94.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Beparwah (Episode 28)

زویا کی آنکھ کھلی تو خود کو روحان کے حصار میں پایا.. کمزوری کے باعث ہل بھی نہیں پارہی تھی مگر پھر بھی اسکا حصار توڑنا چاہا تھا..
کیا مسئلہ ہے تمہارا ساری رات خواری کروائی اور اب سونے بھی نہیں دے رہی.. ” وہ آنکھیں وا کئے اسے گھور کر دیکھتا بولا..
کیوں بچایا مجھے ” اچھا ہوتا آپکی جان چھوٹ جاتی.. “
“تم نہیں جان چھوڑنے والی میری اتنی آسانی سے” کہتے ہی اسکا حصار مزید تنگ کردیا.. چہرہ اسکے چہرے سے مزید قریب تر ہوگیا.. اور مدھوش ہوتا اسکے انابی ہونٹوں کو قید کیا تھا.. اسکے انداز میں نرمی تھی.. اور پھر پیچھے ہوا اور اسکے چہرے کو تکنے لگا جہاں قوس قزح کے کئی رنگ بکھرے تھے ..
“تم مجھے کال نہیں کرسکتی تھی.. بتایا کیوں نہیں طبیعت ٹھیک نہیں یا مرنے کے ارادے بنائی بیٹھی تھی..”وہ انتہائی نرم لہجہ میں گویا ہوا..
“وہ میرے پاس آپکا نمبر نہیں تھا”وہ نظریں جھکائی بولی..
“جھوٹ ” تمہارے پاس میرا نمبر ہے تمہارے موبائل میں سیو ہے دشمن جان نام سے” روحان نے کہا تو زویا نے اسے نظریں اٹھا کر دیکھا کہ اسے کیسے پتا..
تو روحان مسکرا دیا..” ہماری ایک ہی تو رپورٹر ہے روحا تمہاری باتیں مجھے اور میری باتیں تمہیں بتاتی تھی. ” تو زویا ہنس دی وہ اسکی مسکراہٹ میں کھو سا گیا..
افف اس وکی کو بھی چین نہیں ہے..فون بجنے لگا تھا اسی وقت..
نمبر دیکھ کر وہ ٹھٹکا تھا۔۔
زارون اس وقت کیوں کال کررہا ہے سب خیریت تو ہے نا۔۔ سوخدشات آۓ زہن میں۔۔فون ریسیو کر کے کان کے ساتھ لگایا۔
“ہیلو”۔۔
“زویا کہاں ہے اسکا فون کیوں آف جا رہا ہے”۔۔ نا سلام نا دعا ڈائریکٹ اپنی بات پہ آیا تھا۔۔
“تم شاید بھول رہے ہو میں تمہارا بڑا بھائی ہوں”۔۔
“اور تم بھی بھول رہے ہو شاید کے میں نے تمہیں وارن کیا تھا” ..
زویا کے وہاں آنے کے حق میں پہلے ہی نہیں تھا”۔۔زارون نے سفینہ چاچی کے سامنے ہی اسے کھری کھری سنائیں۔۔
“اب تمہیں بھائی کہوں یا سالہ ۔۔” روحان نے قدرے سکون سے اسکا مزاق اڑایا ۔۔
زارون کو اسکا سکون آگ لگا گیا۔۔
“چاچی بہت پریشان ہے زویا کیلے کیا ہوا ہے۔۔مجھے تو سچ کوئی بتاۓ گا نہیں مگر تمہارے دماغ کا فطور میں اچھے سے جانتا ہوں۔”۔زارون قدرے بدتمیزی پہ اتر آیا ۔۔
روحان جانتا تھا وہ اتنا بدگمان کیوں ہو رہا ہے اس لیے ریلیکس تھا ۔۔
سفینہ تو مزید گھبرائیں تھی۔۔
“میں ابھی گھر ہی ہوں زویا کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔”
“کیا ہو ا ہے زویا کو روحان “۔۔ زارون پوری بات سنے بغیر چلا اٹھا۔۔
جبکہ سفینہ کا تو برا حال ہوا تھا اسکا دل بیٹھا جانے لگا ۔۔
“ریلکس زارون بات تو پوری سن لو زویا ابھی ٹھیک ہے میں ہوں اسکے پاس”۔۔اسکی روحان اسکی بےاعتباری پہ غصہ آیا تھا ۔۔
زویا نے پھر سے اسکے حصار سے نکلنا چاہا مگر روحان ایک ہاتھ سےفون کان سے لگاۓ جبکہ دوسرا بازو اسکی کمر کے نیچے سے اسے پکڑے ہوۓ تھا جس کی وجہ سے وہ ہل بھی نہیں پا رہی تھی اور دونوں ٹانگوں سے اسکی ،ٹانگیں جکڑے ہوۓ تھا۔۔
زارون نے ویڈیو کال کی اسی ٹائم اسے یقین نہیں تھا روحان کی بات پہ۔۔
روحان نے ویڈیوں کال اٹھائی جس میں صرف وہی نظر آ رہا تھا اس وقت وہ بنیان پہنے تکیہ پہ سر رکھے لیٹا ہوا نظر آرہا تھا۔۔
زارون کو یقین ہوا وہ گھر ہی ہے۔۔ اتنے عرصہ بعد وہ اپنے بھائی کو دیکھ رہا تھا اسکا دل موم ہوا مگر اگلے ہی پل پھر زویا کا خیال آیا
“زویا کو دکھا ؤ”۔۔
موبائل اسکرین پہ صرف زارون ہی نظر آرہا تھا۔۔سفینہ پیچھے کھڑی تھی سکرین پہ روحان کو دیکھ پا رہی تھی۔۔
“نہیں میں نہیں دکھا سکتا بس یہ یقین کرلو وہ سہی ہے اور میں اسکے پاس ہوں”۔۔ روحان نے اسے قدرے سکون سے کہا۔۔
“روحان میں نے زویا کو دیکھنا ہے ابھی” ۔۔وہ بھی بضد ہوا..
“مجھ پہ یقین نہیں ہے تمہیں اپنے بھائی پہ۔۔”
“بات مت گھماؤ زویا کہاں ہے”۔۔
چل پھر دیکھ لے روحان نے موبائل کو زرا پیچھے کیا تو زویا روحان کے سینے پہ سر رکھے تھی زویا موبائل سکرین پہ زارون کو دیکھتے ہی زور سے آنکھیں میچیں تھے ۔۔
زارون نے زویا کو اسطرح دیکھا تو سٹپٹا گیا اب روحان کی بات کا مطلب سمجھ آیا وہ انکار کیوں کرر ہا تھا وہیں سفینہ نے بھی موبائل سکرین کو دیکھتے نظریں گھمائیں۔۔
دونوں کے دلوں میں سکون اترا تھا پل بھر بدگمانی کے بادل جھڑے تھے۔۔
“دیکھ لو اور ” روحان کی آواز گونجی تھی ۔۔
“یار مانتا یوں ہوں میں اپنی غلطی ۔۔ مگر میں اتنا بے حس تو نہیں کہ زویا کو کوئی نقصان پہنچاؤں روحان نے بے چارگی سے کہا۔۔ پھر موبائل کیمرا اپنی طرف کرلیا۔۔
پہلے بات تو پوری سن لو پھر کوئی ری ایکشن دینا تھا۔۔
کل سے یہ بخار میں پڑی تھی میں آفس میں تھا مجھے اسکی کنڈیشن کا نہیں معلوم تھا ایٹ لیسٹ زوئی مجھے ایک کال کر کے ہی بتا سکتی تھی کہ اسے بخار ہے ۔۔
رات گۓ میں گھر لوٹا تھا ۔۔اگر میں نا دیکھتا اسے تو ناجانے کیا ہوجاتا” ۔۔
“پوری رات ہوسپٹل میں اسکے پیچھے خوار ہوا ہوں ۔۔
اور اب تک اپنے آفس کا کام چھوڑ کر اسکی تیمار داری میں لگا ہوا ہوں۔۔اتنا ایمپوڑٹنٹ پروجیکٹ چل رہ ہے میرا”۔۔
“پہلے ہی اتنی کمزور تھی اور اب اور زیادہ کمزوری ہوگئی “۔۔
“ایسے تو میں تمہیں چاچا نہیں بنا پاؤں گا۔۔”
اسکی آخری بات پہ تینوں کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی جبکہ زویا تو مزید شرم سے پانی ہوئی تھی۔۔
“سوری یار” ۔۔ زارون شرمندہ ہوا تھا۔۔ جبکہ سفینہ کا چہرہ کھل اٹھا تھا اور وہاں سے چلی گئی۔۔
“ہہم سوری کے بچے ۔۔ مجھے افسوس ہے تمہیں اپنے بھائی پہ یقین نہیں ہے”۔۔
“اچھا نا شرمندہ کیوں کررہا ہے”۔۔ زارون نے خفگی سے کہا
“اچھا چل معاف کیا غلطی میری بھی تھی زویا کے چمچے ۔۔آفس جانا ہے پہلے ہی لیٹ ہوں”۔۔ کہتے ہی کال کٹ کردی۔۔
“آپ کو زارون کے سامنے یوں نہیں کرنا چاہیے تھا”۔۔وہ روہانسی ہوئی
” کیا نہیں کرناچاہیے تھا۔۔” اانجان بنتا بولا۔۔
“مجھے کیوں دکھایا کیمرے میں”۔۔
“تمہارا بھائی تمہیں دیکھنا چاہ رہا تھا ۔۔ فکر مند ہورہا تھا۔۔کل سے فون جو بند کیے بیٹھی ہو۔۔ اور مجھے ولن بنا دیا پتا نہیں کیا کیا ظلم کر رہا ہوں میں تمہارے ساتھ”۔۔
وہ کہتا بیڈ سے اٹھا تھا۔۔۔
“پتا نہیں بیٹری ڈیڈ ہوگئی ہو گی”۔۔
“بس اب لیٹی ہو رہو ریسٹ کرو اٹھنا مت اچھا” وہ اسے تنمبیہ کرتا واشروم گھس گیا۔۔
زویا نے اٹھنے کی کوشش نہیں کی تھی جسم لگ رہا تھا جیسے بے جان ہو رہا ہو۔۔
وہ فریش سا واشروم سے نکلا جلدی تیار ہورہا تھا ۔۔
وہ بس اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔
اب اسکی طرف پلٹا تھا “میں جا رہا ہوں ہاں اب تم اپنا سامان اس کمرے میں شفٹ کرلو آج میں جب گھر آؤں تو مجھے تم اس ہی کمرے میں ملو “۔۔
“اور جو ہوا پیچھے سب بھول جاؤ”۔۔
“اب بس آگے کا سوچنا ہے ہاں” اسکے رخسار پہ ہاتھ رکھ کر بہت پیار سے کہا اسنے پھر جھک اسکے ماتھے پہ پیار کی مہر ثبت کی اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔
کمرے کے دروازہ سے باہر نکلا تو اسی وقت جینی بھی گھر میں انٹر ہوئی ۔۔جینی کے آنے کا ٹائم نو بجے کا تھا۔۔
روحان کافی جلدی میں تھا۔۔
“سلام سر آپ اس وقف گھر پہ ہو آپکا طبیعت ٹھیک ہے”۔۔ جینی نے بنا بریک لگاۓ کئی سوال کر ڈالے۔۔
“میں بلکل ٹھیک ہوں جینی ۔۔زویا ٹھیک نہیں ہے اسکی طبیعت خراب ہے اسلیے لیٹ ہوا ہوں”۔۔
“ہاں اسے پہلے ناشتہ کروا کر میڈیسن کھلا دے نا۔۔وہ اسوقت۔۔ میرے ۔۔کمرے میں ۔۔ ہیں۔۔ وہ” ۔۔
روحان نے توڑ جوڑ کر کے بات مکمل کی ۔۔کیونکہ اس نے جینی سے کہا ہوا تھا کہ زویا اسکی کزن ہے
“ییس سر آئی نو شی از یور وائف “۔۔ جینی نے اسکی مشکل آسان کی۔۔
تو وہ گہرا مسکرایا
“اوکے پھر زویا کا خیال رکھنا اور ہاں زویا کا فون چارج پہ لگا کہ اون کردینا۔۔مجھے جلدی ہے۔۔” پہلے ہی بہت لیٹ ہوں۔۔
روحان کے جاتے ہی جینی نے زویا کیلے ناشتہ بنایا۔۔
ناشتہ لیے وہ روحان کےکمرے آئی ۔۔
زویا بیڈ پہ کروٹ لیے لیٹی تھی۔
“گڈمارننگ سسٹر زویا”۔۔
زویا نے سیدھا ہو کر جینی کی طرف دیکھا۔۔
“گڈ مارننگ”۔۔ ہلکی سی آواز میں کہا۔۔
جینی ناشتہ سائیڈ ٹیبل پہ رکھا اور اسے اٹھنے میں مدد کی۔۔
“سسٹر آپ فریش ہوجاؤ پھر ناشتہ کرو اور میڈیسن بھی لینا روحان سر خاص ہدایت کر گۓ ہیں کہ آپکا خیال رکھوں”۔۔
اور آپکا موئل بھی چارج پہ لگا دوں۔۔
“کل آپ نے لگتا میڈیسن نہیں اسلیے بخار آگیا ہوگا۔۔
سر نے لگتا ہے اپکا بہت خیال رکھا ہے”۔۔جینی نے اسے چھیڑتے ہوۓ کہا۔۔
زویا کے چہرے پہ کئی رنگ کھلے تھے۔۔
🥀🥀🥀🥀
“چاچی اب آپکو زویا کی جانب سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اس نے سب ٹھیک کردیا ہے” ۔۔
روحان کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے۔۔”
زارون آفس جانے سے پہلے سفینہ کے پاس آکر اسے تسلی دینے لگا۔۔
“ہاں بیٹا اب میں سکون میں ہوں بس تم اپنے ڈیڈ کو بھی سمجھاؤ وہ بھی پریشان ہیں دونوں کو لیکر “۔
“اوکے سمجھا دوں گا مجھے زرا جلدی آفس کیلے۔۔”
“ناشتہ تو کرلیتے” ۔۔ سفینہ نے روکنا چاہا۔۔
“نہیں چاچی آفس میں کرلوں گا باۓ” ۔۔ وہ ہاتھ لہراتا کمرے سے نکل گیا۔۔
سفینہ نے شکر ادا کیا تھا ۔۔اسکی بیٹی کا گھر بچ گیا اب فکر تھی تو زرتاج کی کہ وہ کیا کرے گی۔۔
۔۔
زرتاج آج یونی آئی تھی اور سارا حال بیان کیا کل کا ارم کےسامنے ۔۔
وہ دونوں اس وقت کینٹین میں بیٹھی سموسوں سے انصاف کر رہی تھیں۔۔
“واؤ ابھی سے اتنی کیئرنگ تمہاری مرضی پوچھ رہا تھا۔۔” ارم نے کہا
“ہاں دل تو کیا صاف صاف بتادوں اسے کے مجھے نہیں کرنی شادی وادی۔۔ مگر ماما کی وجہ سے بہانا بنانا پڑا ورنہ انہوں نے تو مجھے چھوڑنا نہیں”۔۔
“ویسے لڑکا کیسا لگا تمہیں” ارم نے شرارتی انداز میں پوچھا۔۔
“زہر لگا مجھے وہ تو”۔۔زرتاج نے منہ بناتے کہا۔۔
“کیوں”۔۔ارم کو حیرت ہوئی
“کیوں کیا مصور کی دال کہیں کا ایک منٹ کیلے بھی نظریں اپنی ادھر سے ادھر نہیں کی مجھے ہی تاڑنے میں لگا رہا”۔۔ زرتاج نے کڑتے ہوۓ کہا۔۔
“ہہم دل آگیا تم پہ اسکا”۔۔مسکرا بھی رہا ہوگا تمہیں دیکھ ” ۔۔ارم نے مسکا لگایا۔۔
“تم چپ کرو دل آگیا ہوگا”۔۔ زرتاج نے ارم نکل اتارتے کہا۔۔
“یار رشتہ تو پکا ہوگیا ہے اب تو میرا تو یہی مشورا ہے کہ تم سمجھا لو خود کو۔۔ ارم اسے سمجھاتی ہوئی بولی کہ جو بلکل بھی سیریس نہیں تھی اپنے رشتہ کو لیکر۔۔
“مجھے نہیں کرنی شادی وادی” اسنے رونی صورت بنا کر کہا۔۔
“وہ تو کرنی ہی پڑے گی”۔۔
“نہیں “۔۔۔۔ زرتاج نے چیخنے کی ایکٹنگ کرتے کہا۔۔
ہاہا۔ہاہا۔۔تو پھر دونوں ہنس دی۔۔
🥀🥀🥀🥀
روحان آفس آیا اور اپنی سیٹ سنبھالی تھی۔۔
لیپ ٹاپ پہ تیزی سے انگلیاں چل رہی تھی۔۔
جب اسکا موبائل رنگ ہوا تھا۔۔
ہیلو۔۔۔بغیر فون سیکھے کان سے لگایا۔۔
“کسیے ہو بیٹے”۔۔ لہجےمیں پیار سموۓ عالم صاحب بولے۔۔
روحان کام چھوڑے فون کی طرف متوجہ ہوا۔۔
“ڈیڈ آپ۔۔ کیسے ہیں آپ” ۔۔
“کیسا ہووں گا تمہاری فکر کھاۓ جا رہی ہے۔۔
مجھ سے غلط فیصلہ ہوگیا ہے شاید”۔۔ وہ تھکے ہوۓ انداز میں بولے۔۔
“ایسا مت کہیں ڈیڈ”۔۔ روحان کو دل کو کچھ ہوا تھا ۔۔
“بیٹا ۔۔ تم چاہو تو زویا کو چھوڑ سکتے ہو اب میں تمہیں اجازت دیتا ہوں جب چاہو اسے واپس بھیج دو اگر وہ تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو “۔۔
“ڈیڈ” ۔۔روحان نے انکی بات کاٹی۔۔
“ڈیڈ اگر وہ میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہوتی تو وہ یہاں نا آتی کبھی”۔۔ روحان بولا
“کیا مطلب ہے تمہارا”۔ عالم صاحب اسکی بات سمجھ نہیں آئی
“مطلب یہ کے ڈیڈ اس دن جو میں نے کہا وہ آدھاسچ تھا۔”۔ تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں اپنا رخ تو میں آپکو دکھایا نہیں۔۔ سوری ڈیڈ” ۔۔ روحان کو افسوس ہو رہا تھا خود پر۔۔
“روحان صاف صاف کہو “۔۔ کیا کہنا چاہ رہے ہو ” عالم صاحب کالہجہ سخت ہوا۔۔
“جب وہ یہاں آئی تھی تو میں نے اس سے خود سے دور رہنے کو کہا “۔۔ بہت برا سلوک رکھا اسکے ساتھ تو پھر وہ کیسے میرے قریب آ پاتی مجھ سے کوئی تعلق کیوں رکھتی “۔۔
غلطی میری بھی ہے ڈیڈ۔۔ایم سوری”
روحان نے اپنی غلطی قبول کی وہ شرمندہ تھا۔۔
“روحان “۔۔عالم صاحب ک لہجہ تیز ہوا۔
“میری بچی کو واپس بھیجو”۔۔ فوراً ” انہوں نے آرڈر دیا۔۔
“نو ڈیڈ”..
” اب نہیں میں زویا کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں “۔۔
آپ اب مجھے اس سے دور نہیں کرسکتے میں مان رہا ہوں اپنی غلطی”۔۔ مجھ پہ ٹرسٹ کریں اب زویا کے ساتھ غلط نہیں کروں گا “۔ایم سوری ڈیڈ “۔۔ روحان نے انہیں ٹھنڈا کرنا چاہا۔۔
“تم نے ٹھیک نہیں کیا روحان “۔۔
مگر میں پہلے زویا سے بات توں گا”۔۔ پھر تمہیں موقع دینے کے بارے میں سوچوں گا دو ٹوک انداز میں کہتا فون کاٹ دیا۔
عالم صاحب کو یقین نہیں آرہا تھا روحان ایسا بھی کر سکتا ہے کسیے اسنے انکی نظروں میں زویا کو گرا دیا۔۔
جبکہ وہ انہیں الگ کرنے کا فصلہ کر چکے تھے۔۔
مگر کہیں کہیں پرسکوں بھی ہوۓ تھے۔۔
🥀🥀🥀🥀
زویا اب پہلے سے بہتر محسوس کر رہی بخار اتر چکا تھا۔۔
اپنے کمرے میں جا کر کپڑے چینج کیے ۔۔
پھر اپنی ماں کو کال لگائی۔۔
دوسری بیل پہ ہی کال اٹھا لی گئی۔۔ “اسلام علیکم ماما کیسی ہیں” ۔۔
“وعلیکم اسلام میری بچی کیسی ہے”۔۔
“میں ٹھیک ہوں ماما”۔۔
“بخار اتر گیا میری بچی کا ” وہ فکر مند ہوئی۔۔
“ہاں ماما بٹ آپکو ۔۔ کیسے پتا ۔۔ میں ۔۔” زویا کو حیرت ہوئی
“وہ بیٹا زارون نے بتایا تھا”۔ اصل بات چھپاتے ہوۓ سفینہ بس اتنا ہی کہا۔۔
زارون کا خیال آیا کیا سوچ رہا ہوگا وہ روحان کیساتھ یوں دیکھ کر۔۔
“کیا ہوا زویا چپ کیوں ہوگئی۔۔”
“کچھ نہیں ماما ۔۔ میں اب ٹھیک ہوں۔۔روحان نے میرا بہت خیال رکھا تھا”۔۔کل کی ساری روداد سنائی۔۔
“ماشاللہ جیتی رہو خوش رہو” ۔۔ سفینہ نے خوش ہوتے اسے ڈھیروں دعائیں دی تھی۔۔اور پھر زری کے رشتہ پکے ہونے کے متعلق اسے بتایا۔۔
زویا بہت خوش ہوئی تھی یہ بات سن کر مگر پریشان بھی زرتاج کو لڑکا پتا نہیں پسند آیا ہوگا کہ نہیں پہلے ہی وہ شادی کےلیےراضی نہیں تھی۔۔
🥀🥀🥀🥀
رات کو نو بجے کے قریب روحان اور وکی اپنا کام ختم کر کے آفس کی بلڈنگ سے باہر نکلے تھے۔۔
“یار پہلے تو مجھے میرے گھر ڈراپ کردے میری گاڑی خراب ہے “۔۔
“اچھا چل بیٹھ”۔۔
دونوں گاڑی میں بیٹھ کر کر چل دیے ۔۔راستہ میں روحان کو پھولوں کی شاپ نظر آئی تو سوچا زویا کے لیے لے لے۔۔
“تو بیٹھ میں زرا پھول لے آؤں۔۔”
“پھول وہ کیوں بھائی” ۔۔ وکی کو اندازہ تھا وہ زویا کیلے لے گا پھر بھی انجان بنتا بولا۔۔
“تجھے کس نے پوچھا ہے اپنی بیوی کیلے لا رہا ہوں”۔۔
“ہاں اب تجھے بیوی مل گئی ہے تجھے کیا ضرورت دوست کی”۔۔ مصنوعی ناراضگی دکھاتا بولا۔۔
روحان ہنستے ہوۓ گاڑی سے باہر نکل گیا۔۔
روحان نے گلاب کے پھولوں کا خوبصورت سا گلدستہ بنوایا اور سڑک کراس کرتا ہوا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا جب اچانک ایک گاڑی بےقابو ہوتی روحان کی طرف آئی تھی ۔۔
“روحااان”۔۔ وکی چلاتا ہوا گاڑی سےنکلا روحان کی طرف دوڑا۔۔
وہ گاڑی روحان کو ٹکر مارتی کھمبے سے جا ٹکرائی تھی پھولوں کا گلدستہ ہوا میں لہراتا زمیں پہ بکھر چکا تھا جبکہ روحان زمین پہ خون سے لت پت پڑا تھا۔۔
“رو۔۔ححان۔۔ مم میرا بھ بھائی “۔۔ وکی اسکے پاس زمین پہ بیٹھتا اسکا چہرہ تھامتا بولا بمشکل بولا۔۔
۔۔
🌹🌹🌹🌹
روحان کو اسٹریچر پہ لٹا کر بھگا کر آپریشن تھیٹر کی طرف لے جایا جا رہا تھا ۔۔
اور اسے آپریشن تھیٹر کے اندر لے جا چکے تھے۔۔وکی کے کپڑے بھی خون سے بھر چکے تھے۔۔
وہ پریشان حال باہر ارد گرد کے چکر لگا رہا تھا روحان کی سلامتی کی دعائیں کررہا تھا۔۔
پردیس میں کوئی اپنا نہیں ہوتا جو کسی کے لے دعا کرے۔۔
جو اپنا دیسی ہم وطن مل جاۓ وہ کسی اپنے سے کم نہیں ہوتا۔۔
آج روحان کیلے زندگی اور موت کے بیچ میں کھڑا تھا۔۔اسے دعاؤں کی ضرورت تھی جو صرف وکی ہی اسکے لیے کرسکتا تھا۔۔
نا ہی پچھلے رشتہ داروں کو بتانے کا حوصلہ ہوتا ہے۔۔کہ وہ کس حال میں ہوتے ہیں ۔۔
۔۔
🌹🌹🌹🌹
گیارا بجنے کو آۓ تھے زویا کب سے روحان کا انتظار میں چکر کاٹ رہی تھی مگر روحان تھا کہ آنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔ ناجانے کیوں دل بے چین سا ہو رہا تھا۔۔
گیارا سے بارا بج گۓ مگر روحان کا کچھ پتا نا تھا۔۔
بل آخر ہار مان کر اپنے موبائل سے روحان کا نمبر ملایا تھا ۔۔جو اسکے پاس سیو ہی تھا۔۔ تب سے جب سے وہ باہر گیا تھا۔۔
مگر یہ کیا نمبر تو بند جا رہا تھا ۔۔اب تو مزید گھبراہٹ ہونے لگی تھی ناجانے کیوں روحان کے لیے دعائیں مانگنے لگی وہ سہی سلامت ہو ۔۔وہ تو یہاں کسی کو جانتی بھی نہیں کہ کسی سے پتا ہی کرلے نا خود اکیلے باہر نکلنے کی ہمت تھی۔۔