Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 9
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 9
روحان اور ماریہ نے ڈنر کرنے کے بعد ساحل سمندر پہ آگۓ تھے ۔۔ روحان اسکا موڈ بحال کرنے کیلۓ اسکی فیورٹ جگہ پہ لے آیا تھا ۔۔
اب وہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ساحل پہ ننگے پاؤں چل رہے تھے اب ماریہ کا موڈ بھی کافی اچھا ہوگیا تھا۔۔
روحان کو بھی بیچینی سی ہو رہی تھی ۔۔۔اب کچھ بہتر محسوس کر رہا تھا۔۔
“روحان “۔۔ وہ بس اپنے خیالوں میں گم چل رہا تھا ماریہ کی آواز پہ ہوش میں آیا تھا ۔۔
“کہاں گم ہو یار میں ہی بس بولے جا رہی ہوں اور تم ہوکہ بسس کہیں اور کھوۓ ہو ۔۔بلکہ تم ہوتے تو میرے ساتھ ہو مگر رہتے کہیں اور”۔۔
“نہیں ایسا نہیں ہے چلو اب گھر چلتے ہیں دیر بہت ہوگئی ہے تھک گیا ہوں” ۔۔
“تھک گۓ ہو تو تھکن اتار بھی دوں گی”۔۔وہ اسکے بلکل قریب ہو کر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔۔
“ہہم گھر چلو سو کر تھکن اتارتے ہیں ” وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر تیزی سے گاڑی کی طرف چل رہا تھا ماریہ اسکے پیچھے بھاگتی زور زور سے ہنس رہیں تھی ۔۔
ایسے وہ لمبے ڈگ بھرتا گاڑی کی طرف آیا تھا پہلے ماریہ کو گاڑی کا دروازہ کھول کر بٹھایا ورنہ وہ تو وہاں سے جانے کا نام ہی نا لے اور پھر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔۔
گاڑی ماریہ کے گھر کے آگے روکی تھی۔۔اوکے گڈ نائیٹ کل ملے گے۔۔
“گڈنائیٹ کیوں اندر نہیں آؤ گے “ماریہ اسکا ہاتھ پکڑ کر بولی۔۔
“نہیں یار پلیز تھکا ہوا ہوں کل فرسٹ ٹائم میٹنگ ہیں بہت امپورٹنٹ ہے فلحال ابھی کیلۓ اجازت دو” ۔۔
“کوئی اجازت وجازت نہیں آؤ باہر آؤ” ماریہ گاڑی سے باہر نکل اسکی طرف کا گیٹ کھول اسکا بازو پکڑ اسے بھی گاڑی سے باہر نکالا تھا۔۔
“ارے یار کیا کر رہی ہو پلیز۔۔”وہ بھی جھنجلایا تھا مگر چارو ناچار اسکے ساتھ چلنا پڑا ۔۔
ماریہ نے اپنے پرس سے چابی نکال کر گیٹ کو انلاک کیا اور روحان کا بازو پکڑے اسے اندر کھینچتی ہوئی لائی۔۔
“یار تمہاری گرینی نے اس وقت یہاں مجھے دیکھیں گی تو کیا کہیں گی”۔۔
“تم میری گرینی کی فکر مت کرو اس وقت وہ سو رہی ہیں رات کے ایک بج رہا ہے” ۔۔
“اب بس تم میں اور یہ تنہائی” وہ اس لۓ اپنے کمرے میں ,آئی اور گیٹ بند کر کے اس کے بلکل قریب آگئی اور دھیرے سے اسکا کوٹ اتارا تھا ۔۔
روحان کے دونوں ہاتھوں کو اپنی کمر پہ رکھے تھے اور خود دونوں ہاتھوں سے اسکا چہرہ تھاما تھا اس کی نگاہوں میں مدہوشی سی تھی۔۔ایڑھیاں اٹھا کو اس کے چہرے کے اور قریب تر ہوئی تھی اور مزید قریب تر ہوتی جا رہی تھی..ایک پل کیلئے وہ بھی بہک گیا اور اسے بانہوں میں بھرلیا اسے بیڈ پہ لے آیا اور اپنی شرٹ اتار کر پھینکی پھر اسکے اوپر جھکا تھا۔۔
اب وہ بلکل اسکے چہرے کے قریب آیا اور اس پہ جھکتا کہ ایک گلابی عروسی جوڑے پہنے دلہن کا سایہ فگن اسکے آنکھوں کے پردے پہ لہرایا تھا۔۔ اور وہ فورن اٹھا تھا اس کے اوپر سے۔۔
“روحان”۔۔اور وہ جھٹ سے اسکے پیچھے اٹھ بیٹھی اور پیچھے سے اسے پکڑنا چاہا مگر روحان فٹ سے بیڈ سے اٹھ کر نیچے سے شرٹ اٹھا کر پہنی ۔۔
“روحان کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ”۔۔وہ غصہ سے چلائی تھی۔۔
“میرا کوئی مسئلہ نہیں یہ سب ٹھیک نہیں ہے” وہ اپنی شرٹ کے بٹن بند کرکے کورٹ کو کاندھے پہ ڈالے کمرے باہر آیا تھا۔۔
“کیا ٹھیک نہیں ہے ہم پیار کرتےہیں ایک دوسرے سے جب مجھے کوئی پروبلم نہیں۔۔میں لڑکی ہو کر تمہارے آگے خود کو پیش کر رہی ہوں تو تم کیوں نہیں”۔۔وہ اسکے پیچھے باہر آئی تھی غصہ میں اسکے منہ جو آرہا وہ بولے جا رہی تھی۔۔
“شٹ اپ ماریہ”۔۔اور وہ گیٹ سے باہر نکل کر گاڑی زن سے بھگا لے گیا تھا۔۔
ماریہ غصہ سے بھری کمرے میں آئی تھی کمرے ہر چیز تہس نہس کرنے لگی تھی۔۔آج وہ اسے پھر سے ادھورا چھوڑ گیا۔۔ وہ اسے ہر حال میں اب پا لینا چاہتا تھی۔۔کسی بھی قیمت پہ اسے کھونا نہیں چاہتی ۔۔اسکے فرار کے تمام دروازے بند کردینا چاہتی تھی۔۔
روحان سیدھا اپنے فلیٹ میں آیا تھا وہ ایک چھوٹا سا لگژری فلیٹ تھا۔۔
اپنے روم میں آکر اسنے کوٹ کو کرسی پہ پھینکا تھا شرٹ کے بٹن کھول رہا تھا اسے گھٹن ہو رہی تھی۔۔
دراز سے سیگریٹ اور لائیٹر لیکر بالکنی میں آگیا کمرے میں اسکا دم گھٹ رہا تھا ۔۔سیگریٹ کے لیتا ہوا میں دھواں اڑا رہا تھا پھر وہاں پڑی کرسی پہ بیٹھ گیا تھا پھر سے آنکھیں بند کی تھی۔۔مگر وہی سایہ اسکی آنکھوں کے سامنے پھر سے لہرایا تھا۔۔ نکاح کے بعد تو اسے ٹھیک سے اسنے دیکھا بھی نہیں تھا۔۔
پھر بھی وہ اسکے حواسوں پہ سوار ہوجاتی۔۔وہ اس بے نام رشتے سے جلد از جلد اب آزادی چاہتا تھا۔۔
اسے اپنی زندگی سے نکال باہر کرے۔۔مگروہ اسکی زندگی میں تھی ہی کب جو اسے نکال دے مگر ایک رشتہ چاہے وہ کاغذ کا ہی کیوں نہ ہو اس سے جڑا تو ہے۔۔
بس ایک ضد تھی جو وہ اپنے باپ سے لگا بیٹھا تھا۔۔
انا تھی جو اس کے آڑے آرہی تھی۔۔
مگر اسے برا کیوں لگا تھاجب کل رات وہ زارون کے ساتھ تھی کس حق سے اسے اپنی بیوی کہا پھر ۔۔کیوں وہ ماریہ کے اب تک قریب نہیں جا سکا ۔۔جب وہ اس سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھنا چاہتا ۔۔ ساری رات دھواں اڑاتے اس کی رات کٹی تھی۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀
اتوار کا دن تھا سفینہ بھی اب پہلے سے کافی حد تک ٹھیک تھی۔۔
سیما اب زارون کا رشتہ اپنی بہن کی بیٹی شائنہ کے ساتھ طے کر دینا چاہتی تھی۔۔ جس کیلۓ انہوں اپنے شوہر کو تو منا لیا تھا مگر زارون اب بھی ضد پہ اڑا تھا۔۔
اج سیما کی بہن شینا نے آنا تھا اپنی بیٹی کے ساتھ ۔۔
زرتاج اور زویا کچن میں دوپہر کے کھانے کا خاص اہتمام کر رہی تھی یہ خاص ہدایت تھی ان کیلۓ دوپہر کا انتظام انہوں نے کرنا ہے۔۔
کچن سے مزے مزے کے کھانے کی خوشبوؤیں آرہی تھیں زرتاج بھی زویا کی پوری ہیلپ کر رہی تھی۔۔
“زری ۔”
روحہ اسکے پاس آکر بولی “ہاں بولو روحی۔۔”
“یار یہ شائنہ بڑی نک چڑی سی ہے مجھے تو نہیں پسند اینوی شوخی سی ہے”۔۔
“ہاں وہ تو مجھے بھی پتہ ہے کوئی نئ بات بتاؤ”۔۔زرتاج جو سالاد کاٹ رہی تھی مصروف سی بولی۔۔
“نئی بات ہے ناں”۔۔وہ اسکے ساتھ جڑ کر منہ بسور کے بولی۔۔
“اب بولو بھی سسپینس کیوں کریٹ کر رہی ہو”۔ زری نے اسے کہنی مار کر کہا۔۔
“یار وہ ماما نا زارون بھائی کے ساتھ اسکا رشتہ پکا کرنا چاہتی ہے۔۔آج وہ لوگ اسی سلسلے میں آرہے ہیں ڈیڈ بھی مان گۓ”۔۔روحہ منہ بسورتی بولی تھی۔۔
“کیااا”۔۔ زرتاج کیا کو لمبا کر کے بولا عین اسی وقت زارون بھی کچن میں آیا تھا۔۔
“یہ کیا کہہ رہی ہو سچی یار آج تو بڑا خوشی کا دن ہے پھر تو زارون اور شائنہ واہ مزہ آگیا سچی” ۔۔اسنے تو دونوں ہاتھوں کو تھوڑا سا اٹھا کے ہلکے کندھے بھی ہلاۓ ڈانس کے طور پہ۔۔
“زارون کو جیسے آگ لگی “۔۔اسکے اس انداز پہ زرتاج کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا اور گھر سے باہر نکل گیا ۔۔
“روحا اسکے کاندھے پہ مکا” ۔۔آؤچ ۔۔زری نے اپنا کندھا سہلایا۔۔
بھائی بلکل بھی نہیں راضی ہیں اور یہاں تم لڈیاں ڈال رہی ہو۔
“زری تمہیں مسئلہ کیا ہے زارون سے” زویا بھی بولی۔۔
“زوئی مجھے کوئی مسئلہ نہیں بس جتنا اسنے مجھے تنگ کیا ہے نا۔”۔
“تو تم اس سے یوں دشمنی نکالو گی”۔۔
“ارے یار تمہارے بھائی کو وہی چھپکلی ہی ٹھیک کرے گی دیکھنا تم جتنا وہ اچھل رہا ہے نا۔”۔
“زری یار وہ میری بھابھی نہیں بنے گی بسس” ۔۔یہ کہتی روحا بھی کچن سے نکل گئی۔
کھانا تیار تھا اب ان دونوں نے بھی کچن سے نکل کر اپنے کمرے لی راہ لی۔۔
” زارون کہاں ہے “عالم یوسف ملک صاحب سنجیدگی سے پوچھا تھا سیما سے اور سیما خود بھی پریشان سی تھی زارون پچھلے دو گھنٹے سے غائب تھا ۔۔
“شینا اور اسکی بیٹی بھی کب کی آچکی تھیں وہ کتنی بار زارون کا پوچھ چکی تھی اور سیما نے کوئی نا کوئی بہانہ بنا دیتی ۔۔
“پتہ نہیں عالم صاحب میں خود پریشان ہوں بنا بتاۓ کہاں چلا گیا۔۔”
“سیما ہم زارون پہ زبردستی نہیں کرسکتے پہلے بڑے بیٹے سے بھی دور ہوچکے اور اب دوسرے بیٹے کو کھو دیں گے” ۔۔
“ایسا مت کہیں عالم میں منا لوں اسے”۔۔
“ہاں دیکھ رہا ہوں” میں عالم صاب۔ سر ہلاتے کرسی پہ بیٹھ گۓ تھے۔۔ سیما کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
حال میں شینا اور اسکی بیٹی شائنہ اور روحا زویا بھی تھی۔۔
“زویا کھانا لگاؤ سیما نےآتے ہی زویا کو حکم دیا۔۔اور وہ دوسری ماہرانی کہاں ہے اسے بھی ساتھ لگاؤ”۔۔
“جی تائی کہتی وہ وہاں سے چلی گئی”۔۔اور روحہ بھی اسکے پیچھے اٹھ گئی۔۔
“سیما باجی یہ زارون کہاں ہے” یہ کوئی چوتھی بار تھا جو وہ پوچھ چکی تھی۔۔
“شینا کہا تو ہے تمہیں آج سنڈے ہے دوستوں کے ساتھ ہوگا تمہیں تو پتا ہے آجکل کے لڑکوں کا” ۔۔
“ماما کھانا لگ گیا ہے آجائیں” روحا نے آکر کہا تو وہ تینوں اٹھ گئی تھیں۔۔
چار بج گۓ تھے مگر زارون کا ابھی بھی کوئی اتا پتا نہیں تھا۔۔
اب وہ سب کھانا کھانے کے بعد حال میں تھے سواۓ سفینہ کے وہ اب تک شینا کے سامنے نہی آئی تھی وجہ وہی پرانی۔۔اور کچھ شینا کا مزاج ایسا تھا۔۔
شائنہ نے سواۓ روحا کے اور کسی سے بات نہیں کی تھی۔۔
سیما باجی کیا آپ کا بیٹا راضی ہے س رشتہ کیلۓ۔۔
اب تو سیما کے پاس کوئی جواب نہیں تھا عالم بھی خاموش بیٹھے تھے تو سیما سے بولے۔۔”جواب دیں بیگم”۔۔
“وہ میرا بیٹا مان جاۓ گا بس ابھی وہ شادی نہیں کرنا چاہتا سیٹ ہونا چاہتا ہے”۔۔
“سیما باجی جواب تو کم از کم ڈھنگ کا دیں نا” ۔۔اور کتنا سیٹ ہونا ہے۔۔ آپ کے دونوں بیٹے ابھی تک گھر نہیں بسا سکے زارون ستائیس کا ہونے والا ہے اور روحان بھی انتیس پار کرنے والا ہے۔۔اور ابھی تک اسنے رخصتی نہیں کروائی ۔۔”وہ وہاں ضرور کسی لڑکی کے چکروں میں ہے اکثر ایسا ہی ہوتا”۔۔
زویا کا کسی لڑکی چکر سن کر ہاتھ سے چاۓ کی ٹرے چھوٹتے بچی تھی جسے زرتاج نے فورن اسے تھاما تھا۔۔ اور وہ وہاں سے نکل کر فورن کچن میں بھاگ گئی تھی۔۔
عالم صاحب سے یہی بس ہوئی تھی۔۔”دیکھیۓ بہن آپ زرا میرے بچوں کے بارے سوچ کر بولیں”۔۔انہوں نے سختی سے ٹوکا تھا۔۔
“مگر بھائی صاحب”۔۔
“ہیلو ایوری ون” زارون ہاتھ ہلاتا خوشگوار موڈ میں آیا تھا۔۔
“او ایم سو سوری میں بھول گیا تھا آج خالہ نے آنا ہے اسلام علیکم خالہ جان ایم رئیلی سوری مجھے ماما نے بتایا کل تھا مگر فرنڈز کے ساتھ زیادہ ہی بزی ہوگیا تھا ” زارون نے شینا کے سامنے جھک کر ان سے پیار لیا۔۔
“ہاۓ شانو” ۔۔ “ہاۓ زارون” شائنہ بھی ہاتھ ہلایا تھا۔۔
” سب لوگ اتنا سیریس کیوں بیٹھے ہوۓ ہیں ایوری تھنگ از اوکے”۔۔اب وہ کرسی پہ بیٹھا سب کے چہرے دیکھ رہا تھا۔۔
بیٹے سب تمہارا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔مام بس یاد نہیں رہا سارے فرینڈز مل گۓ تھے تو وقت گزرنے کا پتہ نہی چلا۔۔”
عالم صاحب بس اسے گھورتے رہ گۓ۔۔
“زری زوئی سے کہو میرے لیۓ چاۓ بناۓ بہت تھک گیا ہوں اوکے میں زرا فریش ہو کے آتا ہوں” ۔۔دس منٹ میں آپ کو جوائن کرتا” ۔۔
وہ زرتاج کے پاس ہو کر گزرا اور جاتے جاتے اسکی جو ٹیل پونی بنائی ہوئی تھی وہ اسے کھینچ کے گیا تھا زرتاج غصہ سے اسے گھورا تو آگے اسنے ایک آنکھ ونک کی تھی۔۔
“یہ سارا منظر شائنہ نے دیکھا تھا جس کا اسنے غلط ہی مطلب لیا تھا”۔۔باقی سب اپنی باتوں پہ مصروف تھے کسی دھیان نہیں گیا۔۔
“زری زارون چاۓ کا کہہ کے گیا ہے اور تم ابھی تک یہیں کھڑی ہو۔۔
جی تائی امی وہ کہتی چلی گئی تھی اور کچھ دیر میں عالم بھی اٹھ گۓ وہاں سے”۔۔
“سیما باجی معاف کرنا میں غصہ میں کچھ زیادہ بول گئی تھی”۔۔
” شینا آج بھی تم اتنی ہی جزباتی ہو جیسے پہلے تھی”۔۔
“باجی زارون مان جاۓ گا نا ہاں ہاں ضرور مانے گا تم فکر مت کرو” سیما نے اسے دلاسہ دیا تھا۔۔
شائنہ تو زارون کی شخصیت کے سحر میں ابھی بھی کھوئی دل ہی دل میں اپنی قسمت پہ رشک بھی کر رہی مگر زرتاج کے ساتھ اتنا فری ہونا اسے اچھا نہیں لگا تھا۔۔
