Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 33
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 33
یوسف ہاؤس ولا میں منگنی کی تیاریاں عروج پہ تھی
منگنی کا دن قریب آتا جا رہا تھا مہمانوں کی فہرست چھوٹی رکھی گئی تھی بس خاص خاص لوگوں کو ہی مدعو کیا گیا تھا
🌹🌹🌹..
روحان بہت جلدی ریکور کررہا تھا ٹانگ کی چوٹ کافی حد تک سہی ہوچکی تھی جس سے وہ اسٹک کی مدد سے چل پا رہا تھا بازو کا پلاسٹر ابھی لگا تھا سر کی چوٹ میں بھی کافی بہتری آرہی تھی زویا کی محبت اور دن رات کی خدمت رنگ لا رہی تھی ہر دوسرے دن ڈاکٹرز سے باقاعدہ چیک اپ بھی کروایا جا رہا تھا یوں ایک ہفتہ میں اس نے کافی کورتھالیا تھا وہ جلد از جلد ٹھیک ہونا چاہتا تھا
..
ماریہ دو بار آئی تھی روحان سے ملنے مگر زویا اسکے آتے ہی کمرے میں بند ہوجاتی جب تک وہ چلی نا جاتی باہر نا نکلتی اور پھر سے اسکا موڈ بگڑ جاتا تھا ماریہ کی وجہ سے بڑی مشکل روحان نے اسے منایا..
🌹🌹🌹..
آج منگنی کا دن بھی آگیا مہما ن بھی پہنچ رہے تھے شہانا پھپھو اور عمار بھی صبح کے آچکے تھے
..
عمار نے زرتاج کو تنگ کرنے ایک موقع بھی ہاتھ سے نا جانے دیا تھا
..
اف سب ہی سنگل سے ڈبل ہوتے جارہے ہیں اور ایک” بیچارے ہم ہی ہیں کوئی سن ہی نہیں رہا زرتاج پاس سے گزر رہی تھی کہ عمار نے پھر سے سدا لگائی زارون بھی پاس ہی تھا اور روحا بھی”
..
میں صبح سے برداشت کررہی ہوں تمہاری یہ بدتمیزیاں” اب اگر اور کچھ کہا نا ایک لگاؤں گی سنگل سے بھی آدھے ہوجاؤ گے” زرتاج تپ کر بولی
..
خدا کا خوف کرو بندی کیوں مجھ بیچارے غریب کے پیچھے پڑ گئی ہو..میں تو زارون بھائی سے بات کررہا تھا تم ہر بات اپنے پہ لے لیتی ہو”..
اور یہ اپنا ہاتھ دیکھا ہے تم نے.. یہ ڈھائی کلو کا ہاتھ” کسی پر پڑتا ہیں نا تو آدمی اٹھتا نہیں اٹھ جاتا ہے.. انڈین ایکٹر کی نکل اترتا ہوا ایکٹنگ کرتا بولا.. زرتاج غصہ سے اسکی طرف بڑھی تھی عمار زاروں کی طرف بھاگا اور اس کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہوۓ بولا..
بھائی جان بھائی جان بچالیں بچالیں اس بلا سے مجھے”..
“تم بچ کر دکھاؤ مجھے.. وہ جوتا ہاتھ میں ہلاتی بولی..
ارے میں تو زارون بھائی کو بول رہا تھا انکی بھی تو” منگنی ہوئی ہے نا
“..
تمہیں میں بتاتی ہوں” زارون بیچ میں اور وہ دونوں اسکے گول گول گھوم رہے تھے ..سفینہ وہیں چلتی آرہی تھی اور دوسری طرف سیما بھی.. یہ الگ ڈرامہ لگا ہوا ہے سے صبح سیما چڑ کر بولی
..
عمار اس سے بچتا کبھی اس طرف تو کبھی اُس طرف
زری رک جاؤ” زارون اسے روکتے ہوئے”.. ایک دم سے عمار نے زارون کو دھکا دیا تو وہ زرتاج کیساتھ جا ٹکرایا..
زارون نے بڑی مشکل سے اپنا بیلنس سنبھالتے خود کو اور زرتاج کو گرنے سے بچایا زارون نے پوری طرح دونوں بازؤں سے زرتاج کو اپنے حصار میں لیا ہوا تھا اس اچانک افتاد پہ زرتاج بھی گھبرا گئی تھی اس لئے اپنا توازن برقرار نا رکھ سکی مگر زارون نے اسے پوری طرح سنبھال لیا تھا اور گرنے سے بچایا.. گرنے سے سنبھلتے ہی دونوں ایک دم سے ایک دوسرے سے دور ہوۓ
..
بچوں شام ہو رہی ہے جلدی کرو تیار ہو”.. سفینہ نے جلدی سے بات بدلی سیما کو دیکھ جن کے چہرے کا رنگ یہ منظر دیکھ کر بدل چکا تھا مگر ان دونوں کی بھی کوئی غلطی نہیں تھی
..
وہ چاچی بس بیٹیوشن آنے والی ہے”.. روحا نے جلدی زرتاج کا ہاتھ تھام اسے کمرے کی طرف لے کر چل دی..
زارون بھی لان میں فنکشن کی اریجمنٹ دیکھنے چل دیا..
دماغ خراب ہوگیا ہے یہ بچوں کا بڑے ہوگۓ ہیں مگر شرارتوں سے باز نہیں آتے” سیما بڑبڑاتے چل دی.. سفینہ بھی سکھ کا سانس لیتی کچن کی طرف بڑھ گئی
..
مہمانوں کی آمد بھی جاری تھی..
کچھ دیر میں سیما کی بہن اور شینا اور اسکی بیٹی شائنہ بھی آگئی تھی
..
وہ دونوں اس وقت سیما کے ساتھ بیٹھی تھیں.. شائنہ ادھر ادھر نظریں دوڑا رہی تھی اسکی نظریں زارون کی متلاشی تھی جب نظر نا آیا تو پوچھ بیٹھی
..
آنٹی وہ زارون کہاں ہے
“..
وہ اپنے کمرے ہے تیارہورہا ہوگا”.. سیما نے جواب دیا
اوکے میں اس سے مل لیتی ہوں”.. شائنہ جلدی سے کہتی جانے لگی
..
روکو شائنہ وہ اس وقت کمرے میں اکیلا ہوگا تمہارا جانا مناسب نہیں”.. سیما کو مناسب نا لگا
آنٹی آپ شاید بھول رہی ہیں ہماری انگیجمنٹ ہوئ ہے کچھ نہیں ہوتا” شائنہ اسکی بات کی نفی کرتی چلی گئی
..
جانے دیں باجی یہ ہمارا دور نہیں”.. شینا نے بیٹی کی سائیڈ لینا چاہی
..
شینا تمہاری بیٹی نے میری بات نہیں مانی.. بات دور کی نہیں ہے.. یہی بات اگر زویا یا زری کو کہوں تو فوراً کہا مانتی ہیں بنا آگے کچھ بولے
“..
بس کریں باجی آپ میرے سامنے تو سفینہ کی بیٹیوں کی تعریف نا کریں زویا بن گئی ہے نا آپکی تابعدار بہو تو زرتاج کو بھی بہو بنالیتی میرے پاس کیوں آئی” شینا برا سا منہ بناتی بولی..
شینا تم میری بہن ہو میری پہلی ترجیح تم ہو”.. میری باتوں کو بجائے سمجھنے کے تم غلط سمجھ رہی ہو
“..
میں تو اتنا کہنا چاہتی تھی کہ شائنہ زارون کے کمرے میں نا جائے ہوسکتا ہے اسے اچھا نا لگے یوں اسکے کمرے میں چلے جانا اور گھر میں مہمان بھی ہیں اچھا نہیں لگتا لوگ کیا کہیں گے تمہاری بیٹی کے بارے میں” سیما اسے اپنی بات طریقہ سے سمجھاتے ہوئی بولی
..
چھوڑیں نا ان باتوں کو بچے پاس آئے گے تو ہی سمجھے گے نا ایک دوسرے کو”.. سیما کی باتوں اثر نا لیتے اپنی کہی تو سیما نفی میں سر ہلاتی رہ گئی
..
کچھ دیر بعد سفینہ بھی تیار ہوکر سب مہمانوں سے ملتی ان دونوں بہنوں کے پاس آئ اور بڑے اخلاق سے شینا سے حال چال کیا مگر شینا اسے دیکھ کر رہ گئی.. سفینہ ہلکا بادامی رنگ کا سوٹ پہنے جس پہ نفیس سی ہلکی سی کڑھائی ہوئی تھی اسکی گوری رنگت پہ خوب جچ رہا تھا بیوہ ہونے اور دکھوں نے اسکی خوبصورتی کو مانند کردیا تھا
..
اسکی خوبصورتی پہ ہی اکرم مر مٹا تھا اور شینا کو چھوڑ کر سفینہ کا انتخاب کیا تھا
..
سفینہ اس سے مل کر جا چکی تھی مگر شینا کی نظروں نے اسکا دور تک تعاقب کیا
🌹🌹🌹🌹 ..
زارون اپنے کمرے میں تیار ہو رہا تھا کاٹن کا وائٹ کڑک سوٹ پہنے وہ مرر کے آگے کھڑا اپنا جائزہ لے رہا ایک دم دروازہ کھلا اور شائنہ دندناتی ہوئی اندر چلی آئی زاروں نے جلدی سے قمیض کے بٹن بند کئے
..
یہ کیا طریقہ ہے شانو کسی کے کمرے میں آنے کا تمہیں مینرز نہیں ناک کرکے آتے ہیں”.. زارون اپنے غصہ کنٹرول کرتا بولا.. اسے زرا پسند نا آیا شائنہ کا اسکے کمرے میں منہ اٹھا کر چلے آنا
..
اوہ کم آن زار کیسی باتیں کررہے ہو آخر کو اس کمرے میں مجھے ہی تو آنا ہے”.. شائنہ دو چار قدموں کو فاصلہ سمیٹ کر اسکی طرف دیکھتی بغیر اسکی باتوں کا کوئی اثر لئے بڑی ڈھٹائی سے بولی
یہ بعد کی بات ہے بعد میں دیکھی جائے گی پلیز ابھی جاؤ یہاں سے مہمان آئے ہوئے ہیں تمہیں یہاں میرے ساتھ دیکھیں گے تو کیا سوچے گے
“..
پلیز زار تم دیکھتے ہی نہیں میری طرف اب تک تم مجھے اگنور ہی کرتے رہتے ہو..” وہ مصنوعی ناراضی سے منہ بناتی اسکے سینے پہ سر رکھتی بولی بولی…. اس بے باکی پہ زارون حیران ہی رہ گیا تھا..
اسےبازؤں سے تھام کے خود سے الگ کیا..
میں کونسا عجیب بات کردی جو یوں ری ایکٹ کر رہے ہو
اسکے ایکسپریشن دیکھ وہ بولی
..
اچھا نیچے جاؤ پلیز میں آریا ہوں وہ بال بناتا بولا اور..
وہ منہ بناتی چل دی
ہہم کہاں سے بلا پیچھے لگ گئی کہیں روحان کی تو بدعا نہیں لگ گئی خود سےبڑبڑاتے ویسکوٹ پہننے لگا
🌹🌹🌹🌹..
ماشاللہ زرتاج پنک کلر کی فراک پہنے جس پہ گولڈن نفیس سا کام ہوا تھا لائٹ میک اپ کئے ہلکی سی جیولری پہنے اپسرا ہی لگ رہی تھی..ارم نے اسکی تعریف کی..
روحا تو اسے دیکھتے ہی واری جانے لگی
ماشاللہ زری تم کتنی پیاری لگ رہی ہو”
زرتاج نے صرف مسکرانے پہ اکتفا کیا
روحا نے بھی اسکا ہم رنگ سوٹ پہنا تھا مگر اس سے تھوڑا مختلف تھا.. وہ ہلکا سا میک اپ کئے بہت پیاری لگ رہی تھی
اچھا زوئی بھابھی کا ویڈیو کال کروں انہوں نے کہا تھا جب تیار ہہوجاؤ تو کال کرنا کہتی فون اٹھا کر کال لگانے لگی”
اس وقت رہنے دو سوگئی ہوگی”.. زرتاج نے اسکا فون نیچے کیا جو اسنے کال کے لئے اٹھا تھا
نہیں زری وہ جاگ رہی ہے ابھی تھوڑی دیر پہلے میسج آیا ہے اسے موبائل پہ میسج دکھاتی بولی
دوسری طرف زویا نے بھی پوری تیاری کی ہوئی تھی فنکشن کے حساب سے پیچ کلر کی کام والی فراک پہنے سوفٹ سا میک اپ کئے بیٹھی تھی اور بس گھر کا ہی سوچے جا رہی تھی کہ وہاں کیا ہو رہا ہوگا روحان کے برابر میں بیٹھی سوچوں میں گم بیٹھی تھی ایک نظر روحان پہ ڈالی جو اپنی دنیا میں مگن گھوڑے بیچ کر سویا ہوا تھا پھر روحا کو میسج کیا کال می کا مگر جواب نا آیا.. کچھ دیر گزری اور روحا کی ویڈیو کال آگئی..
ہائے”.. ہاتھ ہلا یا زویا نے تو اور زرتاج کی بلائیں لینے لگی جو بہت پیاری لگ رہی تھی..
تھوڑی ہی دیر میں لڑکے والے بھی کچھ اور رشتہ داروں کو ساتھ لیے آئے
دروازے پہ انکا سب نے اچھا استقبال کیا زارون بھی ارحم کے بغل گیر ہوا اور اسے ساتھ لئے اسٹیج تک آیا
ارحم نے وائٹ شلوار کمیض پہ کالی ویسکوٹ پہنے گندمی رنگت میں جاذب ننظر آریا تھا
اسکی نظر تو اپنی دلہن کی متلاشی تھیں
لان بہت خوبصورتی کیساتھ لائٹوں سے سجایا گیا تھا اور سٹیج بھی بنایا گیا تھا
سب مہمان اس وقت لان میں موجود تھے
زارون کچھ کام کے سلسلے گھر کے اندر داخل ہوا ..اسے دیکھتے پیچھے شائنہ بھی آئی
زارون سامنے زرتاج کو سجا سنورا دیکھ ٹھٹھک کر رہ گیا وہ تو کوئی اپسرا ہی لگی تھی اسے ..آہستہ آہستہ چلتا اس تک آیا تھا
زرتاج نے اسے دیکھتے سر جھکا لیا تھا
ماشاللہ”.. زارون نے کہتے ہی اس کے سر پہ ہاتھ رکھا تھا
بہت پیاری لگ رہی ہو جیسے پری”.. زارون نے دل سے تعریف کی.. شائنہ پیچھے کھڑی کڑھ کے رہ گئ میں “تو اچھی نہیں لگی اب تک اسے” بس دل میں سوچ سکی
امید کرتا ہوں ہمارا فیصلہ تمہارے بھلے کیلے ہو”
روحا اور سفینہ زرتاج کیساتھ کھڑی تھی
..
اللہ میری بیٹی کے نصیب اچھے کرے سفینہ نے سر پہ” پھیرتے اسے دعا دی تھی
..
آمین” زارون نے کہا اور پھر زاروں زرتاج کو ساتھ لیے باہر آیا تھا روحا اور سفینہ بھی ساتھ ساتھ لئے چلتی سٹیج تک آرہی تھی زارون پیچھے ہی رک گیا تھا جبکہ وہ اسٹیج پہ پہنچ چکی تھی ارحم زرتاج کو دیکھ کھڑا ہوا تھا اسے تو حسن کی شہزادی لگی تھی .. اپنی قسمت پہ رشک آنے لگا تھا.. انکے ساتھ آۓ سب مہمانوں نے لڑکی کی تعریف کی
..
ماشاءاللہ بہو تو بہت پیاری ہے تمہاری ان میں ایک خاتون نے صائمہ (ارحم کی والدہ) سے کہا..
میری پسند ہے یہ لڑکی عقیلہ پھپھو فٹ سے بولی ساری داد وصولنے کیلے..
صائمہ نے مسکرانے پہ اکتفا کیا..زرتاج اور ارحم کو ایک ساتھ صوفہ پہ بیٹھایا گیا..
منگنی کی رسم شروع کی گئی پہلے ارحم نے ہاتھ بڑھایا انگوٹھی پہنانے کیلے
..
زرتاج نے بمشکل کانپتا ہاتھ اسکے آگے کیا جسے ارحم نےتھام لیا تھا اور مسکراتے اس کی انگلی میں انگوٹھی پہنائی.. اب باری زرتاج کی انگوٹھی پہنانے کی تھی..
اسکی ماں نے اسکے سامنے انگوٹھی کی جسے اسنے بڑی ہمت کرکے اٹھائی
..
ارحم نے اپنا بایاں ہاتھ آگے کیا انگوٹھی پہننے کیلے..
زرتاج نے جلدی سے انگوٹھی اسکی انگلی میں ڈالتے ہی ہاتھ پیچھے کھینچ لیا
..
ہر طرف تالیوں کی گونج تھی..
روحا نے سارے مناظر ویڈیو پہ زویا کو دکھا رہی تھی ..
پھر فوٹو سیشن کا دور شروع ہوا تھا ہر کوئی آیا تھا ساتھ فوٹو کھنچوانے
..
زرتاج کو چڑھ چڑھ کے غصہ آرہا تھا ایک مہمانوں پہ دوسرا ارحم پہ جو بغیر کسی کی پرواہ کئے اسے بس گھوری جارہا تھا
..
زویا کی بولنے کی آواز پہ روحان کی آنکھ کھلی جو ویڈیو کال پہ گپے ہانک رہی تھی
..
اسے یوں تیار ہوا دیکھ اسے عجیب سا لگا..
تم آدھی رات کو کس کے ولیمہ پہ جا رہی ہو جو یوں تیار ہوئی بیٹھی ہو..
وہ آنکھیں مسلتا ہوا بولا
..
حد ہے بھئی زری کی انگیج ہو رہی ہے اور میں نے انہیں ساتھ جوائن کیا ہوا ہے یہ دیکھیں
“..
زویا نے اسکے سامنے موبائل کیا جہاں منگنی کے فنکشن کے مناظر چل رہے تھے.. اور کال کٹ گئی..” تو اتنا تیار تو ایسے ہوئی ہو جیسے تمہارا ولیمہ ہے”..
روحان نے جان بوجھ کر اسے چھیڑا
..
میرا تو ولیمہ ہوا ہی نہیں”.. زویا نے معصومانہ جواب دیا..
اچھا تو ابھی ولیمہ منا لیتے ہیں” روحان اسکا بازو کھینچ کر اسے اپنے اوپر گرایا
..
روحان چھ..چھوڑے میرا میک اپ خراب نا کریں میں نے منگنی کے سارے موومنٹ انجوائے کرنے ہیں پلیز”..
ملتجی نظروں سے اسے دیکھنے لگی.. اسکا خوبصورت چہرے پہ نظریں جمائے جو حیا سے لال ہوچکا تھا اسکے کان کے پاس سرغوشی کی ” نو سب پہلے تمہارا شوہر ہے اور اسے انجوائے کرنے دو یہ مومنٹ”. کہتے ہی اسکے گلابی ہونٹوں پہ جھکا اور جھکتا چلا گیا
..
🌹🌹🌹🌹
.اس وقت اسٹیج پہ کوئی نہیں تھا اور موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ارحم نے زرتاج کا ہاتھ تھام لیا تھا..
جس پہ زرتاج چونک کر اسے دیکھا.. اور کڑے تیوروں سے اسے گھورا
…
اس پہ غصہ والی کیا بات ہے اب اتنا تو حق بنتا ہی ہے نا”.. ارحم ہلکا سا اسکی طرف جھک کر بولا
ہاتھ چھوڑو میرا”.. آہستہ آواز میں زرتاج دانت پیستے بولی
..
چھوڑنے کیلے تو نہیں پکڑا اور اب یہ ساری زندگی میرے ہاتھ میں رہے گا.. بڑے آرام سے کہا گیا
..
زرتاج کا بس نہیں چل رہا تھا اسکا سر پھوڑ دے..
مہمان کا لحاظ رکھے بیٹھے تھی ورنہ اسے ابھی باہر اٹھا کر پھینک دے
..
ہہم واہ سامنے کا منظر دیکھ کر شائنہ بولی جو زارون کیساتھ کھڑی تھی اچانک سے زارون کی بھی نظر سامنے اسٹیج پہ گئی تھی جہاں ارحم زری کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا..
واؤ لو برڈز دیکھو کیسے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے بیٹھے ہیں انہیں نہیں خیال سب کا ایک بس تم ہی ہو جسے میرے علاوہ سب نظر آتے ہیں
“..
شائنہ نے بھی موقع پہ فائدہ اٹھا کر کہا تھا..
“اپنی حد میں رہو ابھی صرف منگنی ہوئی اتنا مت پھیلو زرتاج نے جھٹ سے ہاتھ اسکے ہاتھوں سے کھینچ کر نکالا
..
جب موقع آئے گا تو پورے حق سے تم پہ حق جتاؤں گا” پہلے سامنے دیکھا پھر اسکی طرف جھک کر بات مکمل کی اور چلا گیا.. شائنہ نے شرم سے نظریں جھکا لی تھیں
اور جاتا ہوا دیکھنے لگی اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں پہ ہاتھ رکھا تھا..
آئی نیور مس یو زارون”.. خود سے بڑبڑائی
..
رروحا اور عمار بھی اسٹیج پہ چڑھ آئے تھے.
اہہم” ..
میٹ ماۓ سیلف عمار ارحم کے برابر والی کرسی پہ بیٹھتے عمار نے اپنا تعارف کروایا..
ارحم نے مسکراتے ہاتھ ملایا
..
یہ ہماری پھپھو کا بیٹا ہے”.. روحا نے زری کیساتھ بیٹھتے مزید معلومات میں اضافہ کیا
..
ویسے یہ والے کزن خطرناک ہوتے ہیں”.. ارحم نے انگلی سے عمار کی طرف اشارہ کرتے مزاق اڑایا
..
تو روحا کھی کھی کرتے ہنس دی یہ” تو بلکل رائٹ کہا آپ نے
“
اچھا جی دیکھ لوں گا میں تمہیں بعد روحی کی بچی بجاۓاسکے کے اپنے کزن کی عزت کرواؤ الٹا حریفوں سے جا ملی”.. ڈیٹس ناٹ فئیر عمار نے کہا..
زرتاج بس خاموش رہی کچھ نوک جھوک یونہی چلی..
خیر خیریت سے منگنی کا اختتام ہواا..
تقریب ختم ہوتے سب تھکن کے باعث اپنے کمرے میں تھے..
روحا پانی لئے تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہی سادہ سی سفید شلوار قمیض پہنے پونی ٹیل بنائے..
جب اچانک اسکی لہراتی پونی کسی کے ہاتھ میں آگئی..
آہ درد سے کراہی سامنے کھڑے شخص کو دیکھ غصہ سے ناک سکیڑی
عمار کے بچے چھوڑو میرے بال”..
نہیں چھوڑو تو کیا کروگی”
تو میں”.. روحا کی بات بیچ میں کاٹتا بولا
تو میں کیا بولو ہاں تم بھول رہی ہو شاید میں بہت خطرناک وال کزن ہوں”..
تو روحا کے دماغ کی گھنٹی بجی اوہ تو اب تک اسی بات کو لئے بیٹھے ہو.. بال تو چھوڑو میرے”.. عمار نے بال چھوڑ دیے..
“بھئی وہ تو جسٹ مزاق تھا اور تم تو سیریس ہوئے بیٹھے ہو.. “
“یار تمہیں اپنے کزن کو ڈیفنڈ کرنا چاہیے تھا نا کہ اریٹیٹ “وہ مصنوعی ناراضی دکھاتا بولا..
“اچھا نا سوری اگر تمہیں میری بات لگی ہے تو” وہ معصومیت سے کان پکڑتی بولی تو عمار ہنس دیا تھا..
روحا کا دل زور سے دھڑکا تھا اور وہاں سے نکل گئی جلدی سے..
کمرے میں آئی تو دل تھام کے رہ گئی سوۓ ہوۓ جذبات پھر سے ابھرنے لگے..” زری سوگئی ” روحا بولی کمرے میں آئی تو وہ کروٹ لئے لیٹی تھی..
” ہہم” ..اسنے بس ہنکار ہی بھرا
” کیا ہوا ہے یار کیوں سوگ منا رہی ہو یار لوگ اپنی منگنی پہ اتنا خوش ہوتے ہیں اور ایک تم کہ بسس.. شانو کو دیکھا تھا پورا ایونٹ بس بھائی کیساتھ چپکی رہی..”
” روحی پلیز تنگ مت کرو ورنہ میں کہیں اور جا کر سو جاتی ہوں” اسکی باتوں سے تنگ آکر وہ بول پڑی..
” اچھا.. حد ہے ویسے سڑتی رہو”.. روحا بھی غصہ ہوئی لائٹ اوف کرکے اپنے بیڈ پہ لیٹ گئی اور فون یوز کرنے ساری پکس زویا کو سینڈ کرنے جو کب سے آف لائن ہو چکی تھی..
اگلی صبح زویا واشروم سے نہا کر نکلی
اپنے موبائل کا خیال آیا روحی کیا سوچ رہی ہوگی اچانک ہی اوف لائن ہوگئی..
موبائل اٹھانے کیلے بیڈ کے پاس گئی تو سوۓ روحان پہ نظر گئی جو سوتے ہوئے بے حد معصوم لگ رہا تھا رات کا سارا منظر اسکی آنکھوں کے گرد گھوما تھا.. تو شرمادی
موبائل اٹھاۓ وہ کمرے سے باہر آئی روحان ڈسٹرب نا ہو..
روحا ڈھیر ساری پکس بھیجی ہوئی تھی روحی بھی نا اتنی پکچرز لی ہیں پکس میں سب موجود تھے.. تصویریں دیکھ کر وہ اداس ہوگئی تھی سب یاد آنے لگے تھے..
” زویا”… روحان کی آواز پہ وہ چونکی اور جلدی سے کمرے میں گئی..
” کیا ہوا.. “
” کچھ نہیں تم نظر نہیں آئی نا تو پریشان ہوگیا.. “
” حد ہے میں یہیں ہوں اچھا اب آپ اٹھ گئے ہیں تو فریش ہوجائیں میں جوس بناتی ہوں آپ کے لیے”.. کہتے الماری کی طرف بڑھی اس کے کپڑے نکال کر سامنے رکھے..
” اٹھیں بھی اب مجھے کیا دیکھ رہے ہیں” ..
وہ بیڈ سے اٹھ کے اسکے پاس آیا..
” تم میرے سامنے رہا کرو بس اچھا لگتا ہے” اسکے دائیں رخسار پہ ہاتھ رکھ خماری کے عالم میں کہا اور دوسری گال پہ بوسہ دیتا واشروم چلا گیا..
” کمال شخص ہے پہلے قریب نہیں آنے دیتا تھا اب دور نہیں جانے دیتا ہے” وہ سوچتی کچن میں چلی گئی ..
