Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 25
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 25
صبح صبح ہی روحان گھر سے نکل گیا تھا کام کے سلسلے میں شہر سے باہر وکی بھی اسکے ساتھ تھا وہ اپنی کار سے ہی سفر کررہے تھے۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
جینی بھی گھر کے کام کر کے جا چکی تھی وہ بور ہو رہی تھی۔۔دل ہی نہیں۔ لگ رہا تھا کسی کام سے روحا اور زرتاج سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔۔
زرتاج اور روحا جب یونی سے واپس آئی تب جا کر زویا سے دونوں نے رابطہ کیا تھا۔۔
افف لڑکیوں کہاں ہو کب سے کال کر رہی ہوں” ۔۔ زویا اکتا کر بولی۔۔
ریلیکس بھابھی آپکو پتا ہے ہم یونی میں ہوتی ہیں اس لیے نہیں بات کر سکی اب آپکے ساتھ ہی ہیں”۔۔ روحا بولی۔۔
ویسے اتنی بے چینی کس بات کی ہے تمہیں” زرتاج نے پوچھا
کسی بات کی نہیں ویسے ہی بس تم لوگوں کے بغیر دل نہیں لگتا “۔۔ زویا نے اداس ہوتے کہا۔۔
اچھا روحان بھائی آگۓ آفس سے” زرتاج نے وقت کا اندازہ لگاتے پوچھا ۔۔ وہاں شام کے سات بج رہے ہوں گے جبکہ پاک میں تین بج رہے تھے۔۔
نہیں وہ ایک دو دن کیلے آؤٹ آف سیٹی گۓ ہیں آج رات گھر نہیں آئیں گے”۔۔ زویا نے بتایا۔۔
اوہ تو اداس ہم سے نہیں بلکہ روحان بھائی سے ہے” روحا نے زویا کو چھیڑتے شرارتاً کہا تھا ۔۔
بکواس نہیں کرو روحی” ۔۔زویا نے اسے ڈپٹے کہا تو وہ دونوں ہنس دی پھر انکی بات چیت طویل ہوتی گئی ۔۔
🥀🥀🥀🥀
زویا بستر پہ لیٹ کر انسے ویڈیو کال پہ باتیں کررہی تھیں اور وہ اس وقت کچن میں تھیں کھانا بنانے کی تیاری کررہی تھیں۔۔ شام کے کھانے کی زمیداری زویا کے بعد اب زرتاج کی تھی اور روحا بھی ساتھ پوری مدد کروا تی تھی ۔۔
زوئی تم اب سو جاؤ وہاں کافی رات ہو رہی ہوگی”۔۔
ہاں مگر مجھے نیند نہیں آرہی “۔۔زویا نے کہا۔۔
ڈر لگ رہا ہے روحان بھائی کے بغیر” روحا نے چھیڑا تھا۔۔
ہاں لگ رہا ہے ڈر۔۔ اکیلی ہوں گھر میں”۔۔زویا نے اعتراف کیا تھا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
رات کے تقریباً دو بج رہے تھے جب زویا کی آنکھ کھلی تھی ایک ڈراؤنے خواب سے ۔۔
ٹھنڈ میں بھی پسینے سے شرابور ہوگئی تھی۔۔روحا اور زری سے باتیں کرتے کرتے بارا بجے اسکی آنکھ لگی تھی۔۔
ڈر میں اضافہ ہو رہا تھا عجیب سے خیالات آرہے تھے۔۔
دل کر رہا تھا بھاگ جاۓ اٹھ کر یہاں سے پھر سر تک کمبل تان کر لیٹ گئی ۔۔ایسا لگا جیسے کوئی آہٹ ہوئی ہو۔۔
پھر ایک دم سے اٹھ کر بیٹھ گئی اسی وقت اٹھی اپنے کمرے سے باہر آئی ۔۔اور روحان کے کمرے میں جا گھسی تھی۔۔
یہاں آکر خوف کچھ کم ہوا تھا جتنی بھی سورتیں یاد تھیں سب پڑھی خود پر پھونکیں ماریں۔۔
وہ اس وقت روحان کے بیڈ پہ آلتی پالتی مار کر بیٹھی تھی۔۔۔
کیا کرے اپنے کمرے میں واپس چلی جاۓ یا یہیں رہے۔۔
سارے کمرے میں سر سری سی نگاہ دوڑائی وہ اسکے کمرے سے زیادہ بڑا اور کشادہ کمرہ تھا اور بہت خوبصورت ڈیکوریٹ کیا ہوا تھا۔۔
وہ کونسا یہاں ہے یہی سوچتے سر تک کمبل تان کر لیٹ گئی اور کچھ ہی پل وہ سوگئی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
روحان کا کام جلد ہی ختم ہو گیا کیونکہ اسنے بہت بڑا کانٹریکٹ ملا تھا۔۔ وہ جلد ہی کام نبٹا کر رات کو ہی نکل پڑا واپسی کیلے وکی نے اسے روکنا چاہا کہ وہ تھکے ہوۓ ہیں ایک رات کیلے قیام کرلیتے ہیں مگر وہ نا مانا اور رات گیارا بجے ہی نکل پڑا اور وکی کو بھی اسکے ساتھ ہی واپس آنا پڑا۔۔
رات کے تقریباً روحان تین بجے گھر پہنچا تھا ۔۔
کمرے میں لائٹ پہلے سے ہی اون تھی۔۔اس بات پہ اسکا دھیان ہی نہیں گیا۔۔
اپنا سامان رکھا اور کوٹ اتارا اور واڈروب۔ سے اپنے کپڑے لیے اور واشروم چلا گیا ۔۔
کپڑے چینج کر کے وہ باہر آیا کافی تھک چکا تھا سونے کیلے بیڈ کا رخ کیا ۔۔
بیڈ کی طرف پہلے اسکا دھیان ہی نہیں گیا تھا۔۔
سر تک کمبل اوڑھے وہ اسکے بیڈ پہ قبضہ کیے لیٹی تھی۔۔
وہ سمجھ چکا تھا یہ زویا ہی ہے۔۔
روحان دوسری سائیڈ پہ اسکے پاس بیٹھا۔۔ اسنے ہلکا سا کمبل اسکے منہ سے سرکایا تھا۔۔
سوتے ہوۓ بہت معصوم لگی اسے۔۔۔ ہاتھ بڑھا کر اسکے چہرے پہ بکھرے بالوں کو پرے کیا نیند میں کسی لمس کو محسوس کرتے زویا چلاتی اٹھی۔۔
“بھوت بھوت” ۔۔ ماما ماما”۔۔ روحان نے اسکا بازو پکڑ کر جھنجھوڑا ۔۔
” زویا .. زویا” ۔۔
“روحان روحان”۔۔ اسکا سانس اکھڑ رہا تھا۔۔
“چپ میں ہوں کوئی بھوت ووت نہیں ہے”۔۔
جب پوری طرح بیدار ہوئی تو روحان واقعی اسکے سامنے بیٹھا تھا۔۔
“وہ ۔۔ وہ سوری مجھے ڈر لگ رہا تھا اس لیے میں یہاں آئی”۔۔ دھیمی سی آواز میں اسنے اپنی بات مکمل کی۔۔
اچھا کل رات کو تو بہت بہادر بن رہی تھی”۔۔ اب کیا نہیں رہ سکی میرے بغیر”۔۔ اسکے چہرے کو دیکھتے بڑے آرام سے بولا تھا۔۔
ایسی بات نہیں ہے” وہ اٹھ نے لگی تھی ۔۔روحان نے اسکا بازو پکڑ لیا ۔۔
“کہاں” آئیبرو اچکا کر پوچھا۔۔
“اپنے کمرے میں “۔۔
ابھی تو ڈر رہی تھی۔۔ لیٹ جاؤ یہاں ” روحان نے آرام سے کہا جبکہ زویا کا بازو ابھی بھی اسکی گرفت میں تھا۔۔
زویا کا دل زور سے دھڑکا تھا اسکی اس آفر سے۔۔
نہیں میں ٹھیک ہوں”۔۔ آپ سو جاؤ۔۔ تھک گۓ ہوں گے”۔۔ اپنا بازو اسکی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کررہی تھی جو وہ چھوڑنے کے بلکل بھی موڈ میں نہیں تھا۔۔
“ہاں تھک تو بہت گیا ہوں”۔۔اسکی گردن پہ ہاتھ رکھے اسکا چہرہ اپنے چہرہ سے قریب تر کرلیا تھا۔۔
اسکی گرم سانسیں زویا کا چہرہ جلسانے لگی تھی۔۔
چھ۔۔چھوڑیں”۔۔وہ اسکی گردن پہ رکھے ہاتھ کو اب اپنے دوسرے ہاتھ سے چھڑانے کی تک ودو میں تھی۔۔
مقابل نے بنا اسکی پرواہ کیے اسکے ہونٹوں کو قید کیا تھا۔۔ دوسرا ہاتھ اسکی کمر میں ڈالے اسے اپنے وجود سے قریب تر کرلیا تھا۔۔
وہ اسکی گرفت میں مچلنے لگی تھی ۔۔
کیوں اپنی ننھی سی جان کو ہلکان کر رہی ہو” اسکو لبوں کو آزادی بخشتا سرغوشی کی تھی۔۔
پھر اسے بیڈ کے سے ساتھ پن کیا تھا اور اسکے اوپر جھکا تھا۔۔
چھوڑیں مجھے” ۔۔اپنے ہاتھ اسکے سینے پہ رکھے اسے دور دکھیلنے چاہا تھا۔۔ جب روحان نے اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کر تکیہ کے ساتھ لگاۓ تھے۔۔ وہ اسکی گردن پہ جھکا تھا جابجا اپنا اپنا شدت بھرا لمس چھوڑتے وہ اسکی گردن سے ہوتا مزید گہرائیوں میں اترا تھا۔۔
زویا کی جان حلق میں آئی تھی۔۔اپنی پوری جان لگا کر اسے خود سے دور دھکیلا تھا۔۔
۔روحان کو غصہ آیا..اسےاپنے کام میں خلل زرا پسند نا آیا تھا۔
وہ بیڈ سے سے اٹھنے لگی کہ روحان اسکا بازو تھاما۔۔
دور دور رہیں مجھ سے” وہ بازو چھڑاتے بولی تھی آنکھوں سے آنسوں بہہ نکلے تھے۔۔
روحان نے غصہ سے اسے بیڈ پہ پٹخا تھا۔۔
“اگر دور رہنا تھا تو یہاں کس لیے آئی تھی ہاں ” اسے بیڈ سے لگاۓ جارہانہ انداز سے اسکا منہ ہاتھ سے دبوچ کر پوچھا تھا۔۔ زویا کو اسکی انگلیاں اپنے منہ دھنستی ہوئی لگی۔۔
نہیں آنا تھا مجھے آپ کے پاس تایا ابو کی بات نہیں ٹال سکتی تھی میں”۔۔ وہ اپنا منہ چھڑوا کر روتی ہوئی چیخ کر بولی تھی۔۔
ہہم تایا ابو”۔۔ یہ سب ڈرامہ تمہارے رچاۓ ہوے ہیں ۔۔ معصومیت کا ڈھونگ کر کے انکی ہمدردی بٹورتی رہی ۔۔ ایک نا سنی اپنے بیٹے کی اپنی بھتیجی کی محبت میں ” آخری جملہ قرب سے کہا تھا۔۔
وہ اترنے لگی تھی بیڈ سے۔۔
“اگر تم نیچے اتری تو تمہیں ڈیورس دے کر کل ہی پاکستان بھیج دوں گا۔” وہ دھاڑا تھا۔۔
اسکی آواز پہ بیڈ سے نیچے جاتا پاؤں فوراً اوپر کیا تھا اور مڑکر اس بے پرواہ انسان کو دکھ سے دیکھا تھا۔۔
روحان اسکے بھیگے چہرہ سے نظریں چرا کر کمبل تان کر دوسری طرف منہ کرکے لیٹ گیا۔سائیڈ ٹیبل سے ریموٹ اٹھا لائٹ اوف کی تھی ۔۔
“لیٹ جاؤ “۔۔ حکم سنایا تھا۔۔آواز میں سختی تھی
وہ ویسے بیڈ پہ بیٹھی تھی گھٹنوں کے گرد ہاتھ باندھے ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔
“اگر تم نہیں لیٹی اور اپنا یہ رونے دھونے والا ڈرامہ بند نہیں کیا تو وہیں سے شروع ہوگا جہاں سے چھوڑا تھا پھر مجھے الزام مت دینا ” وہ گرج کر بولا تھا اور اسکی دھمکی سنتی فٹ سے لیٹی تھی بیڈ کے بلکل سائیڈ پہ لگ کر لیٹی تھی۔۔اور کچھ ہی دیر میں روتے روتے آنکھ لگ گئی۔۔
جب اسکا رونا بند ہوا تو روحان نے اپنی آنکھیں زور سے میچی ہوئی تھیں کھولی ۔۔
اور اسکی طرف کروٹ لی۔۔
وہ دوسری طرف منہ کیے لیٹی تھی۔۔تکیہ پہ اسکے بکھرے بالوں پہ ہاتھ پھیرا تھا۔۔ تمہاری اکڑ تو میں توڑ کر رہوں گا تم خود آؤ گی میرے پاس ۔۔اسنے دل میں سوچا تھا۔۔
روحان کا دل اسکی قربت کی خواہش کرنے لگا تھا۔۔ اسکے بیڈ پہ لیٹا وہ وجود اسکے لیے آزمائش بن چکا تھا ۔۔
زویا کے لیے نئے سے جزبات دل میں امڈ کر آرہے تھے مگر وہ اسے سمجھنے پہ آمادہ نہیں تھا ۔ ایک طوفان سا برپا تھا اسکے سینے میں ۔۔ زویا کو کھینچ کر اپنے ساتھ لگایا تھا ۔۔
سکون سا تھا اسکی قربت میں جو اپنے اندر اتار نے لگا.. وہ نیند میں کسمسائی تھی غور سے اسکا چہرہ تکنے لگا۔۔اور جھک اسکے رخسار کا بوسہ لیتے آنکھیں میچ لیں تھکن کے باعث جلد ہی نیند کی آغوش میں چلا گیا۔۔
🥀🥀🥀🥀
صبح صبح ہی زویا آنکھ کھلی تھی وہ مکمل روحان کے حصار میں تھی۔۔ روحان کا بازو اسکے پیٹ پہ تھا اور ایک ٹانگ اسکی ٹانگوں پہ تھی اور چہرہ بلکل اسکے چہرے کے قریب تر کیے وہ سو رہا تھا۔۔
ہلکا سا سر موڑ کر اسکے چہرے کو دیکھا سوتے ہوۓ وہ بلکل معصوم سا بچہ لگ رہا تھا جبکہ جاگتے ہوۓ ڈریگن بنا ہوا منہ سے آگ برساتا تھا۔۔
کتنی ہی دیر وہ اسے ٹکٹکی باندھے دیکھے گئی تھی
سوچ میں پڑ گئی کے کیسے اسکے حصار سے نکلے۔۔
اسکا بازو اٹھانے کی کوشش کی مگر روحان جاگ گیا تھا اسنے اپنی گرفت اور مضبوط کرلی۔۔
“کیا ہے سونے کیوں نہیں دے رہی”۔۔ نیند میں بھاری ہوتی آواز میں بولا۔۔
چھوڑیں مجھے”۔۔ وہ اسکا ہاتھ اپنے پر سے ہٹاتی بولی۔۔
“بس طوطے کی طرح ایک ہی رٹ ہوتی تمہاری چھوڑیں”۔۔
“سوجاؤ چپ کر کے ابھی اٹھنے کا ٹائم نہیں ہوا”۔۔
“صبح ہوگئی ہے”۔۔ وہ یونہی اس کے حصار میں منمنائی..
“کہاں صبح ہوئی ہے ابھی”۔۔اور کیا کرنا ہے تمہیں اٹھ کر”۔۔
اپنی نیند خراب کرنے پہ اسے غصہ آیا تھا زویا پہ۔۔
“مجھے نماز پڑھنی ہے لیٹ ہوجاؤں گی۔۔آپ کو نہیں پڑھنی نماز کیا۔۔”
“نہیں پڑھنی “۔۔نماز کے نام پہ اسنے گرفت ڈھیلی کی تھی اور وہ فٹ سے نکلی تھی اسکے حصار سے ۔۔
وہ چلی گئی تھی اور وہ پھر سے آنکھیں موند کر لیٹ گیا نیند تو اڑھ چکی تھی اب۔۔ نماز کے معاملے میں وہ پابند نہیں تھا ۔۔دل پہ آئی تو پڑھ لی ورنہ آئی گئی۔۔
کافی دیر لیٹے رہنے کے بعد بھی نیند نہیں آئی تو اٹھ گیا اور آفس جانے کیلے تیار ہونے لگا۔۔
🥀🥀🥀🥀
علینا حیران ہوئی تھی روحان کے صبح جلدی آفس آنے پہ وہ تو سمجھ رہی شاید وہ لیٹ آئیں گے آفس۔۔
“یہو آ گڈ ڈے سر” وہ کافی کا مگ لیے اسکے سامنے کھڑی ہوئی تھی۔۔
“تھینک یو ” کافی تھامتے ہوۓ اسنے شکریہ ادا کیا ۔۔
اسے آفس آتے ہی ڈیلی علینا اسے کافی کا مگ تھماتی تھی اور آج بھی ہمیشہ کی طرح اسکے سامنے کھڑی تھی۔۔
“کونگریچولیشن سر” ۔۔
“تھینکس”۔۔
“سر آپ آرام کرلیتے لیٹ نائیٹ واپس آۓ تھے”۔۔
“بس کرلیا جتنا آرام کرنا تھا۔”۔ وہ کافی کا سیپ لیتے ہوۓ تھکن زدہ لہجے میں بولا۔۔
“اینی پروبلم سر” وہ اسے پریشان سا لگا۔۔
“نتھنگ ۔۔لیٹ می لیو “۔۔
“اوکے سر” علینا چلی گئی۔۔
دس بجے کے قریب وکی بھی آفس آیا تھا خوش خوش سا۔۔۔
“گڈ مارننگ” وہ علینا کے کیبن کے پاس آکر بولا۔۔
“گڈ مارننگ سر”۔۔
“روحان آگیا “۔۔وکی نے پوچھا
“ییس سر وہ تو صبح ہی آگۓ تھے۔۔آٹھ بجنے سے پہلے”۔۔
“وٹ اتنی جلدی کیوں” ۔۔اسے حیرت ہوئی یہ سن کر
“ییس سر روحان سر کچھ پریشان سے لگ رہے ہیں۔”۔
“اچھا میں دیکھتا ہوں ” کہتے ساتھ ہی وہ روحان کے آفس کی طرف بڑھ گیا۔۔
وکی ہمیشہ کی طرف بغیر ناک کیے اسکے آفس میں گھسا۔۔
“وٹ پرابلم” ۔۔
روحان آنکھیں موند کر کرسی کی پشت کیساتھ ٹیگ لگاۓ بیٹھا تھا شاید خود کو پرسکون کررہا تھا۔۔
آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا۔۔آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔۔
“کیا ہوا ہے کوئی ٹینشن ہے”۔۔ وکی نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔۔
“کچھ نہیں” وہ فائل کھول اس پہ جھکا تھا۔۔
“یار آج کے دن آرام کرلیتا تو بہتر تھا”۔۔
“آرام کرلیا ہے۔”۔وہ فائل پہ جھکا ہی بولا۔۔
“کہاں کیا تیری آنکھیں بتا رہی ہیں”۔۔
“چل جا گھر میں دیکھ لوں گا میں سب”۔۔
“ہہم گھر اس گھر کا کیا جہاں سکون نا ہو۔” وہ تمسخر سے ہنسا تھا جبکہ اس ہنسی میں بھی درد تھا۔۔
“یار کیا ہوا ہے گھر میں لڑ کر تو نہیں آیا۔۔” وکی نے انداز لگاتے کہا..
“گھر ہے کون میرا جس سے لڑوں گا” ۔وہ پھیکا سا مسکرایا۔۔
“تیرا سکون گھر پر ہی ہے وہ الگ بات ہے کہ تجھے سکون حاصل کرنا نہیں آیا ٹھیک ہے تیری مرضی” وہ اسے اسکے حال پہ ہی چھوڑ کر باہر آیا تھا۔۔
کچھ دیر بعد ماریہ آئی تھی اسکے آفس ۔۔
“یہ لو اسکی کمی تھی” ماریہ کو دیکھتے وکی بولا تھا۔۔اور پھر اپنے کام میں لگ گیا۔۔
“ہاۓ روحان ہاؤ آر یو تم تو ملو گے نہیں سوچا خود ہی آجاؤں”۔۔ وہ چہکتی اس کے سامنے آکر کھڑی ہوئی تھی۔۔
وہ اپنی کرسی سے کھڑا ہو کر ونڈو کے پاس جا کر کھڑا ہوا تھا تاثرات ابھی بھی سنجیدہ تھے۔۔
“چلو نا کہیں باہر چلتےہیں۔۔” وہ اسکے سامنے آکھڑی یوئی ..
ایک تنقیدی نگاہ اسکے نامناسب حلیہ ڈالی تھی اور نظریں پھیر لی۔۔
وی ماڈرن لباس پہنے سلیو لیس ٹاپ پہنے جسکا گلا گہرا تھا ساتھ چھوٹی سی اسکرٹ پہنے جو بامشکل اسکے گھٹنوں تک تھی۔۔
“مجھے نہیں جانا ابھی کام بہت ہے”۔۔
“ہاں میں تو بھول گئی تمہیں کونگریج کہنا تھا” وہ اسکے سینے سے لگی تھی۔۔
روحان نے اپنی آنکھیں بند کی تھی مزید بےسکونی اضافہ ہوا تو اسے خود سے دور کیا تھا۔۔
“کیا ہوا ہے”روحان اسے خود سے دور کرنا ماریہ زرا پسند نا آیا ۔۔
“کچھ نہیں “۔۔ زویا کا لمس اسکے باعث سکون تھا وہ جب بھی اسکے پاس جاتا تو اسے سکون کا احساس ہوتا اور وہ خود سے دور کرکے اسکا سکون چھین لیتی ۔۔
کل رات کا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے آیا تھا۔۔
”کیوں آتی ہو میرے پاس” ۔۔روحان نے پوچھا
“تاکہ تم میرے ہوجاؤ۔۔” ماریہ نے پیار سے بولی
“کیوں۔۔” سوال
“بی کوز آئی لو یو”۔۔ ماریہ اسکے گلے میں بانہیں ڈالی بولی..
“ہمارے درمیان کوئی رشتہ بھی تو نہیں”۔۔ وہ اسے دیکھتے بولا..
“پیار تو ہے نا”۔۔ وہ مسکراتے بولی..
اسے ماریہ سے پیار نہیں تھا وہ محض زویا کو بھلانے کا زریعہ تھا اسنے دل میں سوچا تھا۔۔
روحان نے اسکی شہد رنگ آنکھوں میں دیکھا۔۔اسے کوئی اٹریکشن محسوس نہیں ہو رہی تھی۔۔
بازو سے پکڑ کر پھر دور کیا۔۔
“ایم بزی ماریہ سوری پھر کسی دن” وہ اپنی آفس کی سیٹ پہ بیٹھتا بولا۔۔
” اوکے ” وہ غصہ سے پیر پٹختی چلی گئی۔۔
وہ پھر سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔
ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اسکا فون رنگ ہوا تھا۔۔
ڈیڈ کالنگ۔۔
“اسلام علیکم ڈیڈ “۔۔
عالم صاحب آفس جانے کیلے تیار یو رہے تھے روحان کاخیال آیا تو سوچا اس سے بات کرلے۔۔
“وعلیکم اسلام “۔۔کیسے ہو برخودار کل سنا تھا تم آؤٹ اوف سٹی کسی بزنس کے سلسلے میں۔۔”
“ییس ڈیڈ بہت بڑی ڈیل سائن کی ہے کل”۔۔جبکہ لہجہ خوشی کے بجاۓ تھکان تھی
“واہ واہ شاباش یہ تو خوشی کی بات”۔۔عالم صاحب خوش ہوتے ہوۓ بولے۔۔
چلو اچھی بات ہے زویا کا سناؤ کیسی ہے”۔۔عالم صاحب مسکراتے ہوۓ بولے۔۔
“پتا نہیں” وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا تم شوہر ہو اسکے تمہیں نہیں پتا تو اور کسے ہوگا”۔۔ عالم صاحب کا لہجہ سخت ہوا تھا۔۔
“میں شوہر ہوں مگر وہ بھی تو بیوی ہے اسے یہ بات سمجھا کر بھیجنا چاہیے تھا آپکو اگر بھیج ہی رہے تھے تو”۔۔وہ طنزیا بولا۔۔
“کیا مطلب ہے تمہارا روحان ایک مہینہ ہوگیا ہے زویا کو آۓ ہوۓ اب تک تو انڈرسٹینڈنگ ہوجانی چاہیے تھی تمہاری”۔۔ عالم صاحب نے یقینی سے بولے..
“ہہم انڈرسٹینڈنگ “۔۔روحان نے جیسے مزاق اڑایا۔۔
چار ہفتوں میں میں نے اسے صرف چار بار ہی دیکھا ہوگا۔۔ نا اسے میرے آنے کی پرواہ نا جانے کی ۔۔ پہلے بھی ناشتہ آفس آکر کرتا ہوں اور اب بھی۔۔کھانا بھی کھا کر ہی گھر جاتا ہوں کیوں کہ اس سے تو امید نہیں مجھے”۔۔
ڈیڈ میں پہلے سے زیادہ بے سکون ہوچکا ہوں” ۔۔اس سے اچھا تھا آپ مجھے اکیلا ہی رہنے دیتے”۔۔
“مجھے یقین نہیں آرہا ہے کہ زویا ایسا کرسکتی ہے”۔۔عالم صاحب بے یقینی سے بولے مگر روحان کے لہجہ میں بھی سچائی واضح تھی۔۔ روحان کا لہجہ تھکا تھکا سا تھا۔۔
“ہہم مجھے پتا ہے ڈیڈ آپکو اپنی اولاد سے زیادہ اپنی بھتیجی سے پیار ہے۔۔آپ میرا یقین کیسے کریں گے ” روحان نے قرب سے کہا تھا۔۔
“ایسا نہیں ہے بیٹے مگر زویا تو بہت سلجھی ہوئی بچی ہے مگر مجھے زویا سے یہ امید نہیں تھی میں نے اسے بڑے مان سے تمہارے پاس بھیجا تھا کہ وہ اپنے رشتہ کو بچا لے گی”۔۔
“اس نے ایسی کوئی کوشش ہی نہیں کی”۔۔ ہاں مگر مجھے ضرور اسکی طرف اٹریکشن ہوئی تھی”۔۔مگر وہ تو مجھے اپنے قریب بھی نہیں آنے دیتی”۔۔
اسنے مجھے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ وہ یہاں خود نہیں آئی آپکے کہنے پہ آئی ہے”۔
پھر میں کیا کروں گا اسے پاس رکھ کر” میں اسے جلد ہی واپس بھیج دوں گا”۔۔ روحان نے اپنے باپ کو اپنے اور زویا کا رشتہ صاف صاف لفظوں میں بیان کردیا مگر سارا قصور زویا کا ہی نکالا گیا ۔۔
نہیں نہیں روحان تم ابھی اسے واپس نہیں بھیجو گے میں سفینہ سے کہوں گا زویا کو سمجھاۓ”۔۔ اگر وہ سمجھ گئ تو ٹھیک ہے ورنہ جو تمہارا فیصلہ ہوگا مجھے منظور ہوگا “۔۔عالم صاحب نے بے بسی کہا اور دکھی بھی ہوۓ۔
“اوکے ڈیڈ”۔۔ کال کٹ کردی تھی روحان۔۔
“اب تمہیں پتا چلے گا زویا روحان ملک “۔۔اب کیسے تمہاری اکڑ ٹوٹے گی اب تم خود آؤ گی اپنے شوہر کے پاس”۔۔
“تمہیں اب پتا چلے جب اپنے ہی اپنے خلاف ہوجائیں تو کیسا محسوس ہوتا ہے جس آگ میں میں خود جلتا رہا ہوں اس آگ میں اب تم خود بھی جلو گی”۔۔ اب تو کھیل شروع ہوا ہے۔۔اب تڑپنے کی باری تمہاری “۔۔ وہ اپنی منفی سوچ پہ مکرو ہنسی ہنسا تھا مگر اسے کیا خبر تھی کہ کھیل تو کچھ اور ہی شروع ہوگا محبت کا کھیل ۔۔
🥀🥀🥀🥀
عالم صوفہ پہ ڈھے سے گئے تھے وہ تو اب تک خوش فہمی مہں پھر رہے تھے کہ سب ٹھیک ہو چکا ہے ۔۔کیا کچھ نہیں کیا انہوں نے اس رشتہ کو بچانے کیلے مگر سب بے سود رہا تھا۔۔
عالم صاحب اٹھے اور سفینہ کے کمرے کی جانب قدم بڑھا ۓ تھے۔۔
صبح کا وقت سب اپنی اپنی تیاریوں میں لگے تھے۔۔سیما اور زرتاج کچن میں ناشتہ کی تیاری میں مصروف تھیں روحا زارون کمرے تیار ہو رہے تھے سفینہ اس وقت اپنےکمرے میں ہوتیں تھیں ناشتہ کے وقت ہی باہر آتی تھیں۔۔
“بھائی صاحب آپ مجھے بلا لیا ہوتا ” سفینہ صوفہ پے بیٹھی تصبیح کر رہی تھی عالم صاحب کودیکھتی چادر درست کرتی اٹھی تھی۔۔
عالم صاحب سنجیدہ تاثرات لیے اپنے غصہ کو کنٹرول کر رہے تھے اسکے سامنے کھڑے ہوۓ تھے۔
“مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔”
“جی بھائی صاحب بیٹھیں نا ۔۔”
“مجھے تمہاری بیٹی سے یہ امید نہیں تھی۔۔” وہ سرد سے لہجہ میں بولے
“کیا ہوا بھائی صاحب زری نے کچھ”۔۔
“میں زویا کی بات کررہا ہوں”۔۔وہ انکی بات کاٹتے بولا۔۔
“کیا “۔۔ کیا زویا ” بامشکل انکے منہ سے یہ لفظ ادا ہوۓ آج وہ میری بیٹی سے تمہاری بیٹی کہہ کر بات کررہے تھے یہ بات کسی صدمہ سے کم نہیں تھی۔۔
“ہم نے زویا کو اسلیے روحان کے پاس بھیجا تھا کہ وہ دونوں اپنے رشتہ کو سنبھال سکے مگر زویا نے سب خاک میں ملا دیا۔۔ میں آج تک اپنی اولاد کے بجاۓ زویا کے حق میں کھڑا رہا یہ صلہ دیا ہے اسنے مجھے” ۔۔
“آخر بات کیا بھائی صاحب کیا کردیا ہے زویا نے” سفینہ کا لہجہ بھیگ گیا تھا۔۔
پھر عالم صاحب نے روحان ایک ایک کہی بات سفینہ کے گوش گزار دی۔۔
“کیا زویا یہ حماقت کرسکتی ہے مجھے یقین نہیں آرہا ۔۔میں کروں گی اس سے بات بھائی صاحب آپ پریشان مت ہوئیں”۔۔
“سفینہ سمجھاؤ زویا کو یا تو اسکی مرضی پوچھ لو اسے روحان کیساتھ نہیں رہنا اپنا فیصلہ سنا دے میں اسکی طلاق کروا کہ جلد ہی کسی اور کے ساتھ رخصت کردوں۔ گا” ۔
“جی بھائی صاحب جیسے آپکی مرضی” وہ جھکے سر کیساتھ بولی تھیں۔۔
اور عالم چلے گۓ تھے۔۔
