Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 43
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 43
کھانے کے بعد سب آپنے کمروں میں جا چکے تھے..
بس زرتاج ہی باہر تھی.. زارون کے ہوتے ہوئے کمرے میں جانا.. یہ اسکے لئے ناممکن تھا.. آج اسنے تہیہ کرلیا تھا کہ وہ نہیں جاۓ گی اس کے روم میں اسکی شام والی کی گئی حرکت اور کھانے کو دوران معنی خیزی باتیں.. اس سے گھبراتے وہ نہیں گئی..
تم ابھی یہیں ہو کھڑی ٹائم دیکھو زرا بارہ بجنے کو آۓ ہیں.. “
پیچھے سے سیما کی تیز آواز اسکی کانوں میں پڑی.. تو گھبرا گئی…
” تائی میں پا پانی لینے آئی تھی.. “کوئی بہانا سجھائی نا دیا تو فٹ سے پانی کا بہانا بنایا..
اچھا تو تمہارے ہاتھ میں پانی تو نہیں ہے.. “
اسکا جھوٹ پکڑتے بولی..
“وہ میں نیچے آگئی مگر جگ لانا بھول گئی پانی لانے کیلے.. ” جلدی سے کہتی سیڑیاں چڑھ گئی..
سیما سر ہلاتی چلی گئی..
اوپر آتی ایک نظر دروازے کی طرف ڈالی اور آگے بڑھ گئی..
اپنے اور روحا کے مشترکہ کمرے میں چلی گئی ..
کمرہ خالی تھا.. کل اس نے روحا کو اچھا خاصہ ڈرا دیا تھا .. اس لیے وہ آج اپنے کمرے کے بجائے سفینہ چاچی کے کمرے میں ہی سو گئی..
زرتاج خوش ہوتے ہوئے اپنے بیڈ پہ آرام سے کمبل تان کے لیٹ گئی..
کتنے دن سے ٹھیک سے سو نہیں پائی تھی ..اور اپنے بیڈ لیٹتے ہی پرسکون ہوتے سو گئی..
…
زارون کافی دیر رات تک زری کا انتظار کرتا رہا مگر وہ آنے سے رہی.. اور اسکی آنکھ لگ گئی..
رات گئے اسکی آنکھ کھلی تھی ٹائم دیکھا تو گھڑی کی سوئیاں دو بجا رہی تھیں.. بیڈ کی دوسری سائیڈ ہاتھ مارا تو وہ جگہ خالی تھا..
“یہ کہاں گئی”فورن سے اٹھ بیٹھا..
اور کمرے سے باہر نکل آیا نیچے آیا تو ہر طرف اندھیرا تھا..
“زارون”عقب سے سفینہ کی آواز آئی تو اسکی طرف مڑا..
چاچی آپ “ٹھیک ہیں…
“یہی بات تو میں تم سے پوچھ رہی ہوں تم اس وقت “یہاں..
وہ چاچی میں.. پانی.. “پانی پینے آیا تھا.. “
زری کہاں ہے”..وہ کھوجتی نظروں سے پوچھنے لگی..
“وہ.. وہ تو سو رہی تھی میں نے اسے ڈسٹرب نہیں کیا اس لیے خود ہی سوچا پانی پی آؤں.. “اصلی بات وہ چھپا گیا..
اچھا تو اس نے نہیں پانی رکھا تھا کمرے میں” بڑی ہی بےپرواہ ہے.. “سفینہ زری کو کوستے ہوئے بولی..
ہاں بہت ہی “بے پرواہ ” ہے زارون بس سوچ سکا تھا..
آپ چاچی اس وقت آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے. ” زارون بات بدلتے ہوئے بولا..
“ہاں میں تو ٹھیک ہوں روحی کو بخار ہے ” وہ میرے کمرے میں ہے اسے ابھی دوائی دی ہے سوچا کچھ کھلا بھی دوں ساتھ.. “
کیا ہوا روحی کو میں دیکھتا ہوں.. زارون فکر مندی سے بولا..
‘ارے بیٹا فکر نا کرو بخار ابھی کم ہے ضرورت پڑی تو صبح دکھا دیں گے ڈاکٹر کو ابھی اسے آرام کرنے دو میں نے دوا دے دی ہے.. ” سفینہ تحمل سے کہتی چل دی..
زارون کو اب سمجھ آیا کہ زرتاج کہاں ہوگی..زارون کو اس پہ تپ چڑھی تھی ..جلدی سے سیڑیاں پھلانگتے وہ اسکے کمرے تک جا پہنچا اور اسکے سر پہ جا کھڑا ہوا.. جو بڑے ہی پرسکون ہوتے سو رہی تھی..
“اوہ تو میڈم میری نیندیں اڑا کر یہاں مزے سے آرام فرما رہی ہے.. “اسے آرام سے اپنی بانہوں میں بھر لیا تھا..
اور اپنے کمرے میں آتے اسے بیڈ پہ لٹایا.. “افف بڑی بھاری ہے.. “
کمرے کا دروازہ لاک کرتے وہ دوسری سائیڈ پہ آتے اس کے قریب لیٹا..
اور غور سے اسکے چہرہ کے نقش دیکھنے لگا تھا.. جو غصہ اسکے کمرے میں نا آنے کا تھا وہ اسے اپنے پاس دیکھتے بھک سے اڑ گیا تھا ..
نظر اسکے گلابی ہونٹوں پہ جا ٹھہری تھی.. وہ اسکے نیند میں ہونے کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا لیکن اس سے رہا نہیں گیا اور چھوٹی سی گستاخی کرتے وہ پیچھے ہوا تھا.. “تم زرا صبح کا انتظار کر نا پھر دیکھنا تمہارے ساتھ ہوتا کیا ہے.. ” کہتے وہ آنکھیں بند کرگیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا..
…
🥀🥀🥀
صبح زری کی آنکھ کھلی تو خود کو زارون کے حصار میں پایا..
اچھی طرح یاد کیا کہ وہ یہاں تو آئی نہیں پھر کیسے آگئی زارون اسے پوری طرح سے اپنے حصار میں لئے ہوئے تھا..
اسکے ہاتھ اپنے پر سے اٹھانے کی کوشش کرنے لگی.. مگر اسنے گرفت مزید سخت کردی تھی وہ جاگ چکا تھا..
“کیا مسئلہ ہے تمہارا کیوں سونے نہیں دے رہی.. ” نیند میں ہی بڑبڑایا..
ہٹو میرے اوپر سے.. ” اور میں یہاں کیسے آئی. “اور اسے اپنے اوپر سے ہٹانے کی پوری کوشش کرتی دانت پیستے ہوئے بولی ..
میں لایا تھا ” یہاں تمہیں سمجھ نہیں آتا ہے کہ یہی تمہارا کمرہ ہے پھر کیوں بھاگتی ہو ہاں ” وہ زرا سخت ہوا تھا..
یہ میرا کمرہ نہیں ہے مجھے نہیں رہنا یہاں”وہ اسے غصہ دلا گئی تھی اپنے سخت الفاظ سے..
جس سے وہ طیش میں آیا اور اسکی کمر پہ گرفت سخت کی تھی زرتاج کو اسکی انگلیاں اپنی اندر پیوست ہوتے محسوس ہوئی.. “جنگلی انسان چھوڑو مجھے..” وہ مزید کچھ کہتی کے وہ اسکے لبوں پہ قفل لگا گیا تھا..
زارون کے انداز میں جنون تھا.. زرتاج کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا تھا.. وہ اسکے سینہ پہ مکے برسانے لگی تھی زارون اسکے ہاتھ پکڑ کر تکیہ کے ساتھ پن کئے تھے.. کافی دیر تک اسکے لبوں پہ جھکا رہا منہ میں خون کا زائقہ گھلنے لگا تب اسکی خان بخشی کی..
زرتاج لمبے لمبے سانس لیتی اپنا بگڑا تنفس بحال کرنے لگی تھی…
دو باتیں اچھی طرح اپنے دماغ میں بٹھا لو.. وہ اسکی کنپٹی پہ دو انگلیاں رکھتا بولا..
نمبر ون میں تمہارا شوہر ہوں.. اور دوسرا یہ کمرہ ہمارا ہے اور تمہیں اس ہی کمرہ میں رہنا ہے دوبارہ میں تمہارے منہ سے یہ بات دوبارہ نا سنو..” ورنہ انجام کی زمہ دار تم خود ہوگی مائنڈ اٹ”..
سنجیدگی سے کہتا واشروم میں بند ہوا تھا ..
زرتاج نے غصہ سے تکیہ زمین پہ پھینکے تھے..
ٹھرکی تھا ہی گھٹیا بھی ہے”..
…
🥀🥀🥀🥀
زرتاج اور زویا دوپہر کے وقت اپنی ماں کے کمرے میں تھی..
زویا اب تمہیں اپنا چیک اپ کروانا چاہیے.. سفینہ زویا سے بولی.. جو اسکے قریب صوفہ پہ بیٹھی تھی اور اسکے ساتھ زرتاج..
ہاں ماما ٹھیک کہہ رہی ہیں”.. زرتاج بولی..
زری تم نے رات کو کمرے میں پانی نہیں رکھا تھا”.. سفینہ کو رات والی بات یاد آئی تو پوچھنے لگی…
آہ.. جی.. جی ماما میں نے پانی.. رکھا تھا”.. وہ ایک پل کیلئے گھبرا گئی تھی پھر سنبھلتے بولی..
“اچھا پھر زارون آدھی رات کو نیچے پانی کیوں پینے آیا.. ” سفینہ کو گڑ بڑ لگی کچھ زویا بھی اسکی جانب متوجہ ہوئی..
وہ.. ماما.. زرتاج کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا بولے.. کہیں زارون نے انہیں بتا تو نہیں دیا کہ وہ روم میں گئی ہی نہیں..
زری سدھر جاؤ تم آخری بار کہہ رہی ہوں تم سے میں “وہ سخت لہجہ اختیار کر گئی..
“ماما پلیز”.. زویا نے انہیں پرسکون کرنا چاہا..
“زری تم رات کو کہاں تھی”.. اب کے زویا نے پوچھا..
اپنے کمرے میں تھی ” اسکی زبان پھسلی..
تمہارا کمرہ کونسا ہے اب.. زویا تو اب تفتیشی انداز میں سوال جواب کرنے لگی..
دیکھو زری زارون اب تمہارے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کررہا ہے.. تو پلیز تھوڑی سی کوشش تم بھی کرلو گی تو قیامت نہیں آجائے گی”.. زویا اپنے تئیں اسے سمجھاتے ہوئے بولی..
اسے تو شکر کرنا چاہیے کہ اس پر وہ نہیں بیتی جو زویا پہ گزری روحان نے جو زویا سے بے اعتنائی برتی ہے.. وہ سب زارون نے تمہارے ساتھ نہیں کیا.. بھری محفل میں تمہاری عزت رکھی اور اب تمہیں عزت دے بھی رہا ہے”.. سفینہ نے بھی اسے سمجھاتے کہا..
ماما پلیز مجھے بھاشن نا سنائیں.. مجھ پہ جو بیتی ہے وہ میں جانتی ہوں.. میرا نہیں دل چاہتا .. نہیں رہنا چاہتی اس کے ساتھ اور میں زویا نہیں ہوں.. مجھ سے نہیں ہوتا سمجھوتا.. ” وہ بے حس بنتی بولی..
سفینہ کا تو پارہ ہائی ہوا تھا.. کیا بکواس کی ہے تم نے.. “
زری چپ کر جاؤ”.. ماما پلیز آپ اسکی باتوں کی ٹینشن نا لیں.. بکواس مارتی ہے.. تم جاؤ زری”.. زویا سفینہ کو سنبھالتی ہوئی بولی ..
زرتاج کو ماں کی فکر ہونے لگی جو لمبے سانس لینے لگی تھی.. زویا نے فٹ سے انہیں دوائی دینے لگی تھی..
زری کمرے سے باہر آگئی اپنے بولے گئے الفاظ پہ سخت شرمندگی ہوئی تھی..
رات کے کھانے پہ زارون اور زرتاج کو ولیمہ کی تاریخ تہہ ہوگئی تھی جو کہ دس دن بعد کی بنتی تھی روحان کو واپس آسٹریلیا بھی جانا تھا وہ زیادہ دیر نہیں رک سکتا تھا اسکے بزنس کا کافی حرج ہو رہا تھا..
رات کو زرتاج کمرے میں آئی زارون لیپ ٹاپ لئے بیٹھا کچھ ضروری فائلز پہ کام کررہا تھا.. ڈنر پہ بھی دونوں نے ایک دوسرے کو اگنور کیا تھا..
زرتاج ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنی جیولری اتار رہی تھی.. زارون نے اسے ایک نگاہ دیکھا اور پھر سکرین پہ نظریں جما لی تھیں.. بڑی سختی سے اپنی نظروں کو قابو کیا جو پھر سے دیکھنے کیلئے بے چین ہوئی تھیں..
پھر وہ اپنا آرام دہ سوٹ لئے واش روم میں بند ہوئی تھی..
کچھ دیر بعد نکلی تو.. زارون لائٹس آف کئے لیٹا ہوا تھا..
زرتاج بھی دوسری سائیڈ آ کر لیٹ گئی..
ابھی کچھ دیر گزری ہی تھی کہ زارون نے اسے اپنی جانب کھینچ لیا تھا..
اور اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے اپنے ساتھ لگا چکا تھا…
“زارون یہ کیا بد تمیزی ہے چھوڑو مجھے” وہ غصہ سے بولی تھی..
زری یہ کوئی بد تمیزی نہیں ہے شوہر ہوں تمہارا حق ہے میرا.. ” وہ لہجہ میں چاشنی لئے بولا..
کیسا حق.. میں نے تو تمہیں کوئی حق نہیں دیا “وہ اسکی مضبوط گرفت میں مچلتی بولی..
پھر کب دو گی مجھے حق.. ” وہ اسکےچہرے سے اپنا چہرہ قریب تر کرتے گھمبیر لہجہ میں بولا تھا..
میں نے ابھی سوچا نہیں اس بارے میں.. ” فٹ سے جواب دیا اور اسے دور ہونے کی کوشش کررہی تھی جو ناممکن تھا..
کیا ابھی سوچا نہیں تم نے.. ” تو ابھی سوچ لو.. “
وہ اسکے بالوں میں منہ دیے بولا..
مم.. مجھے ٹائم چاہیے.. “اسکی قربت میں نروس ہورہی تھی..
پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس.. سوچ لو.. ” وہ اسکے کے قریب گھمبیر لہجہ میں بولا اسکے ہونٹ اسکی کان کی لو چھو رہے تھے..
نہیں مم مجھے ککچھ دن چاہیے.. “بڑی مشکل سے بولی تھی..
کیا ..کچھ دن”وہ حیرت سے بولا..
اس نے محض ہاں میں سر ہلایا..
ایک منٹ بھی نہیں.. ” وہ آنکھیں دکھاتا بولا..
ہٹو میرے اوپر سے کتنا وزن ہے تمہارا سانس بھی نہیں لی جا رہی مجھ سے تو.. “وہ نا مانا تو اسے اپنے اوپر سے ہٹانے کی پوری کوشش کرنے لگی.. اور مچلتی اسکا حصار توڑ گئی.. فٹ سے اسکے اور اپنے بیچ فاصلہ بنا گئی..
“نیند آرہی ہے سونے دو اب مجھے تنگ مت کرنا.. ورنہ پھر چلی جاؤں گی.. ” وہ اسے دھمکاتے ہوئے بولی.. جبکہ زارون تو اسکی حرکتیں دیکھ رہا تھا.. اور پھر اسکی دی گئی دھمکی پہ عش کر اٹھا تھا.. اور اسی وقت پھر سے اسے اپنی طرف کھینچ چکا تھا.. وہ کہاں ہار ماننے والوں میں سے تھا.. اسکی پشت اپنے سینے سے لگاۓ..
تمم”.. وہ غصہ سے بولتی کہ اسکی بات کاٹ گیا
ششش”.. اسکے لبوں پہ انگلی رکھے اسے چپ کروا دیا..
نو آرگومنٹ.. سو جاؤ.. “اور آنکھیں بند کرلیں..
تو زری خاموش ہوگئی”.. جان گئی تھی.. جتنا بپھرے گی وہ اتنا ہی قابض ہوگا اس پہ..
🌹🌹🌹
روحان آپ جا رہے ہیں.. زویا مرجھائے ہوئے بولی..
ہہم جانا ضروری ہے” وہ اسکی بالوں میں انگلیاں پھیرتا ہوا ..
پھر کب آئیں گے.. “
جلد ہی اپنا کام ختم کرکے.. “ہمیشہ کے لئے.. وہ یونہی آنکھیں بند کئے بولا.. زویا اسکے بازو پہ سر رکھے لیٹی تھی.
“اور وہ ماریہ.. ” پھر خدشہ کے تحت بولی. .
اسکا قصہ ختم سمجھو پہلے ہی یہ کہانی ختم کروں گا وہاں جاتے. ” روحان نے آنکھیں کھولتے ہی اسے پیار سے یقین دہانی کروائی..
تو زویا اسکے سینے پہ سر رکھ گئی روحان نے بھی اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا..
🌹🌹🌹
ماریہ اپنے بستر پہ آڑی ترچھی پڑی تھی.. وہ اب تک اس واقعہ زیر اثر تھی جو وکی اسکے ساتھ کرچکا تھا..
اسکی موبائل کی میسج ٹون بجی ..
موبائل کھولا.. تو اس میں چلتا منظر دیکھ حیران ہوگئی..
جس میں اسکی اس دن والی ویڈیو فوٹیج تھی جو ایڈت کی گئی بڑی مہارت سے جس میں ماریہ وکی کے ساتھ نازیبا حلیہ میں اسکے آفس میں تھی..
اسی وقت وکی کی کال آنے لگی..
جسے فورن اٹھایا تھا ماریہ نے..
گھٹیا انسان تم اتنا گر سکتے ہو.. مجھے اندازہ ہی نہیں تھا.. تم ایک اعلیٰ درجہ کے گھٹیا مرد ہو..
چچ چچ .. سلو بے بی کام ڈاؤن.. یہ ویڈیو روحان کے پاس بھی جا سکتی ہے..
تمہارے پاس تو روحان کا پاکستان کا نمبر بھی نہیں ہے..
وہ اسے بلیک میل کرنے لگا..
چاہتے کیا ہو اب.. ” وہ چلائی..
تمہیں ایک بار پھر.. اپنے ساتھ..” وہ معنی خیز بولا..
کمینے.. وہ چلا اٹھی
نو .. نو ڈارلنگ .. ایک کلک کی دوری پہ ہے یہ ویڈیو روحان سے.. ” وہ خباثت سے بولا..
کیوں کررہے ہو ایسا.. ” اب کے وہ بےبسی سے روتے ہوئے بولی..
کم آن .. آجاؤ میرے فلیٹ پہ خوش کرو مجھے بہت ہوٹ ہو یار.. وہ خباثت سے بولا.. اور فون کٹ کردیا..
اب ماریہ کے پاس دوسرا راستہ نہیں تھا.. اور وہ چل پڑی اسکی طرف..
آدھے گھنٹہ کے بعد وہ اسکے فلیٹ کے سامنے کھڑی تھی…
کم بے بی مجھے یقین نہیں ہورہا تم میری بات اتنی جلدی مان لوگی..
وکی اسکے ڈور بیل بجانے سے پہلے ہی دروازہ کھول چکا تھا.. اور وہ مرے مرے قدموں سے اندر آگئی تھی جیسے کوئی زندہ لاش ہو چہرے پہ کوئی تاثر نہیں تھا سوگواری سی تھی..
اسکا سفید چہرہ گولڈن بال تیکھے نین نقش سمارٹ سی اس وقت وائٹ شرٹ کے ساتھ بلو جینس پہنے تھی.. سادہ حلیہ میں بھی کشش رکھتی تھی
وکی نے بنیان پہن رکھی تھی جس میں اسکی کسرتی جسامت واضح ہورہی تھی اور منہ میں سگریٹ دباۓ ارد گرد دھواں چھوڑ رہا تھا.. پھر ایش ٹرے میں سگریٹ مسل دی اور اسکی جانب آیا..
اسکی بالوں میں انگلیاں پھنساۓ اسکا چہرہ اپنے چہرے کے قریب تر کرلیا..
تم یہ ٹھیک نہیں کررہے آنسوں بہہ نکلے تھے.. وکی نے اسکے بالوں پہ گرفت سخت کرلی.. اور ایک اذیت ناک سلسلہ چل نکلا تھا ماریہ کیلئے..
🌹🌹🌹🌹
مجھے یونیورسٹی جانا ہے”..
زرتاج سفینہ سے بولی..
تو اپنے شوہر سے پوچھو””.. سفینہ نے اسے سنجیدگی سے جواب دیا..
جو کل سے زری سے کم ہی بات کررہی تھی..
اچھا نا ماما پوچھ لوں گی.. اب خوش” وہ انکے گلے میں بانہیں ڈالے لاڈ سے بولی تھی..
توو سفینہ مسکرائیں .. “یہ ہوئی نا بات” زرتاج کسس کرتی بولی..
بس بس ” زیادہ مکھن نا لگاؤ حرکتیں سدھار لو اپنی”
افف ماما “کبھی تو بخش دیا کریں.. ہر وقت اپنے داماد کی سائیڈ لیتی ہیں مجھے تو کھڈے لائن لگا دیا ہے آپ نے” وہ تیوری چڑھاتے مصنوعی غصہ دکھاتے ہوئے بولی..
تم بھی تو اپنی ضد کی پکی ہو وہ اسکی گال کھینچتی بولی..
🌹🌹🌹
شام کو زارون آفس سے آیا تو.. زرتاج خلاف عادت زارون کے پیچھے روم میں گئی.. وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا اپنی ٹائی کھول رہا تھا.. تو وہ اسکے پیچھےجا کھڑی ہوئی..
بولو ” اسکے بولنے سے پہلے ہی وہ بول پڑا..
“وہ میں نے تم سے بات کرنی تھی.. ” اسکی آنچ دیتی نظروں سے نروس ہوئی تھی..
زارون نے اسکا ہاتھ پکڑتے اسنی جانب کھینچا..
تو وہ اسکے ساتھ جا لگی تھی.. اور اسنے اسکی کمر کے گرد بازو حائل کئے تھے..
” زارون تم دور رہ کر نہیں بات کرسکتے ” اسکا دماغ گھوما تھا..
” تم اپنی بات بولو.. ” وہ شوخ سا بولا..
چھوڑو مجھے نہیں کرنی کوئی بات.. ” خود کو اسکی گرفت سے نکالے بولی..
اچھا کرو بات وہ اسے آزاد کرتے بولا..
اور خود ڈریسنگ کے ساتھ ٹیگ لگائے کھڑا بولا..
وہ مجھے یونیورسٹی جانا ہے.. کل سے.. “
کیوں جانا ہے.. ؟
اسکے سوال یہ حیران ہوئی.. “کیا مطلب کیوں.. ؟ جانا ہے پیپر سر پہ ہیں.. “
کوئی ضرورت نہیں…” بڑے آرام سے کہا گیا..
اور زرتاج کو تو مزید تپ چڑھی..
اچھا ایک شرط ہے “وہ کہتا اسکے مزید قریب آیا تھا.. “میری آج کی شب حسیں کردو تو” اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی.. زری کی پوری کی پوری آنکھیں باہر آئیں اسکی اس بےباک فرمائش پہ..
میں تم سے پوچھ نہیں رہی تھی بتا رہی ہوں ” کہ کل سے میں نے یونی جانا شروع کرنا ہے.. ” وہ سرخ پڑی تھی تیزی سے بولتی وہاں سے نکلتی چلی گئی..
“ہاۓ یہ دن بھی آنے تھے کس سے کیا فرمائش کر بیٹھا.. ” مگر ایک دن آۓ ضرور جب تمہیں فتح کروں گا ” ٹیڑھی کھیر ہے جلدی ہاتھ نہیں آنی.. وہ خود سے بڑبڑاتا واشروم گھس گیا
