Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 4
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 4
اگلے دن روحان نے بتایا کے تین دن بعد کی اسکی آسٹریلیا کی فلائٹ کنفرم ہو گئی ہے ۔۔
“تم توآٹھ دن بعد جانے والے تھے تو یہ تین دن بعد کیوں “۔۔ عالم روحان سے پوچھ رہے تھے آواز میں سختی تھی۔۔۔
سب بڑے اس وقت حال میں بیٹھے تھے اور روحان کی کلاس لگی ہوئی تھی۔۔
” آٹھ دن بعد جاؤں یا تین دن بعد آپ لوگوں کی بات تو میں مان چکا ہوں اب آپ لوگ میری بات مان لیں” وہ بھی سنجیدگی سے بولا تھا۔۔۔
سب خاموش ہوئے تھے اس کی بات پہ۔۔
“ٹھیک ہے بیٹا بات تمہاری ٹھیک ہے” یوسف صاحب بولے تھے۔۔
سیما کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تھے روحان نے انہیں گلے لگایا تھا۔۔ “پلیز مام ایسے روئیں مت”۔۔ “کیوں نہ رو تم اتنی دور جا رہے ہو مجھے چھوڑ کر یوں”۔۔
” موم میں اپنے کے کام سے جارہا ہوں۔۔ ٹکٹ ہی پرسوں کی مل رہی تھی ورنہ بہت دیر سے فلائٹ ملے گیی “اس لۓ جلدی جا رہا ہوں
روحان نے جان بوجھ کر اپنی سیٹس پہلی والی کینسل کرکے آگلے کی تین دن پہلے کی کروالی تھی وہ اب مزید رک سکتا تھا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
تین دن تو جیسے پر لگا کر اڑ گۓ تھے۔۔۔ وہ اپنا زیادہ وقت اپنی ماں کے ساتھ گزارتا سب میں موجود بیٹھا ہوتا تھا زویا بھی وہاں سب کے ساتھ ہوتی
مگر وہ اسے ایسے اگنور کرتا جیسے وہ وہاں ہو ہی نہ۔۔
جیسے وہ اس کے لۓ کوئی اجنبی ہو۔۔
وہ جا رہا تھا سب اس سے مل رہے تھے سب کی آنکھئں نم ہوئی تھی۔۔وہ پہلی بار کہیں دور جا رہا تھا لمبے عرصہ کیلۓ۔۔
زویا چھت پہ کھڑی اسے اوپر سے جاتا دیکھ رہی تھی۔۔اسنے ملنا تو تھا نہیں پھر اسکے سامنے جانے کا کوئی فائدہ نہی تھا۔۔
سب کو خدا حافظ کہہ کر ہاتھ ہلاتا گاڑی میں بیٹھتے وقت روحان کی نظریں اوپر چھت کی طرف اٹھی تھیں مگر وہاں کوئی نہی تھا نا جانے کیوں اسے زویا کا گمان ہوا تھا سر جھٹکتا وہ گاڑی میں بیٹھ گیا تھا۔۔
زویا روحان کو سر اٹھا تا دیکھ فورن سے نیچے چھپی تھی کہیں وہ اسے دیکھ نہ لے۔۔
🥀🥀🥀🥀
زارون روحان کو ایئرپورٹ اکیلا چھوڑنے جا رہا تھا زارون گاڑی چلا رہا تھا روحان فرنٹ سیٹ پہ اسکے ساتھ بیٹھا ۔۔
ساتھ میں ہلکی پھلکی باتیں بھی کر رہے تھے۔۔
“بھائی اب تو آپ سے تین سال بعد ہی ملاقات ہوگی”۔۔
“ہمم شاید “۔۔روحان سامنے دیکھتا بس اتنا ہی بولا تھا ۔۔
“میں سمجھا نہیں زارون نے” نہ سمجھی سے اسے دیکھا۔۔
“میں تب ھی پاکستان آؤں گا جب یہ زویا کا ہار میرے گلے سے اتار دیا جائے گا تب ہی میں آؤں گا ورنہ نہیں”۔ “شایدکبھی بھی نہیں” روحان کا چہرہ سپاٹ تھا ۔۔۔ جبکہ زارون تو حیران ہوا تھا اس کی باتوں پہ۔۔” آپ ایسا کیسے سوچ سکتے ہیں”۔۔
“کیوں نہیں سوچ سکتا میں ایسا.. جو میرے ساتھ ہوا ہے نہ اگر تمہارے ساتھ ہوتا تو تمہیں پتہ چلتا میں ایسا کر سکتا ہوں۔۔ تمہیں اپنا کوئی خواب پورا کرنا ہو اور تم سے اس کے بدلے میں کوئی بڑی قربانی مانگی جائے تو تم کیا کرو” وہ الٹا اس سے ہی سوال پوچھ رہا تھا۔۔ زارون بس خاموش رہا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا اور اس کا کیا جواب دے۔۔
🥀🥀🥀🥀
روحان کے جانے بعد سب اداس ہو گۓ تھے گھر سنا سنا سا لگ رہا تھا پھر آہستہ آہستہ سب اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے۔۔
روحان نے آسٹریلیا پہنچ کر اپنی خیریت کی اطلاع دے دی تھی۔۔
روحان کو گۓ ابھی ایک ماہ گزرا تھا کہ خدا یوسف صاحب کی طبیعت خراب رہنے لگی تھی۔۔
پھر ایک دن کی بہت ان کی طبیعت خراب ہوگئی ہسپتال لے جایا گیا تھا۔۔
انہیں ہارٹ اٹیک آیا تھا اور وہ اپنی زندگی کی بازی ہار گیۓ۔۔
ملک ولا میں ہر کوئی سوگوار تھا انہیں یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ یوسف صاحب ان میں نہیں رہے ۔۔انہیں سپرد خاک کر دیا گیا ۔۔زویا اور زری کو لگا جیسے وہ سہی معنوں اب یتیم ہوئی ہیں یوسف صاحب نے انہیں باپ کی کمی محسوس نہی ہونے دی تھی وہ ان سے اتنا پیار کرتے تھے۔۔روحان نہی آسکا تھا عالم صاحب نے بھی آنے روک دیا تھا وہ ہیں یہاں پہ سب کے ساتھ وہ بس انکے لیۓ مغفرت کی دعا کرے۔۔
روحان اپنے دادا سے ناراض ضرور تھا مگر انکے لیۓ اسکے دل میں محبت بھی تھی اس لۓ اسنے دادا جی کو معاف کردیا تھا دل سے تاکہ انکے لۓ آگے آسانی ہو سکے۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
وقت کا کام تھا گزرنا سو وہ گزرتا رہا
تین سال گزر گۓ تھے۔۔ روحان کی واپسی کا وقت بھی ہوگیا تھا ۔۔عالم صاحب نے روحان کی واپسی پہ جلد ہی زویا کی رخصتی کا بھی فیصلہ کیا تھا۔
زارون جانتا تھا کہ روحان نہیں آنے والا۔۔۔کیونکہ اسکی کئی بار اس ٹاپک پر بات ہو چکی تھی مگر اس کا ہمیشہ سے ہی ایک ہی جواب رہا۔۔اور وہ اپنے فیصلہ سے اپنے باپ عالم صاحب کو بھی آگاہ کردے گا کہ وہ زویا سے علیحدگی چاہتا ہے اسی صورت اسکی واپسی ممکن ہے۔۔
وقت نے بہت کچھ بدل دیا تھا ۔۔
سیما کا رویہ سفینہ کے ساتھ لیا دیا ہی تھا زویا کو بھی وہ بات سنانے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی تھی۔۔
اسکی وجہ سے اسکا بیٹا اس سے دور ہے۔
گھر کے کاموں کی بھی زمہ داری اس پہ ڈال دی تھی کہ وہ اس گھر کی بہو ہے سب کچھ اسی نے سنبھالنا ہے۔۔
کچن کے کاموں میں لگائی رکھتی۔۔۔اور اپنی خدمتیں بھی کروانا ۔۔زویا سب کام چپ چاپ کر لیتی تھی۔ ۔۔سفینہ بھی اسے اپنی ساس کی باتیں ماننے کی تلقین کرتی تھیں۔۔۔
عالم صاحب کا اس سے شفقت والا رویہ ہی رکھتے تھے۔۔۔
شوہر جس نے پلٹ کر پوچھا تک نہ تھا۔ جب اسکا فون آتا تو سب سے بات ہوتی مگر وہ تو اسکا بھول کر بھی نہ پوچھتا تھا۔۔
اپنی بےقدری پہ دل خون کے آنسوں روتا مگر کرے بھی تو کیا جو دھڑکتا بھی اسکے نام پہ ہے۔۔
نکاح کے دو بول نے اسکے دل میں اسکے شوہر کی محبت پیدا ہوگئی مگر وہ ستمگر ظالم بنا بیٹھا ہے اسکی جان لینے پہ طلا ہے۔۔اسکی دوری اسکی جان ہی تو لے رہی ہے سلو پوئزن کی طرح۔۔
اتنے لوگوں میں بھی خود کو تنہا محسوس کرنا چھپ چھپ کر رونا۔۔سفینہ سے اپنی بیٹی کی حالت مخفی نہ تھی آخر ماں تھی۔۔اسکی خاموشی ہی اسکے دل کا حال بیاں کر دیتی تھی۔۔
زرتاج اور روحا کی دوستی بھی وقت کے ساتھ مزید گہری ہو گئی تھی۔۔ دونوں کا روم بھی ایک ہی تھا۔۔ روحا کا کالج اسٹارٹ ہوا تھا تو زرتاج کی یونیورسٹی ۔۔زارون کی ینیورسٹی میں ہی اسکا ایڈمیشن ہوا تھا عالم صاحب کے کہنے پہ۔۔
پہلے ہی انکے درمیان جنگ جاری رہتی تھی۔۔اور اب ایک یونیورسٹی ساتھ جانا۔۔
زارون کی یونیورسٹی کی پڑھائی ختم ہونے والی تھی۔۔
زارون کو زرتاج سے بے جا بیر ہوا تھا ۔۔روحان کی باتوں نے اور اپنی ماں کی باتوں نے اسے ان تینوں کے خلاف کردیا تھا۔۔ زویا سے وہ کچھ نہ کہتا رویہ بس لیا دیا ہی تھا کیونکہ وہ اسکے بھائی کی بیوی تھی بھلے ہی وہ اسے پسند نہی کرتا مگر زارون کیلۓ اسکی بھابھی قابل احترام ہی تھی۔۔اور سفینہ اسکی چاچی اسلیٔے وہ انکی بھی عزت کرتا مگر زرتاج کو وہ کسی صورت نہ بخشتا تھا۔۔
وہ اس کی ہٹ لسٹ میں سب سے آگے تھی۔۔اور زرتاج بھی اپنے نام کی ایک تھی وہ بھی پورا جواب اسے دھر کے دیتی اور سفینہ سے ڈانٹ بھی کھاتی تھی۔۔
دونوں کو ہی چڑ تھی ایک دوسرے سے۔۔بے جا ضد بات بے بات لڑائی طنز وتیر کے نشتر۔۔
روز یونیورسٹی آتے جاتے جھگڑنا کبھی وہ خود گاڑی سے اتر جاتی تو کبھی زارون اسکو رستہ میں اتار دیتا تھا۔۔ جب بھی وہ گھر اکیلے آتی تو سفینہ اسے ڈانٹ پڑتی تھی وہ اسے ہی سمجھاتی تھی۔۔
جب بھی وہ اکیلی گھر آتی تو سفینہ کی ڈانٹ سے دھلائی ہوتی اسکی ۔۔”تم پھر اکیلی آئی ہو کتنی بار کہا ہے کہ زارون کے ساتھ آیا کرو”۔۔
“ماما جو وہ اتنی باتیں سنا رہا تھا کوئی احسان نہی کرتا مجھ پہ تایا ابو کی وجہ سے اسے جھیل رہی ہوں تنگ آگئی ہوں یونی بھی جانے کا دل نہی کرتا۔”۔۔
“ہاں تو تم چپ کر جایا کرو گز بھر لمبی زبان ہے تمہاری بڑا ہے وہ تم سے کچھ بھی کہتا ہے تو چپ کر جایا کرو”۔۔۔
“بسس آپ مجھے ہی چپ کرایا کریں ہر کوئی بس میرے پیچھے ہڑا رہتا ہے”۔۔یہ کہتی یہ جا وہ جا اور سفینہ اپنا ماتھا پیٹتی رہ جاتیں۔۔
اور رات تک یہ خبر عالم تک بھی پہنچ جاتی اور زارون کی کلاس لگتی تھی ۔۔
ایسے کرتے چھہ ماہ کا عرصہ بیت گیا اور دونوں ہی باز نہ آۓ۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
آج پھر زارون سے لڑ کر زرتاج گاڑی سے اتر گئی تھی اور غنڈوں کے ہتھے چڑ گئی تھی اگر زارون بروقت نہ پہنچتا تو ۔۔
“زارون کمرے میں آیا ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا آج جو حادثہ ہوا ہے اگر زرتاج کی عزت خراب ہو جاتی وہ غنڈے اس کے ساتھ کچھ کر دیتے تو وہ خود کو کبھی معاف نا کر پاتا وہ اسکے چاچو کی بیٹی ہے اسکے گھر کی بھی عزت ہے” ۔۔
غصہ سے اسکی دماغ کی نسیں ابھرنے لگی تھی پھر اپنے دوست کو فون کیا اس سے کچھ ضروری باتیں کر کے فون بیڈ پہ پھینک کے واشروم گھس گیا۔۔
زرتاج کمرے میں آئی تو کمرا خالی تھا روحا ابھی کالج سے نہیں آئی تھی اس بات کا شکر مناتے واڈروب سے اپنے سوٹ نکالتے واشروم میں چلی گئی کافی دیر گرم پانی سے شاور لینے کے بعد کمرے سے باہر نکلی تھی۔۔
ابھی بھی وہ منظر اپنی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا۔
ڈریسنگ کے سامنے آ کر اپنا چہرہ دیکھا تو گال پہ نیل پڑا ہوا تھا ہونٹ کے کنارے زخم تھا۔۔
بازو ابھی بھی درد کر رہے تھے جیسے ابھی بھی انکے شکنجے میں ہوں۔۔
اب وہ سوچ رہی تھی وہ کیسے یہ نیشان چھپاۓ اگر کسی نے دیکھ لیا تو میں کیا جواب دوں گی۔۔اور یہ اتنی جلدی ٹھیک بھی نہی ہوگا۔۔
اس سے پہلے کہ کوئی آتا فوراً سے لائیٹ آف کر کے کمبل میں دبک کر لیٹ
روحہ روم میں آئی تو سر تک کمبل تانے سوتی بنی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
رات کو سب کھانے کی ٹیبل پر موجود تھے سواۓ زرتاج کے تو عالم صاحب پوچھ بیٹھے۔۔
“یہ زری کہاں ہے اسنے کھانا نہیں کھانا “۔۔۔
“ڈیڈ اسے تو بخار ہے اس لیۓ وہ نہیں آئی “جواب روحا کی طرف سے آیا تھا۔۔
زارون کے کھانا کھاتے ہاتھ رکے تھے۔۔
“روحا تم نے پہلے کیوں نہی بتایا اسے ڈاکٹر کے پاس لے چلتے ہیں” سفینہ پریشانی سے بولی تھی۔۔
ڈاکٹر کے نام پہ زارون کے چھکے چھوٹے تھے اگر ڈاکٹر پہ پاس چلے گئی تو آج کا راز فاش ہو جاۓ گا ۔۔۔
“ارے ماما آپ پریشان نہ ہوں میں نے میڈیسن دے دی تھی اسے صبح تک ٹھیک ہو جاۓ گی اسے آرام کرنے دیں”زویا نے سفینہ کو تسلی دی تھی وہ ابھی ہو کر آئی تھی اس کے پاس سے زرتاج نے لائیٹ آف کی ہوئی تھی اور ہلکے زیورو بلب کی روشنی اسکے چہرہ اسے ٹھیک سے نظر نہی آیا تھا۔۔
زارون کا رکا ہوا سانس بہال ہوا تھا۔۔
“ٹھیک ہے بیٹا زری کا خیال رکھنا اگر طبیعت ٹھیک نا ہوئی تو صبح ڈاکٹر کو بلا لیں گے”۔۔
🥀🥀🥀🥀
سب بڑے کھانا کھا کے اپنے کمرے میں جا چکے تھے ۔۔روحا اور زارون ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے تھے جبکہ زویا کیچن سمیٹ رہی تھی۔۔
زارون صوفے کے ساتھ ٹیگ لگاۓ دونوں ٹانگیں میز کےاوپر کۓ بیٹھا کسی گہری سوچ میں گم تھا ساتھ ہی کچھ فاصلے پہ روحا جھولی میں کشن رکھے دونوں ٹانگیں اوپر کۓ بیٹھی ایک ہاتھ میں ریموٹ پکڑا ہوا تھا ٹی وی پہ کمیڈی شو دیکھ رہی تھی۔۔
“کیا بات ہے چپ چپ سے ہیں کوئی ٹینشن ہے” روحہ کی بات پہ اسنے چونک کر اسکی طرف دیکھا تھا۔۔
“نہیں کچھ نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں” ۔۔ایک پل کے لۓ سٹپٹایا تھا ۔۔
“ہمم گھر میں آج شانتی ہے ادھر زری چپ ہے ارو ادھر آپ۔۔ورنہ تو اس وقت کوئی تو آپ دونوں کا ڈرامہ دیکھنے کو مل جاتا تھا” زارون نے اسے گھور کے دیکھا تھا تو وہ مسکرا دی تھی۔۔”مزاق کر رہی تھی”۔۔
اس وقت وہ دونوں بیٹھی اپنا فیورٹ شو دیکھتی تھیں اور زارون ان سے ریموٹ چھین کر اپنا سپورٹ چینل لگا کہ بیٹھ جاتا تھا اور بس پھر وہ دونوں بول رہے ہوتے اور روحا اور زویا انکا یہ لائیو شو انجائی کرتیں۔۔
وہ اٹھ کر وہاں سے نکل گیا سچ میں آج اسے بھی ٹی وی دیکھنے میں مزہ نہی آرہا تھا اسے بھی زری کی چپی اچھی نہیں لگی تھی سیڑھیاں پھلانگتا وہ اور اپنے کمرے کی طرف جانے لگا مگر وہ زری اور روحا کے روم کی طرف بڑھ گیا تھا پہلے نمبر پہ زارون کا کمرہ تھا..دوسرے نمبر پہ روحان اور سامنے تیسرا نمبر پہ روحا اور زری کا کمرہ تھا جو کہ ان دونوں کا مشترکہ تھا۔۔
وہ کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آیا تو کمرے میں نیم اندھیرا تھا ۔۔وہ کمبل اوڑھے لیٹی ہوئی تھی اسکا آدھا سر کمبل سے باہر تھا ۔۔وہ بیڈ کے کنارے بلکل اسکے قریب آکر اسکے ماتھے پہ ہاتھ رکھا تو واقعی بہت تپ رہا تھا۔۔وہ دو قدم پیچھے ہٹا تھا ۔۔ اور پھر کمرے سے ہی باہر نکل کر اپنے کمرے میں آگیا تھا۔۔
زویا سیڑھیاں چڑھتی اوپر ہی آرہی تھی زری کیلۓ دودھ اور ٹیبلٹ لےکر تبھی اسکی نظر زارون پہ پڑی تھی وہ زری کے کمرے سے تیزی سے نکلتا اپنے کمرے میں بند ہوا تھا۔۔
زویا کمرے میں آئی تو زری کمبل تانے لیٹی ہوئ تھی زویا نے اسکے ماتھے پہ ہاتھ رکھا تو وہ ابھی بھی تپ رہا تھا مگر پہلے سے تھوڑا کم تھا۔۔
“زری اٹھو دودھ پیو پھر دوائی بھی کھانی تایا ابو نے آرڈر دیا ہے اگر ٹھیک نہی ہوئی تو صبح ڈاکٹر کو بلا لیں گے”۔۔
ڈاکٹر کے نام پہ زری اٹھ بیٹھی تھی۔۔زویا کو ہنسی آئی تھی اسکی حرکت پہ پھر اسے دودھ کا گلاس پکڑاتے بولی” زارون آیا تھا تمہارے کمرےمیں” ۔۔
پتا نہیں کب آیا تھا” زری دودھ کا گلاس پکڑتی بولی تھی۔۔
“ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی میں اسے تمہارے کمرے سے نکلتے دیکھا تھا کھانے پہ بھی چپ چپ سا تھا پھر ٹی وی لاؤنج میں خاموش رہا کیا کوئی بات ہوئی ہے تم دونوں میں” زویا کو کوئی گڑبڑ محسوس ہوئی تھی اس لئے پوچھے بنا نہ رہ سکی ۔۔
“روحا پلیز لائیٹ مت آن کرنا” روحا جو ابھی روم میں آئی تھی لائیٹ آن کرنے والی تھی تو زری کی اس پہ نظر پڑی تو فوراً بول پڑی۔۔
“اوہ سوری تمہاری طبیعت ٹھیک نہی ہے” روحہ بھی پاس آکر بیٹھی تھی۔۔
“زویا میں نے پہلے کب زارون کی باتوں کی ٹینشن لی ہے جو اب لوں گی تمہارے سامنے ہی ہے بخار ہوا ہے”۔۔
” زوئی بھابھی وہ پریشان ہے زری کیلۓ اب اتنا بھی برا نہی میرا بھائی” روحہ ہنستی بولی تھی ۔۔
“اوکے ریسٹ کرو اب تم” زویا مسکراتی اسکے بال سہلاتی باہر نکل گئی۔۔
روحہ اور زرتاج کا کشادہ کمرہ تھا دو خوبصورت سنگل بیڈ پڑےتھے بے بی پینک باربی ڈول والی تھیم سے انکا کمرا سجا تھا جو کہ روحہ کی پسند سے ڈیکوریٹ کیا تھا۔۔
“اوکے گڈ نائٹ سو جاؤ تم زری” روحہ اپنے بیڈ پہ آکر لیٹ گئی۔۔اسکی طبیعت کی وجہ سے اسے تنگ نہیں کیا تھا۔۔
زری بھی دوایوں کے زیر اثر جلد ہی سو گئی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
زارون اپنے کمرے آکر بستر پہ گرا تھا اسے زری کی حالت دیکھ خود پرغصہ آرہا تھا تبھی فون رنگ ہو تھا۔۔
“ہاں بول کیا بنا” ۔۔
“کام ہو گیا باس وہ لڑکے پکڑے گۓ ہیں سیل میں بند ہیں انکے خلاف پہلے بھی کافی کمپلینز آئ ہوئی تھی اب وہ لمبے عرسے کے لیۓ جیل گۓ” سہیل زارون کا دوست ہنستے ہوۓ اسے بتا رہا تھا ۔۔جسے زارون نے دوپہر میں کال کر کے اسے ان آوارہ لڑکوں کو پکڑنے کی ہیلپ مانگی تھی اسکا بھای پولیس میں ایس پی تھا ۔۔
زارون نے ایک دو باتیں کر کے فون سائیڈ پر رکھا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔۔
