94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Beparwah) Episode 6

زارون کی پڑھائی مکمل ہوچکی تھی اب وہ اپنے والد کا بزنز جوائن کرچکا تھا وہ بہت اچھے سے سب کام سنبھال چکا تھا ۔۔عالم صاحب بہت خوش تھے زارون سے پچھلے چھہ مہینے میں زارون نے انکا سارا کاروبار سنبھال لیا تھا وہ بہت اچھے طریقہ سے سارے کام کو مینج کر رہا تھا۔۔
زرتاج اب ڈرائیور کے ساتھ یونی جایا آیا کرتی تھی ۔۔
شکر کیا تھا اسنے کے زارون سے جان چھوٹی تھی اسکی۔۔وہ دونوں اب اپنی ٹون میں واپس آچکے تھے ۔۔
زارون اسے تنگ کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا اب وہ طنز نہیں کرتا تھا اب اسکے طنز مزاق میں بدل چکے تھے۔۔ مگر وہ بھی کم نہیں تھی پورا مقابلہ کرتی تھی۔۔
صبح سب ناشتہ کر رہے بڑی سربراہی سیٹ پہ عالم یوسف ملک صاحب بیٹھے تھے اور انکے ساتھ زارون اور ساتھ روحہ اور ساتھ زرتاج بیٹھی تھیں اور سامنے سیما اور سفینہ بیٹھی تھی۔۔
“روحہ تم باتوں کے ساتھ ساتھ کھانے پہ بھی دھیان دیا کرو تمہارے حصہ کا کھانا تو سارا یہ بھینس کھا جاتی ہے” زارون نے روحا کی طرف جھک ہلکی آواز میں کہا تھا مگر زرتاج نے پھر بھی سن لیا تھا۔۔
“تمہارے زارون بھائی کی بیوی بھینس ہوگی” وہ روحہ کی طرف جھک کر بولی تھی۔۔
زارون سیدھا ہوکر چاۓ کے سیپ لینے لگا تھا زرتاج کی بات اسنے بھی سنی تھی۔۔مگر عالم صاحب کو دیکھتے چپ ہو گیا تھا ۔۔
زویا سب کو ناشتہ سرو کر کے کییچن میں جانے لگی تھی ۔۔۔
زارون نے روکا تھا اسے “زویا تم نے ناشتہ نہیں کرنا” ۔۔۔
“میں بعد میں کروں گی ابھی بس چاۓ ہی پیوں گی” وہ مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ بولی تھی۔۔ اور کیچن میں چلی گئی تھی۔۔۔
سب کے ساتھ کم ہی بیٹھتی تھی وجہ اسکی ساس تھی روحان نے صاف صاف آنے سے انکار کردیا تھا اب انکا پارہ زویا کو دیکھ کر مزید ہائی ہوجاتا تھا۔۔
زارون کو بہت افسوس تھا مگر وہ سمجھا نہیں پاتا تھا اپنی ماں کو۔۔
زرتاج ناشتہ کرکے اٹھ چکی تھی بیگ کاندھے پہ ڈالا تھا “اوکے ماما میں چلتی ہوں” اپنی ماں سے پیار لینے کے بعد وہ اپنے تایا عالم صاحب کے پاس آئی انہوں نے بھی اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھا “جیتی رہو میری بیٹی مگر بیٹا
آج ڈرائیور نہیں ہے وہ کسی کام سے گیا ہےچھٹی لیکر تو تمہیں” ۔ ۔۔
“اٹس اوکے تایا ابو میں چلی جاؤ گی آٹو سے” انکی بات کاٹ کر فورن بولی تھی۔۔
زارون خاموشی سے چاۓکے سیپ لے رہا تھا آٹو والی بات سن کے اسے غصہ آیا تھا ۔۔۔
سفینہ کے کڑے تیوروں کو دیکھ کر زرتاج کی زبان کو بریک لگی تھی۔۔
“بیٹا تمہیں زارون چھوڑ آۓ گا یونیورسٹی”۔۔
“بٹ ڈیڈ مجھے آفس سے دیر ہو جاۓ گی ” زارون نے بہانا بنایا تھا ۔۔
“زارون”۔ مگر عالم صاحب نے اسکی ایک نا سنی تھی اور اسے سختی سے پکارا۔۔
“ڈیڈ میرے گاڑی کے ٹائر میں ہوا کم ہے” زارون نے چاۓ کا آخری سیپ لیتے ہوۓ زرتاج کو دیکھتے ایک آنکھ دبائی تھی۔۔۔
روحہ کی ہنسی نکلی تھی۔۔
زرتاج کا منہ کھلا تھا اسکی بات سن کر ” ہمم مجھے نہیں جانا تمہارے ساتھ بھاڑ میں جاؤ” پیر پٹختی باہر نکل گئی تھی۔۔
“زارون تم باز آجاؤ “۔۔
“باز ہی ہے میرا بیٹا کیسی منہ پھٹ ہے لڑکی زرا تمیز نہی اسے زارون کئی سال بڑا ہے اس سے بات ایسے کرتی ہے جیسے اس سے چھوٹا ہو”۔۔سیما نے سائیڈ لی تھی زارون کی۔۔
“اوکے ڈیڈ فکر نہ کریں جا رہا ہوں آپ کی چہیتی کو یونی چھوڑ نے”۔۔ وہ چابی ایک انگلی میں ڈالے گھماتا ہوا ہونٹوں کو گول کیۓ سیٹی بجاتا ہوا پورچ میں کھڑی گاڑی میں آکر بیٹھا تھا واچ مین نے جلدی سے دروازہ کھولا تھا گاڑی اسٹارٹ کرتے وہ باہر نکل کر سڑک کی طرف آیا تھا جہاں زرتاج چلتی ہوئی اسٹاپ کی طرف جا رہی تھی۔۔
وہ آہستہ آہستہ گاڑی اسکے ساتھ چلا رہا تھا “زری گاڑی میں آکر بیٹھو”۔
“مجھے نہیں آنا جائیں یہاں سے آپکی ہوا پہلے ہی نکلی ہوئی ہے” وہ بغیر اسے دیکھے سامنے دیکھتے ہوۓ چل رہی تھی۔۔
“زری بکواس نہیں کرو آؤ میری نہیں ٹائر کی ہو ا کم ہے”۔۔
اسکی بات درست کرتے وہ بولا تھا ۔۔۔
ایک ہی بات وہ بھی دوبدو بولی تھی۔۔
ایک جھٹکے سے اسنے گاڑی روکی تھی ایک پل کے لیۓ زرتاج رکی تھی مگر پھر چلنے لگی تھی۔۔
ابھی دوسرا قدم آگے بڑھایا تھا کہ زارون اسکے سامنے دیوار بن کے کھڑا ہوگیا ۔۔۔
زرتاج پستہ کلر کا سادہ سا پلین سوٹ پہنے دوپٹہ گلے میں ڈالے بالوں کی اونچی پونی ٹیل بناۓ دھوپ سے سرخ پڑتی سفید رنگت آنکھوں میں غصہ لیۓ اسے گھور کے دیکھا تھا گرے کلر کے تھری پیس سوٹ پہنے اپنی تمام تر وجاہت لیۓ وہ اسکے سامنے کھڑا تھا ہر آنے جانے والے کی نظریں ان دونوں پہ تھیں۔
زارون مسکرایا تھا اسکی بھری بھری گال کھینچی تھی وہ ایسا بچپن میں کیا کرتا تھا اسکے ساتھ زارون کو اسکی پھولی پھولی گال بہت پسند تھی اور وہ اسکی ایسا کرنے سے رونے لگ جایا کرتی تھی۔۔ “ڈئیر کزن تمہیں میری بات سمجھ نہی آرہی کیا”۔۔
“تم” ۔۔وہ انگلی اٹھاۓ غصہ سے بپھری اسے آج بھی اسکی یہ حرکت پسند نہیں آئی۔۔وہ آگے کچھ بولتی کے عالم صاحب اپنی گاڑی میں بیٹھے اسے نظر آۓ تھے اور وہ چپ کر گئ تھی۔۔اور خاموشی سے گاڑی میں آکر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
زارون جب مڑا تو اسکی نظر بھی اپنے باپ عالم یوسف ملک پر پڑی تو ہلکا سا مسکایا تھا ۔۔اور گاڑی میں بیٹھ کر چپ چاپ گاڑی اسٹارٹ کردی۔۔
عالم صاحب گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ بیٹھے ان دونوں کی فلم ملاحظہ فرما رہے تھے جو ابھی شروع ہونے والی تھی مگر انہیں دیکھ کر ختم ہوگئی تھی۔۔
“گاڑی چلاؤ ڈرائیور ۔۔ پتہ نہیں یہ کب سدھریں گےمیں ان دونوں کے لئے کچھ اور سوچ کر بیٹھا ہوا ہوں مگر یہ”۔۔ہمم انہوں نفی میں سر ہلایا تھا۔۔
زارون خاموشی سے گاڑی چلارہا اور وہ منہ پھلاے ونڈو کے پار دیکھ رہی تھی۔۔
“چپ کرکے گاڑی میں بیٹھ جاتی ڈیڈ کیسے دیکھ رہے تھے اب آفس میں کلاس لگے گی ہر بات کا پتنگڑ بنانا ہوتا ہے”۔
“میں پتنگڑ بنا رہی ہوں یا تم بناتے ہو ہاں ۔۔وہ چڑ کر بولی تھی”۔۔
“میں نے کیا کیا ہاں” ۔۔اسنے اسکی طرف دیکھ آئبرو اچکاۓ تھے
“تم نے مجھے بھینس کہا تھا”۔۔ وہ ناراضگی سے بولی تھی۔۔
“اور تم نے بھی تو میری بیوی کو بھینس کہا تھا”۔۔
“ہاں ہوگی تو۔”۔
“تو کیا ابھی تو وہ بیچاری آئی بھی نہیں میری لائف میں اور تم اسکی دشمن ابھی سے بن گئی” ۔۔
“ہاں آئی بھی نہیں پتا نہیں کتنی ہی ہوں گی۔۔بیچاریاں “
“وہ بلکل سلم سمارٹ خوبصورت زویا جیسی ہوگی”۔۔ وہ ہلکا مسکایا تھا ۔۔
۔۔”ہہم سلم سمارٹ بڑے کو تو زویا پسند نہیں تمہیں ویسی چاہیۓ ڈرامے باز”۔۔اسکی آنکھوں میں چبھن سی ہوئی تھی اپنی آنسو زارون سے چھپانے کی کوشش کی تھی۔۔
“تم کیوں رو رہی ہو تم سے بھی کوئی نا کوئی شادی کر ہی لے گا ” زارون کو اسکی بات بلکل بھی پسند نہی آئی تھی مگر پھر بھی وہ بات بدل گیا تھا۔۔
“کوئی نا کوئی مجھے کیا ہوا ہے” ۔۔۔
تب موڑ لیتے سڑک میں گڈھا تھا زرتاج کی طرف سے گاڑی کچھ نیچے کی طرف ہوئی زارون نے بڑی مہارت سے گاڑی اس گڑھے سے بچائی تھی اور گاڑی بیلنس ہو گئی تھی۔۔
اور اپنے ماتھے سے مصنوعی پسینہ صاف کیا تھا جیسے بہت مشقت سے اسنے یہ کام سر انجام دیا ہو۔۔
“افف کم کھایا میری مانو تو ڈائیٹنگ شروع کردو آج سے ہی ورنہ “۔۔اور گاڑی یونیورسٹی گیٹ کے پاس رکی تھی اور وہ ایک لمحہ بھی زائع کیۓ بغیر فورن گاڑی سے نکلی تھی اور زور سے دروازہ مارا تھا غصہ کا صاف اظہار تھا ۔۔زارون نے زور سے قہقہ لگایا تھا۔۔ جو زری کو صاف سنائی دیا تھا۔۔
زرتاج کلاس آکر بینچ پہ زور سے کتابیں رکھی تھیں اور لال ٹماٹر چہرہ لیۓ بیٹھی تھی۔۔
ارم جو اسے ہی دیکھ رہی تھی اسکی کاروائی دیکھ کر اندازہ لگاتی بولی تھی۔۔
“لگتا ہے آج زارون کے ساتھ آئی ہو
جبھی صبح صبح موڈ خراب ہوا وا ہے”۔۔
“دل کرتا ہے اسے جان سے ماردوں ۔۔کیا میں اتنی موٹی ہوگئی ہوں صبح صبح مجھے بھینس بول دیا اور ڈائیٹنگ کا مشورا بھی مفت دے دیا۔۔”
ارم نے منہ پہ ہاتھ رکھ کر اپنی ہنسی کنٹرول کی تھی۔۔
زرتاج نےغصہ سے اسکے کمر پہ مکا جڑا تھا۔۔تم مرو گی کسی دن میرے ہاتھ سے باز آجاؤ۔۔
“اوکے اوکے بس ریلیکس “ارم اپنی ہنسی کنٹرول کرتی سیریس ہونے کی کوشش کی ۔۔
اور پھر ٹیچر کلاس میں آگۓ وہ دونوں سیریس ہو کر لیکچر لینے لگی تھی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
زارون آفس میں آیا تو سب ورکر اسے گڈ مارننگ کہنے لگے اور وہ ہاتھ ہلاتا اپنے آفس کی طرف بڑھ گیا عالم صاحب کے پی اے نے اسے عالم صاحب کا پیغام دیا تھا۔۔
“افف اب ڈیڈ کے لیکچر سننے پڑیں گے” وہ جھنجلاتا اٹھا تھا۔۔
“کم ان”۔۔ ڈور پہ ناک کر کے زارون اندر آیا تھا عالم صاحب فائل کا معائنہ کرنے میں مصروف تھے زارون کو دیکھتے ہی اپنی عینک اتار کر ٹیبل پر رکھی اور فائل بند کی تھی اب پوری طرح زارون کی طرف متوجہ تھے۔۔
زارون بھی دونوں ہاتھ پاکٹ میں ڈالے نظریں جھکاۓ کھڑا تھا ۔۔
“یہ سب کیا ہے زارون کیوں بچی کو تنگ کرتے رہتے ہو”۔۔
“ڈیڈ میں اسے تنگ نہیں کررہا تھا بلکہ اسے گاڑی میں بیٹھنے کا بول رہا تھا اور اس محترمہ نے ضد لگائی ہوئی تھی کہ نہیں بیٹھنا”۔۔۔
“ہاں تو پہلے تم نے اسکا مزاق اڑایا تھا” ۔۔
“ڈیڈ آپ بس اپنی بھتیجی کی سائیڈ لیا کریں کبھی میرے ڈیڈ بن کر بھی سوچا کریں” ۔۔جیلسی ہوئی تھی زارون کو
“تمہارا باپ زندہ ہے مگر ان بچیوں کا ۔۔۔ وہ میری بھتیجیاں نہیں میری بچیاں ہیں “۔۔
“یہی مسئلہ روحان کا ہے وہ بھی یہی شکایت کرتا رہتا ہے کہ میں اسکا باپ بن کر نہیں سوچتا ۔۔ چار سال ہوگۓ ہیں اس نافرمان کو گۓ ہوۓ ۔۔ آنے کا نام نہیں لیتا اب تو اسنے صاف جواب دےدیا وہ مجھے سخت فیصلہ لینے پہ مجبور کر رہا ہے اگر اسنے زویا کو چھوڑنا ہے تو پھر میں بھی سمجھوں گا میرا ایک ہی بیٹا ہے”۔۔آخر بات کہتے انکا لہجہ سخت ہوا تھا۔۔
“ڈیڈ ۔۔آپ نے اسکے نکاح کے وقت بھی اسے یہی دھمکی دی تھی داجی کی ضد کی وجہ سے آج ہمیں یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں اگر اس وقت روحان پہ پریشر نا ڈالا جاتا تو آج ایسا وہ نا کر رہا ہوتا”۔۔۔ اسے بھائی کیلۓ اپنے ڈیڈ کے یہ الفاظ پسند نہیں آۓ تھے بھائی سے دوری اسے بھی برداشت نہیں تھی۔۔
“تمہارا کیا مطلب ہے اب وہ ہم سے ہمارے کیۓ کا بدلہ رہا ہے”۔۔
“مجھے سب پتا ہے وہ وہاں کسی لڑکی کے ساتھ چکر چلا رہا ہے”۔۔
“ڈیڈ آپ روحان کی جاسوسی کر رہے ہیں” ۔۔زارون کو حیرت ہوئی تھی اپنے باپ کے انکشاف پر اور اپنی طرف سے جاسوسی کا تیر پھینکا تھا جو نشانے پہ لگا۔۔
“ہاں کروا رہا ہوں جاسوسی ہے کوئی جاننے والا میرا وہاں ہے اسنے بتایا تھا ۔۔ اور میں نے بھی اپنے طور پہ سب پتا کروایا ہے ۔۔اور میرا شک درست ثابت ہوا مجھے روحان سے یہ امید نہیں تھی بیوی کے ہوتے ہوۓ وہ کسی اور لڑکی کے ساتھ”۔۔۔” اف ” انھوں سر اپنے ہاتھوں میں گرایا تھا۔۔ تھک چکے تھے اولاد کے ہاتھوں سے
“ڈیڈ “۔۔۔ زارون ہریشان سا ہوا تھا اور عالم کی جانب بڑھا مگر انہوں بیچ میں روک دیا۔۔
“اسٹاپ”۔۔ تمہیں روحان کے بارے سب علم تھا”۔۔ وہ ہلکی مگر سخت لہجہ میں بولے تھے۔۔
“وہ ۔۔ وہ۔۔”
“سچ سچ بتاو مجھے زارون”۔۔انہوں نے دانت پیسے تھے۔۔
“ییس ڈیڈ مجھے روحان نے بتایا تھا وہ اسی سے شادی بھی کرنا چاہتا ہے”۔
“گو فرام ہئیر”۔۔
“ڈیڈ” ۔۔
“گیٹ لاس۔۔”
“ڈیڈ ایم سوری”۔ وہ شرمندہ سا ہوا
“دس منٹ بعد میٹنگ ہے جاؤ جا تیاری کرو “وہ مصروف سے انداز میں فائل کھولتے بولے تھے اب دھیان سارا فائل کی طرف تھا۔۔
وہ جانے لگا تھا گیٹ کے پاس پہنچا تھا پھر عالم صاحب کی آواز پہ رکا ۔۔
“ٹائم سے زرتاج بیٹی کو یونی لینے پہنچ جانا”۔
“اف ایک تو انکی یہ چہیتیاں لیکر بیٹھ گئی ہیں” وہ بس سوچ ہی سکا تھا۔۔ اوکے ڈیڈ کہتا وہاں سے چلا گیا۔۔