Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 36
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 36
زویا نے بہت ساری شاپنگ کی تھی روحان کیساتھ یہ چار دن انہوں نے بہت انجوائے کیا..
دن دس بجے کی فلائیٹ کا ٹائم تھا ..
وہ وقت پہ ہی ایئرپورٹ پہنچ چکے تھے.. اب اناؤسمنٹ ہو رہی تھی.. الوادع کا وقت آن پہنچا
“زویا رو کیوں رہی ہو کل تک اتنی ایکسائیٹڈ تھی.. اور اب ایسے کرو گی تو میں تمہیں پھر جانے نہیں دوں گا.. “
“مجھے جانا ہے”.. اسنے نفی میں سر ہلایا..
آپ کب آئیں گے”..
میں کچھ دنوں تک کام بہت ہے”.. اسکے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے تھامے وہ محبت سے دیکھ رہا تھا.. پھر آہستہ سے اسکے ہونٹوں کو اپنے لبو سے چھو کر پیچھے ہوا..
زویا نے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا..
“ہاہا .. یہ پاکستان نہیں ہے گھبراؤ نہیں”.. روحان نے اسکی گھبراہٹ کم کرنی چاہی..
پھر اسے اناؤسمنٹ ہوئی اب کے زویا کو جانا پڑا
روحان نے ہاتھ ہلاتا رہا اور وہ اسکی نظروں سے اوجھل ہوتی چلی گئی..
روحان کو لگا جیسے وہ سانس نہیں لے پارہا ہو.. کتنی. مشکل تھی یہ وسل کی گھڑیاں..
ایک آنسو اسکی آنکھ سے پھسلا تھا جلدی سے خود کو کمپوز کیا.. اور ایئرپورٹ سے باہر نکلا آیا..
🌹🌹🌹🌹
روحان گاڑی چلا رہ تھا اسکا دل بجھ سا گیا تھا.. پرانی یادیں تازہ ہونے لگی تھی زخم پھر سے ہرے ہونے لگے اپنوں سے دوری درد دینے لگی تھی.. ماں یاد آنے لگی تھی آپنی آنا کی آگ میں خود بھی جلتا رہا اور ساتھ اپنے سے جڑے رشتوں کو بھی سلگاتا رہا تھا.. اسنے ارادہ کیا کو سب کا ازالہ کرے گا..سب کچھ پہلے جیسا ٹھیک ہوجائے گا..
🌹🌹🌹🌹
” انتظار ہی نہیں ہو رہا اب تو زوئی بھابھی کا کب تک پہنچے گی”.. روحا نے بےچینی سے کہا
“آجائے گی زارون گیا ہوا ہے نا لینے کیلئے”.. اب کے سیما بولی.. رات کافی ہونے کو آئی تھی ..
صرف زارون ہی گیا تھا اسے ایئرپورٹ ریسیو کرنے کیلئے رات کافی تھی اسلیے بس زارون ہی گیا تھا اسنے کسی کو بھی ساتھ لےجانے سے صاف انکار کردیا تھا..
گاڑی کا ہارن بجا تھا.. زرتاج اور روحی باہر کو بھاگی تھی..
ابھی زویا گاڑی سے نکلی ہی تھی کہ دونوں جھپٹ گئی تھی اس کو..
“ارے پاگل لڑکیوں اسے اندر لے کر چلو کچومر نکالنا ہے کیا بےچاری کا”.. زارون نے کہا..
“تم ہو گے پاگل ” زرتاج نے تڑخ کے اسے کہا اور زویا کو لئے اندر کی طرف چل دی..
ایک ایک کر زویا سب سے ملی عالم صاحب سے پیار لیا سیما کے گلے لگی پھر اپنی ماں سے لپٹ گئی اپنے آنسوؤں پہ دونوں قابو نا اسکی تھی.
“ارے بھئی بچی تھکی ہوئی آئی ہے کچھ کھلاؤ پلاؤ.. ” عالم انہیں جذباتی ہوتا دیکھ بولے..
پہلے یہ بتاؤ میرا بیٹا کیسا ہے”.. کب آئے گا “..سیما روحان کا نام لیتے آبدیدہ ہوگئی..
“تائی امی روحان بلکل ٹھیک ہے بہت یاد کرتے ہیں آپکو”..اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ آئیں گے زری کی شادی سے کچھ دن پہلے” سیما کو تسلی دیتے زویا نے کہا..
اللہ کرے تم ٹھیک کہہ رہی ہو” سیما آنسوں پونچھتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ..
کچھ دیر بیٹھنے کے بعد عالم صاحب بھی سونے کیلے کمرے کی طرف چل دیے اور سفینہ بھی چلی گئی..
وہ کافی دیر باتیں کرتے رہے اب زارون کی بھی بس ہوئی..
“توبہ ہے لڑکیوں اتنا کون بولتا ہے میں تو چلا سونے” وہ انگڑائی لیتا چل دیا..
پھر وہ بھی کمرے میں آگئی ساری رات باتیں چلتی رہی ..
اگلے صبح دیر تک زویا سوئی رہی دن بارہ بجے اسکی آنکھ کھلی تھی..گھڑی پہ نگاہ گئی..” افف اتنی دیر تک سوتی رہی.. “
“گڈ مارننگ زویا بھابھی” ..روحا چائے لئے کمرے میں آئی.. “آٹھ گئی آپ چاچی نے کہا تھا آپکی اٹھا دوں”..
مسکرا کرسکی طرف دیکھا.. “تھینکس”.. وہ آنکھیں ملتی اٹھی تھی ..
منہ ہاتھ دھو کر وہ باہر آئی اور مگ اٹھایا.. “پتہ ہی نہیں چلا اتنی دیر تک سوتی رہی”..
“کچھ نہیں ہوتا اتنا سفر کرکے آئی ہیں تھک گئی ہو نا”..
“ہاں تھک تو واقعی گئی تھی اب ریلیکس فیل کررہی ہوں.. “
“اچھا اب شاور لیکر نیچے آجائیں میں ناشتہ بنواتی ہوں آپ کے لئے.. “
ہہم زویا نے مسکرا کر سر ہلایا..تو وہ چلی گئی
زویا نے بیگ سے کپڑے نکالے اور واشروم چلی ..
تیار ہوکر بیگ سے چیزیں نکالی جو لیکر آئی تھی سب کیلئے اور نیچے چلی آئی..
ماشاللہ “..سفینہ نے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرا سیما بھی پاس ہی بیٹھی تھیں..
“ہوگئی نیند پوری.. “
جی ماما.. ” وہ مسکرائی
“تائی امی روحان نے آپکے لئے شال لی تھی”.. زویا نے سب سے پہلے سیما کی طرف شال بڑھائی جسے اس نے تھام لیا تھا..
ماشاللہ میرے روحان کی پسند ہے تو اچھی ہے”..
ماما یہ آپکے لئے اور روحی یہ تمہارے لئے اور زری کہاں ہے.. “
جب دل کرتا ہے منہ اٹھا کر یونیورسٹی نکل پڑتی ہے شادی میں اب دن ہی کتنے رہ گئے کتنی بار کہا ہے سفینہ سے کے اب اسے گھر بٹھائے مگر وہ سنتی کس کی ہے”..سیما طنزاً بولی تھی..
اب تم ہی سمجھانا اسے میری تو ایک نہیں مانتی”.. سفینہ نے بے بسی کہا..
جی ماما میں سمجھاؤں گی اسے”..
زویا بھابھی تم ناشتہ کرلو پہلے پھر آنے دو اسے مل کے کلاس لیں گے اسکی مجھے تو کچھ سمجھتی ہی نئی”..
کافی دیر بعد وہ روم میں آئی تو موبائل بج اٹھا ..
اوہ روحان”.. جلدی سے کال اٹھائی..
اسلام علیکم”..
وعلیکم اسلام”.. محترمہ زرا فون پہ بھی نگاہ کرم کردیا کرو.. جاتے ہی تیور بدل گئے تمارے ” روحان کا پارہ چڑھ چکا تھا مسلسل آدھے گھنٹے سے وہ کال کررہا تھا..
زارون سے صبح ہی اسکی بات ہوگئی تھی اسکی کہ وہ زویا کو ایئرپورٹ لینے گیا تھا اور وہ خیریت سے پہنچ چکی تھی..
ایم سوری روحان ایسی بات نہیں ایکچولی میں دیر سے اٹھی تھی اور ناشتہ کرنے نیچے چلی گئی”.. زویا کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کہے..
ہہم بندا بتا ہی دیتا ہے کہ خیریت سے پہنچ گئی کہ نہیں مگر پرواہ ہی کسے ہے.. “خفگی سے کہا
بہت رات ہوگئی تھی اور پھر سب سے باتیں کرتے کرتے رات گزر گئی”.. زویا نے صفائی پیش کی
“ایک تم لڑکیوں کی کتنی باتیں ہیں جو ختم ہی نہیں ہوتیں.. اچھا میری میٹنگ کا ٹائم ہونے والا ہے پھر بات کروں گا”.. اور کال کٹ کردی..
وہ میری بات”..
افف بات کرکے بھی احسان ہی کیا ہے”.. وہ موبائل کو گھورتے ہوئے بولی
بہت کھلی کھلی سی لگ رہی تھی زویا..
ماشاللہ لگتا ہے روحان بھائی نے بہت پیار دیا ہے”.. زرتاج یونیورسٹی سے آئی گھر کے اندر داخل ہوتے ہی زویا پہ نظر گئی جو روحا سے کسی بات پہ ہنسی جا رہی تھی.. اور پاس بیٹھتی ہی بولی..
تم تو مجھ سے بات ہی نا کرو” اسکی طرف دیکھتے ہی زویا نے غصہ والے انداز میں کہا..
کیا ہوگیا ہے اب میں نے کیا کیا”.. کیا کہا ہے روحی تم نے زویا کو”.. زرتاج کا رخ روحا کی طرف تھا..
کیا کیا ہے تم نے یہ میں بتاتی ہوں اور خبردار جو تم نے روحی کو کچھ کہا تو”.. زویا تیوری چڑھاتے ہوئے بولی
“واہ نند بھابھی ایک ہوگئی”.. تالی مارتے کہا زرتاج نے..
“تم جاؤ کل سے یونی پھر دیکھنا ” وارن کرتے کہا زویا..
بٹ واۓ ؟زرتاج نے کہا..
یار شادی ہے تمہاری پارلر جاؤ کچھ خود پہ توجہ دو یہ کیا منہ اٹھا کے چل دی تم یونی..” اور ماما کو بھی پریشان کیا ہوا کل سے ماما کیساتھ بازار بھی جانا ہے شادی سر پہ ہے”.. تم تو جاؤ گی لہذا گھر بیٹھو”.. زویا نے اسے خوب لتاڑا.. وہ بس چپ کرکے رہ گئی..
,,,,,,,***
اگلے دن سے ہی شادی کیلے شاپنگ شروع کردی گئی تھی.. روز ہی بازاروں کے چکر لگ رہے تھے.. زویا نے ایک سے بڑھ کر زرتاج کے لئے جوڑے خریدے ساتھ ہی ساتھ ٹیلر کو بھی دے دیے گۓ میچنگ جیولری اور ساتھ کی سینڈلز بھی اور کچھ ضروریات کی چیزیں بھی..
زرتاج نے ایک پرسنٹ بھی دلچسپی نا دکھائی تھی.. زویا نے اسے اسکے حال پہ چھوڑنا مناسب سمجھا.
ایک دو بار وہ زبردستی پارلر بھی لے گئی..
..
🌹🌹🌹
زویا کی ایک ہفتے سے روحان سے بات بھی نا ہوئی
وہ رات کے وقت لان میں بیٹھی روحان کے ساتھ بیتے لمحات کو یاد کررہی تھی آج وہ بیٹھی سوچ رہی تھی روحان نے ابھی تک اسے کال نہیں کی تھی ایک دو بار خود سے بھی کال کی بس یا تو آفس میں بزی ہوتا یا سو رہا ہوتا.. پھر اسنے بھی دوبارہ سے کال نہیں کی..
“کہیں روحان اس چڑیل کے ساتھ.. “
“جو مجھے آگنور کررہے ہیں.. بس میرے جاتے ہی انہیں موقع مل گیا پھر سے اس کے ساتھ وقت گزارنے کا وہ بہت تیز عورت ہے پھر سے روحان کو اپنے قابو میں کرلیاہوگا.. “
کہیں روحان مجھے چھوڑ ہی نا دیں”.. اسکی باتوں میں آکر.. نہیں نہیں روحان مجھے دھوکا نہیں سکتے..” دھوکہ “.. وہ دے سکتے ہیں”..
گزری ہوئی باتیں جو وہ بھول گئی تھی پھر یاد آنے لگی کیسے روحان اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا.. کیسے اسنے کہا تھا اسکی زندگی میں اسکی کوئی جگہ نہیں
سوچوں میں بدگمانیاں بڑھنے لگی تھی ..
زویا کوئی ٹینشن ہے “اسے پریشان دیکھ کر زرتاج بولی تھی..
نہیں کچھ نہیں”..
وہ چائے لائی تھی اسکے لئے..
تھینکس” ..زیادہ سٹریس مت لو تم شادی کی تیاریوں کا تھک جاؤ گی.. زرتاج اسکے ساتھ بیٹھتی بولی..
ہہم وہ سیپ لیتے بولی
🌹🌹🌹
اگلے دن زویا نے پھر سے سوچا اسے کال کرنے کا
کال جا رہی تھی مگر روحان اٹھا نہیں رہا مسلسل تیسری کال پہ فون پہ اٹھا لیا گیا..
ہیلو.. ہیلو.. روحان..
مگر آگے سے کوئی نا بولا..
“روحان کیا ہوگیا ہے آپکو کیوں بات نہیں کررہے مجھ سے کیوں اگنور کئے جا رہے ہیں جب آپکے ساتھ رہ رہی تھی تو بڑا پیار نچھاور کئے جا رہے تھے..مجھے بہت یاد آرہی ہے آپکی آپ کے ساتھ بتایا ایک ایک لمحہ.. مجھے فکر ہورہی پلیز بات کریں..
زویا کی فون پہ باتیں سنتے آنکھیں پھیلی تھی جیسے جیسے زویا بولتی جا رہی تھی اسکے رونگٹے کھڑے ہوگئے..
پیچھے سے روحان نے اپنا فون ماریہ کے کان سے لگے دیکھا تو جھپٹا مارا تھا اپنے موبائل کو کھینچا تھا اسکے ہاتھوں سے اور فون کان کے ساتھ لگایا..
“ہیلو روحان آپ بول کیوں نہیں رہے مجھے باتیں کرنی ہیں آپ سے”.. روحان کا پارا ہائی ہوا تھا..
“شٹ اپ ” وہ دھاڑتے ہوئے بولا تھا.. “میں فارغ نہیں بیٹھا ہوا ہوں جب مجھے بات کرنی ہوگی میں خود ہی کروں گا”.. اور فون کاٹ دیا..
ماریہ روحان سے ملنے آئی تھی مگر وہ اس وقت میٹنگ روم میں تھا ایک ایمپورٹنٹ کررہا تھا.. تو ماریہ اسکے آفس میں جا کر بیٹھ گئی ..
کچھ دیر گزری تھی کہ روحان کا موبائل بجنے لگا تھا ماریہ نے پہلے دھیان نا اور وہ مسلسل بجتا رہا بالآخر ماریہ نے موبائل اٹھا کر دیکھ ہی لیا مگر نام دیکھ وہ ٹھٹھک گئی زویا..
تو اسنے بنا بولے کآل ریسیو کرلی…
فون کاٹنے کے بعد روحان ماریہ کو خونخوار نظروں سے گھورے جا رہا تھا..
“تمہیں کوئ مینرز نہیں کہ کسی کی غیر موجودگی میں اسکی چیزوں کو ہاتھ نہیں لگاتے”.. ایک ایک لفظ وہ چبا چبا کر بولا..
“مجھے مینرز مت سکھاؤ مسٹر روحان عالم ملک تم چیٹر ہو پکڑے گئے ہو.. ایک شادی شدہ لڑکی کیساتھ افیئر ہے “..
“میں تم سے یہ امید نہیں کرسکتے تھی.. “
“شٹ اپ ماریہ وہ لڑکی.. “
ماریہ اسکی بات سنے بغیر تیزی سے بھاگنے کے انداز سے نکلتی چلی..
افف”.. روحان نے کرسی پہ بیٹھتے اپنا سر ہاتھوں گرایا تھا…
دن رات ایک کئے ہوئے جلد از جلد اپنا کام ختم کرنا چاہتا تھا زرتاج کی شادی سے پہلے پہلے وہ اپنا کام نمٹا لے.. زویا سے بھی ٹھیک سے بات نہیں کرپارہا تھا..
ساری سوچوں کو جھٹکتا وہ فائل کھول کر بیٹھ گیا..
🌹🌹🌹
روحان نے جس انداز سے اس سے بات کی تھی وہ تو رو رو کے ہلکان ہو رہی تھی.. زویا کو یقین نہیں آ رہا تھا روحان کیسے اسکےساتھ یوں بیہیو کرسکتے ہیں..
“کیا واقعی روحان بدل گئے”..
وہ سارا اداس پھرتی رہی کسی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا ہر چیز سے دل اچاٹ ہوگیا تھا..
🌹🌹🌹
رات کو روحان تھکا ہارا گھر آیا تھا اوندھے منہ بستر پہ گرا تھا..
تھوڑی دیر لیٹے رہنے کے بعد پھر ہمت کرکے بیڈ سے اٹھا جیب سے موبائل نکالا زویا کو کال لگائی مگر نمبر آف تھا..” ہہم تو مسز ناراض ہوگئی.. مگر تمہیں بھی تو بے وقت ہی کال کرنا یاد آتا ہے”..
اٹھا وادروب سے کپڑے نکالے.. واشروم سے شاور لیکر باہر نکلا اب کافی ریلیکس فیل کررہا تھا پھر روحا کو کال لگائ جس نے پہلی بیل پہ ہی کال اٹھائی..
“اسلام علیکم حان بھائی کیسے ہیں آپ”.. روحا نے چہکتے ہوۓ پوچھا..
“ہاں ٹھیک ہوں اور تم سناؤ کیسی ہو”.. مام ڈیڈ سب.. “
“آل از ویل.. سب ٹھیک ہے”..
“کیسی چل رہی ہے شادی کی تیاریاں.. “
“بہت اچھی.. “
کچھ ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد زویا کا پوچھا..
“زویا کہاں ہے اسکا موبائل کیوں آف ہے”..
“ہہم تو سیدھا سیدھا بولیں نا زویا سے بات کرنی ہے یوں گھما پھرا کر بات کررہے ہیں”.. روحا نے شرارتی انداز میں کہا..
“اچھا تم نا گھماؤ کہاں ہے بات کرواؤ.. “
” اچھا بھائی ریلیکس.”.
وہ باتیں کرتی سفینہ چاچی کے کمرے تک پہنچی تھی.. کمرے میں آئی تو وہ کمبل تانے سوتی بنی..
” لو جی وہ تو آنکھیں بند کئے لیٹی ہیں.. “
زویا بھابھی.. “
مجھے تنگ مت کرو روحی سر میں بہت درد ہے ” اسنے آنکھیں بند کئے ہی کہا..
مگر زویا روحان بھائی ہیں بات کرنا ہے”.. روحا اسے بغوربغور جائزہ لیتی بولی جو ٹھیک نہیں لگ رہی تھی..
میں کہہ دیا نا روحا سر میں درد ہے”.. اب کہ آنکھیں کھولے اس نے آہستہ آواز میں کہا.. اسکی لال سوجھی ہوئی آنکھیں روحا کو وہ ٹھیک نا لگی..
“بھائی وہ زویا بھابھی کی طبیعت خراب ہے تو وہ سو رہی ہیں اٹھتی ہے تو میں آپکی بات کرواتی ہوں” معقول سا بہانا بنا کر روحا نے اسے ٹالا..
اچھا ٹھیک ہے پھر تم اسکا موبائل چارج پہ لگا دو ” روحان نے کہتے کال کاٹ دی..
اوکے”..
زویا بھابھی کیا ہوا ہے آپکو روئی ہو کیا”.. روحا پریشانی سے اسکے پاس بیٹھتی بولی..
کچھ نہیں بس نزلہ ا زکام ہے اور اسکے ساتھ سر درد ہے”.. زویا نے اصل بات چھپائی اسکے مزید سوالوں سے بچنے کیلئے..
روحان بھائی سے کوئی جھگڑا ہوا ہے انہوں نے کچھ کہا تم سے”.. روحا بچی تو نا تھی جو نا سمجھتی اسنے روحان سے بات نہیں کی..
ایسی بات نہیں.. “
تو پھر کیسی بات ہے آپ نے روحان بھائی کی کال کیوں نہیں سنی.. “
“کچھ نہیں نہیں روحی کہہ رہی ہوں نا طبیعت نہیں ٹھیک سر درد ہے نہیں بات ہو پائے گی”..
“اچھا بھئی ٹھیک ہے بتانا نہیں چاہ رہی الگ بات ہے”.. روحا نے آٹھ کر اسکا موبائل چارج پہ لگایا جو اوف تھا موبائل چارج پہ لگاتے بیٹری 50 پرسنٹ شو ہوئی مطلب کے جان بوجھ کے موبائل اوف کیا ہے.. روحا نے پھر اس سے کچھ نہیں کہا جب اس مطلق کچھ بتا نا نہیں تو باربار پوچھنے کا فائدہ نہیں..
..
🌹🌹🌹
آہ کرلو زویا میڈم نخرے اب میں بھی منتیں کرنے والا نہیں اب تو سیدھا آمنے سامنے بات ہوگی”.. پھر بتاؤ گا تمہیں میں اتنی سی بات کو پہاڑ بنا لیا ہے”.. فون کاٹتے ہی زویا کو تصور کیے بوا..
🌹🌹🌹
صبح سب ناشتہ کر رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ شادی کی تیاریوں پر بھی بات ہو رہی تھی.. عالم صاحب زارون سے میرج حال کی بکنگ کے سلسلے پہ بات کررہے تھے.. اور پھر سفینہ سے مخاطب ہوئے..
“سفینہ بہن آپکی تیاریاں مکمل ہوئی”…
“تقریباً مکمل ہیں بھائی بس کچھ ضروری چیزیں لینے والی .. وہ بھی ایک دو دن میں بس پوری ہوجائے گی”..
زویا بیٹا تمہیں کیا ہوا ہے “..عالم صاحب کی نظر زویا پہ گئی جو بس ویسے ہی بیٹھی تھی کھوئی ہوئی..
تھک گئی ہے تایا ابو ماما نے خوب بھاگ دوڑ لگائی ہے اسکی اس طرح شاپنگ کی جارہی ہے جیسے میں کسی ایسے سیارے پہ جا رہی ہوں جہاں مجھے کچھ ملنا ہی نہیں”.. بنا بریک لگائے زرتاج بولتی چلی گئی..
ویسے ٹھیک کہہ رہی ہے زری ایسے ہی زویا اپنے آپ کو تھکا رہی ہے اس احسان فراموش کیلئے” اب کے زارون بولا تھا..
زرتاج نے اسے آنکھیں نکالتے دیکھا “تم نا اپنی بکواس بند رکھا کرو.. “
ششش “.. سفینہ نے اسے مزید بولنے سے باز رکھا اور اشارے سے اسے چپ کروایا..
وہ میرا دل نہیں چاہ رہا کچھ بھی کھانے کو”.. وہ کہتی کرسی سے اٹھی اسے اپنا سر چکراتا ہوا لگا سر پہ ہاتھ رکھ وہ مڑی کہ سنبھل نا سکی اور گرنے لگی ہے زرتاج نے فٹا فٹ اپنی جگہ سے اٹھتے اسے سنبھالا..
زویا”.. زری نے اسکے گال تھپ تھپاۓ سب ہی پریشانی سے اٹھ کر اسکے پاس آئے..
زویا”.. اب زارون نے اسے سنبھالا اور اسے اٹھاۓ سفینہ کے کمرے میں چلا آیا سب ہی اسکے پیچھے تھے لاکر اسے بیڈ پہ لٹایا زرتاج نے اسے کمبل اڑھایا..
زارون بیٹے جلدی سے ڈاکٹر لے کر آؤ ” عالم صاحب نے پریشانی سے کہا زویا کو دیکھتے جو حوش و حواس سے بیگانہ ہوچکی تھی.. زارون بھاگنے کے انداز سے باہر نکلا..
….کچھ دیر میں ڈاکٹر بھی آگئی تھی جو اس وقت زویا کیساتھ کمرے میں تھی اور سفینہ بھی باقی سب کمرے کر باہر موجود تھے..
کافی دیر بعد ڈاکٹر باہر آئی..
“ڈاکٹر فرزانہ زویا کیسی ہے اب” زارون نے پوچھا سب بھی الرٹ ہوئے..
جی اب پہلے سے کافی بہتر ہے بی پی کافی لو ہوگیا تھا اور ویکنیس بھی ہے ٹینشن کی بات نہیں ہوجاتا اکثر ایسا اب آپ نے انکا بہت خیال رکھنا ہے”..وہ مسکراتے ہوئے بولی..
ڈاکٹر پریشانی والی تو کوئی بات نہیں ہے”.. عالم صاحب نے فکرمندی سے پوچھا.
جی نہیں عالم صاحب پریشانی والی بات نہیں ہے بلکہ اچھی خبر ہے.. آپ دادا بننے والے ہیں”.. ڈاکٹر فرزانہ نے مسکراتے ہوئے انہیں خوشی کی خبر سنائی..
سب نے شاک سے ڈاکٹر کو دیکھا پھر ایک دوسرے..
میں خالہ”.. زری نے آپنی طرف انگلی کرتے کہا..
میں پھپھو”.. روحی بولی..
“میں چاچا واؤ.. تو روحان کامیاب ہو ہی گئے مجھے چاچا بنانے میں.” آخری بات زارون نے بس دل میں ہی کہتے مسکرایا..
جاؤ زارون ڈاکٹر کو باہر تک چھوڑ کر آؤ.. “
روحا اور, زرتاج خوشی سے شور. مچاتے اندر بھاگی..
سیما تو ابھی بھی شاک سی بیٹھی تھیں..
ہاہا ہا.. مبارک ہو سیما بیگم دادی بننے والی ہو..
سیما کی آنکھیں بھر آئی تھی.. “عالم صاحب مجھے یقین ہی نہیں آرہا ہمارا روحان باپ بننے والا ہماری خوشیاں پھر سے لوٹ آئی..” ہمارا سونا آنگن آباد ہونے والا ہے.. “
سیما چلو آؤ اپنی بہو کو کو مبارکباد دیتے ہیں جس نے ہمیں زندگی کی سب سے بڑی خوشخبری دی ہے.. “
روحا اور زرتاج تو خوشی سے زویا کو چپک ہی گئی تھی..
واؤ زویا سو ہیپی”.. زرتاج نے اسے زور سے گلے لگایا..
آرام سے زری روحا نے اسے ٹوکا تھا..
اور خود اسکا ہاتھ پکڑے سامنے بیٹھ گئی..
“زویا بھابھی آپ نے شادی کی خوشی دوگنی کردی.. “
“مجھے تو یقین ہی نہیں ہو رہا..” روحا ہنستے کہا..
زویا مسکرائی اسے خود بھی یقین ہی نہیں آرہا تھا.. سفینہ نے پیار سے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا..” ماشاءاللہ ..اللہ تمہیں ہمیشہ خوش و آباد رکھے.. “
آمین سب نے دل سے کہا..
پھر سیما اور عالم صاحب کمرے میں داخل ہوئے تو وہ دونوں زویا کے پاس سے آٹھ گئی..
“مبارک ہو بھائی صاحب آپکو دادا بننے والے ہیں اور بھابھی آپکو بھی”..
“تمہیں بھی مبارک ہو سفینہ” سیما نے جوابا کہا..
“خیر مبارک” سفینہ نے خوش ہوتے کہا
“جیتی رہو” سیما نے زویا کے سر پہ ہاتھ پھیرا اور اسکا ماتھا چوما تھا..
وہ شرم سے سر جھکائے بیٹھی تھی..
“بہت شکریہ میرے بچے” عالم صاحب نے بھی اسکے سر پہ ہاتھ رکھا تھا..
“میں روحان کو بھی کال کر کے مبارکباد دیتی ہوں” سیما بولی..
” ارے سیما یہ اختیار ہم زویا کو ہی دیتے ہیں وہ خود ہی بتائے.. “
کیوں بچے”.. وہ زویا سے مخاطب ہوۓ..
“جی وہ جب آئیں گے تب ہی بتاؤ گی”.. زویا نے شرمسار ہوتے بڑی مشکل سے کہا..
“ٹھیک ہی جیسے آپ لوگوں کی مرضی” سیما نے خوشگوار موڈ میں کہا..
“ہاں بھئ یہ ٹھیک بہت تنگ کیا اسنے زرا اسے بھی تھوڑا تنگ کیا جائے”..
” سفینہ اور سیما دونوں زرا باہر آؤ بات کرنی ہے”.. جی کہتی وہ دونوں عالم صاحب کیساتھ باہر آئی..
“میں نے آپ دونوں کے یہ بتانا تھا کہ زرتاج کیساتھ زویا اور روحان کی بھی تمام رسمیں کی جائے گی.. مہندی اور رخصتی کی.. شاندار انداز میں.. “
“کیا یہ تو بہت اچھا مشورہ ہے آپکا پہلے کیوں نہیں بتایا میں کچھ تیاریاں رکھتی”.. سیما نے خوش ہوتے کہا..
“بس بتانا چاہ رہا تھا موقع اب ملا ہے یہ روحان کے کہنے پہ ہو رہا ہے جب میں نے اسے زویا کو بھیجنے کیلئے فون کیا تھا تب اسنے یہ شرط رکھی تھی اور زویا سے راز رکھنا تھا”.. یہ سرپرائز ہے زویا کے لئے “.. عالم صاحب نے تسلی سے ساری بات بتائی..
“بس خود ہی باپ بیٹے نے سب تہہ کرلیا آپس میں اور ہمیں اب بتایا جا رہا جب شادی سر پہ ہے..” سیما نے مصنوعی ناراضی لئے کہا..
ہ”اہا بھئی پورا ہفتہ ہے بڑے آرام سے ہوگا سب..” اور کیا تیاری کرنے ہے تم نے”..
عالم صاحب نے مسکراتے استفسار کیا
میرے بیٹے کی شادی ہے بہو کے لئے اچھے سے اچھا جوڑا لوگی شادی کا پھر زیور بھی”..سیما نے ساری چیزیں انگلی پہ گنوائی..
زارون کو ساتھ لو اور زویا کو بھی اور ایک دن میں سب لے آؤ جوجو چاہیے”.. عالم صاحب نے سارا مسئلہ ہی حل کردیا..
آج زویا ٹھیک نہیں کل چلے چلتے ہیں” سفینہ نے کہا تو سیما نے ہاں میں ہاں ملائی..
