پہ ارحم حیران ہوا تھا.. وہ حیران نظروں سے زارون کو دیکھے جا رہا تھا..
میں زرتاج سے پیار کرتا ہوں.. ارحم ایک دم بول گیا…
زارون کا پارہ مزید چڑھا..
اس پہ مکے کی برسات کردی تھی..
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کا نام اپنی زبان پہ لانے کی.. “
کامران نے اسے بڑی مشکل سے سنبھال کر پیچھے کیا..
“زارون یہ کام ہمارا ہے ” ہم اسے خود دیکھ لیں گے..
ارحم زمین پہ بے سدھ پڑا تھا..
پلیز.. پلیز مجھ سے غلطی ہوگئی.. ارحم کا منہ سوجھ چکا تھا.. وہ بڑی مشکل سے بولا تھا..
کیوں آگیا دماغ ٹھکانے “اب زارون کا دوست ڈی ایس پی بولا..
مجھ سے غلطی ہوگئی میں نے زرتاج کو مجبور کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اگر وہ میری بات سن لے گی تو میں اسے پھر تنگ نہیں کروں گا.. ” اور چل پڑی میرے ساتھ اور میں نے ہی زارون کو ہم دونوں کی تصویر بنا کہ سینڈ کی.. اور ساتھ لوکیشن بھی بھیجی زارون ضرور آئے گا..
اور پھر ان دونوں میں غلط فہمیاں ڈال کر میں زرتاج کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاؤں گا. “دس منٹ میں ہی ہوا نکل گئ تھی ارحم کی اور سب سچ اگل دیا..
زارون کو لیے کامران باہر آیا..
“زارون کالم ڈاؤن یار ” اسنے سچ سارا اگل دیا ہے تیری وائف بھی بے قصور ہے اسکی باتوں میں آگئی تھی ” کامران اسے سمجھاتے ہوئے بولا..
زارون کا غصہ کس طرح بھی کم نہیں ہو رہا تھا.. اور وہ وہاں سے آٹھ کر چلا گیا..
🌹🌹🌹🌹
کھانے کی میز پہ سب موجود تھے سوائے زارون کے..
شام کے بعد وہ گھر نہیں آیا..
زرتاج بھی بھجی بھجی سی تھی.. ٹھیک سے کھانا بھی نہیں کھایا اور روم میں آگئی.. سب نے نوٹ کیا تھا..
زرتاج کمرے میں کب سے اسکا انتظار کررہی تھی یہ پہلی دفعہ تھا کہ وہ زارون کا انتظار کررہی تھی..
آج وہ اسے تمام اختیارات دے دینا چاہتی اپنے وہ اب اسکی بن کر جینا چاہتی تھی..
اسکے دل کی ہر دھڑکن زارون پکار رہی تھی.. بلیک کلر کی نائٹی پہنے بالوں کو کھلا چھوڑے..
سارے کمرے کے چکر کاٹ کر وہ تھک چکی تھی اب کاؤچ پہ لیٹنے کے انداز میں بیٹھی تھی.. اب تو گیارہ سے بھی ٹائم اوپر ہورہا تھا.. ایک دم سے دروازہ کی نوب گھومی وہ چونک کر اٹھی گئی .دروازہ کھلتے ہی زارون اندر آیا.. زارون نے ایک تنقیدی نگاہ اس پہ ڈالی.. اور اسکے پاس گزرنے لگا تب زرتاج نے پیچھے سےدونوں ہاتھوں سے اسکا بازو تھام لیا تھا..
زارون پلیز میری بات سن لو..
“زرتاج چھوڑو مجھے.. ” وہ مڑا نہیں تھا سرد لہجہ میں بولا..
“زارون پلیز ایسا تو مت کہیں نا ” زرتاج اسکی پشت کے ساتھ لگتے آگے سے ہاتھ نکالتے اسکے کاندھے سے پکڑ لیے.. وہ اسکی پشت کے ساتھ لگی کھڑی تھی..
زرتاج “دماغ مت خراب کرو میرا وہ خود کو اس سے الگ کرتے سختی سے کہتا واشروم جا گھسا..
زرتاج کی آنکھوں سے آنسوں پھسلے تھے..
کچھ دیر بعد زارون باہر نکلا تھا چینج کر کے.. زرتاج کو اپنی جگہ کھڑا پایا تھا.. وہ اسے اگنور کرتا بیڈ پہ بیٹھا تھا.. زرتاج اسکے سامنے آئی تھی “زارون پلیز غلطی ہوگئی مجھ سے مگر پلیز.. “
“غلطی ” تم اسے غلطی کہتی ہو ” میں ہی بیوقوف تھا شاید جو تم سے محبت کر بیٹھا مگر شاید تمہیں مجھ سے نا ہوسکی.. “وہ قرب سے کہتا لیٹ چکا تھا اپنے سائیڈ کی آف کرتا اوپر بلینکٹ لے چکا تھا..
محبت کے نام پہ زرتاج کا دل ڈوب کر ابھرا تھا” اب وہ بھی اتنی پتھر نا تھی کہ اسکا دل بھی نا موم ہوتا.. “یہ پھول تو شاید اسکے دل میں کھل چکا تھا..
آہستہ آہستہ چلتے ہوئے وہ اپنی سائیڈ پہ آکر لیٹی.. تھوڑی دیر لیٹے رہنے کے بعد اسکا دل بوجھل سا ہونے لگا شاید اسے زارون کے حصار میں سونے کی عادت ہوچکی تھی.. تبھی زارون کی طرف کھسکتے ہوئے اسکا پکڑ کر سیدھا کرتے اسکے کاندھے پہ سر رکھ دیا جڑ کر اسکے ساتھ لیٹ گئی ..
زارون کو شاک لگا اسکی حرکت پہ..
“زرتاج مجھے نیند آرہی ہے پلیز سونے دو مجھے.. ” وہ خود کو اس سے الگ کرتے بولا…
“ہاں تو سوجاو میں نے کیا کہا.. “
دور رہو اب تم مجھ سے یہی تو تم چاہتی تھی نا اب کیا مسئلہ ہے. ” وہ سرد سے لہجہ میں بولا..
” وہ وہی ہوگا جو آپ چاہو گے میں اب نہیں روکوں گی..” میں اپنا حق دیا آپکو” وہ نظریں نیچی کئے بول رہی تھی اس کا سراپا حسن اسے بہکا رہا تھا. اسکے ہلتے لب اسے گستاخی پر مجبور کررہے تھے ..
“اب کوئی فائدہ نہیں ہے.. ” بڑی مشکل سے خود پہ کنٹرول کرتا وہ منہ دوسری سائیڈ کئے لیٹ گیا..
اپنی انسلٹ فیل ہوئی تھی اب تو اسے اجازت بھی دے گئی مگر وہ پھر بھی رخ پھیر گیا..
مگر وہ اسکی پشت کیساتھ لگتی بازو اسکے آگے سے نکالتی آنکھیں موند گئی..
🌹🌹🌹🌹
صبح بھی زارون کا رویہ لیا دیا اس تھا.. چپ چاپ ناشتہ کرکے چلتا بنا.. زرتاج کا منہ لٹکا سا رہ گیا.. وہ اسے اگنور کرتا چلا گیا..
تم آج یونی نہیں گئی.. اچھا ہے.. ولیمہ سر پہ ہے اور تمہیں یونیورسٹی کی جانے کی سوجھ گئی ہے.. تین دن رہ گئے اور ابھی تک تمہارا جوڑا نہیں خریدا ولیمہ کا..
وہ صوفہ پہ منہ لٹکائے بیٹھی تھی تب سفینہ بھی اسکے پاس آکر بیٹھی..
جی ماما.. ” وہ بس اتنا ہی بول سکی..
تم زارون کیساتھ جا کر ڈریس لے لو.. ” زویا بھی اسکے ساتھ بیٹھتی بولی..
“وہ نہیں جاۓ گا” وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی..
“کیوں ” کیوں نہیں جاۓ گا” زویا نے کہا…
آفس کی جان چھوڑے گا تب نا.. “وہ منہ بسورتی بولی..
میں کہہ دوں گی کل چلے جانا” سفینہ بولی..
” اچھا” پھر ایک لفظ بول کر چپ ہوگئی..
تمہیں ہوا کیا ہے” چپ سی ہو.. “زویا نے اسے ٹٹولتے ہوئے پوچھا..
“کچھ نہیں ہوا اینوی میرے پیچھے نا پڑی رہا کرو” کہتی آناً فاناً چلتی بنی..
“زارون کیساتھ ہوگئی کچھ ان بن ” سفینہ بولی..
” زارون کو یہ سر پہ سوار کرنے والی” انکی بات مزاق میں اڑاتی بولی.. تو دونوں ہنس دی..
کتنی ہی کالز کی زری نے زارون کو مگر کوئی ریسپونس نہیں آیا سامنے سے..
رات کو بھی عین کھانے کے وقت گھر آیا..
کمرے میں آیا تو خلاف معمول اسکے کپڑے بیڈ پہ پڑے تھے ورنہ ہمیشہ سے وہ اپنے کپڑے خود ہی نکالتا تھا.. ان کپڑوں کسی خاطر میں نا لاتے اور کپڑے الماری سے نکال کر چینج کرلیے..
جب وہ نیچے آیا تو کوئی اور کپڑے پہنے دیکھ زری کو غصہ آیا تھا.. اب اتنا بھی کیا غصہ کے وہ اسے اتنا ہی اگنور کردے..
بغیر اسکی طرف دیکھے وہ اپنی جگہ پہ بیٹھ گیا..
سب کے ساتھ نارمل انداز بات چیت کررہا تھا مگر اسکی طرف دیکھنا بھی گوارا نا کیا..
کھانے کے بعد زارون پھر سے باہر نکل گیا سب بزرگ اپنے کمرے میں جا چکے تھے..
