Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 12
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 12
(ماضی)
ماریہ کو اس پہ بے حد غصہ آیا تھا وہ پہلا لڑکا تھا جو اسے اگنور کر رہا تھا اور خود اسنے دوسستی کا ہاتھ اسکی طرف بڑھایا تھا اور وہ اسے نظر انداز کرتا چلا گیا اسے اپنی انسلٹ محسوس ہوئی تھی اس وقت۔۔
کافی دن ماریہ نے روحان سے بات نہیں کی تھی اسنے بھی اسے اگنور کرنا شروع کر دیا تھا۔۔
روحان نے بھی فیل کیا اسے برا لگا ہے یہاں لڑکے لڑکیاں کی دوستیاں آم سی بات ہے اسے دوستی کرلینی چاہئے۔۔
پھر ایک دن آفس سے چھٹی کے بعد ماریہ کمپنی کے باہر کھڑی اپنی ٹیکسی کا ویٹ کررہی تھی جب روحان اسکے پاس چلا آیا۔۔
ہاۓ ۔۔روحان نے ہاتھ ہلایا تھا۔۔
باۓ کہتی وہ آگے بڑھ گئی تھی۔۔
افف اتنے نخرے وہ بھی اپنی راہ پہ چل نکلا تھا۔۔
ماریہ نے مڑ کے دیکھا تو وہ جا رہا تھا۔۔شٹ ماریہ اب اتنے بھی نخرے دکھانے کی کیا ضرورت تھی۔۔سر پہ ہاتھ مارتی وہ بھی آگے بڑھ گئی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
او کی ضرورت ہے تجھے اس لڑکی سے ہاۓ کہنے کی دفع کر او تجھے کڑیوں کی کوئی کمی ہے اب تو اس سے نہیں ملے گا انڈرسٹینڈ۔۔ وکی کو روحان پہ غصہ آرہا تھا جب اسنے ماریہ کا بتایا تھا کہ وہ اس سے دوستی کرنا چاہتا ہے۔۔
یار وکی کیا ہوگیا ہے۔۔یہاں تو عام بات ہے یہ دوستیاں تو۔۔بس جو تیری مرضی کر۔۔ وکی اٹھ کر چلا گیا روحان سر ہلاتا رہ گیا۔۔
کچھ دن یونہی گزرے ماریہ اب روحان سے بات کرنے لگی تھی اور روحان بھی اب اس سے باتیں کرنے لگا تھا ماریہ کو روحان پسند آنے لگا تھا ۔۔ اور اسکے بواۓ فرنڈ ولیم سے اسکی جھگڑے بڑھنے لگے تھے۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
کافی ۔۔ماریہ نے کافی کا مگ اسکی طرف بڑھایا۔۔ تھینکس روحان نے کافی تھام لی تھی۔۔ وہ اسکے کیبن میں آئی تھی کام کچھ خاص نہیں تھا روحان فائیلز سٹڈی کررہا تھا۔۔ پھر ماریہ نے اسکی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا۔۔فرنڈز۔۔ روحان نے پہلے اسکا ہاتھ دیکھا پھر اسکے چہرے کی طرف جو مسکرا رہی تھی۔۔
اور پھر روحان نے مسکراتے اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔ ماریہ نے مسکراتے اسکا ہاتھ دبایا اور چھوڑ دیا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
تین سال سے ماریہ اور ولیم کا افئیر چل رہا تھا وہ سڈنی کا ہی شہری تھا وہ دونوں ایک ہی کمپنی میں جاب کررہے تھے ولیم کو اور اچھی کمپنی سے آفر آگئی تو وہ وہاں چلا گیا ۔۔دونوں کا زیادہ تر وقت ایک دوسرے ساتھ گزرتا تھا دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے آتے بہت قریب ہوگۓ تھے۔۔
مگر جب ماریہ کی کمپنی میں روحان آیا تھا تو اس کی پرسنیلٹی اسکی ینگ ایج نے اسے کافی اٹریکٹ کیا تھا اسلئے وہ ولیم کو اگنور کرنے لگی۔۔ اور روحان کے قریب ہونے کی کوشش کرنے لگی تھی جس میں وہ کافی حد تک کامیاب ہو رہی تھی۔۔ پہلی فتح ماریہ روحان کی اسکی دوستی ایکسیپٹ کرنا تھا۔۔ آگے کیلۓ اب اسکا کام آسان تھا۔۔
جیسے وہ روحان کے بارے میں جانتی گئی کہ اسکا فیملی بیگراؤنڈ کافی اسٹرونگ ہے۔۔ اور وہ خود بھی بہت محنتی اوع کافی ترقی بھی کرے گا ۔۔اسکا فیچر روحان کے ساتھ کافی برائٹ ہوگا ۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
وہ دونوں کافی شاپ پہ بیٹھے..ہئے ماریہ وٹ ہیپنڈ روحان کو ماریہ بجھی بجھی سی لگی۔۔
وہ کافی کا مگ ہاتھ میں پکڑے کھوئی سی بیٹھی۔۔
نتھنگ ۔۔بس اتنا سا ہی جواب دیا۔۔
پھر موڈ کیوں آف ہے۔۔
ماریہ رونے لگی تھی۔۔
ہئے آر یو اوکے۔۔ روحان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اس سے پوچھا۔۔
ولیم ۔۔ولیم نے مجھے چھوڑ دیا ہے وہ کسی اور میں انٹرسٹڈ تھا ہر وقت لڑتا تھا مجھ بہانے بنا رہا تھا مجھے چھوڑنے کے اور اب وہ مجھے چھوڑ چکا ہے۔۔
I can’t leave without him I want him
میں اسکے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔ مجھے وہ چاہۓ۔۔
اب اسکے رونے شدت آگئی تھی۔۔
ماریہ جسٹ سٹاپ اٹ تمہیں کوئی کمی ہے وہ ہی بد نصیب تھا جو تمہیں چھوڑ گیا۔۔
بس میری قسمت ہی خراب ہے سب مجھے چھوڑ جاتے پہلے ماما اور پاپا انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔۔اور اب۔۔ رونے لگی۔۔
ماما پاپا کہاں ہے تمہارے۔۔ روحان پوچھا۔۔
انکی ڈائیورس ہوگئی تھی میں چھوٹی تھی تب پھر انہوں شادی کرلی ا ور مجھے بھول گۓ دونوں پیدا کرکے۔۔
ماما پھر ملتی ہیں مگر ڈیڈ تو پتا نہیں کہاں ہیں ۔۔
مجھے میری نانی نے پالا ہے اور میں انکے ساتھ رہتی ہوں۔۔
اوہ سو سیڈ روحان کوافسوس ہوا۔۔تھا ماریہ روتے اسکے گلےلگی تھی۔۔روحان کو عجیب سا لگا تھا مگر اسکے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاۓ گا اس لیۓ اس نے ماریہ خود سے الگ نہیں کیا ۔۔ماریہ اوپر سے تو آنسو بہا رہی تھی مگر اندر اہی اندر خوش بھی تھی۔۔روحان نے اسکی باتوں کتنا جلدی یقین کرلیا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
ولیم ماریہ سے ملنے اسکے گھر آیا تھا۔۔ ہئے ماریہ یو چیٹر۔۔ ولیم غصہ سے بھرا پڑا تھا ماریہ اپنے کمرے میں ہیڈ فون لگاۓ ڈانس کر رہی تھی جب ولیم اسکے قریب آکر اس پہ برسنے لگا۔۔
دور رہ کر بات کرو مجھ سے ماریہ بھی چیخی تھی ۔۔
تم ایک گھٹیا لڑکی ہو تم سے تو دور رہنا ہی اچھا ہے۔۔تم نے مجھے دھوکا دیا ہے پچھتاؤ گی تم بہت زیادہ ایک دن ۔۔ جس کیلۓ تم نے مجھے چھوڑا ہے نا وہ بھی ایک دن تمہیں ایسے ہی چھوڑے گا دیکھ لینا۔۔یہ کہتا وہ رکا نہیں تھا فوراً وہاں سے نکلا تھا۔۔
جاؤ جاؤ آۓ بڑے نصیحتیں کرنے ہمم وہ پھر کانوں میں ہیڈ فون لگاۓ اپنے شغل میں مصروف ہو گئی۔۔
ماریہ یونہی روحان کے آگے اپنی پرانی محبت کا رونا روتی اسکی ہمدردیاں لیتی رہی دو مہینے ہو گۓ تھے اسکا بریک اپ ہوۓ۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
“ماریہ کم آن موو آن کرو اب لائف بہت لمبی ایسے کسی کے چلے جانے سے ختم نہیں ہوجاتی”۔۔روحان اسے سمجھا رہا تھا ۔۔
وہ غمگین سا منہ بناۓ بیٹھی تھی آنکھیں لال سرخ کی ہوئی تھی۔۔
“میں کوشش کر رہی ہوں روحان مگر کیا کروں مجھ سے یوں اسے بھولانا آسان نہیں ہے”۔۔ماریہ اداس سی تھی روحان اسکی گال تھپتھپاتا اپنے کیبن میں چلا گیا۔۔
وکی انکا روز کا یہ ڈرامہ دیکھ کر تنگ آچکا تھا اور گھر جا اس سے بات کرنے کا ارودہ رکھتا تھا۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
“او یار آنکھوں سے پٹی کھول اپنی وہ ڈرامہ کررہی ہے سب”۔۔وکی روحان پہ برس پڑا تھا۔۔
“یار تمہیں کیوں پروبلم ہے اس سے کیا ڈرامہ کر رہی ہے۔۔مجھے نہیں سمجھ آرہا” ۔۔روحان کو وکی دیکھتا بولا۔۔
“یہی پہلے وہ ولیم کے ساتھ تھی تیرے آتے ہی اسکا بریک اپ ہو گیا عجیب نہیں لگتا تجھے”۔۔وکی اسے سمجھاتے بولا۔۔
“یار یہ عجیب نہیں غلط وہ اس کے ساتھ کتنی لوئل تھی مخلص اور اس کمینے اس بیچاری کا دل توڑ دیا”۔۔روحان ماریہ کی سائیڈ لیتا بولا۔۔
“ہاں بھئی میں غلط ہوں اور تم دونوں سہی ہو جو کرنا ہے کر میری بلا سے”۔۔وکی نے اسے اس کے حال پہ ہی چھوڑ دیا۔۔
🥀🥀🥀🥀
یونہی دو سال کا عرصہ گزرگیا اب روحان نے جاب چھوڑ کر اپنا نیا بزنز اسٹارٹ کرنےکا ارادہ کیا۔۔
روحان نے اپنا بزنز اسٹارٹ کیا اور دن رات کی انتھک محنت سے کچھ ہی مہینوں میں اسکا بزنز اچھاچلنےلگا تھا اسکے شئیرز مارکیٹ میں کافی بڑھنے لگےتھے ۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
ماریہ نے روحان کو ڈنر کرنے کیلۓ سڈنی واٹرسائیڈ بیچ کے پاس ہوٹل پہ بلایا تھا۔۔
وہ بڑی تیاری سے بیٹھی اسکا وہاں انتظار کر رہی تھی۔۔
سلیولیس بلیک لانگ میکسی جسکا آگے پیچھے گلے گہرا گلا بلیک میں اس کی نماہا ہوتی دودھیا رنگت وائٹ ڈائمنڈ نیکلیس چھوٹے چھوٹے ڈائمنڈ ائیررنگز گولڈن ڈائی بال جو نیچے سے کرل کئے ہوۓ تھے سوفٹ میک اپ کیۓ وہ اپسرا لگ رہی تھی۔۔ڈائنڈ جیولری اسکی فیورٹ تھی۔۔
وہ بڑی بے صبری سے اسکا انتظار کر رہی تھی۔۔
روحان آفس سے سیدھا اسی ریسٹورانٹ میں آیا تھا۔۔وہ بھی بلیک تھری پیس میں تھا ۔۔رف سے حلیۂ میں بھی پرکشش لگ رہا تھا ۔۔
ماریہ کے سامنے آکر کھڑا ہوا تھا ماریہ بھی اسے دیکھتی مسکرا اٹھی تھی او اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی۔۔
روحان پوکٹ میں ہاتھ ڈالے اسے سر سے ہیر تک دیکھا تھا جو بڑی نک سک سے تیار ہوئی تھی۔۔ ہیو آ سیٹ۔” ماریہ نے مسکراتے ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے کا کہا ۔۔
انکے بیٹھتےہی کھانا آگیا تھا ۔۔وہ پہلے سے کھانے کا آرڈر کر چکی تھی۔۔
“آج یہ اتنی تیاری کس خوشی میں کی ہے”۔۔ وہ کھانے کا بائیٹ لیتا بولا تھا۔۔
“کیوں اچھی نہیں لگ رہی”۔۔وہ بھی مسکراتی بولی تھی۔۔
“ہہمم بہت اچھی لگ رہی ہو ایسا لگ رہا ہے جیسے چاند زمین پہ آگیا ہے” روحان کی تعریف پہ وہ کھل اٹھی تھی۔۔دونوں نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا۔۔
“پھر ماریہ روحان کولئے بیچ پہ آگیئ تھی وہ اسے لیۓ چلتی جا رہی تھی۔۔
وہاں وہ اسکے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر کھڑی ہوئ تھی روحان وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی ۔۔
اب وہ یوںہی اسکے ہاتھ پکڑے گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی۔۔ماریہ یہ تم روحان ابھی بولا ہی تھا کہ ماریہ بول پڑی۔۔
“آئی لو یو روحان”۔۔
“ول یو میری می”۔
سمندر کی لہروں کا دھاڑے مارتا شور چاندنی روشنی ساحل چلتی ٹھنڈی سی ہوا۔۔
روحان اسکی بات پہ ساکت سا ہوا تھا۔۔
“اٹھو ماریہ”۔۔ روحان نے اسکے بازو سے پکڑ اسے اٹھایا تھا۔۔
“روحان” ۔۔
“ششش ” ماریہ نے بولنا چاہا مگر روحان اسے چپ کروایا اور ہاتھ پکڑ کر وہاں سے لے جانے لگا ماریہ بھاگنے کے انداز سے اسکے پیچھے چل رہی تھی۔۔
اور روحان نے اسے اپنی گاڑی کے پیچھے والا دروازہ کھول اس میں بٹھایا تھا۔۔ اور پھر خود بھی دوسرا دروازہ کھول کر اسکے ساتھ بیٹھ گیا۔۔
اسکا چہرہ سنجیدا تھا کچھ جواب نہیں دیا اور سامنے نظریں گاڑیں ہوئی۔۔
ماریہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد پھر بولی۔۔
“روحان لگتا ہے تمہیں میرا پرپوزل پسند نہیں آیا۔۔ شاید تم میرے ماضی کی وجہ سے میرے ساتھ۔۔”
” اسٹاپ ماریہ وہ آگے کچھ بولتی روحان نے اسے روک دیا۔۔۔” وہ فیصلہ کر چکا تھا اسنے کیا کرنا ہے۔۔
“ماریہ مجھے تمہارا پرپوزل قبول ہے”۔۔
روحان نے ماریہ کا ہاتھ تھام کر کہا تھا وہ مسکرانے کوشش کر رہا تھا ۔۔
“اووہ رئیلی “روحان ماریہ بےاختیار اسکے گلی لگی تھی ۔۔
روحان اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں تھا پھر تھوڑی دیر بعد اسے خود سے الگ کیا تھا۔۔ اور پھر گاڑی سے اتر کر فرنٹ سیٹ پہ آکر بیٹھ گیا تھا۔۔۔ ماریہ بھی اسکے ساتھ بیٹھ گئی اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا آج۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
روحان اپنے نئے فلیٹ پہ آیا تھا جو اس نے کچھ دن پہلے رینٹ پہ لیا تھا۔۔ اسکا بزنز اچھا اسٹیبلش ہو گیا تھا اور اسنے ایک نئی کار بھی خرید لی تھی۔۔
ماریہ کا پرپوزل فوراً ایکسیپٹ کرلیا تھا اسے ماریہ کوئی لگاؤ نہیں تھا وہ اسکی اچھی دوست تھی ۔۔ اگر اسکا پرپوزل ایکسیپٹ کرنے کی وجہ تھی تو صرف زویا۔۔۔
وہ بیچین سا رہا ساری رات کہیں نا کہیں اسکا ضمیر اسے ملامت بھی کررہا تھا۔۔
اگلے دن وہ وکی سے ملا اور رات والی ساری بات اسے بتا دی۔۔
وکی کو پتا تھا اب کچھ ایسا ہی ہونے والا ہے اسلئے اسنے کوئی ری ایکٹ نہیں کیا۔۔
“مبارک ہو پھر تجھے نئی گاڑی نیا گھر اور نئی گرل فرینڈ”۔۔ وہ طنز کرتا چلا گیا اسکے آفس سے۔۔۔
روحان کو آج وکی عجیب لگا اور اسکی باتیں بھی۔۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
ماریہ روحان کیساتھ ڈنر کرنے کے بعد خوشی سے اچھلتی گھر داخل ہوئی تھی۔۔ جو وہ حاصل کرنا چاہتی تھی وہ پا چکی ہے اب اسکی منزل دور نہیں گانا گنگناتی وہ کمرے آئی اپنا پرس اچھال کر صوفہ پہ پھینکا اور بیڈ کی طرف مڑی تو ٹھٹک کر رہ گئی۔۔
ہاۓ ۔۔ولیم اسکے بیڈ جوتوں سمیت ٹانگ پہ ٹانگ چڑھاۓ لیٹا تھا۔۔
“تم تم یہاں ککیا کر رہے نکلو یہاں سے ابھی کے ابھی”۔۔ماریہ چلاتی یوئی بولی۔۔
“ریلیکس بے بی ریلیکس میں یہاں تمہارا اسپیشل تھینکس کہنے آیا ہوں”۔۔ ولیم بیڈ سے اتر کر چلتا ہوا اس کے سامنے آیا۔۔
“کیسا تھینکس۔۔۔”
“تم نے بلکل ٹھیک فیصلہ کیا تھا اور آج تم بھی خوش اور میں بھی خوش” ولیم آہستہ آہستہ اسکے گرد چکر کاٹتا ہوا بولا تھا۔۔
ماریہ خاموشی سے اب اسکی باتیں سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
“جہاں میں جاب کررہا تھا اس کمپنی میں مجھے میرے باس کی بیٹی نے پرپوز کیا اور میں نے اسے ہاں کہہ دی ہے۔۔”
“میرے باس کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہم جلد ہی شادی بھی کرلیں گے”۔۔ میں ڈائریکٹ ایمپلاۓ سے باس بن جاؤ گا ۔۔اتنا پیسہ میں ساری زندگی بھی محنت کرتا رہوں تب بھی نہیں کما سکتا جتنا میرے باس کے پاس ہے۔۔ ڈائنا سے شادی کرتے میرے دن بدل جائیں گے۔۔ اور تم روحان سے شادی کرلو گی۔۔وہ بھی اچھا خاصا بزنس رن کررہا ہے اور اسکا بیک گراؤنڈ بھی اسٹرونگ ہے۔۔
بات کرتے کرتے ولیم نے ماریہ کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود سے بے حد قریب کرلیا تھا۔۔
“کیا ہم پھر سے دوست بن سکتے” ولیم اسکے چہرے پہ پھونک ماری تھی اور خباثت سے ہنسا تھا اور جھک اسکے لبوں کو ہلکا سا بوسہ دیا تھا اور بہکنے ہوۓ سرغوشی کی تھی” ڈو یو مس می بے بی اینڈ مس ماۓ لو”۔۔
ماریہ نے اسکے گلے میں بانہیں ڈالی تھی۔۔
“ائی مس یو آ لوٹ بے بی” ماریہ بھی مدہوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔اور دونوں بے حد قریب ہوۓ اور کافی دیر ایک دوسرے کے لبوں کا جام پیتے رہے۔۔
اپنے اندر کی پیاس بجھاتےرہے۔۔پھر دونوں نے لبوں کو آزاد کیا تھا ۔۔
:چھہ مہینے ہوگۓ ہمارے ریلیشن کو اور ابھی تک روحان نے مجھے ایک کس بھی نہیں کی” ۔۔ماریہ ویسے ہی اسکے گلے میں بانہیں ڈالی افسردگی سے بولی۔۔
ولیم نے اسے اپنی بانہیوں میں اٹھا لیا تھا۔۔ڈونٹ وری بے بی میں ہوں نا۔۔اور بستر پہ لٹا کر اپنی شرٹ اتار کر پھینکی ۔۔اور اسکے اوپر حاوی ہونے لگا۔۔۔۔دونوں ایک دوسرے میں گم ہوچکے تھے۔کمرے میں معنی خیز خاموشی چھائی تھی۔۔
وہ اپنی مکمل پیاس بجھانے کے بعد ایک دوسرے سے علیحدہ ہوۓ تھے۔
“اوہ بےبی تم آج بھی اتنی ہی ہوٹ ہو جتنی تین سال پہلے تھی۔۔وہ اس کے ساتھ بلینکٹ میں اسکے سینے پہ سر رکھی لیٹی تھی۔۔اور وہ اسکی بالوں میں انگلیاں چلا تا بول رہا تھا۔۔
“ایم ویری مس یور لو بے بی۔۔آئی مس یو ٹو۔۔”
🥀🥀🥀🥀🥀
عالم صاحب روحان پہ زور ڈال رہے تھے پاکستان آنے کیلۓ تاکہ ۔ وہ زویا کو اسکے ساتھ رخصت کر سکے مگر وہ بزنس کا بہانہ بنا کر انہیں ٹال رہا تھا۔۔
روحان آفس پریشان سا بیٹھا تھا۔۔جب وکی آیا تھا۔۔
“کی ہویا یار۔۔ اب کیا ٹینشن ہے ۔۔”
“ٹینشن وہی پرانی ہے یار” روحان بےزار سا بولا تھا۔۔
“ڈیڈ بلا رہے ہیں پاک تین سال ہوگۓ ہیں واپس آجاؤ رخصتی کرنی ہے۔۔”
“ہاں تو کرلے اس میں ٹینشن کی کیا بات ہے” ویاہ دا لڈو کھالے۔۔”تنگ کرتے بولا..
“فضول بکواس مت کرو میں ماریہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔”
اسکی بات پہ وکی ک دل کیا کہ اسکے سر پہ کچھ دے مارے کے اسے عقل آۓ۔۔
“اور یار ہوش کر کجھ ۔۔ماریہ جیسی کڑیاں گھر بسانے لائق نہیں ہوتی ۔۔او پاکستانی کڑیاں ان سے ہزار درجے بہتر ہے۔”
“مجھے وہ دبو سی ڈرپوک لڑکیاں بلکل بھی نہیں پسند۔۔ “جو میچور ہو اٹیٹیوڈ ہو ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکے جسے لوگوں سے بھی انٹریڈیوس کرواتے شرمندگی نا ہو”۔۔روحان وکی کو اپنی بات سمجھاتے بولا۔۔
“یار وہ ڈرپوک نہیں معصوم ہوتیں ہیں۔۔ اور یہ جو دنیا کو دکھانے والی ہوتی ہیں نا وہ دکھاوا ہی ہوتی ہیں”۔۔وکی اسکی باتوں میں پھر بھی نا آیا۔۔
“میری ماریہ سے کمٹمنٹ ہو چکی “۔۔روحان اپنی بات کہتا اب لیپ میں مصروف ہوگیا جسکا مطلب تھا کہ وہ جا سکتا ہے۔۔
“ایک ادھر رکھ لے لوگوں کو دکھانے کیلۓ ایک اُدھر رکھ لے ماں باپ کی خدمت کیلۓ کیوںکہ یہ والی رہی انکی خدمت کرنے سے” وکی اپنی بات مکمل کرتا وہاں سے چلا گیا۔۔
