Beparwah Season 1 By Ayesha Noor Readelle50280 (Beparwah) Episode 26
Rate this Novel
(Beparwah) Episode 26
سفینہ دل پہ ہاتھ کر صوفہ پہ بیٹھی تھی۔۔
اسے زویا ایسی خود غرضی کی توقع نہیں تھی۔۔
سب ناشتہ کرکر اپنے اپنے ماموں پہ جا چکے تھے مگر انہوں نے ناشتہ نہیں کیا تھا وہ کافی دیر تک وہیں بیٹھی سوچتی رہیں۔۔
کیا ہوگا آخر زویا کا مستقبل کیوں وہ اپنا گھر خود برباد کرنے پہ تلی ہے۔۔
🥀🥀🥀🥀
جینی گھر کا کام کر کے جا چکی تھی اب وہ فارغ بیٹھی تھی۔۔جب جینی آتی تھی تو اسکا دل لگ جاتا تھا جسے اس سے باتیں باتیں کرتے کرتے وقت گزر جاتا تھا اور جب وہ چلی جاتی تو گھر خالی خالی سا لگتا۔۔بےچینی ہی بے چینی۔۔
روحان کے رات کے رویہ سے ابھی بھی ہریشان سی تھی۔۔ کیسے اسنے ڈیورس کی دھمکی دی تھی۔۔
اسے اپنی عزت نفس بہت عزیز تھی۔۔ اسنے دھجیاں اڑائی تھی اسکے کردار کی۔۔ اور اب اسکے قریب آنے کوشش کرہا ہے۔۔ آپ نے خود ہی کہا تھا کہ میری تمہاری زندگی میں کوئی جگہ نہیں۔۔
پہلے مجھ سے نفرت کا اظہار کیا آپ نے پھر میری امیدوں اور خواہشوں کو بے مول کردیا اب یہ سب کیوں کررہے آپ وہ دل اس سے مخاطب ہوئی۔۔
آگ تو دونوں طرف لگی ہوئی تھی برابر۔۔ وہاں روحان زویا کے رویہ سے بے چین تھا اور یہاں زویا۔۔
پھر فون اٹھا کر اپنی ماں کو کال لگائی۔۔
ہیلو کال اٹھائی گئی مگر آگے خاموشی تھی۔۔
ہیلو ماما” ۔۔
سفینہ کان سے فون لگاۓ بس اسے سن رہی تھی پھر کچھ دیر بعد بولیں۔۔
“ہاں میں سن رہی ہوں”۔۔
“اسلام علیکم ماما کیسی ہیں آپ”۔۔ پیار بھرے لہجہ میں زویا نے پوچھا۔۔
“وعلیکم اسلام”۔۔وہ بس اتنا کہہ چپ ہوئیں
“کیسی ہیں آپ ماما آپکی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی”۔۔
“میں بس ٹھیک ہوں” ۔۔سرد سا لہجہ تھا
“کیا ہوا ماما۔”۔زویا کو فکر ہوئی۔۔
“تم بتاؤ پہلے مجھے روحان کارویہ تمہارے ساتھ کیسا ہے اور تمہارا اسکے ساتھ”۔۔وہ سیدھا مدعے پہ آئی تھی۔۔
“جج۔۔جی ماما سب ٹھیک ہے”۔۔ اسکی آواز کی لڑکھڑاہٹ اسکے جھوٹ کا واضح ثبوت تھی۔۔ جو سفینہ سمجھ نہیں پائیں تھی پہلے۔۔مگر آج سمجھ آرہا تھا۔۔
“صبح کتنے بجے جاتا ہے وہ آفس ” سفینہ نے اپنا مزاج نرم رکھتے ہوۓ پوچھا۔۔
“وہ ۔۔وہ ماما ” اسے سمجھ نہیں آرہا کیا ٹائم بتاۓ کیونکہ جب جینی آتی تھی تو وہ باہر نکلتی تھی کمرے سے۔۔
“آٹھ ۔۔ہاں آٹھ بجے تک چلے جاتے ہیں وہ۔۔”
“اچھا ناشتہ کرکے جاتا ہے گھر سے”۔۔آج وہ تفصیل سے جائزہ لے رہی تھی اسکا..
“وہ ماما” زویا پھر سوچ میں پڑ گئی ایک اور جھوٹ بولنا پڑے گا۔۔
“ہہم تو پھر کتنے بجے آجاتا ہوگا”۔۔سفینہ نے اسکا جھوٹ سننے کے بجاۓ ایک اور سوال داغا۔۔
“وہ ماما۔۔ ” زویا پھر نا کچھ بول پائی۔۔
“ہاں ہاں بیٹا سب ٹھیک ہی لگ رہا ہے” مجھے سفینہ نے طنزیہ کہا۔۔
زویا کو رونا آنے لگا تھا۔۔
“زویا مجھے کچھ بھی ٹھیک نہیں لگ رہا ہے سچ سچ بتاؤ مجھے تمہارے روحان کے درمیان میں کوئی رشتہ بھی نہیں ہے”۔۔
تو پھر وہاں کر کیا رہی ہو جب تم اپنے شوہر کو وقت نہیں دے سکتی تو اسکے دل میں اپنی جگہ نا بنا سکی”۔۔ سفینہ نے غصہ سے اسے ڈانٹتے ہوۓ کہا۔۔
“ماما روحان نے مجھے پہلے دن ہی صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا میری اسکی زندگی میں کوئی جگہ نہیں” ۔وہ روتی ہوئی بولی تھی۔۔
“اسنے کہا اور تم نےاپنی جگہ چھوڑ دی”۔۔ سفینہ سخت لہجہ میں کہا۔۔
“ماما میری بھی کوئی سیلف ریسپیکٹ ہے میں کیسے پھر اسکے سامنے جاتی”۔۔ زویا نے اپنی صفائی پیش کی۔۔
“زویا اگر گھر بسانا ہو تو اپنی انا مارنی پڑتی ہے۔”۔ سفینہ نے کہا۔۔
“ماما گھر محبت سے بسا کرتا ہے انا مارنے سے نہیں ” زویا بولی۔۔
“تم کوشش تو کرتی زویا۔۔”
“مجھے ڈر لگتا ہے اس سے ماما وہ مجھے باتیں بھی سناتا اور وہ مجھے زبردستی ٹچ کرنے کی کوشش کرتا ہے” زویا کی زبان پھسلی تھی اور منہ پہ ہاتھ رکھا۔۔
“زویا “۔۔ سفینہ تیز لہجہ میں پکارا۔۔
“وہ تمہارا شوہر ہے یہ کوئی زبردستی نہیں حق ہے اسکا مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔۔تم ایسی حماقت کرو گی”۔۔ وہ غصہ کرتی ہوئی بولی۔۔
“ماما” ۔ زویا نے اپنی بات سمجھانا چاہی۔۔
“بس زویا ۔۔مجھے مزید کوئی بہانا نہیں سننا ۔۔” سفینہ نے اس سے ٹوکتے ہوۓ کہا۔۔
“اگر تمہاری ساس کو یہ سب پتہ چلا نا تو اچھا نہیں ہوگا اپنا گھر بساؤ تاکہ تمہاری بہن کا بھی گھر بس سکے”۔۔اب اپنی اچھی بیوی ہونے کا ثبوت پیش کرو ۔۔ شام کو روحان کای پسند کا کھانا بناؤ اور اسکیلے خود کو سنوارنا بھی
جو کہے چپ چاپ سن لیا کرو”۔۔ سفینہ نے اسے تاکید کی
مگر ماما وہ مجھے ” .. اور فون کاٹ دیا۔۔
آج پہلی بار زویا کو اتنا ڈانٹا تھا انہیں زرا اچھا نہیں لگا تھا۔۔
“گھر بسانا ہو تو اپنی انا مارنی پڑتی ہے اور یہ قربانی ہمیشہ عورت کے حصہ میں ہی آئی ہےہر میدان میں ہی ہار عورت کو ماننی پڑتی ہے۔۔ ہر بار سر عورت کو ہی جھکانا پڑتا ہے مرد غلطی پہ ہوتے ہوۓ بھی سچا ہوجاتا ہے اور عورت سچی ہوتی ہوئی بھی غلط ثابت ہوجاتی ہے”۔۔
سفینہ نے سوچتے آنسوں پونچھے تھے۔۔
۔۔۔
زویا کو بہت رونا آیا تھا اس وقت اپنی ماں کے سخت لہجہ پر ۔۔ کیسے انہوں اسے جھٹلا دیا اور اسے ہی سر جھکانے کا حکم دے دیا اپنی انا کو مار دینے کا کہہ دیا۔۔
“میں اچھی بیوی کیسے بنوں ماما”۔۔ جھکاؤ تو دونوں طرف سے ہونا چاہیے نا” اسے سمجھانے والا کوئی نہیں.. وہ جو کرے ٹھیک اور میں محرم بن گئی.. ” رات کا منظر پھر اسکی آنکھوں کے سامنے آیا اسکی گئی باتیں.. کیسے میں اپنی معصومیت کا ڈرامہ کرتی ہوں. ” آنسو آنکھوںسے بے مول ہوا تھے..
۔۔۔
بڑی محنت سے شام کا کھانا بنانے کے بعد زویا آئنہ کے سامنے کھڑی خود کا جائزہ لے رہی تھی۔۔ وہ ملگجے سے حلیہ میں تھی۔۔ اب خود کو سنوارنا ہے اپنے شوہر کیلے جو سمجتا ہے میں ڈرامہ کرتی ہوں۔۔وہ خود پر ہی طنز کررہی تھی۔۔
پھر واڈروب کھولی تھی ۔۔ پستہ کلر کا ہلکے کام والا سوٹ نکالا تھا جو وہ زارون نے مال میں پسند کیا تھا اسکے لیے۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ سوٹ پہنے آئنہ کے سامنے تھی ہلکا پھلکا سا میکپ کیے تھوڑے سے بال کیچر میں قید کیے باقی کمرپہ کھلے چھوڑے تھے۔۔
مگر چہرے کی اداسی نا چھپا سکی.. آج خود کو پیش کرنا تھا اسکے ستم گر کے آگے…
🥀🥀🥀🥀
روحان آفس کام ختم کرتے نو بج گۓ تھے۔۔ وہ اور وکی ایک ساتھ آفس سے نکلے تھے یہ انکا معمول تھآ ایک ساتھ نکلنا اور ساتھ ڈنر کرنا۔۔
“آج کیا کھانا ہے یار وکی نے ساتھ چلتے پوچھا”۔۔اور دونوں گاڑی تک آۓ۔۔
“کچھ نہیں”۔۔ روحان نے گاڑی کا دروازہ کھولتے کہا۔۔
“کچھ نہیں سے کیا وہ کونسی ڈش ہوتی ہے.. “۔۔وکی نے ہوچھا۔۔
“کچھ نہیں کا مطلب کچھ نہیں ” وہ کہتے ساتھ ہی گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی بھگا لے گیا ۔۔
اسے کس بات کی جلدی ہے بتایا بھی نہیں اوۓ میں کیسے گھر جاؤں گا ” چل ٹیکسی ڈھونڈ ” وکی بڑبڑاتے روڈ کی طرف آیا ۔۔۔
زویا کو آدھا گھنٹا گزر چکا تھا ڈائنگ ٹیبل پہ بیٹھے ہوۓ آج وہ پہلی بار روحان کا انتظار کررہی تھی سب سے مشکل لگ رہا تھا اسکا سامنا کرنا ۔۔
اچانک سے دروازہ کھول کر اندر آیا زویا اپنی کرسی پر سے کھڑی ہوئی تھی اس دیکھ ۔۔
روحان اسے دیکھ ایک پل کیلے ٹھٹکا تھا اسے تیار دیکھ وہ پستا کلر سوٹ پہنے ہلکا سا میک اپ کیے سامنے کھڑی سیدھا اسکے دل میں اتری تھی۔۔ اپنے جزبات کو کنٹرول میں رکھتا سر سری سی ایک نگاہ اس پہ ڈالی اور چہرے پہ سنجیدگی سجاۓ وہ اسکے پاس سے تیزی سے گزر گیا۔۔
وہ “۔۔زویا اس سے کچھ کہتی کہ وہ کمرے میں چلا گیا۔۔
افف بات تو سن لیتا”۔۔ بہت ہمت مجتمع کرکے وہ اسکے کمرے کی طرف بڑھی۔۔
روحان کمرے داخل ہواتو ایک فاتحانا مسکان اسکے لبوں کو چھوئی ۔۔ اسے اندازہ تھا یہ سب ہوگا اور وہ اسکے انتظار میں کھڑی تھی۔۔ عالم صاحب کے سامنے خود کو مظلوم ثابت کرکے وہ سمجھ رہا تھا کامیاب ہوگیا۔۔ عالم صاحب سے یہ سب باتیں جان بوجھ کر کہیں تھیں تاکہ وہ آگے سفینہ تک اسکی یہ باتیں پہنچا دے گی اور وہ اسکے کان ضرور کھینچے گی۔۔ اور وہی ہوا جو اسنے سوچا تھا۔۔
دروازے پہ دستک ہوئی تھی
ییس ” اپنی مسکراہٹ سمیٹتا سنجیدا ہوا اور کوٹ اتارنے لگا زویا اندر آئی تھی۔۔
ہہم بولو”۔۔ وہ بیڈ پہ بیٹھ کر شوز اتارنے لگا۔۔
وہ کھانا کھالیں۔۔
وہ اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔۔
“ہہم تو خیال آہی گیا تمہیں میرا” وہ طنز کرتا بولا۔۔
اسکے الفاظ چبھے تھے اسے۔۔
چہرے پہ آتے بالوں کو کان کے پیچھے اڑیسا۔۔”جی بس یہی سمجھ لیں آپکی خدمت کرنے آئی تھی جو شاید مجھ ہو نا سکی”۔۔ ہلکی آواز میں نظریں نیچے کیےادھر انگلیاں مروڑتی بولی۔۔
“اچھا پھر عقل آگئی ہے تو میرے کپڑے نکالو۔۔ چینج کرکے ہی کھالوں گا “۔۔
اسکی بات کی تائید کرتی الماری کا پٹ کھولا۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کونسا سوٹ نکالے۔۔
اب وہ اپنی شرٹس کے بٹن کھولنے لگا۔۔
وہ” ۔۔زویا نے اس سے پوچھنے کیلے سر موڑا کے کیا نکالے۔۔ وہیں اسے دیکھتے فوراً چہرہ موڑ لیا کونکہ اب وہ اپنی شرٹ اتار چکا تھا۔۔
اور چلتا ہوا اسکے پیچھے آن کھڑا۔۔
کیا ہوا۔۔” اسکی پشت ہلکی سی روحان کے سینے مس ہو رہی تھی۔۔
زویا کی دھڑکن بے ساختہ تیز ہوئی۔۔ وہ ہل بھی نہیں پا رہی تھی۔۔روحان آگے ہاتھ بڑھایا ٹی شرٹ اٹھانے کیلے اسکی پشت کے ساتھ پورا لگ گیا شرٹ اٹھائی تھی ٹراؤزر اٹھانے کیلے مزید آگے بڑھا تو اسکی پشت پہ مزید دباؤ ڈالا وہ الماری میں گھسنے کو تھی ۔۔
کپڑے لیے وہ پیچھا ہوا تھا اسکی رکی سانسیں بہال ہوئی تھیں حیا سے چہرہ مزید سرخ پڑا تھا۔۔ وہ غور سے اسکے مکھڑے کو تکتا واشروم میں جا گھسا۔۔
ہہم بدتمیز کہیں کا اسے القابات سے نواتی کچن میں آئی تھی۔۔
۔۔
کھانا ٹیبل پہ لگ چکا تھا جب وہ باہر آیا تھا اسکے ساتھ والی چیئر کھسکا کر بیٹھ گیا کھانوں سے اشتہا انگیز خوشبوؤیں اٹھ رہی تھی۔۔
ویسے تو وہ روز رات کو جب کچن میں کافی بنانے آتا تو فریج میں پڑے ہوۓ اسکے کھانے کو گرم کرکے ضرور چکھتا تھا۔۔
جب کھانوں سے ڈھکن اٹھایا تو اسکی فیرٹ ڈش تھیں۔۔بریانی کے ساتھ کوفتہ رائتہ میٹھے میں ٹرائفل ۔۔
پاکستانی کھانوں کی الگ ہی بات تھی۔۔ وہ بریانی کھاتا بولا تھا۔۔
“آج پہلی بار گھر کا کھانا نصیب ہو رہا ہے”۔۔
وہ شرمندہ سی ہوئی اسکی اس بات پہ مزید سر جھکا گئی وہ کھانا کھاتے ہوۓ اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیے رکھا تھا۔۔
وہ اسکی نظروں سے نروس ہورہی تھی وہ کھانے کے بجاۓ بس پلیٹ میں چمچ چلا رہی تھی۔۔
روحان کھانا کھا کر اٹھا تھا۔۔” جا رہا ہوں اب ٹھیک سے کھانا کھا لینا”۔۔ وہ اسے دیکھ سر جھکا گئی۔۔
“اور ہاں جب فری ہوجاؤ تو ایک عنایت اور کردینا ۔۔
جی”۔۔ اسنے ناسمجھی اسکی طرف دیکھا۔۔
“ایک گلاس گرم دودھ کا اور ایک مگ کافی لے آنا میرے روم میں”۔۔وہ کہہ کر چلا گیا۔۔
اور واقعی اسکے جانے کے بعد پرسکون ہو کر کھانے لگی۔۔
کھانا کھاکر برتن اٹھاۓ سارا کچن سمیٹ کر اسنے کافی بنائی اور پھر دودھ کو گرم کے گلاس میں ڈالا ۔۔”ہہم دودھ او کافی کیا کمبینیشن بنتا ہے”۔۔اور ٹرے اٹھائی
۔۔۔
ٹرے اٹھا ئی وہ کمرے میں داخل ہوئی تو لیپ ٹاپ لیے صوفہ پہ بیٹھا تھا۔۔
اسنے زویا کو بڑی غور سے دیکھا سر تا پیر۔۔
اگے اچھی طرح سے دوپٹہ لپیٹا ہوا تھا جبکہ بال بھی اب جوڑے کی شکل میں بندھ چکے تھے۔۔
ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ٹببل پہ رکھ دے ۔۔اسنے ٹرے رکھی ٹیبل پہ اور مڑنے لگی اس سے پہلے وہ بولا۔۔
“کدھر۔۔ادھر بیٹھو یہ دودھ کون پئے گا”۔۔ دودھ کے گلاس کی طرف اشارہ کرتا بولا۔۔
“آپنے ہی کہا تھا”۔۔ وہ منمنائی
“ہہم کہا تھا مگر تمہارے لیے”۔۔ ادھر بیٹھو اپنے پاس بیٹھنے کی جگہ بنائی۔۔
روحان نےکافی کا مگ اٹھایا تھا۔۔ اور ابرو اچکا گے اسے دیکھا۔۔ کیا ہوا بیٹھو ادھر لہجہ تھوڑا سخت کرتے کہا۔۔
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اسکے ساتھ صوفہ پہ تھوڑا فاصلہ بناتی بیٹھی۔۔ جو روحان اسکی طرف کھسک کر ختم کردیا تھا۔۔دودھ کا گلاس اٹھا کر اسکی طرف بڑھایا جو اسنے پکڑ لیا اور منہ بنا کر اسکی طرف دیکھا تو روحان کوہنسی آئی اسکی بچوں جیسی حرکت پر مگر وہ دبا گیا ۔۔
“پیلو اینرجی آۓ گی ابھی تمہیں اسکی ضرورت پڑنے والی ہے” ۔۔ وہ معنی خیزی سے کہتا مسکرایا۔۔
اسکا ارادہ بھانپتے زویا کی جان حلق میں آئی تھی بمشکل ایک گھونٹ بھرا تھا دودھ کا۔۔
روحان کافی پیتا ساتھ ساتھ لیپ ٹاپ پہ تیزی سے انگلیاں چلا رہا تھا۔۔
“یہ کیا ابھی تک ویسے ہی دودھ لیے بیٹھی ہو جلدی پیو شاباش۔۔” روحان سر موڑ کر اسکی طرف دیکھا تو وہ جوں کی توں ہی بیٹھی تھی۔۔
فائلز سیو کرکے لیپ ٹاپ بند کر کے اسکی طرف مڑا۔۔
اسنے بامشکل دوگھونٹ حلق میں اتارے تھے۔۔
“بس مجھ سے نہیں پیا جا رہا ” اسکو اپنی طرف متوجہ دیکھ زویا نے جلدی دودھ کا گلاس ٹرے میں رکھا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“کہاں “۔۔ اسے اٹھتے دیکھ روحان اسکا بازو پکڑ پھر سے بٹھا لیا۔۔
“مجھے نیند آرہی ہے”۔۔ وہ منمنائی
“ایک مہینے سے سو ہی رہی ہو”۔۔ وہ اسکے چہرے کو تکتا گھنمبیر لہجہ میں بولا۔۔اور اسکے گلے سے دوپٹہ نکالا تھا جو اسنے اچھی طرح آگے پھیلایا ہوا تھا۔۔
وہ سر جھکا گئی اپنے آپ میں سمٹی تھی۔۔
اسکا سراپا بغور دیکھتا اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر مزید خود بھینچا تھا۔۔ زویا نے روحان کے سینے پہ ہاتھ رکھ خود سے دور دھکیلنا چاہا تھا۔۔
“چھوڑیں مجھے” وہ مچلی تھی اسکی گرفت میں ۔۔
“چھوڑنے کیلے نہیں پکڑا تمہیں تم خود آئی ہو یہاں میرے پاس”.. وہ اسکے دلکش سراپہ میں کھو سا رہا تھا..
اسکا دلکش سراپا اسے بہکا رہا تھا..
وہ اس خود سے دور دھکیلنے پہ جتی تھی..” کیوں اپنی نازک سی جان کو ہلکان کررہی ہو”.. چہرہ اسکے چہرہ کے قریب تر کرتے گھمبیر لہجہ میں سرگوشی کرتا اسکی روح فنا کرگیا..اسکا ننھا سا دل پھڑ پھڑا نے لگا تھا.. اگلے ہی پل وہ اسے اپنی بانہوں میں بھرے بیڈ تک آیا تھا..
اسکے وجود سے اٹھتی بھینی بھینی سی مہک اسے محسور کررہی تھی.. “چھ.چھوڑیں”.. دبی دبی سی آواز میں بولی..
اسکے یہی الفاظ اسے زہر لگے تھے..
“ششش.. چپ ایک لفظ نا سنو اور..ورنہ بہت برا پیش آؤں گا”.. سخت لہجہ اختیار کرگیا..
اسکی ریڑھ کی ہڈی تک سنسناہٹ سی دوڑ گئی.. اسکی قربت میں جاں حلق میں اٹک گئی..
اسکے سینے پہ ہاتھ رکھے اسے خود سے دور کرنے لگی تو وہ اسکے ہاتھوں کو قابو کرکے اسے تکیہ کے ساتھ پن کرگیا.. آنسو جاری ہوگۓ..رنگ سپید پڑچکا تھا .. اسکے ہلتے لبوں پہ قفل لگا گیا تھا.. اسکے انداز میں شدت تھی جنون تھا… اسے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا تھا.. اور وہ اسے ابھی بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا.. ہاتھ ابھی اسکی سخت گرفت میں تھے جنہیں چھڑوانے میں وہ ہلکان ہو رہی تھی کافی دیر خود کو سیراب کرنے کے بعد اسکے لبوں کو آزادی بخشی تھی..
وہ لمبی سانسیں لے رہی تھی اور اپنی سانسیں ہموار کرنے لگی..
وہ اسکی سانسوں کو انہیل کرنے لگا تھا خود میں جیسے برسوں کی تھکن تھی جو آج اتار دینا چاہتا تھا..
وہ اس پہ اب حاوی ہونے لگا تھا اب وہ بھی مزاحمت کرتی تھک چکی تھی..
وہ اسکی اور اپنی جان یکجا کر گیا تھا.. اسکی سانسوں میں اتر چکا تھا.. جس سے وہ بھاگتا آیا تھا آج اسکی روح تک رسائی حاصل کرچکا تھا .. آج اسکی ضد اور انا کا بت بھی پاش پاش ہوچکا تھا..
🌹🌹🌹🌹
وہ اسکے حصار میں سینے سے لگی سوئی ہوئی تھی..
وہ بغور اسکے چہرے کو دیکھے جا رہا تھا جو بے حد معصوم لگی تھی.. چہرے پہ تکلیف کے آثار واضح تھے گالوں پہ آنسوؤں کے نشان تھے.. نفرت کرنا چاہتا تھا اس چہرے سے جو نا ہو پائی تھی کئی راستہ اختیار کئے اس سے فرار کے. آ جا کے اسی تک تمام راستہ ختم ہوگۓ..
خود ساختہ لگائی ہوئی آگ جس میں اب تک وہ جلتا رہا اور اسے بھی بھسم کردینا چاہتا تھا…. آج تو جیسے بجھ سی گئی تھی.. جس سکون کی تلاش میں وہ دربدر ہو رہا تھا آج وہ سکون میسر آہی گیا اسکی قربت میں ..اسکے ماتھے پہ اپنی محبت مہر ثبت کرتا آنکھیں موند گیا..
